ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تبتی فلکیاتی علوم

ایلکزانڈر برزن
دھرمسالہ، ھندوستان، ۱۹۸۶

۲۔ تاریخ و تبتی تقویم

تاریخ

چینی فلکیاتی مادے ھندوستانی نژاد مادوں سے قبل تبت پہنچے۔ یہ ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں ہوا، عظیم تبتی سلطنت کے بانی شہنشاہ سونگتسن گامپو کے زمانہ میں۔ اس کے حرم میں چینی اور نیپالی شہزادیاں موجود تھیں جن میں سے اول الذکر تبت میں اپنے ہمراہ چینی فلکیاتی اور طبی متون لائی تھی۔ چند سالوں کے اندر تبتی دربار نے سالوں کے نام کا تعین بارہ جانوروں کے نشانوں سے شروع کر دیا اگرچہ فی الحال چونسٹھ سالہ دور استمعال نہیں کیا۔ اگلی دو صدیوں تک یہ نظام تبت میں تقریباً بلا شرکت غیرے استمعال ہوتا رہا۔

نویں صدی عیسوی میں عمومی ثقافتی زوال کے ایک عرصہ کے بعد دسویں صدی کے شروع سے مشرقی ترکستان میں واقع ختن کے علاقہ سے چینی فلکیاتی علوم کے اثرات کی ایک نئی لہر در آئی۔ تبتی استاد دھرمکار نے اس کی گزشتہ زمانہ کے مادوں میں سے جو کچھ انہیں اور دوسروں کو یاد تھا اور جو کہ فاسد ہو چکا تھا، اس کے ساتھ آمیزش کر دی۔ انہوں نے عنصری حساب کی ایک نئی معتبر قسم بنائی جس میں اب موت، شادی، مشکلات، زائچہ بندی اور علمِ رمل شامل تھا۔ گیارہویں صدی میں تبت میں ساٹھ سالہ عنصر جانور دور کا استمعال عام تھا۔

موجودہ دور کی تبتی تقویمیں بھی شاہی سال کا نمبر مہیا کرتی ہیں۔ یہ ان سالوں کا شمار ہے جو کہ اولین تبتی بادشاہ نیاٹری تسنپو کی سن ۱۲۷ قبل مسیح میں تخت نشینی سے شروع ہوئے۔

تبت میں ھندوستانی فلکیاتی مادہ کی شروعات کالچکر تنتر کی آمد کے ساتھ ہوئیں۔ مختلف مترجمین اور اساتذہ نے گیارہویں سے تیرہویں صدی کے درمیان کئی مرتبہ بنیادی کالچکر متون کا سنسکرت سے ترجمہ اور ان کا تبت میں انتشار کیا۔ ان متون نے کاگیو اور ساکیہ روایات میں اہمیت اختیار کی اور ان پر مختلف شرحیں لکھی گئیں اور ہندوستانی اور چینی اساتذہ کے وضع کردہ نقوش کو جمع کر کے ایک امتیازی تبتی فلکیاتی روایت کی بنیاد ڈالی گئی۔

سالوں کے شمار کے لیے مشتری کا ساٹھ سالہ دور،کالچکر اور ہندو نظاموں میں مشترک ہے۔ اسےاس کے اولین برس کی نسبت سے 'رابجُنگ' یعنی معروف دور کہا جاتا ہے۔

تبتی تقویم کے 'معروف' ساٹھ سالہ دور کا اولین سال، کہ جسے تبت میں کالچکر کے آغاز کی با ضابطہ تاریخ سمجھا جاتا ہے، کالچکر ادب میں موجود وہ مشہور سالوں کا شمار ہے یعنی 'آتش فضا سمندر' جو کہ ۶۲۴ عیسوی میں مسلمان دور کے آغاز کے بعد سے ہے اگرچہ یہ دور در حقیقت ۶۲۲ عیسوی میں شروع ہوا۔

کالچکر اور مختلف ہندو نظام دونوں نمبروں کی وضاحت ناموں سے کرتے ہیں جن سے مراد بین الہندی نظام کا شمار ہوتا ہے اور ان کی فہرست اکائی، دہائی، سینکڑہ وغیرہ میں دی جاتی ہے۔ تین آتش ہیں، فضا صفر کی مانند خالی ہے اور چار عدد سمندر ہیں۔ پس 'آتش فضا سمندر' سے مراد ۶۲۴ کے ۴۰۳ سال بعد یعنی کہ ۱۰۲۷ عیسوی ہے۔

جب کالچکر کے 'معروف' ساٹھ سالہ دور کو چینی عنصری جانور ساٹھ سالہ دور سے ہم آہنگ کیا گیا تو سن ۱۰۲۷ عیسوی چینی دور کے آغاز سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ چینی دور ہمیشہ 'لکڑی نر چوہے' سال سے شروع ہوتے ہیں جبکہ یہ 'آگ مادہ خرگوش' دور کا چوتھا برس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تبتی ساٹھ سالہ دور کا آغاز 'آگ مادہ خرگوش' سال سے ہوتا ہے اور بارہ جانوروں کی ترتیب خرگوش سے شروع ہوتی ہے نہ کہ چوہے سے۔ پس دونوں نظاموں کے ادوار میں تین برس کا فرق ہے یعنی موجودہ ستارہواں تبتی برس ۱۹۸۷ عیسوی میں شروع ہوا جبکہ موجودہ ستائیسواں چینی دور ۱۹۸۴ عیسوی میں شروع ہوا تھا۔

