ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تدریجی راہ (لم- رِم) کی ابتدائی محدود تعلیمات کا عام تعارف

مترجم الیگزینڈر برزن
مرتب سمایا ہارٹ
ہوئی زن، ہالینڈ، مئی ۱۹۸۰
[نامکمل ریکارڈنگ کی خفیف ترمیم شدہ نقل]

یوم اول: روحانی اساتذہ، قیمتی انسانی زندگی، موت اور ناپائیداری

[لیکچر کے ابتدائی حصہ کی ریکارڈنگ دستیاب نہیں، یہ نقل نامکمل ہے۔]

 

روحانی اساتذہ کے ساتھ صحتمند تعلق

طالب علم کے لئے بہت اہم ہے کہ وہ لاما کے ساتھ پڑھنے سے پہلے اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلے۔ محض اس لئے نہ جائیں کہ کوئی مشہور سبق دیا جارہا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ لاما کی خوب اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں۔ ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایک استاد اور طالبعلم کو تقریباً بارہ سال لگتے ہیں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ ان دونوں کا آپس میں ایک گہرا تعلق قائم ہوسکتا ہے۔ اگرچیکہ یہ ایک واقعہ ہے، لیکن یہ ایک طویل مدت ہے اور اس طوالت میں بڑی خامیاں ہیں۔

ایک عظیم ساکیہ گرو کی مثال دی جاتی ہے جنہیں چین کی طرف سے وہاں کے شہنشاہ کے استاد کے طور پر دعوت دی گئی تھی۔ شہنشاہ نے ان کی شاگردی کا فیصلہ کرنے سے پہلے نو سال تک ان کی جانچ پڑتال کی تھی۔ نو سال کے بعد، اس نے انہیں پڑھانے کی درخواست کی تھی۔ گرو نے جب ان سے پوچھا، "آپ نے پڑھانے کی درخواست میں نو سال تک کیوں انتظار کیا؟" تو بادشاہ نے جواب دیا "میں یہ سارا وقت آپ کی جانچ کررہا تھا۔" گرو نے جواب دیا "اب میں نو سال تک آپ کا امتحان لوں گا!" دراصل، انہیں بادشاہ کو پڑھانے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ اگر آپ اتنا طویل انتظار کریں گے تو یہی ہوگا۔

ان دنوں ایک لاما کو کس طرح جانچا جاۓ، اس کے لئے پہلا نکتہ ان دو سوالوں سے لگایا جاسکتا ہے: جب آپ پہلی دفعہ گرو سے ملتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ کیا آپ کا من فوری خوشی محسوس کرتا ہے، یا کچھ محسوس نہیں ہوتا؟ مزید، جب آپ گرو کا نام پہلی دفعہ سنتے ہیں تو آپ خوشی محسوس کرتے ہیں یا نہیں؟ دوسرا نکتہ یہ کہ جب آپ پہلی دفعہ گرو سے ملنے گئے، وہ وہاں موجود تھے یا نہیں؟ بعض دفعہ جب لوگ پہلی دفعہ گرو سے ملنے جاتے ہیں تو وہ گھر پر موجود نہیں ہوتے۔ یہ کوئی خوش آئند علامت نہیں۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ آپ سنیں دوسرے لوگ اس روحانی گرو کے بارے میں کیا کہتے ہیں، مزید رائیں بھی لیں۔ اگرچہ یہ مشکل ہے کہ روحانی گرو میں سارے مخصوص اوصاف ہوں، تاہم سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ ایک نرم و گرم دل رکھتے ہوں، سب کے لئے قوی چاہت کا جذبہ رکھتے ہوں، اور وہ راستباز ہوں۔

روحانی گرو یا لاما کے تحت تعلیم حاصل کرنے سے پہلے ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلینی نہایت اہم ہے۔ جب آپ سنیں کہ کوئی لاما آرہے ہیں تو فوراً جوش میں نہ آجائیے اور کچھ سوچے سمجھے بغیر نہ چلے جائیے۔ یہ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن جب ایک دفعہ پورے دل سے کسی روحانی گرو کو قبول کرلیا ہے، تو یہ ٹھیک نہیں کہ ان پر شک کریں اور ان کی مزید جانچ کرتے رہیں۔

ماضی میں، مترجمین اور تبت کے لوگ، جیسے عظیم مترجم مارپا، بڑی مشکلات اٹھا کر سونا جمع کرتے تھے کہ بھارت کا سفر کریں اور روحانی مرشدوں سے ملیں۔ میلاریپا، جس نے مارپا کے تحت تعلیم حاصل کی تھی، کو اپنے ہاتھوں ایک نو منزلہ مینار خود تعمیر کرنا پڑا تھا۔ اس نے پتھر اپنی پشت پر اٹھائے اور بری طرح زخمی ہوا تھا۔ اس نے بڑے درد سہے۔ اس مینار کی تعمیر کے بعد بھی، مارپا اسے بیعت اور تعلیم دینے پر آمادہ نہیں تھا۔ مارپا کا ایک اور شاگرد نگوگ چوکو دورجے، تھا جس نے چکرسموار میں بیعت کی درخواست کی تھی۔ وہ گھوڑے پر ایک دن کی سواری کی مسافت پر رہتا تھا۔ جب مینار کی تعمیر مکمل ہوگئی، مارپا کی بیوی داگ میما نے ایک بیٹے درما دودے، کو جنم دیا۔ اپنے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں، اور ساتھ ساتھ میلاریپا کے نو منزلہ مینار کی تکمیل کی خوشی میں، مارپا نے نگوگ چوکو دورجے کو پیغام بھیجا کہ وہ چکرسموار کا آغاز کرنے جارہا ہے اور اس میں وہ بیعت اختیار کرے۔

جب نگوگ چوکو دورجے حاضر ہوا، تو وہ اپنی ساری پونجی مارپا کو نذر کرنے ساتھ لایا۔ اس کی ملکیت میں ایک بکری بھی تھی جس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ چل نہیں سکتی تھی، اُسے وہ پیچھے چھوڑ آیا۔ مارپا نے کہا "کیا ہوا؟ تم وہ دوسری بکری کیوں نہیں لائے؟ ان تعلیمات کو حاصل کرنے کے لئے مَیں نے بھارت تین دفعہ جانے کی سخت صعوبت برداشت کی، اور یہ بڑی قیمتی بیعت ہے۔ تمہیں واپس جانا ہوگا اور اس بکری کو لانا ہوگا۔" جب مارپا نے چکرسموار کا آغاز کیا، مارپا کی بیوی داگ میما کو میلاریپا پر ترس آیا اور وہ اسے ہمت افزائی کے لئے اندر لائی۔ مارپا نے ایک بڑا ڈنڈا اٹھایا اور اسے ڈانٹتے ہوئے باہر بھگادیا، اور اسے بیعت سے منع کردیا۔ مارپا کی بیوی مارپا سے التجا کرتی رہ گئی کہ وہ میلاریپا کو ٹھہرنے دے اور بیعت دے۔

بالآخر مارپا اپنی بیوی سے احساس درد مندی کی بنا پر میلاریپا کو بیعت کرنے پر آمادہ ہوا۔ میلاریپا کو ان مشکلات کا سامنا اس لئے کرنا پڑا کہ خود مارپا کو روشن ضمیری کے حصول کے لئے بھارت میں ناروپا کے تحت تعلیم حاصل کرنے میں سخت دشواریاں اٹھانی پڑی تھیں، اور اسی طرح ناروپا کو بھی اپنے استاد تِلوپا کے تحت تعلیم حاصل کرنے میں سخت تکالیف پیش آئی تھیں۔ روشن ضمیری آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ انہی منازل تک پہنچنے کے لئے میلاریپا کو بھی دشواریوں سے گذرنا ہوگا۔

مارپا نے کہا "جب تک میلاریپا میری خدمت میں ہے، میں اس پر شدید غضبناک ہوں۔ لیکن میری خدمت کے نتیجہ میں، وہ اس زندگی کی مہلت ہی میں روشن ضمیری حاصل کرپائے گا۔ وہ پہلے ہی مشکل کام، جیسے مینار کی تعمیر، انجام دے چکا ہے۔" لیکن مارپا کو اپنی بیوی پر ترس آتا تھا، کہ وہ میلاریپا پر اتنی رحمدلی جتاتی تھی، اور اس نے اجازت دی کہ وہ بیعت اختیار کرلے۔ بیعت کے بعد، اپنی اِسی زندگی میں روشن ضمیری پانے کے لئے میلاریپا کو سخت ترین مراقبہ جات اور عبادات کے لئے دورچلا جانا پڑا تھا۔ لیکن، مارپا کا ایک وفادار خدمت گذار ہونے کی بنا پر، وہ روشن ضمیر بن پایا – تب بھی اسے غاروں میں جاکر سخت مراقبے کرنے پڑتے تھے۔

