ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بدھ مت کے مطابق مسرت کے ماخذ

الیگزینڈر برزن
برن، سوئٹزرلینڈ، مارچ ۲۰۱۰

عمومی مسرت: تغیر کا دکھ

بعض لوگ بدھ مت کو ایک ایسا مذہب گردانتے ہیں جو ہمارے تمام تجربات کو دکھ سے تشبیہ دیتاہے اور مسرت کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔ یہ تاہم ایک غلط تصور ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بدھ مت ہماری روزمرہ کی، عمومی مسرت کو تغیر کا دکھ کہتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی مسرت تسکین سے عاری ہے: یہ دیرپا نہیں اور ہم کبھی بھی اسے کافی نہیں سمجھتے۔ یہ سچی خوشی نہیں۔ مثال کے طور پر اگر آئس کریم کھانا سچی خوشی بخشتا تو ہم ایک بار میں جتنی زیادہ کھاتے اتنے ہی زیادہ خوش ہوتے۔ مگر جلد ہی ایک ایسا مقام آ جاتا ہے جب آئس کریم کھانے کا عمل مسرت سے عدم مسرت اور دکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی صورت حال دھوپ میں بیٹھنے یا سایہ میں بیٹھنے کی ہے۔ یہ ہے تغیر کے دکھ سے مراد ۔

البتہ بدھ مت ہمیں اس عارضی خوشی اور تغیر کے دکھ کی مشکلات پر قابو پانے کے کئی طریقے بتاتا ہے، تا کہ ہم ایک مہاتما بدھ والی مسرت کی دیرپا حالت کو پا سکیں۔ بہرحال ہماری عارضی خوشی کی خامیوں کے باوجود، بدھ مت اس قسم کی مسرت حاصل کرنے کے ذرائع بھی بتاتا ہے۔ بدھ مت یہ سبق اس لئے دیتا ہے کیونکہ اس کا ایک مقولہ یہ ہے کہ ہر شخص خوش رہنا چاہتا ہے، اور کوئی بھی دکھی نہیں ہونا چاہتا۔ اور چونکہ سب کو خوشی کی تلاش ہے، اور عام انسان ہونے کی حیثیت سے ہم صرف عمومی، روزمرہ قسم کی خوشی سے ہی واقف ہیں، تو بدھ مت ہمیں اس کے حصول کا طریقہ بتاتا ہے۔ جب اس قسم کی، بنیادی سطح پر واقع خواہش اور خوشی، کی احتیاج پوری ہو جاۓ تو پھر ہم گہری، زیادہ تسکین بخش خوشی کو زیادہ ترقی یافتہ روحانی مشقوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

تاہم، بدقسمتی سے، جیسا کہ عظیم ہندوستانی مفکر شانتی دیو نے "بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا" میں لکھا (۲۸۔۱):

ایک ایسا من لیکر جو دکھ کا خاتمہ چاہتا ہے،
وہ سیدھے دکھ کی جانب بڑھتے ہیں۔
اگرچہ خوشی کی خواہش رکھتے ہوۓ، لیکن لا علمی میں،
وہ اپنی خوشی کو یوں تباہ کرتے ہیں جیسے یہ کوئی دشمن ہو۔

دوسرے لفظوں میں، اگرچہ ہم مسرت کے متلاشی ہیں، مگر ہم اس کے ماخذ سے ناواقف ہیں، لہٰذا ہم اپنے لئے مزید خوشی پیدا کرنے کی بجاۓ مزید غم اور دکھ کو جنم دیتے ہیں۔

مسرت ایک احساس ہے

اگرچہ خوشی کی کئی قسمیں ہیں، مگر یہاں ہم اپنی توجہ عارضی خوشی پر مرکوز کرتے ہیں۔ اس کے ماخوذ کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ "خوشی" سے کیا مراد ہے۔ یہ خوشی کیا چیز ہے جس کے ہم سب طلبگار ہیں؟ بدھ متی تجزیہ کے مطابق مسرت ایک من کی کیفیت ہے – بہ الفاظ دیگر، یہ من کی ایک ایسی صورت حال ہے جس کی بدولت ہم کسی چیز کے بارے میں ایک خاص انداز سے پہچان رکھتے ہیں۔ یہ ایک وسیع تر من کے عنصر "احساس" کا ایک پہلو ہے، جس کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ یہ کامل مسرت سے لیکر کامل عدم مسرت پر حاوی ہے۔

