ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

روشن ضمیری کی بتدریج راہ کا خلاصہ

تسنژاب سرکونگ رنپوچے اول
دھرمشالہ، ہندوستان اکتوبر ۱۹۷۶
مترجم : الیگزینڈر برزن
مدیران : لیوک رابرٹس اور الیگزینڈر برزن

  قیمتی انسانی پنر جنم 

ایک قیمتی انسانی پنر جنم کیونکر ایک آرزو بر لانے والے جوہر کی مانند ہے

یہ ہمارا قیمتی انسانی شریر ایک آرزو پوری کرنے والے جوہر سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ یہ راحت کا منبع ہے؛ مگر جو راحت اور سنہری موقع ہمارا جسم ہمیں دیتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم منشیات کے نشے میں چور ہو جائیں، بلکہ اس کا مقصد دھرم کی راہ پر چلنا ہے۔ قیمتی انسانی جسم ایک آرزو پوری کرنے والے جوہر سے کیوں زیادہ قیمتی ہے؟ کیونکہ مرادیں بر لانے والے جواہر سے ہم اس جنم کے لئے کھانا پینا تو مانگ سکتے ہیں مگر یہ جوہر ہماری آئیندہ زندگیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ پس یہ جسم جو ہمیں دھرم کی راہ پر چلنے کا موقع فراہم کرتا ہے کسی ایسے جوہر سے زیادہ قیمتی ہے۔

ہم سب ہر دم اور جب تک ممکن ہو خوشی چاہتے ہیں۔ مگر خواہ ہمیں اس زندگی میں جتنی بھی خوشی ملے اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے کیونکہ یہ زندگی بذات خود بڑی مختصر ہے۔ پس اگر ہم متسلسل خوشی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنی آئیندہ زندگیوں کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ ایک تمنائیں پوری کرنے والا جوہر ہمیں نہ تو تین نچلے درجوں میں دوبارہ جنم لینے سے نجات دلا سکتا ہے اور نہ ہی ہمیں لافانی بنا سکتا ہے۔ مگر اس قیمتی انسانی جسم کو استعمال کر کے ہم نچلے درجہ کے پنر جنم سے محفوظ ہو سکتے ہیں؛ اور جیٹسن ملاریپا کی مانند اس کی مدد سے دھرم کی راہ پر چل کر ہم اس زندگی میں ہی روشن ضمیری حاصل کر سکتے ہیں۔ لہٰذا چونکہ ایک تمنائیں پوری کرنے والا جوہر ہمیں وہ چیزیں نہیں دے سکتا جو ہمارا قیمتی شریر دے سکتا ہے تو ہمارا جسم ایک تمنائیں پوری کرنے والے جوہر سے زیادہ قیمتی ہے۔

پس ہمیں اس قیمتی انسانی جسم کے ذریعہ دھرم کی راہ پر چلنا ہے۔ مگر ہم اس کے متضاد سوچ کی طرف مائل ہوتے ہیں - اگرچہ ہمارا یہ جسم کسی تکمیل آرزو والے جوہر سے زیادہ قیمتی ہے مگر ہم اپنے جسم کو زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، اور ہم اس کوتاہ عمر مقصد کے حصول کی خاطر اپنی زندگی تک کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ہم سے زیادہ دولتمند اور عقلمند ہیں۔ مگر ہم اپنے قیمتی جسم کے ذریعہ دھرم کی راہ پر چل کر ان کی نسبت کہیں زیادہ مثبت قوت ( انعام کی مستحق خوبی ) پیدا کر لیتے ہیں۔ پس یہ بات اہم ہے کہ اس قیمتی پنر جنم کو ضائع نہ ہونے دیا جاۓ بلکہ اس کے ذریعہ ان تین مقاصد کو پورا کیا جاۓ جس کے لئے یہ کار آمد ہے : مستقبل میں بہتر پنر جنم پانا، مکش، اور روشن ضمیری۔

خواہ ہم کتنی ہی مادی اشیا اکٹھی کر لیں وہ ہمیں تشفی نہیں دے سکتیں۔ اگر کوئی شخص دنیا کی تمام مادی اشیا کا مالک بن جاۓ تو بھی وہ مطمئن نہیں ہو گا۔ تو یہ بات عیاں ہے کہ تمام تکمیل آرزو کے جواہر بھی تسکین بخش نہیں۔ جب کوئی شخص مزید سے مزید تر دولت جمع کرتا ہے تو اس سے اتنے ہی زیادہ مصائب پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اس حقیقت کا مزہ خود چکھ سکتے ہیں – اگر ہم کسی ریل گاڑی یا بس میں بیش بہا سامان کے ساتھ سفر کریں تو سفر بہت مشکل ہو جاتا ہے؛ مگر اگر ہمارے پاس اسقدر مال و اسباب نہ ہو تو سفر آسان ہو گا۔

تو ہمیں دھرم کی مشق بھی ایسے ہی کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر جب جیٹسن ملاریپا اپنے غار میں مقیم تھا تو اس کے پاس کوئی مادی اشیا نہیں تھیں۔ جیٹسن ملاریپا اور شکیامونی مہاتما بدھ نے محسوس کیا کہ مادی اشیا کس درجہ معمولی اور غیر ضروری ہیں اور انہوں نے دھرم کی مشق کی خاطر انہیں ترک کر دیا۔ اور آپ، جو دنیا کے کئی امیر ممالک میں رہ چکے ہو، نے بھی محسوس کیا ہے کہ مادی اشیا اتنی اہم نہیں اور تم انہیں پیچھے چھوڑ کر دھرم کی مشق کرنے یہاں آۓ ہو۔

ایک قیمتی پنر جنم حاصل کرنے کی وجوہات اور مشکلات

ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ اس قیمتی انسانی جسم کو حاصل کرنا اتنا مشکل کیوں ہے۔ اس کے حصول کے مشکل ہونے کی وجہ اس کی وجوہات کو استوار کرنے کی مشکل ہے۔ ان وجوہات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

