ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

کرم کے چیدہ نکات پر مختصر خطاب

الیگزینڈر برزن
برلن، جرمنی، ۲۸ مارچ ۲۰۰۱

کرم اور چار بلند و بالا سچائیاں

آج شام ہم کرم کے بارے میں بات کریں گے۔ بدھ مت میں یہ ایک مرکزی موضوع ہے۔ ہم اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ یہ چار بلند و بالا سچائیوں میں کیا مقام رکھتا ہے، وہ چار حقائق جنہیں کوئی بھی پہنچی ہوئی ہستی سچ مانتی ہے۔ یہ چار وہ ہیں جنہیں مہاتما بدھ نے اپنی تعلیمات کا بنیادی ڈھانچہ بتایا ہے۔

زندگی کی پہلی حقیقت یہ ہے کہ زندگی مشکل ہے اور مسائل سے بھرپور۔ یہ مسائل کونسے ہیں؟ بنیادی طور پر یہ مسرت اور عدم مسرت کے وہ مختلف درجات ہیں جنہیں ہم ہر لمحہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ اصل مسٔلہ ہے۔

بعض اوقات ہمیں شدید دکھ، درد اور غم کا احساس ہوتا ہے جو کہ یقیناً ایک مسٔلہ ہے۔ لیکن کسی وقت ہمیں خوشی کا احساس بھی ہوتا ہے، لیکن یہ عارضی ہے، یہ دیرپا نہیں۔ یہ عارضی خوشی بہت سے مسائل کا باعث ہے؛ اسے "داغدار خوشی" کہتے ہیں، اس پر بے یقینی کا داغ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ: نہ صرف یہ ناپائدار ہے، بلکہ یہ تسکین بخش بھی نہیں۔ ہم ایک اچھا کھانا پیٹ بھر کر کھا تو سکتے ہیں مگر یہ خوشی دیرپا نہیں؛ یہ ہمیشہ کے لئے بھوک کے مسٔلہ کو حل نہیں کرتی۔ علاوہ ازایں، ایک وقت میں جتنا زیادہ ہم کھاتے ہیں ہمیں اتنا ہی زیادہ خوش ہونا چاہئے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اگر ہم بہت زیادہ کھا لیں تو ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی تعین نہیں کہ ہماری خوشی کے خاتمہ کے بعد کیا ہو گا۔ ہم کسی اور چیز کے بارے میں خوش ہو سکتے ہیں یا ناخوش، یا پھر محض غیر جانبدار۔ ہم اس عارضی خوشی سے بچنے کی کوئی راہ نہیں پاتے، لہٰذا یہ ایک مسٔلہ ہے۔ ہم اس عارضی خوشی سے لطف اندوز تو ہو سکتے ہیں مگر یہ کوئی ایسی شے نہیں جو سچ مچ ہمارے تمام مسائل کو حل کر سکے۔ ہمیں ہمیشہ مزید سے مزید تر کی تمنا رہتی ہے۔

ایک تیسری قسم کا حقیقی مسٔلہ وہ ہے جس میں ہمارا احساس غیرجانبدار ہوتا ہے۔ جب ہم سو جاتے ہیں تو ایک طرح سے غیرجانبدار سا محسوس کرتے ہیں، کچھ خاص نہیں ہو رہا ہوتا۔ مگر اس سے بھی ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے؛ ہم ہمیشہ کے لئے سو نہیں سکتے۔

ان تینوں احساسات – خوشی، ناخوشی، اور احساس غیرجانبداری – میں سے کوئی ایک ہماری سمساری زندگی میں ہر دم ہمارے ساتھ رہے گا۔ یہ وہ بات ہے جسے مہاتما بدھ نے اصل مسٔلہ کا نام دیا ہے؛ یہ محض میرے ملازمت نہ ملنے تک ہی محدود نہیں۔ یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہم ہر ایک لمحہ کی بات کر رہے ہیں، کبھی کبھار کی نہیں۔

زندگی میں پیش آنے والے ان تمام مسائل کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ ان مسائل کی بنیادی وجہ کرم، پریشان کن جذبات اور پریشان کن اطوار ہیں۔اس بات کو فی الحال ہم یہیں رہنے دیتے ہیں۔ حقیقی مسائل کرم کی پختگی ہے، اور حقیقی وجوہات ہمارے کرم ہیں؛ لہٰذا پکی روک تھام کرم اور پریشان کن جذبات کی پکی روک تھام ہے، اور سچا راستہ یا راستے پر من سے مراد ایسی سوجھ بوجھ ہے جو اس حقیقی روک تھام کو عمل میں لاۓ گی۔ پس کرم کا نظریہ بدھ متی تعلیمات میں نہائت مرکزی حیثیت کا حامل ہے، لہٰذا اسے سمجھنا کہ یہ کیا چیز ہے بہت اہم ہے۔

کرم کی تعریف

جب ہم کرم کی تعریف پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اسے مختلف بدھ متی نظاموں میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے، جیسے کہ بدھ مت میں تقریباً ہر کوئی شے۔ ہم یہاں سادہ ترین تعریف کو استعمال کریں گے، جس کے مطابق کرم ایک من کی احتیاج ہے۔ یہ من کی ایک ایسی احتیاج ہے جو ہمیں کسی خاص تجربہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ کرم بذات خود کسی فعل کا نام نہیں۔ اکثر لوگ اس کے بارے میں عدم تیقن کا شکار ہو جاتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اس سے مراد اعمال ہیں، خصوصاً اس وجہ سے کہ بعض مترجم حضرات کرم کا ترجمہ "عمل" کرتے ہیں۔ یہ قطعی طور پر عمل/فعل نہیں بلکہ یہ عمل/فعل کی احتیاج ہے۔

یہ احتیاج جو ہمارے عمل کا باعث بنتی ہے من کا ایک پہلو ہے، اور اس میں ہمیشہ تین اور عناصر پاۓ جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلا ہے امتیاز کرنے کا عمل، جس کا ترجمہ عموماً ۔"پہچان" کیا جاتا ہے۔ ہم ایک حسی دائرہ کے اندر کسی شے کا امتیاز کرتے ہیں: یہ شخص اس شخص کی نسبت، یہ شے اُس شے کی بجاۓ۔ ہمیں اپنے فعل کا رخ اس کی طرف موڑنے کے لئے اس خاص شے کا انتخاب کرنا ہے۔ دوسرا عنصر ارادہ ہے، جو کہ مقصد کی مانند ہے: ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہم اس شخص کو نقصان یا فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ تیسری چیز ایک احساس ہے جو اس کے ہمراہ چلتا ہے۔ یہ کوئی پریشان کن جذبہ ہو سکتا ہے، مثلاً غصہ، یا کوئی مثبت جذبہ، مثلاً محبت۔ ہم انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم غصہ میں ہیں، یا ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اپنے اندر ان کے لئے محبت کا احساس رکھتے ہیں۔ اور وہ احتیاج جو ہمیں عمل پر آمادہ کرتی ہے وہ ہے کرم۔

"ترغیب" کے بدھ متی مطالب

ایک اور لفظ جو ہم مغرب والوں کے لئے کبھی کبھار الجھن کا باعث ہوتا ہے وہ ہے "ترغیب"۔ ہمارے یہاں مغرب میں اس سے مراد کسی چیز کے پیچھے جو جذبہ ہے۔ ہم یوں کہتے ہیں کہ ہمیں غصہ یا پیار سے ترغیب ملتی ہے۔ لیکن جب ہم 'ترغیب' کا لفظ بدھ متی مطالب میں استعمال کرتے ہیں، تو یہ ایک ایسا لفظ بنتا ہے جس کا مطلب مغربی معنوں میں ترغیب نہیں بنتا۔ بدھ متی نظریہ کے مطابق کسی ترغیب کا مرکزی پہلو ارادہ یا مقصد ہے، اور اس کے پیچھے جو جذبہ کار فرما ہے اس کی حیثیت ضمنی ہے۔ غالباً اس لفظ کا بہتر ترجمہ "ترغیب" کی بجاۓ " من کا ترغیبی نظام" ہو گا۔