دھرم پر چلنے کے مواقع کی کمی

اگر ہم ان سب کو موجودہ حالات پر منطبق کریں، تو دنیا کے کئی بڑے ممالک ہوں گے جہاں لفظ دھرم سنا بھی نہیں گیا ہوگا۔ مہاتما بدھوں کے جسم، گفتار، اور من کا ایک انگلی برابر بھی کوئی مظہر نہیں۔ اور اگر ہو بھی، تو انہیں مقدس مقام نہیں ملتا اور نہ ہی انہیں متاع عزیز سمجھا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں، ہر شخص بس اسی میں غلطاں ہے کہ اس کی زندگی اچھی گذرجائے، اور ساری توانائیاں اپنے ہی پر صرف کئے جاتے ہیں۔ اس طرح، وہ یہ سوچ کر اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں کہ زندگی بس اسی کا نام ہے۔ اس بنیاد پر وہ بڑی مادی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں، سڑکیں بنانا اور ایسے ہی دوسرے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کتنی ہی حیرت انگیز چیزیں بنالی ہوں، کتنی ہی مادی ترقی حاصل کی ہو، ان سے مسائل، دکھ، اور بے اطمینانی میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ آپ یہ سب جانتے ہی ہیں۔ مہاتما بدھ شاکیہمُنی خود ایک شاہی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک بادشاہ کے بیٹے تھے اور بے انتہا دولت کے مالک تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس سے کچھ حاصل نہیں، انہوں نے اسے خیر باد کہا اور اپنی انتھک محنت سے روشن ضمیری پائی۔

آپ سب نے بھی دیکھا کہ اس زندگی کی خوشی کے لئے مادّی اشیا کے پیچھے اپنی ساری زندگی بِتا دینا کوئی معنی و مطلب نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ سے، آپ نے دھرم کے روحانی موضوعات کی طرف توجہ کی، اور میرا خیال ہے کہ اچھا ہی کیا۔ اور یہ بات کہ روحانی موضوعات کیا ہیں، وہ مختلف اقدامات اور عبادات ہیں جو آپ کی اگلی زندگی اور اس کے علاوہ بھی آپ کا بھلا کرتے ہیں۔ اس کے بہترین طریقے پہلے بھارت میں سکھائے گئے، پھر وہ تبت میں پھیلے۔

یہ واقعہ ہے کہ تبت میں حالات ناقابل برداشت ہوگئے ہیں اور وہاں دھرم کی پیروی کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ دھرم کی روحانی عبادات کے بغیر زندگی گذارنا کوئی قدر نہیں رکھتا، اور ہم نے تبت سے ہجرت کرلی اور پناہ گزین بن گئے۔ ہم اس طرح کے ممالک میں آگئے اور آپ جیسے لوگوں سے ملتے ہیں جنہیں دھرم اور روحانی معاملات سے گہری دلچسپی ہے اور جو تبتی زبان سے ناواقف ہیں۔ آپ لوگوں کی دھرم سے گہری دلچسپی اور اس پر عمل پیرا ہونے کے مضبوط ارادوں کے سبب ہم اس کی تشریح کیلئے اپنی بساط بھر کوشش کرتے ہیں۔

اگر آپ میری مثال لیں، تبت میں، میں نے گیلوگ طریقہ کے لاماؤں اور اساتذہ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ دراصل، میں نے ساکیہ، کاگیو، اور نیئنگما طریقہ کے مختلف لاماؤں اور اساتذہ سے بھی بہت کچھ تعلیم حاصل کی ہے۔ میں نے جملہ ترپن (۵۳) روحانی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ مجھے بہت فکر ہے کہ کہیں دھرم کی تعلیمات کا تسلسل بگڑ نہ جائے اور وہ بالکل ناپید نہ ہوجائیں۔ دھرم کی تعلیم کا آپ کو خاص خیال ہے۔ اس لئے ایک خیرخواہانہ خواہش کے ساتھ آپ جیسے لوگوں کو پڑھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

آپ نے دیکھا ہے کہ صرف اِس زندگی کے معاملات میں الجھے رہنے کا کوئی مطلب نہیں۔ آپ سب چاہتے ہیں کہ اِن روحانی اعمال کو سیکھیں، لیکن آپ کو تبتی زبان نہیں آتی۔ یہ آپ کے لئے بڑی مشکل ہے۔ میں عمر رسیدہ ہوتا جارہا ہوں، اور اگر دھرم سکھایا نہیں گیا تو وہ معدوم ہوجائے گا۔ اس لئے، اگر مجھے ہر بات مکمل نہ معلوم ہو تب بھی میں نے سوتر اور تنتر کی تعلیمات آپ کو سمجھانے کی ممکنہ کوشش کی ہے۔

یہ بہت ممکن ہے کہ آپ کے کچھ شکوک ہوں۔ آپ سنتے ہیں کہ تعلیمات کے بارے میں پوچھنا مناسب ہے، تین سال کے وقفہ تک یہ درخواست کی جاسکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ بیعت ملنے سے پہلے اس کے لئے عموماً کئی بار درخواست کی جاتی ہے اور یہ معمول نہیں ہے کہ پہلی ہی درخواست پر فوری بیعت قبول کرلی جائے۔ تو ہمیں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ آج کل تعلیمات اور بیعت کیوں فوری دے دی جاتی ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نہیں چاہتا کہ یہ تعلیمات معدوم ہوجائیں۔ چونکہ آپ سب کو گہری دلچسپی ہے اور کاربند رہنے کا ارادہ ہے، اور خود میں بوڑھا ہوتا جارہا ہوں، تو جب لوگ تعلیمات اور بیعت کی درخواست کرتے ہیں، انہیں طویل انتطار کرانے کے بجائے میں فوری راضی ہوجاتا ہوں۔ یہ میں اس لئے کرتا ہوں کہ دوسروں کا بھلا ہوجائے۔

دھرم کا مطلب اور دھرم عبادت کے تین درجات

دھرم کا مطلب کیا ہے؟ دھرم ایک احتیاطی طریقہ ہے جس کا فائدہ اگلی زندگی اور اس سے ماورا بھی ہوتا ہے۔ اس زندگی کی بہتری کے لئے آپ جو بھی کوشش کرتے ہیں – اچھی غذا اور مشروبات ملیں، رہنے کے لئے اچھا مکان ہو – ایسی کوئی چیز احتیاطی تدبیر(دھرم) نہیں سمجھی جائے گی۔ یہ روحانی طریقے نہیں ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ وقفۂ حیات اچھا گذرے، اور اس کیلئے ایک لاکھ ڈچ گِلڈر کا طلائی نذرانہ کسی سرکاری افسر کو دیں تو وہ احتیاطی اقدام تصور نہیں ہوگا۔ جس طرح آپ سوچ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر آپ ایک لاکھ طلائی گِلڈر دیں تو آپ کو اس کے عوض دس لاکھ ملیں گے۔ یہ کاروباری دھندا ہے، روحانی عبادت نہیں۔ اگر آپ ایک چھوٹا سا کام کریں، جیسے کسی جانور کو روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دیں؛ اِس نیت کے ساتھ کہ اگلے وقفۂ حیات میں آپ کیلئے وہ خوشی لائے گا، تو وہ ایک احتیاطی اقدام ہے؛ روحانی عبادت ہے۔

اگلی زندگیوں اور ان سے ماورا کی بہبودی کے لئے احتیاطی اقدامات کی مختلف سطحیں ہیں۔ اگر آپ اگلی زندگیوں میں خود خوش ہونے کے لئے احتیاطی قدم اٹھارہے ہیں تو وہ سادہ من کی ہِنایانہ عبادت ہے۔ اگر آپ اگلی زندگیوں میں سب کو خوشی پہنچانے کے لئے احتیاطی قدم اٹھارہے ہیں تو وہ ایک وسیع من کی مہایانہ عبادت ہے۔ سب سے بہتر راہ، اس لئے، یہ ہے کہ محدود لوگوں اور ذی شعور لوگوں ، سب کی بھلائی و بہتری کے لئے یکساں کام کرنے کی ہمیشہ کوشش کریں۔

ہر فرد کا ایک مختلف تصور ہے کہ کیسے خوش ہوں، اور ہر ایک کے نزدیک اس خوشی کو حاصل کرنے کا ایک مختلف طریقہ ہے۔ اسی طرح، اگلی زندگیوں کی تلاش کے لئے بھی عبادات کے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے، یہ ضروری ہے کہ عبادت کا وہ راستہ اختیار کیا جائے جس میں آپ سب کا بھلا چاہتے ہوں – کسی استثنا کے بغیر تمام محدود لوگوں کے لئے۔ آپ کا کم ترین محرک وہ ہو جس میں آپ یہ نہ چاہیں کہ اگلی زندگیوں میں آپ کا پنرجنم کسی نچلے درجہ کا ہو۔ اس کے لئے، آپ دس تخریبی افعال – دس قبیح کام – ترک کرنے کی عبادات سیکھتے ہیں۔ جو کوئی دھرم کی تعلیم دے رہا ہو، وہ یہ سمجھانے سے شروع کرتا ہے کہ بدتر پنرجنم سے بچنے کے لئے کس طرح تخریبی افعال سے پرہیز کیا جائے۔

کئی طرح کی روحانی رسومات اور مذاہب ہیں، اور ان سب کا مقصد مسرت کا حصول ہے؛ مسائل، مشکلات یا غموں کا کم یا خاتمہ کرنا ہے۔ بدھ مت میں، تین بڑے طریقۂ کار ہیں۔ پہلا، دس تخریبی افعال سے پرہیز تاکہ بدتر پنرجنم سے بچ سکیں۔ دوسرا، تین غیرمعمولی تربیتی امور پر عمل پیرا ہونا تاکہ مسائل کی بے قابو تکرار سے محفوظ رہ سکیں – سمسار۔ تیسرا طریقۂ کار، روشن ضمیری پانے کے وہ تمام اعمال ہیں جن سے ہر ایک کا بھلا کیا جاسکے۔ اعمال کے یہ تین درجات ہیں۔