  • سخت اخلاقی ضبط نفس قائم رکھنا،
  • چھ دور رس رویوں کی مشق ( چھ کمالات ) ،
  • خالص آرزومند دعا مانگنا۔

سخت اخلاقی ضبط نفس

سخت اخلاقی ضبط نفس بہت مشکل کام ہے، اور دوسروں میں اس کی شناخت اور جانچ بھی بہت مشکل ہے۔ اور جہاں تک اخلاقی ضبط نفس کا تعلق ہے تو دس اعمال ایسے ہیں جو تباہ کن ہیں، اور ہمیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ دنیا میں بیشتر لوگ ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور جو ان سے واقف ہیں وہ ان سے بچنے کی مشق نہیں کرتے۔

تین تباہ کن اعمال کا تعلق جسم سے ہے :

کسی کی جان لینا : مثلاً ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمیں کسی کو مارنا نہیں چاہئے مگر جب ہمیں کوئی کیڑا کاٹتا ہے تو ہم فطرتاً اسے مار دیتے ہیں۔

کسی کے مال پر قبضہ کرنا : اگرچہ ہم کوئی بہت بڑا ڈاکہ نہیں ڈالتے، مگر ہم چالاکی سے دوسروں سے چیزیں ہتھیا لیتے ہیں، تو یہ تقریباً وہی بات ہے۔

جنسی بے راہروی اختیار کرنا : ہمارے دلوں میں دوسروں کے ساتھیوں سے ناجائز تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا جنم لینا۔

ہم شریر کے ان تباہ کن اعمال کو ہر روز بارش کے قطروں کی مانند جمع کرتے ہیں جو ہمارے اوپر گرتے ہیں جب ہم باہر بارش میں جاتے ہیں۔

کلام کے چار تباہ کن اعمال :

دروغ گوئی : ہم اس کے ہر وقت مرتکب ہوتے ہیں۔ مثلاً جب ہم پہاڑی سے نیچے اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اگر کوئی پوچھے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم پہاڑی کے اوپر جا رہے ہیں۔

شر انگیزی : دوستوں میں پھوٹ ڈالنا، اور جو پہلے سے دوست نہیں ان کے درمیان عداوت کو فروغ دینا۔ ہم دوسروں کی بدٖخوئی کر کے اس کا ہر وقت ارتکاب کرتے ہیں۔

بد زبانی اور ترش کلامی کرنا : ضروری نہیں کہ اس کا رخ کسی انسان کی طرف ہی ہو۔ مثلاً اگر کتا ہمارے کمرے میں آۓ تو ہم کہ سکتے ہیں، " سکریم ! چلے جاؤ یہاں سے !" اور یوں ترش کلامی سے کام لیں۔ ایسے سخت الفاظ استعمال کرنا بڑی غلط بات ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی ہم سے بدزبانی کرتا ہے تو ہمارے جذبات بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔ تو یوں ہی دوسرے بھی، جانوروں سمیت، ایسے ہی محسوس کرتے ہیں۔

لغو گوئی : تقریباً ہر لفظ جو ہماری زبان سے نکلتا ہے فضول بات ہے :" میں فلاں ملک گیا ہوں، " " میں نے یہ کیا ہے، وہ کیا ہے۔ " اگر آپ بہت زیادہ بولیں تو آپ کا اس قسم کی باتیں کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ چونکہ میں انگریزی زبان سے ناآشنا ہوں لہٰذا میرا انگریزی میں بیکار باتیں کرنا محال ہے، تو میں صرف تبتی زبان میں ہی بیکار باتیں کر سکتا ہوں۔

من کے تین تباہ کن اعمال :

حریصانہ خیالات کو جنم دینا : کسی کا گھر، وغیرہ بڑا شاندار ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو مل جاۓ۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں مگر یہ چیز ہمارے اندر کثرت سے پائی جاتی ہے۔

ایذا دہی کی سوچ : کسی کے لئے عدم مسرت کی خواہش کرنا یا کہ اس کی گردن ٹوٹ جاۓ۔ یہ ایسی چیز ہے جو ہم نہ صرف اپنے دشمن کے لئے مانگتے ہیں بلکہ اگر ہمارے دوست ہمیں تنگ کریں تو ہم انہیں بھی آزار پہنچانے کی تمنا رکھتے ہیں۔

منحرف اور معاندانہ سوچ : ایسے خیالات مثلاً کہ پنر جنم نام کی کوئی چیز نہیں یا یہ کہ پناہ کے تین جواہر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، یا یہ سوچنا کہ پوجا کی رسم وقت کا ضیاع ہے یا کہ گھی کے دئیے جلانا گھی کا ضیاع ہے یا تورما کے چڑھاوے چڑھانا تسمپا ضائع کرنے والی بات ہے۔

ان چیزوں سے اپنے آپ کو باز رکھنا مشکل کام ہے۔ اور اگر آپ اپنے آپ کو ان چیزوں کا ارتکاب کرنے سے نہ روکیں تو آپ قیمتی انسانی پنر جنم حاصل نہیں کر پائیں گے۔ اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں لیکن اگر آپ مزید جانناچاہتے ہیں تو آپ لام - رم کی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔

چھ دور رس رویوں کی مشق

ایک قیمتی انسانی پنر جنم حاصل کرنے کی دوسری صورت چھ دور رس رویوں کی مشق ہے ( چھ کمالات ): فراخدلی، اخلاقی ضبط نفس، صبر، پر مسرت استقلال، من کی استقامت ( ارتکاز ) ، اور امتیازی آگہی ( حکمت ) ۔

