ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

خوف سے نبردآزمائی

الیگزینڈر برزن
مارچ ۲۰۰۲

خوف سے نمٹنے کے ہنگامی طریقے

تبتی بدھ مت میں مہاتما بدھ کی نسوانی شبیہ تارا ایک ایسے مہاتما بدھ کی نمائیندگی کرتی ہے جو ہمیں خوف سے بچاتی ہے۔ تارا دراصل شریر کی توانائی کی قوتوں اور سانس کی ترجمانی کرتی ہے۔ جب یہ پاک صاف حالت میں ہو تو یہ ہمیں عمل کرنے کی اہلیت اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بخشتی ہے۔ یہ تشبیہات ہمیں سانس اور لطیف توانائی کے ذریعہ خوف پر قابو پانے کے کئی ہنگامی طریقے پیش کرتی ہیں۔

یہ ہنگامی طریقے ان تمہیدی، ابتدائی مشقوں سے ماخوذ ہیں جو ہم مراقبہ، مطالعہ یا اسباق کی سماعت سے قبل کرتے ہیں۔ بذات خود یہ مشقیں ہنگامی حالات میں ہمیں شانت کرتی ہیں، جب ہم حد درجہ خوف زدہ ہوں یا ہراساں ہونے لگے ہوں۔ یہ ترقی یافتہ طریقے آزمانے سے قبل ابتدائی مرحلوں کا بھی کام دیتی ہیں۔

۱۔ آنکھیں بند کرکے سانس کے ادوار کو گننا، جبکہ ایک دور سانس کا اندر باہر آنا جانا، اور سانس کے اندر آنے، نیچے جانے، پیٹ کے نچلے حصہ کا اوپر اٹھنا، پھر گرنا، اور سانس کے باہر جانے کے محسوسات پر توجہ مرکوز کرنے پر مشتمل ہو۔

۲۔ نیم وا آنکھوں سے سانس کے چکروں کو گننا، کم توجہ سے، فرش کی جانب دیکھتے ہوۓ، ایک چکر اس طرح کہ سانس باہر کی طرف، ایک وقفہ، پھر سانس اندر، اسی پہلے والی توجہ کے ساتھ، اور پھر تھوڑی دیر بعد اس احساس کی آگہی کہ ہماری پشت کرسی یا فرش کو چھو رہی ہے۔

۳۔ اس ہدف یا مقصد کا اعادہ کرنا جو ہم پانا چاہتے ہیں (مزید شانتی حاصل کرنا)، اور کیوں۔

۴۔ یہ تصور کرنا کہ من اور توانائی کیمرے کے عدسہ کی مانند مرکوز ہو جاتے ہیں۔

۵۔ بغیر سانس کو گنے، پیٹ کے نچلے حصہ پر توجہ مرکوز کرنا، سانس لیتے ہوۓ اس کے اوپر اٹھنے، گرنے پر، اور یہ محسوس کرنا کہ جسم کی تمام توانائیاں ہم آہنگ چل رہی ہیں۔

خوف کیا شے ہے؟

خوف کسی جانی پہچانی یا انجانی شے کے بارے میں جسمانی اور جذباتی بے چینی ہے، ایسی شے جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، نہ ہی ہم اس سے نمٹ سکتے ہیں، یا حسب منشا نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ جس چیز کا ہمیں خوف ہے ہم اس سے چھٹکارا چاہتے ہیں، لہٰذا اس کے متعلق شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ اگر یہ خوف عام قسم کا ڈر بھی ہو، بغیر کسی خوف پیدا کرنے والی خاص شے کے، تو بھی ہمارے اندر اس بات کی زبردست خواہش ہوتی ہے کہ اس انجانی "کسی شے" سے جان چھوٹے۔

