ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تبتی بدھ مت کی بنیادی تعلیمات > دوسرا درجہ: لمرم (مرحلہ وار) سامان تربیت > انعام کی مستحق خوبی کا بدھ متی فلسفہکیا مسرت حاصل کرنی چاہئِے؟

انعام کی مستحق خوبی کا بدھ متی فلسفہ
کیا مسرت حاصل کرنی چاہئِے؟

الیگزینڈر برزن
میونخ، جرمنی، اپریل ۱۹۹۹
ترمیم ازلوسی کوسٹا

انعام کی مستحق خوبی کا بدھ متی فلسفہ

آج شام کی گفتگو کا موضوع انعام کی مستحق خوبی ہے۔ بدھ مت میں حصولِ انعام کی مستحق خوبی کی اہمیت کے بارے میں اکثرذکر آتا ہے۔ لفظ "انعام کی مستحق خوبی" کے بارے میں تھوڑا الجھاؤ ہے۔ انگریزی میں اس کا ایک مطلب ہے، اور جرمن لفظ Verdienst میں بالکل مختلف معنی ہیں اور تبتی میں دونوں سے مختلف۔ دراصل یہ الجھاؤ اس لئے ہے کہ جب ہم کسی لفظ کو سنتے ہیں تو اسے اس بات سے جوڑتے ہیں کہ اپنی زبان میں اس کا مطلب کیا ہے۔

آج شام میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف لیکچر دوں اور معلومات دوں، جو آپ اور میں دونوں کے لئے اعصاب شکن ہوگا۔ اس کے بجائے، اِس اختتام ہفتہ پر یوں کریں کہ ہم سب کے لئے میں ان مسائل پر جو ہمیں درپیش ہیں، کچھ سوالات اٹھاؤں۔ آئیے پہلے میں کچھ وضاحتیں بیان کردوں۔

انگریزی میں لفظ "انعام کی مستحق خوبی" بالکل غلط لفظ ہے۔ اس لفظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اچھے کام کرکے نمبر حاصل کررہے ہوں اور جب کافی نمبر جمع ہوجائیں – جیسے سو نمبر – تو ایک تمغہ ملنے والا ہو۔ یہ بچکانہ خیال ہے، جیسے سکاؤٹ کا "تمغۂ امتیاز"، جس کا بدھ مت میں بالکل یہ تصور نہیں ہے۔ جرمن لفظ Verdienst نسبتاً زیادہ دلچسپ اور کم بچکانہ ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اِس مفہوم کو انگریزی مفہوم پر ترجیح دینی چاہئے۔

میں اس ترجمہ کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں جو سنسکرت اور تبتی زبان سے ماخوذ خیال میں "مثبت اہلیت" یا "مثبت طاقت" کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جو کسی تعمیری فعل کے نتیجہ میں شروع ہوتی ہے اورمسرت پر پختہ ہوتی ہے۔ یقیناً، ہم کچھ اور گہرائی میں جائیں گے، کیونکہ یہاں تین اصطلاحات ایسی ہیں جو بالکل فنی اور مخصوص ہیں۔ "تعمیری فعل" سے ہم کیا مطلب لیتے ہیں؟ "مسرت" سے ہمارا کیا مطلب ہے؟ "پختگی" کا عمل کیا ہے؟ تعمیری فعل اور مسرت کا باہمی ربط کیا ہے؟ مثلاً، میں کوئی اچھا کام کرنے کی کوشش کروں لیکن نتیجتاً مجھے خوشی حاصل نہ ہو۔ آخر یہ کیا ہورہا ہے؟

اولاً، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں Verdienst کے تصور کو جانچنا چاہئے کہ آخر اس کا مفہوم کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب مسرت ہے؟ یا مسرت کا حصول ہے، یا مسرت کا مستحق ہونا ہے؟ "حصول" کا مطلب ہے کہ ایک ملازمت آپ نے کی اور آپ کو اس کی تنخواہ ملی، گویا آپ نے کچھ حاصل کیا۔ اسی طرح، ہم عملِ نیک کرتے ہیں اور مسرت حاصل کرتے ہیں۔ کیا یہ بات ایسے ہی ہے؟ یا اس کا مطلب ہے کہ ہم مسرت کے مستحق ہیں؟ "مجھے خوشی کا حق ہے۔ میں نے رقم ادا کی اور بدلہ میں ایک اچھی شے کا حقدار ہوں۔ اگر مجھے وہ اچھی شے نہ ملی، تو مجھ سے دھوکا کیا گیا۔" یہ سارے خیالات جرمن لفظ verdienen سے خلط ملط ہوجاتے ہیں۔ دراصل، جیسا میں نے پہلے کہا ہے، یہ ایسا بچکانہ خیال نہیں ہے جیسا انعام کی مستحق خوبی کا مفہوم ہے جسمیں نمبر حاصل کرکے کسی مقابلہ کا جیت جانا ہے، کیونکہ یہ بہت ہی سنجیدہ باتیں ہیں۔ چلئے ہم کچھ بنیادی سوالات پر غور کریں جن پر آپ بھی نظر ڈالیں اور پھر ہم اس پر گفتگو کریں۔

کیا ہمیں مسرت کا حق ہے؟

کیا زندگی میں ہر ایک کو اچھے سودے کا حق ہے؟ جیسے اشتراکی نظریہ کے مطابق سب کو ایک اچھی ملازمت، ایک اچھا گھر، اور کھانے وغیرہ کا حق حاصل ہے۔ کیا ہمیں بھی اسی طرح مہاتما بدھ جیسی فطرت کی بنا پر یہ حق حاصل ہے، یا ہمیں اس کی سعی کرنی چاہئے؟ کیا ہمیں کچھ کرکے اسے حاصل کرنا چاہئے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ہمیں ایک اچھا گھر رکھنے اور خوشی پانے کا حق ہے؟ کیا ہمیں خوش رہنے کا حق ہے؟ نفسیاتی سطح پر، کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں خوش رہنے کا حق نہیں ہے اور وہ خود کو خوش ہونے بھی نہیں دیتے۔ آخر کیوں؟

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب کو خوش ہونے کا اور ایک گھر رکھنے کا حق ہے، وغیرہ۔ لیکن جب ہم اس طرح گفتگو کریں تو ہم دوبارہ جرمن لفظ verdienen کے مضمرات میں داخل ہورہے ہیں، جو یہ تصور پیدا کرتا ہے کہ کسی نے وہ حق ہمیں دیا ہے۔ کیا کسی نے ہمیں خوش رہنے کا حق عطا کیا ہے، یا ہمیں یہ حق قدرتی طور پر حاصل ہے؟ ہمیں ایک اچھا گھر رکھنے کا حق کیوں ہے؟