اگرچہ پہلے 'معروف' ساٹھ سالہ دور کا آغاز ۱۰۲۷ عیسوی میں ہوا، تبت میں کالچکر تقویم نے تیرہویں صدی کے آخر میں غلبہ پایا۔ تاہم عوام سالوں کو ان کے عنصر جانور ناموں سے یاد رکھتے تھے جیسا کہ اب بھی کرتے ہیں، نہ کہ ان کے 'معروف' دور کے ناموں سے۔ تاہم، تقویم کا ریاضی حساب کالچکر نظام سے تھا۔

ابتدائی ساکیہ استاذہ اور فلکیاتی علوم کے مؤلفین میں سے ایک چوگیال پاگپا تھا جو کہ تیرہویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف میں پیدا ہوا۔ وہ چین کے منگول حکمران قبلائی خان کا اتالیق بھی تھا اور کہا جاتا ہے کہ تبتی بدھ مت کو منگولیا لے جانا کا سہرا بھی اس کے اور اس کے عم، ساکیہ پنڈت کے سر پر ہے۔ کیونکہ وہ کالچکر تعلیمات کا ایک مشہور استاد تھا اس لیے بلا شک تبتی فلکیاتی مادہ کی ترسیل بھی چوگیال پاگپا نے کی۔ مزید از آن، کالچکر تقویم کی تبت کی سرکاری تقویم بننے کی وجہ بھی غالباً یہ تھی کہ قبلائی خان سے شروع ہو کر منگول حکمرانوں نے جو کہ یوان خاندان کے چینی شہنشاہ تھے، پہلے ساکیہ پنڈت اور پھر چوگیال پاگپا کو تبت کا غیر مذہبی حکمران مقرر کیا تھا۔

قبلائی خان کے دادا چنگیز خان نے تیرہویں صدی کی ابتدا میں ویغوروں کے توسط سے سالوں کے لیے بارہ جانوروں کا شمار اپنا کر اسے اپنی سلطنت میں رائج کر دیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق چنگیز خان نے موجودہ دور کے مشرقی گانسو اور اندرونی منگولیا میں واقع تنگوت سلطنت کی فتح کے موقع پر "منگول مہینوں" کی اصطلاح وضع کی جو کہ چینی مہینوں کے مطابق تھے اور ان کا قائم مقام تھے۔

جب چنگیز کے جانشینوں نے اسی صدی کے وسط میں منگول سلطنت میں تبتی تقویم رائج کی تو انہوں نے منگول مہینوں کو کالچکر مہینوں کے مطابق بنا دیا بجائے چینی مہینوں کے جو کہ خاصے مختلف ہیں۔ تاہم انہوں نے چینی روایت کے مطابق، اولین منگول مہینہ کو سال کی ابتدا قرار دیا اگرچہ یہ اولین کالچکر مہینہ سے دو ماہ قبل ہے۔ اس کو تبت میں بھی قبول کر لیا گیا۔ نتیجتاً تمام منگول سلطنت میں سال کی ابتدا کے بارہ میں نسبتاً یکسانیت تھی۔ تاہم چینی اور تبتی نئے سال ہمیشہ ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں نظام لوند کے مہینوں کو جمع کرنے اور ہر مہینہ کے آغاز اور اختتام کا حساب لگانے کے لیے مختلف ریاضی فارمولے استمعال کرتے ہیں۔ تبت میں منگول مہینوں کو تبتی مہینے بھی کہا جاتا ہے اور دونوں اصطلاحات استمعال ہوتی ہیں۔

تبتی فلکیاتی علام کے سلسلے

آج تبتی فلکیاتی علوم کے دو عدد سلسلے موجود ہیں: 'تسورپو' اور 'پوگپا'۔ اول الذکر کا ماخذ ابتدائی چودہویں صدی کی کالچکر تفسیریں ہیں کہ جنہیں تسورپو خانقاہ کے تیسرے کارماپا رانگجونگدورجے' نے تحریر کیا۔ یہ سلسلہ جو کہ محضکرم کاگیو روایت میں پایا جاتا ہے اور سورج اور چاند کے مقامات کا حساب لگانے کے لیے خلاصہ نظام استمعال کرتا ہے جبکہ سیاروں کے لیے کامل راسخ عقیدہ نظام۔