خوف خالی خولی غصہ نہیں۔ مگر غصہ کی مانند، اس میں، جس شے سے ہم ڈرتے ہیں اس کے منفی پہلو اور "میں" دونوں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ خوف غصہ میں من کے اس پہلو کا اضافہ کرتا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہمارا اس صورت حال پر اختیار نہیں یا ہم اس سے نمٹ نہیں سکتے۔ پھر ہم اس امتیاز کی روشنی میں خوف پیدا کرنے والی شے پر اور اپنے آپ پر دھیان دیتے ہیں۔ امتیاز اور توجہ دینے کا وہ طریقہ صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔

خوف عدم آگہی کے ساتھ آتا ہے

خوف ہمیشہ کسی حقیقت یا واقعہ سے عدم آگہی (لا علمی اور الجھن) کے سبب ہوتا ہے – یا تو عدم واقفیت یا ایسی واقفیت جو حقیقت کے خلاف ہو۔ چلئے اس کی چھ مختلف شکلوں پر غور کرتے ہیں:

۱۔ جب ہمیں یہ خوف ہو کہ ہم کسی صورتحال پر قابو نہیں پاسکتے یا نمٹ نہیں سکتے، تو ہمارے خوف کے ساتھ علت اور اس کے اثرات سے ناواقفیت بھی ہوتی ہے۔ اپنے آپ پر توجہ دینے کے خوفزدہ طریقہ کی تخئیلی شکلیں اور ہم جن چیزوں سے ڈرتے ہیں وہ یہ ہیں

· "میں" کا ٹھوس وجود جو، محض اپنی طاقت کے بل پر، ہر چیز پر قابو پاسکے، جیسے ہمارے بچہ کو ضرر نہ پہنچے،

· ایک ٹھوس شے کا وجود، جو کسی اور کے زیرِ اثر نہ ہو، کہ اپنی کوششوں ہی کی بنا پر قابو پاسکیں لیکن شخصی کمزوریوں کی بنا پر اس قابل نہ ہوں۔

یہ زندہ رہنے کے ناممکن اطوار ہیں، اور ان کے بھی ناممکن طریقے ہیں جن میں اسباب و اثرات کام کرتے ہیں۔

۲۔ جب ہم خوفزدہ ہوں کہ ہم کسی صورتحال سے نمٹ نہیں سکتے، تو اس کے ہمراہ عدم آگہی کی نوعیت من کی فطرت اور غیردائمی پن ہو۔ ہم ڈرتے ہیں کہ ہم اپنے جذبات کو یا کسی عزیز شخصیت کے کھونے کو سنبھال نہیں سکتے تو ہم اس امر سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ہمارے درد و غم کے تجربات محض خارجی اظہار اور ان کا شعور ہیں۔ وہ غیر دائم ہیں اور گذرجائیں گے، ایسے ہی جیسے وہ درد جو کسی دندانساز کے دانتوں میں برما کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

۳۔ کسی صورتحال سے نمٹنے کی نااہلی کا خوف اس وجہ سے ہو کہ ہم اس سے خود نہیں نمٹ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی اکیلے پن اور تنہائی کا احساس بھی آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی ایسے کو پاسکتے ہیں جو اس صورتحال کا ازالہ کرسکے۔ اس کی تخئیلی شکلیں یہ ہیں

  • ایک ٹھوس زندہ "میں" جو ناکارہ اور نااہل ہے جو کبھی سیکھ نہیں سکتا،
  • ایک ٹھوس زندہ "غیر شخص" جو مجھ سے بہتر ہے اور مجھے بچا سکتا ہے۔

ہم اور دیگر لوگ کیسے زندگی گذارتے ہیں، اس سے عدم آگہی کی یہ ایک اور شکل ہے، اور اسباب و اثرات سے عدم آگہی کی بھی ۔ یہ درست ہے کہ کسی بات سے نمٹنے میں مدد کے لئے اس وقت ہمارے پاس کافی معلومات نہ ہوں، جیسے ہماری کار میں خرابی پیدا ہوجائے اور کسی دوسرے کو معلومات ہوں کہ ہماری مدد کرسکے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ علت و معلول کے مطالعہ سے ہم سیکھ نہیں سکتے۔

