ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تبتی بدھ مت کی بنیادی تعلیمات > دوسرا درجہ: لمرم (مرحلہ وار) سامان تربیت > اپنے اور دوسروں کے متعلق اپنے رویہ میں توازن اور تبادلہ قائم کرنا

اپنے اور دوسروں کے متعلق اپنے رویہ میں توازن اور تبادلہ قائم کرنا

تسنژاب سرکونگ رنپوچے ۱
مترجم الیگزینڈر برزن
دھرم شالا، ہندوستان، ۴ جون ۱۹۸۳

بودھی چت استوار کرنے کے دو طریقے ہیں، یعنی ایک ایسا دل جو مکمل طور پر دوسروں کی خدمت کے لئے وقف ہو اور جس کا مقصد روشن ضمیری حاصل کرنا ہو تا کہ انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکے – ہفت جزئی علت و معلول کا طریقہ اور ہمارے رویہ کو اپنے اور دوسروں کے ساتھ متوازن اور متبادل کرنے کا طریقہ۔ ان میں سے ہر ایک مختلف اور واضح انداز میں پہلے ہی سے بطور ایک تمہید باندھنے کے طمانیت پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ دونوں کا نام تو ایک ہی ہے، یعنی طمانیت، مگر طمانیت کی دونوں قسموں میں فرق ہے۔

۱۔ وہ طمانیت جو ہفت جزئی علت و معلول مراقبے سے ہمارے سب کو اپنی مائیں تصور کر لینے سے قبل آتی ہے اُس میں دوست، دشمن اور اجنبی سبھی شامل ہیں، اور یہ وہ طمانیت ہے جس کی بدولت ہم تعلق اور کراہت کے جذبات سے عاری ہو جاتے ہیں۔ اس کا در حقیقت ایک نام یہ ہے "محض ایسی طمانیت جس کے ذریعہ ہم دوستوں، دشمنوں اور اجنبی لوگوں کے لئے تعلق اور کراہت کو ختم کر دیتے ہیں"۔ لفظ 'محض' کا استعمال اس بات کی ایمائیت ہے کہ ایک دوسرا طریقہ بھی ہے جس میں مزید کچھ شامل ہے۔

اس قسم کی طمانیت کا ایک اور نام یہ ہے "محض ایسی طمانیت جو کہ شراوک اور پراتی کبودھا کے ساتھ مل کر طمانیت پیدا کرتی ہے۔" شراوک (سامعین) اور پرتیک-بدھ (خود ارتقائی لوگ) مہاتما بدھ کی ہینیان (منکسر گاڑی) تعلیمات پر چلنے والے دو قسم کے لوگ ہیں۔ یہاں 'محض' سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کی طمانیت میں کسی بودھی چت والے وقف شدہ دل کا کوئی عمل دخل یا معاملہ نہیں۔

۲۔ ہم اپنے رویہ کو اپنے اور دوسروں کے ساتھ معاملہ میں متوازن اور متبادل کرنے کی خاطر جو طمانیت بطور تمہید استوار کرتے ہیں وہ محض اوپر بیان شدہ قسم کی طمانیت نہیں۔ یہ ایسی طمانیت ہے جو محدود لوگوں کی مدد کرنے، انہیں فائدہ پہنچانے اور ان کی مشکلات دور کرنے میں ہمارے فکر و عمل میں کسی قسم کی قربت یا دوری کے احساس سے مبرّا ہے۔ یہ طمانیت پیدا کرنے کا ایک خصوصی امتیازی، غیر معمولی مہایان(وسیع گاڑی) طریقہ ہے۔

خالص طمانیت

اگر ہم یہ سوال کریں کہ ہفت جزئی علت و معلول پر مبنی مراقبے کے ذریعہ سب کو اپنی مائں تصور کرنے سے قبل جو طمانیت آتی ہے اسے استوار کرنے کا طریق کار کیا ہے، تو اس میں یہ مراحل شامل ہیں۔

تین انسانوں کا تصور

اولاً، ہم تین لوگوں کو تصور میں لاتے ہیں: ایک بیحد فضول اور ناروا شخص جو ہمیں نا پسند ہے یا جسے ہم اپنا دشمن جانتے ہیں، ایک نہائت عزیز ہستی یا کوئی دوست، اور ایک اجنبی جس کے لئے ہمارے ایسے کوئی جذبات نہیں۔ ہم تینوں کو یکجا تصور کرتے ہیں۔

بعد ازآں جب ہم ان میں سے ہر ایک پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو کس قسم کا احساس پیدا ہوتا ہے؟ جو شخص ہمیں ناپسند ہے اس کے لئے ناخوشگواری، بے چینی اور کراہت کا احساس ہوتا ہے۔ ہمارے عزیز دوست کے لئے کشش اور چاہت پیدا ہوتی ہے۔ اور اجنبی کے لئے لاتعلقی، نہ مدد کرنے کی خواہش اور نہ ہی نقصان پہنچانے کی احتیاج ہوتی ہے، کیونکہ اجنبی نہ تو پرکشش ہے اور نہ ہی قابل نفرت ۔

کسی ناپسندیدہ شخص کے متعلق نفرت کا انسداد

[انگریزی میں بات کی سہولت کی خاطر ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ یہ تینوں انسان عورتیں ہیں۔]

پہلے ہم اس شخص سے معاملہ کریں گے جو ہمیں ناپسند ہے، وہ جسے ہم دشمن بھی مان سکتے ہیں۔

۱۔ ہم اس کے بارے میں ناپسندیدگی اور کراہت کے احساس کو ابھرنے دیتے ہیں۔ جب یہ (احساس) پوری طرح اجاگر ہو جاۓ،

۲۔ تو ایک اور احساس پیدا ہوتا ہے، مثلاً، کیا ہی خوب ہو اگر اس کے ساتھ کوئی برا واقعہ پیش آۓ، یا اس کی مرضی کے خلاف کچھ ہو۔

۳۔ پھر ہم ان برے خیالات اور خواہشات کے اسباب پر غور کرتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ عام طور پر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے ہمیں دکھ دیا، یا ہمارے دوستوں سے یا ہم سے کچھ برا کہا یا کیا۔ اس لئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس کے ساتھ بھی کچھ برا ہو یا اس کی کوئی خواہش پوری نہ ہو۔