"احساس" سے کیا مراد ہے؟ احساس من کی ایک ایسی حالت ہے جو تجربہ کی صورت میں ہے۔ یہ من کی ایک ایسی صورت حال ہے جس میں کوئی چیز یا واقعہ یوں تجربے میں آتا ہے کہ وہ سچ مچ اس چیز یا واقعہ کا تجربہ بن جاتا ہے۔ ہم کسی چیز یا صورت حال سے مسرت یا عدم مسرت کے علاوہ اور کسی طرح سے واقف نہیں ہوتے۔ کمپیوٹر معلومات لے کر ان کی ترتیب و درجہ بندی کرتا ہے، لیکن ایسا کرتے وقت چونکہ کمپیوٹر خوش یا ناخوش نہیں ہوتا، پس کمپیوٹر کو معلومات کا احساس نہیں ہوتا۔ کمپیوٹر اور من کے درمیان یہ بڑا فرق ہے۔

مسرت اور عدم مسرت کے احساس کے ہمراہ یا تو ایک حسی شے کی پہچان ہوتی ہے – ایک نظارہ، آواز، بو، ذائقہ، یا مسرت یا تکلیف کا طبعی احساس – یا من میں کسی شے کا تصور جیسے کچھ سوچتے وقت۔ اس کے ڈرامائی یا حد سے متجاوز ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ بڑے ہلکے پیمانے پر بھی ہو سکتا ہے۔ در حقیقت، مسرت یا عدم مسرت کا احساس ہماری زندگی کے ہر لمحہ میں موجود ہوتا ہے – حتیٰ کہ اس وقت بھی جب ہم گہری نیند میں ہوں اور کوئی خواب نہ دیکھ رہے ہوں۔ اس وقت ہم اسے ایک غیر جانبدار احساس کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

مسرت کی تعریف

بدھ مت مسرت کی دو تعریفیں پیش کرتا ہے۔ ایک کسی چیز کے ساتھ تعلق کی نسبت سے، جبکہ دوسری کا تعلق ہمارے احساس اور من کی کیفیت سے ہے۔

· پہلی تعریف کے مطابق مسرت سے مراد کسی چیز کا تسکین بخش تجربہ، جس کی بنیاد یہ سوچ ہے کہ یہ چیز ہمارے لئے فائدہ مند ہے، خواہ وہ ہو یا نہ ہو۔ عدم مسرت سے مراد کسی چیز کا غیر تسلی بخش، تکلیف دہ تجربہ ہے۔ جب ہمیں کسی چیز سے یوں واسطہ پڑتا ہے کہ نہ تو ہمیں تسکین ملتی ہے اور نہ ہی تکلیف، تو اسے ہم غیر جانب دار تجربہ کہتے ہیں۔

· مسرت کی دوسری تعریف وہ احساس ہے جس کے خاتمہ پر ہم اس کے اعادہ کی خواہش کرتے ہیں۔ اور عدم مسرت وہ احساس ہے جس کے پیدا ہونے پر ہم اس سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ اور غیرجانبدار احساس ایک ایسااحساس ہے جس کے ابھرنے یا خاتمہ پر ہم دونوں میں سے کوئی بھی خواہش نہیں رکھتے۔

دونوں تعریفوں میں باہمی رشتہ پایا جاتا ہے۔ جب ہمیں کسی چیز سے تسکین ملتی ہے، تو جس طرح یہ تسکین ملتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ چیز واقعتاً "ہمارے من میں آتی ہے" (یدھو'آنگ-با، سنسکرت۔ مناپ) ایک خوشگوار انداز میں۔ ہم اس شے کو قبول کر لیتے ہیں اور یہ ہماری محبوب، مرغوب چیز بن جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس چیز سے تعلق کو سودمند سمجھتے ہیں: یہ ہمیں خوش کرتی ہے؛یہ بھلی محسوس ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ہم اس تعلق سے وابستہ مفاد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، اور اگر یہ انتہا کو پہنچ جاۓ تو ہم اس کا اعادہ طلب کرتے ہیں۔ عام بول چال میں ہم یوں کہیں گے کہ ہم اس چیز سے اور اس سے واسطہ پڑنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

جب ہمیں کسی چیز سے تکلیف پہنچتی ہے تواس چیز سے یہ دکھ بھرا واسطہ، واقعتاً "ہمارے من میں پیدا نہیں ہوتا" کسی خوشگوار انداز میں۔ ہم اس چیز کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی یہ چیز ہماری محبوب، مرغوب چیز بنتی ہے۔ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس چیز سے تعلق بیکار ہے، بلکہ یہ ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہم اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عام بول چال میں ہم یوں کہیں گے کہ ہم اس شے یا اس سے تعلق سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔

کسی چیز کی خوبیوں کے بارے میں مبالغہ آرائی

کسی چیز سے راحت پانے سے کیا مراد ہے؟ جب ہم کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو ہم اسے بعینہٖ قبول کر لیتے ہیں، بغیر کسی ناسمجھی کے، اور بغیر اس کی خوبیوں یا خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے یا انہیں رد کرنے کے۔ یہ بات ہمیں پریشان کن جذبات کے موضوع کی طرف لیجاتی ہے اور ان کا اس بات سے تعلق کہ ہم کسی شے سے مسرت یا عدم مسرت کی حالت میں دوچار ہوتے ہیں۔

ان پریشان کن جذبات کی ایک فہرست میں ہوس، لگاؤ اور لالچ شامل ہیں۔ ان تینوں کی مدد سے ہم کسی شے کی خوبیوں کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ہوس کے ذریعہ ہم اس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں۔ لگاؤ کی بنا پر ہم اس چیز سے علیحدگی پسند نہیں کرتے، اگر وہ ہمیں میسر ہے؛ اور لالچ کی بنا پر، اگرچہ کوئی چیز جو ہمارے پاس موجود ہے، ہم اور کی تمنا کرتے ہیں۔ ان پریشان کن جذبات کی وجہ سے ہم اس چیز کی خامیوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ یہ من کی صحت مند کیفیت نہیں کیونکہ ہم چیز کو تسکین بخش نہیں پاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس چیز سے مطمٔن نہیں۔ ہم اس کو اس کی حقیقی صورت میں قبول نہیں کرتے۔

مثلاً جب ہم اپنے دوست (لڑکا یا لڑکی) جن سے ہمیں گہرا لگاؤ ہے کو دیکھتے ہیں تو یہ نظارہ ہمارے لئے باعث مسرت ہو سکتا ہے۔ ہم اس شخص کو دیکھ کر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں؛ یہ ہمارے لئے تسلی بخش ہے۔ مگر جونہی ہمارا لگاؤ جوش پکڑتا ہے جبکہ ہم اس شخص کی خوبیاں اور اس کے قرب سے مسرت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، اور ہم اس سے دوری کی تکالیف کو بھی بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تو ہم غیر مطمٔن اور غمگین ہو جاتے ہیں۔ ہم اس شخص کو ابھی ملنے اور اس لمحہ سے لطف اندوز ہونے کو قبول نہیں کرتے، بلکہ ہم اور کی تمنا کرتے ہیں اور اس کے چلے جانے کے خیال سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ نتیجتہً، اچانک ہم اپنے پیارے سے ملاقات کو غیر تسلی بخش، اور بے چینی اور عدم مسرت کا شکار پاتے ہیں۔

پریشان کن جذبات کی ایک اور فہرست میں دھتکار، غصہ اور نفرت شامل ہیں۔ ان احساسات کی بدولت ہم کسی چیز کی منفی خوبیوں یا کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، اور اس چیز سے گریز چاہتے ہیں، اگر یہ پہلے سے موجود نہیں؛ اور اگر ہمارے پاس ہے تو ہم اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں؛ اور اگر یہ ختم ہو جاۓ، تو ہم اس کی واپسی نہیں چاہتے۔ ان تینوں پریشان کن جذبات میں عموماً ڈر شامل ہوتا ہے۔ یہ بھی من کی پر مسرت حالتیں نہیں، کیونکہ ہم اس چیز سے مطمٔن نہیں۔ ہم اس کو اس کی قدرتی حالت میں قبول نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر، ہم دانت میں برما لگوا رہے ہیں۔ ہمارے تجربے میں جسمانی درد شامل ہے۔ اگر ہم اسے اس کی قدرتی حالت میں قبول کر لیں، اس کے منفی اثرات کی مبالغہ آرائی کئے بغیر، تو ہم اس علاج کے دوران ناخوش نہیں ہوں گے۔ ہم جس طرح درد سے دوچار ہوتے ہیں اس کے متعلق ہمارا احساس غیرجانبدار ہو سکتا ہے: ہم اس امر کو قبول کر لیتے ہیں کہ اس علاج پر جو وقت لگنا ہے، وہ تو لگے گا ہی، لہٰذا ہم اس کے جلدی ختم ہو جانے کی دعا نہیں مانگتے؛ اور جب دندان ساز چھیدنے کا عمل بند کر دے تو ہم اس سے مزید سوراخ کرنے کی توقع بھی نہیں کرتے۔ درحقیقت اس علاج کے دوران ہم خوش ہو سکتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اس طرح ہم مستقبل میں ہونے والے دانت کے درد کی پیش بندی کر رہے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کسی چیز سے مطمٔن یا خوش ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم، اپنی احتیاج کی بنا پر، اس شے کی طلب کم یا زیادہ نہیں کریں گے۔ یہ ہمیں یوں بیکار نہیں کر دیتا کہ ہم کبھی بھی اپنے آپ یا اپنے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کریں۔ مثال کے طور پر، یہ ممکن ہے کہ ہم اس امر کو قبول کر لیں، اس سے مطمٔن ہوں اور بلکہ خوش کہ ہم نے کام پر کسی پراجیکٹ کی تکمیل یا کسی جراحی سے صحت یاب ہونے میں جو کامیابی حاصل کی ہے۔ مگر ہماری ضرورت کی بنیاد پر ہم مزید ترقی کی خواہش کر سکتے ہیں، بغیر اس کارنامہ کے متعلق عدم مسرت کا اظہار کئے جو اب تک ہم نے سر انجام دیا ہے۔ یہ بات اس کھانے کے متعلق جو ہماری پلیٹ میں ہے، یا وہ پیسہ جو بینک میں ہے بھی سچ ہے، اگر حقیقتاً یہ کافی نہیں اور ہمیں اور کی ضرورت ہے۔ کم خوراک اور پیسے کی کمی کے مضر اثرات کی مبالغہ آرائی کئیے بغیر، یا کافی مقدار میں میسر ہونے کے فوائد کی نفی کئیے بغیر، ہم مزید خوراک یا پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، بغیر اس کے متعلق نا خوش ہوۓ۔ اگر ہم کامیاب ہوں تو بھلا، اور اگر نہ ہوں تو بھی بھلا، کسی نہ کسی طرح کام چل ہی جاۓ گا۔ لیکن کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم مزید کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بغیر من کی کامیابی حاصل کرنے کی آوارگی کے، یا ناکامی کی فکر کے۔