مثال کے طور پر، کسی بھی سبق کے شروع میں جب ہم سنتے ہیں کہ "اپنی ترغیب کا اعادہ کرو"،تو اس کا بنیادی مطلب ہے کہ اپنے ہدف، یعنی اپنے مقصد کا اعادہ کرو: ہم یہاں کیوں آۓ ہیں؟ اس کا مقصد ہے کہ ہم کچھ ایسی بات سیکھیں جو ہمیں پناہ کی محفوظ راہ پر لے چلے، یا روشن ضمیری کے مقام پر پہنچ جائیں تا کہ ہم دوسروں کی اور اچھی طرح مدد کر سکیں۔ یہ ہے وہ چیز جسے ہم تقویت بخشتے ہیں یا اس کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس مقصد کے پیچھے جو جذبہ کار فرما ہے وہ ہے سب کے لئے درد مندی اور محبت۔ لیکن اپنی ترغیب کو مظبوط تر کرنے میں سارا زور اسی بات پر نہیں ہونا چاہئے۔ بے شک ہمیں اپنے محبت اور درد مندی کے جذبات کی توثیق مزید کرنے کی بھی ضرورت ہے، جو ہمارے مغربی نقطہ نظر سے ایسا احساس ہے جو ہمارے عمل کے پیچھے کار فرما ہے۔ مگر بدھ مت میں اس کا اشارہ ایک بہت بڑے من کے ڈھانچے کی جانب ہے۔

یہ تمام من کے عناصر جن کا ذکر کیا گیا ہے ان میں تمیز کرنا سود مند ہے، کیونکہ اگر ان میں کبھی کوئی ناموافقت پائی جاۓ تو ہم اسے درست کر سکیں گے۔ اگر ہم ان میں تمیز نہ کر سکیں، تو پھر ہمارے لئے اپنے من کی حالت کو کم و بیش کرنا اور اس کی اصلاح کرنا بہت مشکل ہو گا۔

جسمانی، زبانی، اور من کا کرم

تو ہمارے ہاں ایک احتیاج یا کرم پایا جاتا ہے۔ جب ہم جسمانی، زبانی اور من کے کرم کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کچھ کرنے، کہنے یا سوچنے کی احتیاج۔ اس آخر والی کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں کوئی بات صرف ایک لمحہ کے لئے سوچنے کی رغبت دلائی جاۓ، بلکہ کسی چیز پر کچھ سوچ بچار کی جاۓ، جیسے کسی سے کسی بات کا بدلہ لینے پر غوروفکر، کوئی منصوبہ بندی۔ جب ہم جسمانی اور زبانی افعال کی بات کرتے ہیں، تو یہ بھی عموماً من کی احتیاج سے جنم لیتے ہیں، ایک من کا کرم۔ کچھ کرنے کی احتیاج پہلے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً،"میرا خیال ہے کہ میں جا کر کسی کو بلاتا ہوں۔" یہ من کی احتیاج کی مثال ہے۔ اس کے ہمراہ اس کا اپنا احساس موجود ہے، اس کا مقصد وغیرہ، اور اس کی اپنی شے کی تمیز۔ اصل جسمانی یا زبانی کرم وہ احتیاج ہے جس کے ساتھ ہم عمل شروع کرتے ہیں، اور یہ احتیاج ہمارے فعل کو ہر لحظہ قائم رکھتی ہے اس وقت تک جب تک کہ کام ختم نہ ہو جاۓ۔ یہ ہے جسمانی اور زبانی کرم۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں شامل من کے پہلو اپنی اصلی حالت سے بدل بھی سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اپنے دوست سے بات کرنے والے تھے، لیکن اس کی بیٹی نے فون اٹھا لیا اور ہم یہ سمجھ کر کہ اس کی ماں بول رہی ہے، اس سے باتیں کرنے لگ گئے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شروع میں محبت کا احساس موجود تھا مگر پھر گفتگو کے دوران ہمیں ان پر غصہ آ گیا۔ ہمارا ارادہ انہیں کوئی اچھی بات یا کوئی بری بات کہنے کا تھا مگر باتوں باتوں میں ہم بھول گئے۔ یہ سب تغیر پذیر عناصر ہیں، اور ہمارا کرم اس کی احتیاج ہے، جیسے بات کرنے کی احتیاج۔ بے شک یہ احتیاج خود بخود وقوع پذیر نہیں ہوتی – یہ ان سب عناصر کے ساتھ مل کر پیدا ہوتی ہے – لیکن ان میں سے کوئی بھی بذات خود فعل/عمل نہیں۔ فعل بذات خود ایک الگ چیز ہے۔

عمل/فعل کو میں "مثبت کرمائی طاقت" یا "منفی کرمائی طاقت" کا نام دیتا ہوں۔ جس کا ترجمہ عموماً "انعام کی مستحق خوبی" یا "گناہ" کیا جاتا ہے۔ یہ فعل کی طرف اشارہ ہے جو کہ ایک کرمائی طاقت کا کردار ادا کرتا ہے۔ جب یہ انجام کو پہنچتا ہے تو اس کا کرمائی ما حاصل موجود رہتا ہے جو ہمارے من کے سلسلوں کے ساتھ جاری رہتا ہے- کرمائی امکانات، رحجانات، پختہ عادات، وغیرہ۔ یہ تجریدی عناصر ہیں۔ میں اس ماحاصل کی مختلف اقسام کی بحث میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ یہ بہت پیچیدہ بات ہے۔ مگر جب پریشان کن جذبات اور اطوار انہیں حرکت دیتے ہیں، تو یہ کرمائی ماحاصل ہمارے لحظہ بہ لحظہ مشاہدات میں نتائج کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

کرمائی ماحاصل کی پختگی

کرمائی ماحاصل پختہ ہو کر کیا شکل اختیار کر لیتے ہیں؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ حقیقی مسائل بن جاتے ہیں – مسرت، عدم مسرت یا غیر جانبدار جذبات۔ وہی کام جو ہم کل خوشی خوشی کر رہے تھے، آج اسے کرتے ہوۓ ہم ناخوش ہیں۔ یہ ہے کرم کی پختگی۔ میں "کرم کی پختگی" کو یہاں کئی معنوں میں استعمال کروں گا۔

جو چیز پختہ ہوتی ہے وہ ہے ہمارے پنر جنم کے مجموعہ ہائے عناصر سے واسطہ اور وہ فضا جس میں ہم نے جنم لیا ہے اور جس میں ہم اپنے آپ کو پاتے ہیں – تو جس قسم کا جسم ہمیں ملا ہے، ہمارا من، ہماری عقل یا عقل کا فقدان، وغیرہ – اور اس پنر جنم میں مسرت اور عدم مسرت کے مختلف لمحات کا احساس۔

اور پھر ہر لمحے اس بات کا احساس کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ ہم نے پہلے بھی کبھی کیا ہے۔ "میں کسی سے بذریعہ فون رابطہ کرنا چاہتا ہوں؛ میں تم پر چلانا چاہتا ہوں۔" "تم کیا کرنا چاہتے ہو؟" "میں اپنا سر کھجانا چاہتا ہوں۔" یہ ہے کرم کی پختگی: کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ کرنے کی خواہش سے اس کام کو کرنے کی احتیاج جنم لیتی ہے۔ کچھ کرنے کی خواہش اور اسے کرنے کی احتیاج دو مختلف چیزیں ہیں۔