۴۔ اب ہم اس خاتون سے جو ہمیں ناپسند ہے کچھ برا پیش آنے کی خواہش کی وجہ پر غور کرتے ہیں، اور اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی یہ کوئی معقول وجہ ہے۔ ہم ان امور پر غور کرتے ہیں:

  • گذشتہ زندگیوں کے دوران یہ نام نہاد دشمن کئی بار میری ماں اور باپ، دوست اور رشتہ دار رہ چکی ہے۔ اس نے بیشمار بار میری مدد کی ہے۔

  • اس زندگی کے متعلق وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہو گا۔ ہو سکتا ہے مستقبل میں وہ میری اچھی دوست اور مددگار بن جاۓ۔ ایسا ہونا عین ممکن ہے۔

  • بہرحال اس کے اور میرے لاتعداد پنر جنم ہوں گے اور یہ امر یقینی ہے کہ کسی نہ کسی وقت وہ میری ماں یا باپ کا کردار ادا کرے گی۔ یوں وہ میری بہت مدد کرے گی اور میں اپنی ساری امیدیں اس سے وابستہ کروں گا۔ چونکہ ماضی، حال اور مستقبل میں اس کے میرے اوپر ان گنت احسانات ہیں، تو وہ بہرحال ایک اچھی دوست ہے۔ یہ بات طے ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر، اگر اس وقفہ حیات میں اس نے مجھے تھوڑی سی تکلیف پہنچائی بھی تو میں اسے اپنا دشمن سمجھوں اور اس کا برا چاہوں، تو اس سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

۵۔ ہم کچھ مثالیں لیتے ہیں۔ فرض کرو کہ کوئی بنک کا افسر یا کوئی رئیس انسان جو مجھے بہت سی دولت دینے کا اختیار اور خواہش رکھتا ہے، اور ماضی میں اس نے ایسا کچھ کیا بھی ہے، ایک روزغصہ میں آ کر میرے منہ پر ایک طمانچہ رسید کرے۔ اگر میں بھی غصہ میں آجاؤں اور اپنا غصہ نہ تھوکوں، تو ہو سکتا ہے وہ مجھے مزید پیسہ دینے کا ارادہ بدل دے۔ بلکہ اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ وہ یہ پیسہ کسی اور کو دینے کا فیصلہ کر لے۔ اس کے بالمقابل، اگر میں تھپڑ کو برداشت کر لوں، اپنی نظریں نیچی اور منہ بند رکھوں، تو ہو سکتا ہے وہ وقت گذر جانے کے بعد میرے غصہ کو قابو میں رکھنے پر مجھ سے مزید پسندیدگی کا اظہار کرے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اس سے بھی زیادہ رقم دینے کو تیار ہو جو اس نے پہلے سوچا تھا۔ البتہ اگر میں غصہ میں آ کر تماشا کھڑا کر دوں، تو اسے تبتی زبان میں کہتے ہیں،"تمہارے منہ میں کھانا ہے اور تمہاری زبان اسے باہر نکال پھینکتی ہے۔"

۶۔ لہٰذا یہ انسان جسے میں ناپسند کرتا ہوں، مجھے اس کے ساتھ اپنے دیرپا تعلق کو مد نظر رکھنا ہے۔ اور باقی تمام محدود لوگوں کے ساتھ بھی۔ ان کا مستقبل میں کبھی نہ کبھی میری مدد کو آنا سوفیصد یقینی ہے۔ پس میرا کسی کے مجھے معمولی نقصان پہنچانے پر ناراض ہونا نہائت نامعقول امر ہے۔

۷۔ اب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کوئی بچھو، جنگلی جانور یا کوئی بھوت ہمارے معمولی سے چھیڑنے پرکیوں فوراً جوابی حملہ کرتا ہے۔ پھر اپنے اوپر غور کرنے سے ہم دیکھتے ہیں کہ ان جانوروں والا رویہ اختیار کرنا کس قدر نا مناسب ہے۔ ایسا سوچنے سے ہمارا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ہمیں یوں سوچنا ہے کہ خواہ یہ شخص مجھے کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچاۓ، میں غصہ میں نہیں آؤں گا، وگرنہ مجھ میں اور ایک وحشی جانور یا بچھو میں کوئی فرق نہیں۔

۸۔ آخر میں ہم ان سب باتوں کو منطق استخراجی کی شکل میں یکجا کرتے ہیں۔ میں لوگوں سے اس بات پر ناراض نہیں ہوں گا کہ انہوں نے مجھے کچھ نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ

  • گذشتہ زندگیوں میں وہ میرے والدین رہ چکے ہیں؛

  • اس وقفہ حیات میں عین ممکن ہے کہ وہ میرے عزیز دوست بن جائں؛

  • آئیندہ زندگیوں میں وہ کبھی نہ کبھی میرے والدین ہوں گے اور میرے مددگار، لہٰذا وہ تین بار میرے معاون و مددگار ہیں؛ اور اگر میں جواباً غصہ کا اظہار کروں تو میں کسی وحشی جانور سے بہتر نہیں۔ لہٰذا میں ان کے مجھے اس زندگی میں معمولی نقصان پہنچانے پر ناراض نہیں ہوں گا۔

کسی پسندیدہ شخص سے لاتعلقی

۱۔ اب ہم اپنے دوست، دشمن اور اجنبی کے گروپ میں سے، جن کا ہم نے شروع میں تصور کیا تھا، دوست یا عزیز پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

۲۔ ہم اپنے کشش اور تعلق کے جذبات کو اس کے لئے بڑھنے دیتے ہیں۔

۳۔ ہم اپنی ان سے قربت کی خواہش کو مزید پروان چڑھاتے ہوۓ،

۴۔ اس قربت اور تعلق کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس نے اس وقفہ حیات میں میری کچھ مدد کی ہو، میرے اوپر کچھ التفات کیا، مجھے اچھا محسوس کرایا، یا ایسی ہی کوئی اور بات، تو اس لئے میں اسے پرکشش پاتا ہوں اور اس سے تعلق رکھتا ہوں۔