مسرت کا حصول

جب میں دھرم پڑھاتا ہوں، میری خواہش ہوتی ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے مختلف طریقے آپ کو بتا سکوں۔ میں اس ارادہ کے ساتھ نہیں پڑھاتا کہ گیلوگپا دھرم پڑھا کر ہر ایک کو گیلوگپا بنادوں۔ میں اس خیال سے بھی نہیں پڑھاتا کہ ہر ایک کو بدھ متی بننا ہے۔ جو میں آپ کو سمجھانا یا کہنا چاہتا ہوں، چونکہ آپ غمگین نہیں رہنا چاہتے، وہ یہ ہے کہ آپ کے سارے مسائل اور پریشانیاں منفیانہ طرزِ عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ جب آپ منفیانہ طرزِ عمل سے باز آجائیں تو آپ کے مسائل اور پریشانیاں باقی نہیں رہیں گے۔ اگر آپ بامسرت رہنا چاہتے ہیں، چونکہ مسرت مثبت عمل کا نتیجہ ہے، آپ کو مثبت عمل کرنا ہوگا۔ یہی میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں۔ اس بات میں سب یکساں ہیں کہ سبھی خوشی چاہتے ہیں، کوئی غمزدہ ہونا نہیں چاہتا اور نہ مسائل دیکھنا چاہتا ہے۔ ہر ایک عظیم ترین ممکنہ مسرت پانا چاہتا ہے، جو تا ابد قائم رہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مسرت دیرپا ہو، وہ جاری و ساری رہے ، اور یہ بات کہ عظیم ترین ممکنہ مسرت حاصل ہو، وہ تبھی ملے گی جب مہاتما بدھ کے عالَمِ روشن ضمیری کے مقامِ عالی کو پہنچ جائیں۔ اس عالَم کو پہنچنے کا مطلب ہے کہ من بالکل مُصفّا ہو اور پوری طرح ترقی یافتہ ہو، اور ساری اہلیتوں کی اعلیٰ سطح مل چکی ہو۔ اور یہ بات کہ اسی وقفۂ حیات میں کیسے مکمل مُصفّا من اور کامل ترقی یافتہ مہاتما بدھ بنیں، اس کے طریقے تنتر کی تعلیمات میں سمجھائے گئے ہیں۔ یہ من کو محفوظ رکھنے کے مخفی اقدامات ہیں۔ یہ سوال کہ کس قسم کا آدمی اس طرح کے کام واقعی کرسکتا ہے، ہم سب میں یہ صفت موجود ہے۔ ہم میں اس انسانی زندگی کی اساس موجود ہے۔

اگرچیکہ ہم انسانی من اور جسم کی بنا رکھتے ہیں، اس کو واقعی استعمال کرکے اپنے ہی وقفۂ حیات میں روشن ضمیر بننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک قسم کی عبادت کریں جیسی عظیم میلاریپا نے کی تھی۔ چاہے کچھ مشکلات درپیش ہوں، دل کی گہرائیوں کے ساتھ انہوں نے روشن ضمیر بننے کے لئے اپنی ساری توانائیاں لگادی تھیں۔ ہم چونکہ اپنی ذمہ داری نباہنے کے لئے پوری طرح راضی نہیں، اور ایسی سخت تکالیف اٹھانے کے لئے تیار نہیں، اس لئے ہم اپنی زندگی میں مُصفّا من اور ترقی یافتہ نہیں بن پاتے۔ اگر ہم میلاریپا کی مثال پر غور کریں، اس سے پہلے کہ انہیں کچھ ہدایات اور تعلیمات دی جائیں، انہیں سخت تکالیف اٹھانی پڑی تھیں اور بڑی مشقت سہنی پڑی تھی۔ بعد ازیں، تنتر کی پیروی کی بنا پر، وہ اپنے ہی عرصۂ حیات میں اپنی مکمل اہلیت کو پہنچ پائے تھے اور مہاتما بدھ کے مقام کو پہنچ پائے تھے۔ آپ سب بڑے خوش قسمت ہیں کہ تقدس مآب، ایک مکمل روشن ضمیر ہستی، یہاں مغرب میں تشریف لائے ہیں۔ ان سے آپ نے بیعت لی ہے، بلکہ آپ خوش قسمتی سے اس قابل ہوۓ ہیں کہ ان کے ہاتھوں بیعت مل سکی۔ اس خوش قسمتی سے یہ ظاہر ہوا کہ آپ اس کے مظہر بن سکے۔

موت اور ناپائیداری سے چوکنّا ہونا

اگر آپ پوچھیں کہ کہاں سے دھرم کی عبادات واقعی شروع کریں تو پہلا نکتہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس عرصۂ حیات کے معاملات میں پوری طرح الجھاۓ رکھنے کا دھوکا نہ دیں۔ اگر آپ پوچھیں کہ اسی زندگی کے کاموں میں پڑکر کیوں ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتے رہے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس حقیقت سے غفلت برتتے رہے ہیں کہ ہمیں موت آنی ہے۔ ہم موت اور فنا کی طرف سے چوکنّا نہیں ہیں، یہ حقیقت ہے کہ زندگی کی کوئی کیفیت قائم و دائم نہیں رہتی۔ سب سے پہلے، موت اور ناپائیداری کے بارے میں سوچنا اور چوکنّا رہنا بہت اہم ہے۔

اگر موت آپ کو ناپسند ہے اور اس کے بارے میں آپ کچھ نہ سنیں، اور موت کو بھگاسکیں تو یہ بڑی اچھی بات ہوگی۔ لیکن آپ اسے پسند کریں یا نہیں موت تو ہر ایک کو آنی ہے۔ اور جب آ ہی جاتی ہے تو آپ کو بہت سے غم، مسائل اور دکھوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ یہ صرف وقت کی بات ہے، اور اسے روکنا ممکن نہیں۔ جب موت آ ہی جاتی ہے، تو جنہیں آپ روک سکتے ہیں وہ ہیں غم اور پریشانیاں۔ اگر آپ تعمیری اور مثبت طریقہ پر کام کرنے کی ممکنہ کوشش کرتے رہیں، اور دس منفی کاموں سے جہاں تک ممکن ہو باز رہیں، اور زندگی اسی ڈھب پر گذاریں، تب بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ آپ کو خوشی ملتی جائے گی۔ اس حال میں جب موت آئے تو آپ دکھی نہیں ہونگے اور نہ پریشان حال ہونگے۔ یہیں سے دھرم کی ساری عبادت شروع ہوتی ہے۔ مزید برآں، عبادت کے مختلف سوتر موضوعات کے،اور تنتر دیوتاؤں کی عبادت کی دائمی خطوط کے، کئی سارے مختلف طریقے ہیں۔ اگلے لیکچر میں، میں ان کے فرق کی وضاحت کروں گا۔

اگر آپ مراقبہ کرنا چاہتے ہوں، من کی کارآمد عادت ڈالنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلی چیز جو دھیان میں رکھنی ہے وہ یہ کہ پیدا ہونے بعد بالآخر مرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ پیدا ہونے کا یہ ایک فطری نتیجہ ہے۔ آپ ایک بہت ہی کارآمد من کی عادت پختہ کریں گے، اگر آپ اس حقیقت سے واقف ہوں اور اسے دھیان میں بھی رکھیں کہ ایک دن آپ موت کا سامنا کریں گے اور اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر آپ سنجیدگی سے سوچیں تو یہ بات من میں آتی ہے کہ اگر میں اپنی زندگی کا سارا وقت مختلف چیزوں کے ذخیرہ کرنے میں لگا دوں، تو موت کے وقت یہ چیزیں میرے کسی کام نہ آئیں گی۔ ان ساری چیزوں میں سے جو میں نے جمع کی ہیں، کوئی چیز اپنے ساتھ نہیں لیجا سکوں گا۔ یہی ایک من کی کیفیت کی عادت ہے جسے آپ پختہ کریں۔

ایک قیمتی انسانی زندگی

آپ ایک اچھی من کی عادت ڈالیں گے اگر آپ اس حقیقت پر مسرور ہونے کی کوشش کریں کہ آپ کو ایک قیمتی انسانی زندگی ملی ہے۔ آپ کو سوچنا چاہئے کہ یہ نتیجہ ہے اپنی پچھلی زندگیوں میں سارے مثبت کاموں کا۔ ماضی میں کئے گئے کاموں پر آپ مسرور ہوں اور خوشی منائیں جن پر آپ کو یہ قیمتی انسانی جان ملی ہے۔ اس انسانی زندگی کی بنا پر دھرم کی سارے احتیاطی تدابیرلینا ممکن ہوا، کہ جن کی وجہ سے آئندہ زندگیوں میں ہمیں خوشیاں اور اچھے حالات ملیں۔ اس عملی بنیاد پر ہم یہی کرسکتے ہیں۔