مگر فراخدلی کی بجاۓ ہم تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یوں دوسروں سے پیش آتے ہیں۔ صبر کی بجاۓ ہم غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ پُر مسرت استقلال جس سے ہم خوشی خوشی دھرم کی مشق کرتے ہیں کی بجاۓ ہم سستی کا شکار ہوتے ہیں اور ہر گھڑی سو کر گزارنا چاہتے ہیں۔ من کی استقامت کی جگہ ہم من کی آوارگی پروان چڑھاتے ہیں – مثال کے طور پر کوئی منتر جپتے وقت ہمارے خیالات سب جگہ گھومتے ہیں – اور اس طرح ہم اس کی افزائش کے مزید اسباب پیدا کرتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گرو کو عین مشق کے دوران یاد آیا کہ اس نے اپنے چیلے کو کچھ کام کرنے کو کہنا تھا مگر وہ بھول گیا۔ جونہی اسے یہ بات یاد آئی اس نے اپنی مشق روک دی، وہ اٹھا اور چیلے کووہ کام کرنے کو کہا۔ یہ اس کے من کی آوارگی تھی۔ جب ہم جپنے کی مشقیں کرتے ہیں تو ہمارا من آوارہ پھرتا ہے۔

جہاں تک دور رس امتیازی آگہی کا تعلق ہے ہمیں ایسی امتیازی آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو خالی پن کو سمجھ سکے۔ مگر ہم دنیاوی علوم مثلاً مصوری سیکھتے ہیں اور یوں صحیح قسم کا علم حاصل نہیں کر پاتے۔

مختصراً ایسے اسباب پیدا کرنا جو ایک قیمتی انسانی پنر جنم کا باعث ہوں نہائت مشکل کام ہے۔ یہ جانتے ہوۓ کہ ایسا شریر کتنا نایاب ہے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ یہ ہمیں ایک ہی بار ملا ہے اور اسے ہم آسانی سے کھو سکتے ہیں۔ اگر ہم اس قیمتی انسانی جسم سے، جو ہمیں ملا ہے، فائدہ نہ اٹھائیں تو مستقبل میں ایسا جسم دوبارہ ملنا محال ہو گا۔

عدم فرصت کی آٹھ صورتوں سے مہلت

اس قیمتی انسانی پنر جنم کی ماہیت یہ ہے کہ یہ عدم فرصت کی آٹھ عارضی صورتوں سے بیگانہ ہے۔ عدم فرصت کی حالت وہ ہے جس میں دھرم کی مشق کرنے کا کوئی امکان نہ ہو۔

عدم فرصت کی چارغیر انسانی صورتیں ہیں :

  • عالمین جہنم میں دھرم کی مشق کا کوئی امکان نہیں کیونکہ آپ کا جسم ہر وقت آگ میں جلتا رہتا ہے۔
  • اگر آپ ایک بھوکے بھوت ( پیتا ) کی شکل میں جنم لیتے ہیں تو آپ ہر وقت بھوک اور خوراک کے خیالات تلے دبے رہتے ہیں۔

اگر ہمیں صبح اٹھتے وقت ناشتہ نہ ملے تو ہم دھرم کی مشق پر مائل نہیں ہوتے۔ اگر جاگتے وقت ہمارے سر میں درد ہو تو بھی ہم دھرم کی مشق پر راضی نہیں ہوتے۔ پس اپنے تجربہ کے ارتشاح سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اگر ہم ایک بھوکا بھوت بن کر پیدا ہوں اور ساٹھ سال تک بھوکے رہیں تو ہمیں دھرم کی مشق میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔

تو ہمیں اس بات کی قدر کرنی چاہئے کہ ہم جہنم اور پریتا پنر جنم سے آزاد ہیں۔

  • جانور کی شکل میں پنر جنم : اگر ہم تقد س مآب دلائی لامہ کے کتے کی شکل میں بھی پیدا ہوں تو بھی ہم پناہ کی دعا نہیں مانگ سکتے۔

تو ہم نہ تو جہنم میں ہیں، اور نہ ہی پریتا یا جانور کی شکل میں پیدا ہوۓ ہیں۔

  • ہم کسی دراز عمر دیوتا کی شکل میں بھی پیدا نہیں ہوۓ : انہیں اس قدر خوشی، دنیاوی خوشی میسر ہوتی ہے کہ انہیں دھرم کی مشق سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

شری پترا کا ایک چیلہ تھا جو اپنے گرو کے لئے بیحد عقیدت کا اظہار کرتا تھا۔ جب چیلہ مر گیا تو وہ عالم دیوتا میں دوبارہ پیدا ہوا۔ شری پترا نے اپنی خرق عادات کے استعمال سے دیکھا کہ اس کا چیلہ اس دیوتا کے جہان میں تھا۔ تو اس نے اپنے وفادار چیلے کو جا کر ملنے کا قصد کیا۔ جب وہ دیوتا کے جہان میں پہنچا تو اس کے چیلے نے اسے صرف " ہیلو " کیا۔ وہ ( چیلا ) اتنے مزے لوٹ رہا تھا کہ اسے دھرم کی مشق میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یہ حقیقت ہے، کوئی کہانی نہیں۔

اس کا مشاہدہ ہم اپنے تجربات میں کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بہت غریب ہے تو وہ دھرم کی مشق پر تیار ہے۔ لیکن اگر وہ امیر اور آسودہ حال ہو جاۓ تو وہ دلچسپی کھو دیتا ہے۔ پس ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہم دراز عمر دیوتا کی شکل میں پیدا نہیں ہوۓ۔

عدم فراغت کی چار انسانی کیفیات ہیں :

  • سب سے اول – عدم فراغت کی پانچویں حالت – یہ ہے کہ، مثلاً، کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایسے ممالک میں یا ایسے وقتوں میں پیدا ہوۓ ہیں جبکہ وہ دھرم کا ایک لفظ بھی نہیں سن پاتے۔ ہماری حالت ان جیسی نہیں ہے۔
  • بعض لوگ وحشی معاشروں میں پیدا ہوۓ ہیں جہاں ان کی دلچسپی محض خوراک اور لباس حاصل کرنے تک محدود ہے۔ ہماری صورت حال ویسی نہیں ہے۔