شانتی دیو نے صبر کے باب میں اس کا خوب ذکر کیا ہے (۱۰۔۶)

اگر اس کا کوئی علاج ہے،
تو کسی بات پر ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟
اور اگر اس کا کوئی علاج نہیں،
تو اس پر ناراض ہونے سے کیا حاصل؟

 

تعمیری اسلوب بطور مسرت کے اصلی ماخذ کے

آخر کار مسرت کی سب سے بڑی وجہ مثبت رویہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پریشان کن جذبات مثلاً ہوس، لگاؤ، لالچ، دھتکار، غصہ، سادہ لوحی، وغیرہ کے اثرات سے بچ کر کچھ کرنا، بولنا یا سوچنا ، بغیر اس بات کا لحاظ کئے کہ ہمارے اس رویہ کا مستقبل بعید میں ہمارے اوپر اور دوسروں پر کیا اثر ہو گا۔ تباہ کن رویہ کا مطلب، بطور عدم مسرت کے سب سے بڑے سبب کے، اس رویہ سے پرہیز نہیں بلکہ اسے اختیار کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، دل میں کسی چیز کی زبردست خواہش رکھتے ہوۓ، دکان میں موجود کسی شے کی خصوصیات کو ہم بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، اور پھر قانونی نتائج کو نظرانداز کرتے ہوۓ، ہم اسے چرا لیتے ہیں۔ غصہ میں، ہم اپنے شریک حیات کی کہی کسی بات کی منفی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہیں، اور پھر اس امر کو نظر انداز کرتے ہوۓ کہ اس سے ہمارے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا، ہم ان پر چلاتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔

پریشان کن جذبات کے غلبے تلے کچھ کرنے، کہنے یا سوچنے سے پرہیز کا یہ فائدہ ہے کہ مستقبل میں ہمیں اس پرہیز کی عادت پڑ جاتی ہے۔ نتیجتاً اگر مستقبل میں ایسا کوئی احساس پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی بنیاد پر کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ اور آخرکار اس پریشان کن احساس کی قوت کمزور پڑ جاۓ گی، اور پھر یہ جذبہ شائد ہی کبھی ابھرے۔ اس کے برعکس ہم جتنا زیادہ ان پریشان کن جذبات کی بنا پر عمل کریں گے اتنا ہی زیادہ یہ مستقبل میں ابھریں گے اور پہلے کی نسبت زیادہ طاقتور ہوں گے۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، جب ہمیں کسی شے کا خوشگوار تجربہ ہوتا ہے تو اس میں ایسے پریشان کن جذبات جیسے سادہ لوحی، ہوس، لگاؤ، لالچ، کراہت یا غصہ شامل نہیں ہوتے۔ ہمارا اس شے سے واسطہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ ہم اسے اس کی قدرتی حالت میں قبول کر تے ہیں، بغیر اس کی اچھائیوں کی مبالغہ آرائی کئے، یا اس کی کمزوریوں کو رد کئے۔ اس طرح چیزوں سے دوچار ہونا ہمارے مثبت رویہ کی عادت سے جنم لیتا ہے، ایسی روش جس سے ہم کچھ کرتے ہیں، بات کرتے ہیں، اور سوچتے ہیں، یوں انسانوں، چیزوں یا حالات کو ان کی قدرتی حالت میں قبول کرتے ہوۓ، بغیر ان کی اچھی یا بری صفات کے متعلق مبالغہ آرائی کئے۔

