ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > تبتی نجوم اور علم طب > تبتی ومنگول علمِ نجوم اور کرم

تبتی ومنگول علمِ نجوم اور کرم

الیکزانڈر برزن
میونخ، جرمنی
۱۳ جون، ۱۹۹۶

علمِ نجوم سیکھنے کے فوائد

ایک بودھی سیاق و سباق میں جب ہم ایک لیکچر کے ابتدا میں اپنے عزم کی توثیق کرتے ہیں تو اس امر پر زور دیتے ہیں کہ اسے سننے میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک ایسی چیز سیکھیں جو ہماری زندگی میں ہماری مدد کرے۔ بالخصوص، ہم ایسی چیز سیکھنا چاہتے ہیں جو کہ نہ صرف ہماری مشکلات دور کرنے میں کارآمد ہو بلکہ وہ ہمیں دوسروں کی عمدہ طور پر مدد کا بھی اہل بنا دے۔ پس جب ہم علمِ نجوم کہ بارہ میں اس نقطہِ نظر سے دیکھیں تو ہمیں اس امر کا صاف ادراک رکھنا چاہیے کہ اسے سیکھنے اور اس کے بارہ میں جاننے سے ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک سطح پر تو علمِ نجوم مستقبل کے ممکنات کے بارہ میں جاننے میں ہمارے مدد کرتا ہے اور اس سے ہم آئیندہ پیش آنے والے مشکلات کی روک تھام کے لیے اقدام کر سکتے ہیں۔ آخرکار، دھرم کے لفظی معنی بھی 'پیشگیری اقدامات' ہیں۔ تاہم ہمیں اس بارہ میں محتاط ہونا چاہیے کہ کہیں ہم توّہم پرستی میں مبتلا نہ ہو جائیں اور یہ سوچنے لگیں کہ ہر امر پہلے سے تعین شدہ ہے اور کچھ مشکلات لازماً آئیں گی، کیونکہ یہ ہرگز بدھ مت کا زندگی کے بارہ میں نظریہ نہیں ہے۔ خاص طور پر جب ہم پیشگویانہ علمِ نجوم کو لیتے ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اسے کرم کی بودھی تعلیمات کے سیاق و سباق میں دیکھیں۔

ایک اور سطح پر، علمِ نجوم سیکھنے سے ہمیں ایک دستورِ عمل مل جاتا ہے جس کی مدد سے ہم اپنے آپ کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں اور اس سے ہمیں اپنی جذباتی مشکلات کا بہتر ادراک ہو سکتا ہے ۔ اور ایک عمومی سطح پر، اس کے مختلف نقوش مثلاً ستارے، برج وغیرہ ہمیں ایک تجزیاتی نظام مہیا کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنی زندگی اور شخصیت کا بہتر ادراک کر سکتے ہیں۔

جب ہم کسی دوسرے کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ چانچنا آسان نہیں ہوتا کہ اُس کو کس قسم کی مشکلات درپیش ہیں اور اس کے ساتھ گفتگو کا بہترین طریقہ کیا ہے۔ پس اس کے زائچہ کا علم اور اُس کا ہمارے زائچہ سے موازنہ ہمیں یہ بتا سکتا ہے کہ ہم اس شخص کے ساتھ کیا ابتدائی روش اختیار کریں۔ اور ہاں، اس چیز کو بھی ہمیں ایک بودھی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم لوگوں کو ٹھوس اقسام اور ذہنیتوں کی تقسیم میں بند نہ کر دیں کہ یہ شخص برج میزان سے ہے اور میں برج اسد سے لہذا مجھے اس کے ساتھ یوں سلوک کرنا چاہیے، یا یہ کہ یہ عورت برج ثور سے ہے اس لیے اس کے ساتھ میرا کردار یوں ہونا چاہیے۔ اس قسم کی غلط سوچ انفرادیت کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی اور اس میں لچک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جب ہم نہیں جانتے کہ کسی شخص کے ساتھ ہمارا کیا ممکن تعلق ہو سکتا ہے تو اس صورت میں علمِ نجوم ہمیں پہلا اشارہ مہیا کر سکتا ہے۔ ہمیں علمِ نجوم کو ہمیشہ اسی نقطہِ نظر سے لینا چاہیے اور اسے ہمیشہ کرم اور خالی پن کی بودھی تعلیمات کے سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔

علمِ نجوم کا تبتی و منگول نظام دنیا میں علمِ نجوم کی متعدد اقسام کیزیادہ پیچیدہ قسموں میں سے ہے۔یہ مغربی علمِ نجوم سے کہیں زیادہ پیچیدگی کا حامل ہے۔ یہاں ہم اس موضوع کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ ہمیں اس کے مشتملات کا علم ہو جائے۔ منگول علمِ نجوم، تبتی ستارہ شناسی کے نظام کی ہی ایک قسم ہے، لیکن یہاں ہم بغرضِ تعارف، تبتی و منگول علمِ نجوم کی بشکلِ عام بات کریں گے۔ اس کے بعد ہم علمِ نجوم کے کرم اور خالی پن سے تعلق کی طرف رُخ کریں گے۔ یہ بحث محض تبتی و منگول علمِ نجوم تک محدود نہیں ہو گی بلکہ علمِ نجوم کی تمام اقسام سے متعلق ہو گی۔

تبتی و منگول علمِ نجوم کی وسعت

تبتی و منگول علمِ نجوم مختلف موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اکثر لوگ علمِ نجوم سے محض زائچہ بندی اور اس کی شرح مراد لیتے ہیں، اور جب آپ تبتی و منگول علمِ نجوم کی تعلیم لیتے ہیں تو یقیناً یہ بھی سیکھتے ہیں۔ تبتی اور منگول زائچے، نہ صرف آپ کی پیدائشی شخصیت کی تصویر پیش کرتے ہیں یعنی تولیدی خاکہ، بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ مستقبل میں آپ کی زندگی کیسے گزر سکتی ہے یعنی تدریجی خاکہ۔ اور یہ مغربی نظام سے بہت مختلف طریقہ سے کیا جاتا ہے۔

آپ کسی شخص کی تاریخِ پیدائش اور کسی تقویم کے مطابق اس کی زندگی کی پیشروی کے بغیر اس کا زائچہ نہیں بنا سکتے۔ پس تعلیم کا ایک اہم حصہ علمِ ریاضی اور تبتی اور منگول تقویموں کا، جو کہ مغربی کیلنڈر سے بہت مختلف ہیں، حساب سیکھنا ہے۔ اسی طرح آپ ایک زائچہ نہیں بنا سکتے اگر آپ کو کسی کی پیدائش کے وقت اور بعد کی زندگی میں سیاروں کے قطعی مقام کا علم نہ ہو۔ پس، تربیت کا ایک اور اہم حصہ ریاضی کا علم سیکھنا ہے جس سے آپ تبتی منگول نجومی تقویم کا حساب لگا سکیں، یعنی کہ ہر روز آسمان میں سیاروں کا مقام مقرر کرنا۔ اگرچہ مغربی نظام کی طرح سیاروں کے مقام کے کچھ حسابی جدول موجود ہیں، لیکن تبتی و منگول نجومی زیادہ تر خود حساب کرتے ہیں۔

تقویم کے ساتھ نجومی جنتریاں بھی بناتے ہیں۔ جنتری ان دنوں اور ساعتوں کی نشاندہی کرتی ہے جب مثلاً فصل بونا یا کاشت کرنا یا اس طرح کے معاشرتی طور پر دوسرے اہم کام کرنا مبارک ثابت ہوتا ہے۔

تبتی و منگول طب کی طرح، تبتی و منگول علمِ نجوم بھی ھندوستانی، قدیم یونانی، چینی، وسطی ایشیائی اور مقامی بون نژاد کا ایک منفرد امتزاج ہے۔ یہ علم دو اقسام، سفید حساب اور سیاہ حساب پر مبنی ہے۔ سفید اور سیاہ سے مراد اچھائی اور برائی نہیں جیسا کہ جادو میں ہوتا ہے، بلکہ یہ الفاظ ھندوستان اور چین کے مخفف ہیں۔ تبتی زبان میں ھندوستان کو 'سفید پوشوں کیوسیع سرزمین' اور چین کو 'سیاہ پوشوں کی وسیع سرزمین' کہا جاتا ہے۔

