ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی چت کا درد مند دل

الیگزینڈر برزن
سنگاپور، ۱۰ اگست ۱۹۸۸

 

ترمیم شدہ اقتباس ماخوذ
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.

 

آج شام مجھے بودھی چت پر بات چیت کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض موضوع ہے جو ہماری تحریک، خصوصاً روحانی راستہ پر چلنے کی تحریک سے وابستہ ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جسے ہم دھیرے دھیرے اپنے اندر پروان چڑھاتے ہیں۔ اسے فوری طور پر پیدا کرنا مشکل ہے۔ بودھی چت ایک ایسا دل ہے جو مہاتما بدھ بننے کا متمنّی ہے، ایک ایسا دل جس کا ارادہ مصمم ہے: " میں اس قابل بننے کے لئے کہ سب کا بھلا کر سکوں اپنی تمام کمزوریوں پر قابو پاؤں گا اور اپنی تمام صلاحیتوں کو برؤے کار لاؤں گا۔ " ہم روشن ضمیری حاصل کرنے کی سعی محض اس لئے نہیں کرتے کہ یہ اعلیٰ اور ارفع امر ہے بلکہ اس لئے بھی کہ اس کے حصول سے ہم دوسروں کی مدد کر سکیں۔ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ ہم زبان سے اکثروبیشتر اس کا اظہار یوں کریں کہ ہم دوسروں کی مدد کرنے کی خاطر مہاتما بدھ بننے پر کام کر رہے ہیں مگر اس بات کو خلوص دل سے ہر دم محسوس کرنا ایک مشکل کام ہے۔ تاہم اس خواہش کا بار بار اعادہ کرنے سے ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں یہ ( خواہش ) ہمارے اندر خود بخود پیدا ہو۔ بودھی ستوا ایک ایسا انسان ہے جس کا دن رات بنیادی محرک خالص بودھی چت ہو۔

بودھی چت استوار کرنے سے متعلق اغلباً آپ نے کچھ تعلیم و تشریحات سے استفادہ کیا ہو گا اس لئے میں اس وقت اس پر زور نہیں دوں گا۔ اس کے بجاۓ میں ان تمام منازل سے گزرنے کی اہمیت پر بات کروں گا جو اس کی ترغیب تک پہنچاتی ہیں۔ ان منازل کو نظر انداز کرکے سیدھے اس ارفع ترین مہایانہ محرک تک پہنچنے کی کوشش کرنا بظاہر آسان سی بات ہے۔ ہم یوں کہ سکتے ہیں " میں اس لئے اس راستہ پر چلتا ہوں کیونکہ میں دوسروں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ یہ میری سماجی ذمہ داری ہے۔ " چونکہ ایسا کرنا یقیناً سودمند ہے تو ہم اس پر فوری عمل کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس سے پیوستہ گزشتہ منازل سے نہیں گزرے تو ہم مشکل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ میں اس پر بات کرنا چاہوں گا کہ جب ہم دوسروں کے لئے محبت اور درد مندی کا جذبہ پیدا کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ان مشکلات سے کیسے بچا جاۓ۔

لام - رم یعنی روشن ضمیری کے بتدریج راستہ پر روحانی ترقی کے بلند ترین مقام تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ہم بتدریج منازل طے کرتے ہیں۔ابتدائی روحانی ترغیب کا مقصد اپنی آئندہ زندگیوں کو خوشگوار بنانا ہوتا ہے۔ اپنی اس موجودہ زندگی کو پر مسرت بنانے کی سعی تو ہر انسان کرتا ہے، حتیٰ کہ جانور بھی یہی کرتے ہیں۔ انہیں بھی اپنی خوراک اور اپنے بچوں کی نگہداشت کی فکر ہوتی ہے۔ گو کہ یہ ایک اہم فکر ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ اس میں روحانیت کا عنصر بھی شامل ہو۔

اپنی اس موجودہ زندگی کی بقا کی فکر ایک اہم امر ہے۔ بعض لوگ اپنے آپ کو اور اپنے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتےاور نہ ہی اس بات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی موجودہ صورت حال کو بہتر بنانا نہیں چاہتے۔ وہ حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور کسی بہتر صورت حال کو اپنا مدعا نہیں بناتے۔ پس یہ بات اہم ہے کہ ہم اپنے آپ کو، اپنے خاندان کو اور اپنے حالات کو بہتر بنانے کی فکر سے آغاز کریں، اگرچہ یہ کوئی روحانی محرک نہیں۔ جب ہمیں مسائل در پیش ہوتے ہیں تو ہم ان کا اعتراف کرتے ہیں، یہ جاننے کے لئے کہ ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ " کیا میں خوش ہوں؟ کیا میں ناخوش ہوں؟ کیا کوئی ایسے مسائل مجھے درپیش ہیں جو میری زندگی کو ناخوشگوار بناتے ہیں؟ "

آئندہ زندگیاں

جب ہم اپنی آئندہ زندگیوں کو اپنا مطمح نظر بنا لیتے ہیں تو اس سے اس بات کا تعیّن ہوتا ہے کہ ہم نے روحانیت میں قدم رکھا ہے۔ اس بات پر تمام صحائف متفق ہیں۔ جب ہم آئندہ زندگیوں کے بارے میں فکر کرنے لگ جاتے ہیں تو ہم ایسے مسائل سے گریز کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے موجودہ مسائل سے زیادہ سنگین ہوں۔ ہم مستقبل میں پیش آنے والے ان حالات کا تصور کرتے ہیں جو ہمارے موجودہ اعمال کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنی قیمتی انسانی زندگیوں کے بارے میں سوچتے ہیں :" میں کس قدر خوش قسمت ہوں ! میں فاقہ زدہ نہیں ہوں۔ میں کسی جنگی یا سیاسی قید خانے میں بند نہیں ہوں۔ میں ذہنی مریض نہیں ہوں۔ میں کسی ایسے وحشیانہ ماحول میں نہیں ہوں جہاں ہر کوئی ایک دوسرے پر حملہ آور ہے۔ میں نہائت خوش قسمت ہوں کہ میں ان تمام آلام سے محفوظ ہوں اور مجھے اپنے آپ کو روحانی طور پر اُجاگر کرنے کا موقع میسر ہے۔ تاہم یہ صورت حال دائم نہیں۔ موت کی آمد یقینی ہے۔ ہر بشر کو اس کا مزہ چکھنا ہے اور یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب آئے گی۔ کسی وقت بھی کوئی ٹرک مجھ سے ٹکرا سکتا ہے۔ موت سے عمر کا کوئی رشتہ نہیں۔ " مجھے جوانی میں بھی موت آ سکتی ہے۔ " پھر ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا۔ ہماری حالت بہتر بھی ہو سکتی ہے اور بدتر بھی۔ بدتر صورتیں مثلاً ایک کیڑا مکوڑا یا ایک بھوکا بھوت - یہ ہمارے اندر زبردست دہشت پیدا کرتی ہیں، خوف نہیں بلکہ دہشت۔

بدھ مت میں ہمارا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں۔ یہ کہنا کہ ہم نچلے درجہ کے جہانوں میں دوبارہ پیدا ہونے سے ڈرتے ہیں ایک مغالطہ آمیز تصور ہے۔ اس کی بجاۓ یوں کہنا کہ ہم نچلے درجہ کے پنر جنم سے خوف کھاتے ہیں زیادہ صحیح ہو گا۔ خوف من کی ایک ایسی مفلوج کن کیفیت ہے جس میں ہم کسی ایسی صورت حال جو ہمیں ناپسند ہے کے گرد ایک گہری لکیر کھینچ دیتے ہیں اور اسے نہائت خوفناک اور خطرناک شے گردانتے ہیں۔ پھر ہم جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم اس سے نمٹ نہیں پاتے۔ بدھ مت میں اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ جس بات کا ذکر ہے وہ ہے شدید خوف : یعنی کسی بھیانک صورت حال سے گریز کی تمنا۔ ڈر اور دہشت میں فرق کی مثال یوں ہے جیسے کسی نہائت مکروہ اور بیزارکن شخص کے ساتھ ایک شام گزارنے کا تصور جو شام کو نہائت ناخوشگوار بنا دے۔ ہم اس سے ڈرتے نہیں بلکہ دہشت زدہ ہوتے ہیں۔ دہشت کسی ناخوشگوار صورت حال سے گریز کی زبردست خواہش کا نام ہے۔

محفوظ راہ پر گامزن ہونا

مستقبل میں پیش آنے والے ان بدترین حالات کا خوف دل میں لئے ہم کسی محفوظ راہ کی تلاش کرتے ہیں تا کہ ہم ان حالات سے نکل سکیں۔ جو راہ ہم اختیار کرتے ہیں وہ پناہ کی راہ ہے۔ پناہ ایک ایسا محفوظ راستہ ہے جو ہم زندگی میں اختیار کرتے ہیں۔ ہم دھرم کی جانب رخ کرتے ہیں۔ مکمل دھرم وہ حالت ہے جس میں ہماری تمام خامیاں اور تمام مسائل دور ہو جاتے ہیں، اور ہماری تمام صلاحیتیں اجاگر ہو جاتی ہیں۔

دھرم سے مراد ہے حفاظتی اقدامات اٹھانا، ایسے اقدامات جو ہم مسائل سے بچنے کے لئے اٹھاتے ہیں۔ اپنے تمام مسائل سے بچنے کے لئے سب سے بڑا اور حتمی قدم جو ہم اٹھا سکتے ہیں وہ ہے اپنی ان کمزوریوں پر قابو پانا جو ان مسائل کا باعث بنتی ہیں۔ " اگر میں غصہ میں آ جاتا ہوں، ہراساں یا فکر مند ہو جاتا ہوں، تو یہ میرے لئے بہت سے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم اگر میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروۓ کار لاؤں تو میں تمام مسائل سے نمٹنے کے قابل ہو سکوں گا۔ میں ہر شخص کی احسن طریقہ سے مدد کر سکوں گا۔ جب ہمیں یہ بات سمجھ آ جاتی ہے تو پھر ہم اس سمت کو رخ کرتے ہیں۔

اس سمت راہ نوردی مثبت بھی ہے اور سود مند بھی۔ یہ وہ راہ ہے جسے مہاتما بدھوں نے اختیار کیا ہے، اور یہی وہ سمت ہے جس کی جانب سنگھا طبقہ کے لوگ رواں دواں ہیں۔ سنگھا وہ بر گزیدہ لوگ ہیں جنہوں نے حقیقت کا بلا واسطہ اور بالمشافہ مزہ چکھا ہے۔ ہمارے لئے راہب اور راہبائیں اس گروہ کے نمائیندے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے پنر جنموں میں بدتر حالات کی سمت جانے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی کو محفوظ اور مثبت راہ پر چلانا ہو گا۔

خاص طور پر ہمیں اسباب و اثرات بلحاظ اطوار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اگر ہمارا رویہ تخریبی ہو گا تو اس کا نتیجہ نقصان اور مسائل کی صورت میں نظر آۓ گا۔ ہم بہت سے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور پھر خود ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم اس بھنور میں پھنس جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم تخریبی برتاؤ سے گریز کریں اور اس کے بجاۓ تعمیری رویہ اختیار کریں تو اس طرح ہم مثبت امکانات پیدا کرتے ہیں، اور نتیجتہً مستقبل میں ہمارے حالات بہتر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنی آئندہ زندگیوں کو بہتر بنانے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