۵۔ اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہ اس احساس کی معقول بنیاد ہے۔ یہ کوئی معقول سبب نہیں کیونکہ

  • گذشتہ زندگیوں کے دوران بیشک وہ میری دشمن رہی ہے، اس نے مجھے دکھ دیا ہے، حتیٰ کہ اس نے میرا گوشت کھایا اور میرا خون پیا ہے۔

  • اس زندگی میں اس کے میرا دشمن بننے کا امکان پایا جاتا ہے۔

  • یہ بات پکی ہے کہ آئیندہ زندگیوں میں وہ مجھے نقصان پہنچاۓ گی، یا کسی موقع پر مجھ سے کچھ بہت برا کرے گی۔

۶۔ اگر اس کی اس زندگی میں کسی معمولی کرم فرمائی پر میں اس پر فریفتہ ہو جاتا ہوں، تو میں ان مردوں سے ذرہ برابر بھی بہتر نہیں جو آدم خور عورتوں کے گیت بھرے سائرن کی آواز پر کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ سائرن بظاہر بڑے دلکش نظر آتے ہیں، مردوں کو مسحور کر دیتے ہیں، اور پھر انہیں نگل جاتے ہیں۔

۷۔ یوں ہم کسی ایسے شخص سے تعلق نہ جوڑنے کا تہیہ کرتے ہیں جس نے ہمارے ساتھ اس جنم میں کوئی بھلائی کی ہو۔

کسی اجنبی سے بے پروائی سے اجتناب

تیسری بات یہ ہے کہ ہم کسی اجنبی سے، جو نہ دوست ہے نہ ہی دشمن، یہی طریق کار دوہراتے ہیں۔

۱۔ اس شخص کو تصور میں لاتے ہیں،

۲۔ اس کے بارے میں کچھ بھی محسوس نہیں کرتے، نہ مدد کی خواہش اور نہ ہی نقصان پہنچانے کا خیال؛ نہ اس سے دوری نہ اس کا قرب،

۳۔ اور اسے نظرانداز کرنے کی مزید تمنا محسوس کرتے ہیں۔

۴۔ ہم اپنے ان احساسات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ کچھ اچھا یا برا نہیں کیا، لہٰذا میں بھی اس سے لاتعلق ہوں۔

۵۔ جب ہم اس کا مزید مطالعہ کرتے ہیں کہ کیا یہ ایسا محسوس کرنے کا معقول سبب ہے، تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بہر حال وہ کوئی اجنبی انسان نہیں، کیونکہ ان گنت گذشتہ زندگیوں میں، اور اس زندگی میں بھی آگے چل کر کبھی، اور مستقبل کی زندگیوں میں وہ ہمارے قریب ہو گی، ہماری دوست ہو گی۔

اس طرح ہم دوستوں، دشمنوں اور اجنبی لوگوں سے وابستہ تمام غصہ، تعلق، یا لاتعلقی کے احساسات کو ختم کر سکیں گے۔ اور یوں ہم وہ خالص طمانیت پیدا کرتے ہیں جو شراوک اور پرتیک-بدھ کے ساتھ مشترک ہے، اور جو ہفت جزئی علت و معلولی طریقہ جو ایک بودھی چت والا وقف شدہ دل استوار کرنے کے کام آتا ہے، کی جانب ایک ابتدائی مرحلہ کا کام دیتا ہے جس سے ہم یہ جان سکیں کہ سب لوگ ہماری ماں کا کردار ادا کر چکے ہیں۔

ممتاز مہایان طمانیت

طمانیت پیدا کرنے کا وہ طریقہ جس کا تعلق ہمارے رویہ کو اپنے اور دوسروں کے ساتھ متوازن اور متبادل کرنے سے ہے، کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو اضافی یا تقابلی نقطہ نظر پر منحصر ہو،

۲۔ طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو غائرانہ نقطہ نظر پر منحصر ہو۔

وہ طریقہ جس کا انحصار اضافی نقطہ نظر پر ہے دو حصوں میں منقسم ہے:

۱۔ طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو ہمارے ذاتی نقطہ نظر پر منحصر ہو،

۲۔ طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو دوسروں کے نقطہ نظر پر منحصر ہو۔

طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو ہمارے ذاتی نقطہ نظر پر منحصر ہو

اس میں تین نکات شامل ہیں۔

۱۔ چونکہ سب محدود لوگ ان گنت زندگیوں کے دوران ہمارے ماں باپ، رشتہ دار اور دوست رہ چکے ہیں، تو ان کے بارے میں یوں سوچنا کہ چند ایک قریبی ہیں اور دوسرے نہیں، یہ دوست ہے اور وہ دشمن، بعض کو تپاک سے ملنا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا نا مناسب ہے۔ ہمیں یوں سوچنا چاہئے کہ اگر میں نے اپنی ماں کو دس منٹ، دس سال یا دس جنموں میں نہیں دیکھا، وہ پھر بھی میری ماں ہے۔

۲۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ جیسے ان لوگوں نے میری مدد کی ہے ویسے ہی کبھی مجھے نقصان بھی پہنچایا ہو گا۔ البتہ جب مدد اور نقصان کے واقعات و درجات کا موازنہ کیا جاۓ تو نقصان بہت معمولی ہے۔ پس کسی ایک سے قربت اور دوسرے سے نفرت نامعقول امر ہے۔

۳۔ ہمیں ایک دن مرنا ہے مگر وقت کا کوئی تعیّن نہیں۔ فرض کیجئے ہمیں کل کے لئے سزاۓ موت سنائی جاۓ۔ تو اپنی زندگی کے آخری دن کسی پر ناراض ہونا اور انہیں تکلیف پہنچانا سخت حماقت ہو گی۔ کسی فضول کام پر توجہ دے کر ہم اپنے آخری دن کوئی مثبت اور کار آمد فعل کرنے سے محروم رہ جائں گے۔ مثلاً ایک دفعہ کا ذکر ہے کوئی بڑا افسر کسی پر سخت ناراض ہوا اور اسے اگلے روز سخت سزا دینے کی ٹھانی۔ وہ سارا دن اس کے متعلق سوچتا رہا، اور اگلی صبح، پیشتر اس کے کہ وہ کچھ کرپاتا، اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس کا غصہ بالکل بیکار تھا۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو کل کے لئے سزاۓ موت سنائی جا چکی ہے تو اسے آج کچھ کہنا (دکھ دینا) بے معنی ہے۔

طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو دوسروں کے نقطہ نظر پر منحصر ہو

اسے بھی تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

۱۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ جیسے میں خواب میں بھی دکھ نہیں جھیلنا چاہتا، اور خواہ مجھے کتنی ہی خوشی میسر ہو، کبھی کافی نہیں ہوتی۔تو یہ بات دوسروں پر بھی ویسے ہی صادق آتی ہے۔ تمام محدود ہستیاں، ایک چھوٹے سے کیڑے سے لیکر (انسان تک)، مسرت کے خواہاں ہیں اور دکھ اور مسائل کا سامنا نہیں چاہتے۔ لہٰذا کچھ کو دوسروں پر ترجیح دینا نامناسب فعل ہے۔

۲۔ فرض کیجئے کہ میرے دروازے پر دس گداگر آئں۔ تو ان میں سے کچھ کو کھانا دینا اور کچھ کو نہ دینا نہائت غلط فعل ہو گا۔ ان سب کی بھوک اور خوراک کی حاجت برابر ہے۔ اسی طرح الجھن سے مبرّا مسرت کا مالک کون ہے؟ مگر ایسی مسرت بھی جس میں الجھن شامل ہو – تمام محدود ہستیاں اس کی مناسب مقدار سے محروم ہیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جس کا ہر کوئی متلاشی ہے۔ اس لئے بعض کو دور رکھنا اور بعض سے قربت رکھنا نامعقول امر ہے۔

۳۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ فرض کیجئے دس بیمار لوگ موجود ہیں۔ ان سب کا دکھ درد ایک جیسا ہے۔ پس ان میں سے کچھ کا علاج کرنا اور باقی کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہے۔ اسی طرح تمام محدود ہستیاں اپنے اپنے مسائل اور اضطراری، رو بہ تکرار جنم یا سمسار کی مشکلات میں برابر کے مصیبت زدہ ہیں۔ اس وجہ سے کچھ کو دور دھکیل دینا اور دوسروں کو گلے لگا لینا نا مناسب اور غیر منصفانہ ہے۔

طمانیت استوار کرنے کا وہ طریقہ جو غائرانہ نقطہ نظر پر منحصر ہو

اس میں بھی تین افکار شامل ہیں۔

۱۔ ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ اپنی الجھن کی بنا پر ہم کس طرح کسی ایسے شخص کو سچا دوست مانتے ہیں جو ہماری مدد کرتا ہے یا ہم سے اچھی طرح پیش آتا ہے، اور جو ہمیں نقصان پہنچاۓ اسے سخت دشمن سمجھتے ہیں۔ تاہم اگر ان کا یہ روپ جو ہم تصور کرتے ہیں، سچا ہوتا تو تتھاگت (اعلیٰ مقام پر فائز) مہاتما بدھ بھی انہیں بذات خود ایسا ہی سمجھتا۔ مگر اس نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ جیسا کہ دھرم کیرتی نے'(ڈگناگ کی) "صحیح پہچان رکھنے والے من کے تالیف" پر تبصر'میں کہا ہے، "مہاتما بدھ کا رویہ دونوں کی جانب ایک جیسا ہے، اس پر بھی جو اسکے شریر کے ایک طرف خوشبودار پانی ڈال رہا ہو، اور اس پر بھی جو اس کی دوسری طرف کو تلوار سے کاٹ رہا ہو۔"

ہم اس غیر جانبداری کا مظہر مہاتما بدھ کے رویہ میں دیکھ سکتے ہیں جو اس نے اپنے چچیرے بھائی کے ساتھ روا رکھا جو حسد کی بنا پر ہر وقت مہاتما بدھ کو نقصان پہنچانے میں لگا رہتا تھا۔ لہٰذا ہمیں بھی جانبداری سے پرہیز لازم ہے، اور اپنی عدم یقینی کی بنا پر ہم جس طرح لوگوں کو مختلف درجات میں تقسیم کر کے ان پر لیبل لگاتے ہیں، ہمیں اس سے بچنا چاہئے۔ کسی کا وجود بھی ایسے واقع نہیں ہوتا۔ ہمیں حقیقی وجود کے اصرار پر مصر نہیں ہونا چاہئے۔ اس اصرار کی تاسیس ہماری وہ عدم یقینی ہے جو ہمیں حقیقت کا جھوٹا روپ پیش کرتی ہے۔

۲۔ مزید برآں، اگر محدود ہستیاں ایسے ہی دوست اور دشمن میں بٹی ہوتیں جیسا کہ ہم انہیں سمجھتے ہیں، تو وہ ہمیشہ ویسے ہی رہتیں۔ فرض کیجئے کہ ایک گھڑی ایسی ہے جو ہمارے خیال میں ہمیشہ صحیح وقت بتاتی ہے۔ جس طرح یہ ممکن ہے کہ اس میں تبدیلی آ جاۓ اور یہ آہستہ چلنے لگے، اسی طرح لوگ بھی ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔

اس صورت حال میں اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ سمسار کی رو بہ تکرار اضطراری کیفیات کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تو یہ ہمارے لئے منفعت بخش ہو گا، جیسے اس بیٹے کی مثال ہے جو اپنے باپ کا گوشت کھاتا ہے، اپنی ماں کو مارتا ہے، اور اپنے دشمن کا حمائتی ہے۔ اس مثال کا ذکر روشن ضمیری پیدا کرنے کی بتدریج راہ (لم-رم) میں درمیانہ درجہ کی ترغیب کی ہدایات میں آتا ہے۔ ایک بار آریہ (بہت باریاب ہستی) کتیاین ایک گھر میں گیا جہاں باپ مچھلی کی شکل میں تالاب میں دوبارہ جنم لے چکا تھا اور بیٹا اسے کھا رہا تھا۔ پھر لڑکے نے مچھلی کی ہڈی کتے کو ماری، جو اس کی ماں رہ چکا تھا، اور بچے کو گود میں لے کر سہلایا جو اس کا دشمن رہ چکا تھا۔ کتیاین کو سمسار میں گھومنے پھرنے والی مخلوق کی کیفیتوں میں اس مضحکہ خیز تبدیلی پر بہت ہنسی آئی۔ پس ہمیں لوگوں کے کسی خاص، استمراری روپ، خواہ دوست کا ہو یا دشمن کا، پر مصر ہونے سے، اور پھر اس بنیاد پر کسی ایک کو گلے لگانے اور دوسرے کو دھتکارنے سے باز رہنا چاہئے۔

۳۔ 'تربیت کا تالیف' میں شانتی دیو نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کیسے نفس اور دیگر لوگ ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ دور اور قریب کی پہاڑیوں کی مثال کی مانند وہ یا تو ایک دوسرے کے محتاج ہیں، یا ان کی کوئی نسبتی حیثیت ہے۔ جب ہم قریب والی پہاڑی پر ہوں تو دوسری دور لگتی ہے اور یہ قریب۔ جب ہم دوسری جانب جائں تو یہ دور ہو جاتی ہے اور وہ قریب۔ اسی طرح ہمارا اپنی طرف سے کوئی ٹھوس "نفس" نہیں، کیونکہ جب ہم اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہم "دوسرا" بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو دوست یا دشمن سمجھنا اس کو پہچاننے کے محض مختلف طریقے ہیں۔ کوئی شخص ایک ہی وقت میں کسی کا دوست اور کسی کا دشمن ہو سکتا ہے۔ دور اور نزدیک پہاڑیوں کی طرح یہ سب ہمارے نسبتی نکتہ نظر پر منحصر ہے۔

پانچ فیصلے

اس انداز فکر کی روشنی میں ہمیں پانچ فیصلے کرنا ہیں۔

میں جانبداری سے پرہیز کروں گا

ہم خواہ اضافی طور سے جائزہ لیں یا غائرانہ طور پر، اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ ہم بعض لوگوں یا ہستیوں کو قریب سمجھیں اور بعض کو دور۔ پس ہمیں ایک مصمم فیصلہ کرنا ہے: میں جانبداری سے کام نہیں لوں گا۔ میں اپنے آپ کو طرفداری کے احساس سے آزاد کر لوں گا جو مجھے کچھ کو رد کرنے اور دوسروں کو تسلیم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کیونکہ عداوت اور تعلق مجھے اس زندگی میں اور آنے والی زندگیوں میں عارضی اور دائمی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں، اور مستقبل قریب اور بعید میں ان سے کچھ حاصل نہیں۔ یہ سینکڑوں قسم کے آزار کا باعث ہیں۔ یہ قیدخانہ کے ان محافظوں کی مانند ہیں جو مجھے سمسار کے اضطراری، رو بہ تکرار مسائل کے چکر میں گھماتے رہتے ہیں۔

ذرا ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جو ۱۹۵۹ کے انقلاب کے بعد تبت میں ہی رہے۔ جو لوگ اپنی خانقاہوں، مال و دولت، گھر بار، عزیز و اقارب سے گہرا تعلق جوڑے ہوۓ تھے وہ ان سے جدائی برداشت نہ کر سکتے تھے۔ نتیجتہً انہیں، ان کے تعلق کی بدولت، بیس یا اس سے بھی زیادہ برس کے لئے جیل خانوں اور جنگی کیمپوں میں نظر بند کر دیا گیا۔ ایسا جانبداری کا احساس وہ قاتل ہے جو ہمیں مسرت سے عاری جہنموں کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ ہمارے اندر وہ ناسور بد روحیں ہیں جو ہمیں رات کو سونے نہیں دیتیں۔ ہمیں ہر حال انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

دوسری جانب، سب سے برابری کا سلوک جس کے ذریعہ ہم تمام محدود ہستیوں کے لئے مسرت سے ہمکناری اور دکھ درد سے دوری کے خواہاں ہیں، ہر حال میں، عارضی اور دائمی طور پر، لازم ہے۔ یہ وہ بڑی شاہراہ ہے جس سے تمام مہاتما بدھ اور بودھی ستوا گذر کر روشن ضمیری حاصل کرتے ہیں۔ یہ تین ادوار کے تمام مہاتما بدھوں کی تمنا اور منزل مقصود ہے۔ پس ہمیں یہ سوچنا ہے کہ محدود ہستیاں مجھے جو بھی دکھ یا سکھ دیں، میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔ میں نہ تو کسی سے ناراض ہوں گا اور نہ ہی تعلق پیدا کروں گا۔ میں بعض کو قریب اور بعض کو دور تصور نہیں کروں گا۔ معاملات سے نمٹنے کا اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ یا ذریعہ نہیں۔ میں نے پکا فیصلہ کر لیا ہے۔ میں ہر شخص سے برابر کا سلوک کروں گا کیونکہ ہرکوئی مسرت کا متلاشی ہے اور کوئی بھی دکھ نہیں چاہتا۔ میں یہ کام کرنے کی پوری پوری کوشش کروں گا۔ اے میرے روحانی مرشد، مجھے یہ کام کرنے کی حتی المقدور الہامی قوت عطا کر۔ ہمیں ان خیالات کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب ہم 'روحانی مرشدوں کو بھینٹ کی رسم' (لاما چوپا، گرو پوجا) کے پانچ میں سے پہلے بند، جن کا اس مراقبے سے تعلق ہے، کو پڑھتے ہیں:

ہمیں توفیق دے کہ ہم دوسروں کے
   آرام اور خوشی میں اضافہ کر سکیں،
اس سوچ کے ذریعہ کہ
   وہ اور ہم مختلف نہیں:
کوئی بھی ذرہ برابر دکھ نہیں چاہتا،
اور نہ ہی اپنی خوشی پر مطمٔن ہوتا ہے۔