تب یہ سوال اٹھتا ہے: کیا ہم اپنے اعمال کیلئے جوابدہ ہیں؟ مثلاً، مشرقی یورپ اور پرانے سوویت اتحاد کے سابقہ اشتراکی معاشروں میں ہر ایک کو تنخواہ اٹھانے کا حق حاصل تھا چاہے انہوں نے محنت سے کام کیا ہو یا نہیں، اور نتیجتاً، کوئی محنت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کسی کو پرواہ تھی۔ کیا یہاں واقعی یہی ہمارا مطلب ہے، کہ ہر ایک کو تنخواہ لینے اور ایک اچھا گھر رکھنے کا حق حاصل ہے چاہے آپ نے محنت کی ہو یا نہیں؟ اگر ہمیں خوش رہنے کا حق حاصل ہے تو ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ذیل میں پھر یہ بات آتی ہے کہ ایک قاتل کو بھی خوش رہنے کا حق ہے۔ کسی نے دھوکا دیا یا دوکان سے چوری کی تو اسے اس کا حق ہے کیونکہ وہ خوش رہنا چاہتا ہے۔ کیا واقعی اسے ایسا کرنے کا حق ہے؟

آپ کہیں گے کہ "حقِ مسرت" یا "اچھی زندگی گذارنے کا حق" ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہمیں یہ حق دیا ہے، اور یہ ٹھیک نہیں لگتا۔ شائد ہم یہ کہیں کہ ہر ایک کو خوش رہنے کا امکان اور موقع حاصل تو ہے لیکن پھر بھی اس خوشی کے حصول کے لئے کچھ تگ و دو تو ضرور کرنی پڑے گی۔ یہاں انگریزی اصطلاح entitled” یعنی "حقدار ہونا" زیادہ مناسب لگتی ہے۔ یہ حق کسی صورت نہیں۔ میں نے لغت میں دیکھا ہے، جرمن لفظ Recht میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے کہ کوئی آپ کو نواز رہا ہے۔ انگریزی لفظ “ entitled ” میں یہ مفہوم پوشیدہ نہیں ہے۔ کیونکہ، مثال کے طور پر، اس سوال کا اطلاق ماحول پر بھی ہوسکتا ہے: ماحول بھی احترام کا مستحق ہے، اسے عزت دی جانی چاہئے۔ کیا “ entitled ” اتنا ہی وزنی لفظ ہے جتنا کہ Recht ؟

ہم میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ مسرت ہماری سرشت میں داخل ہے ۔۔۔۔ مثلاً سوچئے کہ ایک بچہ کوسوو میں ہے۔ کیا اس بچہ کو یہ استحقاق ہے کہ پرسکون گھر ملے اور پرسکون ماحول میں پروان چڑھے، صرف اس وجہ سے کہ وہ ایک طفلِ شیر خوار ہے۔

ہمیں کیوں یہ استحقاق ہے؟ اگر ہم فرض کرلیں کہ کوئی خارجی طاقت ہمیں یہ حق دیتی ہے، مان لیں خدا یا اس معاشرہ کے وضع کردہ قوانین، تو اس میں پیچیدگیاں ہیں۔ کیا یہ حق ہم سے چھینا جاسکتا ہے؟ اگر سرشت ہی کی وجہ سے یہ استحقاق ہے، تو اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا ایک جنگی مجرم بھی مسرت کا حقدار ہے؟ ماحول کے متعلق کیا خیال ہے؟

آپ کہتے ہیں کہ حیات کی ساری انواع کو مسرت کا اور اچھے سلوک کا حق حاصل ہے، تو میرا سوال یہ ہے کہ ہوا اور سمندر جیسی بےجان چیزوں کا کیا ہوگا؟ کیا سمندر کو استحقاق ہے کہ اسے ستھرا رکھا جائے؟ کیا ہوا کو استحقاق ہے کہ اسے صاف رکھا جائے؟ یہ استحقاق کہاں سے آتا ہے؟

بدھ متی نکتۂ نظر سے، ہماری مثبت اہلیت کا نتیجہ مسرت ہے

بدھ مت کہتا ہے کہ ہماری مہاتما بدھ جیسی فطرت کے جز کے طور پر، ہم میں کچھ مثبت اہلیت ہے۔ اس کے لئے قدیم اظہاریہ یہ ہے، مہاتما بدھ جیسی فطرت کے جز کے طور پر، ہم میں "انعام کی مستحق خوبیوں کا مجموعہ" ہے۔ مگر مجھے یہ اصطلاح عجیب لگتی ہے۔ "مجموعہ"، میرے خیال میں، اس کے لئے غلط لفظ ہے۔ میں ترجیح دیتا ہوں لفظ "جال" کو۔ ہم مثبت صلاحتیوں کا ایک جال رکھتے ہیں۔ ہر ایک ان کا کوئی نہ کوئی جال رکھتا ہے۔

یہ بہت پیچیدہ ہے۔ اگر آپ اس بارے میں سوچیں، ہم سیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں، ایک خاندان کی پرورش کرنے اور محبت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہم میں مختلف انواع کی مثبت اہلیتیں ہیں؛ تعمیری عمل کی اہلیت ہے۔ آپ میں سے ایک نے پہلے کہا کہ ہر ایک کے خوش ہونے کا امکان ہے۔ ہم بھی یہی بات کررہے ہیں: ہم میں امکان ہے، ہم میں اس کی اہلیت ہے۔ مختلف کاموں کے لئے مشترک و مربوط اتنی اہلیتیں ہیں کہ ان کا ایک جال بن جاتا ہے۔ مثبت اہلیتوں کے اس جال کے نتیجہ میں، ہم خوشی حاصل کرسکتے ہیں۔ مجھ میں اتنی اہلیت ہے کہ اچھی آمدنی پیدا کر سکوں، دوسروں سے محبت کرسکوں، ایک خاندان کی کفالت کرسکوں۔ لہٰذا مجھ میں خوشی حاصل کرنے کی بھی اہلیت ہے۔ ہر ایک کے پاس ایسا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے۔ اس بنا پر، ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں استحقاق ہے، ہم نے خوشی کمائی ہے۔ لیکن اس مفہوم کے لئے جو الفاظ ہم استعمال کررہے ہیں وہ بدھ متی فلسفہ کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ ہے نا؟

فرض کیجئے آپ چھٹیوں پر جاتے ہیں۔ کیا آپ کے پودوں کا استحقاق ہے کہ انہیں پانی ملے، یا آپ کی بلی کو کھانا ملے؟ ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟ کیا آپ کے گھر کا استحقاق ہے کہ وہ ستھرا ہو؟

شریکِ درس: بلی کی خواہشات کے بارے میں کیا خیال ہے؟

الیکس: یہ اچھا سوال ہے۔ یہ بدھ متی فلسفہ سے قریب تر ہورہا ہے، کہ خوشی وہ ہے جس میں آپ کی رضا شامل ہو۔ خوش ہونے کے لئے آپ کی خواہش ہو کہ آپ کو خوشی ملے۔ اہم بات یہ ہے کہ بدھ مت کا مطالعہ کرتے وقت ان سب باتوں کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے۔