آزاد ہونے کا مصمم ارادہ

ہمارا پنر جنم خواہ کیسا ہی ہو، بے قابو،روبہ اعادہ مسائل ضرور ظہورپذیر ہوں گے – احساس شکست خوردگی، لڑائی جھگڑا، حصول مقصد میں ناکامی، غیر پسندیدہ واقعات کا ظہور، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ناگزیر ہے۔ ان مسائل کے پیدا ہونے کی وجہ ہماری اپنی ذات سے ناواقفیت، ہمارا وجود اور دوسروں کا وجود کیسے قائم ہے، اس سے عدم آگہی۔ چونکہ ہم ان باتوں سے ناواقف ہیں اس لئے ہم ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں جو عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے۔ اور پھر تحفظ حاصل کرنے کی خاطر ہم کسی شناخت کو اپنا لیتے ہیں۔ ہم اپنی شخصیت کے کسی حقیقی یا تصوراتی پہلو کو اپنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ' میں ' ہوں۔

ہم اپنے پیشہ یا کسی سماجی سرگرمی کو اپنی شناخت بنا سکتے ہیں۔ " میں ایک تاجر ہوں، یہ میری شناخت ہے " یا " میں ایک ماں ہوں " یا " میں ایک باپ ہوں۔ " ہم اپنی تمام پہچان کو اس ایک کردار سے منسوب کر دیتے ہیں مگر پھر بھی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔ ہم یا تو اپنی ان شناختوں کا دفاع کرتے ہیں یا انہیں زبردستی منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ہم نہائت ترنگ رو اور اضطراری انداز میں عمل برآ ہوتے ہیں۔ ہم لوگوں پر رعب جھاڑتے پھرتے ہیں۔ " میں ایک باپ ہوں اور تکریم کا حقدار ہوں۔ " یقیناً ہمارے بیٹے کو یہ بات سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے اور یوں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ " میں ایک خود مختارانسان ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ " بچہ اپنی شناخت ایک خود مختار کم سن نوجوان کی شکل میں بناتا ہے، مگر باپ کو اپنی شناخت برقرار رکھنی ہے، پس وہ کہتا ہے " نہیں، تمہیں میری اطاعت کرنا ہو گی۔ " ہر کوئی عدم تحفظ کا شکار ہے اور اپنی سماجی شناخت کو مزید سے مزید تر مضبوطی سے گرفت میں لئے ہوۓ ہے۔ اس سے بے قابو، رو بہ اعادہ لڑائی جھگڑے اور رنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جسے ہم سمسار یعنی بے قابو، رو بہ اعادہ مسائل کا نام دیتے ہیں۔

ہمیں اس استقلال اور تکرار پذیر مسائل کے چکر سے نجات حاصل کرنے کا مصمم ارادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے عموماً تیاگ کہا جاتا ہے جو کہ اس کا غلط مفہوم ہے۔ انگریزی میں اس سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی غار میں جا بسنا۔ مہاتما بدھ نے یہ نہیں کہا۔ ہمیں یہ تصور ایسے لوگوں کے بارے میں پڑھنے سے ملتا ہے جیسے ملاریپا جو اپنے خاندان اور گاؤں کو چھوڑ کر ایک غار میں رہنے کے لئے چلا گیا تھا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی ایسے ہی کرنا ہے۔ لیکن تیاگ کا یہ مطلب نہیں۔ اگرچہ یقیناً ہمیں اپنے اس گہرے لگاؤ اور انس کو جو ہمیں اپنی املاک سے ہے ترک کرنا ہو گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سب کچھ اٹھا کر باہر پھینک دیں۔

دراصل " تیاگ " سے مراد ہے " آزاد ہونے کا مصمم ارادہ " ۔ ہم نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ " میرے یہ تمام مسائل، میرے خاندان کے ساتھ جھگڑے، کام پر مشکلات – بس اب کافی ہو چکا ! میں تنگ آ چکا ہوں ! میں بیزار آ گیا ہوں، مجھے اس سے باہر نکلنا ہے۔ " اس بنیاد پر ہم ایسا عاقلانہ شعور بیدار کرتے ہیں جو حقیقت سے آگاہ ہے اور اس بات کو سمجھتا ہے کہ ہما را وجود کیونکر ہے، کیونکہ در حقیقت ہمارا وجود ان ٹھوس شناختوں میں مقفل نہیں۔ صورت حال اس سے کہیں زیادہ واضح اور کشادہ ہے۔ ہم ان عجیب و غریب تصوراتی ناممکن صورتوں میں نہیں بستے۔ ہم محض والدین ہی نہیں بلکہ ہم کسی کے دوست بھی ہیں اور اپنے والدین کی اولاد بھی۔ ہمارے لوگوں سے کئی رشتے ہیں۔ لہٰذا ہم آزاد ہونے کا عزم کرتے ہیں تا کہ ہم روحانی راستے پر چل کر تدبر حاصل کر سکیں۔

عالمگیر ذمہ داری

بعد ازآں ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ " اس جہاں میں اکیلا میں ہی نہیں ہوں ۔ میرے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں ۔ ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ان کے ناطے سے میرا بھی کوئی فرض بنتا ہے؟ " ہم یہ کہ سکتے ہیں۔ " نہیں، مجھے ان کی کیا پرواہ؟ میرا ان سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔ مجھے صرف اپنے لئے کام کرنا ہے۔ " مگر ایسا رویہ نہائت غیر حقیقت پسند ہو گا۔ عظیم ہندوستانی مفکر شانتی دیو نے ( اس بات کو سمجھانے کی خاطر ) ہاتھ اور پاؤں کی مثال استعمال کی ہے۔ اگر ہمارے پاؤں میں کانٹا چبھ جاۓ اور ہمارا ہاتھ پاؤں سے یہ کہے " بھائی پاؤں، یہ تمہاری بدقسمتی ہے۔ یہ تمہارا اپنا مسئلہ ہے۔ میں یہاں اوپر اپنی جگہ پر ٹھیک ٹھاک ہوں۔ " تو یہ بڑی احمقانہ بات ہو گی۔ ہاتھ کو پاؤں کی مدد کرنا ہو گی کیونکہ دونوں آپس میں متصل ہیں۔ اسی طرح ہم صرف اپنے لئے ہی کام نہیں کرتے کیونکہ ہم بہت قریب سے باقی سب انسانوں سے جڑے ہوۓ ہیں۔

ہم اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اگر ہم ان اشیا پر غور کریں جو ہمارے روزمرہ استعمال میں آتی ہیں یا جن سے ہم محظوظ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آج صبح ناشتہ میں ہم نے کیا کھایا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم نے پیالہ بھر گرم دلیہ کھایا ہو۔ یہ دلیہ کا پیالہ کہاں سے آیا؟ گندم بونے میں کئی لوگوں کا ہاتھ ہے۔ پھر بہت سے لوگوں نے اسے کاٹا اور کئی لوگوں نے اسے آٹا پیسنے کی چکی تک پہنچایا جہاں اسے پیس کر آٹا بنا۔ پھر کچھ لوگوں نے اس سے دلیہ تیار کیا اور کچھ نے اسے ڈبوں میں بند کیا۔ تو ہمارے لئے دلیہ بنانے میں یہ سب لوگ شریک تھے۔ اور پھر یہ دلیے کا ڈبہ بذریعہ ہوائی جہاز، بحری جہاز یا سڑک کے راستے یہاں تک لایا گیا۔ یہ سڑکیں کس نے بنائیں؟ ہوائی جہاز کس نے بناۓ؟ ہوائی جہاز یا ٹرک بنانے کا سامان کہاں سے آیا؟ ایندھن کہاں سے آیا؟ ذرا ان تمام ڈائناسوروں کے بارے میں سوچیں جن کے جسم گلنے سڑنے سے تیل بنا۔ دلیے کے اس ایک ڈبے کو بنانے میں کتنے ہی انسانوں اور جانوروں نے حصہ لیا۔

ہم نے دلیے کو کیسے پکایا؟ ہمارے باورچی خانہ میں یقیناً بجلی اور چولھے کے لئے گیس ہو گی۔ یہ ان لوگوں کی مرہون منت ہے جو بجلی کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ اور جو کھدائی کر کے زمین سے گیس نکالتے ہیں۔ ان سب اعمال و حرکات میں یہ اتنے سارے لوگ شامل ہیں اور ہم محض دلیے کے ایک چھوٹے سے ڈبے کی بات کر رہے ہیں۔ اور باقی سب اشیا جو ہم کھاتے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور جو کپڑے ہم پہنتے ہیں؟ اور ہمارے گھر میں جو تمام سامان بھرا پڑا ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ پیالہ جس میں میں نے دلیہ ڈال کر کھایا وہ کہاں سے آیا؟ ایک پلاسٹک یا گتے کا ڈبہ بھی تو تھا جس میں دلیہ ڈلا تھا وہ کہاں سے آیا؟ ذرا ان تمام لوگوں کے بارے میں سوچیں جو لکڑی یا پلاسٹک اور چھاپہ خانے کی صنعت سے وابسطہ ہیں جنہوں نے ڈبہ بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

ہماری روزمرہ زندگی کو آسان بنانے میں لاکھوں لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ محض اپنے لئے ہی کام کرنے کا تصور بے معنی ہے کیونکہ ہم سب آپس میں بری طرح جڑے ہوۓ ہیں۔ اگر باقی سب لوگ مصیبت میں گرفتار ہوں جبکہ ہم ٹھیک ٹھاک ہوں تو اس سے کام نہیں چلے گا۔ اسی طرح اس سے بھی کام نہیں چلے گا اگر ایٹمی جنگ کے دوران ہم ہی واحد انسان ہوں جو گیس کا ماسک چڑھاۓ کسی حفاظتی پناہ گاہ میں زندہ بچیں جبکہ باقی سب لوگ ہلاک ہو جائں۔ ایسی حالت میں ہم کتنی دیر زندہ رہ سکیں گے؟ زیادہ دیر نہیں۔ مزید یہ کہ ایسی زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہو گا۔

اس طرح ہم دوسروں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم ان کے احسانات کے بارے میں سوچتے ہیں اور انہیں لوٹانا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے لئے محبت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے خوشی، درد مندی اور مسائل سے آزادی کی نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔ علاوہ از ایں ہم اس بارے میں کچھ کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ کسی تالاب کے کنارے کھڑے، جس میں ہمارا بچہ ڈوب رہا ہو یہ کہ دینا کافی نہیں " اوہو ! کتنی شرم کی بات ہے، کاش ایسا نہ ہوتا " ۔ محض درد مندی ہی کافی نہیں۔ ہمیں درحقیقت اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔ ہمیں تالاب میں کود کر بچے کو بچانا ہے۔ ہمیں بچے کو بچانے کی ذمہ داری قبول کرنی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی عزم ہے۔ کونسا عزم :" میں دوسروں کی مدد کرنے کے لئے کچھ کروں گا۔ "

پھر ہم کہتے ہیں " کیا میں واقعی اس قابل ہوں کہ احسن طریقہ سے دوسروں کی مدد کر سکوں؟ " سچ تو یہ ہے کہ اس کا جواب ہے ' نہیں ' ۔ میں تو مشکل سے اپنے ہی کو سنبھال سکتا ہوں، تو میں کسی کی کیا مدد کروں گا؟ اس کا ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ میں خود مہاتما بدھ بن جاؤں۔ مہاتما بدھ بننے کے لئیے مجھے اپنی تمام کمزوریوں پر قابو پانا ہو گا، اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروۓ کار لانا ہو گا۔ پھر میں حتی المقدور ہر ایک کی مدد کر سکوں گا۔ اس طرح ہم بودھی چت پیدا کرتے ہیں : ہم اپنے من کو مہاتما بدھ بننے کی لگن لگا لیتے ہیں تا کہ ہم سب کی مدد کر سکیں۔ بودھی چت اجاگر کرنے کا مطلب ہے اپنے دلوں کو دوسروں کی جانب زیادہ سے زیادہ بڑھانا، اپنے دلوں میں ایسی وسعت پیدا کرنا جس کا مدعا اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروۓ کار لانا اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہو تا کہ ہم دوسروں کی احسن طریق سے مدد کر سکیں۔