سفید حساب اور کالچکر

ھندوستان میں علمِ نجوم کی کئی مشابہ اقسام وضع ہوئیں جن میں کچھ ہندو اور ایک بودھی تھی۔ سفید حساب بنیادی طور پر ھندوستانی بودھی نظام سے آیا ہے جو کہ کالچکر تنتروں میں پایا جاتا ہے۔ کالچکر کے معنی ہیں 'دورِ زمان' اور اس کے تین ادوار ہیں: اندرونی، بیرونی اور متبادل۔ بیرونی دور سے مراد وہ ادوار ہیں کہ جن سے کائنات گزرتی ہے۔ ان تین ادوار کی وجہ سے ہم خارجی طور پر آسمان پر سورج، چاند اور سیاروں کی حرکت سے وقت کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ بدھ مت کی وقت کی تشریح، آخرکار، تبدیلی کی پیمائش ہے۔ مزید از آں، اجرامِ فلکی کی اس روش کے ادوار سے ہی جو وہ ایک دوسرے کی نسبت بناتے ہیں ہم زائچہ اخذ کرتے ہیں۔ علمِ فلکیات اور علمِ نجوم کی تمام تعلیم ان بیرونی ادوار سے متعلق ہے۔

اندرونی طور پر بھی آپ جسم کے ادوار سے وقت گزرنے کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ مثلاً آپ ایک شخص کے سانس گن کر وقت کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ اور آپ زندگی کے مختلف ادوار یعنی بچپن، نوجوانی، بلوغ اور بڑھاپے سے اس کی پیمائش کر سکتے ہیں یا ایک عورت کے ماہواری حیض کے دور سے۔ پس وقت کے اندرونی اور بیرونی ادوار موجود ہیں اور کالچکر کے مطابق یہ ایک دوسرے کے متوازی ہیں۔

ایک بودھی نقطہِ نظر سے ہم کہیں گے کہ عام انسانوں کا ان ادوار پر کوئی اختیار یا قابو نہیں۔ یہ ادوار کرموں کی طاقت یا توانائی کی لہروں سے وجود میں آتے ہیں۔ بیرونی ادوار، جو کہ اجرام فلکی کی روزانہ روش کا سبب ہیں، مشترکہ عمومی کرموں کے نتیجہ میں "پختہ" ہوتے ہیں یعنی ان کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اندرونی ادوار، جن کا اندراج تولیدی اور تدریجی خاکوں میں ہوتا ہے، ہر انسان کے ذاتی کرموں کے نتیجہ میں پختہ ہوتے ہیں۔ہم ان کرموں کی پختگی اور ان کے ہمارے اوپر اثرات پر کوئی قابو یا اختیار نہ رکھنے کے نتیجہ میں ہر قسم کی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

مثلاً، کچھ لوگوں پر ان کے تولیدی خاکہ کی وضع کا قوی اثر ہوتا ہے۔ انہیں نہ صرف اپنی ذاتی زندگیوں سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بیرونی ادوار سےے بھی، مثلاً سردیوں کے لمبے موسم یا ماہِ کامل سے۔ کچھ لوگ پورے چاند میں نیم پاگل ہو جاتے ہیں، انسانی بھیڑیوں کی مانند! لوگوں کو اندرونی ادوار کا سامنا کرنے میں بھی مشکلات ہوتی ہیں مثلاً دورِ بلوغت میں ہارمونوں کے دور، حیض کا دور، عمر رسیدگی کا عمل وغیرہ۔ بدھ مت میں ہم ان مکرر اور ناقابلِ گرفت ادوار کہ جنہیں ہم سمسار کہتے ہیں، سے نجات پانے کی کاوش کرتے ہیں تاکہ ہم روشن ضمیر بدھ بن کر ہر ایک کی بہترین طور پر مدد کر سکیں۔

وقت کے متبادل ادوار کے لیے کالچکر مراقبہ کی کئی مشقیں ہیں جن کا مقصد نجات اور روشن ضمیری حاصل کرنا ہے۔ یہ اہم نقطہ بدھ مت کے علمِ نجوم کی جانب بنیادی رویہ کا بھی اظہار کرتا ہے۔ ہم علم نجوم کے مختلف پہلووں مثلاً زائچوں کے رحم و کرم پر ہونے سے بھی نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بدھ مت کے مطابق ہر فرد کا ذہنی تسلسل یا ذہنی سٹریم، ازل سے مشکلات کا شکار ہے اور اگر ہم اس بارہ میں کچھ نہ کریں تو یہ ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرتی چلی جائے گی ایک زندگی سے اگلی تک۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں نہ صرف اس زندگی کے زائچہ سے نجات کی ضرورت ہے بلکہ آئیندہ تمام ممکن جبری پنر جنموں کے زائچوں سے بھی۔ بالفاظِ دیگر، ہمیں تمام راس چکر سے نجات کی ضرورت ہے۔

اس راہ سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ زائچہ کوئی ٹھوس اور جامد چیز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جو ہمیں ایسا کچھ کرنے پر مجبور کر دے اور جس کے بارہ میں ہم کچھ نہ کر سکیں۔ ہم ایسی تمام خیالی قیود سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ کرنے کے لیے ہمیں زائچوں کے بارہ میں عمومی معلومات اور اپنے ذاتی زائچہ کی تفصیلات درکار ہوتی ہیں۔ پس یہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں ہمیں علم نجوم سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے وہ اس کی تبتی و منگول قسم ہو یا ھندوستانی ہندو، یا چینی، عربی، مایا، یا مغربی قسمیں ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم نہ صرف اس زندگی کے ذاتی زائچوں پر غالب آ جائیں بلکہ وقت کے مسلسل بدلتے ہوئے ادوار پر بھی جنہیں ہم اجرام فلکی کی حرکت سے جانچتے ہیں۔ اس نکتہ کا سمجھنا بہت اہم ہے وگرنہ ہم بآسانی علمِ نجوم سے متعلق توّہم پرستی کے پھندہ میں پھنس سکتے ہیں، بالخصوص تبتی و منگول علم نجوم کے متعلق کیونکہ یہ "مبارک" اور "منحوس" دنوں کے متعلق بہت کچھ کہتا ہے۔

مغربی علم نجوم سے تعلق

"کالچکر تنتر" تبتی و منگول تقویموں کے اکثر نقوش،جدولوں میں اجرام فلکی کے مقام اور جنتریوں کے پیشتر اجزا مثلاً مبارک اور منحوس دنوں کے حساب کا منبع ہے۔کیونکہ کالچکر تعلیمات تبت اور وہاں سے منگولیا پہنچنے سے پہلے ھندوستان میں پھلی پھولی تھیں اس لیے ان میں اور ہندو علمِ نجوم کے نظاموں کے درمیاں بہت کچھ مشترک ہے۔ اورخود ہندو علم نجوم میں، قدیم ھندوستانی ثقافت کے کئی اور پہلووں کی طرح، قدیم یونانی تہذیب سےبہت سی چیزیں مشترک ہیں کیونکہ دونوں تہذیبوں کا قریبی تعلق رہا تھا خصوصاً سکندرِ اعظم کے زمانہ سے۔ تو آئیے، ہم پہلے ان کچھ مشترک اقدار پر روشنی ڈالتےہیں جو کہ جدید مغربی علم نجوم میں بھی پائٰی جاتی ہیں کیونکہ یہ بھی قدیم یونانی روایت سے ماخوذ ہے۔

تبتی و منگول علمِ نجوم میں ہم صرف زحل تک سیاروں کو گنتے ہیں اور اس بعد کے سیاروں کو نہیں اور نہ ہی ہفتہ کے دنوں کے نام اجرام فلکی کے نام پر ہیں جیسا کہ انگریزی زبان میں اتوار سورج کے نام پر ہے اور سوموار چاند کے۔ کیونکہ زحل کے بعد کے سیارہ ننگی آنکھ سے نہیں دیکھے جا سکتے اس لیے قدیم دنیا کو اُن کا علم نہ تھا۔ راس چکر کو بارہ نشانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ان نشانوں کے نام بھی یونانی اور ہندو نظاموں والے ہیں۔ یہ وہی نام ہیں جو جدید مغربی نظام بھی استمعال کرتے ہیں یعنی برج حمل، برج ثور وغیرہ۔ اسی طرح کل تقسیم بارہ خانوں میں ہے جن میں سے کچھ کی شرح مغربی علمِ نجوم سے کسی قدر مختلف ہے۔ مغربی فلکیاتی نظام کی طرح ہر آسمانی جسم، ایک نشان اور ایک خانہ ہے جن کا مجموعہ جدول میں اس جسم کے معنی اور اہمیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