کیا خوشی کمائی جاسکتی ہے؟

اگر ہم خوش ہونا چاہتے ہیں، کیا بس اتنا کافی ہے کہ خوش ہونے کی خواہش کرلی جائے، یا اس کے لئے ہمیں کچھ تگ و دو بھی کرنی پڑے گی؟ اگر ہمیں اپنے عمل سے اسے کمانا ہے، تو کیا ہم بس اپنے عمل کے نتیجہ میں اسے حاصل کرتے ہیں یا کسی محرک کی بنا پر؟ فرض کیجئے میں کھانے پر اپنے دوستوں کو بلاتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ لذیذ کھانا بناؤں اور انہیں خوش کروں۔ میرا محرک تو زبردست ہے، لیکن میں نے کھانا جلا دیا تو سب برباد ہوگیا، یا میرا دوست بیمار پڑگیا، ہڈی گلے میں پھنس گئی۔ اہم بات کیا ہے؟ محرک، یا ہمارے عمل کا نتیجہ؟

محرک ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں اس کے لئے کچھ کرنا بھی پڑے گا۔ لیکن اگر محرک بھی ہمیشہ موجود نہ ہو ۔۔۔ فرض کیجئے ہماری خواہش ہی نہیں ہے کہ کسی کو خوش کریں یا کسی سے ملاقات ہو، اتفاقاً ملاقات ہوجاتی ہے اور اس سے ان کو خوشی ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک اتصال ہے۔ ایک مثال جو میں ہمیشہ استعمال کرنا پسند کرتا ہوں یہ ہے کہ: ایک چور آپ کی کار چوری کرلیتا ہے اور آپ خوش ہوتے ہیں کہ اب انشورنس کی رقم بٹور سکیں گے۔ کار تو خستہ تھی اور آپ کو پسند بھی نہیں تھی۔

چلئے ایک اور پہلو پر غور کرتے ہیں۔ بدھ مت میں انعام کی مستحق خوبی کے بارے میں نظریہ یہ ہے کہ اسے کمایا جائے: ہمیں اپنی خوشی کمانی چاہئے۔ سمجھیں کہ ہم نے سال بھر سخت محنت کی، کیا ہم نے چھٹیاں کمائیں، کیا ہم نے تنخواہ میں اضافہ کمایا؟ یہ یا وہ والی بات نہیں ہے۔ کیا ہم نے چھٹیاں کمائیں؟ کیا ہم نے تنخواہ میں اضافہ کمایا؟ کیا ہم نے یہ حق حاصل کیا کہ اپنے دفتر میں حالاتِ کار بہتر ہوں؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ لفظ "کمایا" سے مراد آپ یہ کہیں گے "جی ہاں ہم نے کمایا ہے"۔ تاہم، ہم چھٹی پر جائیں، اور پھر بھی خوش نہ ہوں۔ کیا ہم نے خوشی کمائی ہے؟ نہیں ہم نے خوشی نہیں کمائی۔ تو پھر ہم کیا کما رہے ہیں؟

شریکِ درس: (ترجمہ) وہ ایک ماں ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ ایک اچھی ماں ہے ۔۔۔ آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی، لوگ توقع باندھ لیتے ہیں کہ آپ ان کی امیدوں کو پورا کریں گے جنہوں نے آپ کو جنم دیا ہے۔

الیکس: یہ اور زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ ہم کہہ سکتے ہیں، "میں ایک اچھی ماں ہوں۔ ایک اچھی ماں ہونے کے سبب میں نے اپنے بچوں کی عزت کمائی ہے، لیکن وہ میرا احترام نہیں کرتے۔"

شریکِ درس: (ترجمہ) اُس کا قصہ ٹھیک یہی ہے۔ وہ اپنے والدین کی شادی کے ٹھیک نو ماہ بعد پیدا ہوئی، لہٰذا وہ ایک من چاہی اور منصوبہ کے مطابق اولاد ہوئی، اور انہوں نے ہمیشہ تاکید کی کہ وہ ایک اچھی اور خوش شکل اور ایسی ویسی بنے، تو اس نے وہ سب کچھ کیا جو انہوں نے کہا۔

شریکِ درس: (جاری رکھتے ہوئے) جب آپ منصوبہ کے مطابق پیدا ہوں، تو آپ سے امیدیں لگی ہی ہوتی ہیں۔ یہ مثال صاف طور پر بتاتی ہے کہ یہ من جو خود اپنی خوشی کے لئے دوسروں کو ایسا ویسا کرنے کو کہتا ہے، کس قدر شیطانی ہے۔

الیکس: کیا والدین، بہتر والدین بن کر، اپنی اولاد کی عزت کما سکتے ہیں؟ اگر وہ احترام کی خواہش رکھتے ہیں تو کیا انہیں عزت کمانے کی ضرورت نہیں؟

آپ عزت کے مستحق ہیں، لیکن آپ کو نہیں ملتی۔ کیوں؟ اور کیا آپ توقع رکھتے ہیں کہ اگر ہم نے کچھ کمایا ہے تو کوئی ہمیں ادا بھی کرے گا؟ کیا یہ مناسب توقع ہے؟ کیا کرم کا یہی مطلب ہے؟

شریکِ درس: ہم بہت کچھ بول رہے ہیں خوشی کی شکلوں اور خوشی کے مظاہر کے بارے میں لیکن نہیں بول رہے ہیں تو۔

الیکس: مگر خوشی کا منبع داخلی ہے۔ اب ہم بدھ متی فلسفہ سے کچھ قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔

شریکِ درس: (ترجمہ) میری ایک معذور بھتیجی ہے۔ اس کا جسم معذور ہے، اور من بھی بہت کمزور ہے، اس میں اپنی طرف سے نہ کوئی امنگ ہے اور نہ کوئی عملی کوشش ہے۔ پھر بھی میں محسوس کرتا ہوں کہ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ ہونا چاہئے، اسے اچھا ماحول ملنا چاہئے، اور خوشی ملنی چاہئے۔

الیکس: امنگ سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہونا چاہئے۔ فرض کریں کوئی رنجیدہ ہو یا اپنے عزیز سے محروم ہوگیا ہو، یا معذور ہو جیسے آپ کی مثال میں ہے، کیا وہ شخص ہمدردی کا مستحق ہے؟

شریکِ درس: (ترجمہ) میں سمجھتا ہوں ہمیشہ یہ خیال کرنا دیوانگی ہوگی، "میں کیسے خوش ہوسکتا ہوں؟" اور اسی طرح کی اور باتیں، یہ سب بکواس ہے؛ میں ان سب سے دور رہنا چاہتا ہوں۔