مسرت کے امکانات پختہ کرنے کے حالات

جس طرح ہمیں چیزوں سے یا خیالات سے پالا پڑتا ہے – خواہ مسرت سے ہو یا عدم مسرت سے – اس کا تعین وہ چیز یا خیال نہیں کرتا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، کہ اگر ہم نے اپنے سابقہ پائدار رویہ سے ان چیزوں کے بارے میں ان کی صفات کی مبالغہ آرائی یا ان کی کمزوریوں کی نظراندازی سے پرہیز کی عادت استوار کر لی ہے، تو ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ دانت میں برما لگوانے کی تکلیف کو بھی ہنسی خوشی برداشت کر لیں۔ مسرت کی تعریف پر نظرثانی کرتے ہوۓ، ہم اس (دانت کے) علاج کی تکلیف اطمینان سے برداشت کرتے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ یہ ہمارے لئے سودمند ہے۔

یہ ممکن ہے کہ ہم نے پریشان کن جذبات کے زیراثر عمل، کلام اور سوچ سے گریز کی عادت بنا لی ہو، اور یوں اس بات کا امکان پیدا کر لیا ہو کہ چیزوں اور خیالات کا مزہ خوشی خوشی چکھیں، لیکن پھر بھی بعض مخصوص حالات کا ہونا ضروری ہے جن کے تحت وہ امکان پختہ ہو کر ایک خوشگوار تجربہ بن سکے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہمارے تجربہ میں آنے والی چیز اس بات کا تعین کرے کہ ہمارا تجربہ خوشگوار ہو گا یا ناخوشگوار۔ اس کے بجاۓ کسی چیز کے ساتھ پر مسرت واسطہ کا انحصار ہمارے اس رویہ پر ہے جس سے ہم اس شے کی حقیقت کو پہچانتے اور مانتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ چیز کیا ہے – دانت درد کے علاج کا تکلیف دہ احساس یا کسی عزیز سے ملاقات۔ لہٰذا ہماری خوشی اور غم کے احساس کا انحصار ہماری سوچ اور ہمارے من کی حالت پر ہے قطع نظر اس کے کہ ہم کیا چیز دیکھ رہے ہیں، کیا بات سن رہے ہیں، کیا سونگھ یا چکھ رہے ہیں، لمس سے محسوس کر رہے ہیں، یا کیا سوچ رہے ہیں۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب ہم کسی شے کو اس کی اصلی حالت میں قبول کر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں سادہ لوحی سے کام نہیں لیتے، تو ہم اس کی اچھی یا بری صفات کو بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں رد کرتے ہیں، تو ہم اس کے بارے میں ہوس، لالچ، لگاؤ یا نفرت یا غصہ کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔ پس جو چیز کسی بھی لمحہ مسرت کی پختگی کو متحرک کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے وہ ہے سادہ لوحی سے آزادی۔

سادہ لوحی

غم کے کسی بھی لمحہ میں، یہ لازم نہیں کہ ہماری لاعلمی محض اس چیز تک ہی محدود ہو جس کے تجربہ سے ہم گذر رہے ہیں۔ لاعلمی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہ ہمارے اپنے بارے میں بھی ہو سکتی ہے۔ جب ہم کسی مسٔلہ سے شدید دکھ کے ساتھ دوچار ہوں، تو ہم سادگی کی بنا پر اپنے اوپر توجہ مرکوز کر لیتے ہیں، اور ہم یوں بھی سوچ سکتے ہیں کہ ہم واحد انسان ہیں جس کو کبھی یہ مسٔلہ پیش آیا ہے۔

اپنی ملازمت چھوٹنے کی مثال کو ہی لے لیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کی ملازمت جاتی رہی اور اب وہ بیروزگار ہیں۔ ہم ناپائداری کے متعلق سادگی سے کام نہ لیتے ہوۓ اپنی صورت حال پر غور کر سکتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ تمام مظاہر جو حالات و وجوہات سے پیدا ہوتے ہیں وہ مزید اور حالات و وجوہات کے تابع ہوتے ہیں، اور آخرکار ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر پر اثر بات یہ ہو گی کہ ہم اپنی سوچ کا دائرہ مزید وسیع کریں اور اس میں نہ صرف اپنے بلکہ باقی سب کے ملازمت چھوٹ جانے کے مسٔلہ کو بھی شامل کر لیں، اگر ان کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ ہمیں یوں سوچنا چاہئے،" یہ صرف میرا ہی مسٔلہ نہیں؛ یہ مسٔلہ اور بیشمار لوگوں کو بھی درپیش ہے۔ صرف مجھے ہی اس کے حل کی تلاش نہیں؛ باقی سب لوگوں کو بھی اس کا حل درکار ہے۔ ہر ایک کو ایسے مسائل اور عدم مسرت پر قابو پانا ہے۔" در حقیقت یہ ہی حقیقت ہے۔