نشان اور خانہ

اب میں ان لوگوں کے لیے جو علمِ نجوم سے نابلد ہیں، مختصراً وضاحت کرتا ہوں کہ نشان اور خانہ کیا ہیں۔ یہ دونوں چیزیں فلکیات سے وابستہ ہیں۔

اگر آپ آسمان کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ سورج، چاند اور سیارہ، جنہیں ہم اجرام فلکی کہتے ہیں، سب ایک مخصوص پٹی میں مشرق سے مغرب کی جانب سفر کرتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں لوگ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ زمیں گردش کرتی ہے بلکہ ان کا خیال تھا کہ آسمان اور اجرامِ فلکی زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا گمان تھا کہ آسمان کی وہ پٹی جس میں اہم اجرامِ فلکی سفر کرتے ہیں یعنی دائرہِ بروج، ایک عظیم پہیہ کی طرح ہے جو بہت آہستہ گھڑی کی مخالف سمت میں گھومتا ہے۔ اور نصف پہیا زمین کے نیچے ہے۔ اس کی ایک جدید تمثیل یہ ہو گی کہ ہمارا اندازِ دید اس شخص کی طرح ہے جو کہ ایک بہت آہستہ گردش کرتے ہوئے'فیرس چرخہ' کے عین وسط میں کھڑا ہے اور نصف چرخہ اس سے اوپر ہے اور نصف اس سے نیچے۔

پس اگر آپ دائرہِ بروج کو ایک بہت آہستہ گردش کرتے ہوئے چرخہ کی طرح دیکھیں تو اس چرخہ کو بارہ حصوں میں تقسیم کر دیں جن میں سے آسمان پر کسی ایک وقت میں صرف چھ عدد دکھائی دیں گے۔ ان میں سے ہر حصہ میں ستاروں کی ایک نمایاں کوکب ہے جیسے کہ فیرس چرخہ میں کرسیاں۔ یہی کوکبیں راس چکر کے بارہ نشان ہیں۔

اب فرض کریں کہ یہ فیرس چرخہ ایک کرہ کی شکل کی عمارت کے اندر گردش کر رہا ہے اور اگر آپ اس عمارت کی اندرونی دیوار پر اس پٹی کو جس میں کہ چرخہ حرکت کر رہا ہے، بارہ حصوں میں تقسیم کر دیں تو یہ بارہ خانہ ہیں جو کہ ساکت ہیں۔ پس اس کرہ کی پٹی کا وہ حصہ جو کہ ہمارے سے عین مشرقی سمت میں نیچے جا رہا ہے مغرب کی طرف، کُل کے چھٹہ حصہ تک، یہ پہلا خانہ ہے اور اس سے اگلا چھٹہ حصہ دوسرا خانہ ہے وغیرہ، وغیرہ۔ پہلے چھ خانہ ہمارے سے نیچے ہیں، یعنی افق سے نیچے، اور آخری چھ عدد ہمارے، یعنی افق سے اوپر۔ اب فرض کریں کہ پہلیکرسی یعنی برج حمل، ہمارے سے مشرقی سمت میں کرہ کی دیوار پر نقطہ سے اگلا ہے، یعنی ابھرتا ہو۔ فیرس چرخہ اتنا آہستہ گھومتا ہے کہ اس سے اگلی کرسی یعنی برج ثور کو اس مقام پر آنے میں ایک مہینہ لگتا ہے۔ اور جب برج حمل کی کرسی واپس اس مقام پر پہنچے گی تو ایک سال گزر گیا ہو گا۔

اب فرض کریں کہ یہ فیرس چرخہ جو کہ آہستہ، آہستہ گھڑی کی مخالف سمت میں ایک کرہ نما عمارت میں گھوم رہا ہے، ایک کھوکھلے ٹائر کی شکل کا ہے جس کے اندر نو عدد گیندیں ہیں جن میں سے ہر ایک گھڑی کے رخ پر مختلف رفتار سے گھوم رہی ہے۔ یہ گیندیں اجرامِ فلکی ہیں۔ سورج کی گیند ٹائر کے اندر ایک دن میں چکر پورا کرتی ہے، چاند کی گیند کو پورا مہینہ لگتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پس کسی بھی معیّن وقت پر ایک آسمانی جسم ایک مخصوص نشان اور خانہ میں ہوتا ہے اور اس کا یہ مقام مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ ایک زائچہ ایک مخصوص وقت پر لی گئی تصویر کی ماند ہوتا ہے، مثلاً کسی کے پیدائش کے وقت ہر ایک اجرام فلکی کا مقام جو کہ راس چکر میں گردش پزیر پٹی میں آسمان کے ایک مخصوص حصہ میں زمین کے اوپر یا نیچے ہوتا ہے۔

اجرام فلکی، نشانوں اور خانوں کا یہ نظام تبتی و منگول، ھندوستانی ہندو، قدیم یونانی اور جدید مغربی علم نجوم کے نظاموں میں مشترک ہے۔ تاہم، آخری دو کے برعکس، ھندوستانی اور تبتی و منگول نظام اس فیرس چرخہ کو ستائیس نشانوں کے ایک دوسرے راس چکر میں بھی تقسیم کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اس فیرس چرخہ میں ستائیس کرسیاں ڈالتے ہیں بجائے بارہ کے۔ وہ ستائیس نشانوں کا راس چکر عموماً تقویم، جدول اور جنتریوں کے حساب میں استمعال کرتے ہیں اور بارہ نشانوں والا زائچوں کے لیے۔

ثابت ستارہ اور فلکی راس چکر

ھندوستانی ہندو اور تبتی و منگول نظاموں میں راس چکر کے بارہ میں ایک اور قدر مشترک ہے جہاں وہ قدیم یونانی اور جدید مغربی نظاموں سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ ایک ثابت ستارہ یا فلکی راس چکر استمعال کرتے ہیں جبکہ موخرالذکر ایک استوائی راس چکر استمعال کرتے ہیں۔ دراصل، کالچکر نظام نےھندوستانی ہندو علم نجوم کے نظاموں کے ثابتستارہ راس چکر کے استمعال پر تنقید کی اور ایک استوائی راس چکر کے استمعال کی حمایت۔ تاہم تبتوں نے کالچکر راس چکر نظام کو اپناتے ہوئے اس بات کو نظر انداز کر دیا اور ایک ثابت ستارہ نظام کی طرف لوٹ گئے جو کہ، تاہم، ھندوستانی ہندو نظاموں سے مختلف تھا۔

[ملاحظہ فرمائیں: تبتی فلکیاتی علوم۔]

یہاں پر تبتی و منگول، کالچکر اور ھندوستانی ہندو نظاموں کے راس چکر کے استمعال کے اختلافات کی تفصیل میں جانے کی بجائے یہ کافی ہو گا کہ ایک ثابت ستارہ اور استوائی راس چکر کا فرق اس بارہ نشانوں والے راس چکر کی اصطلاحات میں بیان کر دیا جائے جو کہ ان سب نظاموں میں مشترک ہے۔ فرق اس امر میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام فیرس چرخہ میں کرسیاں کہاں رکھتے ہیں اور آیا کہ کرسیاں ساکت ہیں یا بہت آہستگی سےمتحرک۔