ایک اور چیز جو پختہ ہوتی ہے وہ ہے کسی ایسی چیز کا تجربہ جس سے ہم پہلے بھی دوچار ہو چکے ہیں، وہی واقعات ہمارے ساتھ دوبارہ پیش آ رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ اوروں پر چلاتے ہیں، اور اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ ہمارے اوپر چلا رہے ہیں، یا ہم ہمیشہ لوگوں سے اچھی طرح پیش آتے ہیں اور اب لوگ ہم سے اچھا سلوک کر رہے ہیں۔

ان سب عناصر میں مختلف رفتار سے نشیب و فراز آتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف عناصر پختہ ہوتے ہیں، مختلف طریقوں سے آپس میں مل جل جاتے ہیں، اور ہم کبھی بھی یہ نہیں جان پاتے کہ آئیندہ کیا ہونے والا ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ اگلے لمحے ہم خوش ہوں گے یا ناخوش، اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اگلے پانچ منٹ بعد ہم کیا کرنا پسند کریں گے۔ یہ ہر دم رو بہ تغیر ہے۔ لوگ مجھے فون کرتے ہیں اور مجھے کچھ بیچنا چاہتے ہیں یا ۔۔۔۔۔۔۔کسے معلوم ہے کہ کیا ہونے والا ہے؟ کبھی تو یہ باتیں اچھی ہوتی ہیں اور کبھی سخت ناگوار۔ اس میں ہر وقت کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور ہمیں کچھ اندازہ نہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے – یہ ہے عدم تیقن۔ یہ بہت برا ہے، ہے نا؟ اتنا ہی نہیں، بلکہ ایک ناروا پیمانے پر ہماری پنر جنم کی حالتیں بھی اوپر نیچے ہوتی رہیں گی۔

مہایانہ نقطہ نظر کے مطابق کرم سے ایک اور شے بھی پختہ ہوتی ہے: ہر لمحہ اور متواتر ہم ایک چیز پیدا کر رہے ہیں اور اسے محسوس کر رہے ہیں، جسے میں "اطراف بیں مشاہدہ" کہتا ہوں۔ جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس کا تھوڑا سا حصہ اور اس کی وجوہات کو دیکھ پاتے ہیں۔ یہ بھی کرم کا نتیجہ ہے۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ جو پیش آ رہا ہے وہ کیوں پیش آ رہا ہے، یا یہ کہ ہمارے اعمال کے کیا نتائج نکلیں گے، لہٰذا ہمارا مشاہدہ سرنگی بصارت جیسا ہے۔ یہ بھی کرم کا ہی کمال ہے۔ یہ ہمیں "محدود انسان" بنا دیتا ہے، ایسی ہستیاں جن کے من محدود ہیں، بالمقابل سروشتہ مہاتما بدھوں کے۔

کرم کی یہ پختگی پہلی بلند و بالا (آریہ) سچائی ہے، یعنی حقیقی مسائل۔ میرے خیال میں اب ہم اس بات کو جو مہاتما بدھ نے زندگی کی پہلی حقیقت، حقیقی مسائل کے بارے میں کہی ذرا بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں؛ یہ ہے کرم کی پختگی۔ جو چیز پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ ہم اسقدر الجھن کا شکار ہیں کہ ہم کرم کو پختہ ہونے کا موقع دیتے ہیں، اور اس دور کو قائم رکھنے کی خاطر مزید احتیاجات پیدا کرتے ہیں۔ اسے د ست نگر نمو کے بارہ رابطوں کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے:

یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ کرم پر بات چیت میں احتیاجات شامل ہیں جو کہ نہ صرف تخریبی روش بلکہ تعمیری روش بھی پیدا کرتی ہیں جس میں بے یقینی شامل ہے، اور غیر تصریح شدہ رویہ بھی جس میں الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ایک مثبت عمل جس میں بے یقینی کا عنصر شامل ہو یوں ہو گا:" میں تمہاری مدد اس لئے کرنا چاہتا ہوں تا کہ تم مجھے پسند کرو اور مجھ سے اچھی طرح پیش آؤ۔" یا " میں تمہاری مدد اس لئے کرنا چاہتا ہوں تا کہ میری ضرورت (اہمیت) محسوس کی جاۓ، کیونکہ اس طرح میں اپنے آپ کو اہم اور مفید خیال کرتا ہوں۔" یا یہ کوئی غیر متعین شدہ کام کرنے کی احتیاج ہو سکتی ہے، یعنی نہ تو تعمیری اور نہ ہی تخریبی، جیسے مستقل انگلیوں کو چٹخانا، یا میز 'بجانا'، یا اپنے گھٹنے کو اوپر نیچے ہلانا یا ایسی ہی کوئی اور حرکت۔ اس میں بے یقینی شامل ہوتی ہے۔ یہ ہماری سادگی ہے کہ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے لوگ تنگ ہوتے ہیں، یا ہم مضحکہ خیز لگتے ہیں۔

کرم سے مراد اسلوب کے یہ تمام پہلو ہیں، اور وہ احتیاجات جو ان کے پیچھے کار فرما ہوتی ہیں۔

کرم کے چار عمومی اصول

کرم کے چار عمومی اصول ہیں۔

پہلا اصول نتائج کا تیقن ہے۔ اسے ایک خاص انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اگر ہم افسردہ ہیں تو یہ امر یقینی ہے کہ یہ ہمارے گزشتہ تخریبی رویے کا نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر ہمارے اعمال منفی ہوں گے تو نتیجہ لازماً ناخوشگوار ہو گا۔ کیوں؟ کیونکہ ہم منفی کرموں کو دھو سکتے ہیں۔ اگر اسے اس دوسرے طریقہ سے بیان کیا جاۓ، تو اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ کرموں کی صفائی ناممکن ہے۔ اگر ہمیں غم سے پالا پڑے تو ہم وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے تخریبی رویہ کا نتیجہ ہے؛ اگر ہم مسرت سے ہمکنار ہوں تو ہم وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے تعمیری رویہ کا نتیجہ ہے۔ یہ جو رویہ اور خوشی یا غم کے احساس کے درمیان رشتہ ہے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہم یہ نہیں کہ رہے کہ اگر آپ کا عمل تخریبی ہو گا تو نتیجہ ناخوشگوار ہو گا۔

آئیے ہم اس احساس اور عمل کے درمیان جو رشتہ ہے اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم اس خوشی اور غم کی بات نہیں کر رہے جو ہمارے اعمال سے دوسروں کو ملتے ہیں؛ اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مثال کے طور پر میں نے حال ہی میں اپنا کمپیوٹر ایک دکان والوں کو مرمت کے لئے دیا اور وہ وہاں سے چوری ہو گیا۔ میں بہت خوش ہوا کیونکہ یہ کمپیوٹر اکثر خراب رہتا تھا، اور اب میں بیمہ کمپنی سے اس کی قیمت وصول کر کے نیا کمپیوٹر لے سکوں گا۔ اس چوری سے مجھے کوئی دکھ نہیں ہوا۔ کرم کا یہ قانون اس شخص کی خوشی یا غم کی بات کر رہا ہے جس سے یہ فعل سرزد ہوا۔

اس بات کا بھی تعین نہیں کہ کسی کام کو سرانجام دیتے ہوۓ ہمارا رد عمل کیا ہو گا؛ اس کا تعلق حتمی طور پر عمل سے نہیں۔ ہم کوئی نامناسب جنسی حرکت کرنے سے پرہیز کر سکتے ہیں، جیسے کسی اور کے شریک حیات سے ہمبستری، اور ایسا کرنے میں بہت ناخوش بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ فعل کے فوراً بعد ہمارا ردعمل کیا ہو گا۔ "میں کسی کی مدد کر رہا تھا، اور وہ (مجھے) چھوڑ کر گھر چلے گئے، اور میں نہائت افسردہ ہو گیا۔" اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس بات کا بھی یقین نہیں کہ یہ جذبات بعد میں کبھی پختہ ہوں گے، کیونکہ ہم اپنے اعمال کے کرمائی نتائج سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔ صرف ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ جب بھی ہمارے اندر ایسے احساسات پیدا ہوتے ہیں، وہ خواہ کبھی بھی ہو، تو وہ کسی گزشتہ منفی یا مثبت عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم زناکاری کے ارتکاب سے پرہیز کے نتیجہ میں ناخوش ہوتے ہیں تو یہ کسی گزشتہ تخریبی فعل کی پختگی کا نتیجہ ہے۔

