ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

'سینتیس بودھی ستوا عبادتوں'

(۲۰۰۶ لفظی ترجمہ)
از توگمے-زنگپو
ترجمہ از الیگزینڈر برزن، مارچ ۲۰۰۶

لوکیشور کے آگے سرِتسلیم خم ہے۔

میں ہمیشہ احتراماً سجدہ کرتا ہوں، اپنے تین بابوں کے ذریعہ،
مہان گرؤں کے آگے
اور محافظ آوالوکیت-ایشور کو جو کہ،
یہ جانکاری رکھتے ہوۓ کہ تمام مظاہر کا کوئی اول و آخر نہیں،
اکیلے ہی بھٹکی ہوئی ہستیوں کے بھلے میں کوشاں رہتے ہیں۔

وعدۂترکیب
مکمل طور پر روشن ضمیر مہاتما بدھ،
منفعت اور مسرت کے سرچشمے،
جنہوں نے (اپنے تیٔں) مقدّس دھرم کی
باریابی حاصل کی ہے۔
مزید یہ کہ اس کا انحصار (انکی) ان عبادات
کی جانکاری پر ہے،
میں ایک بودھی ستوا عبادت کی وضاحت کروں گا۔

قیمتی انسانی زندگی

(۱) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے،
اس وقت جبکہ ہمیں پنر جنم جیسی قیمتی نعمت
اپنی تمام عنایات اور فضیلتوں
کے ساتھ عطا ہوئی ہے، جسے پانا مشکل ہے،
سنیں، سوچیں،اور مراقبہ کریں استقلال کے ساتھ، دن رات،
تا کہ ہم خود کو اور دوسروں کو مکرّر اضطراری سمسار
کے سمندر سے نجات دلا سکیں۔

قیمتی انسانی زندگی سے استفادہ کرنے کے موزوں ترین حالات

(۲) بودھی ستوا عبادت سے مراد ترکِ وطن ہے،
جہاں احباب سے تعلق ہمیں پانی کی مانند ادھر اُدھر اچھالتا ہے؛
دشمنوں سے ناراضگی ہمیں آگ میں جلاتی ہے؛
اور احمقانہ سادہ لوحی ظلمت سےڈھانپتی ہے تا کہ
ہم بھلا دیں کہ ہمیں کیا پکڑنا ہے اور کیا چھوڑنا ہے۔

(۳) ایک بودھی ستوا کی عبادت علیحدگی (لاتعلقی) پر بھروسہ ہے جہاں
ہم نقصان دہ چیزوں سے چھٹکارا پا کر،
اپنے پریشان کن جذبات اور رویّوں سے
دھیرے دھیرے تعلق توڑ دیتے ہیں؛راہ سے بھٹکانے والی چیزوں سے نجات پا کر
قدرتی طور پر ہمارے تعمیری اعمال میں اضافہ ہوتا ہے؛
اور اپنی آگہی کو شفاف بنا کر،
دھرم میں ہمارا ایمان بڑھتا ہے۔

عدم استحکام

(۴) ایک بودھی ستوا کو بطور عبادت
اس زندگی سے تعلق کم کرنا ہے،
جس میں پرانے دوست اور عزیز
ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے ہیں؛
بڑی محنت سے کمائی ہوئی مال و دولت
کو پیچھے چھوڑ جانا ہے؛
اور ہمارے شعور کو، جو ہمارا مہمان ہے،
جسم سے، جو اس کا مہمان گھر ہے، رخصت ہونا ہے۔

اچھے احباب کی اہمیت

(۵) بودھی ستوا عبادت کے مطابق ہمیں ایسے
برے دوستوں کو ترک کرنا ہے جنہیں جب ہم ملتے ہیں،
ہمارے تین زہریلے جذبات ابھر آتے ہیں؛
ہمارے سننے، سوچنے،
اور مراقبہ کے اعمال کمزور پڑ جاتے ہیں؛
اور ہمارا جذبہ محبت اور درد مندی ختم ہو جاتا ہے۔

(۶) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے
کہ ہم اپنے شریر سے بڑھ کر
اپنے مکرّم روحانی صلاح کاروں کوعزت بخشیں، جنہیں،
ہمارے اپنے آپ کو حوالے کر نے سے ہماری کمزوریاں کم ہوتی ہیں
اور ہماری صفات چڑھتے چاند کی مانند پھیلتی ہیں۔

محفوظ سمت (پناہ گاہ)

(۷) ایک بودھی ستوا عبادت اعلیٰ جواہر
سے محفوظ سمت پکڑنا ہے،
جس سے ہمیں کبھی دھوکہ نہیں ہوا اس میں پناہ لینا –
کیونکہ دنیاوی دیوتا کسی کو کیا تحفظ دے سکتے ہیں
جو کہ خود ابھی تک
سمسار کی قید میں ہیں؟