یقیناً سب سے بہترین کام ہم یہ کرسکتے ہیں کہ اپنی صلاحیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچیں اور اپنی زندگی میں من مصفا کے ساتھ مکمل ترقی یافتہ مہاتما بدھ بنیں۔ یہ ہم کرسکتے ہیں اس قیمتی زندگی کی بنیاد پر جو ہمیں عطا ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ بہت اہم ہے کہ آپ قیمتی انسانی زندگی کی قدر کرنا سیکھیں، اور ترقی کے جتنے مواقع ملے ہیں ان پر مسرور ہوں۔ آپ مراقبہ کریں، یہ سوچتے ہوئے کہ آپ کو جو زندگی عطا ہوئی ہے اس کے سبب آئندہ پنرجنم میں کسی بدتر درجہ پر گرنے سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔ اس طرح، آپ واقعتاً مسائل کی بے قابو تکرار اور سمسار کے دکھوں کا سامنا کرنے سے اپنے آپ کو بچاسکتے ہیں۔ آپ اپنی صلاحیت کے اعلیٰ مقام ،اور مہاتما بدھ کی روشن ضمیر سطح، تک پہنچ سکتے ہیں، اور ہر ایک کی مدد کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ آپ پہلے مراقبہ کرکے کوشش کرتے ہیں کہ من کی وہ کارآمد عادت پیدا کریں جس میں ان ممکنات سے آگاہ ہوں اور ان پر خوش ہوں۔

میری گفتگو آپ کے لئے سودمند ہے؟ کیا میں آپ کو کسی اور طرح سمجھاؤں؟

طالبعلم: نہیں.

اگر آپ یہ سب پہلے ہی سے جانتے ہیں، تو میں آپ کو ایک اور انداز سے سمجھا سکتا ہوں۔ لیکن اگر آپ اسی کو بھلا سمجھتے ہیں تو میں اسی طرح جاری رکھ سکتا ہوں۔ اگر آپ یہ سب جانتے بھی ہیں تب بھی یہ بہت اہم ہے کہ آپ دوبارہ ان تعلیمات کو غور سے سنیں۔ ممکن ہے آپ یہ سب جانتے ہوں، اور جب آپ پڑھنے جاتے ہیں تو آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ استاد آپ کو اب یہ سمجھا رہا ہے، وہ پھر آپ کو یہ سمجھائے گا، اور پھر وہ آپ کو یہ مثال دے گا۔ لیکن اگر یہی الفاظ ہوں تب بھی ایک شاگرد اسے کچھ اور سمجھ سکتا ہے، ان کی فہم کی سطح بدل سکتی ہے۔ جب آپ سبق سنتے ہیں، تو محض معلومات اکٹھا کرنے کے لئے نہ سنئے، بلکہ اس لئے سنئے کہ جو سنا ہے واقعی اس پر عمل بھی کرنا ہے۔ یہی اصلی بات ہے۔

موجودہ زندگی کی کامیابی کی جہد کا بے معنی پن

یہ گیشے لانگری تانگپا کی کہانی ہے۔ اپنی زندگی میں بس وہ تین بار ہنسا تھا۔ اس کے منڈل نذرانہ میں فیروزہ کا ایک بڑا ٹکڑا تھا۔ ایک دفعہ اس نے پانچ چوہے دیکھے۔ ان میں سے ایک اپنی پیٹھ پر تھا اور اس کے پیٹ پر پتھر تھا۔ بقیہ چار چوہے اسے اس طرح کھینچ رہے تھے کہ اس کی ایک ایک ٹانگ ہر ایک کے منہ میں تھی۔ جب اس نے یہ دیکھا، وہ خوب ہنسا۔ یہ کوئی بڑی کامیابی نہیں کہ محض مادّی چیزیں حاصل کرنے کے قابل ہوں۔ چوہے جیسے جاندار بھی چیزیں جمع کرنے کے قابل ہیں۔

دوسری بار جب وہ عظیم استاد ہنسا، اس نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جسے اگلے دن قتل کیا جانے والا تھا اور وہ اپنی آخری رات اپنے جوتوں کی مرمت میں مصروف تھا۔ تیسری بار اس نے چند آدمیوں کو ایک سبزہ زار میں دیکھا جو ایک چولھا بنانے کے لئے پتھر جمع کررہے تھے۔ ان میں سے ایک نے گھاس سے ڈھکی ہوئی کوئی چٹان جیسی چیز دیکھی اور اسے زمین سے کھودنا چاہا، لیکن وہ ایک جن کا سر نکلا جو زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی پانا کچھ عجب بات نہیں۔ بڑی کامیابی تو وہ شخص بننے میں ہے جسے ایسی روحانی عبادات میں دلچسپی ہو جو مستقبل کی زندگیوں اور ان سے بھی ماورا میں فائدہ پہنچائیں۔

اگر ہمیں ایسی قیمتی انسانی زندگی میسر ہو جس میں ہم اتنی دلچسپی لیں، ہمیں اس پر خوب خوش ہونا چاہئے۔ عموماً، اگر ہم بنک میں ایک لاکھ گِلڈر رکھتے ہوں، ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے۔ لیکن اس رقم سے، آپ اپنے کو پنرجنم میں ایک بدتر حالت میں پیدا ہونے سے نہیں روک سکتے، اور آپ روشن ضمیری نہیں خرید سکتے۔ اس قیمتی انسانی زندگی کی بنا پر، ہم مہاتما بدھ کی روشن ضمیر کیفیت کو پہنچ سکتے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں جو میسر ہے اس پر خوش ہونا چاہئے۔ بہترین چیز، یقیناً، یہ ہے کہ ہم عظیم میلاریپا کے نقشِ قدم پر چلیں، اِس زندگی کے بکھیڑوں کو بھول جائیں، اور اسی زندگی میں روشن ضمیر بننے کے لئے ایک نقطہ پر یکسو ہوجائیں۔ لیکن دھرم کے سبھی پیروکاروں کے لئے یہ مشکل ہے۔ اگر ہم میلاریپا کی طرح اس زندگی کی ساری چیزوں سے کنارہ کش نہ ہوسکیں، تو کم از کم یہ رجحان تو رکھیں کہ اس زندگی کی چیزوں میں زیادہ مستغرق نہ ہوں۔

مثال کے طور پر، ہم یہ نکتہ نظر اختیار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ ہماری مِلک میں جو کچھ ہے اس کے کوئی معنی نہیں ہیں، کیونکہ جب ہم مرجائیں گے تو کسی طرح وہ ہمارے پاس نہیں ہونگی۔ تو، ایک معنی میں، وہ کسی اور کی ملک ہیں۔ اگر ہم اس طرح سوچیں، تو ہم انہیں مضبوطی سے پکڑ کر نہیں رہیں گے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے، اسے ہم روحانی فرائض کے لئے استعمال کریں گے جیسے کسی ضرورت مند کو دے دینا۔

اگر آپ کا رویہ یہ ہو بھی کہ اس زندگی کے معاملات میں الجھ کر نہ رہ جائیں، اگر، ان اچھے کاموں کے نتیجہ میں جو آپ نے پچھلی زندگیوں میں کئے ہیں، آپ ان حالات میں پیدا ہوں کہ آپ کے پاس ملکیات اور مادی دولت ہو، تو آپ ان سب کو نہ رد کریں اور نہ ضائع کریں۔ دوسری انتہا یہ ہے کہ آپ اپنی ملکیت کو بھینچ کر رکھیں اور اس سے کبھی جدا نہ ہونا چاہیں۔ یہ خطرناک ہے، اس لئے کہ اگر آپ اتنے قبضہ پرست ہوں اور اپنی ملکیت کو بھینچ کر رکھیں تو آپ بھوکے بھوت کی طرح اگلے جنم میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ چند باتیں ان معنوں میں غور کرنے کے قابل ہیں کہ کیسے دھرم کی روحانی عبادات پر عمل کرتے ہیں۔

یہ بات کہ ہمیں ذاتِ اقدس دلائی لاما سے شرفِ نیاز حاصل ہوا، جو درحقیقت ایک روشن ضمیر مہاتما بدھ ہیں، اور یہ بات کہ ہمیں روحانی معاملات میں دلچسپی ہے، پچھلی زندگیوں میں بیحد مثبت اعمال کرنے کا نتیجہ ہے، جس نے خوب خوب مثبت اہلیت پیدا کی ہے۔ اس قیمتی انسانی زندگی کی بنیاد پر ہمیں بودھیچت کی طرف وقف شدہ دل پیدا کرنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی، اور مہاتما بدھ کی روشن ضمیر کیفیت کو پہنچنا ہوگا۔ ہم یہاں تک پہنچنے کے لئے اور قیمتی انسانی زندگی پانے کے لئے اپنی پچھلی زندگیوں میں اتنی مشقت سے گذرچکے ہیں، تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ آیا ہمیں یہ سب دوبارہ کرنا پڑے گا۔ جب ہم یہاں تک آ ہی چکے ہیں تو ہمیں منزل تک بھی جانا چاہئے اور بودھیچت کی طرف وقف شدہ دل پیدا کرنا اور روشن ضمیری حاصل کرنا ہی چاہئے۔ چونکہ اس زندگی کی بنیاد پر روشن ضمیری حاصل کرنا ممکن ہے، یہ اہم ہے کہ اسے ہم ضائع نہ کریں۔