تعمیری فعل کیا چیز ہے؟ میں اس کی وضاحت کرتا چلوں، کیونکہ بعض لوگ اس بارے میں مغالطہ میں ہے۔ کسی کی جان لینے سے گریز دس تعمیری کاموں میں سے ایک ہے۔ میرے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ میں جاؤں اور جا کر لوگوں کو قتل کروں، لہٰذا یہ امر کہ میں انسانوں کو قتل نہیں کرتا یہ کوئی اس جرم کے ارتکاب سے پرہیز کا تعمیری فعل نہیں۔ تعمیری فعل یہ ہو گا کہ اگر کوئی مچھر میرے سر پر منڈلا رہا ہو اور میں اسے مارنے کا سوچوں، مگر پھر میرے دل میں اسے مارنے کے نتائج ابھریں اور میں اس (فعل) سے گریز کروں۔ اس موقع پر میرا مارنے سے گریز کا فعل ایک مثبت فعل ما نا جاۓ گا۔ جب ہم اس قسم کے تعمیری رویہ کی بات کرتے ہیں جس میں تخریبی کاموں سے گریز پایا جاۓ تو یہ نہائت مستند اور فعال امر ہے؛ یہ محض یوں نہیں، " اچھا، میں کبھی کسی کی جان نہیں لیتا، تو کیوں نہ میں کبھی کسی کی جان نہ لینے کی قسم کھا لوں۔" اتنا کرنا کافی نہیں۔ بے شک کوئی مصمم ارادہ ہمیشہ سود مند ہوتا ہے، لیکن اصل مثبت فعل کسی منفی فعل سے گریز ہے جبکہ ہمیں اس فعل کی ترغیب ہو، اور اپنے آپ کو اس کے نتائج سے واقفیت کی بنا پر روکنا۔ بے شک دوسری جانب ایسے تعمیری فعل بھی ہیں جیسے کسی کی مدد کرنا یا کسی کو کچھ دینا۔ یہ ایک دوسری قسم ہے۔

کرم کا دوسرا اصول نتائج میں اضافہ کرنا ہے: ایک چھوٹا سا فعل بہت بڑے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ ہم اپنے شریک حیات کو کوئی ناگوار بات کہتے ہیں اور اس مسٔلہ کو حل کرنے میں جتنی تاخیر کرتے ہیں نفرت اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہم سب اس بات سے اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر واقف ہیں۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر ہم نے کوئی کام نہیں کیا تو ہم اس کے نتائج بھی نہیں بھگتیں گے۔ کسی ہوائی جہاز کے حادثہ میں بہت سے لوگ مر جاتے ہیں، چند ایک بچ بھی جاتے ہیں۔ آخر کیوں؟ چونکہ انہوں نے اس حادثہ میں مرنے کی وجوہات پیدا نہیں کیں، لہٰذا انہیں نتائج سے واسطہ نہیں پڑتا۔ اگر ہم نے اپنے سب کرموں کو دھو ڈالا ہے تو ہمیں کسی شے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ حتیٰ کہ اگر ہم کسی خطرناک جگہ پر جائیں جہاں چور اچکے ہوں تو ہمیں کوئی نہیں لوٹے گا کیونکہ ہم نے لٹ جانے کے کرمائی سبب سے خود کو پاک کر لیا ہوا ہے۔ مثلاً مہاتما بدھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

چوتھا اصول یہ ہےکہ: اگر ہم کسی فعل کے مرتکب ہوۓ ہیں تو ہمارے من کے سلسلہ سے اس کا کرمائی ماحاصل خود بخود غائب نہیں ہو جاۓ گا؛ یہ کبھی اتنا پرانا بھی نہیں ہو گا کہ یہ پختہ نہ ہو۔ اگر ہم اس کو پاک

نہ کر لیں تو یہ آخر کار، کبھی نہ کبھی، پختہ ہو جاۓ گا۔ اس میں چاہے دس لاکھ برس لگ جائیں، لیکن یہ پکے گا ضرور ماسواۓ اس کے کہ ہم اسے پاک کر ڈالیں۔

یہ کرم کے عمومی اصول ہیں۔ کسی ایک فعل کے کئی زندگیوں کے دوران کئی نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تحریروں میں یوں ملتی ہےکہ کسی نے ایک بودھی ستوا کو بندر کہا تو وہ خود پانچ سو بار بندر کی شکل میں پیدا ہوا۔ خواہ ہم اس مثال کا احاطہ کر سکیں یا نہ کر سکیں اس سے کوئی غرض نہیں؛ بات دراصل یہ ہے کہ یہ سب معاملہ ایسا سیدھا، یکطرفہ نہیں۔ کسی ایک فعل کے کئی زندگیوں کے عرصہ میں بے شمار نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور بہت سے اعمال مل کر کوئی ایک نتیجہ پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ مثال مفید ہو سکتی ہے اگر ہم پولیس والوں کو "سؤر" کہنے سے پہلے ذرا سوچیں۔

چار عناصر جو بھرپور کرمائی نتائج حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں

جب ہم کسی کرمائی فعل کی بات کرتے ہیں تو بھرپور نتائج پانے کے لئے چار عناصر کی تکمیل لازم ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو نتیجہ اتنا زوردار نہیں ہو گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نتیجہ نکلے گا ہی نہیں۔

سب سے پہلی بات ایک بنیاد ہے۔ ایک بنیاد کا ہونا ضروری ہے، ایک ہستی یا شے جس کی طرف فعل کا رخ ہے۔ ہم نے سوچا کہ کسی نے غسل خانہ میں بہت دیر لگا دی اور ہم نے اس پر چلانا شروع کر دیا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہاں تو کوئی تھا ہی نہیں۔ لیکن یہ اتنا زوردار نہیں بالمقابل اس کے کہ سچ مچ کوئی وہاں ہوتا۔ کسی ایسے شخص کی موجودگی لازم ہے جو ہمیں چلاتے ہوۓ سنے، اسے سمجھے اور اس بات کا یقین رکھے کہ ہم اس معاملہ میں سنجیدہ ہیں۔ اگر وہ شخص بہرا ہے یا اس نے ریڈیو لگا رکھا ہے اور ہمیں سن نہیں پایا تو پھر یہ بات اتنی پرزور نہیں۔

دوسرا پہلو جس کی تکمیل ضروری ہے وہ ہے احتیاج، یعنی کرم بذات خود، اور دوسرے عناصر جو احتیاج کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا شے کی صحیح پہچان لازم ہے۔ مثلاً میں نے سوچا کہ یہ جو چھتری میں نے اٹھا ئی یہ میری ہے، مگر مجھے غلطی لگی اور میں نے غلطی سے تمہاری چھتری اٹھا لی۔ اگر ہم سے یہ فعل سہواً سرزد ہو تو اس کا نتیجہ بہت کمزور ہو گا بہ نسبت اس کے کہ اگر سب سے اچھی چھتری چُن کر اٹھا لی جاۓ۔ تاہم، اگرچہ ہم نے غلطی سے یہ کام کیا، پھر بھی یہ ایک منفی فعل گردانا جاۓ گا؛ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ اتنا زوردار تخریبی فعل نہیں۔ اس کے ساتھ جو دوسرا عنصر ہے وہ ہے ارادہ۔ اگر اس میں ارادہ شامل نہ ہو تو یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی کے ساتھ ناچ رہے ہوں اور ہم غلطی سے اس کے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھ دیں۔ یہ ارادتاً کرنے کی نسبت بہت ہلکی بات ہو گی۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر ہم کسی تخریبی عمل کی بات کر رہے ہیں تو پھر کسی پریشان کن جذبہ کا ہونا بھی لازم ہے۔ اگر ہم کسی مچھر کو جو ہمارے بچے کے سر پر منڈلا رہا ہے ماریں، اس لئے نہیں کہ ہم مچھر سے نفرت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہمیں اپنا بچہ بہت عزیز ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں؛ تو یہ اس سے بہت مختلف ہو گا اگر ہم مچھر کو اس سے نفرت کی وجہ سے ماریں۔ وہ سب دوسرا عنصر ہے، احتیاج۔