تسورپو نظام سے ماخوذ ہی 'چتوپیِٹھکالچکر حسابی نظام' ہے۔ اسے سولہویں صدی عیسوی کے اواخر میں ڈروگچنپدمکارپونے شروع کیا۔ کیونکہ ڈروگپا کاگیو روایت اور بھوٹانی اس نظام کے پیرو ہیں اس لیے اسے بھوٹانی حسابی نظام بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کالچکر اور چتوپیِٹھ یعنی 'چار نشست تنتر' کے مادوں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اس میں اور تسورپو میں اہم فرق یہ ہے کہ یہ نظام حساب شدہ قمری ہفتہ کے دنوں کو بطور گزشتہ تاریخ کے لیتا ہے نہ کہ بطور موجودہ تاریخ کے۔ مثلاً اگر تسورپو نظام میں ایک مخصوص بدھ کے دن کا حساب نو تاریخ کو ہے تو بھوٹانی نظام میں نو گزشتہ دن ہو گا اور بدھ کا دن دس تاریخ کو سمجھا جائے گا۔ اس کے برعکس، ڈریگونگکاگیوروایت ایک ایسے نظام کی پیروی کرتی ہے جس میں تسورپو اور پوگپا نظاموں کو جمع کر دیا گیا ہے۔

پوگپا نظام یا سلسلہ کی ابتدا پندرہویں صدی عیسوی میں تین اساتذہ سے ہوئی جن سب کے نام میں "گیاتسو" آتا تھا یعنی پوگپالہونڈروبگیاتسو، کئیڈروبنورزنگگیاتسواورتسانگچونگچوڈرگگیاتسو۔یہ چودہویں صدی کے ساکیہ استاد بوتن کی روایت پر مبنی ہے جو کہ کالچکر تنتر کا ایک عظیم مفسر تھا۔ یہ حساب و شمار کےنو تعمیر شدہ راسخ عقیدہ نظام کو اہمیت دیتا ہے۔ ستارہویں صدی عیسوی کے وسط میں 'دیسی سانگیے گیاتسو' نے اپنے متن "سفید آبِ بحر" میں راسخ عقیدہ نظام اور خلاصہ نظام دونوں کو پیش کر کے روایت میں ترمیم کی۔انہوں نے وضاحت کی کہ راسخ عقیدہ نظام کو تقویم اور جنتریوں کے لیے استمعال کیا جائے اور جنتریوں میں گرہنوں کا حساب لگانے کے لیے خلاصہ نظام کا مواد شامل کیا جائے۔ گیلوگ، ساکیہ، نیئنگما، شانگپا کاگیو روایات اور روس کے کلمیکمنگول پوگپا سلسلہ کے پیرو ہیں۔ پس یہ مقبول ترین فلکیاتی نظام ہے۔

وسیع چینی طرز یعنی زرد حساب نے دونوں پوگپا اور تسورپو نظاموں میں نمو پائی۔ جب چین کے چِنگخاندان کے پہلے مانچو شہنشاہ کی دعوت پر دلائی لامہ پنجم ۱۶۵۲ء میں چین گئے تو انہوں نے بیجنگ میں شاہی محل میں روایتی چینی تقویم اور فلکیاتی نظام سے ماخوذ اعلان اور اسناد دیکھے جن سے وہ متاثر ہوئے۔ انہوں نے اپنے ترجمان 'مرگن کاچوپا' کو ان کا علم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ تبت واپس آ کر مرگن کاچوپا نے اس وسیع چینی طرز کے حساب پر تیرہ عدد جلدوں کی تدوین کی۔ ان متون کو دلائی لامہ کے پوٹالا محل میں چھپا دیا گیا اور یہ کبھی استمعال نہیں ہوئے۔ دیسی سانگیے گیاتسو، جو کہ دلائی لامہ پنجم کا وزیر تھا، کے مندرجہ بالا متن میں اس زرد نظام کا کوئی ذکر نہیں۔ تاہم اس تقویمی اور فلکیاتی روایت کو شروع کرنے کا اعزاز مرگن کاچوپا کو جاتا ہے۔

اٹھارہویں صدی عیسوی میں تبتوں کے اندر چینی تقویم اور فلکیات کا ایک نیا شوق پیدا ہوا۔ اس کو پروان چڑھانے میں چین کے مانچو شہنشاہ چیانلونگکی حوصلہ افزائی کا بڑا ہاتھ تھا۔ تسورپو سلسلہ سے بارہویں کارماپا اور بعد از آں، تائی سیتو ہشتم نے مانچو شاہی دربار کا دورہ کیا اور مزید ترجموں کا اہتمام۔ پوگپا سلسلہ کے اندر بھی شمال مشرقی تبتی صوبہ امدو کے گیلوگ اساتذہ کو بھی اس موضوع میں خاص دلچسپی تھی خاص طور پر لبرانگ ٹاشیکیل خانقاہ کے فلکیاتی مدرسہ میں۔ انہوں نے کئی متون کا ترجمہ کیا۔ اندرونی منگولیا بھی انہی کے سلسلہ کا پیروکار ہے۔

وسطی تبت کے پوگپا مکتبِ فکر میں زرد حساب کی ایک مختصر قسم ایک متن میں پائی جاتی ہے کہ جسے چیندزو سونگراب نے انیسویں صدی کے اوائل میں تحریر کیا۔گینلوڈروگیاتسو کے اندراج اور مشاہدوں کی بنیاد پر پروفیسور ٹراگٹن نے انیساسیکیدہائیمیںاس نظام کی تدوین کی جو کہ اب دھرمسالہ تبتی طبی و فلکیاتی ادارہ میں پڑھایا جا رہا ہے۔ لہاسا تبتی طبی و فلکیاتی ادارہ کے نظام کی حال میں تسیتنثابڈرونگاور موگے سامتن نے تدوین کی ہے۔