یہ وہ بتدریج منازل کی راہ ہے جو ہم اپنے اندر خود پیدا کرتے ہیں۔ پہلے ہم اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری آئیندہ زندگیاں خوشگوار ہوں گی۔ پھر ہم اپنے تمام مسائل سے نجات حاصل کرنے کا پکا ارادہ کرتے ہیں۔ آخر میں ہم مہاتما بدھ بننے کے لئے اپنے دلوں کو وقف کر دیتے ہیں تا کہ ہم سب کی مدد کر سکیں۔ ہم اس ذمہ داری کی بنیاد محبت، درد مندی، دوسروں کی خوشی کی خواہش اور اس کے بارے میں فکر اور یہ کہ انہیں عدم مسرت کا سامنا نہ ہو، پر رکھتے ہیں۔

آئیندہ زندگیوں کے متعلق عدم سنجیدگی کا نتیجہ

اگر ہم مہاتما بدھ بننے کی خواہش والی آخری منزل پر، بغیر ابتدائی منازل طے کئے، چھلانگ لگا دیں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ اس صورت میں ہمارے لئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ مثلاً اس راہ میں پہلا اہم قدم یہ ہے کہ آئیندہ زندگیوں کے بارے میں غور کرنا اور انہیں اہم خیال کرنا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم نے ان کے بارے میں زیادہ غور نہ کیا ہو، یا اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی ہو، یا ہم نے اس کے بارے میں بغیر دلی توجہ کے کوئی دھندلا سا تصور قائم کر لیا ہو۔ اگر ہم نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ ہماری لاتعداد زندگیاں ہیں تو ہم یوں سوچ سکتے ہیں " میرے تعلقات فلاں شخص کے ساتھ خوشگوار نہیں۔ کیوں نہ میں اسے چھوڑ کر کسی اور سے تعلقات استوار کر لوں؟ " ہم اس قسم کا رویہ ان لوگوں کے بارے میں اختیار کر سکتے ہیں جنہیں ہم اچھی طرح نہیں جانتے، یا ہمارے وہ دوست جن سے تعلقات کشیدہ ہیں اور ہم ان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہمارا دل اپنے شریک حیات سے بھر جاتا ہے یا ان کے ساتھ مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں تو ہم نیا شوہر یا نئی بیوی تلاش کر لیتے ہیں۔ بعض ممالک میں طلاق کی شرح ۵۰ فیصد ہے۔ یہ سچ مچ بڑے افسوس اور اچنبھے کی بات ہے۔

اس کے پس پشت کیا ہے؟ اس کے پیچھے یہ سوچ ہے کہ ہمارا دوسروں سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا ہم انہیں باسی گوبھی کی طرح باہر پھینک سکتے ہیں۔ " خوب، میں اس شخص کی مزید کوئی مدد نہیں کروں گا۔ میں اسے بس ایک طرف دھکیل سکتا ہوں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ " لیکن اگر ہم نے آئیندہ، لاانتہا زندگیوں کے بارے میں سوچا ہے تو پھر ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی انسان کے ساتھ اپنے رشتہ کو ختم نہیں کر سکتے۔ اگر تعلقات اچھے نہیں تو ہم اس شخص کو نظر انداز کر کے اور آئیندہ اس سے کبھی نہ مل کر تعلق کو توڑ نہیں سکتے۔ اگر ہم نے ابھی اس زندگی میں اس مسئلے کو حل نہ کیا تو پھر آئیندہ زندگیوں میں ایسے ہی مسائل بار بار پیش آئیں گے۔ اگر ہمیں اس شخص سے ابھی کچھ شکائت ہے اور ہم اس سے تعلقات منقطع کر دیں تو پھر آئیندہ زندگیوں میں ہمیں اس سے بےحد مشابہ کسی شخص سے واسطہ پڑے گا جو کہ اس شخص کے ( وجود کے ) تسلسل کی صورت ہو گا اور ہمیں پھر سے انہی مشکلات اور مسائل کا سامنا ہو گا۔ ہم اس سے بچ نہیں سکتے۔

اگر ہمیں کسی شخص سے شکائت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہنا ہے۔ بعض اوقات یہ مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ہمیں صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے، یا پھر کسی خوشگوار موڑ پر تعلق توڑنا چاہئے۔ ہمیں اس صورت حال کو ذرا بہتر بنانا چاہئے کیونکہ ہماری آئیندہ زندگیوں میں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اس وقت اس مسئلہ سے اچھی طرح نمٹنے کے قابل نہیں مگر امید کی جاتی ہے کہ آئیندہ زندگیوں میں ہم اس قابل ہو جائیں گے۔

جس وقت ہم اپنے دلوں میں سب کے لئے جگہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور مہاتما بدھیت کے مقام پر پہنچنے کی لگن میں لگے ہوتے ہیں تا کہ ہم سب کی مدد کر سکیں تو اس وقت اگر ہم اپنی آئیندہ زندگیوں کو مدنظر رکھیں تو یہ نہائت فائدہ مند ثابت ہو گا۔ لیکن اگر ہم ایسا نہ کریں تو پھر ہمیں یہ مسئلہ پیش آسکتا ہے۔ " میں اپنے دل میں سب کے لئے جگہ بنا رہا ہوں مگر میں فلاں شخص کو پسند نہیں کرتا لہٰذا میں اسے نظر انداز کر کے دوسرے کچھ اور لوگوں کے ساتھ معاملہ رکھوں گا۔ " جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ہم کسی سے بچ نہیں سکتے اور یہ کہ آئیندہ زندگیوں میں ہمارا ان لوگوں سے واسطہ پڑتا رہے گا تو اس سے ہمیں دوسروں تک رسائی میں مدد ملتی ہے۔ لہٰذا ہمیں ان سے ابھی معاملہ نمٹا لینا چاہئے۔ ہمیں ہر شخص کے لئے اپنے دل میں مزید محبت، مزید گرمجوشی اور مزید شفقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک اہم بات ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اکثر ہم اپنی شناخت اپنے چھوٹے گروہوں کے حوالے سے کرتے ہیں۔ ہم اپنی شناخت محض امریکن، چینی، بدھ متی یا اپنے خاندان، اپنی جنس، یا اپنے ہم عمر نوجوان، بالغان، یا بزرگان سے کرتے ہیں اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ " میں صرف اپنے گروہ کے لوگوں سے ہی تعلق رکھ سکتا ہوں۔ میں صرف انہی کے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔ لہٰذا میں صرف انہی کی مدد کر سکتا ہوں۔ میں افریقہ کے لوگوں کو کیسے سمجھ سکتا ہوں؟ " " میں صرف بدھ متی لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں کیونکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو سمجھنا نا ممکن بات ہے۔ " میں صرف مردوں کی مدد کر سکتا ہوں کیونکہ مجھے عورتوں کے بارے میں کیا علم؟ " میں صرف عورتوں کی ہی مدد کر سکتی ہوں کیونکہ تمام مرد شاونیت میں مبتلا ہیں اور وہ مجھ سے بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔ میں کیسے ان کی بات کو سمجھ سکتی ہوں؟ " " میں صرف نوجوانوں کو سمجھ سکتا ہوں اور ان کی مدد کر سکتا ہوں کیونکہ والدین کو کیا معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ نہیں سمجھ سکتے۔ " " میں صرف پختہ ذہن بالغوں کی مدد کر سکتا ہوں کیونکہ تمام نوجوان بگڑے ہوۓ ہیں اور آُپ انہیں کچھ نہیں کہ سکتے۔ "

جب ہم محض اس زندگی اور اس کے مخصوص مسائل جو کہ ہمیں عمر، جنس، خاندان، ملک وغیرہ کے حوالے سے درپیش ہیں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم اپنے گرد حدود قائم کر لیتے ہیں۔ اگر ہم لاتعداد زندگیوں کے بارے میں سوچیں - آنے والی زندگیاں اور گزشتہ زندگیاں – تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں " میں نے عمر کے ہر حصے کا مزہ چکھا ہے۔ میں جوان بھی رہ چکا ہوں اور ادھیڑ عمر بھی، اور ضعیف بھی۔ میں ہر عمر کے لوگوں کو سمجھتا ہوں کیونکہ مجھے عمر کے ہر حصے کا ذاتی تجربہ ہے۔ میں ان کے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔ میں نے ہر نسل اور ہر قومیت کا مزہ چکھا ہے۔ میں ہر تہذیب و تمدن میں رہ چکا ہوں۔ " یہ احساس ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم سب طرح کے لوگوں کو سمجھ سکیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ ناطہ محسوس کریں۔

ہم اس خیال کو مزید پروان چڑھا سکتے ہیں، یہ بات ذہن میں رکھتے ہوۓ، کہ گزشتہ زندگیوں میں ہم جانور کی صورت میں بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ " جب کسی نے مجھے ٹھوکر ماری یا مجھے روندا کچلا تو مجھے کیسا لگا؟ " اس طرح ہمیں یاد رہے گا کہ جانور بھی دکھ سکھ کا مزہ چکھتے ہیں اور یوں ہم ان کے ساتھ برتاؤ میں مزید احتیاط برتتے ہیں۔

لہٰذا گذشتہ اور مستقبل کی زندگیوں کو ذہن میں رکھنا ہمیں سب سے تعلق کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ اس طرح ہم دونوں جنسوں کے تمام لوگوں سے تعلق کو محسوس کر سکتے ہیں۔ " میں ماضی میں مرد اور عورت دونوں روپ میں آ چکا ہوں۔ " اس طرح ہم تمام گروہوں کے مسائل اور معاملات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور ان کی اہمیت کو پہچان سکتے ہیں۔ یہ سوچ سب کی مدد کرنے کی خاطر اپنے دلوں میں جگہ پیدا کرنے اور بدھ متیت تک پہنچنے میں، تا کہ یہ کام بخوبی سرانجام دیا جا سکے، نہائت معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ چند ایک اہم باتیں ہیں جو آئیندہ زندگیوں کے بارے میں سوچنے سے سامنے آتی ہیں۔ ان کے بغیر ہمارا اپنے دلوں کو کشادہ کرنا بہت محدود ہو جاتا ہے

عزم رہائی کی عدم موجودگی میں

جب ہم اپنے دلوں کو دوسروں کی خدمت کے لئے وقف کرتے ہیں تو اس کا ایک بڑا اور اہم پہلو آزادی کی خواہش ہے۔ جب ہم دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف ہوتے ہیں تو اکثر اس کی بنیاد بعض نیوراتی عناصر ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کی مدد اس لئے کرتے ہیں تا کہ ہمیں پیار ملے۔ " میں تمہاری مدد کروں گا تا کہ میں بہت مقبول ہو جاؤں۔ " " سب لوگ مجھے پیار کرتے ہیں کیونکہ میں فلاں شخص کی مدد کر رہا ہوں۔ میں یہ کام اس لئے کر رہا ہوں تا کہ لوگ مجھ سے پیار کریں اور میری قدر کریں۔ "" میں یہ کام اس لئے کر رہا ہوں کہ اس طرح سب لوگ یہ سوچیں گے کہ میں کتنا اچھا انسان ہوں۔ اس طرح میری نیک نامی ہو گی۔ " " میں یہ کام اس لئے کر رہا ہوں کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میری بدنامی ہو گی اور لوگ میرے بارے میں برا سوچیں گے۔ ایسا کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ " یا ہم اہم محسوس کرنا چاہتے ہیں :" میں تمہاری مدد کروں گا تا کہ میں اپنے آپ کو اہم سمجھوں۔ میں یہ جو مدد کر رہا ہوں اس کے بدلے میں مجھے پیار ملے گا۔ " بعض اوقات والدین یوں سوچتے ہیں :" میرے بچے خواہ تیس یا چالیس سال کے بھی ہو جائیں میں انہیں بتاؤں گی کہ انہیں کیا پہننا ہے اور کیا کھانا ہے۔ اس طرح میں اپنے آپ کو اہم محسوس کروں گی۔ اس طرح مجھے اپنے کارآمد ہونے کا احساس ہو گا۔ اور یہ کہ میرے بچوں کی زندگیوں میں میرا بھی ہاتھ ہے، میری بھی اہمیت ہے۔ " دوسروں کی مدد اپنی اہمیت جتانے کی خاطر کرنا دوسروں سے ناجائز فائدہ اٹھانے والی بات ہے۔