۴۔ ہم جب کسی سے خوفزدہ ہوں مثلاً اپنے آجر سے، ان کے روایتی مزاج سے ہم واقف نہیں ہوتے۔ ہمارے آجربھی انسان ہی ہیں، ان محسوسات کے ساتھ جو ہم میں ہیں۔وہ خوش ہونا چاہتے ہیں، ناخوش نہیں ہونا چاہتے، اور پسندیدہ بننا چاہتے، ناپسند اشخاص نہیں۔ دفتر سے باہر بھی ان کی ایک زندگی ہے جو ان کے موڈ پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے آجرین کا انسانی قدروں پر تقابل کرسکیں، اپنی متعلقہ حیثیت کو نظر میں رکھتے ہوئے، تو ہمیں کم ڈر لگے گا۔

۵۔ اسی طرح، جب ہم سانپ یا کیڑوں مکوڑوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں تو ہم ناواقف ہوتے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح ذی حس مخلوق ہیں اور خوش رہنا چاہتی ہیں، ناخوش نہیں۔ بدھ متی نکتۂ نظر سے، ہم شائد ناواقف ہوں کہ وہ من کےمنفرد تسلسل کی حالیہ مظہر ہیں جو اپنی نوع کی ایک یا دیگر پیدائشی پہچان نہیں رکھتیں۔ ہم ناواقف ہیں کہ شائد وہ پچھلی زندگیوں میں ہماری مائیں رہی ہوں۔

۶۔ جب ہم ناکامی یا بیماری سے خوفزدہ ہوں تو محدود سمساری ہستیوں جیسی روایتی نوع سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہم کامل نہیں ہیں اور ہم سے غلطیاں ہوسکتی ہیں، کبھی ہم ناکام اور کبھی بیمار ہوسکتے ہیں۔ "آپ سمسار سے کیا توقع رکھتے ہیں؟"

احساسِ تحفظ

بدھ متی نکتہ نظر سے احساسِ تحفظ اس بات کا لازمی نتیجہ نہیں ہوتا کہ

  • کسی قادرِ مطلق کی طرف رجوع کریں جو ہمیں بچاسکے، کیونکہ بدھ مت کے مطابق کوئی بھی قادرِ مطلق نہیں ہوسکتا؛
  • کوئی طاقتور ہستی کسی طرح ہماری مدد کر بھی سکے تو اس ہستی کو خوش کرنے یا اسے نذر یا قربانی پیش کرنے کی ضرورت جس کی وجہ سے ہمیں تحفظ یا مدد مل سکے؛
  • ہم خود قادرِ مطلق ہوجائیں۔

احساسِ تحفظ کے لئے ہمیں چاہئے

۱۔ اس بات کی آگہی کہ ہمیں کس کا خوف ہے، اور یہ پہچاننا کہ اس کی تہ میں کیا عدم واقفیت اور الجھن ہے؛

۲۔ اس بات کا حقیقت پسندانہ احساس کہ خوف سے نمٹنے کا مطلب کیا ہے، خصوصاً اس بات کی روشنی میں کہ اس کی تہ میں جو الجھن کارفرما ہے اس سے چھٹکارا پائیں؛

۳۔ خوف سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت کی جانچ کریں، وقتی طور پر اور دیرپا، اپنے اندازہ کو کم یا زیادہ کئے بنا، اور اپنے موجودہ مقام کو قبول کریں؛

۴۔ جو کچھ اب ہم کرسکتے ہیں اسے عملی جامہ پہنائیں – اگر ہم اب کررہے ہیں تو اس پر خوش ہوں، اور اگر نہ کررہے ہوں تو اپنی اہلیت کے مطابق کرنے کا مصمم ارادہ کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں؛

۵۔ اگر ہم پوری طرح اس سے اب نمٹ نہیں سکتے، تو معلوم کریں کہ کس طرح اس مقام کو پہنچ پائیں گے جب ہم اس سے پوری طرح نمٹ پائیں گے؛