تبت میں ایک پہاڑ ہے جس کا نام تساری ہے۔ تبت کے لوگ وہاں ہر بارہ سال بعد جاتے ہیں۔ لوبا نام کا ایک قبیلہ جو وہاں آباد ہے بہت وحشی ہے، اور ان کے علاقے سے گذرنے کے لئے بندے کو لگان دینا پڑتا ہے۔ یہ لگان ایک جھبرے بیل کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور جب لوبھا لوگوں کو بیل ملتا ہے تو وہ فوراً اسے مار کر کھا جاتے ہیں اور اس کا خون پیتے ہیں۔ تو ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم ایسے حالات میں پیدا نہیں ہوۓ۔

  • ہم اندھے، بہرے،پاگل، یا گونگے پیدا نہیں ہوۓ۔ تو ہم ان رکاوٹوں سے مبرا ہیں جو سیکھنے اور مشق کرنے میں حائل ہوتی ہیں۔
  • مزید یہ کہ ہم کسی ایسے علاقے میں پیدا نہیں ہوۓ جہاں لوگ مذہب سے عاری ہوں اور یہ سوچ رکھتے ہوں کہ مذہب بیکار ہے اور جو چیز اہم ہے وہ ہے پیسہ بنانا۔

پس اگر ہمارا پنر جنم عدم تفریح کی ان تمام کیفیتوں سے پاک ہے، اور مزید یہ کہ ہم اسے حاصل کرنے کے طریقوں سے واقف ہیں تو پھر ہم دوگنا خوش قسمت ہیں۔ بہت سے لوگ جو ایسے قیمتی انسانی شریر کے حامل ہیں اس احساس سے عاری ہیں کہ ان وجوہات کا مقصد ایسے پنر جنم پانے کا سلسلہ برقرار رکھنا ہے۔

متشابہات

ہم ایک قیمتی انسانی جسم کو حاصل کرنے کی مشکل کو مثالوں کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ اتنا ہی نادر ہے جتنا کہ کسی شیشے پر پھینکے گئے ریت کے ذروں کا جمنا۔

اگر ہم ان باتوں پر غور کریں تو ہمیں اس بات کا احساس ہو گا کہ ہمارا موجودہ پنر جنم کس قدر قیمتی اثاثہ ہے، اور ہمیں جاننا چاہئے کہ یہ ہمیں صرف ایک ہی بار ملنے والا ہے۔ ہندوستان کے ہزاروں لاکھوں لوگوں کے بارے میں سوچو اور دیکھو کہ ان میں سے کتنے تھوڑے دھرم کی مشق کرتے ہیں۔ تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ( دھرم کی مشق ) کس قدر کم ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لامہ ( تبتی بھکشو ) قیمتی پنر جنم حاصل کرنے کی مشکل کے موضوع پر تقریر کر رہا تھا۔ سامعین میں سے ایک منگول نے کہا، " اگر آپ سوچتے ہیں کہ انسانی پنر جنم حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے تو آپ چین جا کر دیکھیں کہ وہاں کتنے لوگ ہیں !" یہ ایسے ہی ہے جیسے مجھے روس جانے کو کہا جاۓ۔

یہ مراقبے میں سوچنے کے لئے بڑے اچھے موضوعات ہیں۔

اپنے قیمتی انسانی شریر سے فائدہ اٹھانا اور ایک بامقصد زندگی گذارنا

اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ ہم نے موجودہ قیمتی انسانی جسم پانے کے لئے کس قدر محنت کی ہے تو ہم اس زندگی کو با مقصد بنانے کی پرجوش خواہش رکھیں گے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر آپ نے کوئی بوجھ کسی پہاڑی پر آدھا راستہ لیجا کر چھوڑ دیا تو وہ سیدھا پہاڑی کے دامن میں جا گرے گا۔ اس زندگی میں یہ قیمتی انسانی پنر جنم حاصل کرنے کے لئے جو محنت ہم نے کی ہے یہ اس بوجھ کی مانند ہے جسے پہاڑی پر آدھا راستہ لیجایا گیا ہو؛ اور اگر اب ہم اسے چھوڑ دیں تو ہماری ساری محنت رائیگاں جاۓ گی۔

اب جبکہ ہمارے پاس ایک قیمتی انسانی شریر موجود ہے تو ہمیں مستقبل میں ایسا اور ( شریر ) پانے کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ اب جیسے کہ یہ ہے تو ہمیں مہاتما بدھ کی پوری طرح روشن ضمیر کیفیت پانے کے لئے اسے استعمال کرنا چاہئے۔ اگر ہم یوں نہیں کرتے تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے ہمارے پاس چاولوں کا ایک تھیلا ہو اور ہم اسے نہ کھائیں، اور بس یہ دعا کرتے رہیں کہ ہمیں اگلے جنم میں ایک اور تھیلا مل جاۓ۔ پس ہمیں اپنے پنر جنم سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔

موت سے باخبر رہنا

موت یقینی ہے

اگر ہم اپنے قیمتی انسانی جسم کی نوعیت پر غور کریں ( تو ہم دیکھتے ہیں ) کہ یہ پتھر یا دھات سے نہیں بنا ہوا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ بہت عرصہ چل جاتا۔ در حقیقت اگر ہم اپنے جسم کو کاٹ کر دیکھیں کہ اس کے اندر کیا ہے تو یہ بہت سارا خون اور بڑی آنت اور اوجھڑی ہے، جانوروں کی ان انتڑیوں کی طرح جو لوگ بازار سے گوشت خرید کر اپنے گھروں میں لٹکا دیتے ہیں۔ ہمارا اندر ایک گھڑی کی مانند نازک ہے۔