اگر ہمارے اندر ( ان عناصر سے ) رہائی حاصل کرنے کا عزم موجود ہے تو ہم ان تمام بے قابو،اضطراری، رو بہ اعادہ حالات اور ان سب جذباتی تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں اور ان سے پیدا شدہ مسائل کو بھی دیکھتے ہیں۔ پھر ہم ان سے رہائی پانے کا ارادہ کرتے ہیں۔ " بہت ہو چکا ! مجھے اس سے باہر نکلنا ہے۔ یہ نہائت مضحکہ خیز بات ہے۔ اس سے مجھے بے حد پریشانی، خوف اور تناؤ محسوس ہو رہا ہے۔ "

جب ہم آزاد ہونے کا عزم کرتے ہیں تو ہم ان لوگوں سے جن کی ہم مدد کر رہے ہیں ہر طرح کے نیوراتی معاملہ سے بھی نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ " میں لوگوں کی اس لئے مدد کر رہا ہوں تا کہ لوگ یہ سوچیں کہ میں ایک بڑھیا انسان ہوں۔ مجھے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ یہ شخص میرے بارے میں کیا سوچتا ہے، وہ شخص میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ میں صرف اس وقت کسی کی مدد کرتا ہوں جب کوئی مجھے دیکھ رہا ہو تا کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس بارے میں بتا سکے۔ میں یہ کام لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے کرتا ہوں۔ میں یقیناً خیرات چوری چھپے نہیں دیتا۔ میں یہ اس لئے کرتا ہوں تا کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ میں نے خیرات دی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اپنے نام کی تختی بنا کر رکھوں گا جو یہ ظاہر کرے کہ میں نے اتنی رقم دی ہے۔ " اگر ہمارا مطمح نظر رہائی حاصل کرنا ہے تو ہم اس سوچ کا نقصان دیکھ سکتے ہیں۔ " میں دوسروں کی مدد کر رہا ہوں تا کہ وہ میرے محتاج رہیں اور میں اہم محسوس کروں۔ " اگر ہم ان مسائل سے رہائی کا مصمم عزم کئے ہوۓ ہیں تو ہم ان سربستہ محرکات کو دوسروں کی مدد کرنے کی خاطر ترک کر دیتے ہیں۔

اگر ہم انہیں فوری طور پر نہ بھی ختم کر سکیں تو بھی ہم کم از کم یہ جان لیتے ہیں کہ نیوراتی محرکات کے تحت دوسروں کی مدد کرنا مسائل پیدا کرتا ہے۔ ایک وقت آۓ گا جب دوسرا شخص اس بات سے متنفر ہو گا۔ اسے اس بات کا احساس ہو گا کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ہم سے معاندانہ انداز میں پوچھ گچھ بھی کرے۔ اس سے ہماری دوسروں کی مدد کرنے کی کوششوں پر پانی پھر جاۓ گا۔ نہ صرف ہمارے نیوراتی محرکات بلکہ ہمارے دوسروں کی مدد کرنے کے افعال پر شبہ پڑنے سے ہو سکتا ہے کہ ہم مدد کرنے کی کوشش تک سے دستبردار ہو جائیں۔

ہمارے جو بھی نیوراتی محرکات ہیں ہمیں ان سے نجات حاصل کرنا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس تمام پریشانی اور فریب کاری، جو اس وقت وقوع پذیر ہوتی ہے جب ہم بدنیتی سے کام لے رہے ہوتے ہیں، سے نجات پانے کا پکا ارادہ کیا جاۓ۔ اس آزادی کے عزم کو پروان چڑھانا نہائت ضروری ہے تا کہ ہمارا دوسروں کے ساتھ معاملہ اتنی شدت سے نیوراتی محرکات کا شکار نہ ہو۔ گو کہ یہ نہائت اہم بات ہے پھر بھی ہم اسے نظر انداز کرنے کا رحجان رکھتے ہیں۔

اپنی اصلاح کا عمل

دھرم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، ان کی اصلاح کریں اور اچھے گنوں کو پروان چڑھائیں۔ اپنی اصلاح کے دوران ہم ترقی کی بتدریج منازل سے گزرتے ہیں اور اپنے تجربات کو اپنے آپ کو سمجھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں اپنے شریک حیات یا بچوں کو ستانے کی عادت ہے " تم ایسے کیوں نہیں کرتے؟ تم ویسے کیوں نہیں کرتے؟ تم وقت پر گھر کیوں نہیں آۓ؟ تم نے فون کیوں نہیں کیا؟ تم نے کوڑا باہر کیوں نہیں پھینکا؟ " وغیرہ، وغیرہ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ رویہ نہائت تخریبی ہے۔ اس سے تعلقات میں بہت کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا غالباً نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارے شریک حیات اور ہمارے بچے سرد مہر اور کشیدہ خاطر ہو جائیں گے اور کہیں گے، " مجھے تنہا چھوڑ دو۔ " یا اگر وہ اتنے جرأت مند نہیں تو وہ ہمیں نظر انداز کر دیں گے اور مکمل سرد مہری کا مظاہرہ کریں گے۔ پھر ہم یوں کہیں گے " تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے؟ تم یہ کیوں نہیں کرتے؟ تم وہ کیوں نہیں کرتے؟ " اور وہ اور بھی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور قطعاً گھر کا رخ نہیں کرتے۔ اس سے بے حد رنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اسے ختم کرنے کے لئے ہم عموماً کیا کرتے ہیں؟

سب سے اول تو ہم ضبط نفس آزماتے ہیں۔ " میں جانتا ہوں کہ مجھے یوں نہیں کہنا چاہئے، پس میں آئیند ایسے نہیں کہوں گا۔ " ہم سختی سے اپنا محاسبہ کرتے ہیں، مگر عام طور پر ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہم پھر وہی شکوہ شکائت کر رہے ہیں۔ " میں عقلاً اس بات کو سمجھتا ہوں کہ مجھے شکائت نہیں کرنی چاہئے مگر میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ میں اسے ختم کر سکوں۔ " پھر ہمیں اپنے آپ پر غصہ آتا ہے۔ " یہ بہت بری بات ہے ! میں نے اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی مگر میں ناکام رہا۔ " ایسے غصے کی حالت میں اپنے آپ کو بدلنا یا اپنی اصلاح کرنا نہائت مشکل کام ہے کیونکہ ہم بے حد غصہ میں ہیں۔

غصہ بہت جلد احساس جرم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ " میں نے معاملہ بگاڑ دیا۔ میں اپنے آپ کو مجرم محسوس کرتا ہوں۔ میں بہت برا ہوں۔ مجھے گلہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میں نے ایک اور فساد مچا دیا۔ " احساس جرم من کی ایک بہت بدصورت اور افسوسناک حالت ہے جس میں ہم اپنے آپ کو ایک شرارتی بچہ تصور کرتے ہیں۔ " میں بہت زیادہ شیطان ہوں۔ دیکھو میں نے کیا کر ڈالا ! میرے ماں باپ اب مجھے اچھا نہیں جانیں گے۔ " ہم برا محسوس کرتے ہیں۔ ہم جس قدر زیادہ احساس جرم میں مبتلا ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم اپنے آپ کو ایک شریر بچہ تصور کرتے ہیں۔ اور جتنا زیادہ ہم اپنے آپ کو ایک شرارتی بچہ سمجھتے ہیں اتنا ہی ہم احساس جرم کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا موذی چکر ہے۔ میں پھر یہ کہنا چاہوں گا کہ جب ہم احساس جرم میں مبتلا ہوتے ہیں تو ہمارے لئے حالات کو تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

پھر ہم احساس جرم سے اگلی منزل پر قدم رکھتے ہیں جو ہے ذہنی اکتاہٹ۔ " میں ان جھگڑوں سے بے حد تنگ آ چکا ہوں ۔ میں ان تمام حالات سے جو میرے گلہ شکوہ کرنے اور اس کے جواب میں میرے شریک حیات یا بچوں کے مجھ سے قطع کلامی اور مجھے شکائت نہ کرنے کی تلقین کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں ( ان سب سے ) بیزار آ گیا ہوں۔ میں اس سے تنگ آ چکا ہوں۔ میرا اس سے جی بھر گیا ہے۔ بہت ہو چکا ! مجھے اس سے باہر نکلنا ہے۔ "

آزادی حاصل کرنے کے عزم کو استوار کرنے کے لئے ہمیں یہ اقدامات اٹھانا ہوتے ہیں۔ جب ہم خود سے ناراض ہوں تو ہم تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح جب ہم احساس جرم میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس وقت بھی ہم اپنے آپ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ ہم اس وقت تبدیل ہوتے ہیں جب ہم ذہنی اکتاہٹ محسوس کریں۔ " یہ سراسر حماقت ہے۔ " یہ وہ مقام ہے جس پر ہم اس ( حالت ) سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر ہم نے اپنی اصلاح کی یہ تمام منازل طے نہیں کیں تو ایسی حالت میں جب ہم دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ معاملہ میں ان تخریبی جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بڑی ناانصافی کی بات ہے۔ مثال کے طور پر میں کسی شخص کی مدد کرنا چاہ رہا ہوں اور سب سے پہلا کام یہ کرتا ہوں کہ اس شخص کو ڈرا دھمکا کر اس کام پر مجبور کرتا ہوں۔ " میں اپنے آپ پر ضبط نفس کی مشق کرنا چاہتا ہوں تو تمہیں بھی اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہو گا۔ تمہیں فلاں فلاں کام کرنا بند کر دینا ہو گا۔ "

اکثر ہم اپنے بچوں کے ساتھ اس طرح پیش آتے ہیں۔ انہیں ڈرانا دھمکانا اور ان پر اپنی مرضی ٹھونسنا اور انہیں اپنے قابو میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔ کوئی شخص بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس سے بچوں جیسا سلوک کیا جاۓ خصوصاً جب وہ ہمارا بچہ نہ ہو۔

کوئی بھی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ اسے ڈرا دھمکا کر اپنے آپ کو تبدیل کرنے یا اپنی اصلاح کرنے پر مجبور کیا جاۓ۔ جب ہم دوسروں کو کچھ کرنے پر مجبور کرتے ہیں، " تمہیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہے۔ تمہیں سکول جانا چاہئے۔ تمہیں کوئی ملازمت ڈھونڈنی چاہئے۔ تمہیں یہ کرنا ہے، تمہیں وہ کرنا ہے " تو اس طرح ہم بہت زیادہ طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم بہت زیادہ قوت و اختیار کے زعم میں ہوتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ وہ شخص ہمارے مشورہ پر عمل نہیں کرتا اور نہ ہی ہماری مدد جو ہم اسے دینا چاہتے ہیں کو قبول کرتا ہے۔ تو جیسے ہمیں اپنے اوپر غصہ آ سکتا تھا اب ہم اس شخص پر غصہ کرتے ہیں۔ " ارے او ناہنجار انسان ! میں نے تمہیں ایسا کرنے کو کہا تھا اور تم نے نہیں کیا۔ دیکھو تو ذرا تم نے اپنے لئے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کر دی !" ایسا کوئی شخص جس کی ہم مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے ساتھ یہ کوئی مثالی مکالمہ نہیں۔ کسی ایسے شخص سے ناراض ہونا جو ہماری بات نہ مانے بہت زیادہ عداوت پیدا کرتا ہے۔

