ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

درد مندی بہ طور ایک وسیلئہ مسرت

تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ
نوٹنگھم، برطانیہ، ۲۴ مئی ۲۰۰۸ء

تحریر، جزوی ترجمہ اور قدرے تدوین کے ساتھ: الیگزینڈر برزن
اودے رنگ میں تشریحات چوکور بریکٹ میں

زندگی کا مقصد مسرت کی جستجو ہے

ہم یہاں ہیں؛ ہم وجود رکھتے ہیں اور ہمیں وجود رکھنے کا حق حاصل ہے۔ حتٰی کہ غیر ذی شعور مخلوقات، مثلاً پھولوں تک کو وجود رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اگر ان کے خلاف منفی طاقتوں کا استعمال کیا جائے، تب ایک کیمیاوی سطح پر، یہ پھول بھی اپنی بقا کے لیے اپنے آپ کو درست کر لیتے ہیں۔ لیکن [اس سے زیادہ یہ ہے کہ] ہم بنی نوع انساں، بہ شمول کیڑوں مکوڑوں اور امیبا کے، مختصر ترین مخلوقات کو بھی ذی شعور  تصور کیا جاتا ہے۔ [اور ایک ذی شعور مخلوق کی حیثیت سے، ہمارے پاس ایسے زیادہ طریقے ہیں جن سے ہمیں اپنی بقا میں مدد ملتی ہے۔]

ایسی اشیا جو اپنے ارادے یا خواہش کے تحت حرکت کر سکیں، یہی "ذی شعور" ہونے کا مطلب ہے، اور سائنسدانوں سے میری جو بحثیں ہوئیں، ان کے مطابق، "ذی شعور" ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں تمام حساس مخلوقات انسانوں جیسے شعور کی مالک ہیں یا شعور کی سطح رکھتی ہیں جو انسانوں کو حاصل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ شعور یا "صاحبِ شعور" کون ہے اس کی تعریف مشکل ہے۔ بالعموم، اس کا مطلب ہوتا ہے ذہن کا واضح ترین پہلو رکھنے والا، لیکن ایسی صورت میں، اس سے کیا یہ مفہوم نہیں نکلتا کہ جس وقت ہم بے ہوش یا نیم بے ہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں، اس وقت ہم ذی شعور نہیں رہ جاتے؟ کیا کیڑوں مکوڑوں کو بھی شعور کی یہ سطح حاصل ہے؟ اسے غالباً شعور کے بجائے "ادراک کی صلاحیت" کا نام دینا بہتر ہوگا۔

بہر حال، یہاں اس امر کی نشاندہی مقصود ہے کہ وہ شے جسے ہم [ادراک کی صلاحیت] سے تعبیر کرتے ہیں وہ ہمارے احساسات: مثلاً درد، خوشی [مسرت یا غم] یا غیر جانبدارانہ کیفیتوں کو پہچاننے اور انھیں زیادہ گہرائی کے ساتھہ سمجھنے کا نام ہے۔ مثال کے طور پر، ہر ذی شعور مخلوق کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے اور زندہ رہنے یا اپنی بقا کے لیے اس کے اندر اس خواہش کا پیدا ہونا بھی فطری ہے کہ وہ خوشی اور آرام کے ساتھہ زندہ رہے: اور ذی شعور مخلوقات، اسی لیے اپنی بقا کی جدو جہد کرتی ہیں۔ لہٰذا، ہماری بقا کا انحصار امید پر ہے۔ بہتری کی یا ایسی امید پر جو ہمیں زیادہ خوشی دے سکے۔ اسی کی وجہ سے میں ہمیشہ آخر کار یہی نتیجہ نکالتا ہوں کہ زندگی کا مقصد مسرت کا حصول ہے۔ اُمید اور مسرت کے احساس کے ساتھہ، ہمارا جسم بھی ایک بہتر کیفیت کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس لیے، ہماری صحت کی خاطر امید اور مسرت کی حیثیت، مثبت عوامل کی ہے۔ صحت کا انحصار دماغ کی ایک پر مسرت حالت پر ہے۔

