ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تبتی بدھ مت کی بنیادی تعلیمات > تیسرا درجہ: لوجونگ (ذہنی تربیت) سامان تربیت > زندگی میں آٹھ عارضی مسائل سے پیداشدہ پریشانی کا تدارک

زندگی میں آٹھ عارضی مسائل سے پیداشدہ پریشانی کا تدارک

الیگزینڈر برزن
جون ۲۰۰۱

تعارف

زندگی کی آٹھ عارضی چیزیں (آٹھ دنیاوی دھرم)، چار جوڑوں میں درج ذیل ہیں

  • تعریف یا تنقید،

  • اچھی یا بری خبر کا ملنا،

  • نفع یا نقصان،

  • حالات کا سازگار یا ناسازگار ہونا۔

ان جوڑوں میں سے ہر پہلی کیفیت سے دوچار ہونے پر بہت زیادہ مضطرب، پریشان اور بے چین ہونا، اور ہر دوسری کیفیت پر حد سے زیادہ غمگین۔ اسے ہم چار بلندوبالا سچائیوں کے پس منظر میں سمجھ سکتے ہیں۔

پہلی بلندوبالا سچائی

۱۔ دکھ کا مسٔلہ – ہم ہدف تنقید بنتے ہیں، بری خبر سنتے ہیں، نقصان اٹھاتے ہیں، یا ناموافق حالات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک اور پہلو، جس کا انحصار ہماری بلند یا پست عزت نفس پر ہے، یہ ہے کہ ہم یا تو اس مجموعہ سے دوچار ہوتے ہیں یا پہلے مجموعے سے – تعریف، وغیرہ – عدم مسرت کے ساتھ ۔

۲۔ عارضی خوشی – ہماری تعریف ہوتی ہے، ہمیں خوشخبری ملتی ہے، نفع ہوتا ہے، یا حالات سازگار ہوتے ہیں۔ ایک اور پہلو، جس کا انحصار ہماری بلند یا پست عزت نفس پر ہے، یہ ہے کہ ہم یا تو اس مجموعہ سے دوچار ہوتے ہیں یا دوسرے مجموعے سے – الزام تراشی، وغیرہ – مسرت کے ساتھ ۔ ایسی خوشی البتّہ دیرپا نہیں ہوتی، ہمیں سکون نہیں پہنچاتی اور ہمارے مسائل کا مداوا نہیں ہوتی۔

۳۔ مکرّر پیش آنے والے اضطراری مجموعی تجربات – یعنی وہ آٹھ عارضی چیزیں جو بار بار پیش آتی ہیں؛ یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کونسی پیش آنے والی ہے؛ اور ہمارا ان پر کوئی اختیار بھی نہیں۔ ہمارے حالات میں ہر دم اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔

دوسری بلندوبالا سچائی

مسائل کرم اور پریشان کن جذبات سے پیدا ہوتے ہیں۔ کرم کا تعلق کسی خاص طور پرعمل کی احتیاج سے ہے، جس کی بنیاد ماضی کے کرمائی اعمال کو دوہرانے کی خواہش ہے۔ ایسا احساس جس میں "ٹھوس" (حقیقی) وجود پر اصرار شامل ہو – "میرا" یہ کام کرنے کو جی چاہتا ہے – تو جب ہم اس احتیاج کو پورا کر گذرتے ہیں، تو ہمارا فعل بطور ایک منفی (پاپ) یا مثبت کرمائی قوت (انعام کی مستحق خوبی) کے کام کرتا ہے۔ نتیجتًہ، ہمارے من کے سلسلے اپنے کرمائی نتائج کے ساتھ چلتے ہیں: کرمائی قوتوں کے جال (مجامیع)، کرمائی میراث (بیج، رحجانات)، اور پختہ کرمائی عادات۔

ٹھوس (حقیقی) وجود کے اصرار اور زبردست خواہش کے نتیجہ میں:

۱۔ کرمائی رحجانات پختہ ہو کر ایسا احساس پیدا کرتے ہیں کہ جیسے وہی کچھ ہو رہا ہے جس کا مزہ ہم ماضی میں چکھ چکے ہیں – تعریف یا تنقید کا نشانہ۔

۲۔ کرمائی قوتوں کا جال پختگی اختیار کر کے ہمیں ان کا مزہ مسرت یا عدم مسرت کے روپ میں چکھاتا ہے۔