تیسرا عنصر عمل ہے۔ ہمیں اسے سچ مچ کر کے دکھانا ہے۔ اگر میں تم پر چلانے لگا تھا مگر اچانک دروازے پر دستک ہوئی یا فون کی گھنٹی بجی اور میں رک گیا، تو یہ اتنا بھاری عمل نہیں جتنا کہ سچ مچ چلانا۔ اگر میں نے تمہیں خواب میں مارا مگر درحقیقت ایسا کیا نہیں، تو اگرچہ خواب میں مارنے کا فعل ایک تخریبی فعل ہے اور اس میں غصہ کا بہت سا عنصر شامل ہو سکتا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ ہم پورے ارادہ کے ساتھ کسی شخص کو خواب میں مار بھی ڈالیں، لیکن یہ اتنا وزن نہیں رکھتا جتنا کہ واقعی کسی کو مار ڈالنا کیونکہ اس میں کسی فعل کا عمل دخل نہیں۔

تو اب آخری منظر کی باری ہے۔ یہ چوتھا عنصر ہے۔ اگر ہم نے کسی پر اسے مارنے کی نیت سے گولی چلائی مگر نشانہ چوک جانے سے گولی اس کے بازو میں لگی، تو ہمارے فعل کا مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہوا، لہٰذا یہ فعل اتنا وزنی نہیں۔ اگر ہم اپنے کلام سے کسی شخص کو دکھ پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن اسے ہماری باتوں سے بالکل تکلیف نہیں پہنچی کیونکہ اس نے ہماری بات کا یقین نہیں کیا یا کسی اور وجہ سے، تو یہ اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنا کہ اس شخص کو سچ مچ دکھ دینا۔ اسی طرح ہم نے اگر جھوٹ بولا اور اس نے ہماری بات کا یقین نہیں کیا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے اعمال کے نتائج نہائت پیچیدہ ہیں؛ اس میں بے شمار عناصر کا عمل دخل ہے۔

شریک محفل: کیا یہ مثبت اعمال کےلئے بھی ایسے ہی ہے؟

ہاں۔ مثلاً میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا مگر تمہاری بجاۓ کسی اور کی مدد کی۔ میرا تمہاری مدد کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر پھر بھی میں نے تمہاری مدد کی، یا میں نے تمہاری مدد کرنے کی خاطر کچھ کیا مگر تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ ہم کسی کو خوش کرنے کی خاطر اس کے لئے لذیذ پکوان تیار کرتے ہیں اور اس کا کھانا کھاتے وقت دم گھٹتا ہے اور وہ ہسپتال پہنچ جاتا ہے۔ یا اسے یہ کھانا پسند نہیں آتا؛ یہ نہائت بدمزہ تھا۔ یہ سب عناصر مثبت اعمال کے ہوتے ہوۓ بھی موجود ہیں۔

کرم کو اچھالنا اور اس کی تکمیل

کرم کی ایک اور تقسیم "کرم کو اچھالنا اور اس کی تکمیل " ہے۔

کرم کو پھینکنے سے مراد ایسی احتیاج ہے جو ہمیں آئیندہ زندگی کی سمت اچھال دے۔ مزید اختصاص برتتے ہوۓ، یہ کچھ کرنے کی ایسی زوردار احتیاج ہے کہ اس کا کرمائی ماحاصل ہمیں آئیندہ زندگی کی جانب پھینک سکتا ہے۔ یہ ہمارے پنر جنم کی شکل کو تشکیل دے سکتا ہے، مثلاً ایک انسان یا کتا۔ ایسا تب ہوتا ہے جب احتیاج کے ساتھ مصمم ارادہ اور مظبوط جذبہ منسلک ہو۔ اگر ہم واقعی اس احتیاج کو پورا کر گذریں اور وہ اپنے مطلوبہ نتیجہ تک جا پہنچے، تو یہ ہمارے پنر جنم کی شکل کا تعین کر سکتا ہے۔ اسے کہتے ہیں "کرم کو پھینکنا"۔

کرم کی تکمیل کا عمل اس وقت ظہور پذیر ہوتا ہے جب نیت یا محرک اور اس سے منسلک احساس اتنے مظبوط نہ ہوں۔ اس سے ایسے حالات پیدا ہوں گے جو پنر جنم کو اس مخصوص پنرجنم حالت میں مکمل کر دیں گے، مثلاً آیا کہ ہمیں ہندوستان کی گلیوں کا آوارہ، غلیظ کتا بننا ہے یا مغرب میں کسی امیر آدمی کے گھر کا پالتو پوڈل۔ چار چیزیں ممکن ہیں: مثبت اچھال اور منفی تکمیل، منفی اچھال اور منفی تکمیل، وغیرہ وغیرہ۔

ترکیب شدہ کرم اور استوار شدہ کرم

ایک اور تقسیم جو کہ خاصی دلچسپ ہے وہ ہے، "ترکیب شدہ کرم" اور "استوار شدہ کرم"۔

ترکیب شدہ کرم سے مراد کوئی ایسا جسمانی یا زبانی کرمائی تحرک ہے جو ہمارے کسی جسمانی یا زبانی فعل کا موجب بنا، جس کی احتیاج خواہ ہماری پہلے سے موجود احتیاجی سوچ اور فکر سے پیدا ہوئی یا نہ ہوئی۔ استوار شدہ کرم سے مراد کوئی ایسا کرمائی تحرک ہے جس کی احتیاج ہماری پہلے سے موجود احتیاجی سوچ اور فکر سے پیدا کی گئی ہو، خواہ یہ کسی جسمانی یا زبانی فعل کی سرزدگی کا باعث بنا یا نہیں۔ اگر استوار شدہ کرم کسی جسمانی یا زبانی فعل کا باعث نہیں بنتا، تو یہ استوار شدہ کرم من کا کرم ہے – کچھ کہنے یا کرنے کی احتیاج جس کی بنیاد پہلے سے قائم سوچ کا ایک سلسلہ ہے۔

اس تفریق سے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ چار چیزیں ممکن ہیں۔ مثال کے طور پر، میں نے تمہیں نقصان یا فائدہ پہنچانے کا قصد کیا مگر درحقیقت ایسا کیا نہیں۔؛ میں نے تمہاری مدد کا ارادہ تو نہ کیا تھا، مگر میں نے تمہاری مدد کی؛ میں نے یوں کرنے کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کیا؛ اور نہ میں نے ارادہ کیا اور نہ ہی عمل۔

جب ہم کوئی ارادہ کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل بھی کرتے ہیں تو نتائج یقینی ہو جاتے ہیں۔