ایسے انداز فکر سے ہم، جس میں سادہ لوحی شامل نہیں، دوسروں کے لئے دردمندی پیدا کرتے ہیں، بجاۓ خود ترسی میں پڑنے کے۔ اس طرح ہمارا من تنگ نظری کا شکار ہو کر محض ہمارے اوپر ہی متوجہ نہیں ہوتا، بلکہ اوروں کے بارے میں بھی فراخدلی سے سوچتا ہے جو ایسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ دوسروں کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کرنے کی خواہش سے ہمارے اپنے مسائل کی اہمیت کم ہو جاتی ہے، اور ہم اپنے اندر ان سے ایک کھلے ذہن کے ساتھ نمٹنے کی جرأت اور ہمت پیدا کر لیتے ہیں۔ یقیناً ہم اپنی ملازمت کھونا نہیں چاہتے تھے، لیکن اب ہم پوری طمانیت کے ساتھ حقیقت کو قبول کر لیتے ہیں، اور دوسروں کے بارے میں سوچ کر، ہو سکتا ہے کہ ہم خوش ہوں کہ ہمیں ان کی مدد کرنے کا موقع ملا ہے۔

درد مندی اور مسرت کے درمیان رشتہ

 

پس درد مندی ایک ایسا بنیادی عنصر ہے جو ہماری کسی شے یا صورت حال سے خوشی سے دوچار ہونے کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ لیکن یہ کیسے ہوتا ہے؟ درد مندی کا مطلب ہے اوروں کے لئے دکھ اور اس کی وجوہات سے رہائی کی خواہش، بلکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے لئے یہ خواہش کرتے ہیں۔ جب ہم اوروں کے دکھ درد پر غور کرتے ہیں تو بطور ایک قدرتی امر کے، ہم غمگین ہوتے ہیں نہ کہ خوش۔ یا ہم نے اپنے احساس کو بے حس کر دیا ہے، اور ہمیں کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ دونوں صورتوں میں ہم ان کے دکھ سے خوش نہیں ہوتے۔ تو پھر درد مندی سے ایک پرمسرت من کی حالت کیسے جنم لیتی ہے؟

اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں پریشان کن جذبات اور غیر پریشان کن جذبات کے درمیان تمیز کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں میں یہ اصطلاحات ان کے محدود معانی میں استعمال نہیں کر رہا، بلکہ روزمرہ کے عام مطالب میں استعمال کر رہا ہوں۔ فرق محض یہ ہے کہ آیا خوشی، عدم خوشی، یا غیر جانبداری کا احساس اس جذبہ کے متعلق سادگی اور بے یقینی سے تو نہیں ملا ہوا۔ آپ کو یاد ہو گا، جب ہم نے مسرت اور عدم مسرت میں فرق بیان کیا، تو اس میں متغیر عنصر اس چیز کے بارے میں، جس سے ہم دوچار تھے، ہماری لاعلمی کی موجودگی یا عدم موجودگی تھی۔ یہاں، مثال کے طور پر، اگر ہم کسی ایسی شے جس کا ہمیں ناخوشگوار تجربہ ہے، کی صفات کو نہ تو بڑھا چڑھا کر بیان کریں اور نہ ہی ان سے منکر ہوں، تو پھر ہی ہم اس ناخوشگوار احساس کو کسی قسم کی ٹھوس، حقیقی وجود رکھنے والی "چیز" میں ڈھال سکتے ہیں، ایک کالے، گہرے بادل کی مانند جو ہمارے سروں پر چھایا ہوا ہو۔ جب ہم اس احساس کی منفی صفات کے بارے میں مبالغہ آرائی کرتے ہیں، اور اس کو "ایک خوفناک افسردگی" تصور کرتے ہیں، اور اپنے آپ کو اس میں محبوس پاتے ہیں۔ اس صورت میں سادہ لوحی وہ ناخوشگوار احساس نہیں جو کہ اس کی ماہیت ہے۔ بہر حال، عدم مسرت کا احساس، جوں جوں اس کی شدت میں تبدیلی آتی ہے، لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے؛ یہ کوئی پتھر کی ٹھوس شے نہیں جو کہ حقیقتاً بذات خود قائم ہو، جس پر اور کسی شے کا اثر نہ ہو۔