اس کے برعکس غصہ عدم تحفظ کے احساس پر مبنی ہوتا ہے اور ہمارے اندر خوف پیدا کرتا ہے۔ جب ہم کسی خوش گوار تجربے سے دوچار ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ جب کوئی چیز ہمیں خوف زدہ کرتی ہے، ہم خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتے ہیں اور ہمیں غصہ آنے لگتا ہے۔ غصہ جسم کے اس حصے کا نام ہے جو اپنی بقا کو لاحق نقصان سے ہمارا دفاع کرتا ہے۔ لیکن غصہ [بجائے خود ہمیں ایک ناگوار کیفیت میں مبتلا کرتا ہے اور بالآخر] ہماری صحت کے لیے برا ہوتا ہے۔

وابستگی ایک ایسا عنصر ہے جو ہماری بقا کے عمل میں مددگار ہوتا ہے۔ چنانچہ، ایک پودا بھی جو بہ ظاہر شعور کے عنصر سے عاری ہوتا ہے، تب بھی کوئی ایسا کیمیاوی پہلو رکھتا ہے، جو اس کے اندر اپنے دفاع کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی نشو و نما کے عمل میں معاون ہوتا ہے۔ طبیعی سطح پر، ہمارا جسم بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن، بہ حیثیت انسان کے، ہمارے اندر جذباتی سطح پر بھی ایک مثبت عنصر موجود ہے، جو ہم میں دوسروں کے لیے یا آپ اپنی مسرت کے لیےتعلق اور وابستگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ [اس کے برعکس،غصہ اپنی ترکیب میں شامل] نقصان پہنچانے کے عنصر کی وجہ سے، ہمیں چیزوں سے [بہ شمول مسرت] دور دھکیلتا ہے۔ طبیعی سطح پر، [مسرت کا پیدا کردہ] نشاط، جسم کے لیے اچھا ہوتا ہے، جب کہ غصہ [اور اس کی پیدا کردہ ناخوشی] نقصان دہ ہے۔ اس لیے، [بقا کی جستجو کے سیاق میں] زندگی کا مقصد ایک پر مسرت زندگی بسر کرنا ہے۔

یہ بنیادی انسانی سطح ہے جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں؛ میں مذہبی یا ثانوی سطح کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ مذہبی سطح پر، زندگی کے مقصد کی بہر حال، مختلف تعبیریں کی گئی ہیں۔ زندگی کا ثانوی پہلو، در اصل، خاصا پیچیدہ ہے؛ لہٰذا، بہتر یہی ہوگا کہ بنیادی انسانی سطح پر ہی گفتگو کی جائے۔

مسرت کیا ہے؟

چونکہ ہمارا نصب العین اور مقصد حیات مسرت کا حصول ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسرت کیا ہے؟ بعض اوقات جسمانی اذیت تک سے ہمارے اندر طمانیت کا احساس پیدا ہوتا ہے [جیسے کہ کسی کھلاڑی کے اندر جان توڑ ورزش کے بعد] لہٰذا، "مسرت" کا مطلب ہے ایک گہری طمانیت کی کیفیت، چنانچہ، ہماری زندگی کا مقصد یا ہماری منزل، طمانیت کا حصول ہے۔

مسرت، درد، اذیت، ان سب کی دو سطحیں ہیں: ایک تو حِسی سطح اور ایک ذہنی سطح۔ حِسی سطح ننھے منے دودھ پلانے والے جانداروں، یہاں تک کہ کیڑوں مکوڑوں اور مکھیوں کی ہے۔ ٹھنڈی آب و ہوا میں، جب سورج نمودار ہوتاہے، مکھی خوشی کے اسی پہلو کی نمائندگی کرتی ہے؛ وہ خوشی سے چکر لگانے لگتی ہے۔ ایک ٹھنڈے کمرے میں، اس کی رفتار سست پڑ جاتی ہے؛ اس سے افسردگی ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن، اگر تربیت یافتہ دماغ ہو، تو حِسی مسرتوں کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔ [اگرچہ، علاوہ ازیں] ہمارا تربیت یافتہ دماغ حجم میں سب سے بڑا ہوتا ہے، اس لیے، ہم ذہانت بھی رکھتے ہیں۔