الیکس: خوش ہونے کی خواہش سے بھی دور؟

شریکِ درس: جی ہاں۔ اسی لئے میرے نزدیک بدھ مت ہی وہ واحد راستہ ہے جو مجھے اس کے قریب پھٹکنے نہ دے۔

الیکس: اگر آپ مسرت کی خواہش سے دور بھاگیں تو کیا آپ کو مسرت مل جائے گی؟ ذرا غور کیجئے۔

صرف مسرت کی خاطر مثبت اہلیت بڑھانا کارآمد نہیں ہوتا، آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں؟ "میں مرکز کو ایک بڑی رقم دان میں دوں گا کیونکہ میں خوش ہونا چاہتا ہوں، میں ایک بہتر پُنرجنم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔" کیا بدھ مت یہ نہیں کہتا کہ آپ سارے اچھے کام کریں تو آپ کو بہتر پُنرجنم ملے گا؟

شریکِ درس: (ترجمہ) دراصل بدھ مت یہ نہیں کہتا، لیکن کئی تشریحات ایسی ہیں جو ایسی لگتی ہیں، اور یہ بکواس ہے۔

الیکس: دراصل بدھ مت کہتا ہے کہ بہتر پُنرجنم کی خواہش ایک ابتدائی محرک ہے جو کم از کم دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے روکتا ہے، چوری سے باز رکھتا ہے، وغیرہ، لیکن آپ کو اس سے بلند ہونا چاہئے کیونکہ اگر آپ کو پُنرجنم میں خوشی مل بھی جائے تو آپ اسے کھودینگے۔ آپ کو سچی خوشی نہیں ملے گی۔ اور تب، حقیقتاً مکش پانے کے لئے خوش ہونے کی خواہش آپ کو ختم کردینی چاہئے۔

شریکِ درس: میرا خیال ہے کہ آپ کو خوشی پانے کیلئے کچھ تو کرنا چاہئے؛ چاہے آپ صرف دھوپ میں لیٹیں اور سستائیں۔ آپ کو کچھ تو کرنا پڑے گا، لیکن نتیجہ کا بھروسہ نہیں۔ متوقع نتیجہ ہمیشہ نہیں نکلتا۔ آپ کچھ کریں لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کو خوشی ملے۔ ساری گفتگو کا ماحاصل یہ ہے کہ خوشی کا انحصار باطنی سکون پر ہے۔

الیکس: آئیے "استحقاق" کے دو اور پہلوؤں پر غور کریں۔ کوسوو کے عوام پر نظر ڈالیں جنہیں ضرر پہنچا۔ ان کا کیا استحقاق ہے؟ کیا وہ ہمدردی کے مستحق ہیں؟ کیا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں اِس ملک میں داخلہ دیا جاۓ اور انہیں کھلایا پلایا جائے؟ انہوں نے کیا کِیا کہ وہ اس کے مستحق ہوں؟ کیا انہیں خوش رہنے کا حق ہے؟ کیا انہیں بدلہ لینے کا حق ہے؟ سربیا کے فوجی سپاہیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے ان کے کئی آدمیوں کا قتل کیا ہے؟ کیا وہ مستحق ہیں ہماری درد مندی اور معافی کے؟ اس کے لئے انہوں نے کیا کِیا ہے؟ کیا وہ مستحق ہیں کہ انہیں سزا دی جائے یا قتل کئے جائیں؟ کیا اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لفظ "استحقاق" سے کیا مسئلہ ہے۔

 

شریکِ درس: (ترجمہ) یہ دراصل ایک اخلاقی سوال ہے۔ ہر بات ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسے کوئی اسے سمجھے؟

 

(اضافہ) میرا خیال ہے آپ نے پوچھا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ کس کو یہ کہنے کا حق ہے کہ یہ اچھا ہے اور یہ برا ہے؟ مجھ سے اس کا تعلق کیا ہے؟ ذاتی طور پر میرے لئے یہ دلچسپ ہے اور معلوم کرنے کی بات ہے یا ۔۔۔۔

الیکس: میں نہیں جانتا۔ میں تو بس یہ نکتہ بتانا چاہتا ہوں کہ verdienen کا سارا فلسفہ، کہ کچھ کمانے یا کسی استحقاق کے لئے – اور اسی سلسلۂ بیان میں ہماری مغربی فکر کرم کے بدھ متی فلسفہ سے بہت مختلف ہے جس کے متعلق یہ ساری بحث کی جارہی ہے: مثبت اہلیت۔ یہ بہت جدا ہے۔

کرم عدل یا نظامِ قانون نہیں ہے

اگر ہم حقوق رکھنا، کمانا، اور مستحق ہونا کے مغربی فلسفہ پر غور کریں تو اس کے پیچھے ایک بنیادی تہذیبی معروف تاثر نظر آتا ہے جو مغرب میں رائج ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ یہ دنیا عدل پسند ہے، اس میں انصاف پایا جاتا ہے، اور امور منصفانہ ہونے چاہئیں۔ یہ قوی فلسفہ ہے: "انصاف ہونا چاہئے۔" کیوں انصاف ہونا چاہئے؟ "کیونکہ دنیا عدل پسند ہے۔" یہ بالکل مغربی فلسفہ ہے۔

ہم اس پر مختلف انداز میں غور کرسکتے ہیں۔ ایک نکتۂ نظر سے، یہ منصفانہ ہے کہ کوسوو کے لوگوں کو اپنے ملک میں داخلہ دیا جائے۔ دوسرے نکتۂ نظر سے، آپ کہہ سکتے ہیں، "ان کے لئے ٹھیک ہے کہ وہ انتقام لیں اور ہمارے لئے ٹھیک ہے کہ ہم سربیا پر بم گرائیں۔ یہ انصاف ہے۔" ایک اور نکتۂ نظر سے، یہ ہمارے لئے ٹھیک ہے کہ ہم سربیا کے فوجیوں کو معاف کردیں، اس کے برخلاف، یہ بھی ٹھیک ہے کہ ہم انہیں قید کردیں۔ سو، ایک انصاف کا نظریہ ہے اور دوسرا قانون کا۔ یہ مغرب ہی پر محدود نہیں ہے۔ یہ چینی نظریات میں بھی موجود ہے، لیکن یہ تبتی نظریہ میں نہیں۔