۳۔ مستقل کرمائی عادات پختہ ہو کر ان کے حقیقی وجود کے اصرار پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ ہم اپنے تجربے کو تین حصوں میں بانٹتے ہیں اور ہر حصے کی مبالغہ آرائی کرتے ہیں – ٹھوس "میں"، ٹھوس "تم"، اور "ٹھوس "واقعہ"۔ پھر تعلق اور کراہت جیسے پریشان کن جذبات کی باری آتی ہے، جدا نہ ہونے کی زبردست خواہش اور مزید کی تمنّا، یا جدا ہونے کی خواہش۔ ان سے کرمائی نتائج کی پختگی کے مزید اسباب پیدا ہوتے ہیں۔

کرم کے کمالات

کرموں کی میراث کی پختگی ماضی کے تجربات کے اعادہ کی صورت میں ظہورپذیر ہوتی ہے۔

۱۔ اپنے وجود کی حقیقت پر مُصر جب ہم دوسروں کی تعریف کرتے ہیں یا انہیں ہدف تنقید بناتے ہیں، تو ہمیں بھی ستائش یا تنقید سے واسطہ پڑتا ہے۔ بعض اوقات تعریف یا تنقید ضروری ہوتی ہے – مگر اصل مسٔلہ یہ ہے کہ یہ کام حقیقی وجود پراصرار کے بغیر کیا جاۓ (اپنی ذات کے عدم شعور کے ساتھ)۔

۲۔ اپنے وجود کی حقیقت پر مُصر جب ہم دوسروں کو اچھی یا بری خبر سناتے ہیں، یا دوسروں پر چلاتے ہیں یا ان سے خوش اخلاقی سے بات کرتے ہیں، یا شوروغل سے دوسروں کو پریشان کرتے ہیں یا شوروغل سے دوسروں کو پریشان کرنے سے پرہیز کرتے ہیں، تو ہمارے ساتھ بھی یہی واردات پیش آتی ہے۔

۳۔ اپنے وجود کی حقیقت پر مُصر جب ہم دوسروں کے مال پر ناجائز قبضہ سے گریز کرتے ہیں اور دوسروں کو کچھ دیتے ہیں، یا اپنے حقیقی وجود پر مصر کسی کا مال چراتے ہیں یا اس پر قبضہ کر لیتے ہیں، تو یوں ہم نفع یا نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔

۴۔ اپنے وجود کی حقیقت پر مُصر جب ہم دوسروں سے تعمیری یا تخریبی انداز میں پیش آتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے حالات یا تو سازگار ہوتے ہیں یا ناسازگار، کامیاب یا ناکام۔ ان آٹھ حالات و واقعات کے دوران مثبت یا منفی کرمائی قوتوں کے جال، ہمارے حقیقی وجود پر اصرار کرتے ہوۓ، مسرت یا عدم مسرت کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ستائش پر ہم خوش یا ناخوش ہوتے ہیں (مثلاً "میں اس کا مستحق نہیں")، اور تب بھی یہی صورت حال ہوتی ہے جب ہم پر تنقید ہو یا ہمارے اوپر کوئی الزام لگایا جاۓ۔

کرمائی پختہ عادات کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب معاملات پختہ ہو کر ایک ٹھوس "میں" پر یقین – "میں" ایک عظیم انسان ہوں، یا "میں" اس کا مستحق نہیں۔ ایک ٹھوس "تم" پر ایمان – "تم" کس قدر شاندار یا بیکار انسان ہو۔ ایک ٹھوس "تجربہ" پر یقین – یہ ستائش بڑی زبردست ہے یا یہ تنقید بہت خراب ہے، اس سے "مجھے" اور "میری" ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا۔

پھر اس حقیقی وجود پراصرار کی بنیاد پر ہم تعلق اور جوشیلے پن کا، یا غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔

اس سے مزید کرمائی پختگی پیدا ہوتی ہے، اور سمسار بھی، اپنے نشیب و فراز کے ساتھ ۔

تیسری بلند و بالا سچائی

حقیقی روک تھام۔ حقیقی روک تھام سے مراد سمسار سے مکمل مکش کا حصول ہے، تا کہ ہم ہر دم کم و بیش ہونے والی مسرت اور عدم مسرت کے داغدار احساس سے چھٹکارا پا سکیں۔ اس کے بجاۓ ہم ہر دم روشن ضمیری کی مسرت سے سرشار رہیں۔ علاوہ ازیں، ہم ماضی کے ہر دم اوپر نیچے ہونے والے حالات کے تجربات سے بچ جاتے ہیں۔