اکثر اوقات لوگ اس درجہ بندی کو غلط سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، جبکہ کچھ اور اعمال ایسے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نکلنا لازم ہے۔ یہاں اس امتیاز کی بات نہیں ہو رہی، اگرچہ صورت حال یہ ہے کہ اگر ہم اپنے من کے سلسلوں کو اپنے تخریبی اعمال کے کرمائی ماحاصل سے پاک کر لیں، تو پھر ہم ان کے نتائج بھگتنے سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن جب ہم موجودہ پس منظر میں نتائج کے یقینی ہونے کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطمح نظر اس امر کا تیقن ہے کہ یہ کب پختہ ہوں گے۔ وہ اعمال جن کا ہم قصد تو کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے ان کی پختگی کے وقت کا تعین ناممکن ہے۔ وہ کسی وقت بھی پختہ ہو سکتے ہیں – اس جنم میں بھی ایسا ہوسکتا ہے،اگلے جنم میں، یا اگلے کسی بھی جنم میں۔ اگر ہم بہت سے مغربی لوگوں کی طرح پنر جنم میں ایمان نہیں رکھتے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے اعمال اس جنم میں ہی پختہ ہوں گے۔ یاد رکھیں، یہ (وہ اعمال ہیں) جن کا ارادہ کیا گیا اور اس پر عمل بھی کیا گیا۔

وہ کرمائی اعمال جن کے نتائج اس جنم میں پختہ ہوں گے

عمومی طور پر کرمائی اعمال کی چار قسمیں ہیں، تخریبی یا تعمیری، جن کے نتائج اس جنم میں پختہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان کی پختگی کا عمل آئیندہ جنموں میں بھی جاری رہے۔

پہلی جوڑی ایسے تخریبی اعمال کی ہے جو ہمارے اپنے جسم، مال و دولت، یا جان سے حد درجہ لگاؤ کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں، اور وہ تعمیری اعمال ہیں جو ان تینوں سے کسی ایک سے بھی شدید بے رخی کے باعث وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مجھے اپنی گاڑی سے اسقدر انس ہے کہ تم اس کو اگر ٹکر مارتے ہو تو میں بیس بال کا بلّا لیکر تمہاری گاڑی کو توڑ پھوڑ دیتا ہوں۔ یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ میں بیمار ہونے سے اسقدر گھبراتا ہوں کہ میں کسی ایسے شخص کی مدد کرنے سے انکار کر دیتا ہوں جو کسی چھوت کی بیماری کا شکار ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے، کہ میں اپنے جسم و جان کے بارے میں اتنا لا پرواہ ہوں کہ میں کسی بچے کو بچانے کی خاطر، جو ایک آتش زدہ عمارت میں گھرا ہوا ہے، اس عمارت میں دوڑ کر گھس جاتا ہوں۔

دوسری جوڑی ایسے تخریبی اعمال پر مشتمل ہے جن میں کسی کے لئے شدید کینہ و نفرت پائی جاۓ، جیسے کسی دشمن کے قیدی کو تشدد کا نشانہ بنانا، یا کوئی تعمیری عمل جس کی بنیاد بیحد انسانی ہمدردی اور محبت کا جذبہ ہو، جیسے کسی دشمن زخمی سپاہی کی مرہم پٹی کرنا۔

تیسری جوڑی میں ایسے تخریبی اعمال شامل ہیں جن کا محرک مہاتما بدھ، دھرم، سنگھا، یا روحانی علما، وغیرہ کو نقصان پہنچانا ہو، جیسے کسی خانقاہ کو تباہ کرنا اور راہبوں کا قتل عام۔ اس میں ایسے تعمیری اعمال بھی شامل ہیں جن کی بنیاد تین جواہر اور روحانی اساتذہ کی صفات پر پکا ایمان ہے، مثلاً کوئی ستوپ بنانا یا کسی بدھ متی کتاب کی اشاعت کے لئے یا بدھ مت مرکز تعمیر کرنے کے لئے چندہ دینا۔

چوتھی جوڑی میں ایسے تخریبی فعل شامل ہیں جن کی بنیاد ان لوگوں کے لئے مکمل عدم تشکر اور عدم تحریم پر ہے جنہوں نے ہماری بیحد مدد کی، جیسے ہمارے والدین یا اساتذہ، یا ایسے تعمیری فعل جن کا رخ ان کی جانب ہو، اور جن کی بنیاد ان کی کرم فرمائی کو لوٹانا ہو۔ مثال کے طور پر اپنے بوڑھے اور بیمار والدین کی نگہداشت نہ کرنا، یا اپنے روحانی اساتذہ کی ان کے بڑے بڑے کاموں میں مدد کرنا۔ مگر یاد رکھیں کہ ہمیں قصداً ان کاموں میں حصہ لینا چاہئے، نہ کہ غیر ارادی طور پر یا مجبوراً۔

وہ عناصر جو کرم کی قوت پختگی پر اثرانداز ہوتے ہیں

ہمارے کرمائی اعمال کا ماحاصل پختہ ہو کر کوئی مظبوط، ٹھوس چیز بن سکتا ہے یا کوئی ہلکی، معمولی شے۔ تو آخری بات جو میں کرنا چاہتا ہوں وہ بعض مختلف عناصر ہیں جو ان نتائج کی قوت پر اثرانداز ہوتے ہیں جو مثبت یا منفی کرموں سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ فہرست قدرے لمبی ہے۔

پہلا عنصر فعل کی نوعیت یا قدرتی مظہر ہے جس کا فعل سے تعلق ہے۔ یہ اس دکھ یا سکھ کے حوالے سے ہے جو عموماً دوسرے شخص کو اس فعل سے پہنچتا ہے۔ کسی کی جان لینا اس کی گاڑی چرانے کی نسبت کہیں زیادہ بڑی بات ہے؛ کسی کی جان بچانا اسے کچھ پیسہ دینے سے بڑی بات ہے۔

دوسرا عنصر اس اچھے یا برے احساس کی قوت ہے جو احتیاج کے ہمراہ ہوتی ہے۔ کسی کو شدید نفرت کے ساتھ نقصان پہنچانا معمولی غصہ کے ساتھ نقصان پہنچانے کی نسبت بہت بری بات ہے۔ وقت بچانے کی خاطر باقی ماندہ قسموں کی جو کہ زیادہ تر تخریبی ہیں میں صرف مثالیں پیش کروں گا، اور آپ مثبت اعمال کی مثالوں کا خود استنباط کر سکتے ہیں۔

تیسرا عنصر ایک تحریف شدہ، اضطراری تحرک ہے، دوسرے لفظوں میں کیا فعل سے منسلک کوئی تحریف شدہ، معاندانہ رویہ موجود ہے، اور ہم اس فعل کو کر گذرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے، بلکہ اسے کرنا اچھا جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی نسلی گروہ کے خلاف، اس کے ہر فرد کو قتل کرنے کی خاطر، جنگ چھیڑ دیتے ہیں اور اس فعل کو بجا سمجھتے ہیں، اور جو کوئی اسے غلط جانتا ہے اسے احمق سمجھتے ہیں۔ یہ منتشر، معاندانہ روش ہے۔ یا یہ سوچ کر کہ جانور ہمارے فائدہ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں انہیں مارنے کو صحیح سمجھنا۔ اگر ایسا رویہ پایا جاتا ہے تو یہ بہت تخریبی ہے۔

چوتھا عنصر بذات خود عمل ہے۔ اس سے مراد وہ دکھ ہے جو کہ فعل سے مظلوم کو پہنچتا ہے۔ کسی مکھی کے پر نوچ لینا اسے یک لخت مارنے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔

اگلا عنصر فعل کے پس پردہ مقصد کا ہے۔ اس کا انحصار اس امر پر ہے کہ ماضی میں ہمیں یا اوروں کو اس ہستی سے کتنا فائدہ پہنچا ہے، یا حال اور مستقبل میں کتنا فائدہ پہنچے گا، اس ہستی کی اچھی صفات کے مطابق۔ ان اچھی صفات میں وہ مقاصد شامل ہیں جو اس ہستی نے پاۓ ہیں، یا جن کے لئے وہ کوشاں ہیں۔ مثال کے طور پر کسی راہب یا راہبہ کا قتل، ان کے مقاصد اور صفات کی وجہ سے، کسی عام انسان کے قتل کی نسبت زیادہ سنگین جرم ہے۔ یا مہاتما گاندھی کا قتل کسی مجرم کو پھانسی دینے یا کسی مرغی کو ذبح کرنے کی نسبت کہیں زیادہ سنگین فعل ہے۔