اگر ہم موت، اور کتنے لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں، کے بارے میں سوچیں تو ہم کئی مالاؤں کے دانوں پر انہیں گن سکتے ہیں۔ اگر میں سوچوں کہ میرے دھرم شالہ آنے سے لیکر اب تک کتنے تبتی مر چکے ہیں تو میری پوری مالا جلد ہی ختم ہو جاۓ گی۔

ایسا کوئی انسانی جسم رکھنے والا نہیں جسے موت نہ آئی ہو۔ اور اگر آپ سوچیں کہ پودے اور درخت کس طرح مر جاتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ تھوڑے ہی عرصے کی بات ہے کہ موت آپ کو آ گھیرے گی۔ پیدائش کے عمل کا قدرتی نتیجہ موت ہے۔ اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ ہمارے یہاں مجتمع ہونے کا قدرتی نتیجہ ہمارا شیرازہ بکھرنا ہے، اور اوپر جانے کا حتمی نتیجہ نیچے آنا ہے۔ اس احساس سے لبریز ہو کر کہ ہمیں بالآخر مرنا ہے ہمیں چاہئے کہ جس قدر بھی ہو سکے زیادہ سے زیادہ دھرم کی راہ پر چلیں۔

تو ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ہماری موت کیسے آۓ گی۔ فرض کیجئے کہ آپ بہت بیمار پڑ گئے ہیں، اور آپ کی جلد کا رنگ عجیب ہو گیا ہے، اور آپ نقاہت محسوس کرتے ہیں، اور آپ کے سب رشتہ دار رو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کتنا برا ہوا، اور ڈاکٹر آتا ہے اور آپ کو دوا دیتا ہے، لیکن پھر وہ اپنی زبان چٹخاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بہت برا ہوا۔

ہم کسی وقت بھی مر سکتے ہیں

اور مزید یہ کہ اس بات کا کوئی تعین نہیں کہ آپ کو موت کب آۓ گی۔ بہت بوڑھے سفید بالوں والے والدین اپنے بچوں کی لاشیں دفناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اور کئی لوگ عام کھانا کھاتے دم گھٹ جانے سے مر جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اس تبتی تمثیل کے مطابق سوچ سکتے ہیں۔ کسی شخص نے ڈھیر سارا گوشت الگ سے رکھ دیا، یہ کہتے ہوۓ کہ وہ اسے ( کل ) صبح کھاۓ گا، مگر اس گوشت نے اس شخص کی نسبت زیادہ عمر پائی۔ ( ایسا ہی ) ایک اور واقعہ : میں شملہ کے ایک آلو کی کاشت کرنے والے کسان کو جانتا ہوں جو دوپہر کے کھانے کے لئے تلی ہوئی روٹی بنانے والا تھا مگر ابھی جبکہ روٹی پک رہی تھی تو اس کی موت واقع ہو گئی۔

پس ہماری ناپائیداری اور موت کی قدر جاننے کے لئے کتابیں پڑھنے کی بجاۓ ہمیں ان لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہئے جنہیں ہم جانتے تھے اور جو مر چکے ہیں۔

موت کے وقت صرف دھرم ہی ہماری مدد کر سکتا ہے

موت پر مراقبے کی کیا اہمیت ہے؟ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دھرم کی مشق ہی ایسی چیز ہے جس کی کوئی قدروقیمت ہے۔

اگر ہم مادی اشیا کے بارے میں سوچیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لیجا سکتے۔ مثال کے طور پر اگر آُپ ایک ایسے امیر تاجر ہیں جس نے بہت ساری دولت کمائی ہے تو زیادہ سے زیادہ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی لاش جلانے سے پہلے کسی قیمتی کپڑے میں لپٹوا لیں۔ اس دولت کو اکٹھا کرنے کے لئے اس تاجر نے جو ظلم ڈھاۓ اور ملک در ملک پھرا وہ سب بہت زیادہ تھا۔

اگر آپ کے ہاں بہت سے نوکر چاکر ہیں یا آپ ایک فوجی جرنیل ہیں جس کے نیچے ایک لاکھ فوجی سپاہی ہیں تو آپ کی موت کے وقت کوئی بھی آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔ حتیٰ کہ رشتے داروں سے بھرا ہوا ایک پورا ملک بھی آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا : وہ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ آپ کی موت کے وقت آپ کے ارد گرد کھڑے رہیں، آپ کو سخت پریشان کریں اور آپ کی موت اور دوبارہ جنم کی راہ میں بری طرح مخل ہوں۔

دھرم کی مشق ہی ایک ایسی چیز ہے جو موت کے وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے کیونکہ تعمیری اعمال کے ذریعہ آپ نے اتنی مثبت کرمائی طاقت جمع کر رکھی ہوتی ہے کہ یہ آپ کے پنر جنموں میں آپ کی بیحد مدد کر سکتی ہے؛ مگر منفی کرمائی طاقت ان میں رکاوٹ ڈالے گی۔ یہ ایسی بات ہے جسے آپ موت کے بارے میں سوچے بغیر بھی سمجھ سکتے ہیں۔ تبت میں بہت سے امیر لوگ گذرے ہیں مگر جاتے وقت وہ اپنے ساتھ محض اپنا علم اور اندرونی خوبیاں جو اس وقت ان میں موجود تھیں لیجا سکے۔ پس ہمیں اپنی زندگی کے اوقات میں دھرم کی راہ پر چلنا چاہئے اور دنیاوی کاموں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

ہمیں اس زندگی کے کاموں کو غیر اہم گرداننا چاہئے، جیسے کہ گندم کا بھوسہ۔ دنیاوی کاروبار جوہر سے عاری ہے۔ ہمیں دنیاوی کاموں کو بچوں کی بنائی ہوئی مٹی کی ٹکیوں کی طرح سمجھنا چاہئے – جن سے کھیلنے کے بعد انہیں پھینک دینے کے علاوہ ان کا اور کچھ مصرف نہیں ہوتا۔ بچے ریت کے گھروندے بناتے ہیں؛ مگر جب ان سے کھیل چکتے ہیں تو انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی زندگی کے کاروبار کو یوں ہی سمجھنا چاہئے۔