فرض کریں کہ فیرس چرخہ بارہ حصوں میں منقسم ہےاور ہر حصہ ایک نشان کا نام رکھتا ہے اور ہر کرسی بھی ایک نشان کا نام رکھتی ہے۔ ھندوستانی ہندو اور تبتی و منگول بارہ کرسیوں کو چرخہ میں ان معین جگہوں پر رکھتے ہیں جہاں سے ان کے ہم نام حصہ شروع ہوتے ہیں۔ برج حمل کی کرسی عین اس جگہ ہے جہاں سے برج حمل کا حصہ شروع ہوتا ہے اور اس جگہ سے کبھی حرکت نہیں کرتی۔ پس تبتی و منگول اور ھندوستانی علمِ نجوم ثابت ستارہ راس چکر استمعال کرتے ہیں۔

قسیم یونانی، کالچکر اور جدید مغربی نظام برج حمل کی کرسی کو ان جگہ رکھتے ہیں جہاں ہندوستان میں بہاری اعتدال یعنی بہار کے موسم میں وہ ساعت جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں،کے عین وقت پر سورج کی گیند ہوتی ہے۔ کیونکہ اس روز سورج خطِ سرطان کے عین اوپر سے گزرتا ہے اس لیے اس ترتیب کو استوائی راس چکر کہتے ہیں۔

ہم اپنے مباحثہ کی اغراض کی خاطر یہاں قدیم یونانی نظام کا ذکر نہیں کریں گے۔ تقریباً ۲۹۰ قبلِ مسیح میں، بہاری اعتدال آسمان میں فیرس چرخہ پر برج حمل کے آغاز میں تھا، تب سے یہ بہت آہستگی سے، تقریباً بہتر سالوں میں ایک ڈگری کی رفتار سے پیچھے کی طرف حرکت کر رہا ہے۔ اس رجحان کو 'اعتدالی تقدیم' کہتے ہیں۔ برج حمل کے صفر ڈگری کے مقام کے مشاہدہ اور بہاری اعتدال کے مطابق برج حمل کے صفر ڈگری کے مقام کے درمیان تضاد کی وجہ یہ ہے کہ زمین کا قطبی محور، "ثابت" ستاروں سے سمتی تعین کی نسبت بتدریج گردش کرتا ہے اور اس گردش کا عرصہ ۲۶۰۰۰ سال ہے۔

آج کل بہاری اعتدال کا مقام تئیس سے چوبیس ڈگری پیچھے چرخہ میں برج حوت کے حصہ میں ہے جو کہ برج حمل سے پہلے آتا ہے۔ پس جدید مغربی نظام آج کل برج حمل کی کرسی کو چرخہ کے برج حوت کے حصہ میں چھ اور سات ڈگری کے درمیان کسی مقام پر رکھتا ہے۔ ہر سال جدید مغربی نظام کرسیوں کو ایک قلیل فاصلہ پیچھے کر دیتا ہے۔ اس کا حوالہ اجرامِ فلکی کا وہ مقام ہے جو راس چکر میں کرسیوں کی جگہ سے بنتا ہے۔ جبکہ تبتی و منگول اور ھندوستانی ہندو نظام راس چکر میں اجرام فلکی کے اس مقام کی بات کرتے ہیں جو فیرس چرخہ کے اپنے حوالہ سے بنتا ہے۔ پس ایک سیارہ جو کہ استوائی راس چکر میں برج حمل کے صفر ڈگری میں ہے، وہ ثابت سیارہ راس چکر میں برج حوت کے چھ اور سات ڈگری کے درمیاں کسی مقام پر ہو گا۔ بالفاظِ دیگر، اس راس چکر میں اُس کا مقام اس کے استوائی مقام سے ۲۳ سے ۲۴ ڈگری منفی ہے۔

آسمان کے مشاہدہ سے اس امر کا ادراک ہوتا ہے کہ مغربی نظام میں برج حمل کی صفر ڈگری دراصل برج حمل کی کوکب کا مشاہدہ شدہ مقام ہے، منفی تئیس سے چوبیس ڈگری کی اعتدالی تقدیم۔ کیونکہ روایتی تبتی و منگول اور ھندوستانی ہندو نظام نے تقدیمی عنصر کے حساب کے لیے کبھی تجرباتی مشاہدہ پر انحصار نہیں کیا اور، مزید از آں، اجرامِ فلکی کے مقام ہمیشہ ریاضیاتی نقشوں سے حاصل کیے ہیں اس لیے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ حساب شدہ مقام، مشاہدہ کیے گئے مقام سے مختلف تھے۔ روایتی ھندوستانی، تبتی اور منگول نجومی اپنے حساب کی آسمان کے مشاہدہ سے تائید کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

مشاہدہ اور حساب پر مبنی سیاروں کے مقام

ھندوستان میں رصد گاہیں پہلے مرتبہ ستارہویں صدی عیسوی میں مغل فاتحین نے متعارف کرائیں جنہوں نے ان کے تعمیر عربوں سے سیکھی تھی۔ سیاروں کے مشاہدہ پر مبنی مقام ان کے روایتی طور پرحساب شدہ مقامات سے خاصے مختلف تھے۔ ھندوستانی حسابی نقشوں میں تئیس یا چوبیس ڈگری جمع کر کے بھی ان کے نتائج درست نہیں تھے۔ جب اگلی صدی میں برطانوی راج کے دوران ھندوستانی نجومیوں نے سیاروں کے مقام کا حساب لگانے والے یوروپی فارمولوں کو دیکھا جن کہ نتائج کی مشاہدہ سے تصدیق ہوتی تھی، تو ان میں سے اکثر نے روایتی ہندو حسابی نظام اور اس سے حاصل شدہ جنتریوں کو ترک کر دیا۔ اس کی بجائے اصلاح کاروں نے یوروپی ریاضی سے حاصل شدہ اور مشاہدہ کردہ مقامات کو اپنا لیا اور ان سے تئیس سے چوبیس ڈگری نفی کر کے ثابت ستارہ راس چکر کے مقام حاصل کر لیے۔

آج کل تبتی و منگول علم نجوم میں بھی ایک ایسا ہی بحران پیدا ہو رہا ہے جیسا کہ کئی صدیاں قبل ھندوستانی ہندو نظام میں ہوا تھا۔ جیسے جیسے تبتی اور منگول نجومی مغربی اور ہندوستانی نظاموں سے متعارف ہو رہے ہیں انہیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ گرچہ کالچکر ریاضیاتی فارمولے انہیں جو سیاروں کے مقام مہیا کرتے ہیں وہ کلاسیکی ہندو نظاموں سے حاصل شدہ نتائج سے مختلف ہیں، تاہم وہ ایک صحیح تصویر نہیں پیش کرتے جو کہ مشاہدہ سے مطابقت رکھتی ہو۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا روایتی علمِ ریاضی کو ترک کر کے ہندو مصلحین کی مانند مغربی راس چکر مقاموں کو تقدیم سے مطابقت کر کے اپنا لیا جائے ۔ دونوں جانب منفی اور مثبت پہلو ہیں۔ آج تک ھندوستانی ہندو نجومیوں میں یہ بحث چل رہی ہے۔

کرم سے تعلق

بودھی تعلیمات اس بارہ میں واضح ہیں کہ علم نجوم کسی ایسے اثر کی بات نہیں کرتا جو اجرامِ فلکی میں رہنے والے دیوتاؤں کی جانب سے ہو جو کہ اپنی طاقتوں سے ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوں۔ اور نہ ہی اجرامِ فلکی خود کوئی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہ باتیں ناممکن ہیں۔ بلکہ بدھ مت کا دعوی ہے کہ ایک زائچہ میں اجرامِ فلکی کے مقامات محض ان کرمی ممکنات کے ایک حصہ کا آئینہ ہوتے ہیں جن کے ساتھ آپ پیدا ہوتے ہیں۔

مختلف آئینہ ہمارے کرمی ممکنات کے کچھ حصوں کا عکس نقوش کی صورت میں دکھاتے ہیں۔ ہم ان نقوش کو نہ صرف اپنی پیدائش کے وقت اجرامِ فلکی کے مقامات کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی جینیاتی ترکیب، اپنی شخصیت، رویہ اور بالعموم اپنی زندگیوں میں بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ یہ سب نقوش ہم وقتی ہوتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر، یہ گزشتہ زندگیوں کی کرمی قوتوں کے نتیجے میں ایک بنڈل کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے اگر اجرامِ فلکی کے حساب کردہ مقامات آسمانی مشاہدہ سے مختلف ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ پس یہ فیصلہ کرنا کہ کیا اجرام فلکی کے روایتی کالچکر فارمولوں سے اخذ کیے گئے مقامات رکھے جائیں یا پھر مغرب کی طرح ان کے مشاہدہ پر مبنی اور تقدیم سے مطابقت شدہ مقامات اختیار کیے جائیں، کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے بہت سی تحقیق اور تجزیہ کی ضرورت ہے کہ کون سا متبادل وہ فلکی معلومات مہیا کرتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے زیادہ صحیح مطابقت رکھتی ہیں۔