پھر ہم اگلا قدم اٹھاتے ہیں۔ جیسے ہم احساس جرم میں مبتلا ہوۓ تھے اب ہم اس شخص کو جرم کا احساس دلاتے ہیں۔ " میں تمہارے لئے جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تم اس کی قدر نہیں کرتے۔ دیکھو ذرا میں نے تمہاری خاطر کتنی تکلیف اٹھائی ہے ! تم کم از کم اتنا تو کر سکتے تھے کہ اس کی قدر کرتے یا پھر کوشش تو کرتے !" ہم والدین کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسے جرم کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے بعد ہم اگلی منزل کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ " میں خود ان سب مسائل اور مشکلات سے جو مجھے درپیش ہیں سخت تنگ آ چکا ہوں۔ مجھے ان سے چھٹکارا پانا ہے۔ " اسی طرح ہم دوسرے انسان کے بارے میں سوچتے ہیں۔ " ہمیں اس سے باہر نکلنا ہے۔ یہ درحقیقت بہت بڑا بوجھ ہے۔ " اس طرح ہم اس انسان کی مدد کرتے ہیں۔ جس طرح ہمیں یہ احساس ہوا تھا کہ ہمیں مسائل سے چھٹکارا پانا ہے اسی طرح ہم اس شخص کے لئے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ اسے مسائل سے نجات دلانے میں اس کی مدد کریں گے۔ یہ نہائت اہم کام ہے۔ اگر ہم نے یہ منازل خود اپنے تجربے سے طے نہیں کیں تو جب ہم دوسرے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اپنے یہ سب مسائل اس پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم انہیں ڈرا دھمکا کر یا ان سے ناراضگی کا اظہار کر کے یا انہیں احساس جرم میں مبتلا کر کے انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ دوسروں کی مدد کرنے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹیں ہیں۔

عزت نفس

دوسروں کی مدد کرنے کے سلسلہ میں ایک اور پہلو جس سے ہمیں آگاہ رہنا چاہئے وہ وہ صورت حال ہے جب کوئی شخص ہمارے پاس اپنا مسئلہ لیکر آتا ہے، اپنی بپتا بیان کرتا ہے اور کچھ عرصہ بعد ہم اس سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ یہ ٹیلیوژن کے ایک غیر دلچسپ پروگرام کی مانند ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ سٹیشن کو تبدیل کر دیں اور کوئی دوسرا پروگرام دیکھیں کیونکہ یہ ایک نہائت ناخوشگوار، غیردلچسپ پروگرام ہے۔ یہ صورت حال اس لئے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ہم اس شخص کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وہ شخص کسی مسئلہ کی بات کر رہا ہے اور ہم یوں سوچ رہے ہیں " یہ ٹیلیوژن کا پروگرام بہت لمبا ہو گیا۔ مجھے تو بھوک لگ رہی ہے۔ میں بٹن دبا کر ٹیلیوژن کو بند کرنے لگا ہوں۔ " ہم اس شخص کی بات پر سنجیدگی سے غور نہیں کر رہے حالانکہ اس کے لئے ان مسائل کا وجود حقیقی ہے اور تکلیف دہ ہے۔ بیشتر اوقات ہم دوسروں کے مسائل کو اہمیت نہیں دیتے کیونکہ اس راہ کی گذشتہ منازل طے کرتے وقت ہم نے اپنے آپ کو بھی اہمیت نہیں دی تھی۔

اپنے آپ کو اہم سمجھنا، اپنے مسائل کو سمجھنا اور ان سے نمٹنے کی کوشش کرنا نہائت اہم امر ہے۔ اگر ہم خود کو اور اپنے مسائل کو اہمیت نہیں دیتے تو ہم کسی دوسرے شخص کو اور اس کے مسائل کو کیونکر اہمیت دیں گے؟ اگر ہمیں اپنی خوشی کی پرواہ نہیں تو ہم ایک ایسا من کیسے پروان چڑھا سکتے ہیں جو دوسروں کی خوشی کا خواہاں ہو؟

اپنے بارے میں فکر سے مراد خود غرضی نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں " مجھے دس لاکھ ڈالر حاصل کرنا ہیں تا کہ میں یہ وہ، سب کچھ خرید سکوں۔ " اس کا مطلب ہے کہ ہمیں بطور انسان اپنی عزت کرنا ہے۔

کئی لوگ اپنے بارے میں منفی سوچ اور رویہ رکھتے ہیں۔ وہ یوں محسوس کرتے ہیں " میں ایک اچھا انسان نہیں ہوں۔ مجھے خوش ہونے کا کوئی حق نہیں۔ میں دوسروں کے پیار کا حقدار نہیں۔ " اگر ہم اپنے بارے میں یوں محسوس کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے " اگر مجھے خوش ہونے کا کوئی حق نہیں تو تم کیسے خوشی کے حقدار ہو سکتے ہو؟ " البتہ اگر ہم اپنے آپ پر غور کریں اور یہ سوچیں " میری مہاتما بدھ جیسی فطرت ہے۔ میں ان تمام عناصر کا حامل ہوں جو مجھے اس قابل بناتے ہیں کہ میں ترقی کروں، ( اپنے من کو ) پروان چڑھاؤں اور مہاتما بدھ بن جاؤں تا کہ ہر ایک کی مدد کرنے کے قابل ہو جاؤں : میرا ایک من ہے۔ میرے اندر توانائی ہے۔ میرے اندر تکلم کی صلاحیت ہے۔ میرے اندر ایک کسی قدر اچھا دل ہے۔ ان سب خوبیوں کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ پس یقیناً مجھے خوش رہنے کا حق ہے۔ میں ایک اچھی زندگی کا حقدار ہوں۔ "

اس طرح ہم اپنے آپ کو اہم جانتے ہیں اور اپنے آپ کو عزت دیتے ہیں۔ ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں " میں خوشی کا برحق حقدار ہوں اور مجھے اپنے مسائل سے نجات حاصل کرنا ہے۔ " اس بات کو بنیاد بنا کر ہم یہ عزت دوسروں کو بھی منتقل کر سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر بھی اصلاح و ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے اندر بھی مہاتما بدھ کی فطرت پائی جاتی ہے۔ ان کے اندر تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس بنا پر انہیں بھی خوش رہنے اور تمام مسائل سے نجات پانے کا حق حاصل ہے۔ یوں ہم انہیں اہم جانتے ہیں۔

شروع سے لیکر

یہ وہ چند ایک بڑے عناصر ہیں جو اس وقت اہم ہیں جب ہم ایک بودھی چت ترغیب پیدا کر رہے ہوتے ہیں تا کہ دوسروں کی مدد کر سکیں اور اپنے اندر روشن ضمیری پیدا کر سکیں تا کہ دوسروں کو حتی المقدور فائدہ پہنچا سکیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شروع میں ہم دوسروں کی مدد نہیں کر رہے تھے، یا کہ ہمیں محض اپنی اصلاح و ترقی پر کام کرنا چاہئے اور پھر جب ہم اس ترقی یافتہ مقام پر پہنچ جائیں تو تب ہی دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہوں گے۔ مہایانہ نقطۂ نظر سے ہم شروع سے ہی دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ تاہم ایسا کرتے وقت یوں نہیں سوچتے " میں تمام ابتدائی منازل کو نظر انداز کر کے دوسروں کی مدد کرنے میں لگ سکتا ہوں۔ " ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروۓ کار لا کر مدد کرتے ہیں۔ یہ بدھ مت طریقہ کے مطابق ضروری ہے۔

بہرصورت اس دوران جبکہ ہم حتی المقدور دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف ہوں ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ہم اپنے اندر ابتدائی، اولین یا بنیادی ترغیبات اور تجربات کو پروان چڑھائیں۔ کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو جب ہم دوسروں کی مدد کرنا چاہیں گے تو ممکن ہے کہ ہمیں مسائل کا سامنا ہو۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہمیں دوسروں کے ساتھ مسائل پیش آ رہے ہیں تو ہم انہیں نظر انداز کر دیں۔ مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہماری لاتعداد زندگیاں ہیں اور ہمارا ان سے پھر سامنا ہو گا۔ یا ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہم صرف اپنے ہم عمر لوگ جو ہماری تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ درست نہیں۔ ہم نے ہر روپ دیکھا ہے۔ ہم نے عمر کے تمام حصوں، تمام تہذیبوں اور دونوں جنسوں کا مزہ چکھا ہے۔ پس ہم ہر شخص کی بات کو سمجھ سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ ہم محض اس محرک کے تحت دوسروں کی مدد نہیں کرتے کہ ہمیں پیار ملے، ہم اہم محسوس کریں یا یہ کہ ہماری ضرورت محسوس کی جاۓ۔ ہمارا عزم یہ ہے کہ ان نیوراتی باہمی معاملات سے آزاد ہوں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان سے بےقابو، رو بہ اعادہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جب ہم دوسروں کی مدد کر رہے ہوں تو ہم طاقت اور اختیار کا اظہار نہیں کریں گے اور نہ ہی ان پر اپنی نصیحت ٹھونسنے کے لئے انہیں ڈرائیں دھمکائیں گے۔ اگر وہ ہمارے مشورے پر عمل نہیں کرتے تو ہم نہ تو ان سے ناراض ہوں گے اور نہ ہی انہیں جرم کا احساس دلائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اصلاح کی تمام منازل طے کی ہیں : ہم نے ضبط نفس کی مشق کی، ہم نے اپنے اوپر غصہ کیا، ہم احساس جرم میں مبتلا ہوۓ، پھر ہم اس قدر تنگ آگۓ کہ ہم نے رہائی حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے اس سے نجات حاصل کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ ان حالات سے گذرنے کے بعد ہم دوسروں پر اس کو طاری نہیں کریں گے۔

اس سارے سلسلہ کے دوران ہم نے اپنے آپ کو اہم سمجھا۔ ہم اپنی مہاتما بدھ جیسی فطرت کے معترف ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور عناصر موجود ہیں جو ہمیں ترقی کرنے، روشن ضمیری حاصل کرنے اور سب کی مدد کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اپنے آپ کو سنجیدگی سے جاننے کی وجہ سے ہمارے اندر عزت نفس کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ بدھ مت میں کسی کی عزت کرنے کا مطلب اس شخص سے ڈرنا نہیں۔ عزت کا مطلب ہے " میں اپنے آپ کو اہم خیال کرتا ہوں اور اپنے بارے میں مثبت راۓ رکھتا ہوں۔ مجھے خوشی کا حق حاصل ہے۔ " پھر ہم دوسروں کے بارے میں بھی خلوص نیتی کے ساتھ یہی رویہ اختیار کریں گے :" میں آپ کی بھی عزت کرتا ہوں۔ میں اس بات کا احترام کرتا ہوں کہ آپ کی فطرت بھی مہاتما بدھ جیسی ہے۔ اگرچہ اس وقت آپ ایک احمق انسان جیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ تاہم میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے اندر ایک درد مند اور ذی شعور انسان بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ جس طرح میں اپنے مسائل کو اہم سمجھتا ہوں ویسے ہی میں آپ کے مسائل کو اہمیت دیتا ہوں۔ جیسا میں نے دیکھا کہ میرے مسائل تکلیف دہ ہیں اسی طرح میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کے مسائل بھی آپ کو پریشان کرتے ہیں۔ " ایسا رویہ ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم دوسروں کی بہت ٹھوس طریقہ سے مدد کر سکیں اور انہیں فائدہ پہنچا سکیں۔