اگر آپ ان باتوں پر غور کریں تو یہ دھرم کی راہ پر چلنے میں بہت کام آۓ گا۔

ترغیب کے نچلے درجات

ابتدائی درجہ

اگر ہم زندگی کے تمام کاموں کو غیر ضروری اور غیر اہم گردانیں تو ہم محسوس کریں گے کہ واحد چیز جو اہم ہے وہ ہے ہماری دھرم کی مشق۔ دھرم کی مشق کا مطلب کوئی ایسا کام کرنا ہے جو آپ کے مستقبل کے پنر جنموں کے لئے فائدہ مند ہو۔ مثال کے طور پر یہ رویہ :" اب چونکہ میں نے قیمتی انسانی پنر جنم پا لیا ہے؛ تو میں اسے آئیندہ زندگیوں میں نچلے درجات میں گرنے سے بچنے کے لئے استعمال کروں گا " ہماری قیمتی زندگیوں سے مستفید ہونے کا کم سے کم درجہ ہے۔

جو چیز ہمیں تین نچلے درجہ کے جہانوں میں گرنے سے بچاۓ گی وہ سخت اخلاقی ضبط نفس ہے۔ لیکن خواہ ہم کتنی ہی سخت اخلاقی ضبط نفس کی خواہش کریں اس میں بتدریج انحطاط آ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں نچلے درجہ کے پنر جنم سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے پریشان کن جذبات سے چھٹکارا پانا چاہئے۔ یہ ایک نہائت گندہ کپڑا دھونے کے مانند ہے – پہلے آپ تھوڑا سا زور لگاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ زیادہ زور لگاتے ہیں۔ پریشان کن جذبات سے نجات پانے کا کام آپ آہستہ اور نرمی سے شروع کرتے ہیں پھر آہستہ آہستہ پوری قوت لگا دیتے ہیں۔ لہٰذا اخلاقی ضبط نفس قائم رکھنے کے لئے آپ کو اسے دھیرے دھیرے استعمال میں لانا ہو گا، اور پھر اس کے بتدریج اطلاق سے آپ اپنے پریشان کن جذبات سے نجات پا سکتے ہیں؛ وگرنہ آپ کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

اگر آپ اخلاقی ضبط نفس کو تین نچلے جہانوں میں پنر جنم سے بچنے کے لئے اختیار کریں تو یہ دھرم کی مشق کا سب سے کم درجہ ہے۔

درمیانہ درجہ

اگر ہم تین نچلے جہانوں میں پیدا ہونے سے بچ بھی جائیں اور ہمارا پنر جنم دیوتاؤں کی مسرت بھری نگری میں ہو، یا انسان کی شکل میں ہو، پھر بھی ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ تمام سمساری پنر جنم دکھ بھرے ہیں۔ یہ بات لام - رم کی تعلیمات میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے، مگر اس مثال سے واضح کی جا سکتی ہے : آپ دھوپ میں کھڑے ہیں اور گرمی شدت اختیار کر لیتی ہے، تو آپ اندر چلے جاتے ہیں۔ اس طرح آپ گرمی کی تکلیف سے تو بچ گئے مگر اب سردی سے پالا پڑ گیا ہے۔ سمسار میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم دکھ سے محفوظ ہوں۔

ہمارے پریشان کن جذبات ہمیں سمسار کے چکر میں پھنساۓ رکھتے ہیں۔ اس کی جڑ – کسی درخت کی جڑ کی مانند – سچی آزاد شناختوں کو گرفت میں لینا ہے۔ ہمارا سمسار میں چکر کاٹنا کسی گول چکر جھولے کی مانند ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ اس سے اترنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنا درجہ بلند کریں، اس سے اوپر قدم بڑھائیں۔ یہ ایک آریہ کا خیال ہے، کوئی ایسا شخص جو اتنی امتیازی آگہی رکھتا ہے کہ عدم شناخت یا ناممکن " روح " کی عدم موجودگی سے آشنا ہے۔

ہمارے من کے لگا تار سلسلوں میں خالی پن کے اس احساس کو اجاگر کرنے کے لئے شامتھا پانا ضروری ہے جو کہ من کی ایک شانت اور ٹھہری ہوئی کیفیت ہے؛ اور اسے حاصل کرنے کے لئے ہمیں اخلاقی ضبط نفس درکار ہے۔ پس تین اعلیٰ تربیتیں – اخلاقی ضبط نفس، مکمل ارتکاز، اور امتیازی آگہی – ہمیں سمسار سے پرے لیجاتی ہیں۔ اگر ہم ان کی مشق کریں تو ہم اپنے سمسار کے چکروں کو ختم کر سکتے ہیں۔

وہ لوگ جنہوں نے اپنا درجہ بڑھایا ہے ان کی تین قسمیں ہیں :

ایک وہ جنہوں نے بصیرت والا من پایا ہے ( بصیرت کی راہ )

ایک وہ جنہوں نے عادی راہ والا من پایا ہے ( مراقبے کی راہ )

ایک وہ جنہوں نے ایسا من پایا ہے جسے مزید تربیت کی ضرورت نہیں۔

بصیرت والے من کے لوگ خالی پن کا غیر تصوراتی، بلا واسطہ ادراک رکھتے ہیں۔ عادی راہ والے من کے حامل مزید سے مزید تر مراقبہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس خالی پن کے غیر تصوراتی ادراک کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ اگر آپ نے مستقل مراقبہ کر کر کے اپنے من کو مکمل طور پر اس خالی پن کے ادراک کی عادت ڈال لی ہے، اور اپنے من سے مکمل طور پر جذباتی ابہام کو، جو مکش کی راہ میں حائل ہوتے ہیں، ہمیشہ کے لئے نکال پھینکا ہے تو آپ ایک ارہت بن گئے ہیں، یعنی ایسا شخص جسے مکش حاصل ہے۔