اگر آپ کے پاس مٹھی برابر سونے کا ٹکڑا ہو، آپ اسے یونہی نہیں پھینک دیں گے۔ اگر آپ اس سونے کے ٹکڑے کو دریا میں پھینک دیں اور دعا کریں کہ ایک اور ایسا ہی آپ کو ملے تو ایسی دعا کا قبول ہونا مشکل ہی ہے۔ اس عرصۂ حیات میں روحانی اعمال نہ کرنا، زندگی کو ضائع کرنا، اور دعا کرنا کہ مستقبل میں ایک اور قیمتی زندگی ملے، بھی ایسی ہی بات ہے۔ اگر آپ پوچھیں "کیا کیا مختلف احتیاطی تدابیر ہیں جو میں واقعی لے سکتا ہوں؟"، تو کئی کام کئے جاسکتے ہیں۔ آئیے ان میں سے کچھ میں آپ کو بتاتا چلوں۔

دوسروں کی زندگی لینے سے پرہیز کرنا

پہلی چیز افعالِ بدنی سے متعلق ہے۔ کسی مخلوق کی جان مت لیجئے۔ دراصل کسی کی جان لینے کی خاطر چار چیزیں مکمل ہونی چاہئیں۔ جان لینے کا مفعول، جیسے ایک بھیڑ۔ نیت یا خیال، جسمیں ترغیب اور ارادہ شامل ہیں۔ تین وجوہات سے آپ قتل کرتے ہیں: خواہش، غصہ یا نفرت، یا جہالت۔ خواہش کی بنا پر قتل کرنے کی مثال یہ ہے کہ آپ کسی جانور کو گوشت کی خاطر ذبح کریں۔ آپ کسی پر غضبناک ہوتے اور اس سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ جاکر اسے قتل کردیتے ہیں۔ بھولپن اور تنگ نظر جہالت کی وجہ سے قتل یہ ہے کہ آپ کو کچھ بہتر سمجھ میں نہیں آتا۔ ایسے کئی لوگ ہیں جو جانور کی قربانی دیتے ہیں کہ کسی دیوتا کو خون کا نذرانہ پیش کریں۔ اسی طرح کچھ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی بیماری لاحق ہے اور وہ کسی جانور کی قربانی دیں تو ان کی بیماری دور ہوجائے گی۔ جہاں تک ارادہ کا تعلق ہے، اگر آپ ایک بھیڑ مارنا چاہتے ہیں اور وہاں دو جانور موجود ہیں، ایک بکری اور ایک بھیڑ، اس کے تکملہ کے لئے آپ صرف بھیڑ کو مارتے ہیں، بکری کو نہیں۔

جہاں تک قتل کے فعل کا تعلق ہے، کچھ لوگ جانوروں کو گلا گھونٹ کر مارتے ہیں، یا ان کے منہ اور ناک کو ڈھانک دیتے ہیں کہ وہ سانس نہ لے سکیں۔ دوسرے ہاتھ اندر ڈال کر اندرونی اعضا باہر کھینچ نکالتے ہیں۔ کچھ اور ہیں جو جانور کا گلا کاٹتے ہیں۔ بھیڑ کی جان لینے کے عمل کی تکمیل کے لئے، اس کی جان جانی چاہئے؛ اس کی زندگی ختم ہونی چاہئے۔

نتائج کی چار قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کا نتیجہ، نمویافتہ نتیجہ ہے۔ قتل کا نمو یافتہ نتیجہ یہ ہے کہ پنرجنم ایک جہنمی ہستی کی صورت میں ہو، یا بھوت کی شکل میں، یا جانور کے طور۔ جب پنرجنم کا خاتمہ ہوجائے اور آپ انسان کے روپ میں دوبارہ جنم لیں، تب بھی پچھلے عمل کا نتیجہ ختم نہیں ہوتا۔ اس کے مزید نتائج نکلتے ہیں جو ہمارے تجربہ میں اپنی علت کے مماثل ہوتے ہیں۔ کسی اور کی زندگی مختصر کرنے یا ختم کرنے کے نتیجہ میں، خود آپ کی زندگی مختصر ہوجاۓ گی اور بیماری سے بھری ہوگی۔ اس کے سبب ایسا ہی ایک اور نتیجہ جِبِلّی رویہ ہوتا ہے۔ مارنے کے نتیجہ میں، جب آپ انسان کے روپ میں دوبارہ پیدا ہوتے ہیں، بچپن ہی سے آپ ایک بڑے ایذا پسند انسان ہونگے جسے کسی جاندار مخلوق کو مارنے میں مزا آتا ہے۔ پھر ایک حاوی نتیجہ ہوتا ہے، جس میں ایک بڑے علاقہ یا ایک بڑے انسانی گروہ کا قتل شامل ہوتا ہے۔ جس علاقہ میں آپ پیدا ہوتے ہیں وہاں زندگی سنبھالے رکھنے کے آثار کم ہوتے ہیں۔ غذا بڑی خراب اور کمزور ہوتی ہے، دوائیں مؤثّر اور طاقتور نہیں ہوتیں، وغیرہ۔

اگر آپ قتل کے یہ سب نقصانات اور کمزوریاں دیکھتے ہیں، اور نتیجتاً آپ جان نہ لینے کا ارادہ کریں، قتل سے باز رہیں، تو وہ ایک تعمیری اقدام ہوگا۔ تعمیری مثبت عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ایک انسان یا دیوتا کی شکل میں دوبارہ پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کے تجربہ میں علت کے مطابق نتیجہ یہ ہے کہ انسانی روپ میں پیدا ہونے سے خود آپ کی عمر طویل ہوتی ہے، صحت بہتر ہوتی ہے، بیماریوں سے آزاد ہوتی ہے۔ چونکہ ہر شخص لمبی عمر چاہتا ہے، بیمار نہیں ہونا چاہتا، کسی کو کم عمری میں یا بیماری میں مرنا پسند نہیں، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کی جان لینے سے ہمیشہ باز رہے۔ اس عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ننھے بچپن ہی سے قتل کرنے سے وحشت ہوگی۔ آپ کبھی جان نہیں لیں گے، اور محض گوشت کھانے کے خیال سے ہی کراہت ہوگی۔ بڑے نتائج یہ ہونگے کہ جس علاقہ میں آپ پیدا ہوئے وہاں پیداوار غذائیت سے بھرپور، دوائیں طاقتور اور مؤثر ہونگی۔ اگر، جان لینے سے ایک بار گریز کرنے سے، اس طرح مثبت اثرات ہوتے ہوں، تو اگر آپ یہ مصمم عزم کرلیں کہ کبھی کسی کی دوبارہ جان نہیں لینگے تو اس کے مسلسل فوائد حاصل ہوتے رہیں گے، چاہے آپ سوتے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک ہمیشہ جاری تعمیری عمل ہوگا۔

مہاتما بدھ شاکیہمُنی کے کئی عظیم شاگرد ہوئے ہیں – تعلیمات کے عظیم مقلدین، شراواک – ہر ایک کا ایک امتیازی میدان تھا۔ چند کا امتیاز معجزاتی طاقت تھا، دوسروں کا حکمت، وغیرہ۔ ایک بہت پہنچا ہوا آریہ کاتیایانا تھا جسے غیر مہذب سرحدی علاقوں کے لوگوں کے منوں کو رام کرنے کا فن آتا تھا۔ ایک دفعہ جب کاتیایانا بھیک مانگنے نکلا ہوا تھا، وہ ایک قصائی کے گھر پہنچا۔ اس نے جانوروں کو ذبح کرنے کی ساری کمزوریاں اور نقصانات اسے سمجھائے تو قصائی نے جواب دیا " میں دن میں جانوروں کو ذبح کرنا بند کرنے کا وعدہ تو نہیں کرسکتا، ہاں البتہ رات میں کبھی انہیں ذبح نہیں کروں گا۔" اور اس نے ایسا ہی کیا۔

اس کے کچھ عرصہ بعد، ایک اور پہنچا ہوا شخص سنگھا رکشت نامی تھا۔ ان دنوں، بہت لوگ سمندر کو خزانے کی تلاش میں جایا کرتے تھے۔ ان کے پاس بڑے جہاز نہیں ہوتے تھے جیسے آجکل میسّر ہیں۔ بس بادبانی کشتیاں تھیں۔ ایک رسم تھی کہ کشتی پر کسی روحانی رہنما کو ایک مرشد کے طور پر مدعو کیا جاتا تھا۔ چنانچہ سنگھا رکشت کو دعوت دی گئی۔ وہ اپنا راستہ بھٹک گئے اور کسی دور اجنبی سرزمین پر پہنچ گئے۔ سنگھا رکشت باہر نکلا اور ایک خوبصورت گھر پہنچا۔ رات میں، ہر چیز خوبصورت لگتی تھی۔ کھانے پینے کا افراط سے سامان تھا، اور سب کچھ بہت پُرآسائش تھا۔ مکان کے مالک نے کہا "براہِ مہربانی یہاں صبح پو پھٹنے تک نہ ٹھہرئیے۔" اس نے بتایا کہ صبح سورج نکلتے ہی جانور آجائینگے ہیں۔ وہ اس پر حملہ کرتے ہیں۔ کچھ کاٹتے ہیں، کچھ لات مارتے ہیں، اور کچھ سینگ مار مار کر اسے زخمی کرتے ہیں۔ بہت بری حالت ہوتی ہے۔ لیکن رات میں، سورج ڈوبتے ہی سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔ "تو از راہِ کرم، جب سورج نکلے تو آپ چلے جائیں، لیکن جیسے ہی اندھیرا شروع ہو آپ دوبارہ واپس آجائیں۔"