ہماری مغربی نظر میں، یہ قانون یا انصاف، بائبل سے لئے ہوئے تصور کے مطابق، خدا کی وجہ سے ہے۔ خدا منصف ہے۔ خدا صحیح ہے۔ اگر خدا کی ناانصافی نظر آتی ہے کہ اس نے میرا بچہ چھین لیا، ہمیں اعتقاد رکھنا چاہئے کہ خدا اپنی حکمت میں ٹھیک ہے۔ لہٰذا، ایک مذہبی آدمی کو یہ بھروسہ رکھنا چاہئے کہ میرے بچہ کو چھینتے وقت خدا آگاہ تھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔ ان مغربی افراد کے لئے جو خدا پر یقین نہیں رکھتے، قانون اور انصاف کا یہ سارا فلسفہ ایک سیاسی پہلو رکھتا ہے، جو یونانیوں سے ماخوذ ہے، کہ کم از کم معاشرہ کو منصف مزاج ہونا چاہئے۔ ہم قانون وغیرہ کے ذریعہ ایک منصف مزاج معاشرہ کی تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پالیسی اور قوانین کے ذریعہ سماج کو انصاف پسند بنایا جاتا ہے، تو یہ کام خدا کا نہیں بلکہ لوگوں کا – قانون سازوں کا – ہوتا ہے۔ ہم اسے منصف مزاج بناتے ہیں کیونکہ ہم انہیں منتخب کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے، چینی لوگ "دھرم" کا ترجمہ کرتے ہیں "قانون"۔ گو چینیوں کے لئے، ان کی روایتی سوچ یہ ہے کہ قوانین دنیا کے قدرتی نظام کا حصہ ہیں۔ نہ تو وہ خدا کے بنائے ہوئے ہیں اور نہ لوگوں کے۔

چاہے ہم اسے ذاتی انداز میں لیں، جیسے مغرب میں ہوتا ہے، یا غیر ذاتی انداز میں، جیسے چینی سماج میں ہوتا ہے، مسئلہ اطاعت کا ہے۔ قوانین کی پابندی کریں اور معاملات ٹھیک چلیں گے، اور آپ خوش رہیں گے۔ اگر آپ قوانین کی پابندی نہیں کریں گے، آپ خوش نہیں رہیں گے۔ جب ہم بدھ مت کی ہندوستانی اور تبتی روایات پر نظر ڈالتے ہیں، لیکن چینی بدھ مت پر نہیں، تو ہم اپنے مغربی فلسفہ کو لانے کیطرف مائل ہوتے ہیں اور یہ ایک الجھن پیدا کرتا ہے کیونکہ ہمارے پاس انعام کی مستحق خوبی کے لئے یہ لفظ verdienen ہے۔ انعام کی مستحق خوبی کی اصطلاح بھی مضحکہ خیز ہے۔ verdienen وہ ہے جو آپ نے کمایا ہے۔ دنیا کو انصاف پسند ہونا چاہئے۔ اگر میں ایک تعمیری انداز میں کام کروں، دنیا راستباز ہو، تو میں خوش ہوں گا۔ انصاف ہونا چاہئے۔ اگر ہم کہیں بھی، "ہاں، لیکن میں جانتا ہوں کہ مجھے خدا یا کسی اور کی طرف سے یہ نہیں مل رہا،" تو دیکھئے کس طرح ہم مغرب میں کرم کے بارے میں بات کرتے ہیں! ہم اسے "کرم کے قوانین" کہتے ہیں۔ اصل متن میں "قوانین" کا لفظ نہیں ہے۔ ہم اس کا اضافہ کرتے ہیں۔ ہم کرم کو انصاف پر مبنی نظامِ قوانین سمجھتے ہیں، جو بالکل اصلی نظریہ نہیں ہے۔ تو پھر در حقیقت کرم کس بارے میں بات کررہا ہے؟

کرم کا معاملہ تعمیری یا تخریبی عمل کے نتائج سے ہے

پہلی بات تو یہ ہے کہ کرم کا تعلق اس بات سے ہے کہ مثبت اعمال کا کیا نتیجہ ہے اور منفی اعمال کا کیا نتیجہ ہے۔ یہ اسلوبی علت و معلول کی بابت ہے۔ ہم ایسی اصطلاحات جیسے "طبیعات کے قوانین" استعمال کرتے ہیں۔ یہ مادی اشیا ہیں: جو چیزیں طبیعات کے قوانین پر چلتی ہیں ان کے ہاں انصاف کا کوئی منصب نہیں۔ چینیوں میں بھی، جہاں قوانین کائنات کا حصہ ہیں، انصاف کا تصور موجود ہے۔ ہمارے ہاں ہندوستانی اور تبتی بدھ مت میں ہم ایک ایسے نظام کی بات کر رہے ہیں جو معقول ہے، اگرچہ یہ انصاف یا راستبازی پر مبنی نہیں۔ یہ جو ہے سو ہے۔

"تعمیری" سے یہاں مراد ایسے کچھ کرنا ہے جو تحرک کے نقطہ نظر سے تعلق سے آزاد ہو: " میں خوش ہونا چاہتا ہوں، میں یہ کام خوش ہونے کے لئے کر رہا ہوں،'' غصہ سے بے نیاز، لا علمی سے آزاد، وغیرہ۔ ہمارے من میں یہ خیال ہے،" میں کسی اور کو دکھ نہیں دینا چاہتا،" وغیرہ۔ "میں غیروں کی مدد کرنا چاہتا ہوں" کا عنصر بھی موجود ہو سکتا ہے، مگر یہ اسکی اہم ترین حتمی صفت نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک اضافی، ذیلی امر ہے۔ بنیادی خوبی یہ ہے کہ اس فعل کے پس پردہ کوئی خواہش، غصہ یا لاعلمی نہیں۔ اس ماں کی طرح جس کا تم ذکر کر رہے تھے:" میں اپنے بچوں سے اچھی طرح پیش آؤں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ وہ میری عزت کریں، مجھ سے پیار کریں، بڑھاپے میں میری نگہداشت کریں، میری خدمت کریں، وغیرہ وغیرہ۔" ایسی صورت میں وہ اپنے بچوں سے اچھا سلوک تو کر رہی ہے مگر اس کا تحرک تعلق پر مبنی ہے۔ ایسی روش سے ہمیں کچھ خاص خوشی نہیں ملنے والی۔

"تعمیری کام کرنےکا نتیجہ" کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔ خالی ترغیب ہی کافی نہیں، ہمیں ترغیب، فعل اور اس کے فوری نتیجہ کا اتصال درکار ہے۔ ترغیب مثبت ہو سکتی ہے مگر، جیسے آپ اعلیٰ پکوان تیار کرتے ہیں اور آپ کے مہمان کے حلق میں ہڈی پھنس جاتی ہے یا اس سے اُس کا دانت ٹوٹ جاتا ہے، یہ ایک ٹیڑھا مسٔلہ ہے۔ تاہم محرک سب سے اہم ہے۔

تعمیری کام کر کے ہم "انعام کی مستحق خوبی پیدا کرتے ہیں"۔ لیکن "پیدا کرنے" اور "انعام کی مستحق خوبی" سے کیا مراد ہے؟ ہم نے انعام کی مستحق خوبی کے مطالب کا جائزہ لیا ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ "پیدا کرنے" یا "حاصل کرنے" سے کیا مراد ہے۔