پیشگویانہ زائچہ

تفتیش کے قابل ایک شئی پیشگویانہ زائچہ ہے جو کہ پیشین گوئی کرتا ہے کہ ایک شخص کی زندگی کے مختلف دوروں میں کیا ہونے کا امکان ہے۔ تولیدی زائچہ اور جنتریوں کی طرح اس کا بھی نو اجرامِ فلکی سے تعلق ہے: سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری، زحل اور جنہیں ہم مغرب میں شمالی اور جنوبی قمری گرہ کہتے ہیں۔ آئیے ہم اپنے فیرس چرخہ کے تصور کی جانب لوٹے ہیں اور ٹائر کی طرف جس کی اندرونی سطح پر سورج اور چاند کی گیندیں گردش کر رہی ہیں۔ یہ سورج اور چاند کے مدار ہیں۔ دونوں مدار بالکل متوازی نہیں ہیں بلکہ ٹائر کی مقابل اطراف میں ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں۔ وہ نقطہ جہاں مدار ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں چاند کی شمالی اور جنوبی گرہ ہیں۔ جب سورج ان میں سے ایک نقطہ پر ہوتا ہے اور چاند عین دوسرے پر، تو چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔ سورج گرہن اس وقت واقع ہوتا ہے جب سورج اور چاند ان میں سے ایک گرہ پر مل جاتے ہیں۔ فلکیات اور علم نجوم کے اکثر قدیم نظام قمری گرہوں کو اجرامِ فلکی شمار کرتے ہیں۔ بدھ مت میں ان کے نام 'رہو' اور 'کال اگنی' ہیں جبکہ ہندو نظاموں میں یہ 'رہو' اور 'کیٹو' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ دونوں آٹھویں اور نویں اجرامِ فلکی ہیں۔

تبتی و منگول پیشگویانہ علمِ نجوم ایک شخص کی زندگی کی سب سے ممکن مدت کا حساب لگاتا ہے۔ پھر وہ اسے ایک مقررہ ترتیب کے مطابق مختلف ادوار میں تقسیم کرتا ہے جن میں سے ہر دور نو میں سے ایک اجرام فلکی کی حکمرانی کے تحت ہوتا ہے۔ اجرامِ فلکی میں سے ہر ایک، مقررہ ترتیب سے ایک مخصوص مدت کے لیے حکمران ہوتا ہے، زندگی کے ایک مخصوص حصہ کے لیے۔ ہر حکمرانی کی مدت فرق ہوتی ہے۔ آپ یہ حساب لگا سکتے ہیں کہ کونسا آسمانی جسم ایک زندگی کے پہلے حصہ پر حکمران ہو گا اور یہ حساب کر کے کہ زندگی کا کتنے فیصد حصہ اس حکمرانی کے تحت ہے، آپ پہلے حصہ کی مدت اخذ کر سکتے ہیں۔ آپ زندگی کے ہر حصہ کو اسی نسبت سے مزید تقسیم کر سکتے ہیں اور ان ذیلی تقسیموں کی بھی اورتقسیم کر سکتے ہیں۔ اور پھر، تولیدی زائچہ میں اُن اجرامِ فلکی کی قوتوں کا موازنہ کر کے جو کہ ہر تقسیم، ذیلی تقسیم اور تقسیم در تقسیم پر حاکم ہیں، آپ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ زندگی کی اس مدت میں ممکنہ طور پر کیا واقع ہو گا۔

ھندوستانی ہندو پیشگویانہ علمِ نجوم کے نظام تبتی و منگول نظاموں سے مشابہ ہیں، لیکن کئی اہم امور میں خاصے مختلف۔ ہندو نظام ایک زندگی کی کُل مدت کا حساب نہیں لگاتے۔ نو اجرامِ فلکی اُسی مقررہ ترتیب اور مدت سے حکمرانی کرتے ہیں جیسے تبتی و منگول نظام میں لیکن ہر صورت میں نو کی حکمرانی کی مدتوں کا جمع حاصل ۱۲۰ برس ہوتا ہے۔ پس اگر ایک آسمانی جسم کی حکمرانی کی مدت دس فیصد ہے تو ہر انسان کی زندگی میں اس کا عرصہِ حکمرانی بارہ سال ہو گا۔ لوگوں کے زائچوں میں واحد فرق یہ ہے کہ ان کی زندگیوں میں یہ بارہ سال کب واقع ہوں گے۔ اس کا اندازہ آپ یہ حساب کر کے لگاتے ہیں کہ ۱۲۰ سالہ دور میں کسی کی زندگی کب شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ اکثر لوگ ۱۲۰ سال کی عمر سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ یہ دور ان کی موت سے پہلے واقع ہی نہ ہو۔ جبکہ تبتی و منگول نظام میں، تمام نو عرصے ہر ایک کی زندگی میں واقع ہوتے ہیں اور اگر ایک آسمانی جسم کی حکمرانی کی مدت دس فیصد ہے اور عرصہِ حیات ساٹھ سال، تو اس حکمرانی کا عرصہ صرف چھ سال ہو گا۔

سیاہ حساب اور چینی علمِ نجوم

تبتی و منگول علمِ نجوم میں چینی نظاموں سے اخذ شدہ سیاہ حساب، پیشگویانہ علمِ نجوم میں کئی نئے متغیر اجزاء کا اضافہ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو بارہ جانوروں چوہا، سور، بندر وغیرہ کے ادوار سے آتا ہے اور پانچ عناصر کے یعنی زمین، پانی، آگ، لکڑی اور لوہا۔ یہ مل کر ساٹھ عدد مرکب بنتے ہیں مثلاً تبتی قسم میں 'لوہا گھوڑا' یا 'لکڑی شیر'۔ منگول روایت میں عناصر کی جگہ اُن سے واسبتہ رنگوں کو استمعال کیا جاتا ہے مثلاً 'سیاہ گھوڑا' یا 'نیلا شیر'۔ تولیدی زائچوں میں سال، مہینہ، تاریخ اور پیدائش کا وقت دو گھنٹے کے عرصہ میں، کے مرکبات دیے جاتے ہے۔ آپ زندگی کے ہر سال کے لیے اس 'جانور عنصر' مرکب کا حساب لگاتے ہیں جو اس پر حاکم ہوتا ہے اور پھر اس کا تولیدی مرکبات سے موازنہ کر کے آپ اس سال کے بارہ میں مزید پیشگویانہ معلومات حاصل کرتے ہیں۔

سیاہ حساب میں آٹھ سہ حرفوں اور نو عدد جادوی مربعوں کا نظام بھی ہے۔ ایک سہ حرف تین خطوط کا مجموعہ ہوتا ہے جو یا جامد یا شکستہ ہوتے ہیں جیسا کہ چینی کلاسیکی کتاب "آئی چِنگ" یعنی "کتابِ تغیرات" میں پائے جاتے ہیں۔ جادوئی مربع کے نمبر ایک مربع سے اخذ کیے جاتے ہیں جو کہ نو حصوں میں منقسم ہوتا ہے ۳ ضرب ۳ کی صورت میں اور ہر حصہ میں ۱ سے ۹ تک ایک نمبر ہوتا ہے اس ترتیب سے کہ افقی، عمودی اور ترچھے رُخ سے کسی تین حصوں کا حاصل جمع ہمیشہ ۱۵ ہوتا ہے۔ تولیدی سال کے سہ حرفوں اور جادوئی مربع کے نمبروں سے آپ ہر سال کے تدریجی سہ حرف اور نمبر اخذ کرتے ہیں جن سے مزید پیشگویانہ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ کاملتبتی و منگول زائچہ بنانے کے لیے سیاہ اور سفید حساب سے اخذ کردہ تمام معلومات کا موازنہ اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ مزید صحت کی خاطر، جنتریوں سے مبارک اور منحوس دنوں اور ساعتوں کے بارہ میں تمام سیاہ و سفید معلومات کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک مخصوص عرصہ کے بارہ میں آپ کو سب اجزا کو اچھی طرح سے چانچنا پڑتا ہے کیونکہ ایک سمت سے وہ سازگار ہو سکتے ہیں جب کہ دوسرے نقطہ نظر سے ناسازگار۔ تبتی و منگول علم نجوم میں جدولوں کا تجزیہ ایک پیچیدہ ہنر ہے۔