ہم اسی طرح کا تجزیہ ایسی حالت کا بھی کر سکتے ہیں جس میں ہمیں غیروں کے دکھ کے بارے میں سوچ کر کچھ محسوس نہ ہو۔ اس صورت میں جب ہم غم یا افسردگی کی منفی صفت کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں، تو ہم اسے محسوس کرنے سے ڈرتے ہیں، لہٰذا ہم اسے روک دیتے ہیں۔ تب ہم ایک غیرجانبدار احساس سے دوچار ہوتے ہیں، جو نہ خوش ہے اور نہ ہی ناخوش۔ لیکن پھر ہم اس غیر جانبدار احساس کے متعلق بھی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں، اسے ایک ٹھوس شے تصور کرتے ہوۓ، ایک ٹھوس "غیر اہم شے" جو کہ ہمارے اندر جا گزیں ہے اور ہمیں کسی بھی شے کو خلوص دل سے محسوس کرنے سے روکتی ہے۔

درد مندی پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس حقیقت سے انکار نہ کیا جاۓ کہ اوروں کے مسائل ویسے ہی دکھ بھرے ہیں جیسے کہ ہمارے، مثلاً ملازمت کا کھو دینا۔ اس دکھ کو محسوس کرنے سے ڈرنا، یا اسے روکنے یا دبانے کی کوشش کرنا ایک غیرصحتمند عمل ہو گا۔ ہمیں اس غم کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ایک غیر پریشان کن انداز سے تا کہ ہم دوسروں کے دکھ کو اچھی طرح سمجھ سکیں، ان کے لئے اس سے نجات پانے کی پر خلوص تمنا پیدا کر سکیں، اور ان کی اس پر قابو پانے میں مدد کرنے کی کچھ ذمہ داری قبول کریں۔ قصہ مختصر، اس ضمن میں بدھ مت کا مشورہ یہ ہے،" غم کے احساس کو کسی ٹھوس شے میں تبدیل مت کرو؛ بات کا بتنگڑ نہ بناؤ۔"

من کو شانت کرنا

احساس افسردگی سے ایک غیر پریشان کن انداز سے دوچار ہونے کے لئے ہمیں اپنے من کو ہر قسم کی آوارگی اور بے حسی سے محفوظ رکھنا ہے۔ من کی آوارگی کی صورت میں ہمارا دھیان ایسے ذیلی، پریشان کن خیالات مثلاً فکرمندی، شک، خوف، یا ایسی توقعات سے لبریز خیالات جس میں ہم کسی خوش آئیند پہلو کی تمنا لئے ہوۓ ہوں، کی طرف بھٹک جاتا ہے۔ من کی بے حسی کی حالت میں ہمارا من دھندلا پڑ جاتا ہے اور یوں ہر شے سے بیگانہ۔

بدھ مت میں ایسے بیشمار طریقے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے من کو آوارگی اور بے حسی سے نجات دلا سکتے ہیں۔ ان میں سے شانتی کا ایک بنیادی طریقہ اپنے سانس پر توجہ مرکوز کرنے کا ہے۔ کم سے کم من کی آوارگی اور بے حسی کی بدولت ہمارا من شانت اور پر سکون ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہم بہ آسانی شانت ہو جاتے ہیں، مبالغہ آرائی یا نفرت یا اوروں کے مسائل اور دکھ اور ان کے بارے میں ہمارے جذبات کے متعلق۔ یوں اگر شروع میں ہم اداس بھی ہوں، تو اس سے پریشانی پیدا نہیں ہوتی۔

با لآخر، جب ہمارا من مزید شانت ہو جاتا ہے تو ہم قدرتی طور پر ایک ہلکی قسم کی راحت محسوس کرتے ہیں۔ من اور جذبات کی پر سکون حالت میں من کی قدرتی گرمائی اور مسرت ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اگر ہم نے مثبت رویہ کی مدد سے خوشی پانے کی زبردست صلاحیت پیدا کر رکھی ہے تو ہمارے من کی شانتی ان میں تحریک پیدا کرتی ہے تا کہ وہ بھی پختگی اختیار کر سکیں۔