ترغیب کا ترقی یافتہ درجہ

محبت اور دردمندی

مگر محض اپنے لئے مکش حاصل کرنا کافی نہیں کیونکہ تمام ذی شعور مخلوق اسی مخمصے میں گرفتار ہے۔ اس لحاظ سے تمام ذی شعور مخلوق ایک جیسی ہے کیونکہ سب کے سب دکھ اٹھا رہے ہیں اور اس سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم ایسا من تشکیل دیں جو تمام ذی شعور مخلوق کے لئے مکش کا خواہاں ہو تو اسے ہم " دردمندی " کہیں گے۔ مگر تمام ذی شعور مخلوق کے لئے دکھ سے نجات پانے کی تمنا پیدا کرنے کے لئے تمہیں اپنے دکھ درد پر ایک لمبے عرصہ تک مراقبہ کرنے کی ضرورت ہے، اور جب اس بات کا احساس پیدا ہو جاۓ کہ یہ کس قدر خوفناک ہے تو آپ تیاگ کو جنم دیتے ہیں – یعنی آزادی کا مصمم عزم۔ جب آپ کو اس بات کا احساس ہو جاۓ کہ دکھ کس قدر خوفناک ہے اور آپ خود اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خواہش پیدا کر لیں تو پھر آپ یہ خیال تمام مخلوق پر لاگو کرتے ہیں۔ یہ ہے دردمندی۔

پس تیاگ سے مراد میری دکھ سے نجات کی خواہش ہے، جبکہ دردمندی سے مراد تمام مخلوق کے لئے دکھ سے نجات کی خواہش ہے۔ دردمندی اور محبت کے درمیان فرق یہ ہے کہ دردمندی میں ہم یوں سوچتے ہیں، " کیا ہی اچھا ہو اگر تمام ذی شعور مخلوق دکھ سے اور دکھ پیدا کرنے والی وجوہات سے چھٹکارا حاصل کر لے " ؛ جبکہ محبت سے مراد یہ خواہش ہے کہ تمام مخلوق مسرت سے اور مسرت پیدا کرنے والی وجوہات سے مالا مال ہو۔

بردباری اور بودھی چت کیسے استوار کیا جاۓ

اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم محبت اور دردمندی سے عاری ہیں؟ ہم یہ کیوں نہیں چاہتے کہ سب لوگ دکھ درد سے آزاد ہو جائیں اور مسرت سے ہمکنار ہوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے من ہموار نہیں – وہ کند ہیں؛ ان میں اونچے نیچے مقام ہیں۔ ہمارے من کی یہ غیر ہموار حالت کیا چیز ہے؟ اس کی وجہ ہمارا رشتے داروں اور دوستوں سے بیحد لگاؤ اور دشمنوں سے، جب ہم انہیں دیکھتے ہیں، بیحد نفرت ہے۔

تو ہم ایک کھڈے دار سڑک کو کیسے ہموار بنائیں؟ ہم اس مثال سے کچھ سمجھ سکتے ہیں : کسی شخص نے آپ کو کل ایک سو روپے دئیے، اور کسی دوسرے شخص نے آپ کو آج سو روپے دئیے۔ جس شخص نے کل آپ کو سو روپے دئیے تھے اس نے آج آپ کو تھپڑ مارا، اور جس نے آج آپ کو سو روپے دئیے اس نے کل آپ کو تھپڑ مارا تھا۔ تو آپ کسے پسند کریں گے اور کسے ناپسند؟

پس اس طرح ہمیں یوں سوچنا ہے کہ ماضی میں کس طرح ہمارے دشمنوں نے ہمیں بیحد فائدہ پہنچایا ہے، اور وہ مستقبل میں بھی مدد گار ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے دوستوں نے ہمیں ماضی میں بیحد نقصان پہنچایا ہے، اور وہ مستقبل میں بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ بس چند روز کی ہی تو بات ہے۔

اس کی ایک اور مثال یہ ہے : کئی لوگ ایسے ہیں جو آدم خور، بھیڑیا مانس، یا خونخوار انسان ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم انہیں نہائت پر کشش سمجھیں اور ان میں سے کسی ایک سے بیاہ کر لیں، لیکن ایک رات اس کے دانت نکل آئیں اور وہ ہمیں کھا جاۓ۔

اگر آپ کسی کتے کو ضرب لگاتے ہیں تو وہ بھونکتا ہے اور آپ کو کاٹ لیتا ہے۔ تو اگر ہم کسی دشمن پر ناراض ہوں تو ہمارا رویہ بالکل کتے والا ہو گا۔ پس ہمیں من کی یہ نا ہمواری، یہ لگاؤ اور یہ نفرت، ان سب کو ختم کر کے من میں برد باری پیدا کرنی چاہئے۔ اس بردباری کے جذبہ کے اوپر ہم محبت اور دردمندی کو استوار کر سکتے ہیں ٫ جیسے آپ کسی گڑھوں والی سڑک کو کار کے چلنے کے لئے ہموار کریں۔

ہمارے خیالات اس بارود کی مانند طاقتور ہونے چاہئیں جو پھٹ کر کسی سڑک کو چپٹا کر دیتا ہے۔ کس قسم کے خیالات؟ لاچار و بیکس مخلوق پر کرم فرمائی کے خیالات۔ مثال کے طور پر جو دودھ ہم پیتے ہیں یہ گائیوں بھینسوں سے آتا ہے۔ وہ جا کر گھاس چرتی ہیں اور پانی پیتی ہیں، اور ہم ان میں سے دودھ نکال لیتے ہیں۔ خرگوشوں اور چوہوں پر طبی تجربے کئے جاتے ہیں ۔ یہ دوائیاں جو ہم استعمال کرتے ہیں ان کے لئے کئی خرگوشوں اور چوہوں نے ہمارے لئے اپنی جان دی۔