زرد نظام کالچکر تقویم کا حساب استمعال کرتا ہے اور اس طرح اصلی کلاسیکی چینی تقویم کی ساخت سے بالکل مختلف ہے۔ تاہم اس کا دگنے مہینہجمع کرنے کا طریقہ چینی طریقہ سے مشابہ ہے اگرچہ بالکل وہی نہیں۔ دوسرے تبتی اور ھندوستانی نظاموں کے برعکس کہ جن سب میں قمری مہینوں کی دگنی اور محذوف تاریخیں ہوتی ہیں، وسیع چینی طرز کے حساب میں، کلاسیکی چینی نظام کی مانند، یہ نقش موجود نہیں ہے۔زرد نظام میں ہر مہینہ کی ابتدا کی تاریخ ہمیشہ کلاسیکی چینی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہوتی اور نہ ہی پوگپا اور تسورپو نظاموں سے۔ اگرچہ اکثر ایسا ہو بھی جاتا ہے۔

اندرونی منگولیا اور وسطی تبت کے پوگپا سلسلوں میں کئی فرق ہیں، مثلاً دگنے مہینے لگانے کے طریقہ میں۔ اندرونی منگولیا کی تقویم کی تنظیم زرد نظام کے مطابق ہے جبکہ وسطی تبت میں اس کا مواد محض پوگپا جنتریوں میں شامل ہے۔ وسطی تبت میں زرد نظام کا اہم مقصد "زمین بیل" حساب کرنا ہے جس سے سال کے موسموں اور عمومی حالات کی پیشگوئی کی جاتی ہے۔

منگولیا کے خلخامنگول اور سائیبیریا کے بُریات اور تُوایبھی پوگپا کی ایک قسم کے پیروکار ہیں جسے "نیا گیدن" یعنی نیا مثبت سلسلہ کہا جاتا ہے۔اس کی ابتدا امدو کے ایک منگورمنگول طب و فلکیات کے استاد سُمپاکنپو یےشےپلجور نے ۱۷۸۶ء میں کی۔ یہ نظام پندرہویں صدی عیسوی کی کئیڈروبجےکی کالچکر تفاسیر کو بنیاد بناتا ہے۔ اکثر حساب پوگپانظام کے قوانین کے تحت ہوتے ہیں اور ساٹھ سالہ ادوار کا بھی وہی شمار ہے۔

تاہم، اگرچہ ساٹھ سالہ معروف دور "آگ مادہ خرگوش" سے شروع ہوتا ہے لیکن ساٹھ سالہ دور کے حساب کا ابتدائی نقطہ "آگ نر گھوڑے" کو تصور کیا جاتا ہے جو کہ اس دور کا چالیسواں سال ہے۔ یہ اس لیے کہ شاکیہمُنیمہاتما بدھ اس برس میں پیدا ہوئے تھے۔ ان اختلافات کی وجہ سے منگول تقویم یگانہ ہے۔

بون نظامِ فلکیات کو "تین تجزیوں کا خالص حساب" کہا جاتا ہے۔ اگرچہ بونپو بون نظام کو سب سے قدیم جانتے ہیں، کسی بھی بودھی نظام سے قدیم تر، لیکن اس کی متنی تدوینکیونگٹرولجِگمے نامکے دورجے(۱۸۸۰تا ۱۹۵۳ء) نے کی۔ اس نظام میں بیرونی، اندرونی، خفیہ اور مزید خفیہ خالص حساب ہیں۔ بیرونی اور اندرونی حساب معمولی فرق کے ساتھ پوگپا روایت سے ہم آہنگ ہیں۔ جبکہ خفیہ اور مزید خفیہ حساب، بیرونی اور اندرونی حساب کی نسبتزیادہ با وثوق حساب کے لیے استمعال ہوتے ہیں۔ بون تقویم بعینہ پوگپا تقویم ہے۔

ان تبتی نظاموں کے مابین فرق ان کے شمسی اور قمری تقویم کو ہم آہنگ کرنے کے طریقوں میں واضح ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھنے کے لیے ہمیں پہلے خود تبتی تقویم کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ بنیادی طور پر کالچکر تنتر سے ماخوذ ہے۔

تبتی جدول، تقویم اور جنتریاں

تبتی فلکیاتی اور نجومی نظام بیحد پیچیدہ ہے۔ دھرمسالہ، ھندوستان میں واقع دھرمسالہ تبتی طبی و فلکیاتی ادارہ کے فلکیاتی شعبہ میں اسے باقاعدہپڑھنے کے لیے پانچ برس درکار ہیں۔ طلبا ہر قسم کا حساب روایتی طریقہ سے ایک تختی پر ہاتھ سے کرنا سیکھتے ہیں اور ایسا کوئی کامل جدول موجود نہیں کہ جس سے اعداد و شمار حاصل کیے جا سکیں۔ تربیت کا اہم حصہ حساب کے لیے ضروری ریاضی کا علم سیکھنا ہے۔