تخریبی روش سے پرہیز

(۸) ایک بودھی ستوا عبادت منفی اعمال
سے دائمی گریز ہے،
خواہ اس کی خاطر جان بھی دینی پڑے،
کیونکہ قابل حکیم نے یہ کہا ہے
کہ پنر جنم کی ناقابلِ برداشت
حد سے متجاوز ابتلا
منفی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔

مکش کی جہد

(۹) بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ مکش کی
عظیم، استقلالی کیفیت میں بے پناہ دلچسپی لینا،
جس طرح کے اضطراری وجود کے تین مراحل کی لذت
ایسے مظاہر ہیں جو ایک پل میں مِٹ جاتے ہیں،
جیسے کہ گھاس پر سے شبنم۔

ایک بودھی چت ہدف استوار کرنا

(۱۰) بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ ان گنت ہستیوں
کو مکش دلانے کا بودھی چت ہدف اپنانا،
کیونکہ اگر ہماری مائں ، جو ازل سے ہی ہم پر مہربان تھیں
وہ اگر دکھ میں مبتلا ہیں،
تو پھر (محض) ہماری خوشی کس کام کی؟

اپنے آپ کا دوسروں سے تبادلہ کرنا

(۱۱) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ اپنی ذاتی خوشی
کا دوسروں کے دکھ درد سے تبادلہ کرنا،
کیونکہ ہمارا (تمام) دکھ درد، بغیر استثنا،
ذاتی خوشی کے حصول کی تمنا سے آتا ہے،
جبکہ ایک مکمل روشن ضمیر مہاتما بدھ کی روش
دوسروں کی بھلائی کی خواہش ہے۔

بودھی ستوا رویہ: نقصان دہ چیزوں سے نبردآزمائی

(۱۲) بودھی ستوا عبادت یہ ہے،
اگر کوئی شخص شدید حرص کے باعث ہماری ساری دولت چراۓ
یا دوسروں سے اسے چوری کرواۓ،
تو ہمیں اس کے لئے اپنے اجسام، تمام ذرائع،
اور سہ وقتی مثبت اعمال وقف کر دینے چاہئیں۔

(۱۳) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے ،
ایسی صورت میں جب ہم قطعی طور پر بے قصور تھے،
اگر کوئی ہمارے سر بھی کاٹ پھینکے،
ہم اس فعل کے منفی اثرات کو قبول کر لیں،
درد مندی کی قوت کے ذریعہ۔

(۱۴) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
اگر کوئی ہزاروں، لاکھوں، اربوں جہانوں میں،
ہمارے خلاف طرح طرح کی
بری باتوں کا چرچا کرے،
تو ہم جواباً محبت کے رویہ سے،
اس کی صفات کا ذکر کریں۔

(۱۵) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
اگر کوئی ہماری کمزوریوں کو بے نقاب کرے
یا (ہمارے متعلق) برے کلمات کہے
بہت ساری آوارہ ہستیوں کے درمیان،
تو ہم اس کے آگے احتراماً جھکیں،
یہ جان کر کہ (وہ) ہمارا روحانی مرشد ہے۔

(۱۶) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ اگر کوئی شخص
جس کا ہم نے خیال رکھا، اپنے بچے کی طرح چاہا،
اگر ہمیں اپنا دشمن سمجھے،
تو ہم اس سے خاص شفقت سے پیش آئں،
جیسے ایک ماں اپنے بیمار بچے کا خیال رکھتی ہے۔

(۱۷) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
اگر کوئی شخص جو ہمارے برابر یا ہم سے کمتر ہو،
(ہم سے) بد تمیزی سے پیش آۓ
اپنے تکبّر کے باعث،
تو ہمیں چاہئے کہ اسے سر آںکھوں پر بٹھائں،
ایک گرو کی مانند۔

دو نہائت اہم صورتیں جن میں دھرم کی عبادت کی ضرورت ہے

(۱۸) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
اگر ہم روزگار کے معاملہ میں بدحال ہوں
اور ہر وقت طعن و تشنیع کا شکار ہوں،
یا خوفناک بیماریوں کا شکار ہوں، یا بھوتوں کے زیرِسایہ ہوں،
تو ہم اس کے بدلے میں، قبول کریں،
منفی قوتوں اور آوارہ ہستیوں کے دکھ کو
اور دل برداشتہ نہ ہوں۔

(۱۹) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
خواہ ہماری بے پناہ تعریف ہو،
کئی آوارہ ہستیاں ہمارے سامنے سرِتسلیم خم کریں،
یا وائیشراون (دولت کا رکھوالا) جتنی
دولت اکٹھی کر لیں،
پر کبھی بھی مغرور نہ ہوں، یہ جان کر کہ دنیاوی خوشحالی
جوہر سے خالی ہے۔