پس اس پہلی دعا کے ذریعہ ہم سب کے لئے خوشی پیدا کرنے اور دکھ کو دور کرنے کے سلسلہ میں ایک ایسا مساوی رویہ جو ہمارے فعل اور قول میں قربت اور دوری کے احساس سے مبرّا ہو، تشکیل دینا مانگتے ہیں۔ اس قسم کا برابری کا رویہ طمانیت یا مساوی سلوک کی تعریف کے ملاحظات کو پورا کرتا ہے جو ہمیں یہاں درپیش ہے۔ ہم ایسا رویہ استوار کرنے کا مصمم ارادہ کرتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے دکان میں کوئی دلپسند چیز دیکھ کر اسے خریدنے کا ارادہ۔

میں خود ستائی سے نجات حاصل کروں گا

پھر ہم خود ستائی کے نقصانات پر غور کرتے ہیں۔ خودغرضی پر قائم خود ستائی کے رویہ کی بدولت ہم تخریب کاری کرتے ہیں، دس منفی اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں، اور نتیجتہً جہنمی پنر جنم کا شکار ہوتے ہیں۔ یہاں سے لیکر کسی ارہت ( ہستی جس نے مکش پایا ہو) کے روشن ضمیری نہ پا سکنے تک – ایسی خودغرضی مسرت اور شانتی کی تلفی کا باعث بنتی ہے۔ بودھی ستوا گو کہ روشن ضمیری کے حصول کے قریب ہوتے ہیں، مگر بعض دوسروں کی نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ ان کے درجات میں فرق کی وجہ ان کی خود ستائی کی مقدار ہے جو ابھی بھی ان میں پائی جاتی ہے. مختلف ممالک کے درمیان جھگڑوں سے لے کر روحانی گرو اور چیلوں کے درمیان ناچاقی تک، خاندانوں کے اندر، یا دوستوں کے بیچ جھگڑے – سب کی بنیاد خود ستائی ہے۔ پس ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ اگر میں نے اپنے اندر کے اس خود ستائی اور خود غرضی کے ناسور کا قلع قمع نہ کیا تو میں کبھی بھی مسرت کا مزہ نہیں چکھ سکوں گا۔ لہٰذا میں کبھی بھی اپنے آپ کو خود ستائی کے غلبے تلے نہیں آنے دوں گا۔ اے میرے روحانی مرشد، مجھے ہر طرح کی خودغرضی سے نجات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ دوسرے بند کے خیالات یوں ہیں:

ہمیں یہ سمجھنے کی
   توفیق عطا فرما کہ
یہ خود ستائی کا دیرینہ
   مرض ہی ہمارے اَن چاہے
دکھ کا سبب ہے،
اور اسے مجرم قرار دے کر،
خود غرضی کے بڑے بھوت
   کو تباہ کرنے کی توفیق دے۔

پس اس دوسری دعا کے ذریعہ ہم اپنے خود غرضی کے رویہ سے چھٹکارا پانے کا پکا تہیّہ کرتے ہیں۔

میں دوسروں کی پذیرائی کو اپنا بڑا مقصد بناؤں گا

پھر ہم دوسروں کی پذیرائی کرنے کے فوائد اور خوبیوں پر غور کرتے ہیں۔ اس وقفہ حیات میں خوشی ہی خوشی اور سازگار حالات؛ اگلے جنموں میں انسان یا دیوتا کے روپ میں پنر جنم؛ اور عمومی طور پر روشن ضمیری حاصل کرنے تک تمام خوشیوں کا منبع دوسروں کی پذیرائی ہی ہے۔ ہمیں اس پر کئی مثالوں کی روشنی میں غور کرنا ہے۔ مثلاً کسی مقبول افسر کی مقبولیت کا راز اس کے دوسروں کا خیال رکھنے میں ہے۔ ہمارے اخلاقی ضبط نفس کی بدولت کسی کی جان لینے یا چوری ڈاکہ سے گریز کی بنیاد دوسروں کا خیال رکھنے پر ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو ہمیں انسانی روپ میں پنر جنم دلا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر تقدس مآب دلائی لاما ہر وقت ہر شخص کی ہر جگہ پر بھلائی کے متعلق سوچتے ہیں، اور ان کی تمام صفات دوسروں کا اس طرح خیال رکھنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ بودھی ستوا تاگمے-زانگپو کا، خواہشات کا دیوتا کاما جو اسے نقصان پہنچانے نکلا تھا، کچھ نہ بگاڑ سکا۔ یہ مہا تبتی پیروکار ایک ایسا انسان تھا جو کسی کیڑے کو آگ میں گرتے دیکھ کر رو پڑتا تھا۔ وہ خلوص دل سے سب کی بھلائی کا خواہاں تھا، اور اس وجہ سے بھوت اور ایسی دوسری نقصان دہ مخلوق اس کا کچھ نہ بگاڑ سکتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی، جیسا کہ روحوں نے خود بتایا، کہ اس کے دل میں صرف ان کی بھلائی اور پذیرائی کے خیالات ابھرتے تھے۔