۶۔ اپنا ہدف بنائیں اور ترقی کی اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں؛

۷۔ یہ احساس رکھیں کہ ہم صحیح رخ پر جارہے ہیں۔

مندرجہ بالا یہ سات اقدامات ہیں جنہیں بدھ مت "صحیح رخ کا اپنانا" (پناہ لینا) کہتا ہے۔ اپنی زندگیوں میں صحیح رخ کا اپنانا انفعالی کیفیت نہیں ہے بلکہ فعال ہے – حقیقت پسندانہ انداز میں اس رخ پر عمل کرنا، اپنے خوف سے چھٹکارا پانا ہے۔ نتیجتاً، ہم محفوظ و مامون محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم زندگی میں مثبت اور ٹھیک رخ پر جارہے ہیں جو بالآخر ہمیں اس قابل بنائے گا کہ ہم ساری مشکلات اور مسائل سے آزاد ہوجائیں گے۔

ہیبت ناک صورتحال سے نمٹنے پر ایک غائرانہ نظر

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ

  • اپنے عزیزوں یا خود ہم کو چاہے جو کچھ ہو، وہ کرم کی انفرادی طاقتوں کے ایک بڑے جال کی پختگی ہے، اور ساتھ ساتھ تاریخی، سماجی، اور معاشی طاقتوں کی بھی۔ حادثات اور دیگر غیر مطلوبہ چیزیں ہونگی اور ہم اپنے عزیزوں کو ان سے محفوظ نہیں رکھ سکتے، چاہے ہم کتنے ہی محتاط ہوں اور کتنا ہی انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیں۔ بس اتنا ہی کرسکتے ہیں کہ بھلا مشورہ دیں اور خیرخواہی کی توقع رکھیں۔
  • حادثات اور خوف پر قابو پانے کے لئے، ہمیں چاہئے کہ خالی پن کا غیر تخئیلی ادراک ہو۔ خالی پن میں غرق رہنا، گرچہ، زمینی گڑھے میں اپنا سر چھپانا نہیں ہے۔ یہ خوف سے بھاگنا نہیں ہے، بلکہ غیر آگہی اور الجھن کے تدارک کا ایک طریقہ ہے جو ہمارے کرم کے غیر مطلوبہ چیزوں میں پک جانے کا سبب بنتے ہیں، اور یوں وہ ہمارے خوف کا سبب بنتے ہیں۔
  • خالی پن کی غیر تخئیلی پہچان کے ذریعہ اپنے آپ کو اپنے کرم سے پاک کرنے کے سلسلہ میں ہم ابھی بھی خوف اور حادثات سے دوچار ہوں گے حتیٰ کہ ہمیں سمسار سے مکش (ارہتیت) حاصل ہو جاۓ۔ اس لئے کہ یہ سمسار کی فطرت ہے کہ اس میں اونچ نیچ آتی ہے۔ ترقی کی راہ سیدھی نہیں ہے؛ کبھی سب ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔
  • ایک ارہت کی طرح ہم ایک بار مکش حاصل کر بھی لیں، تب بھی ہم حادثات سے، اور ان باتوں سے جو ہم نہیں چاہتے، دوچار ہوتے ہیں۔ تاہم، ہم ان سے تکلیف اور پریشانی کے بغیر گذرجائیں گے، کیونکہ ہم کسی خوف کے بغیر پریشان کن جذبات اور رویوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ یہ صرف ارہتیت کی منزل پر ہوتا ہے جہاں ہم عمیق ترین انداز میں اپنے سارے اندیشوں سے نمٹ سکتے ہیں۔
  • صرف اس وقت جب ہم روشن ضمیری کی منزل پر پہنچتے ہیں، ہمیں حادثے یا غیرمطلوبہ واقعات پیش نہیں آتے۔ صرف ایک مہاتما بدھ ہی بے خوفی کے ساتھ اعلان کرسکتا ہے