محبت استوار کرنا

پھر ہم اس خوشی کو محبت کے تصورات سے بڑھاتے ہیں۔ محبت سے مراد ہے دل میں دوسروں کے لئے خوشی اور اس کے اسباب کی خواہش کرنا۔ اس قسم کی خواہش قدرتی طور پر دردمند ہمدردی سے جنم لیتی ہے۔ اگرچہ ہم کسی کے دکھ درد سے افسردہ ہوتے ہیں، مگر ایسا احساس پیدا کرنا، اس وقت جبکہ ہم مستعد طریقہ سے اس کی خوشی کے تمنائی ہیں، مشکل کام ہے۔ جب ہم اپنے بارے میں سوچنے کی بجاۓ کسی اور کی خوشی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو قدرتی طور پر ہمارا دل گرمائی محسوس کرتا ہے۔ اس سے خود بخود مسرت کی ایک دھیمی لہر اٹھتی ہے اور خوشی کے مزید امکانات پیدا ہوتا ہے، اس سے بھی بڑھ کر جو ہم نے لمبے عرصہ تک مثبت رویہ اختیار کرنے سے پیدا کئے تھے۔ پس محبت بے غرض اور پر خلوص ہے، اس کے ہمراہ خوشی کا ایک دھیما سا احساس ہوتا ہے جو پریشان کن نہیں، اور ہمارا غم دور ہو جاتا ہے۔ جس طرح کوئی ماں یا باپ اپنے بیمار بچے کو سہلاتے وقت اپنا سردرد بھول جاتا ہے، اسی طرح جب ہم محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو ہمارا غم جو ہم کسی کے دکھ درد پر محسوس کرتے ہیں، غائب ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

مختصراً، دراصل بدھ مت میں مسرت کا بنیادی ماخذ ایسی عادت ڈالنا ہے جس کے تحت پریشان کن جذبات اور روش مثلاً ہوس، لالچ، لگاؤ، نفرت اور غصہ جو سب لا علمی کے باعث پیدا ہوتے ہیں، کے زیر اثر تخریبی انداز کے قول، فعل اور خیال سے پرہیز کیا جاۓ۔ ایسا مثبت رویہ ہمارے من کے مستقبل میں مسرت سے ہمکنار ہونے کے تواتر کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ ہم ان صلاحیتوں کے پختہ ہونے کےعمل کو تحریک دے سکتے ہیں، اس طرح سے کہ کوئی ایسی چیز یا صورت حال جو ہمارے تجربہ میں آۓ، یا مسرت اور عدم مسرت کی وہ شدت جس سے ہم اس چیز یا صورت حال سے دوچار ہوں – خواہ وہ چیز یا صورت حال کچھ ہی ہو – اس کی اچھی اور بری صفات کے بارے میں مبالغہ آرائی یا انکار سے کام نہ لیں۔ بغیر لاعلمی کے، اور بغیر لگاؤ، نفرت، یا لاتعلقی کے، ہمیں اپنے من کو آوارگی اور بے حسی سے شانت کرنا ہے۔ خصوصاً ہمیں اپنے من کو پریشانیوں اور توقعات سے شانت کرنا ہے۔ من کی ایسی پرسکون اور مطمٔن حالت میں ہم ایک دھیمی سی مسرت سے ہمکنار ہوں گے، اور ایسی صلاحیتوں کو متحرک کریں گے جو مزید مسرت کا باعث ہوں۔

پھر ہم اپنے من کی توجہ اوروں کے مسائل کی طرف پھیر کر اس میں وسعت پیدا کرتے ہیں، اور یہ کہ وہ کیسے ہم سے بھی برے حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ہم خالی اپنے ہی بارے میں سوچنا بند کر دیتے ہیں۔ ہم یوں سوچتے ہیں کہ کیا ہی خوب ہو اگر باقی تمام لوگ بھی دکھ سے چھٹکارا پا لیں، اور یہ کتنی بڑی بات ہو گی اگر ہم اس کام میں ان کی مدد کر سکیں۔ اس قسم کی زبردست دردمندی سے قدرتاً محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے – ان کی خوشی کی خواہش۔ ان کی خوشی کے بارے میں سوچنے سے ہماری اپنی مزید خوشی کی صلاحیت پختہ ہوتی ہے۔

اس طرح کے دردمندی اور محبت کے جذبات رکھتے ہوۓ، ہم اپنے خیالات کا رُخ مہاتما بدھوں یا دوسری عظیم انسانیت کی علمبردار ہستیوں کی جانب موڑ سکتے ہیں۔ ان کی مثال سے ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کی کچھ ذمہ داری اٹھانے کی ترغیب ملتی ہے۔ اس سے ہمیں نہ صرف اوروں کے مسائل حل کرنے بلکہ اپنے مسائل حل کرنے کی طاقت اور ہمت بھی ملتی ہے – لیکن یہ بات یاد رہے، کہ بغیر کسی مبالغہ آرائی کے اور بغیر ناکامی کے ڈر یا کامیابی کی توقعات کے۔