کرم کی سوجھ بوجھ

مصیبت کا ایک منبہ وہ ہے جب ہم کسی کی مدد کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کوشش سودمند ثابت نہیں ہوتی، تو ہم دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک بدترین مثال یہ ہے کہ ہم اپنے خاندان کے کسی فرد کی مدد کی کوشش کر رہے ہوں اور وہ خود کشی کر لے۔ یہ ایک بھیانک صورت حال ہے، اور ایسی صورت میں اپنے آپ کو مورد الزام ٹھرانا آسان ہے۔ " کاش میں نے ایسے یا ویسے کیا ہوتا تو پھر یہ شخص خودکشی نہ کرتا۔ " ایک بودھی ستوا کا کردار ادا کرنے کی کوشش میں ہم بے حد دل برداشتہ ہو سکتے ہیں۔ جب ہمیں یوں محسوس ہو کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں تو ہم اپنے آپ کو اس قدر مجرم اور برا محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہمارے راستہ کی بہت بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نامناسب کردار کو نمونہ بنا لیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم خدا ہیں یا یہ کہ ہمیں خدا ہونا چاہئے تھا تا کہ ہم کسی کے ساتھ کچھ ہونے کو روک سکتے۔ بدھ مت میں ہم کہتے ہیں " ایسا ممکن نہیں۔ کوئی بھی قادرمطلق نہیں۔ اس جہاں میں توانائی کی ایک محدود مقدار ہے۔ " سائینسدان بھی اس بات سے متفق ہیں۔ اس جہان میں موجود توانائی کا ایک پہلو مہاتما بدھ کے اعمال کی قوت ہے اور یہ روشن ضمیری کی وہ قوت ہے جو مہاتما بدھ کسی کو بھی عطا کر سکتا ہے۔ توانائی کا دوسرا پہلو وہ محرکات ہیں جو لوگوں کے من میں پیدا ہوتے ہیں، جسے بہ الفاظ دیگر ہم کرم کہتے ہیں۔ کرم سے مراد وہ ترغیبات ہیں جو ہمارے من میں ہماری گذشتہ عادات کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہیں۔ چونکہ اس عالم میں توانائی کی مقدار محدود ہے اس لئے ایک قسم دوسری پر سبقت نہیں لے سکتی۔ ایک مہاتما بدھ یا ایک بودھی ستوا صرف اتنا ہی کر سکتا ہے کہ کسی شخص پر مثبت اثر ڈالنے کی کوشش کرے۔ وہ کسی کو کچھ کرنے سے روک نہیں سکتا۔ اگر کسی کے من میں خود کشی کی زبردست ترغیب پائی جاتی ہے تو وہ شخص یہ کام ہر حال کر گزرے گا۔

ایک بار جب میں ہندوستان میں دھرم شالہ میں تھا تو ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ اس لائبریری کے سامنے جہاں میں کام کرتا تھا نالی میں ایک چوہا ڈوب رہا تھا۔ میرے ایک دوست نے اس چوہے کو پانی سے نکالا اور ہوش سنبھالنے کی خاطر اسے زمین پر رکھ دیا۔ جونہی میرا دوست وہاں سے آگے بڑھا عین اس دم ایک عقاب نے جھپٹا مارا اور چوہے کو لے اڑا۔

اس مثال سے ہم نے یہ نہیں سیکھنا کہ ہم کسی کی مدد اس لئے نہیں کر سکتے کیونکہ جو کچھ ہونا ہے یہ اس کا کرم ہے۔ یہ مت سوچو کہ کرم قسمت ہے۔ " یہ چوہے کی تقدیر ہے کہ اس کی موت آئی ہوئی ہے۔ مجھے اس کی مدد اس لئے نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ چوہے کا کرم ہے کہ اسے مرنا ہے۔ " ہم اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں۔ جس شخص کی ہم مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر اس کے ہاں مدد قبول کرنے کا کوئی امکان موجود ہے تو پھر ہماری مدد اس کے ساتھ منسلک ہو جاۓ گی اور ہم اس شخص کو فائدہ پہنچا سکیں گے۔ اگر ایسا کوئی امکان موجود نہیں تو پھر یہ چوہے والی مثال ہو گی : ہم اسے بچاتے ہیں مگر وہ پھر بھی مر جاتا ہے۔

جب ہم دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بھی معاملہ ایسا ہی ہے۔ بودھی ستوا بننے کی خواہش میں ہم ان کی مدد کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ کارگر ہو تو بڑی اچھی بات ہے۔ ہم اپنے آپ کو مبارکباد نہیں دیتے اور نہ ہی اس بات کا پرچار کرتے پھرتے ہیں کہ ہم کس قدر درد مند اور بڑھیا انسان ہیں۔ اگر ہم ناکام رہیں تو ہمیں احساس جرم میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں جذباتی طور پر اپنے آپ کو مار پیٹ کرنے یا سزا دینے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے اپنی پوری کوشش کی اور اگر وہ شخص مدد قبول کرنے لائق ہوتا تو ہمارا یہ فعل کامیاب رہتا۔ چونکہ وہ اس قابل نہیں تھا لہٰذا ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ کوئی انسان بھی قادرمطلق خدا نہیں۔ ہم تو یقیناً نہیں۔ کوئی شخص بھی کسی دوسرے شخص کو کچھ کرنے سے نہیں روک سکتا اگر اس شخص کے من میں زبردست محرکات موجود ہیں۔

جب ہم دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں حقیقت پسندی سے کام لینا چاہئے اور یہ جان لینا چاہئے کہ ہم سب لوگوں کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ ہم ایسا کرنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں۔ ہم خلوص دل سے ان کا خیال رکھتے ہیں اور سچے دل سے ان کی مدد کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اگر یہ کارگر ثابت ہو تو خوب، اور اگر نہ ہو تو ہم نے اپنے تئیں پوری کوشش کی۔ ہم دل برداشتہ نہیں ہوتے۔

روشن ضمیری کا مقصد

عزت مآب، تقدس مآب حضرت جناب دلائی لامہ نے فرمایا کہ جب ہم یہ ورد کرتے ہیں " کاش مجھے روشن ضمیری حاصل ہو تا کہ میں تمام ذی شعور مخلوق کو فائدہ پہنچا سکوں۔ " تو اس میں ہماری خواہشات کی ترتیب و ترجیح کے بارے میں تھوڑا سا خطرہ پایا جاتا ہے۔ عموماً ہم اس بات پر زور دیتے ہیں " کاش مجھے روشن ضمیری حاصل ہو۔ " ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ یہ سب سے اعلی اور ارفع مقام ہے۔ یہ سب سے زیادہ مسرت بخش ہے کیونکہ ہم بلند ترین مرتبہ، بلند ترین خطاب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر " کاش مجھے روشن ضمیری حاصل ہو " کے بعد آتا ہے " تا کہ میں تمام ذی شعور مخلوق کو فائدہ پہنچا سکوں " جو کہ کسی قسم کا ناگوار ٹیکس لگتا ہے جو کہ ہمیں بعد میں ادا کرنا ہے۔ درحقیقت ہم یوں نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر ہم مہاتما بدھ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے فرض سمجھ کر کرنا ہو گا۔ ہمیں تمام ذی شعور مخلوق کو فیض یاب کرنا ہے۔ عزت مآب نے فرمایا ہے کہ اس بات میں اہمیت کی ترتیب الٹ ہونی چاہئے : " میں جس حد تک ممکن ہو تمام ذی شعور مخلوق کی مدد کرنا چاہتا ہوں اور اس لئے مجھے مہاتما بدھ بننا ہے۔ " زور اس بات پر ہونا چاہئے " میں ہر شخص کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ "

جب ہم دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے بارے میں سوچتے ہیں تو بعض اوقات ہمارا عمل خلوص سے عاری ہوتا ہے۔ ہم یوں کہتے ہیں " میں تمام ذی شعور مخلوق کی مدد کروں گا۔ میں تمام ذی شعور مخلوق سے محبت کرتا ہوں۔ " مگر جب ہمارے والدین یا ہمارے بچے ہمیں کچھ کرنے کو کہیں تو ہم ان پر یوں برس پڑتے ہیں " مجھے تنگ مت کرو ! میں تمام ذی شعور مخلوق کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ " جیسا کہ لوجانگ تعلیمات میں من کی تربیت کے بارے میں ذکر آیا ہے کہ ہمیں پہلے اپنی مدد کرنے سے شروع کرنا چاہئے۔ پھر اپنے خاندان تک اسے پہنچانا چاہئے، پھر اپنے ارد گرد لوگوں تک، اور یونہی ( آگے بڑھانا چاہئے ) ۔ بہ الفاظ دیگر ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے جو ہم سے قریب تر ہیں۔ ہم انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ عموماً ایسے لوگوں کے بچے جو سماجی خدمت کا کام کرتے ہیں سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں اس درجہ مصروف رہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے لئے کبھی بھی وقت نہیں نکالتے۔ یہ نہائت نا انصافی کی بات ہے۔ اگر ہم مہاتما بدھ کی نصیحت پر عمل کریں تو ہم ہمیشہ یہ کام اپنے خاندان سے شروع کریں گے اور پہلے ان کا خیال رکھیں گے۔

طمانیت استوار کرنے کا مطلب یہ نہیں " اب میں اپنے بچوں کو نظر انداز کر کے بس باقی سب لوگوں کی مدد کروں گا۔ " اس کا مطلب یہ ہے " جیسے کہ میں اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتا ہوں اسی طرح میں زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ایسا ہی سلوک کروں گا۔ اب دو کی بجاۓ میرے پانچ بچے ہیں، دس، ایک سو، ایک ہزار بچے ہیں !" ہم اپنی محبت کا دائرہ وسیع تر کر رہے ہیں۔ ہم محبت اور احساس کے جذبہ کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل نہیں کر دیتے۔ جو لوگ ہمارے قریب ہیں پہلے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے، پھر اسے دوسروں تک پہنچانا ہے : اپنے دوستوں تک، اجنبی لوگوں تک، ان لوگوں تک جو ہمیں ناپسند ہیں، جانوروں تک، روحوں تک اور مختلف جہانوں میں دوسری مخلوق تک۔

بودھی چت استوار کرنے کا مطلب ہے اپنے دلوں میں وسعت پیدا کرنا۔ دلوں میں وسعت پیدا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک خود غرضی کے رویہ سے ایک ہی چھلانگ میں تمام ذی شعور مخلوق کو عزیز جاننا۔ ہمیں بتدریج اس مقام تک پہنچنا ہے۔ اس طرح ہم زیادہ خلوص سے کام لیں گے۔ جب ہم یوں کہتے ہیں تو اس میں خلوص نہیں پایا جاتا " میں تمام ذی شعور مخلوق کی بھلائی کے لئے کام کر رہا ہوں۔ " مگر ہم اپنے والدین اور بچوں کا خیال نہیں رکھتے۔ بودھی چت ہماری خاندان، والدین اور اولاد کو اہم خیال کرنے کی اقدار سے قطعی طور پر متناقض نہیں۔ یہ در اصل اس بنیاد پر استوار ہوتا ہے اور اسے مزید فروغ دیتا ہے۔۔