ہندو روایتوں کی طرح کالچکر نظام فارمولے مہیا کرتا ہے کہ جن سے "پانچ سیاروں اور پانچ تقویمی نقوش" کے مقامات حاصل کیے جا سکیتے ہیں۔ یہ پانچ سیارہ ہیں: عطارد، زہرہ، مشتری، مریخ اور زحل۔ ان کے اور سورج، چاند اور گرہوں کے مقامات کا حساب تبتی جدول میں قدیم یونانی نظام کی طرح ریاضی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔پس یہ چینی فلکیاتی نظام کے برخلاف ہے کہ جس میں ان مقامات اور آسمانی اجسام کی حرکت کا تعین مشاہدہ کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ پس چینی ریاضی مضمون جب استمعال ہوتا ہے تو الجبرا پر مبنی ہوتا ہے۔

قدیم یونانی زیادہ تر علم ہندسہ استمعال کرتے تھے یعنی کہ مختلف ہندسی تناسب کہ جن سے وہ سیاروں کے مقام اور ان کی حرکت کا تعین کرتے تھے۔ ہندو نظام نے جیب کا عمل ایجاد کیا یعنی کہ محض ہندسہ کی بجائے، علمِ مثلث کو بھی استمعال کرنا شروع کیا۔ تبتی نظام میں نہ تو ہندسہ کا علم استمعال ہوتا ہے اور نہ ہی مثلث کا بلکہ تمام تر حساب صرف علم ریاضی سے کیا جاتا ہے۔

تقویم اور جنتری بنانے کا عمل پانچ تقویمی نقوش پر مشتمل ہے: قمری ہفتہ کا دن، قمری مہینہ کی تاریخ، قمری کوکبیں، اتصالی عرصہ اور عملی عرصہ۔ اولین دو نقوش قمری اور شمسی تقویم کو ہم آہنگ کرنے میں کار آمد ہوتے ہیں۔

تبتی اور ہندو نظاموں میں تین قسم کے دن ہوتے ہیں۔ راس چکری دن وقت کی وہ مدت ہے کہ جس میں سورج راس چکر پر ۳۶۰ ڈگری کی حرکت مکمل کرتا ہے۔ ایک شمسی روز ایک فجر سے دوسرے فجر تک ہوتا ہے۔ایک قمری دن، چاند کے گھٹنے بڑھنے کی نسبت سے، چاند کے راس چکر پر ہر متواتر نشان کے مقام کے درمیان سفر کا تیسواں حصہ ہے۔ ایک قمری دن کے ابتدائی مقام کا حساب جس ریاضی عمل سے لگایا جاتا ہے وہ اسی قسم کا ہے کہ جس سے سورج اور سیاروں کے مقام معلوم کیے جاتے ہیں۔ انہیں سات قمری دنوں کے ایک دور میں گنا جاتا ہے، جنہیں ہفتہ کے دنوں کا نام دیا جاتا ہے جو کہ جیسا کہ پہلے بتایا گیا، سیاروں کے نام بھی ہیں۔ قمری اور شمسی تقویموں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ان قمری دنوں کو شمسی دنوں میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ یہ ایک خاصا پیچیدہ امر ہے۔

پہلی مشکل تو یہ ہے کہ نیا چاند ہر ماہ عین ایک ہی وقت پر نہیں ابھرتا۔ پس چاند اپنے دور کے تیسویں حصہ کا مختصر سفر، شمسی دن میں کسی بھی وقت شروع کر سکتا ہے۔ وہ مدت کہ جس میں یہ اپنے دور کے تیسویں حصہ کا سفر کرتا ہے، ہفتہ کا دن کہلاتی ہے۔ پس ہفتہ کا دن شمسی دن میں مختلف اوقات پر شروع ہو سکتا ہے۔

مزید از آں، چاند کو ان تیسویں حصوں کا سفر کرنے میں مختلف مدت لگتی ہے کیونکہ اس کی رفتار اس کے اپنے مقام اور راس چکر میں سورج کے مقام پر منحصر ہے۔ نتیجتاً، ایک قمری ہفتہ کے دن کی مدت جو کہ دو شمسی صبحوں کے درمیان ہو، مختلف اوقات کی ہو سکتی ہے چونکہ قمری ہفتہ کے دن کی طوالت بھی قابل تغیر ہے۔

قمری مہینہ کی تواریخ، جو کہ دوسرا شمولی تقویمی نقش ہے، کا شمار ایک سے تیس تک ہوتا ہے اور یہ شمسی دنوں کی طرح ایک صبح سے دوسری صبح تک ہوتی ہیں۔ مشکل اس امر کے تعین میں ہے کہ ہفتہ کے کس دن کو کونسی تاریخ دی جائے۔ اس کا جواب اتنا واضح نہیں ہے کیونکہ قمری ہفتہ کے روز جو کہ ہفتہ کے دنوں کا تعین کرتے ہیں کیونکہ ان کے نام ہفتہ، اتوار، سوموار وغیرہ ہیں، مختلف اوقات پر مختلف مدتوں کے لیے شروع ہوتے ہیں۔