Verdienst یا انعام کی مستحق خوبی ہی مثبت اہلیت ہے: خوشی پیدا ہونے کی اہلیت۔ "پیدا کرنے" سے مراد نمبر بنانا نہیں۔ یہ کمانے کے مترادف بھی نہیں، جیسے کسی قانونی مقدمہ میں ثبوت جمع کرنا تا کہ آپ کو رہائی مل جاۓ۔ یہ یوں نہیں۔ میرے خیال میں اسے سمجھنے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی مثبت صلاحیتوں کے جال کو مظبوط کریں۔ چونکہ ہمارے پاس بنیادی ڈھانچہ ہے جو کہ ہماری مہاتما بدھ والی فطرت کا حصہ ہے، تو ہم اسے مظبوط کرتے ہیں تا کہ یہ بہتر طور پر کام کر سکے۔ میں اسے ایک برقی نظام جس میں بہت ساری ٹیوبیں لگی ہوئی ہیں سے تشبیہ دیتا ہوں، جسے آپ مظبوط بناتے ہیں تا کہ اس میں سے بجلی زیادہ طاقت کے ساتھ گذر سکے۔

پختہ ہو کر مسرت بن جانے سے کیا مراد ہے؟

یہاں بات یہ ہو رہی ہے کہ ہمارے تعمیری اعمال سے استوار ہونے والی مثبت اہلیت کے پختہ ہو کر مسرت بن جانے سے کیا مراد ہے؟ یہاں اس لفظ "پختہ ہونا" کے معانی کو سمجھنا بہت اہم ہے۔

اولاً، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمارے اعمال کا اوروں پر کیا اثر ہوتا ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے ہم کیا محسوس کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے بہت پیار کرتے ہیں لہٰذا ان کی خوشی کی خاطر ہم ان کے لئے بہترین کھانا بناتے ہیں، مگر وہ ہمارے کھانے کو ناپسند کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں کوئی خوشی نہیں دی۔ تو یہ لازم نہیں کہ ہمارے تعمیری فعل سے کسی کو مسرت ملے۔ اس تعمیری فعل کا پختہ ہو کر مسرت بننے کا یہ مطلب نہیں۔

جس خوشی کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں وہ ایسی بھی نہیں جو آپ تعمیری عمل کے دوران محسوس کرتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ آپ کسی شادی شدہ شخص کے ساتھ ناجائز تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر آپ اپنے آپ پر قابو رکھتے ہیں کیونکہ یہ زناکاری ہو گی؛ آپ جانتے ہیں کہ یہ بری بات ہے۔ اس طرح اپنے آپ کو روک کر یقیناً آپ کو کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ہم اس کی بات نہیں کر رہے۔ یہ کوئی ایسی خوشی نہیں جو آپ مثبت فعل کے دوران محسوس کرتے ہیں۔

ہم اس احساس کی بات بھی نہیں کر رہے جو آپ کو تعمیری عمل کے فوراً بعد ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست جو رخصت ہو رہا تھا اس کے لئے میں نے ایک بڑا اچھا کام کیا۔ میں نے ایک شاندار الوداعی دعوت کا انتظام کیا۔ میں نے اس کی خوشی کی خاطر بہت کچھ کیا، اور پھر میرا دوست کسی دوسرے شہر منتقل ہو گیا، اور میں رویا اور بہت دنوں تک سخت رنجیدہ خاطر رہا۔ ہم اس کی بات نہیں کر رہے کہ آپ کوئی اچھا کام کرنے کے فوراً بعد کیسا محسوس کرتے ہیں۔ "پختہ ہونے" کا یہ مطلب نہیں۔

ہمارے من کا ایک تواتر ہے۔ ہمارے تجربہ میں بھی تسلسل پایا جاتا ہے۔ یہ کسی ٹھوس شے کی مانند نہیں جو ساتھ ساتھ چل رہی ہو، بلکہ یہ ہمارے لحظہ بہ لحظہ تجربات کی لڑی ہے، تجربات کے لمحات کی ایک ایسی لڑی جو یکے بعد دیگرے تمام عمر چلے آتے ہیں اور ایک جنم سے دوسرے جنم میں جاری رہتے ہیں۔ ہر لمحہ کے اندر ہماری تمام اہلیتوں کا ایک مربوط سلسلہ ہے اور یہ اگلے لمحہ میں ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح مثبت اہلیتوں کا ایک جال ہے ایسے ہی منفی اہلیتوں کا بھی ایک جال ہے۔ حقیقت کے بارے میں عدم تیقن کی بنا پر ہمارے بیشمار اطوار تخریبی ہوتے ہیں۔ ہمارے اندر منفی صلاحیتیں بھی موجود ہیں: ایسی منفی سوچ کی بنا پر ہم طعن و تشنیع، ظلم اور بعض اوقات دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر اہلیتوں کا ایک ایسا جال بُنتے ہیں جو ایک دوسرے کی مختلف مرکبات کی شکل میں پشت پناہی کرتے ہیں۔

پختگی ایک غیر مخطط اور منتشر سلسلہ ہے

جب ہم ان چیزوں کے امکانات کی پختگی کی بات کرتے ہیں، تو ان کی پختگی کا ایک طریقہ ہماری ترجیحات کا اظہار ہے۔" میں اس قسم کے انسان کی صحبت کو اُس قسم کے انسان کی صحبت پر ترجیح دیتا ہوں۔" " میں اپنے جذبات کا اظہار زور شور سے کرنا پسند کرتا ہوں۔" یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو ہمیں پسند یا ناپسند ہیں اور جن کے اختلاط کو ہم اپنی "شخصیت" کہتے ہیں۔ تو اس کی بنیاد پر جو شے پختہ ہوتی ہے، وہ ہے: ہماری شخصیت، ہماری پسند اور نا پسند، اور حالات کے مطابق (من میں) کئی لہریں اٹھتی ہیں۔ میں اندھیری گلیوں میں چلنا پسند کرتا ہوں۔ (من میں) لہر اٹھتی ہے کہ میں اندھیری گلی میں چلوں، اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجھے لوٹ لیا جاتا ہے۔ یہ "کرم کی پختگی" کا ایک درجہ ہے۔