بعد میں، سنگھا رکشت واپس ہوا اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا وہ سب مہاتما بدھ شاکیہمُنی کو ملاقات پر بتایا۔ مہاتما بدھ نے سمجھایا کہ مکان میں رہنے والا شخص اس قصائی کا پنرجنم تھا جس نے قسم کھائی تھی کہ وہ رات میں جانور ذبح نہیں کرے گا، لیکن اس نے دن میں ذبح کرنا جاری رکھا تھا۔ رات میں ذبح نہ کرنے کی وجہ سے ہر چیز رات میں تو پیاری تھی۔ لیکن چونکہ اس نے دن میں ذبح کرنا جاری رکھا تھا، جانور دن میں اس پر ہمیشہ حملہ آور ہوتے تھے۔

جس کی جان لیتے ہیں اس کے معاملہ میں، مخلوق کی جسامت کے مطابق، منفی اہلیت کے پیدا ہونے میں کافی فرق ہوتا ہے۔ ایک کیڑے کی جان لینے کے مقابلہ میں ایک انسان کی جان لینا بہت خراب ہے۔ اگر آپ ایک ارہت کی جان لیں، جو ایک بالکل آزاد ہستی ہے، یا آپ اپنی ماں یا اپنے باپ کا قتل کریں تو وہ ایک وحشیانہ جرم ہوگا اور ایک بھیانک قتل ہوگا جو آپ کرسکتے ہیں۔ مثلاً، آپ ا یک ننھی منی جوں ماریں۔ اگرچیکہ یہ ایک چھوٹا غیرصحت بخش فعل ہے، اگر آپ آج اسے ماریں اور یہ اقرار نہ کریں کہ آپ نے جو کِیا ہے وہ غلط ہے اور اپنے آپ کو پاک کرنے کی کوشش نہ کریں، منفی اہلیت ابھرتی ہے، اور کل آنے تک ایسا ہوگا جیسے آپ نے دو مارے ہیں۔ اگر آپ نے ایک اور دن ڈھیل دی تو وہ ایسا ہوگا جیسے آپ نے چار مارے ہیں۔ یہ ایسے ہی بڑھتا جائے گا، ہر روز پچھلے سے دوگنا۔ اگر ایک سال تک یونہی چلتا رہا تو چھوٹی سی جوں مارنے کی یہ منفی اہلیت بہت بڑی ہوجائے گی۔

ایک کیڑے کو اپنی انگلیوں میں مسل دینا ایسے ہی ہے جیسے بے مسرت عالَم میں دوبارہ پیدا ہوئے ہوں، ایک نرک جس میں آپ کا بہت بڑا جسم ہو اور آپ دو پہاڑوں کے درمیان پِس رہے ہوں۔ یہ آپ انسانی عالَم میں بھی دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو چٹانوں اور چوٹیوں سے گرتے ہیں اور نچلی چٹانوں پر بکھر جاتے ہیں، یا وہ لوگ جن پر مکان ٹوٹ کر ان پر گرجاتے ہیں۔ یہ بھی اسی طرح کسی مخلوق کو پچھلی زندگیوں میں اجاڑ دینے کے فعل کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ سبھی ہیبتناک واقعات پو غور کریں، قتل کے بعد جو نقصانات اور کمزوریاں درپیش ہوتی ہیں، اور آپ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ کسی ذی حس کی جان نہیں لیں گے، تو یہ بہت بھلا ہوگا۔ جب آپ چل رہے ہوتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ زمین پر کئی کیڑے مکوڑے ہیں، تو آپ کو چاہئے کہ ان سے قدم بچا کر چلیں۔ اگر، جب آپ چل رہے ہیں، کچھ چھوٹے کیڑوں پرجن کے وجود سے آپ واقف نہیں اتفاقاً قدم پڑ ہی جائیں، تو وہ غیر ارادی بات ہے۔ لہٰذا یہ اسی طرح کا منفی عمل نہیں ہوگا۔

جان لینے کےنقصانات کو دیکھنا بہت اہم ہے، اور یہ عزم کرنا کہ کبھی کسی کی جان نہیں لینگے۔ اس طرح کا عزم کرنے سے آپ ایک طویل عرصہ زندگی گذارنے کے قابل ہوسکیں گے، اور صحت اچھی ہوگی، بیماریوں سے آزادی ملے گی۔ اگر آپ بودھی ستوا پر عمل کررہے ہیں، بڑی سنجیدگی کے ساتھ تو آپ کے پاس ایک بہت وسیع من اور نصب العین ہے۔ ہم مہاتما بدھ کی پچھلی زندگیوں کی مثال پر نظر ڈال سکتے ہیں جب وہ خود بودھی ستوا تھے۔

ایک دفعہ ایک کشتی پر پانچ سو مسافر تھے، جو موتیوں اور دوسری قیمتی اشیاء کے بڑے خزانے لارہے تھے۔ ان میں ایک مجرم میناگ دونگ دونگ نامی تھا۔ اس زمانے میں مہاتما بدھ ایک بہت اچھے ملاح تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ م میناگ بقیہ چار سو ننانوے مسافروں کو قتل کرنے جارہا ہے، اور ان کے خزانے لوٹ کر کشتی پر قبضہ کرنے جارہا ہے۔ مہاتما بدھ کو سارے شکار ہونے والوں پر بڑا رحم آیا کہ یہ ان کے لئے کتنا افسوسناک ہوگا۔ نہ صرف یہی بلکہ خود مجرم کے لئے کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ چار سو ننانوے افراد کے قتل سے وہ اپنے لئے اتنی منفی اہلیت پیدا کرے گا کہ اگلے جنم میں وہ بہت بری حالت میں پیدا ہوگا۔ ایک مجذوب بودھی ستوا کے طور پر مہاتما بدھ نے محسوس کیا کہ اس صورتحال میں مدد یہی ہوسکتی ہے کہ وہ خود میناگ دونگ دونگ کو قتل کردیں۔ انہوں نے خیال کیا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو چار سو ننانوے افراد اپنی جان نہیں کھوئیں گے اور اُسے منفی اہلیت پیدا کرنے سے بچاسکیں گے۔ انہوں نے سوچا "اگر میں اس ملزم کی جان لوں، تو میں خود ایک فرد کے قتل پر منفی اہلیت پیدا کروں گا، لیکن وہ ٹھیک ہے۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ خود مجھے منفی نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ لیکن بقیہ لوگوں کو تو دکھ سہنا نہیں پڑے گا۔" اس جری خیال کے ساتھ، انہوں نے میناگ دونگ دونگ کی جان لے لی۔ اگر آپ ایک بودھی ستوا ہیں، تو ان حالات میں قتل کرنا تو ضروری ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر خود آپ اس مقام پر نہیں ہیں، تو ایسے میں کسی کی جان لینا ٹھیک نہیں۔

آپ خود کسی کو قتل کریں، یا کسی اور سے یہ کام لیں، دونوں صورتوں میں آپ میں منفی اہلیت پیدا ہوگی۔ بلکہ دوسری صورت زیادہ بدتر ہے۔ یہ دوگنی منفی اہلیت پیدا کرتا ہے کیونکہ آپ دوسرے سے کام لے کر ایک منفی اہلیت تو پیدا کرتے ہی ہیں، اور دوسرا بھی یہ کام انجام دے کر ایک منفی اہلیت پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ پانچ سو سپاہیوں کی فوج کا حصہ بن کر جنگ میں جاتے ہیں، اور آپ کا یہ قوی احساس ہو کہ آپ جاکر دشمن کا صفایا کردیں گے، تو بھلے آپ نے خود کوئی قتل نہ کیا ہو، فوج جتنی جانیں لیتی ہے آپ کے حصہ میں اتنی منفی اہلیت آئے گی۔ اگر ان پانچ سو کی نفری میں سے کسی ایک نے بھی ایک ہزار افراد کی جان لی، تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسے خود آپ نے ہزار افراد کی منفی اہلیت پائی ہو۔

جب آپ سپاہیوں کے کسی گروہ میں ہوں تو ان کے درمیان ایک "بے روک معاہدہ" ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں قتل کی کھلی چھوٹ کا دانستہ فیصلہ ہوتا ہے، کہ جو بھی مقابل آئے اسے بلاجھجک تباہ کردیں۔ اس میں تو اور بھی زیادہ منفی اہلیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس طرح کا عہد لیتا ہے، تو سوتے میں بھی یہ منفی اہلیت جمع ہوتی رہتی ہے۔ دوسری طرف، اگر آپ بس نام کے ہی سپاہی ہوں، اور آپ کے دھیان میں یہ بات ہو ہی نہ کہ کبھی آپ کسی کی جان لیں گے، تو اس میں کوئی خطا نہیں۔ اگر آپ ایک سپاہی ہوں بھی، اور آپ کو یہ اقرار ہو کہ کسی کی جان لینا برا ہے، کسی کی جان لینے کا ارادہ نہ ہو، اور عزم ہو کہ ایسا نہیں کرینگے، تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ اگر کوئی ایک کثیر تعداد میں لوگوں کو قتل کرنے جارہا ہے، اور خود اسے قتل کئے بغیر اسے روکنے کی کوئی صورت نہ ہو، تو ایسی خالص نیت کے ساتھ، جیسا مہاتما بدھ کی پچھلی زندگی کی مثال میں بیان کیا گیا ہے، یہ مثبت اقدام ہوگا، گو کہ یہ فعل قتل کی منفی اہلیت پیدا کرتا ہے۔