قاعدہ یہ ہے کہ ہفتہ کے دن کا تعین اس قمری ہفتہ کے روز سے کیا جاتا ہے جو کہ قمری تاریخ کی صبح کو ہو۔ مثلاً ایک قمری ہفتہ کا دن مثلاً سوموار، مہینہ کی دوسری تاریخ کی سہ پہر میں شروع ہو سکتا ہے اور تیسری تاریخ کی سہ پہر میں ختم۔ کیونکہ تیسری تاریخ کی صبح پانچ بجے قمری ہفتہ کا دن سوموار ہے اس لیے یہ تاریخ سوموار شمار ہو گی۔

ہفتہ کا دن کبھی دگنا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ ایک اتوار کے بعد لازم سوموار آئے گا نہ کہ ایک دوسرا اتوار اور نہ ہی منگل کا روز۔ تاہم کبھی کبھار دو متواتر دنوں کی صبحیں ایک ہی قمری ہفتہ کے دن میں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً یہ ہو سکتا ہے کہ سوموار تیسری تاریخ کی صبح سے پانچ منٹ قبل شروع ہو جائے اور منگل چوتھی تاریخ کی صبح کے پانچ منٹ بعد شروع ہو۔ اس صورت میں تیسری اور چوتھی تاریخ، دونوں کو سوموار شمار کیا جائے گا۔ کیونکہ ایک تواتر میں دو دن سوموار نہیں ہو سکتے اس لیے ان میں سے ایک تاریخ کو حذف کر دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تبتی تقویم میں مہینہ کی کچھ تاریخیں حذف کر دی جاتی ہیں۔

دوسری طرف، گاہ بگاہ، ہفتہ کے دو قمری دنوں کا آغاز اگلی تاریخ کی صبح سے پہلے ہوتا ہے۔ مثلاً اگر قمری سوموار تیسری تاریخ کی صبح سے پہلے شروع ہو جائے اور چوتھی کی صبح سے پہلے ختم ہو جائے تو پھر پہلے قاعدہ کے مطابق، تیسری تاریخ اتوار شمار ہو گی اور چوتھی منگل اور کوئی سوموار نہیں ہو گا۔ کیونکہ اتوار سے منگل جانا بغیر سوموار کے ممکن نہیں ہے اس لیے ان میں سے ایک تاریخ کو دگنا کر دیا جائے گا تاکہ ایک سوموار شمار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تبتی مہینہ میں دو آٹھ تاریخیں یا دو پچیس تاریخیں ہوتی ہیں۔

قمری تقویم کی شمسی تقویم سے مزید ہم آہنگی کے لیے کبھی کبھار سال میں ایک تیرہویں مہینہ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ بطور ایک لوند کے مہینہ کے یا ایک دُگنے مہینہ کے کیا جاتا ہے۔ مختلف تبتی سلسلوں میں اس امر کے، کہ کن تاریخوں کو دگنا کیا جائے یا حذف کیا جائے اور زائد مہینہ کو کب شمار کیا جائے، مختلف قواعد ہیں۔ یہ ان میں بنیادی فرق ہے۔ مختلف ہندو تقویموں میں بھی دگنی یا حذف شدہ تواریخ ہیں اور ان میں اور کلاسیکی چینی تقویم میں دگنے مہینہ بھی ہیں۔ البتہ ان کے قواعد تبتی نظاموں سے مختلف ہیں۔

تیسرا شمولی کوکبی نقش قمری کوکبیں ہیں۔ اس سے مراد ایک قمری تاریخ کی صبح کو چاند کا اصل مقام نہیں کہ جس کا تعین پانچ سیاروں کی تکنیک سے کیا جاتا ہے بلکہاس سے وابستہ متواتر کوکبیں ہے۔ کسی بھی مخصوص قمری تاریخ میں اس امر کا تعین کہ اُس تاریخ کو ہفتہ کا کونسا دن شمار کیا جائے، اس تاریخ کی صبح کو چاند کا کوکبی مقام کرتا ہے۔

چوتھے اور پانچویں نقوش ہیں اتصالی اور عملی عرصے۔ یہ ستائیس اتصالی مدتیں ہیں۔ ان میں سے ہر مدت وہ عرصہ ہے کہ جس میں سورج اور چاند کی مشترکہ حرکت کامل راس چکر کا ستائیسواں حصہ ہوتی ہے۔ پس کسی بھی وقت کے لیے ہم اتصالی عرصہ کا تعین سورج کے تصحیح شدہ مقام کو چاند کے مسلسل وابستہ کوکبی مقامات میں جمع کر کے کرتے ہیں۔ پس ہر عرصہ ایک مختلف وقت پر شروع ہوتا ہے۔ ہر عرصہ کے مختلف نام اور توجہیں ہیں جن میں سے کچھ دوسروں سے کم مبارک ہیں۔

آخر میں، گیارہ عملی عرصے ہیں جو کہ تیس قمری تاریخوں کی غیر متوازن تقسیم سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہاں پر اس کی تفصیل دینے کی ضرورت نہیں۔ گیارہ میں سے ہر عرصہ کا ایک مخصوص نام ہے اور ان میں سے کچھ بھی مخصوص کاموں کے لیے زیادہ یا کم مبارک ہیں۔