دشمنی اور تعلق پر قابو پانا

(۲۰) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ
اپنے من کے سلسلوں کو سدھانا
محبت اور درد مندی کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر،
کیونکہ، اگر ہم نے دشمن کو
جو کہ ہماری اپنی دشمنی ہے، قابو نہیں کیا،
اگر ہم نے کسی خارجی دشمن کو دبایا بھی ہے،
تو مزید چلا آۓ گا۔

(۲۱) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ فوراً
ایسی چیزوں کو ترک کر دیں جو
تعلق اور لگاؤ کو بڑھاتی ہیں،
کیونکہ مرغوب اشیا نمکین پانی کی مانند ہیں:
جتنا ہم (ان میں) دلچسپی لیں،
اتنی ہی (ان کے لئے) ہماری پیاس (بدلہ میں) بڑھتی ہے۔

عمیق ترین بودھی چت استوار کرنا، خالی پن کا تکمیل حصول

(۲۲) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ اشیا کے
فطری عناصر بمعہ ان کے منوں کے، کو من میں قبول نہ کرنا،
اس احساس کے ساتھ کہ اشیا کا وجود کیسا ہے۔
خواہ وہ کیسی ہی نظر آتی ہوں، وہ ہمارے من کی اختراع ہیں؛
اور من بذاتِ خود، ازل سے ہی،
حد سے متجاوز جعلساز ہے۔

(۲۳) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
جب ہمارا سامنا خوشگوار چیزوں سے ہو،
تو ہم ان کے وجود کو سچ نہ مانیں،
اگرچہ وہ بہت دلکش نظر آئں،
موسمِ گرما کی قوس قزح کی مانند،
اور (پس) تعلق اور لگاوٹ سے بچیں۔

(۲۴) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
جب حالات نہائت مخدوش ہوں،
تو انہیں فریبِ نظرسمجھو،
کیونکہ بہت سارے آلام خواب میں بچے کی موت
کے مانند ہیں
اور(ایسے) فریبِ نظر مظاہر کو سچ ماننا
بہت بڑا ضیاع ہے۔

چھ دور رس رویے

(۲۵) ایک بودھی ستوا عبادت فراخدلی سے دینا ہے
بغیر اس کے عوض کسی شے کی توقع کئے
اور کسی کرمائی چیز کی پختگی کا انتظار،
کیونکہ، جو روشن ضمیری کے متمنی ہیں
اگر وہ اپنے بدن بھی دینے کو تیار ہیں،
تو دنیاوی مال و متاع کا ذکر ہی کیا؟

(۲۶) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ
اخلاقی ضبط نفس کی حفاظت کی جاۓ
بغیر دنیاوی اغراض کے،
کیونکہ، اگر ہم بغیر اخلاقی ضبط نفس کے
اپنے ہدف پورے نہیں کر سکتے،
تو دوسروں کے ہدف پورے کرنے کی خواہش محض تمسخر ہو گا۔

(۲۷) صبر کی عادت ڈالنا
ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
کسی کے بھی خلاف بغیر عناد اور نفرت کے،
کیونکہ، کوئی بودھی ستوا جو مثبت قوت
کے خزانہ کا متمنی ہے،
اس کے تمام دشمن اس کے لئے جواہرات کا خزانہ ہیں۔

(۲۸) پر مسرت استقامت کا اظہار ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
جو تمام بھٹکی ہوئی ہستیوں کے لئے
عمدہ صفات کا منبع ہے،
ہم چونکہ دیکھ سکتے ہیں کہ شراوک اور پرتیک-بدھبھی،
جو محض اپنی غرض پوری کرتے ہیں،
صرف اتنا استقلال رکھتے ہیں
کہ وہ اس آگ سے منہ موڑ لیں گے
جو ان کے سروں پر لگے۔

(۲۹) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ من کو استقامت
کی ایسی عادت ڈالنا جو خالصتاً چار غیر متشکّل
(استغراق) پر سبقت لے جاۓ،
اس احساس کے ساتھ کہ من کی ایک غیرمعمولی حالت،
جس پر ایکساکن اور جامد کیفیت کی عنائت ہو،
مکمل طور پر پریشان کن جذبات اور رویوں پر غلبہ پا سکتی ہے۔

(۳۰) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ امتیازی آگہی
کی عادت ڈالنا جس میں عبادات شامل ہوں
اور جس میں تین چکروں کا کوئی تصور نہ ہو،
کیونکہ امتیازی آگہی کے بغیر،
پانچ دور رس رویّے
مکمل روشن ضمیری کا حصول
ممکن نہیں بنا سکتے۔