مہاتما بدھ کی ایک گذشتہ زندگی میں جب وہ اندر، جو دیوتاؤں کا بادشاہ ہے، کے روپ میں پیدا ہوۓ، تب دیوتاؤں اور ان کے دشمنوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ دیوتاؤں کے دشمنوں کی جیت ہو رہی تھی لہٰذا اندر اپنی رتھ میں بھاگ نکلا۔ راستے میں ایک جگہ سڑک پر کبوتروں کا جھرمٹ دیکھ کر اس نے اپنی رتھ اس ڈر کے مارے روک دی کہ کہیں یہ کبوتر اس کے نیچے آ کر کچلے نہ جائں۔ دشمنوں نے جب یہ دیکھا تو وہ سمجھے کہ اندر نے پلٹ کر ان پر حملہ کرنے کی ٹھانی ہے، اور وہ بھاگ نکلے۔ اگر ہم اس کا تجزیہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان کی شکست اندر کے دوسروں کا خیال کرنے میں مضمر تھی۔ اس قسم کے واقعات سے ہمیں دوسروں کا خیال کرنے کے فوائد کا مختلف انداز سے ادراک کرنا چاہئے۔ جب کوئی مجسٹریٹ یا اعلیٰ افسر کسی کرسی پر بڑی شان سے براجمان ہوتا ہے، تو اس کا عہدہ اور اس کے تمام لوازمات لوگوں کے وجود کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ اس مثال میں دوسروں کی کرم فرمائی محض اسی بات میں ہے کہ ان کا کوئی وجود ہے۔ اگر اُس کے علاوہ کسی اور کا وجود نہ ہوتا تو وہ مجسٹریٹ نہ ہوتا۔ اس کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہوتا۔ مزید برآں، لوگوں کے ہوتے ہوۓ بھی اگر کوئی اس کے پاس نہ جاۓ تو یہ مجسٹریٹ بیکار بیٹھا رہے گا۔ اس کے برعکس اگر بہت سے لوگ اس کے پاس اپنے جھگڑے نمٹانے کے لئے آئں، تو ان کی محتاجی کرتے ہوۓ، وہ ڈھب سے بیٹھے گا اور ان کی خدمت کرے گا۔ یہی بات ایک لاما پر بھی صادق آتی ہے۔ دوسروں پر انحصار کرتے ہوۓ وہ ڈھنگ سے بیٹھ کر درس دیتا ہے۔ اس کی حیثیت کا دارومدار دوسرے لوگوں کی موجودگی پر ہے جو اس کی مدد کے طلب گار ہیں۔ وہ انہیں دھرم کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی یہ مدد اس کے ان پر انحصار سے ہے، جیسے اس کا ان کی اس مہربانی کو یاد رکھنا۔

اسی طرح ہم دوسروں سے محبت اور ہمدردی کر کے اور ان کا خیال رکھ کے جلد از جلد روشن ضمیری حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی دشمن ہمیں نقصان پہنچاۓ اور ہم صبر سے کام لیں، تو اس طرح ہم کسی کا خیال کرنے کی بدولت روشن ضمیری کے قریب آ جاتے ہیں۔ پس چونکہ محدود ہستیاں تمام خوشی اور بھلائی کی بنیاد اور سبب ہیں، تو بلا شرکت غیرے، مجھے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ خواہ وہ مجھ سے کیسا ہی سلوک کریں، میں ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھوں گا۔ باقی دوسرے لوگ مثلاً میرے روحانی مرشد، مہاتما بدھ یا قیمتی جواہر ہیں جن کا میں خیال رکھوں گا، اگر انہیں کچھ ہو جاۓ تو غمناک ہوں گا، اور انہیں کسی قیمت پر بھی نظرانداز نہیں کروں گا۔ میں ان سے ہمیشہ نرمی اور گرم دلی سے پیش آؤں گا۔ اے میرے روحانی مرشد، مجھے الہامی ترغیب عطا فرما کہ میں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی ایسی گرم دلی اور دوسروں کے لئے احساس سے محروم نہ ہوں۔ یہ ہے تیسرے بند کا مطلب:

ہمیں یہ جاننے کی الہامی ترغیب دے کہ ایسا
   من جو ہماری ماؤں
کی پذیرائی کرتا ہے اور ان کی خوشی کا
   ضامن ہے وہ ان گنت
صفات کی جانب دروازہ کھولتا ہے،
اور اس طرح ہم اپنی زندگی سے بڑھ کر
ان آوارہ ہستیوں کا خیال رکھیں،
خواہ وہ ہم سے عناد ہی کیوں نہ رکھیں۔

اس طرح ہم دوسروں کا خیال رکھنے کو اپنا مرکزی نصب العین بناتے ہیں۔

میں یقیناً اس قابل ہوں کہ اپنے رویہ کو اپنے اور دوسروں کے متعلق تبدیل کر سکوں

یہ جو سوچ کا انداز ہے کہ میری خودستائی کے نقصانات کیا ہیں، اور دوسروں کی پذیرائی کے فوائد کیا ہیں، اس پر بھروسہ کرتے ہوۓ، جب ہم یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں اپنی اقدار کہ ہم کس کا خیال رکھیں، کو تبدیل کرنا ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ کیا واقعی ہم انہیں تبدیل کر سکتے ہیں، تو ہم یقیناً یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے رویہ میں تبدیلی لا سکتے ہیں کیونکہ روشن ضمیری حاصل کرنے سے قبل مہاتما بدھ بھی ہماری طرح ہی تھا۔ وہ بھی سمسار کے اضطراری، رو بہ تکرار مسائل اور مشکلات میں جنم در جنم بھٹکتا رہا۔ آخرکار قابل مہاتما بدھ نے اپنے رویہ میں تبدیلی کر لی کہ اسے کس کا خیال رکھنا ہے۔ دوسروں کا خیال رکھنے کے مسلک کو مضبوطی سے پکڑ کر وہ اپنے اور دوسروں کے ہدف پانے کے اعلیٰ و ارفع مقام پر جا پہنچا۔

اس کے برعکس، ہم نے صرف خودستائی سے کام لیا ہے اور باقی سب کو نظرانداز کیا ہے۔ دوسروں کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کر کے ہم نے اپنی بھلائی کے لئے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔ خودستائی پر عمل کر کے اور دوسروں کو نظرانداز کر کے ہم بالکل بے بس ہو گۓ ہیں، کچھ بھی قابل ذکر چیز حاصل کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ہم ایک سچے تیاگ یا مسائل سے نجات کا تہیہ نہیں کر سکتے۔ ہم تو پنر جنم کی کسی بدترین شکل سے اپنے آپ کو بچا بھی نہیں سکتے۔ ان باتوں سے ہم خودستائی کے نقصانات اور دوسروں کی پذیرائی کے فوائد پر غور کرتے ہیں۔ مہاتما بدھ نے اگرچہ ہماری طرح ہی شروعات کیں تھیں مگر وہ اپنا رویہ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا، تو ہم بھی اپنے رویہ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