[ذرا غور کیجیے، حال پر] ان انسانوں کے جو کسی کا بھی جسمانی گزند کا خوف نہیں رکھتے۔ ان کی زندگی پر مسرت اور آرام دہ ہوتی ہے- اچھے دوست، تنخواہ اور ناموری کی وجہ سے لیکن، اس کے باوجود، ہم دیکھتے ہیں یہ بہت سے کروڑ پتی لوگ، مثال کے طور پر، ایسا محسوس کرتے ہیں کہ وہ معاشرے کا اہم حصہ نہیں ہیں- لیکن اکثر، یہی لوگ انسانی طور پر بہت افسردہ یا غم زدہ لوگ بھی ہوتے ہیں۔ کچھہ موقعوں پر میری ملاقات ایسے نہایت مال دار، با اثر لوگوں سے بھی ہوئی ہے، جن کے وجود سے اس بات کا شدید اظہار ہوتا تھا کہ اپنے وجود کی گہرائی میں وہ ایک احساسِ تنہائی کے شکار ہیں اور دباوؤ اور پریشانیوں کے شکار ہیں۔ لہٰذا، ذہنی سطح پر، ایسے لوگ اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ہم ایک شاندار ذہانت کے مالک ہیں، چنانچہ ہمارے تجربے کی ذہنی سطح، ہمارے وجود کی ہماری جسمانی سطح کی بہ نسبت زیادہ حاوی ہے۔ اس کے ذریعہ جسمانی درد کو دبایا اور کم کیا جا سکتا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال کے طور پر، کچھہ عرصہ پہلے، میں ایک تشویش ناک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ میری آنتوں میں بہت شدید درد اٹھنے لگا تھا۔ اس وقت، میں بہار میں تھا، ہندوستان کا غریب ترین علاقہ اور میں بودھ گیا اور نالندا سے گزر رہا تھا۔ وہاں میں نے بہت سے انتہائی غریب بچے دیکھے۔ وہ گائے کا گوبر اکٹھا کر رہے تھے۔ انھیں کسی طرح کی تعلیمی سہولتیں حاصل نہیں تھیں اور میں یہ دیکھہ کر بہت اداس ہوا۔ اس کے بعد پٹنہ کے قریب، جو صوبے کی راجدھانی ہے، مجھے بہت شدید درد کا احساس ہوا اور خوب پسینہ آنے لگا۔ میں نے ایک بوڑھے بیمار شخص کو دیکھا، سفید کپڑے پہنے ہوئے، انتہائی میلے اور کثیف۔ اس شخص کی دیکھہ بھال کے لیے کوئی نہیں تھا۔ یہ واقعی بڑے دکھ کی بات تھی، اس رات اپنے ہوٹل کے کمرے میں، میری جسمانی تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، لیکن میرا دماغ انہی بچوں اور اس بوڑھے شخص کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس سروکار نے میرے جسمانی درد کے احساس کو بہت گھٹا دیا۔

مثال کے طور پر ذرا ان لوگوں کو دیکھیے جو اولمپک کھیلوں کی تیاری میں جٹے ہوئے ہوں۔ وہ نہایت سخت تربیت سے گزرتے ہیں، اور قطع نظر اس کے کہ وہ چاہے جتنی تکلیف اور مشکلات کے تجربے سے دوچار ہوں، ذہنی سطح پر وہ مسرور رہتے ہیں۔ لہٰذا، ذہنی سطح، جسمانی سطح کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اسی لیے، زندگی میں حقیقی اہمیت مسرت اور طمانیت کو حاصل ہے۔

مسرت کے اسباب

اب سوال یہ ہے کہ مسرت کے اسباب کیا ہیں؟ میرا خیال ہے کہ چونکہ ایک پر سکو نِ دماغ کے ساتھہ یہ جسم کا عنصر ٹھیک طرح سے ہم آہنگ ہوتا ہے، پریشان دماغ کےساتھہ نہیں، اس لیے ایک پر سکون دماغ بہت اہم ہے۔ ہماری جسمانی صورت حال یہاں غیر اہم ہے، ذہنی سکون سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ پس، ہم ایک پر سکون دماغ کیونکر حاصل کر سکتے ہیں؟

اب، تمام مسئلوں سے چھٹکارا پانا تو ایک ناقابل عمل بات ہے؛ اور دماغ کو سست چھوڑ دینا اور اپنی الجھنوں کو بھلا دینا، اس سے بھی کام نہیں چلے گا۔ ہمیں صفائی کے ساتھہ اپنے مسئلوں کی طرف دیکھنا اور ان سے نمٹنا ہوگا، لیکن اسی کے ساتھہ ساتھہ، اپنے آپ کو دماغی طور سے پر سکون بھی رکھنا ہوگا تاکہ ہم ایک حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کر سکیں اور ان سے اچھی طرح نمٹنے کے لائق ہو سکیں اور انھیں ٹھیک سے حل کر سکیں۔

جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو مسکن دوائیں استعمال کرتے ہیں، تو مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں، میں ان کے بارے میں کچھہ بھی نہیں جانتا کہ اس وقت، جب لوگ مسکن دوائیں استعمال کرتے ہیں، ان کی ذہانت تیز ہوتی ہے یا سست؛ مجھے یہ پوچھنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر، ۱۹۵۹ء میں جب میں مسوری میں تھا، میری والدہ یا ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی اور رہا ہو، بہت پریشان تھیں اور شدید اضطراب میں مبتلا تھیں؛ نیند اچاٹ ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ کچھہ ایسی دوائیں ہیں جو انھیں دی جا سکتی ہیں۔ مگر اس سے ان کا دماغ تھوڑا سست ہو جائے گا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ ایک طرف، دماغ کی تھوڑی سی بے سکونی ہے، لیکن دوسری طرف اگر ان دواوں کا اثر سستی پیدا کرتا ہے، تو یہ اچھی بات نہیں۔ میں ذہانت کو پوری طرح سرگرم، مستعد اور متوجہ رکھنے کو، لیکن پریشان رہنے کو نہیں، ترجیح دوں گا- ایسا دماغی سکون، جو پریشانی سے یکسر محفوظ ہو، سب سے اچھا ہوتا ہے۔

اس کے لیے، انسانی شفقت کا جذبہ جس میں درد مندی اور ترس کھانے کا عنصر بھی شامل ہو، سچ مچ اہم ہوتا ہے؛ ہمارا دماغ جتنا زیادہ درد مند ہوگا، اس کی کار کردگی اتنی ہی بہتر ہوگی۔ اگر ہمارے دماغ میں خوف اور غصہ پیدا ہوجائے، تب بھی جس وقت ایسا ہوتا ہے؛ ہمارا دماغ گھٹیا انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔ ایک بار میری ملاقات ایک سائنس داں سے ہوئی جس کی عمر اسّی برس سے زیادہ تھی۔ اس نے مجھے اپنی کتاب دی۔ میرا خیال ہے کہ اس کتاب کا نام "ہم غصے کے قیدی ہیں" یا کچھہ اسی سے ملتا جلتا تھا۔ اس وقت جب اس سائنس دان کے تجربوں پر بات ہو رہی تھی، اس نے کہا کہ جب ہم کسی معروض کے لیے اپنے اندر غصہ پیدا کر لیتے ہیں، تو وہ معروض بہت منفی انداز اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن اس منفیت کا نوّے فی صد ہمارے اپنے ذہنی رویے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ اس کے اپنے تجربے کی بات تھی۔

بدھ مت بھی یہی کہتا ہے۔ جب منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں، اس وقت ہم حقیقت کو نہیں دیکھہ سکتے۔ جب ہمیں کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اور ہمارے ذہن پر غصے کا غلبہ ہوتا ہے، تب زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ ہم غلط فیصلے کریں گے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہتا کہ غلط فیصلہ کرے، لیکن اس لمحے میں ہماری ذہانت اور دماغ کا وہ حصہ جو صحیح کو غلط سے الگ کرنے کا کام کرتا ہے اور بہترین فیصلے کرتا ہے، اس کی کار کردگی بہت ناقص ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں بہت بڑے بڑے رہنما بھی اسی طرح کے تجربے سے دوچار ہوتے ہیں۔

اسی لیے، درد مندی اور شفقت، ذہن کو زیادہ سہولت کے ساتھہ اپنا کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ درد مندی ہمارے اندر ایک باطنی طاقت پیدا کرتی ہے، یہ ہمیں خود اعتمادی دیتی ہے اور ڈر کے احساس کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا ذہن پر سکون رہتا ہے۔ چنانچہ، درد مندی کے دو کام ہیں- یہ ہمارے دماغ کی بہتر کارکردگی میں معاون ہوتی ہے، اور یہ ہم میں اندرونی طاقت پیدا کرتی ہے۔تو یہی مسرت کی وجہ ہے. مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔

اب مسرت کی حصولیابی کے لیے، بہر حال، دوسری صلاحیتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔ ہر شخص، مثال کے طور پر، دولت کو پسند کرتا ہے۔ اگر ہمارے پاس دولت ہو تو ہم بہتر سہولتوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ بالعموم، ہام انہی سہولتوں کو سب سے اہم چیزیں سمجھتیں ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سچائی یہ نہیں ہے۔ مادی آرام جسمانی کوششوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر ذہنی آرام اور سکون، ذہنی کوششوں کے واسطے سے ہی میسر آتا ہے۔ اگر ہم کسی دوکان پر جائیں اور دوکاندار کو پیسے دیں اور کہیں کہ ہم ذہنی سکون خریدنا چاہتے ہیں، تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کے پاس ایسی کوئی چیز بیچنے کے لیے نہیں ہے۔ بہت سے دوکاندار یہ محسوس کریں گے کہ یہ پاگل پن کی بات ہے اور وہ ہم پر ہنسیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دوا کی گولی یا انجکشن سے ہمیں عارضی مسرت یا کچھہ دماغی سکون مل جائے، لیکن یہ کافی نہیں ہوگا۔ ہم مشاورت کی مثال کے ذریعے سمجھہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے جذبات کو اور ان کی پریشانیوں کو صرف بات چیت اور تعقل کی مدد سے سلجھا سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ایک ذہنی رویہ ہی اس معاملے میں اختیار کرنا چاہیے۔ اسی لیے، میں جب بھی تقریر کرتا ہوں، تو یہی کہتا ہوں کہ ہم جدید لوگ، انسان کے خارجی ارتقا کے بارے مِں کچھہ زیادہ ہی سوچنے لگے ہیں۔ اگر ہم صرف اسی سطح پر توجہ کرتے رہے، تو یہ کافی نہیں ہوگا۔ حقیقی مسرت اور آسودگی انسان کے اندر سے آنی چاہیے۔

اس کے لیے بنیادی عناصر کی حیثیت درد مندی اور انسانی شفقت کے جذبے کو حاصل ہے، اور یہ چیزیں حیاتیاتی سطح سے متعلق ہیں۔ ایک نوزائیدہ بچے کی حیثیت سے، ہماری بقا کا انحصار تمام تر شفقت پیار کے جذبے پر ہے۔ اگر یہ جذبہ موجود ہو تو ہم اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو ہم بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہم اگر اپنی ماں سے علیحدہ کر دیے جائیں تو ہم رونے لگتے ہیں۔ اگر ہم اپنی ماں کے آغوش میں ہوں اور ہمیں خوب بھینچ کر، گرمجوشی کے ساتھہ لیا گیا ہو، تو ہم خوش رہتے ہیں اور رونے کی جگہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ایک بچے کے لیے، یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے۔ مثال کے طور پر، ایک سائنس دان جو بایولوجسٹ اور میرا استاد تھا، اور جو نیو کلیائی تشدد مخالف تحریک سے تعلق رکھتا ہے، اس نے مجھے بتایا کہ پیدائش کے بعد، ایک نو زائیدہ بچے کے ذہن کو بڑا کرنے اور اس کے ارتقا کے لیے، کئی ہفتوں تک ماں کی جسمانی لمس بہت اہم ہوتا ہے۔ اس سے تحفظ کا احساس اور بچے کے لیے آرام کا احساس پیدا ہوتا ہے اور بہ شمول دماغ، اسی سے بچے کے مناسب ارتقا اور جسمانی نشو و نما کی راہ نکلتی ہے۔

لہٰذا، درد مندی اور شفقت کا بیج کوئی ایسی چیز نہیں جو مذہب کی راہ سے نکلتی ہو۔ یہ تو حیاتیاتی جسمانی سطح سے برآمد ہوتی ہے۔ ہم سب اپنی ماں کے رحم سے نمودار ہوتے ہیں، ہم سب کی بقا کا انحصار ماں کی دیکھ بھال اور شفقت پر ہے۔ ہندوستانی روایت کے مطابق ہم ایک ارضِ خالص میں کنول کے پھول سے جنم لینےکا تصور رکھتے ہیں۔ سننے میں یہ بہت اچھا لگتا ہے، لیکن یہاں کے لوگ، انسانوں کی بہ نسبت، شاید کنول کے پھولوں کے لیے زیادہ پیار کا جذبہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا، ماں کے رحم سے جنم لینا ہی بہتر ہے۔ اس طرح، ہمدرد مندی کے بیج سے پہلے ہی بہرہ ور ہوتے ہیں۔ اس لیے، انہی بیجوں سے مسرت کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