اگلی چیز اس شخص کا رتبہ اور کمالات ہیں جسے اس فعل کا ہدف بنایا گیا ہے۔ اگر مظلوم کوئی ایسا شخص ہے جس نے ابھی چلہ کاٹا ہے تو یہ فعل زیادہ سنگین ہے۔ اگر ہم کسی بیمار کو کسی صحتمند کی بجاۓ دکھ دیں تو یہ بھی سنگین جرم ہو گا۔

اگلی بات لحاظ کا درجہ ہے، یعنی ہم اس ہستی کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔ کسی ایسی ہستی کو نقصان پہنچانا جس کی ہم عزت کرتے ہیں کسی انجانے شخص کو نقصان پہنچانے سے مختلف ہے۔ میں اپنے روحانی استاد کی بہت عزت کرتا ہوں، لہٰذا اس کے آگے جھوٹ بولنا کسی اجنبی سے، جس کی میں کوئی خاص عزت نہیں کرتا، جھوٹ بولنے سے کافی سنگین ہے۔

اور پھر ایک معاون صورت بھی ہے۔ اگر ہم نے کسی کی جان نہ لینے کی قسم کھا رکھی ہے تو ایسی حالت میں کسی کی جان لینا اس کی نسبت بہت سنگین ہو گا اگر ہم نے ایسی کوئی قسم نہیں کھائی۔

اگلا عنصر عادت یا تکرار کا ہے۔ اگر ہم نے کوئی فعل ماضی میں بارہا کیا ہے، تو یہ زیادہ بڑی بات ہے۔ اگر ہم نے تمام عمر باقاعدگی سے شکار کیا ہے تو یہ ایک بار کوئی ہرن مارنے کی نسبت بہت سنگین ہے۔

پھر باری آتی ہے اس بات کی کہ کسی فعل میں کتنے لوگ ملوّث ہیں۔ اگر ہم کسی ایسے گروہ کے رکن ہیں جو کسی شخص کو بہت مارتا ہے تو یہ ہمارے اس کام کو اکیلا کرنے کی نسبت سنگین جرم ہے۔ اس کے برعکس، کسی گروہ کے ساتھ مل کر پوجا کرنا اکیلے اپنے کمرے میں بند ہوکر پوجا کرنے کی نسبت بہت بہتر مثبت فعل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبتی لوگ مل کر گروہ کی شکل میں پوجا کرتے ہیں۔

پھر اس چیز کو دیکھنا ہے کہ آیا ہم اس عمل کو مستقبل میں دوہراتے ہیں یا نہیں۔

آخری عنصر مخالف طاقتوں کی موجودگی اور عدم موجودگی سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر ہم کوئی تخریبی کام کریں تو کیا ہم بہت سے تعمیری کام کر کے اس کا ازالہ کرتے ہیں یا نہیں؛ یا ماضی میں اگر ہم نے کوئی مثبت کام کیا، تو کیا ہم نے بہت سے منفی کام کر کے اسے ضائع کر دیا یا نہیں۔

یہ فہرست خاصی لمبی لگتی ہے، اور کسی حد تک اکتا دینے والی بھی، لیکن اس میں چند باتیں ایسی ہیں جو اس سلسلہ میں نہائت مفید ہیں کہ اگر ہم کوئی کام کرنے والے ہیں، برا یا اچھا، اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے کیسے علی الترتیب کمزور یا مظبوط بنایا جاۓ۔ اگر ہم کوئی تخریبی فعل کرنا چاہتے ہیں، جیسے لال بیگ مارنے کے لئے گھر میں دھونی دینا یا ایسا کوئی اور کام، تو ہم اسے بغیر نفرت اور تکرار کے اور بغیر دوستوں کو دعوت دئیے کہ آ کر دیکھیں کہ لال بیگ مارنا کیا مزے کی بات ہے، کر سکتے ہیں۔ اس کے مقابل اگر ہم کوئی مثبت کام، مثلاً گھر میں پوجا، کرنے والے ہیں تو یہ بڑی اچھی بات ہو گی اگر ہم اپنے دوستوں کو اس میں شرکت کی دعوت دیں تا کہ سب مل کر ایک مظبوط مثبت جذبہ کے ساتھ یہ کام کریں اور اکثر کریں۔

پس یہ عناصر ہمیں اپنے اعمال، جو کہ اضطراری اور عدم تیقن کے جذبات تلے سرزد ہو رہے ہوں، کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی راہنمائی کرتے ہیں۔ اگر ہم اوروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں سے اس کام کو شروع کرنا چاہئے جن کے ہمارے اوپر بہت احسانات ہیں، مثلاً ہمارے والدین۔ اگر ہمیں کسی کو دکھ دینا یا مایوس کرنا ہے، جیسے کسی موقع پر سب کو کال کرنا ہے مگر ہمارے پاس اس کے لئے وقت نہیں، تو ایسے میں کسی ایسے شخص، مثلاً اپنےوالدین، کو مایوس نہ کریں جس نے ہمارے اوپر بہت مہربانیاں کی ہیں۔ یہ محض ایک فہرست ہی نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جسے روزمرہ زندگی میں دوسروں سے معاملات میں کام میں لانا چاہئے۔

متحارب قوتوں کی عدم موجودگی یا موجودگی

اس فہرست میں آخری بات، متقابل قوتوں کی عدم موجودگی یا موجودگی، خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ وہ بات ہے جہاں سے ہمیں کرم کی دھلائی پر بحث کی شروعات ملتی ہیں۔ میں آج شام اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ لیکن میں چند اہم نکات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

کوئی تخریبی فعل خاصا بھاری پڑتا ہے اگر ہم اسے برا نہ سمجھیں اور نہ ہی یہ سوچیں کہ اس کے منفی نتائج نکلیں گے۔ اس کے متقابل یہ ہو گا کہ کھلے بندوں اس امر کا اعتراف کیا جاۓ کہ ایسا کرنا غلط اور غیر مناسب تھا۔ اس فعل کے ارتکاب کے وقت خواہ ہمیں اس کی خرابی کا احساس نہ بھی ہو، لیکن اگر بعد میں اپنی غلطی کو تسلیم کر لیں تو اس کے نتائج کا ازالہ ہونا شروع ہو جاۓ گا اور ان کی سنگینی میں کمی آ جاۓ گی۔

کوئی تخریبی فعل خاصا سنگین ہوتا ہے اگر ہم اسے کرنے میں خوشی محسوس کریں، کوئی پچھتاوا نہ ہو، اور اسے کر کے شادماں ہوں۔ اس کے مقابل پچھتاوا ہے۔

اگلی بات جو فعل کو سنگین بناتی ہے وہ ہے اسے دہرانے کی نیت اور خواہش کا فقدان۔ مثلاً جب ہم سوچتے ہیں، "میں تمام رات اونچی آواز میں موسیقی لگاۓ رکھوں گا۔ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں اگر اس سے میرے ہمسائوں کی نیند خراب ہوتی ہے۔" اس کے الٹ سوچ یوں ہو گی،"میں کوشش کروں گا کہ یہ فعل دوبارہ سرزد نہ ہو۔"

آخری عنصر یہ ہے کہ نقصان کی تلافی کرنے کے بارے میں نہ سوچنا۔ اس کی نفی مثبت جوابی کاروائی سے ہوتی ہے۔

اس طرح ہم ان چار مخالف قوتوں کو حاصل کرتے ہیں جن کا اطلاق وجرستوا مراقبہ یا اور کسی قسم کی تطہیر کے لئے اہم ہے۔ ہر ایک کسی خاص مقصد کے لئے تجویز کیا جاتا ہے۔