اس کی پختگی کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے "میں خوش ہوں،" "میں اچھا ہوں،" یا "میں اچھا نہیں ہوں،" یہ سب کسی بھی حالات میں ہو سکتا ہے۔ بعض دولتمند لوگ جن کے پاس بہت کچھ ہے قطعی خوش نہیں ہوتے۔ بعض دیگر لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا مگر وہ خوش رہتے ہیں۔ اس کا ماخوذ شخصیت کے بنیادی رحجانات ہیں۔ میرے خیال میں ہم اسے مغربی انداز فکر کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ " مجھے سادہ زندگی پسند ہے۔ اس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔" " مجھے ایک متحرک، مصروف زندگی پسند ہے۔ اس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔" ان سب کا تعلق ہماری ترجیحات سے ہے، ہے نا؟ " میں اس قسم کے شخص کے ساتھ وقت گذارنا پسند کرتا ہوں؛ میں اُس قسم کے شخص کے ساتھ وقت گذارنا پسند نہیں کرتا۔" یہ سب اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خوشی کیسے ملتی ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ جسے ہم پسند کرتے ہیں ہم ہمیشہ اس کے ساتھ خوش ہوں۔ یہاں جس بات کا ادراک نہائت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ یہ مسرت اور عدم مسرت میں پختگی کا سارا نظام، یہ منفی اور مثبت امکانات کا تمام نظام، یہ ایک غیر مخططی نظام ہے۔

یہ یوں نہیں کہ آپ کسی خاص انداز میں کچھ کریں اور آپ کو فوراً خوشی ملے، اور ہمیشہ ایسا ہی ہو، اور یہ کہ ہر شے ایک خط مستقیم کی مانند ہے۔ یہ ایسے نہیں ہوتا؛ یہ یک سمتی نہیں۔ بلکہ اس کی ترکیب بہت انتشار زدہ ہے۔ یہ انتشار ہے۔ بعض اوقات ہم کسی شخص سے راضی نہیں ہوتے؛ پھر کسی دوسرے وقت ہم اسی شخص سے راضی ہوتے ہیں۔ یہ یک سمتی نہیں۔ یہ کسی حد تک انتشار کا شکار ہے، مگر یہ قابل فہم ہے اس پیچیدگی کی وجہ سے جس پر مثبت اور منفی امکانات کے پیدا ہونے کا تمام نظام مشتمل ہے۔ یہ بہت پیچیدہ ہے۔

کسی شخص کو دکھ پہنچتا ہے، مثلاً یہ کوسوو کے مہاجرین۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا یہ دکھ منفی امکانات کا نتیجہ ہے۔ بے شک یہ مشکل بات ہے۔ وہ آخر یہاں پیدا ہی کیوں ہوۓ؟ یہ بڑا پیچیدہ مسٔلہ ہے۔ یہ مثبت اور منفی امکانات کا سارا نظام صرف تب درست لگتا ہے جب اسے بے سرے من اور پنر جنم کے حوالے سے دیکھا جاۓ۔ اس کے بغیر اس کی کوئی تک نہیں بنتی۔ وگرنہ آخر یہ شیرخوار کیونکر کوسوو میں مارا گیا؟ اگر آپ من کے تسلسل سے پیدا شدہ امکانات کو اس کی علّت کے طور پر پیش نہیں کرتے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ یہ خدا کی مرضی تھی۔ یہ محض بد قسمتی، جو کہ کوئی اچھا جواب نہیں: "یہ تمہاری بد قسمتی ہے کہ تم کوسوو میں پیدا ہوۓ۔ مجھے افسوس ہے!" یہ کہنا کوئی اچھی بات نہیں۔ یا آپ کہہ سکتے ہیں " یہ سب سربیوں کا قصور ہے۔" لیکن آخر، میں ہی کیوں؟ ہمیں کوئی (تسلی بخش) جواب چاہئے۔ یہ کوئی سیدھی سادی صورت حال نہیں۔ " آخر میرا ہی بچہ کیوں مارا گیا؟"

بدھ مت میں ہم کہتے ہیں کہ منفی اور مثبت اہلیتیں پائی جاتی ہیں جن کا کوئی مقام ابتدا نہیں۔ یہ بھی اس مسٔلہ کا ایک حل ہے کہ واقعات کیوں پیش آتے ہیں۔ جو بات نہائت دلچسپ ہے وہ یہ کہ ہم یہ بات کر رہے ہیں آیا یہ شخص ہمدردی کا مستحق ہے اور اسے بطور مہاجر جرمنی میں پناہ ملنی چاہئے، یا کیا اسے خفیہ گوریلا فوج میں بھرتی ہو کر بدلہ لینا چاہئے؟ کرم سے ہمیں دونوں طرح کے یعنی مثبت اور منفی امکانات کے نظریہ کا دلچسپ جواب ملتا ہے۔

ظاہر ہے یہ ان کے منفی امکانات کا نتیجہ تھا کہ ان کے گھر چھن گئے اور ان کے خاندان تباہ ہوئے۔ لیکن اگر ان کے پاس کافی مقدار میں مثبت امکانات بھی موجود ہیں تو انہیں خود بخود ہمدردی ملے گی یا جرمنی میں سیاسی پناہ۔ انہیں یہ چیزیں مانگنی بھی نہیں پڑیں گی؛ کیونکہ اگر ان کے پاس مثبت امکان نہ ہوتا تو انہیں مانگنے کے باوجود بھی کچھ نہ ملتا۔ اور اگر ان کے پاس سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کچھ اہلیت ہو بھی، تو ان کی کوئی اور منفی اہلیت ان کے جرمنی میں قیام کو ناخوشگوار بنا سکتی ہے۔

ان کے ہاں اور بھی بہت سارے منفی امکانات ہو سکتے ہیں۔ ایسے امکانات جو خود قتل و غارت کرنے سے پیدا ہوۓ ہوں اور اب انہیں خود ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس میں وہ اور ان کے عزیزوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ لیکن اگر وہ منفی امکان ابھی تک موجود ہے، تو وہ اس شکل میں جاری رہے گا کہ وہ بدلہ لینے کو ترجیح دیں گے، اور پھر جا کر بدلہ لینے کی لہر اٹھے گی تا کہ جو منفی امکان موجود ہے وہ جاری و ساری رہے۔ چونکہ یہ سلسلہ یک سمتی نہیں، کسی روز کوئی ایک چیز پختہ ہو گی، دوسرے دن کچھ اور۔ اس میں مختلف انواع کی چیزوں کا اختلاط ہوتا ہے جیسے کہ بدلہ لیتے وقت کوئی شخص بیحد مسرت سے ہمکنار ہو سکتا ہے، یا وہ شدید غصہ اور رنج کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

بدھ مت میں مثبت اہلیت کا یہ عمومی نظریہ ہے۔

اپنی مثبت اہلیتوں کو تقویت پہنچانا اور انہیں استوار کرنا

جس حد تک ممکن ہو ہم اپنی مثبت اہلیتوں کے جال کو مظبوط تر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، بغیر اس قسم کی سادگی کے، یوں سوچنا کہ اگر میں ایک لاکھ بار سجدہ کروں، یا یہ کروں، وہ کروں تو میں ہمیشہ خوش رہوں گا اور میرا کبھی کوئی کام نہیں بگڑے گا۔ یہ پیچیدہ ہے اور انتشار پذیر انداز سے پختہ ہوتا ہے۔ کبھی ہم خوش ہوتے ہیں؛ اور کبھی کوئی اور چیز ہمیں ناخوش کر دیتی ہے۔ عمومی طور پر میں خوش ہوں مگر مجھے بہت چکنا پٹزا پسند ہے۔ تو میں ایک لاکھ سجدے کرنے کے بعد جا کر ایک چکنا پٹزا کھاؤں گا کیونکہ مجھے یہ بہت پسند ہے اور میرے دل میں اس کی طلب پیدا ہوئی ہے۔ لیکن میرے ایک لاکھ سجدے مجھے اس پٹزا کے کھا کر بیمار ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ تو یہ نہائت اہم ہے کہ ہم اس بارے میں بھولپن سے کام نہ لیں۔