    • خود اپنی اچھی خصوصیات اور مہارتوں کی تکمیل،
    • ان سارے ابہامات کا سچا خاتمہ جو مکش اور روشن ضمیری کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں،
    • وہ ابہامات جو دوسروں کو، مکش اور روشن ضمیری کے حصول کے لئے، دور کرنے درکار ہیں،
    • مخالف طاقتیں جن کے خاتمہ کیلئے دوسروں کو یہ درکار ہیں۔

  خوف سے نمٹنے کے عارضی طریقے

۱۔ مندرجہ بالا سات اقدامات کے ذریعہ زندگی کے محفوظ رخ پر جانے کا عزمِ نو کریں۔

۲۔ جب کسی پریشان کن صورتحال کا سامنا ہو، جیسے کینسر کا امتحان، تو بدترین منظر کا تصور کریں کہ تب کیا ہوگا اور ہم اس کا سامنا کیسے کریں گے۔ اس طرح انجانے کا خوف مٹتا ہے۔

۳۔ کسی کام کا بیڑا اٹھانے سے پہلے، جیسے جہاز پکڑنے کے لئے ایرپورٹ وقت پر پہنچنا ہو، کئی متبادل تدابیر تیار رکھیں کہ اگر ایک میں ناکامی ہو تو یہ پریشان کن منظر نہ ہو کہ مقصد کے حصول کے لئے کوئی اور راستہ ہی نہیں۔

۴۔ جیسا شانتی دیو نے سکھایا ہے، اگر کوئی پریشان کن صورتحال پیش آئے اور ہم اسے سنبھال سکیں تو کیوں پریشان ہوں، بس سنبھال لیں۔ اور اگر ہم کچھ کرنے کے موقف میں نہیں تو کیوں پریشان ہوں، محض پریشانی سے کچھ نہیں ہوگا۔

۵۔ چونکہ ہمیں مکش کی راہ میں ہر قدم پر خوف اور غم کا سامنا ہے، ہمیں اپنے من پر ایسے نظر جمانی چاہئے جیسے وہ خوب گہرا اور وسیع سمندر ہو۔ جب خوف اور غم سر اٹھائیں تو وہ ایسے گذر جائیں جیسے سمندر کی ایک لہر۔ یہ لہر سمندر کی پرسکوت گہرائی پر مطلق اثرانداز نہیں ہوتی۔

۶۔ اگر ہم نے اپنے تعمیری اقدامات سے کافی کرمائی طاقت (انعام کی مستحق خوبی) مجتمع کرلی ہے، تو ہم مطمئن ہوسکتے ہیں کہ اگلی زندگیاں اپنے قیمتی جسم کے ساتھ جاری رکھ سکیں گے۔ ہمارا اپنا مثبت کرم ہی خوف کے خلاف ہماری بہترین ڈھال ہے، گو ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ سمسار کی فطرت ہی ہے کہ اونچ نیچ ہو۔

۷۔ ایک پریشان کن صورتحال پیش آنے پر، دھرم کے محافظ یا مہاتما بدھ کی جیسی شخصیت مثلاً تارا یا حکیم بدھا کی مدد کی درخواست کرتے ہوئے ہم ایک دعا کرسکتے یا کرواسکتے ہیں ۔ ایسی شخصیتیں قادرِ مطلق نہیں ہوتیں کہ ہمیں ہر مصیبت سے نکال سکیں۔ بس ان کی روشن ضمیری سے اثرپذیر ہونے کے لئے ہم درخواست کرتے اور اپنے آپ کو کھلا پیش کردیتے ہیں، تاکہ اپنے پچھلے کئے ہوۓ تعمیری اعمال کی وجہ سے کرمائی طاقتوں کے حصول کی صورت بن سکے، جو پہلے نہیں بن سکتی تھی۔ ایک زیادہ یقینی اثر یہ ہے کہ ان کی روشن ضمیر اثر پذیری ایسی صورت پیدا کرتی ہے جو معمولی تکلیفوں ہی میں منتج ہو، وگرنہ کامیابی سے باز رکھنے کے لئے ہمارے پچھلے تخریبی اعمال شدید گمبھیر رکاوٹوں پر منتج ہوتے۔ لہٰذا پریشانیوں سے گھبرانے کے بجائے ہم منفی کرمائی طاقتوں کو "بھسم" کرنے کے لئے انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