نہ صرف یہ بلکہ کافی واقفیت کے ساتھ ہم دوسروں کے بدن کی بھی پذیرائی کر سکتے ہیں جس طرح ہم اپنے بدن کا خیال رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم نے دوسروں کے اجسام، یعنی اپنے والدین کے، سے مادہ منویہ اور تولیدی خلیہ لیا، اور اب ہم انہیں اپنا جسم کہہ کر ان کا خیال رکھتے ہیں۔ شروع میں وہ ہمارے نہ تھے۔ لہٰذا ہمیں سوچنا چاہئے کہ اپنا رویہ تبدیل کرنا ناممکن نہیں۔ میرا اپنے اور دوسروں کے متعلق جو رویہ ہے میں اسے تبدیل کر سکتا ہوں۔ لہٰذا میں اس بارے میں جو بھی سوچوں، تب تک کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ میں اپنے اور دوسروں کے متعلق اپنا رویہ تبدیل نہ کروں۔ یہ ایسا کام ہے جو میں کر سکتا ہوں،یہ میری دسترس سے باہر نہیں۔ پس اے میرے روحانی مرشد، مجھے یہ کام کرنے کی الہامی ترغیب عطا فرما۔ یہ چوتھے بند کا لب لباب ہے۔

مختصراً، ہمیں الہامی ترغیب کے ذریعہ
   ایسے من تشکیل دینے
کی توفیق عطا فرما جو بچکانہ خود غرض
   خواہشات رکھنے والوں اور دانش وروں
کی صفات رکھنے والوں،
   جو صرف دوسروں
   کی خدمت میں مصروف ہیں،
   کے درمین تفریق کر سکیں،
اور اس طرح اپنے اور دوسروں کے متعلق
   اپنے رویہ میں توازن اور
   تبدیلی پیدا کر سکیں۔


پس یہاں ہم اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم یقیناً اپنی اور دوسروں کی پذیرائی سے متعلق اپنے رویہ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

میں یقیناً اپنے اور دوسروں کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کر دوں گا

ایک بارپھر ہم خودستائی کے نقصانات اور دوسروں کی پذیرائی کے فوائد پر غور کرتے ہیں، مگر اس بار ہم ایک متبادل طریقہ اختیار کرتے ہیں اور دونوں کو یکجا کر دیتے ہیں۔ بہ الفاظ دگر، ہم دس تخریبی اور دس تعمیری اعمال کا اس طرح جائزہ لیتے ہیں کہ دونوں فہرستوں میں سے باری باری ایک ایک صفت کو لیکر بلحاظ خودستائی اور دوسروں کی پذیرائی ان کے اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر میں خودستائش کا عادی ہوں تو میں کسی کی جان لینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کروں گا۔ نتیجتہً میں مسرت سے عاری جہنم میں دوبارہ جنم لوں گا، اور اگر بعد میں کبھی انسان کے روپ میں آ بھی گیا تو میری زندگی مختصر اور علالت زدہ ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر میرے دل میں دوسروں کا احساس ہو تو میں ان کی جان لینے سے گریز کروں گا، اور اس کے نتیجہ میں میرا پنر جنم بہتر حالت میں ہوگا، میں لمبی عمر پاؤں گا، علیٰ ہٰذا لقیاس۔ پھر ہم یہی سلسلہ چوری اور چوری سے پرہیز، جنسی بےراہروی اور ایسے رویہ سے اجتناب وغیرہ پر دوہراتے ہیں۔ مختصراً، جیسا کہ پانچویں بند میں رقم ہے:

چونکہ خودستائی سے
   آزار کا باب کھلتا ہے،
جبکہ ہماری ماؤں کی پذیرائی ہر بھلائی
کی بنیاد ہے،
ہمیں الہامی ترغیب عطا فرما
   کہ ہم دوسروں کو
اپنے اوپر ترجیح دینے کی مشق کریں۔

تو پانچواں فیصلہ ہم نے یہ کرنا ہے کہ میں یقیناً اپنے اور دوسروں کے متعلق اپنے رویہ کو تبدیل کر دوں گا۔ اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ اب میں تم ہُوں اور تم میں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امر میں تبدیلی لانا کہ میں کس کی پذیرائی کرتا ہوں۔ اپنی ستائش کرنے اور دوسروں کو نظر انداز کرنے کے بجاۓ اب میں اپنے خود غرض محرکات کو نظرانداز کروں گا اور دوسروں کا خیال رکھوں گا۔ اگر ہم اس میں ناکام رہے تو ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر پائں گے۔ لیکن اگر ہم اپنے رویہ میں ایسی تبدیلی کر لیں تو ہم پرخلوص محبت اور دردمندانہ ہمدردی پیدا کرنے کی خاطردوسروں کو اپنی خوشی دینے اور ان کا دکھ درد لینے کی مشق کرتے چلے جائں گے۔ اس بنیاد پر ہم دوسروں کے مسائل حل کرنے، ان کا دکھ درد دور کرنے، انہیں مسرت سے ہمکنار کرنے، اور ایک ایسا بودھی چت والا دل پیدا کرنے کی، جس سے ہم روشن ضمیری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ یہ کام زیادہ سے زیادہ کر سکیں، غیرمعمولی ارادت استوار کر سکیں گے۔

ان تعلیمات کے منبع کو 'بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا' کہتے ہیں جس کا مصنف شانتی دیو ہے۔ یہ کدامپا علما کی تعلیمات ہیں، اور اس میں یقیناً پہلے پنچن لاما کی 'روحانی مرشدوں کو بھینٹ کی رسم' بھی شامل ہیں۔ یہ کیابجے ٹریجنگ دورجے چنگ جو کہ تقدس مآب دلائی لاما کے ایک چھوٹے استاد تھے کے مجموعہ کلام میں اس شکل میں بطور قائمہ رہنمائی شامل ہے۔ البتہ اس کے خاکہ اور اس میں نمبروں میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی ایسے ہی ہے جیسے ہمارے سامنے رکابی میں سات مومو (ڈمپلنگ) رکھے ہوں اور ہم انہیں کھانے کے بجاۓ کسی سے یہ چاہیں کہ وہ ان کی تعداد کی تصدیق کرے اور یہ کہ ان کی شکل و صورت کا منبع کیا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ بس آرام سے بیٹھو اور کھاؤ۔