اصل بات یہ ہے کہ ہم یہ مثبت صلاحیت اس لئے پیدا کرتے ہیں تا کہ دھرم کی بصیرت حاصل کرنے کی خاطر سازگار حالات پیدا کئے جا سکیں۔ اس طرح ہم ایسے حالات پیدا کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔ اس مثبت اہلیت کی وجہ سے میں مراقبہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس نوع کی مشقیں کرنے کی بدولت میں دھرم کے گہرے موضوعات پر غوروفکر کرنا چاہتا ہوں۔ اور چونکہ ہمیں یہ کام پسند ہے لہٰذا مراقبہ کرنے یا خالی پن پر فکر کرنے کی لہر من میں بار بار اٹھے گی۔ ہمیں بھلا خالی پن کیوں یاد آیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک موج اٹھی اور ہمیں اس کی یاد آ گئی۔ ان لہروں کے بارہا اٹھنے سے، ان مثبت حالات کے جو ہمیں پسند ہیں، ہماری بصیرت عمیق سے عمیق تر ہوتی چلی جاۓ گی جو لاعلمی اور عدم آگہی کو مٹا دے گی، اور جب ہم اسے مٹا دیتے ہیں تو ہمارے دکھ درد کے اسباب بھی مٹ جاتے ہیں۔ پھر ہم سچ مچ خوش ہوتے ہیں۔ مگر اس کا انداز غیر مخطط اور انتشار پذیر ہے۔ یہ ایسے نہیں ہوتا کہ اب ہمیں بصیرت حاصل ہو گئی اور اب،"واہ!" پھر شادمانی آتی ہے، اور آپ ہمیشہ کے لئے شادمان ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی یہ سلسلہ بہت لمبا ہے۔

مثبت امکانات پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے، ایسا کرنے کا مطلب کیا ہے اور یہ کیسے ہوتا ہے۔ میرے خیال میں یہ نہائت اہم ہے کہ ہم مغربی اصطلاحات کی تعبیرات سے دور رہیں – ہم خوشی کماتے ہیں، وغیرہ جو کہ جرمن لفظ verdienen سے ماخوذ ہے: " ہم کسی شے کے مستحق ہیں کیونکہ ہم نے اس کی قیمت ادا کی ہے۔"

اگر مثبت امکان کے بارے میں کچھ اور سوال جواب ہوتے تو اچھا ہوتا، مگر اب کافی دیر ہو چکی ہے اس لئے اب میں ایک دعا کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔

دعا

ہمارے اس موضوع پر انتساب خوب جچتا ہے۔ ہم انتساب کیسے کریں؟ ہم اپنی سوچ کے ذریعہ یہ کہہ رہے ہیں،" میں ہر شخص کی مثبت اہلیتوں کو جلد از جلد روشن ضمیر ہونے سے منسوب کرتا ہوں۔" یہ سکول میں مانگی جانے والی بچوں کی دعا جیسی لگتی ہے۔ ہم میں سے اکثر کے نزدیک یہ بے معنی الفاظ ہیں۔ اس کا اصلی مطلب کیا ہے؟

ہم یہ کہہ رہے ہیں: آج شام ہم نے جو بصیرت پائی ہے، کاش وہ عمیق سے عمیق تر ہوتی چلی جاۓ۔ یہ میرے مثبت امکانات کے جال میں گھل مل جاۓ تا کہ میری صلاحیتوں کے مختلف پہلو مظبوط تر ہوں اور میں اپنے عمل میں فہم و فراست سے کام لوں، درد مندی سے کام لوں، مشکل حالات میں صبر سے کام لوں، جب اوروں کو تکلیف میں دیکھوں تو بھی صبر کروں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ اس نظام کے مختلف پہلوؤں کو تقویت بخشے تا کہ وہ پختہ ہو کر میرے لئے بصیرت اور درد مندی سے کام لینے کی ترغیب کو فروغ دیں۔ کاش وہ یوں پختگی اختیار کریں کہ جب کوئی واقعہ پیش آۓ تو میں اسے سمجھ سکوں اور خوش ہوں۔ یہ مجھے رنجیدہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ پختہ ہو کر خوشی بن جاتا ہے۔ مزید بر آں، یہ مجھ میں غیروں سے اور زیادہ سوجھ بوجھ اور درد مندی سے پیش آنے کی اہلیت پیدا کرتا ہے۔ جب کسی کو چوٹ لگ جاۓ، تو یوں کہنے کی بجاۓ " خوب، تم اسی لائق تھے" کاش ہمارے مثبت امکانات اس طور پختہ ہوں کہ ہم یہ بات بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ یہ واقعات کس طرح منفی اور مثبت اعمال اور امکانات کے نتیجہ میں پیش آتے ہیں۔

تو یہ ہے اس کا مطلب جب ہم کہتے ہیں:" یہ جو انعام کی مستحق خوبی آج شام میں نے پائی ہے میں اسے اپنی انعام کی مستحق خوبیوں میں شامل کروں گا، تا کہ تمام مخلوق کو خوشی ملے۔" اور یہ کہ ہماری بصیرت میں اضافہ ہو تا کہ ہمارے یہ مثبت جال مظبوط تر ہو جائیں۔ کاش یہ شادمانی کا باعث ہو، وغیرہ۔ ایسا یک سمتی انداز میں نہیں ہو گا۔ یہ غیر مخططی انداز میں ہو گا۔ اگر ہم یہ بات سمجھ لیں تو پھر ہم اس امر پر مایوس یا خفا نہیں ہوں گے کہ کل جب میرے ساتھ فلاں واقعہ پیش آیا تو میں نے کیوں درد مندی کا اظہار نہیں کیا۔ اس میں استقلال نہیں ہوتا۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثبت تر قالب ابھرتا ہے۔ تو یہ ایسے ہوتا ہے۔

انتساب کے ذریعہ ہم اپنے تجربہ کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو بصیرت ہم نے پائی ہے اسے دل کی گہرائیوں میں لے جا کر اپنے پورے نظام میں شامل کر لیں، اور اس بات کی زبردست تمنا کہ ہم اسے واقعی اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ از راہ کرم اس پر چند منٹ غور کیجئے۔ شکریہ۔