زندگی کی مدت کی پیشگوئی

تجزیہ میں مہارت حاصل کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ نظام کے اندر بہت سی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ بعض اوقات آپ ایک شخص کی عمر کی مدت کا حساب لگاتے ہیں تو آپ کو پتا چلتا ہے کہ ریاضیاتی فارمولوں کے مطابق اسے کئی برس پہلے مر جانا چاہیے تھا۔ پھر ایک اور حساب سے پتا لگتا ہے کہ اگر ایک شخص بہت سے اچھے کام کرے تو وہ اپنی زندگی کی مدت ایک مخصوص مقدار تک بڑھا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حساب کے مطابق کئی لوگوں کو پہلے ہی مر جانا چاہیے تھا۔ مزید از آں، آپ کو زندگی کی مدت بڑھانے کے لیے کتنے اچھے کام کرنے کی ضرورت ہے؟ اور کیا صرف دو ہی ممکنات ہیں یعنی زندگی کی عام یا توسیع شدہ مدتیں، یا اگر آپ صرف کچھ اچھے کام کریں یا پھر اگر آپ کی نیت صاف نہ ہو تو نتیجتاً کیا زندگی کی مدت میں صرف مختصر سا اضافہ ہو سکتا ہے؟

جب آپ تاریخ کے مختلف مواقع سے تبتی و منگول علمِ نجوم کے ماہرین کے متون پر نگاہ کرتے ہیں تو اس پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا آپس میں ایک زندگی کی مدت کا حساب کرنے میں اختلاف ہے۔ ان میں سے کچھ زندگی کی مثالی مدت ۱۲۰ سال گردانتے ہیں اور کچھ ۱۰۰سال اور کچھ محض ۸۰ برس۔ ان میں سے آپ جو بھی مدت اختیار کریں، اس کے مطابق کسی کی زندگی کی کُل مدت اور اس زندگی کے واقعات کا حساب مختلف ہو گا۔ پھر ان میں سے کونسی صحیح ہے؟ کیا ھندوستانی ہندو علمِ نجوم کی پیروی میں زندگی کی مدت کا حساب لگانا ہی نہیں چاہیے؟ اگر ہم یہ قدم اٹھا بھی لیں تو تبتی و منگول علمِ نجوم کی کئی روایات ہیں اور ان کی تقویموں کا حساب تھوڑا مختلف ہے پس ایک شخص کی زندگی کی روش کے بارہ میں پیشگوئیوں کی بہت سی اقسام دستیاب ہیں۔

حقیقت کا ادراک

تبتی و منگول وہ واحد علم نجوم کا نظام نہیں کہ جس کی مختلف روایات ہوں جن میں سے ہر ایک کچھ مختلف زائچہ بناتی ہو۔ مغربی، ھندوستانی ہندو اور چینی نظاموں میں بھی یہ قدر مشترک ہے۔ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو وہ غیر مطمئن ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً اس پریشانی کے عالم میں وہ ایک جامد، قابلِ معلوم "میں" کی صورت میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی زندگیوں میں پیش آنے والے واقعات کو طبعی طور پر مستحکم واقعات کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پیچیدگی کے باعث وہ بہت شدت سے اپنے آزادانہ طور پر موجود "میں" کا آئیندہ واقعات پر قابو چاہتے ہیں یا کم از کم ان واقعات کا علم تاکہ وہ ان کے لیے تیار ہو سکیں۔ اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ مستقبل میں کئی مختلف ممکنات ہیں تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی زندگیاں ان کے ٹھوس موجود "میں" کے قابو میں نہیں ہیں۔

یہ مایوسی جس کا وہ شکار ہوتے ہیں اسی طرح ہے کہ جب کوئی تبتی یا منگول استاد انہیں کوئی بودھی کلاسیکی متن پڑھاتا ہے اور پھر یہ واضح کرتا ہے کہ فلاں خانقاہی درسی کتاب کے عقائد کے نظام کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے۔ تاہم، ہر دوسری درسی کتاب کے مطابق اس کا مطلب یہ اور یہ ہے اور دوسرے نظامِ عقائد کے مطابق ہر درسی کتاب کی ایک اور شرح ہے اور دوسری تبتی و منگول روایات اس کی اور بھی مختلف طریقہ سے شرح کرتی ہیں۔ اتنے سارے متبادلات دیکھ کر اکثر مغربیوں کا سوال ہوتا ہے "لیکن اس کا 'اصل' مطلب کیا ہے؟" شاید وہ انجیلی خیالاتیعنی صرف ایک خدا اور صرف ایک سچ، سے لاشعوری طور پر متاثر ہوتے ہیں کہ وہ ایک تعلیم کی شرح میں ایک طبعی طور پر موجود، ایک یکتا و یگانہ سچ کی تلاش کرتے ہیں۔ وہ نجومی معلومات کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں اور پیش آئیند واقعات کے بارہ میں قطعی معلومات کے خواہاں ہوتے ہیں۔

اگر ہم اسی طرح سے ناممکن الوجود حقیقت کی تلاش میں رہیں تو یقیناً ہم تبتی و منگول علم نجوم سے حاصل کردہ معلومات سے ناامید و مایوس ہوں گے۔ ان سے فائدہ مند ہونے کے لیے ہمیں ان معلومات کو ایک کاملاً مختلف نقطہ نظر سے دیکھنا پڑے گا، یعنی خالی پن اور کرم کی بودھی تعلیمات کے نقطہ نظر سے۔ نجومی معلومات، سمسار یعنی کرموں کے زیرِ اثرجبری پنر جنم، کا بیان ہوتی ہیں۔ اس فاسد دور سے نجات پانے کے لیے ہمیں خالی پن کو سمجھنے کی ضرورت ہے، یعنی کہ کوئی بھی چیز، بشمول ہماری شخصیت اور ہماری زندگی کے واقعات کے، کسی ناممکن صورت میں وجود نہیں رکھ سکتی۔ پس ہمیں کرم اور خالی پن کے فہم کی حاجت ہے۔

کرمی احتمال بمقابلہ تقدیر

ایک عظیم تبتی استاد کیدروبجی نے کیا خوب کہا ہے۔ اپنی تسفیر "کالچکر تنتر" میں وہ لکھتے ہیں کہ اگر علم نجوم کسی کے بارہ میں تمام معلومات مہیا کر سکتا تو پھر ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت پیدا ہونے والے ایک انسان اور ایککتے کی ایک ہی جیسی شخصیت ہوتی، ایک ہی جتنی عمر اور دونوں کی زندگیوں میں ایک ہی جیسے واقعات رونما ہوتے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ علمِ نجوم کسی کے بارہ میں سب معلومات مہیا نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ اور بہت سے دوسرے عوامل ایک زندگی کی روش پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ معلول مختلف علتوں اور واقعات کے ایک جال کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ کرم اور رویّاتی علت و معلول کا قانون بہت پیچیدہ ہیں۔ بلا ازل، ہم اپنے گزشتہ جنموں میں کرمی علتیں جمع کرتے آئے ہیں جن کے معلول ہمارے ہر پنر جنم میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک فلکیاتی خاکہ چاہے وہ کتنا ہی مشکل و پیچیدہ ہو، ہمارے کرم کے ایک نقش کے صرف ایک پہلو کی ایک چھوٹی سی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ کچھ واقعات کا خاکہ کے مطابق رونما ہونے کا بہت زیادہ احتمال ہو لیکن ہم کمتر ممکنات کو، کہ ان کی بجائے یا ان کے ساتھ اور واقعات بھی پزیر ہوں، نظر انداز نہیں کر سکتے۔ کوئی چیز بھی بذاتِ خود مقرر نہیں ہے۔ پس ہم وجود کے اُس ناممکن طریقہ کی تردید کر کے اپنی ان راسخ عادتوں پر قابو پا سکتے ہیں جو کہ ایک جامد موجود "میں" کی تلاش کرتی ہیں کہ جسے پتا ہو کہ 'اصل' میں کیا ہو گا اور وہ ہمیشہ ہر شئی پر قابو ہو۔