یہ چند نکات ہیں جو قتل سے باز رکھنے کے لئے قابلِ غور ہیں۔ اگر آپ قتل نہ کرنے کا عہد کرلیں، یہ بہت مثبت اقدام ہوگا۔ کبھی کبھار، کچھ پریشان کرنے والے کیڑے ہوتے ہیں جیسے مچھر جن سے آپ کو ملیریا وغیرہ لگ سکتا ہے۔ کچھ پچکاریاں اور کیمیائی اجزاء ہیں جو انہیں مارنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان کا استعمال اس وقت کریں جب وہ گھر میں نہ ہوں اور انہیں آنے سے روکنا ہو، تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن اگران کا استعمال ایسے وقت کریں جب وہ گھر میں پہلے ہی سے موجود ہوں، تو یہ قتل کی تعریف میں آتا ہے۔ ایسے کئی نکات ہیں جن کو، قتل کے جرم سے بچنے کے لئے، دھیان میں رکھنا چاہئے۔

چوری سے باز رہنا

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ چور نہ بنیں، چوری نہ کریں۔ شۓ مذکور، کسی اور کی ملکیت ہو۔ نیت ہوس ہو یا غصہ۔ جیسا ہم نے پہلے بیان کیا ہے، آپ کسی سے کچھ چرالیں، اس لئے کہ آپ کو اس شے کی ہوس ہے، یا آپ کسی سے بہت خفا ہیں۔ سرقہ کا عمل اس وقت شمار ہوتا ہے جب جو چیز میں نے لی ہے اس کے بارے میں خیال کروں کہ وہ میری ملکیت ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ پنرجنم میں جہنمی مخلوق یا بھوکے بھوت پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آپ انسانی روپ میں پیدا ہوتے ہیں تب بھی یا تو آپ بالکل مفلس یا ایسے انسان پیدا ہوتے ہیں جس کی کوئی پونجی نہ ہو۔ یا جب کبھی آپ کے پاس کچھ موجود ہو، وہ آپ کے پاس سے ہمیشہ چرالیا جاتا ہے۔ یہ نتیجہ ہوتا ہے ان اسباب کے مطابق جن کے تجربہ سے ہم گذرتے ہیں۔ اور وہ نتائج جو جبلّی رویہ کے اسباب کے مطابق ہوتے ہیں: کچھ بچے ہوتے ہیں جو جبلی طور پر چوری کرنے جاتے ہیں، گو کہ وہ متمول گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک قابلِ شمول نتیجہ ایک مفلس علاقہ یا ملک میں پیدا ہونا ہے جہاں سب کی جیب خالی ہے۔ اس کے برخلاف، ہمیشہ چوری سے باز رہنے کا نتیجہ ایک متمول ملک میں متمول پیدا ہونا ہے۔

اس جگہ، میں عظیم گیشے پھین کونگیال کی زندگی کی مثال دے سکتا ہوں، جو پھینپو کا ایک بڑا ڈاکو تھا۔ آپ نے اس کی زندگی کی داستان سنی ہے؟ کس نے سنا ہے؟ آپ نے کس سے سنا ہے؟ اگر آپ معاف فرمائیں، جنہوں نے نہیں سنا ان کی خاطر میں آپ کو دوبارہ بتاتا ہوں۔ میں یہ تفصیل اس لئے سناتا ہوں کہ اس سے آپ کے من کو بڑی مدد ملتی ہے۔ اس سے ایک بڑے نکتہ کی وضاحت ہوتی ہے، اور یہ پریوں کی یا گھڑی ہوئی کہانی نہیں ہے۔

پھین کونگیال کے معنی ہیں "پھینپو کے ڈاکوؤں کا بادشاہ"۔ وہ ایک بدنام چور تھا۔ وہ ایک چالیس ایکڑ پر محیط گھر میں رہتا تھا جہاں وہ کاشتکاری بھی کرتا تھا۔ وہ شکار پر نکلتا، جانوروں کا شکار کرتا، اور ڈاکے ڈالتا تھا۔ ایک بار، اس کے مکان اور لہاسا کے درمیان ایک اونچی پہاڑی گھاٹی پر وہ ایک گھوڑسوار مسافر سے ملا۔ اس مسافر نے، اس بات سے بے خبر کہ وہ کس سے بات کررہا ہے، پوچھا "وہ ڈاکو پھین کونگیال کہیں آس پاس تو نہیں؟" جب پھین کونگیال نے جواب دیا "میں پھین کونگیال ہوں" تو وہ مسافر اتنا خوفزدہ ہوا کہ گھوڑے پر سے اور پہاڑ پر سے گرپڑا۔ پین کنگیَل جھنجھلایا کہ محض اس کے نام کی یہ طاقت ہے کہ اسے سنتے ہی کوئی پہاڑ سے گرپڑے، اس نے طے کیا اب آئندہ وہ کبھی ڈاکہ نہیں ڈالے گا۔

اس کے بعد، وہ دھرم کی پیروی کرنے لگا۔ وہ دس تخریبی کاموں سے بچنے کی کوشش کرنے لگا، اور ہمیشہ دس تعمیری کاموں کے انجام دینے کی کوشش کرنے لگا۔ ہر بار جب وہ کوئی تعمیری کام کرتا، وہ ایک چٹان پر ایک سفید لکیر کھینچتا۔ اور جب وہ کوئی برا کام کرتا، تو ایک کالی لکیر کھینچتا۔ شروع شروع میں سفید لکیریں کم ہوتیں اور کالی لکیریں بہت زیادہ۔ لیکن آخر میں کالی لکیریں کم، اور سفید لکیریں زیادہ ہونے لگیں۔ رات میں، اگر کالی لکیریں زیادہ ہوتیں تو وہ اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ میں لے کر کہتا، "اے پھینپو کے ڈاکوؤں کے بادشاہ! تم بڑے برے آدمی ہو! ماضی میں تم اتنے برے چور تھے اور اب بھی اتنے ہی برے آدمی ہو!" وہ اپنے آپ کو خوب جھڑکتا۔ اگر دن کے اخیر میں سفید لکیریں زیادہ ہوتیں تو وہ اپنا بایاں ہاتھ داہنے میں لیتا، مصافحہ کرتا، اور اپنے کو مبارکباد دیتا۔ وہ اپنے آپ کواپنے دھرم نام سے پکارتا - تسولٹرم گیالوا (اخلاقی ضبطِ نفس سے فتح پانے والا) اور کہتا، "اب تم واقعی اچھے آدمی بنتے جارہے ہو"، اور اپنے کو خوب مبارکباد دیتا۔

بالآخر، دھرم کے پیرو کے طور پر اس کی بڑی شہرت ہوئی۔ ایک بار، ایک میزبان نے اسے گھر کھانے کی دعوت دی۔ جب وہ خاتون باہر گئی، تو چونکہ اس کو چوری کی بڑی شدید عادت پڑگئی تھی، اس نے ایک ٹوکری میں ہاتھ ڈالا، جہاں وہ خاتون چائے رکھتی تھی، اور اٹھانے لگا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا، ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑا اور چلایا "اے اماں، جلدی آؤ، میں نے ایک چور پکڑا ہے!"

دوسری بار اسے دھرم کے دوسرے پیروؤں کے ساتھ کسی کے گھر مدعو کیا گیا جہاں ان سب کی دہی سے ضیافت کی جارہی تھی۔ وہ پیچھے بیٹھا تاک رہا تھا کہ میزبان اگلی صفوں میں بیٹھے لوگوں کو دہی کی بڑی مقدار سے ضیافت کررہے ہیں۔ وہ پریشان ہونے لگا اور جھنجھلایا کہ اس طرح تو اس تک پہنچتے پہنچتے کچھ نہیں بچے گا۔ وہ منفی خیالات کے ساتھ دہی کی ضیافت دیکھتا رہا۔ جب میزبان اس تک پہنچا، اس نے سوچا کہ اس کا من کتنا برا ہے، اور اس نے اپنا پیالہ الٹا دیا اور بولا، "شکریہ، میں اپنا سارا دہی دوسروں کو دیکھ کر کھاچکا ہوں۔"