یہ وہ چند ایک اہم نکات ہیں جنہیں اس وقت مدنظر رکھنا چاہئےجب ہم مہایان راستے پر چل کر اپنے دلوں میں دوسروں کے لئے جگہ پیدا کر رہے ہوں، اور اپنی تمام کمزوریوں پر قابو پانےاور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کا عزم کر رہے ہوں تا کہ ہم سب کی بہترین انداز سے مدد کر سکیں۔ اگر ہم ان باتوں کو ذہن میں رکھیں تو ہمیں اس راہ پر کم دشواری پیش آۓ گی۔

سوالات

سوال : گذشتہ زندگیوں کے تجربات کی بنا پر کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس زندگی میں ان میں سے بعض اقدامات کو نظر انداز کر دیں اور کوئی آسان راہ اختیار کر لیں؟

جواب : ہاں ایسا ممکن ہے۔ مشاق عامل دو طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جن کے ساتھ سب کچھ ایک ہی جھٹکے میں ہو جاتا ہے، اور دوسرے وہ جو درجہ بدرجہ آگے بڑھتے ہیں۔ یعنی ایک فوری راستہ ہے اور دوسرا بتدریج۔ ایک عظیم تبتی مفکر جس نے اس موضوع پر تبصرہ لکھا ہے اس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی شخص شاذونادر ہی ہوتا ہے جس کو سب کچھ یکلخت پیش آ جاۓ۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ تمام مثبت عادات اور محرکات گزشتہ زندگیوں میں پروان چڑھ چکے ہوں تا کہ اس زندگی میں ہم بعض منازل کو طے کئے بغیر آگے نکل جائیں۔ اکثر اس ( رویہ ) کی وجہ ہماری سستی ہے، ہم تمام منازل سے گزرنا نہیں چاہتے اور یہ بہانہ بناتے ہیں " میں ایک ایسا انسان ہوں جس نے اپنی گزشتہ زندگیوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں پیدا کی ہیں۔ میں ان چند لوگوں میں سے ہوں جن کے ہاں سب کچھ یکلخت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ لہٰذا میں کچھ منازل کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ سکتا ہوں۔ " ہمیں اپنے ساتھ مکمل دیانتداری سے کام لینا چاہئے۔ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ کسی نے گزشتہ زندگیوں میں اس قدر کارآمد صلاحیتیں پیدا کر لی ہوں۔ تمام منازل کو طے کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ ہمیں ہر منزل پر سالہا سال گزارنے کی ضرورت نہیں۔ روشن ضمیری کی راہ پر بتدریج سفر کے بارے میں ایک کتاب میں بیان ہے کہ اگرچہ محرکات موجود بھی ہوں پھر بھی یہ بہتر ہے کہ ان سے عجلت میں گزر کر ان کی یقین دہانی کر لی جاۓ بجاۓ اس کے کہ ہم انہیں نظر انداز کر دیں۔

سوال : کیا ہم بغیر کسی کے دھوکہ میں آۓ درد مند اور مہربان بن سکتے ہیں؟

جواب : چوگیام ترنگپا رنپوچے نے ایک بہترین اصطلاح اختراع کی جو اس سوال سے متعلق ہے :" احمقانہ دردمندی " ۔ احمقانہ دردمندی کا مطلب ہے دردمندی بغیر تدبر کے۔ مثال کے طور پر بچے ہمیشہ مٹھائی مانگتے ہیں۔ ایک احمقانہ دردمندی کے جذبہ کے تحت ہم ہمیشہ بچے کو مٹھائی دیتے چلے جائیں گے کیونکہ وہ اس کی طلب کر رہا ہے۔ یا اگر ایک سر پھرا آتا ہے اور کہتا ہے " مجھے ایک بندوق دو۔ میں کسی کو مارنا چاہتا ہوں۔ " اگر ہم یہ کہیں کہ " میں فیاضی کی مشق کر رہا ہوں، لہٰذا میں اسے ایک بندوق مہیا کروں گا۔ " یہ احمقانہ دردمندی ہے۔

اسی طرح جب لوگ ہم سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہوں اور ہم ان کی طلب پوری کرتے چلے جائیں تو یہ ان کی مدد کرنا نہیں ہو گا۔ دراصل یہ ان کی ترقی کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ کبھی کبھار یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہم سختی سے کام لیں۔ ہمیں لوگوں کو وہ کچھ دینا چاہئے جس کی انہیں ضرورت ہے اور ہو سکتا ہے کہ جس چیز کی انہیں ضرورت ہے وہ ہے نظم و ضبط۔ ۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو انہیں ' نہ ' کہ سکے۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ان کے لئے حدود کا تعین کر دے۔ مثال کے طور پر ایک بگڑے ہوۓ بچے کو نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ مغرب میں ایک ایسی پوری نسل ہے جو عدم نظم و ضبط کے فلسفہ کے تحت پروان چڑھی ہے۔ " بچے جو بھی کرتے ہیں انہیں کرنے دیں۔ انہیں آزادی دے دو۔ " یہ حکمت عملی تباہ کن تھی۔ بہت سے بچے پیار کی کمی محسوس کرتے تھے اور عدم تحفظ کا شکار تھے کیونکہ دوسرے بچوں کے والدین ان کے لئے قوانین بناتے مگر ان کے والدین ایسا نہیں کرتے تھے۔ انہیں یہ احساس ہوتا تھا کہ ان کے والدین ان سے پیار نہیں کرتے اور ان کی اتنی پرواہ نہیں کرتے کہ کوئی اصول یا قانون بنائیں ۔ بعض اوقات ' نہیں ' کہنا بہت ضروری ہوتا ہے، اور حدود کا تعین کرنا اور کسی کو بھی اپنے سے ناجائز فائدہ نہ اٹھانے دینا۔

احمقانہ دردمندی سود مند نہیں۔ درد مندی کے ساتھ ساتھ ہمیں حکمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بدھ مت کی تعلیمات میں یہ ایک بنیادی تصور ہے، اور یہ اس ورد میں مذکور ہے۔ " اوم منی پدمے ہوم۔ " ' منی ' سے مراد " جوہر " ہے جو دردمندی کو ظاہر کرتا ہے اور ' پدمے ' کا مطلب ہے " کنول میں پوشیدہ " جو حکمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دونوں شانہ بہ شانہ چلتے ہیں۔

پس کبھی کبھار ' نہ ' کہنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اس سے دوسرے شخص کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کو نہیں سمجھتا۔ کیا یہ اچھی بات ہے؟ کرم کی تعلیمات میں اس بات کا ذکر ہے کہ اگر کوئی فعل تھوڑا سا نقصان دہ ہے مگر مستقبل بعید میں بہت فائدہ مند ہے تو اسے کر گذرنا چاہئے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ اگر کوئی فعل دونوں صورتوں یعنی مستقبل قریب اور مستقبل بعید میں فائدہ مند ہے تو وہ سب سے احسن ہے۔ لیکن اگر میں بچوں کو مٹھائی دوں تا کہ وہ چیخنا چلانا بند کر دیں اور میں سکون سے سو جاؤں تو یہ فی الوقت تو فائدہ مند ہے مگر ہمیشہ کے لئے نہیں۔ یہ بچوں کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ وہ ہر وقت میٹھا کھانے سے بیمار ہو جائیں گے۔ مزید یہ کہ وہ بگڑ جائیں گے اور بدتمیز بچے بن جائیں گے۔ ایسی صورت میں بہتر ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے تکلیف اور بدمزگی برداشت کر لی جاۓ۔ ایسا کرنا آخر کار فائدہ مند ہو گا۔ یہ جاننے کے لئے کہ کیا سود مند ہے اور کیا نہیں حکمت کی ضرورت ہے۔ بعض باتیں عقل سلیم سے تعلق رکھتی ہیں۔

سوال : اگر ہمیں اچانک موت آجاۓ تو اگلی زندگی میں کیا یہی لوگ ہمارے خاوند اور ہماری بیویاں ہوں گے؟

جواب : یہ لازم نہیں مگر ممکن ضرور ہے۔ ایسا تب ہو گا اگر ہمارا رشتہ نہائت مضبوط ہے۔ اس کی چند مثالیں موجود ہیں : ایک بچہ کسی گھرانے میں پیدا ہوا اور جلد ہی چل بسا۔ مگر اس کا اپنے خاندان سے اتنا گہرا رشتہ تھا کہ وہ ایک دوسرے بچے کے روپ میں پھر اسی خاندان میں دوبارہ پیدا ہوا۔ ایسا ہو جاتا ہے مگر عام طور پر مختلف کرمائی امکانات پاۓ جاتے ہیں۔ بوقت مرگ مختلف کرمائی نشانات حرکت میں آ سکتے ہیں جو ہمیں مختلف قسم کے پنر جنموں کی جانب اٹھا پھینکیں۔

علاوہ ازایں ہمارا رشتہ صرف ایک ہی انسان مثلاً شوہر یا بیوی کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بہت سی الگ الگ زندگیوں میں بے شمار مختلف لوگوں سے ہمارا تعلق رہا ہوتا ہے۔ یہ رشتے مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کسی ایک زندگی میں کسی شخص کے ساتھ بعض خاص تعلقات پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا رشتہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس رشتے کا تسلسل ضروری نہیں کہ میاں بیوی کے روپ میں ہی جاری رہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم دونوں گائیں بن جاؤ اور اکٹھی گھاس چرتی پھرو یا دو چیونٹیاں بن کر چیونٹیوں کے ایک ہی تودے پر کام کرو۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ پہلے آپ کا رشتہ کیسے استوار ہوا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم آئیندہ زندگی میں یا اس سے اگلی زندگی میں اس شخص سے نہ ملیں۔ ہو سکتا کہ ہزاروں زندگیاں گذرنے کے بعد اس شخص سے ملاقات ہو۔

یہ ایک اہم بات ہے کہ ہم پنر جنم کے متعلق فہم کو ایک ٹھوس، سچ مچ موجود نفس کی عدم موجودگی کی بنیادی تعلیمات سے باہم ملائیں۔ ایسا نہیں کہ اگلی زندگی میں میں اپنے شوہر سے ملنے والی ہوں، جو کوئی بھی اس کا نام ہے، یا اپنی بیوی سے ملنے والا ہوں جو کوئی بھی اس کا نام ہے۔ ہر انسان ایک سلسلہ لا منتہا ہے۔ توانائی کا تسلسل، شعور کا استقلال، عادات و اطوار کا استمرار۔ آنے والی بعض زندگیوں میں دو انسانوں کے استمراری عناصر آپس میں ہمکنار ہوں گے مگر یہ ہو بہو ہماری موجودہ شکل میں نہیں ہو گا۔

ہم سب کو اس بات کا تجربہ ہے کہ جب ہم کسی لوگوں سے بھرے کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو ایک یا دو لوگوں کو جاذب نظر پاتے ہیں۔ ہم اپنے اندر ان کے لئے قرب اور گرم جوشی کا جذبہ محسوس کرتے ہیں اور ہم ان سے ہمکلام ہونا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف کوئی اور شخص ہمیں یہ احساس دلاتا ہے " ہوں ! مجھے اس شخص سے کوئی سروکار نہیں۔ " ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ اس شخص کے ساتھ کسی گذشتہ تعلق کی طرف اشارہ ہے۔ ہمارا لاکھوں کروڑوں ہستیوں سے واسطہ ہے۔ بعض تعلقات نسبتاً نئے یا مضبوط تر ہیں لہٰذا ان لوگوں سے ہمارے یہ معاملات ہمارے اوپر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ بعض دوسرے رشتے کمزور ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ایک ہی شہر میں پیدا ہوۓ ہوں مگر کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔

سوال : کوئی خوبی یا صلاحیت کس طرح اگلی زندگیوں کو منتقل کی جاتی ہے؟

جواب : " خوبی " ایک گمراہ کن ترجمہ ہے۔ ہم درجات بہ لحاظ کارکردگی جمع نہیں کرتے جیسا کہ سکاؤٹس میں ہوتا ہے۔ اور جب ہم کافی درجات اکٹھے کر لیتے ہیں تو ہمیں ایک بلّا ملتا ہے۔ یہاں کوئی بھی حساب نہیں رکھ رہا۔ " خوبی " کا بہترین ترجمہ " مثبت قوت " یا " مثبت صلاحیت " ہے ۔ ہم مثبت صلاحیتیں اور امکانات پروان چڑھاتے ہیں جیسے ہم کار کی بیٹری میں مزید سے مزید تر توانائی ڈالتے ہیں۔ جب کافی توانائی جمع ہو جاتی ہے تو کار چل پڑتی ہے۔ اسی طرح ہم بہت سی مثبت قوت جمع کر رہے ہیں تا کہ کوئی مثبت واقعہ پیش آ سکے۔ ہم مثبت انداز میں رو بہ عمل ہونے کی عادت استوار کرتے ہیں۔

من اور شریر دونوں کے مختلف درجات ہیں۔ لطافت سے عاری من یا شعور ہمارا حسی شعور ہے : دیکھنا، سننا، چکھنا، وغیرہ۔ ایک شعور لطیف بھی ہے جو کہ من کا شعور ہے جس کا تعلق تصوراتی سوچ سے ہے۔ پھر من کا ایک لطیف ترین درجہ بھی ہے جو کہ تصورات سے آزاد ہے۔

ہمارے لطیف اور لطافت سے عاری دونوں شعور اس وقت کار گزار ہوتے ہیں جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سوچتے ہیں، وغیرہ۔ ہمارا خوابی شعور لطیف تر ہے۔ جب ہم خواب سے خالی نیند میں ہوتے ہیں تو اس وقت یہ شعور لطیف تر ہوتا ہے۔ جب ہم موت کے مراحل سے گذر رہے ہوتے ہیں تو جوں جوں ہمارے من کے سلسلے ہمارے کثیف اجسام سے الگ ہوتے جاتے ہیں توں توں ہمارا شعور لطیف سے لطیف تر ہوتا جاتا ہے۔ سب سے لطیف ترین مقام من کا خالص استقلال، من کی وہ خالص آگہی اور شفاف پن ہے جو کہ ایک لمحہ سے پیوستہ دوسرے لمحہ تک تسلسل کو قائم رکھتا ہے۔ سب سے کثیف تر درجات ایک ایسے ریڈیو کی مانند ہیں جو بیک وقت کئی سٹیشنوں پر لگا ہو یا آواز کے مختلف درجات سنا رہا ہو۔ اور لطیف درجہ وہ ہے جہاں صرف ایک ہی ریڈیو سٹیشن لگا ہو۔

اسی طرح ہمارا ایک کثیف جسم ہے جو کہ کثیف من کی بنیاد ہے۔ ہم آنکھیں، کان اور جسم وغیرہ رکھتے ہیں جو دیکھنے، سننے اور دیگر حواس کی بنیاد ہیں۔ ہمارا لطیف جسم راستوں اور چکروں کی توانائی ہے ( جسے چینی زبان میں قی ( چی ) کہتے ہیں ) ۔ لطیف جسم من کے لطیف شعور کی بنیاد ہے۔ جب اس توانائی کو مضطرب کیا جاتا ہے تو ہمارے اندر عجیب قسم کے خیالات اور احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ لطیف ترین توانائی لطیف ترین شعور کو قائم رکھتی ہے۔ لطیف توانائی اور لطیف من مل کر زندگی کی چنگاری جیسی چیز بنتے ہیں۔

جو چیز آنے والی زندگیوں میں منتقل ہوتی ہے وہ نہ تو ہمارا وہ کثیف جسم ہے جسے جلایا یا دفنایا گیا ہو، اور نہ ہی کثیف شعور۔ اور نہ ہی وہ ہمارا تصوراتی من کا شعور، وہ توانائی، وہ راستے وغیرہ ہیں۔ جو چیز اگلی زندگیوں میں منتقل ہوتی ہے وہ ہے لطیف ترین شعور کا تسلسل اور وہ توانائی جو اسے قائم رکھتی ہے۔ ایسا کوئی ٹھوس وجود نہیں جو کسی چھوٹے سے مجسمہ کی شکل میں سامان والے پٹہ پر بیٹھا ہوا ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ کسی حد تک ایک فلم سے مشابہ ہے جو بظاہر ٹھوس نظر آتی ہے مگر در اصل یہ منفرد سلسلہ وار خاکوں سے مل کر بنی ہے بغیر کسی ہمہ تن مسلسل وجود کے۔ اسی طرح لطیف ترین شعور اور لطیف ترین توانائی کا یہ تسلسل، یہ دونوں جو ہمہ وقت تغیر پذیر ہیں، ایک زندگی سے دوسری زندگی میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا وہ شعلہ ہے جو جلتا رہتا ہے۔

کوئی خوبی یا کوئی مثبت صلاحیت توانائی کی ایک قسم ہے جو جمع ہوتی رہتی ہے۔ یہ مثبت توانائی لطیف ترین توانائی کے ساتھ جو کہ زندگی کا شعلہ ہے آگے جاتی ہے۔ امکانات اور صلاحیتیں لطیف توانائی کی ایک قسم ہے جو آنے والی زندگیوں میں جاری و ساری رہتے ہیں۔

عادت یا فطرت سے کیا مراد ہے؟ فرض کیجئے کہ ہمیں ہر روز صبح دلیہ کھانے کی عادت ہے۔ ہم نے کل دلیہ کھایا اور پرسوں بھی اور آج بھی۔ تو عادت کیا ہے؟ یہ کوئی مادی شے نہیں۔ یہ دلیے کا وہ پیالہ نہیں جو ہمارے من میں ابھر آتا ہے۔ یہ کوئی ذہنی حالت بھی نہیں :" دلیہ کھاؤ۔ دلیہ کھاؤ " کی رٹ ہمارے من میں لگی ہوئی ہے۔ ہم صرف اتنا کہ سکتے ہیں کہ کئی روز دلیہ کھانے کا لگا تار سلسلہ چل رہا ہے۔ اس بنا پر کسی حد تک ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ دلیہ کھانے کی عادت موجود ہے۔ اس بنا پر ہم یہ پیشین گوئی کر سکتے ہیں کہ شائد کل بھی ہم دلیہ ہی کھائیں گے۔ یہ بات کرنے کا ایک انداز ہے۔ عادت سے مراد یکساں واقعات کا بیان ہے۔ اسے ہم ذہنی لیبلنگ کہتے ہیں۔

عادت کسی ٹھوس شے کا نام نہیں، نہ ہی کسی دماغی حالت کا۔ ہماری فطرت بھی ایسی کوئی چیز نہیں۔ فرض کیجئے کہ ہمیں رحم دلی کی عادت ہے۔ ہم کل بھی رحم دل تھے، پرسوں بھی اور آج بھی ہیں۔ اس بنا پر گویا کہ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ رحم دلی ہماری فطرت میں پائی جاتی ہے۔ بعد از آں ہمیں ایک مستقبل کی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس زندگی میں ہم جس بچے کی شکل اختیار کرتے ہیں وہ ایک رحم دل بچی ہے۔ وہ اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ بانٹتی ہے اور اپنے بسکٹ دوسروں کو دینا چاہتی ہے۔ وہ دوسروں سے ان کی چیزیں لینا پسند نہیں کرتی۔ تو یہاں رحم دلی کا عنصر موجود ہے۔ پس ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ رحم دلی کی عادت ہے جو آئیندہ زندگیوں میں استقلال پا گئی ہے۔ تا ہم عادت کوئی ٹھوس چیز نہیں۔ جس انداز سے یہ جاری و ساری رہی ہے اس کی بنیاد منفرد لمحات ہیں۔ ایک کل کا وقت تھا، ایک اس سے پہلے کا، ایک اس سے بھی پہلے کا۔

ہمارا لطیف ترین شعور اور توانائی ان سب لمحات کے تحت الوجود میں تھے کیونکہ وہ ہر وقت وہاں موجود رہتے ہیں۔ ریڈیو ہر وقت لگا رہتا ہے۔ اس بنا پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہماری فطرت ہمارے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ہماری جبلتوں کو مستقبل میں جاری اور قائم رہنے کے لئے کسی ٹھوس شکل کی ضرورت نہیں۔ ان کی اسا س مادیت پر نہیں۔

یہ وہ طریق کار ہے جس کے تحت چیزیں ہماری مستقبل کی زندگیوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ مثبت صلاحیتیں (" خوبیاں ") ایک قسم کی نہائت لطیف توانائی ہے جو اس توانائی کے ساتھ چلتی ہے جو زندگی کو قائم رکھتی ہے۔ جبلتیں اور عادات محض ایک اظہار بیان ہے جس کی بنیاد متماثل واقعات کی وہ کڑی ہے جو اس زندگی میں اور آئیندہ زندگیوں میں موجود ہیں۔ اس بنیاد پر کہ لطیف ترین من اور توانائی جو کہ ایک زندگی سے دوسری زندگی میں منتقل ہوتے ہیں ہم کہ سکتے ہیں کہ متماثل واقعات کا ایک سلسلہ ہے، ایک عادت ہے، یا ایک جبلت ہے۔

سوال : بعض لوگ یہاں مہاتما بدھ کا چھوٹا سا مجسمہ اٹھاۓ پھرتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب : اس کے دو پہلو ہیں، ایک تو اس چیز کے حوالے سے۔ ایسے مجسمے اونچے درجہ کے تبتی بدھ راہبوں ( لامہ ) سے تقدیس شدہ ہوتے ہیں۔ بہت سارے استاد ایک جگہ جمع ہو کر ایک کروڑ بار ' اوم منی پدمے ہوم ' کا ورد کر کے ان مجسموں پر پھونک مارتے ہیں۔ ایک اکیلا لامہ بھی یہ کام کر سکتا ہے یا وہ گہرے مرتکز مراقبہ میں بیٹھ سکتا ہے۔ اس کی سائینسی تمثیل یوں ہے کہ منتر کا ورد اور ارتکاز ان اشیا ( مجسموں ) کا مقناطیسی میدان – میدان توانائی – تبدیل کر دیتا ہے تا کہ ان کے اندر ایک خاص قسم کی روحانی، مقناطیسی صفت پیدا ہو جاۓ۔

دوسرا پہلو ان لوگوں کا ایمان و اعتماد اور ان کے اعمال و کرم ہیں جو ان مجسموں کو استعمال میں لاتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کا اس بات پر یقین اور بھروسہ ہے کہ کوئی ایسی چیز انہیں تحفظ فراہم کرے گی تو ان کا یہ اعتماد انہیں محفوظ رکھے گا۔ یہ انہیں کسی ایٹم بم سے چاہے نہ بچا سکے مگر یہ انہیں ایسے واقعات سے تحفظ فراہم کر سکے گا جہاں ان کے اندر کسی صورت حال سے احسن طریقہ سے نمٹنے کا اعتماد نہ ہو۔

اگر ہم کسی سور کے گلے میں ایک تعویذ والی رسی ڈال دیں تو میں نہیں کہ سکتا کہ یہ اسے ذبحہ ہونے سے بچا لے گی۔ لیکن اگر کسی شخص کے اندر اس تعویذ سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت پائی جاتی ہے تو یہ کار گر ثابت ہو گا۔ دونوں عناصر کی ضرورت ہے۔ یہ کسی بجھارت کے دو ٹکڑوں کی مانند ہے جو باہم جوڑ دئے جائیں۔

شکریہ.