مختلف طبی روایات سے ہمیں جو معلومات ملتی ہیں، ان پر غور کریں۔ مغربی نظامِ طب بدن کی شرح بطور ایک پیچیدہ و مربوط جال کے کرتا ہے جو مختلف نظاموں سے منسلک ہے یعنی دورانِ خون، نظامِ ہضم، نظامِ اعصاب وغیرہ۔ تبتی و منگول نظامِ طب چکروں اور توانائی کی روشوں کی بات کرتا ہے۔ چینی نظامِ طب مختلف خطوط اور ایکو پنکچر نقطوں کی وضاحت۔ لیکن اگر آپ پوچھیں کہ "ان میں سے صحیح کون سا ہے؟ کون سا نظام بتاتا ہے کہ جسم میں 'دراصل' کیا ہو رہا ہے؟" تو جواب ہو گا کہ یہ سب صحیح ہیں۔ ان میں سے ہر ایک جسم کے بارہ میں معتبر معلومات مہیا کرتا ہے جن کی بنا پر کامیاب علاج کیا جا سکتا ہے۔

یہی حال علم نجوم کا بھی ہے۔ مغربی نظام استوائی راس چکر کی بنا پر معلومات کا ایک مجموعہ مہیا کرتا ہے۔ ھندوستانی ہندو اور تبتی و منگول نظام ثابت ستارہ راس چکر سے اور معلومات دیتے ہیں۔ روایتی چینی نجومی نظام مزید معلومات مہیا کرتے ہیں جبکہ چینی نژاد تبتی و منگول سیاہ حساب معلومات کا ایک اور مجموعہ دیتا ہے۔ تبتی و منگول روایت میں بھی مختلف نظام، زندگی کی از حد مدت کا حساب ۸۰ یا ۱۰۰ یا ۱۲۰ برس لگاتے ہیں جن سے آپ کو ایک زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی تین مختلف تصویریں ملتی ہیں۔ ان سب بظاہر متضاد معلومات کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک، ایک ممکنہ کرمی ترتیب دکھاتی ہے جس کے ظہور پزیر ہونے کا ایک مخصوص امکان ہوتا ہے۔

ہم میں سے ہر ایک بیشمار کرمی ترتیبوں کا احتمال رکھتا ہے یعنی کہ بیشمار ممکنہ زندگیاں ہیں کہ جنہیں ہم گزار سکتے ہیں۔ پس مقصد یہ نہیں کہ ہم یہ جان لیں کہ کل کیا ہونے والا ہے، کیا میں کچھ مزید کمپنیوں کے حصہ خرید لوں یا کیا یہ میرا مبارک دن ہو گا؟ بلکہ روش یہ ہونی چاہیے کہ امکانی صورتوں کو جانا جائے۔ اگر ہمارا زائچہ یہ بتاتا ہے کہ ہمیں دس سال قبل مر جانا چاہیے تھا تو اس سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ ہم نے ایک مختصر زندگی کے کرم بنائے ہیں۔ یہ ہمارے کرمی ورثہ کی ایک ممکنہ صورت ہے۔ لیکن ایک مخصوص زندگی میں کون سے کرم پختہ ہوتے ہیں، یہ حالات و واقعات پر منحصر ہے۔ ایک قدرتی حادثہ مثلاً زلزلہ یا ایٹم بم کی مثال لے لیں جس میں بہت سے لوگ مر جاتے ہیں۔ یقیناً ان میں سے ہر ایک زائچہ میں یہ نہیں تھا کہ ہو اس روز مرے گا۔ زائچہ سے بیرونی حالات و واقعات حقیقت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

پس ایک نجومی زائچہ ایک موسم کی پیشگوئی کی طرح ہے۔ یہ ان واقعات کی پیشگوئی کرتا ہے جن کے ہونے کا غالب امکان ہوتا ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ وقوع پزیر نہ ہوں۔ مثلاً آج بارش ہونے کا امکان ہے تو ہم احتیاطی طور پر چھتری ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگر بارش نہ بھی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر ہمارا زائچہ کہتا ہے کہ آج ہم اپنے سچے محبوب سے ملیں گے یا کاروبار میں کامیابی ہو گی، وغیرہ، تو ہمیں پتا ہوتا ہے کہ اس کا غالب امکان ہے اور ہم اس موقع کے لیے تیار رہتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہمیں پتا ہوتا ہے کہ زائچہ میں کوئی بھی چیز مقدر نہیں ہے۔

کرم کی تنظیف

اگر ہم تمام فلکیاتی زائچوں سے تنظیف چاہتے ہیں جو کہ بالآخر علمِ نجوم کی بودھی معرفت کا مقصد ہے تو ہمیں اپنے زائچوں سے دھرمی سبق سیکھنے پڑتے ہیں۔ مثلاً ہم یہ سبق سیکھ سکتے ہیں ہمیں ہر صورت میں اچھی فرصتوں کے لیے تیار اور آمادہ رہنا چاہیے جبکہ خطرہ اور شکست سے ہوشیار۔ اگر ہمارے زائچہ یہ نشاندہی کریں کہ ہمیں دس سال کی عمر میں مر جانا چاہیے تھا، اور ظاہر ہے کہ ہم نہیں مرے، تو پھر ہمیں ایک مختصر زندگی کی کرمی وجوہات کا سوچنا چاہیے۔ چھوٹی عمر میں وفات دوسروں کی زندگی لینے یا انہیں نقصان پہنچانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور اگر ہمارے کرمی نتائج اس عمر میں پختہ نہیں بھی ہوتے تو پھر بھی یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ایسا کرم کمایا ہے اور ہم میں مزید ایسا کرنے کا رجحان موجود ہے۔ لہذا ہمارے زائچہ میں مختصر مدتِ عمر اس امر میں ہماری حوصلہ افزائی کر سکتی ہے کہ ہم اپنی ذات کو ان رجحانات سے پاک کریں۔

تو پھر تبتی و منگول زائچہ سے ایک اہم نکتہ ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اپنی ذات میں موجود مخصوص کرمی علتوں سے کیسے نمٹا جائے۔ زور اس بات کو جاننے پر نہیں ہوتا کہ فلاں تاریخ کو کیا ضرورواقع ہو گا۔ یہ مطالعہ ہمیں زیادہ ذمہ دار بناتا ہے نہ کہ کم ذمہ دار۔ اگر ہر چیز جو ہونی ہے پہلے سے مقدر ہے تو پھر ہم جو کچھ بھی کر لیں اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر ایسا ہو تو پھر ہم اپنی ذات پر اثر انداز کسی چیز کو نہ بدل سکیں۔ دوسری طرف جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی چیز کے ہونے کا امکان ہے لیکن یہ لازم نہیں کہ وہ ہو تو پھر ہم اپنے انتخاب اور اعمال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ نجومی معلومات ہمیں تنگ نظری کی طرف لے جائیں کہ ہماری شخصیت، ہماری زندگیوں کی روش اور ہمارا دوسروں کے ساتھ سلوک سب ثابت اور جامد ہیں، یہ ہمیں متضاد طرف لے جاتی ہیں۔ ہم پھر دیکھتے ہیں کہ ہر چیز جو واقع ہوتی ہے، وہ بیشمار علتوں اور حالات پر منحصر ہوتی ہے اور یہ کہ ہم اپنی زندگیوں کی روش و رفتار میں شریک ہوتے ہیں۔