ہمیں اس بات میں مخالف قوتوں کی غیر موجودگی اور موجودگی کو ایک بار پھر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور بات جو کسی فعل کو سنگین بناتی ہے وہ ہے جب ہم، بغیر احساس اخلاقی ضبط یا پرواہ کے کہ ہمارے اعمال کا اوروں پر کیا اثر ہو گا، کوئی قدم اٹھاتے ہیں۔ نہ تو ہم اپنے ذاتی وقار کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی اس بات کی کہ لوگ ہمارے خاندان، اساتذہ، ہم وطنوں، وغیرہ کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ اس کا الٹ یہ ہے کہ ہمیں ذاتی وقار کا احساس ہو، اور اس بات کی فکر کہ ہمارے اعمال کا غیروں پر کیا اثر ہو گا، اور اس طرح اپنی محفوظ سمت اور بودھی چت کی توثیق، "میں اپنی زندگی میں کوئی مثبت کام کر رہا ہوں۔" اس کی ایک مثال یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی جرمن نژاد باشندہ کسی غیر جگہ جا کر بہت اونچی آواز میں بولے اور بہت ہنگامہ کرے، اس امر سے بے نیاز کہ اس وجہ سے لوگ جرمنوں کے بارے میں کیا راۓ قائم کریں گے۔

میرے خیال میں آج شام اسے یہیں ختم کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی سوال پوچھنا ہے تو پوچھیۓ۔

سوالات

شریک محفل: آپ نے فرمایا کہ مہاتما بدھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، مگر مہاتما بدھ کو سڑا ہوا باسی کھانا دیا گیا جس کے کھانے سے اس کی موت واقع ہوئی، اور حضرت عیسٰی کو سولی پر لٹکایا گیا۔ یہ کیسے ہوا؟ اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اگر کوئی قوم یا معاشرہ کسی مہاتما بدھ کی جان لے تو یہ اتنا برا فعل ہے کہ وہ معاشرہ آخر کار تباہ ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بدھ مت میں مہاتما بدھ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے کئی جواب ہیں۔ اگر ہم مہائین بات کو دیکھیں تو یہ جواب ملتا ہے کہ جب مہاتما بدھ کو سڑا ہوا باسی کھانا پیش کیا گیا اور اس سے اس کی موت واقع ہوئی، تو اس نے جان بوجھ کر ایسا ہونے دیا۔ یہ کسی منفی کرم کی پختگی کی مانند اضطراری طور پر نہیں ہوا۔ مہاتما بدھ نے اپنے پیروکاروں کو ناپائداری کا سبق دینے کے لئے ایسا ہونے دیا۔

جہاں تک کسی مہاتما بدھ کو مارنے کے کرم کا تعلق ہے، تو جو کرم ایک شخص بھگتے گا، اور جو سب لوگ بھگتیں گے، ان دونوں میں فرق ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کام کسی ایک شخص نے کیا، ایک گروہ نے کیا، یا سب نے مل کر کیا۔ جو مثال اکثر دی جاتی ہے وہ ہے بودھ گیا کی۔ وہاں مہاتما بدھ کا عظیم ستوپ کئی بار تباہ کیا گیا – تو کرمائی فعل سچ مچ مہاتما بدھ کو مارنا نہیں تھا بلکہ اس کی مورت کو تباہ کرنا تھا۔ اس کا کرمائی نتیجہ یہ ہوا کہ بودھ گیا ہندوستان کے غریب ترین خطہ میں واقع ہے جو فقیروں، بد شکل کوڑھ کے مریضوں اور مچھروں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ ان سب بد شکل فقیروں کے یہاں جمع ہونے کی وجہ بیان کی جاتی ہے؛ یہ ان کے اس مجموعی فعل کا نتیجہ ہے۔ اس ستوپ کی تباہی میں بہت سے لوگوں کا ہاتھ تھا، تو اس لئے بہت سارے لوگ اکٹھے مل کر اس کا انجام بھگتتے ہیں – یہ فقیر، کوڑھ کے مریض، وغیرہ۔

شریک محفل: یہ جو آجکل مویشیوں کی متعدی بیماری پھیلی ہوئی ہے تو با اختیار لوگوں نے ان مویشیوں کو ذبح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس معاشرے میں یہ کام ہو رہا ہے، میں چونکہ اس کا رکن ہوں، تو کیا ان جانوروں کو مارنا ایک مجموعی فعل ہو گا، ہو گا نا؟ کیا مجھے اس مجموعی فعل کا مشترکہ کرمائی نتیجہ بھگتنا ہو گا؟ میں اس سے کیسے بچ سکتا ہوں؟

سب سے پہلی بات یہ ہے، کرم کا چوتھا قانون یاد ہے نا؛ اگر ہم فعل کے مرتکب نہیں ہوۓ تو ہم نتیجہ نہیں بھگتیں گے۔ اگر ہم نے جانوروں کو نہیں مارا، تو ہم کرمائی فعل میں شامل نہیں۔ جو مختلف لوگ جانوروں کو مار رہے ہیں وہی کرمائی فعل میں شامل ہیں۔

تاہم ایک بات دوسروں کے اعمال پر شادمانی کا اظہار ہے۔ اگر ہم اوروں کے مثبت اعمال پر خوش ہوں تو ہم مثبت کرمائی طاقت پیدا کرتے ہیں؛ اور اگر ہم اوروں کے منفی اعمال پر خوشی منائیں تو ہم منفی کرمائی قوت پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ جانوروں کا یہ قتل عام بڑی اچھی بات ہے تو یہ اور بات ہے۔ لیکن اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ بہت برا کام ہے اور ہمارے دل میں بیحد درد مندی کا احساس ہو تو یہ سوچ کا مثبت انداز ہے۔

بہر طور، ہمیں اس بارے میں احتیاط برتنی چاہئے کہ اس میں بھولپن کا عنصر شامل نہ ہو۔ یہ جانور، یہ مویشی، انہیں گوشت کی خاطر ہر حال ذبح ہونا ہی تھا، تو یہ محض وقت کی بات ہے کہ کب ان کی جان جاۓ، جلد یا بدیر۔ ان کے لئے درد مندی کا احساس کہ یہ وبائی مرض کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں، اور جب یہ گوشت کی خاطر مارے جائیں تو پرواہ نہ کرنا بھولپن ہے۔ یہاں ہماری درد مندی مثبت فعل ہے، لیکن اس میں بھولپن کا پریشان کن احساس شامل ہے۔ لہٰذا ہمیں ہمیشہ اپنے خیالات اور اعمال کا دھیان سے تجزیہ کرنا چاہئے۔

دعا

تو ہم اس انتساب کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کرم کے مختلف عناصر کو سمجھنا کس قدر مشکل ہے کیونکہ اگرچہ یہ پیچیدہ ہے – یہ بدھ مت میں سب سے پیچیدہ شے ہے – پھر بھی ہم اسے جتنا زیادہ سمجھیں گے اتنا ہی زیادہ ہم اپنے رویہ اور اس کے نتائج کی سنگینی کو متاثر کر سکیں گے، انہیں تشکیل دے سکیں گے۔ جیسے اس مثال میں ہمیں مویشیوں کے لئے ہمیشہ درد مندی کا احساس ہونا چاہئے، نہ کہ محض اس وقت جب وہ بیمار ہوں۔

اس سے جو مثبت قوت پیدا ہوئی ہے کاش کہ وہ مظبوط سے مظبوط تر ہو، اور جو حکمت ہمیں ملی ہے وہ گہری سے گہری تر ہو، تا کہ ہم دھیرے دھیرے اپنے کرموں کے اثرات کو زائل کر سکیں اور آخر کار اپنے تمام کرموں پر قابو رکھ سکیں، تا کہ ہم ہر شخص کی بہترین طریقہ سے مدد کر سکیں۔