ایک اور بار، اس کا ایک مربّی اس کے پاس آنے والا تھا۔ وہ سویرے جلدی اٹھا، اپنے کمرے کو اچھی طرح صاف کیا، ایک خوبصورت گلدستہ تیار کیا، اور خوشبوئیں جلائیں۔ پھر وہ ایک جگہ بیٹھ گیا اور اس اہتمام پر دیانتداری کے ساتھ غور کیا کہ یہ سب کیوں کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ ایک خوبصورت گلدستہ بنانے کی تکلیف محض اس لئے گوارا کی کہ اپنی مربی پر نقشہ جماسکے۔ وہ باہر گیا اور ایک مٹھی بھر خاک اٹھائی، اندر واپس آیا اور سب پر خاک بکھیردی۔ اس نے کہا، "پہلے جب میں ایک چور تھا اور سخت محنت کرتا تھا، میرا منہ بہت بڑا تھا اور کھانا اتنا نہیں ملتا تھا کہ میں اسے بھرسکوں۔ اب دھرم کا پیرو ہونے کے بعد، کئی لوگ آتے اور مجھے نذرانہ پیش کرتے ہیں کہ جتنا منہ نہیں اس سے زیادہ کھانا ہوجاتا ہے۔"

اگر آپ ان تمام پہلوؤں پر نظر ڈالیں جو گیشے پھین کونگیال کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں، تو وہ آپ کو خوب سوچنے کا موقع دیتے ہیں اور دھرم کی پیروی کی راہ دکھاتے ہیں۔ آپ اپنے کو ایک منفی شخص ہونے اور تخریبی کام کرنے سے فوری روک نہیں سکتے۔ آپ تدریجاً ہی ایسا کرسکتے ہیں۔

اگر آپ اپنی بہترین قابلیت کے مطابق پیروی کریں، تو آپ ایک زیادہ مثبت اور تعمیری فرد بنیں گے۔ تب، اپنی موت کے وقت، آپ کے کوئی مسائل، دکھ، اور پریشانیاں نہیں ہونگے۔ ہر ایک کو مرنا ہے۔ اس صورتحال کا صرف آپ ہی کو سامنا کرنا نہیں ہے۔ ساری زندگی ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کے بعد اگر آپ کا انتقال ہو، تو آپ محسوس کریں گے، "میں نے جو زندگی گذاری اس پر مجھے کچھ پچھتاوا نہیں ہے۔ میں نے جو بہترین ہوسکتا تھا کیا، اور مثبت بننے کی سخت کوشش کی۔" تب آپ کچھ خراب محسوس کئے بغیر جان دے سکتے ہیں، جو بہت اچھا ہوگا۔

جنسی بے راہ روی سے پرہیز

ہم نے جسم کے دو تخریبی تقاضوں پر ابھی تک بحث کی ہے۔ تیسرا طبعی تخریبی عمل جنسی بے راہ روی ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ ایک شادی شدہ آدمی دوسری خاتون کو اپنا جنسی شریک بناۓ۔ نتیجتاً، جب آپ دوبارہ انسانی روپ میں جنم لیں گے، تو آپ کی بیوی آپ سے بیوفائی کرے گی اور آپ کے انجانے میں کئی عشق لڑائے گی۔ مزید، جب آپ کیڑوں کو دیکھتے ہیں جو غلاظت سے بھرے پاخانوں میں اور گندی جگہوں میں پیدا ہوتے ہیں، جیسے مچھر اور کیڑے، یہ زیادہ تر نتیجہ ہوتے ہیں نامناسب جنسی رویہ کا۔

بڑی باریاب ہستی کاتیایانا، ایک دفعہ کسی ایسے شخص سے ملے جو ہمیشہ جنسی بے راہ روی میں مبتلا تھا اور عشق لڑاتا تھا۔ وہ عہد کرتا تھا کہ دن میں ایسا کوئی کام نہیں کرے گا، لیکن رات میں اپنے آپ پر ضبط نہیں کرپاتا تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ دن میں ایسے کسی کام سے باز رہے گا۔ بعد میں، پہنچی ہوئی ہستی سنگھا رکشت کا ایک گھر سے گذر ہوا جس کا مکین دن میں تو بہت خوش رہتا تھا لیکن رات ہوتے ہی حالت بہت خراب اور ناقابلِ برداشت ہوجاتی تھی۔ اسے بڑے خوفناک مسائل تھے۔ سنگھا رکشت نے مہاتما بدھ سے اس بارے میں سوال کیا اور مہاتما بدھ نے سمجھایا کہ یہ نتیجہ ہے اس آدمی کے عہد کا کہ دن میں تو جنسی بے راہ روی سے باز رہے لیکن رات میں باز نہیں رہتا تھا۔

جھوٹ سے گریز

کلام کی طرف آتے ہوئے: اگر آپ جھوٹ بولیں، ایسی بات بولیں جو سچ نہ ہو، تو یہ بھی منفی اہلیت پیدا کرتا ہے۔ جھوٹ یہ کہنا ہے، مثال کے طور پر، کہ کچھ یوں ہے اور وہ یوں نہ ہو، کہ کچھ یوں نہیں ہے اور وہ یوں ہو، یا یہ کہنا کہ کسی کے پاس وہ چیز نہیں حالانکہ وہ اس کے پاس ہو۔ جھوٹ کا نتیجہ ان آدمیوں کی طرح ہوتا ہے جن کو ہم زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی جھوٹ بولتا ہے – جن کے ساتھ ہمیشہ دھوکا ہوتا ہے۔ جھوٹ سے باز رہنے کے نتیجہ میں آپ ایسے ملک میں پیدا ہوتے ہیں جہاں ہر آدمی ایماندار ہے اور آپ کو کوئی دھوکا نہیں دیتا۔ کوئی آپ سے جھوٹ نہیں بولتا۔

مہاتما بدھ کے زمانے میں ایک آدمی کئے وو سودے نامی تھا۔ کبھی جھوٹ نہ بولنے کی وجہ سے، جب کبھی وہ ہنستا اس کے منہ سے ایک موتی گرتا۔ اس کو ہنسانے کی کوشش میں ہر آدمی اسے لطیفے سناتا، لیکن وہ بہت کم ہنستا۔ ایک دن، ایک راہب بڑی شان سے راہبوں کے گیروے لباس میں اور راہبوں کا عصا پکڑے ہوئے اس علاقہ کے راجہ کے دربار میں گیا۔ راجہ اسے محل میں گھماتا پھرا۔ کئی سونے کی چیزیں بکھری پڑی تھیں، کہیں کہیں تو ڈھیر کی طرح۔ سادھو نے عصا کے نچلے حصہ میں چپکتا ہوا شہد لگادیا۔ جیسے جیسے وہ گھومتا، وہ اپنا عصا سونے کے سکوں پر رکھتا اور وہ سکے عصا میں چپک جاتے۔ جب وہ محل سے باہر نکلا، کچھ رواں دار چیز، جیسے کسی پرندہ کا پر ہو، اس کے لباس سے چپک گئی۔ اس نے سوچا کہ وہ اس پر کچھ سجتی نہیں، تو اس نے اسے لباس سے جدا کیا اور پھونک کر اڑادیا۔ کئے وو سودے نے اس اکڑو راہب کو محل سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا، کہ اس کے عصا کے نیچے سونے کے سکے چپکے ہوئے ہیں لیکن وہ معمولی رواں دار چیز لباس سے جدا کرکے پھونکوں سے اڑا رہا ہے، کیونکہ وہ اپنے ظاہر کے بارے میں فکرمند تھا۔ اور وہ ہنس پڑا۔ ایسے ہی چند مواقع ہوتے تھے جن میں سودے کھلکھلا پڑتا تھا۔

اس علاقہ کی رانی جنسی گراوٹ میں مبتلا تھی۔ وہ اس کمرے میں جاتی جہاں شاہی گھوڑوں کی دیکھ بھال کرنے والا نوکر رہتا تھا۔ ایک دن، اس نے ایک ایسی حرکت کی جسے اس نوکر نے پسند نہیں کیا، اور اس نے رانی کے منہ پر تھپڑ مارا۔ لیکن رانی نے کچھ برا نہ منایا۔ ایک اور بار، راجہ نے انگلی سے انگوٹھی نکالی اور اسے رانی کی طرف مذاقاً پھینکا۔ اسے ہلکی سی چوٹ آئی اور وہ رونے لگی۔ سودے نے یہ دیکھا تو کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اگر آپ جھوٹ سے باز رہیں، تو یہ نتیجہ ممکن ہے کہ ہر بار جب آپ ہنسیں مسکرائیں تو ایک موتی آپ کے منہ سے گرے۔ اسی طرح کے نتیجے نکلیں گے۔

تفرقہ انداز گفتگو سے پرہیز

تفرقہ انداز گفتگو کے نتائج آپ کچھ خاندانوں میں دیکھتے ہیں۔ ارکان ہمیشہ ایک دوسرے سے جھگڑتے اور بحث کرتے رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کی آپس میں نہیں نبھتی۔ یہ سب نتیجہ ہے تفرقہ انداز گفتگو کا اور ایسی بات کرنے کا جسمیں لوگ ایک دوسرے سے دور ہوجائیں۔ اسی طرح، اگر آپ ایسے علاقہ میں ہیں جہاں معاملات کھردرے اور مشکل ہیں، جہاں زمین ناہموار اور خطہ مشکل ہے، تو یہ بھی تفرقہ انداز لہجہ کا نتیجہ ہے۔ تفرقہ انداز گفتگو سے پرہیز کرنے کے نتیجہ میں آپ کا دوسرا جنم ایسی جگہ ہوگا جو مسطح، ہموار اور خوبصورت ہوگی اور سب سے آپ کے تعلقات بہت خوشگوار ہوں گے۔