اگرچہ تبتی و منگول نجومی نظام پیچیدہ دکھائی دیتا ہے لیکن زندگی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اور اس میں جو عوامل فعال ہوتے ہیں ان کی محض چند اجرامِ فلکی، نشان، خانہ، عناصر، سہ حرف اور جادوی مربع، کامل نمائندگی نہیں کر سکتے۔ ان بیشمار متغیر عوامل کو جو ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، ذہن میں رکھنے سے ہمارے دنیا، زندگی، اپنے اور دوسروں کے بارہ میں بے لوچ اور پریشان خیالاتڈھیلے ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ کشادگی خالی پن کو منحصر بیداری کے پسِ منظر میں دیکھنے کی راہ کھولتی ہے۔ ہماری زندگیوں کی روشیں آزادانہ طور پر موجود، جامد اور ثابت نہیں ہو سکتیں بلکہ وہ کروڑوں عوامل پر منحصر ہوتی ہیں۔ فلکیاتی معلومات اور زائچے، اثر انگیز عوامل کے محض ایک بہت چھوٹے سے حصہ کا آئینہ ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ ممکنہ واقعات ہونے کے قوی امکان کو آشکار کر کے وہ ہمیں کرم، خالی پن اور منحصر بیداری پر متوجہ رہنے میں مدد کرتے ہیں۔ اگر اس رخ سے دیکھیں تو یہ امر کہ تبتی و منگول علم نجوم سے حاصل کردہ معلومات اکثر غلط ہوتی ہیں، در حقیقت ہمارے لیے مددگار ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ زندگی کوئی جامد اور مقرر نہیں ہے اور کرموں کی پختگی کئی طرح سے ہو سکتی ہے۔

سوالات و جوابات

سوال: تبتی و منگول سالوں کا چاند سے حساب کیا جاتا ہے جبکہ مغربی سالوں کا سورج سے۔ ان میں کی فرق ہے؟

جواب: تبتی و منگول تقویم میں شمسی اور قمری عوامل جمع ہوتے ہیں۔ بودھی شرح کے مطابق، وقت تبدیلی کی ایک پیمائش ہے۔ آپ 'سال'، 'مہینہ' اور 'دن' کی تخصیص تبدیلی کے مختلف ادوار کی پیمائش کے لیے استمعال کر سکتے ہیں۔ تبتی و منگول تقویم میں ایک ماہ کا عرصہ ایک نئے چاند سے اگلے نئے چاند تک کا ہوتا ہے۔ چاند کے بارہ ادوار، یا بالفاظِ دیگر، بارہ قمری مہینے ایک شمسی سال یعنی اس مدت کی پیمائش جس میں سورج اپنا دور مکمل کر کے راس چکر پر اسی مقام پر واپس پہنچتا ہے، سے کمتر ہوتے ہیں۔ کیونکہ تبتی و منگول تقویموں میں مہینہ قمری جبکہ سال شمسی ہوتے ہیں اس لیے انہیں متناسب کرنے کے لیے کچھ اضافہ ضروری ہوتا ہے۔

جس طرح مغربی تقویم میں لوند کے سال ہوتے ہیں جن میں شمسی سالوں میں دنوں کی کمی پوری کرنے کے لیے ہر چوتھے سال ایک اضافی دن ہوتا ہے، اسی طرح تبتی و منگول تقویموں میں بھی لوند کے طرح کے آلہ ہیں جن کے ذریعہ قمری مہینوں کو شمسی سالوں میں ڈالا جاتا ہے۔ کبھی وہ ایک لوند کے مہینہ کا اضافہ کر دیتے ہیں اور کبھی نئے اور پورے چاند کو قمری مہینہ کی مخصوص تاریخوں میں ڈالنے کے لیے وہ کسی تاریخ کو دوہرا کر دیتے ہیں یا پھر خذف کر دیتے ہیں۔ اس کے قواعد اور ریاضیاتی فارمولے بہت پیچیدہ ہیں۔

سوال: بارہ اور ستائیس نشانوں کے راس چکروں کا ماخذ کیا ہے؟

جواب: بارہ نشانوں کا راس چکر مشرقی افق کی سب سے اہم کوکبوں سے لیا گیا ہے کہ جب سورج ایک سال میں ہر بارہ نئے چاندوں پر نکلتا ہے۔ جبکہ ستائیس (کچھ حساب سے اٹھائیس) نشانوں والا راس چکر کی ان اہم کوکبوں سے لیا گیا ہے کہ جہاں سے چاند، ایک نئے چاند سے اگلے تک، ستائیس یا اٹھائیس راتوں کو نکلتا ہے۔

سوال: کیا تبتی و منگول علم نجوم شمالی اور جنوبی نیم کروں میں پیدائش میں فرق کرتا ہے؟

جواب: نہیں۔ تبتی و منگول علم نجوم میں نہ صرف شمالی اور جنوبی نیم کروں میں پیدائش میں فرق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں بلکہ یہ شمالی نیم کرہ میں بھی مختلف جائے پیدائش اور مختلف منطقہِ میقات کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نظام میں تبدیلی کی جائے اور ان نقوش کو شامل کیا جائے جیسا کہ روایتی ھندوستانی ہندو نظام نے کیا یا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

اس مسئلہ کا حل بہت تحقیق طلب ہے۔ ایک کمپیوٹر پروگرام جو کہ میں نے ایک ہم کار کے تعاون سے سب سے زیادہ استمعال شدہ تبتی تقویم اور جدولوں کے سفید حساب کے لیے بنایا ہے، اس منصوبہ کو انجام دینے کے لیے ایک بنیادی آلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگلا قدم یہ ہے کہ اس میں سیاہ حساب کا مادہ اور مختلف تبتی و منگول نظاموں کے حساب کا اضافہ ان متغیر عوامل کے الگورتھم تبدیل کر کیا جائے کہ جن پر ان نظاموں کا اختلاف ہے۔ پھر اگلا قدم یہ ہو گا کہ محققین اس میں شماریتای طور پر معنی خیز تعداد میں ایسے لوگوں کی پیدائش اور وفات کی معلومات بھر دیں جن کی زندگیاں معروف ہوں اور پھر یہ دیکھیں کہ ہر متغیر عامل کی وہ کون سی انواع ہیں جو زائچوں کی تبتی و منگول نظام کے مطابق شرح سے، سب سے زیادہ قابلِ اعتماد نتائج فراہم کرتی ہیں۔ یقیناً انہیں اس امر کو مدِ نظر رکھنا ہو گا کہ علم نجوم کبھی بھی کاملاً درست نہیں ہو سکتا۔ پھر، چاہیے کہ مغربی تقویم سے حاصل شدہ اجرام فلکی کے مقامات، جنہیں اعتدالی تقدیم، مختلف نیم کروں اور جائے پیدائش اور منطقہ میقات سے ہم آہنگ کیا گیا ہو، کے نتائج کو بھی جانچا جائے۔

ذاتی طور پر میں پر اعتماد ہوں کہ کرم اور خالی پن کے تصورات کی بصیرت عطا کرنے میں مددگار ہونے کے علاوہ، تبتی و منگول نجومی نظام روایتی معلومات بھی اُتنی ہی عمدگی سے مہیا کر سکتا ہے جتنا کہ مغربی، ھندوستانی ہندو اور چینی نظام کرتے ہیں۔ بالآخر، ماضی کے عظیم تبتی و منگول اساتذہ نے بھی انہیں علم نجوم کی معلومات پر انحصار کیا اور ان کی بہت تعریف کی اور وہ قطعاً بیوقوف نہ تھے۔ 

انتساب

آئیے، ایک انتساب سے اختتام کریں۔ ایسا ہو کہ ہمارے سننے سے جو بھی مثبت توانائی، امکان اور فہم بنا ہے وہ ہر ایک کو، بشمول ہمارے، اپنے زائچہ کے مشکل پہلووں اور ناقابلِ ضبط اعمال پر قابو پانے میں مددگار ہو۔ ہمارے فلکیاتی زائچہ محض تاش کے پتوں طرح نہیں بانٹے جاتے کہ جنہیں ہم اچھے سے کھیل کر جیتنے کی خواہش کریں۔ ایسا ہو کہ ہم اپنے آپ کو بیوقوفانہ تاش کے کھیلوں سے نجات دلائیں تاکہ ہم اپنے اختیاری امکان کو پورا کر کے ہر ایک کی بہترین مدد کر سکیں۔

شکریہ ۔