تاہم، حقیقی روک تھام سے قبل ہی، جب ہم تعریف و تنقید سے متصل ہیں، اور حالات موافق یا ناموافق ہیں، اور جب ہم ان حالات کی وجہ سے قدرتاً خوشی یا غمی محسوس کرتے ہیں، تو ہم اس تعلق اور پرجوش احساس یا مکمل طور پر غمگین اور حالت زار کی عارضی روک تھام کر سکتے ہیں۔ پس ہم کسی قسم کی طمانیت حاصل کر سکتے ہیں اور کسی قسم کا من کا اور جذباتی قرار حاصل کر سکتے ہیں (دھیان)۔

طمانیت سے مراد احساس کی عدم موجودگی نہیں – جیسے تنخواہ میں اضافہ پر عدم مسرت، یا کسی عزیز کی فوتیدگی پر عدم اظہار رنج و غم۔ اس کا مطلب احساس کو دبانا نہیں، اگرچہ احساس خاصا نازک ہو جاتا ہے۔ استیصال اور عدم احساس غیر صحتمند ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ احساس کی بدولت پریشان نہ ہونا، تعلق یا برگشتگی سے لا تعلقی، نہ ہی پرجوش ہونا اور نہ ہی غمگین اور ناراض – صورت حال یا اس کے ہمراہ احساس سے پریشان نہ ہونا۔

یہ ہمیں معقول انداز میں رد عمل کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہم تعریف یا تنقید کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے کر اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ کیا یہ درست ہے اور کیا ہم اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

چوتھی بلندوبالا سچائی

من کا وہ سچا راستہ جو اس کا اصل تدارک کرتا ہے وہ خالی پن کا ادراک ہے، تا کہ ہم تجربہ کے تین پہلوؤں کو تین حصوں میں تقسیم کرنے اور ان کے متعلق مبالغہ آرائی سے اجتناب کریں۔ تاہم، ایسے کئی عارضی طریقے ہیں جو وقتی طور پر اس کی روک تھام کر سکتے ہیں – ان میں سے بہت سے شانتی دیو کی تصنیف 'بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا' سے ماخوذ ہیں۔

عارضی روک تھام کا طریقہ: پس منظر

اپنے تجربات کو ان کے حالات کی روشنی میں پرکھو۔

۱۔ جب ہم تعریفی یا تنقیدی کلمات سنتے ہیں، تو ہم اس امر کی یاد دہانی کر سکتے ہیں کہ ہمارے اندر قابل ستائش اور قابل مذمت دونوں طرح کے اوصاف ہیں – تو ایک کو دوسرے پر کیوں فوقیت حاصل ہے؟ ہم کیوں ایک کو دوسرے کی نسبت پسند کرتے ہیں؟ کراہت اور لاتعلقی محسوس کرتے ہیں۔

۲۔ اچھی یا بری خبر سننے پر، نفع اور نقصان پر، حالات سازگار یا ناسازگار ہونے پر بھی یہی رویہ اختیار کرتے ہیں۔

اپنے تجربات کو اپنی تمام زندگی کے پس منظر میں جانچو، نہ کہ لمحہ حالیہ کے محدود پس منظر میں۔

۱۔ جب کوئی تعریف کرے تو یاد رکھو تنقید کرنے والے بھی بہت ہیں۔

۲۔ ماضی میں کی گئی تعریف اور تنقید دونوں کا اعادہ کرو۔ یوں سوچو: مستقبل میں ایسے لوگ ہوں گے جو پھر مجھ پر نکتہ چینی کریں گے۔ اس بات پر توجہ مرکوز کرو کہ یہ تجربہ کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔

۳۔ یہی رویہ تنقید کئیے جانے پر اختیار کرو۔

۴۔ تیاگ کی راہ اختیار کرو – یعنی اس جذباتی اتار چڑھاؤ سے کراہت، اور اس سے نجات کی پر خلوص خواہش۔

۵۔ جب اچھی یا بری خبر ملے تو بھی یہی اقدام کرو (کوئی ہم سے بات کرے یا نہ کرے، اچھی طرح پیش آۓ یا بری طرح، علیٰ ہٰذالقیاس)، نفع ہو یا نقصان ہو، حالات موافق ہوں یا ناموافق۔