ایک روزمرّہ بودھی ستوا عبادت

(۳۱) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ اپنی خودفریبی
کا باقاعدگی سے جائزہ لینا اور اس سے چھٹکارا پانا،
کیونکہ، اگر ہم خود اپنی خودفریبی کا جائزہ نہیں لیں گے،
تو یہ ممکن ہے کہ ہم کسی دھرمی (خارجی) شکل میں
کوئی غیر دھرمی کام کر بیٹھیں۔

(۳۲) ایک بودھی ستوا کی عبادت یہ ہے کہ جو مہائن میں
داخل ہوا ہے اس کی کمزوریوں کو زیرلب نہ لاۓ،
کیونکہ، اگر پریشان کن جذبات اور رویّوں
کے اثر تلے،
ہم کسی بودھی ستوا کی بدخوئی کریں گے،
تو ہم خود تنزّل کا شکار ہوں گے۔

(۳۳) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ ہم عزیزواقارب
اور سرپرستوں کے گھرانوں سے تعلق ختم کر دیں،
کیونکہ، منفعت اور عزت (حاصل کرنے) کے چکر میں ،
ہم ایک دوسرے سے جھگڑیں گے
اور ہمارے سمع،
سوچ اور مراقبہ کے کام ٹھنڈے پڑ جائں گے۔

(۳۴) ایک بودھی ستوا عبادت یہ ہے کہ ہم
ترش کلامی سے گریز کریں
جو دوسروں کے من کو ناروا ہے،
کیونکہ سخت الفاظ اوروں کے من کو پریشان کرتے ہیں
اور ہمارے بودھی ستوا رویہ میں گراوٹ کا باعث بنتے ہیں۔

(۳۵) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ ذہنی چوکسی اور خبر گیری
کو متناقض ہتھیاروں سے لیس کیا جاۓ
اور بہ زور بازو پریشان کن جذبات اور رویّوں کو تباہ کر دیا جاۓ،
مثلاً تعلق وغیرہ، جونہی وہ پہلی بار سر اٹھائں،
کیونکہ، جب ہم پریشان کن جذبات اور رویّوں
کے عادی ہوتے ہیں، تو ان کے مخالفوں کو
انہیں شکست دینے میں دقت پیش آتی ہے۔

(۳۶) مختصراً، یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے کہ اوروں کی ضروریات
پورا کرنے کی خاطر
مستقل ذہنی چوکسی اور خبرگیری سے (کام لینا) یہ جان کر،
خواہ ہم جیسا بھی اور جہاں بھی جو رویّہ اپناۓ ہوۓ ہوں،
ہمیشہ اپنے من کی حالت سے باخبر رہیں۔

(۳۷) یہ ایک بودھی ستوا عبادت ہے،
تین چکروں کے مکمل خالص پن
کی امتیازی آگہی سے،
ایسی جہد سے حاصل شدہ مثبت قوتوں کو
روشن ضمیری کے لئے وقف کر دینا،
تا کہ لاانتہا آوارہ ہستیوں کے دکھ کا مداوا ہو سکے۔

اختتامیہ

مقدّس ہستیوں کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوۓ
اور جو کچھ سوتر، تنتر، اور علمی مقالوں میں مذکور ہے،
کے معانی کے مطابق،
میں نے بودھی ستوا کی (یہ) عبادات ترتیب دی ہیں،
تیس اور سات، ان کی خاطر جو
بودھی ستوا مسلک کی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

چونکہ میری فہم ناقص اور تعلیم کم ہے،
ہو سکتا ہے یہ شاعرانہ بحر میں نہ ہوں
جو ایک عالم کو بھاتی ہے۔
لیکن چونکہ میں نے سوتر
اور مقدّس ہستیوں کی بات پر تکیہ کیا ہے،
تو میرے خیال میں (یہ) بودھی ستوا عبادات عیب سے پاک ہیں۔

بہرحال، چونکہ مجھ جیسے ناقص العقل کے لئے
بودھی ستوا رویّہ کی
دانش ورانہ تعلیمات کی
گہرائی تک رسائی مشکل ہے،
میں مقدّس ہستیوں سے التجا کرتا ہوں
میری ڈھیرساری غلطیوں کو درگذر کریں،
جیسے متناقض باتیں، عدم ربط، وغیرہ۔

اس سے جو مثبت توانائی پیدا ہوئی،
کاش تمام آوارہ ہستیاں،
عظیم گہرے اور روائتی بودھی چت کے توسط سے،
محافظ آوالوکیت-ایشور کے برابر بن جائں،
جو کبھی بھی اضطراری سمساری وجود یا نروانی آسودگی
کی انتہا پسند صورتوں کا پابند نہیں ہوتا۔

اسے ضبط نفس کے حامل راہب توگمے نے جو مقدّس صحیفوں اور منطق کا معلّم ہے، اپنی اور دوسروں کی بھلائی کی خاطر، نگولچو میں واقع غار رنچن میں مرتّب کیا۔