کچھ کمزور و بیکس مخلوق ایسی بھی ہے جنہیں ہم اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور وہ ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان کے کرم کا جو انہوں نے ہم پر کیا ہے نقصان سے موازنہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ اول، آخر پر کہیں زیادہ بھاری ہے۔ اور جو نقصان وہ ہمیں پہنچاتے ہیں بہت فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔ مہاتما بدھ بننے کے لئے ہمیں صبر پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لئے ہمیں ناگوار لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ہر کوئی بڑھیا انسان ہو تو ہم صبر پیدا نہیں کر پائیں گے۔ جو ہم سے ناراض ہو جاتے ہیں وہ ذی شعور مخلوق ہے، مہاتما بدھ نہیں؛ پس یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں صبر سکھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب اتیشا تبت آیا تو وہ اپنے ہمراہ ایک نہائت شورش پسند ہندوستانی کو لیکر آیا جو ہر وقت اس کے صبر کا امتحان لیتا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اسے کیوں لایا تو اس نے کہا کہ یہ صبر کی مشق کے لئے ہے۔ پس ذی شعور مخلوق اور مہاتما بدھ ہمارے اوپر اپنی کرم فرمائی کے معاملہ میں برابر ہیں۔ اس کی تصدیق شانتی دیو کے بودھی چاریہ واترا، بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا، میں کی گئی ہے۔

مہاتما بدھ کیوں ناراض نہیں ہوتا، اس کی ایک وجہ ہے۔ وہ وجہ یہ ہے کہ اس کا من یک طرفہ ارتکاز کا حامل ہے جو پریشان کن جذبات سے آزاد ہے۔ چونکہ مہاتما بدھ یہ یک طرفہ ارتکاز رکھتا ہے اس لئے اسے غصہ نہیں آتا۔ پس ہمیں اسے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ صبح جب ہم اٹھیں تو ہمارے دل میں یہ دو خیال ہونے چاہئیں :

میں کسی کو غصہ نہیں دلاؤں گا۔

میں دوسروں کی کسی بات پر غصہ نہیں کروں گا۔

اگر ہم اس کی عادت ڈال لیں تو اس طرح ہم اپنے پریشان کن جذبات میں کمی لے آئیں گے اور آخر کار وہ کیفیت پیدا کر لیں گے جو ہمیشہ کے لئے پریشان کن جذبات سے آزاد ہو اور اس طرح ہم مہاتما بدھ بن جائیں گے۔

اگر ہمارا سوال یہ ہو کہ ہم مہاتما بدھوں کو خوش کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں، تو یہ بیکس مخلوق کی مدد کرنے سے اور ان پر کرم فرمائی سے ہو گا۔ اس سے مہاتما بدھ بہت خوش ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کہیں والدین ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں ، ہم والدین کو ان کے بچوں سے شفقت سے پیش آ کر خوش کر سکتے ہیں بجاۓ اس کے کہ ہم محض والدین پر مہربان ہوں۔ اسی طرح ایک مہاتما بدھ کو مزید خوشی ہوتی ہے جب ہم نہ صرف ذی شعور مخلوق سے خوش ہوں بلکہ مہاتما بدھوں سے بھی۔ پس اس سب کی بنیاد پر ہمیں ایک بودھی چت ہدف تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہئے :" میں تمام کمزور و لاچارمخلوق کو فائدہ پہنچانے کی خاطر مہاتما بدھ بنوں گا۔ "

اس زندگی کے دوران روشن ضمیری حاصل کرنا

اس سے بھی بڑھ کر ہماری یہ پکی نیت ہونی چاہئے کہ ہم اس مہاتما بدھ والی حالت کو ابھی، اسی زندگی میں تمام ذی شعور مخلوق کی خاطر حاصل کریں گے۔ مہاتما بدھ نے بتایا کہ اس جیون میں روشن ضمیری حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ وہ طریقہ کیا ہے؟ یہ تنتری راہ پر چلنا ہے۔ اگر آپ اس پر کار بند ہوں تو پھر اس زندگی میں روشن ضمیری ممکن ہے۔

خواہ ہماری اس جیون میں روشن ضمیری حاصل کرنے کی نیت کتنی ہی پختہ ہو، ہمیں اس ( کام ) کو آسان نہیں سمجھنا چاہئے، کیونکہ ہم نے ازل سے ہی بیشمار تباہ کن اعمال اکٹھے کئے ہوۓ ہیں۔ تنتر زود حاصل تو ہے مگر یہ ایک نہائت کٹھن راہ ہے۔ ہمیں تنتری طریقہ سے مشق کوکسی ہوائی جہاز کی مانند تیز رفتار نہیں سمجھنا چاہئے – یہ ایسا آسان کام نہیں۔ مثلاً جیٹسن ملاریپا نے اپنے گرو مارپا کے ہمراہ کئی کشٹ کاٹے – مینار تعمیر کئے، ماریں کھائیں اور بہت دکھ جھیلے۔ اس بنا پر اسے اسی زندگی میں روشن ضمیری حاصل ہوئی۔ مگر ہم اس دکھ کا عشر عشیر بھی اٹھانے کو تیار نہیں جو ملاریپا نے اٹھایا۔

اگر ہماری اس جنم میں روشن ضمیری حاصل کرنے کی پکی نیت ہو اور ہم بہت بڑی صعوبتیں اٹھانے کے لئے تیار ہوں تو پھر اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگر ہم استقامت سے مشق کرتے رہیں تو در حقیقت ہم بذات خود بدھیت پا لیں گے۔