کیا موجودہ صورت حال حقیقت کے زیادہ قریب ہے؟

۱۔ جب کوئی ہم پر تنقید یا الزام تراشی کرتا ہے، تو ہم اس بات پر غوروفکر کر سکتے ہیں کہ وہ کونسا عنصر ہے جو اس بات کو زیادہ سچ ثابت کرتا ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جنہوں نے ہمارے لئےتعریفی کلمات کہے۔ کونسی چیز انہیں زیادہ سچ اور اہم بناتی ہے؟ یہ شخص اوروں کی بجاۓ کیوں صحیح ہے؟

۲۔ بلکہ اسی ایک شخص کے بارے میں (یہ سوچنا کہ) کیوں اس کے موجودہ الفاظ اس کے (ہمارے لئے) جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں؟ (اس کے موجودہ الفاظ) کیوں، بہ نسبت ماضی میں کہے گئے تعریفی الفاظ کے، زیادہ درست، سچے اور اہم ہیں؟ یا، موجودہ کلمات، ماضی میں کہے گئے کلمات کی نسبت، کیوں کم اہم ہیں اور اتنے سچے اور صحیح بھی نہیں، تا کہ ہم انہیں نظرانداز کر دیں؟ کراہت اور لا تعلقی کا اظہار کریں۔

۳۔ تعریف کئے جانے پر، اچھی یا بری خبر ملنے پر، نفع نقصان پر، حالات کے موافق یا ناموافق ہونے پر، سب پر یہی روش اختیار کریں۔

میں سمسار سے کیا توقع رکھوں؟

۱۔ مہاتما بدھ ہر شخص کو خوش نہ کر سکا، اور نہ ہی ہر کوئی اس کا مداح تھا، تو میں اپنے لئے کیا توقع کر سکتا ہوں؟

۲۔ میں سمسار سے کیا توقع رکھتا ہوں؟ جب تک میں اپنے کرموں کو مصفّا نہ کر لوں، مجھے اچھی بری خبریں ملتی رہیں گی، نفع نقصان ہوتا رہے گا – حالات اوپر نیچے ہوتے رہیں گے۔ اگر یہ چیز ہمیں پریشان کرے، تو اپنے احساس کو کراہت اور تیاگ میں تبدیل کر دیں۔

تصورات کا طلسم توڑنا

تعریف، بہتان بازی، اچھی خبر، بری خبر، نفع، نقصان، سازگار یا ناسازگار حالات، یہ سب ہوا کا ارتعاش ہے۔ یہ محض مظاہر ہیں۔ یہ کیسے "مجھے" ایک صحیح معنوں میں عمدہ یا گھٹیا انسان بنا سکتے ہیں؟

۱۔ مزید برآں، ان میں مجھے جو بظاہر ایک ٹھوس "میں" ہوں، ایک صحیح معنوں میں عمدہ یا گھٹیا انسان بنانے کی قوت کہاں سے آئی؟ مثال کے طور پر، "میں" اس کا مستحق ہوں۔ آخر کار، روائتی "میں" ہر لحظہ رو بہ تغیّر مجموعہ ہاۓ فکر کا تسلسل ہی تو ہے، اور اسی بات کا اطلاق روائتی "تم" پر بھی ہوتا ہے۔

۲۔ کسی سے کوئی تحفہ قبول کرنے پر اس "میں" کی خود مختاری کو کیونکر کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ حالات کی ناموافقی یا نقصان زدگی کیونکر ایک بظاہر ٹھوس "میں" کو جنم دے سکتی ہے جسے مورد الزام ٹھہرایا جاۓ اور دکھ یا سزا کا مستحق قرار دیا جاۓ؟

۳۔ ذرا اس بات پر غور کرو کہ کیسے یہ گمراہ کن تصورات اور اعتقادات ہمارے شعوری طور پر زندگی کا لطف اٹھانے کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں، اُس دم جبکہ حالات سازگار ہوں یا کوئی ہماری محبت میں گرفتار ہو؟ ذرا سوچئے کیسے یہ تفکّرات ہمارے تصور کا طلسم توڑتے ہیں، اور مسرت سے ہمکنار ہونے کا تصور کیجئے۔