۸۔ مہاتما بدھ والی فطرت کا اقرارِنو کریں۔ ہم میں بنیادی سطح کا گہرا ادراک ہے (آئینہ کی طرح گہرا ادراک)، مشکل اور پریشان کن صورتحال کو سمجھنے کا، انداز کو سمجھنے کا (منصفانہ گہرا ادراک)، منفرد صورتحال کی شناخت کرنے کا (انفرادی گہرا ادراک)، اور یہ جاننے کا کہ کیسے عمل کریں (جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے) (گہرے ادراک کا حصول)۔ ہمارے پاس واقعی عمل کرنے کی بنیادی سطح کی توانائی بھی ہے۔

۹۔ یہ اقرارِ نو کریں کہ مہاتما بدھ کی فطرت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں مکمل طور پر سارے اچھے اوصاف رکھنے کی بنیاد موجود ہے۔ مغربی نفسیاتی سوچ کے مطابق یہ اوصاف شعوری بھی ہوسکتے ہیں اور غیر شعوری بھی (ہم آگاہ ہوں یا نہ ہوں، اور یہ مختلف درجات میں بھی ہوسکتے ہیں)۔ اکثر، ہم غیر شعوری اوصاف کو "سایہ" کہتے ہیں کیونکہ جو غیر شعوری ہے وہ نامعلوم ہے، عدم آگہی کی کشاکش خوفِ نامعلوم کے طور پر ظاہر ہوتی ہے اور نامعلوم غیر شعوری اوصاف کے خوف کے طور پر بھی۔ اسی طرح ہم اپنے شعوری عقلی رخ کو پہچانتے ہیں اور نظر انداز کرتے یا انکار کرتے ہیں اپنے نامعلوم، غیر شعوری، جذباتی محسوسات کو۔ ہم جذباتی احساسات کے رخ کو سایہ کہہ سکتے ہیں اور دوسروں سے، جو بہت جذباتی ہوں، گھبراتے ہیں۔ ہم خود اپنے جذباتی رخ سے خوفزدہ ہوسکتے ہیں، اور اپنے جذبات سے ربط نہ رکھنے پر پریشان بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے شعوری جذباتی رخ سے ناطہ جوڑیں اور غیر شعوری عقلی رخ سے منہ پھیریں، ہم عقلی رخ کو سایہ کہیں گے اور دانشوروں سے گھبرائیں گے۔ ہم کچھ سمجھنے کی کوشش سے خوفزدہ ہوں گے اور کند ذہن ہونے کی تشویش میں مبتلا ہونگے۔ لہٰذا، مہاتما بدھ والی فطرت کے پہلوؤں کے طور پر، ہمیں اپنے اندر دونوں کے پورے پورے ہونے کا اقرارِنو کرنا ہوگا۔ دونوں کو ایک جوڑے کی طرح گلے ملتے ہوئے ہم تصور کرسکتے ہیں، جیسے تنترکا تصور، اور سوچ سکتے ہیں کہ ہم خود ایک مکمل جوڑا ہیں نہ کہ جوڑے کا ایک فرد۔

۱۰۔ اپنی فطرت مہاتما بدھ کے ایک اور پہلو کا اقرارِ نو کریں، یعنی من کی فطرت ہی فطرتاً ہر خوف سے مُبَرّا ہے، لہٰذا کسی خوف سے واسطہ محض سرسری عارضی واقعہ ہے۔

۱۱۔ اپنی فطرت مہاتما بدھ کے ایک مزید پہلو کا اقرارِ نو کریں، یعنی ہمیں دوسروں سے حوصلہ مل سکتا ہے کہ خوفناک صورتحال سے نمٹنے کی ہمت ہو۔