تبتی تقویم کی خاص تاریخیں

تبتی تقویم اور جنتری تبتی لوگوں کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا ایک بہت اہم کام مختلف بودھی نذرانہ کی رسوم یعنی 'تسوگ' کی تاریخوں کا تعین کرنا ہے۔چاند کی زائیدگی اور انحطاط، دونوں کی دسویں تاریخ، یعنی کہ ہر قمری مہینہ کی دسویں اور پچیسویں تاریخ وہ دن ہیں جب بدھ شبیہ چکرسموار جسے کبھی ہیروکا اور وجریوگنی بھی کہا جاتا ہے کو نذر پیش کی جاتی ہے اور گرو رنپوچے پدمسمبھاواکو بھی جو کہ نیئنگما روایت کے بانی تھے۔ ان سب دسویں تاریخوں میں سے گیارہویں تبتی مہینہ کی پچسویں تاریخ وجریوگنی کے لیے سب سے اہم ہے۔ ہر تبتی مہینہ کی آٹھویں تاریخ تارا کو نذر پیش کرنے کا خصوصی دن ہے۔ یہ صرف چاند کے انحطاطی دور میں ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ایک تبتی مہینہ میں دو عدد دس تاریخیں ہوں تو نذر کی رسم ان میں سے پہلی تاریخ کو ادا کی جاتی ہے۔ اگر دسویں تاریخ اس مہینہ سے حذف ہو جائے تو پھر یہ رسم نویں تاریخ کو ادا کی جاتی ہے۔ یہ قانون ان سب مذہبی رسوم کے لیے ہے جو کہ تبتی تقویم کی کسی مخصوص مبارک تاریخ کو کی جاتی ہیں۔

ہر بودھی سلسلہ میں اور ہر روایت کی ہر خانقاہ میں سال بھر کی مذہبی رسوم کی ادائیگی کا جدول تبتی تقویم کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ موسمِ گرما کی خلوت عموماً چھٹے تبتی مہینہ کی سولہویں تاریخ سے لے کر ساتویں تبتی مہینہ کی تیسویں تاریخ تک ہوتی ہے۔ اسے اوائلی موسم گرما کی خلوت کہا جاتا ہے۔لہاسا کی گیؤتو اور گیؤمے خانقاہیں دیرینہ موسمِ گرما کی خلوت کرتی ہیں جو کہ ساتویں تبتی مہینہ کی سولہ تاریخ سے آٹھویں تبتی مہینہ کی تیسویں تاریخ تک ہوتی ہے۔ مزید از آں، گیلوگ روایت میں ہر قمری مہینہ کی انتیس تاریخ بدھ شبیہ وجربھائرواکہ جسے یمانتکبھی کہا جاتا ہے، کے لیے مخصوص ہے۔ اس شبیہ پر خاص طور پر مشکلات دور کرنے کے لیے انحصار کیا جاتا ہے۔ اس لیے شدید مشقوں کی مراقبہ کی خلوت شروع کرنے کے لیے کسی بھی تبتی مہینہ کی یہ تاریخ سازگار سمجھی جاتی ہے۔

بیساکھی کی تبتی چھٹی نہ صرف شاکیہ منی مہاتما بدھ کے پرنروان یا وفات کی یاد مناتی ہے بلکہ ان کی تاریخِ پیدائش اور نروان حاصل کرنے کی بھی۔ یہ لفظ سنسکرت مہینہ بیساکھ سے نکلا ہے اور تھرواد ممالک کے ذریعہ تبتی زبان میں آیا ہے۔ یہ کالچکر تقویم کا دوسرا اور تبتی تقویم کا چوتھا مہینہ ہے۔ یہ دن پورے چاند پر منایا جاتا ہے یعنی قمری مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو۔ کیونکہ تھرواد تقویم تبتی تقویم سے مختلف ہے اور ایک ھندوستانی ہندو نظام سے ماخوذ، اس لیے اس میں بیساکھی تبتی تقویم سے ایک مہینہ قبل ہے۔

شاکیہ منی مہاتما بدھ کی زندگی کے دو اور واقعہ منائے جاتے ہیں۔ جب مہاتما بدھ نے بودھگیا میں بودھی درخت تلے اپنی روشن ضمیری ثابت کی تو پہلا شخص جسے انہوں نے تعلیم دی، ان کی والدہ تھیں جو کہ ان کی پیدائش کے دوران وفات پا گئیں تھیں اور انہوں نے جنت میں تینتیس خداؤں میں، یا کچھ روایات کے مطابق توشیتا جنت میں، پنر جنم لیا تھا۔ مہاتما بدھ نے انہیں تعلیم دینے کی خاطر وہاں کا سفر اختیار کیا۔ پس 'جنتی مملکت سے نزول کا دن' جو کہ چھٹے تبتی مہینہ کی چوتھی تاریخ کو منایا جاتا ہے، مہاتما بدھ کی اس دنیا میں واپسی کی یاد کا جشن مناتا ہے۔ مہاتما بدھ وہاں سے سارناتھ تشریف لے گئے اور وہاں پر انہوں نے ہرن باغ میں اپنے اولین انسانی چیلوں کو تعلیم دی۔ پس اس کی یاد میں 'مرتببَہاؤتعلیماتکےچکردور' کا دن نویں تبتی مہینہ کی بائیسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔

ہر تبتی بودھی سلسلہ کے اپنے خصوصی دن بھی ہیں۔ مثلاً گیلوگ روایت میں پانچویںکے'گاندننذرانہ' کا دن تسونگکھاپا کی وفات کی یاد میں دسویں تبتی مہینہ کی پچیسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ لہاسا کا 'مونلم عظیم عبادتی تہوار'پہلے تبتی مہینہ کی تیسری سے چوبیسویں تاریخ تک منعقد ہوتا ہے۔اس کے آخری روز روایتی طور پر 'رسمی کیک اچھالنے' کی تقریب کونیچنگخانقاہ کا سروشِ غیبی انجام دیتا ہے اور جس کے دوران نئے سال میں پیش آنے والی تمام رکاوٹیں علامتی طور پر ہٹا دی جاتی ہیں۔ اس سے اگلے روز، یعنی پہلے مہینہ کی پچیس تاریخ کو 'مائیتریاکو مدعو کرنے کا جشن' منعقد ہوتا ہے جس کے دوران مائیتریا یعنی آئیندہ بدھ کی شبیہ کو ایک خوبصورت گاڑی میں لہاسا کے گلی کوچوں میں پھرایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سروشِ غیبی سے مشورہ کے مخصوص دن بھی معین ہیں۔ مثلاً تبتی حکومت روایتی طور پر نیچنگ سروشِ غیبی سے پہلے مہینہ کی دسویں تاریخ کو مشورہ کرتی تھی۔ تبت میں ڈریپونگ خانقاہ کے راہب،نیچنگسروشِ غیبی سے با قاعدگی سے ہر تبتی مہینہ کی دوسری تاریخ پر مشورہ کرتے تھے۔

تبتی تقویمیں باقاعدگی سے تین قسم کی منحوس تاریخوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ "برے دنوں" کا نشان تبتی حرف "ژا" سے دیا جاتا ہے اور یہ ایک صبح سے دوسری صبح تک ہوتے ہیں۔ "سیاہ روز" کہ جن کا نشان "نِیا" سے دیا جاتا ہے صرف دن کی روشنی تک محدود ہوتے ہیں۔ دونوں کی ہر سال میں مقرر شدہ تاریخیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک، ایک کالچکر مہینہ میں ہے۔ تیسری قسم کی منحوس تاریخیں جن کا نشان "یا" ہے پورے دن اور رات قائم رہتی ہیں۔ انہیں ایک چینی الہ کے نام پر "ین کوانگ" دن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً سال میں تیرہ روز ہوتے ہیں اور یہ زرد حساب کے وسیع چینی طرز کے مہینوں میں مقرر تاریخوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چینی نژاد عنصری حسابی نظام سے ہر سال میں دو عدد "سیاہ" یا منحوس مہینہ ہوتے ہیں اور کبھی کبھار ایک "سیاہ" سال بھی ہوتا ہے۔

تبتی تقویم میں ایک اور قسم کی تاریخ کی نشاندہی بھی ایک حرف کرتا ہے اور یہ حرف "سا" ہے۔ یہ ہر دو ہفتہ بعد ادا کی جانے والی رسم ہے راہبوں اور راہبات کے تزکیہ اور ان کے عہد و پیمان کی دوبارہ توثیق کی۔ اسے سوجونگ رسم کہا جاتا ہے۔ ہر سال اس رسم کی پہلی ادائیگی نیا سال شروع ہونے کے پندرہ شمسی دنوں کے بعد ہوتی ہے۔ تبتی مہینہ چاند کے انحطاطی دور سے شروع ہوتے ہیں۔ ہر ماہ، دوسری سوجونگ، انحطاطی دور کے اختتام پر گزشتہ رسم سے چودہ قمری تاریخوں کے بعد منعقد ہوتی ہے۔ اگر ان دنوں میں کوئی دگنی تاریخ ہو تو اسے بطور ایک تاریخ کے گنا جاتا ہے اور نمبر پورا کرنے کے لیے مزید ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ تاہم ہر مہینہ کی پہلے سوجونگ انحطاطی دور کے اختتام پر پچھلی رسم سے پندرہ شمسی دن کے بعد منعقد ہوتی ہے، دگنی اور حذف شدہ تواریخ کی پرواہ کیے بغیر۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بالعموم چاند کا زائیدگی کا دور انحطاطی دور سے زیادہ مبارک سمجھا جاتا ہے، پس اکثر تبتی مثبت، تعمیری سرگرمیاں قمری مہینہ کے پہلے نصف میں شروع کرتے ہیں تاکہ وہ چاند کی طرح پھلیں پھولیں۔

مبارک اور منحوس تواریخ

مخصوص کاموں کے لیے کچھ تاریخیں مبارک اور کچھ منحوس سمجھی جاتی ہیں۔ مثلاً ایک قمری مہینہ کی نو، انیس اور انتیس تاریخیں سفر شروع کرنے کے لیے مبارک ہیں۔ جبکہ نام نہاد "پانی کی چھلنی" تاریخیں یعنی دوسری، آٹھویں، چودہویں، بیسویں اور چھبیسویں، سفر کے لیے نامبارک سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تبتی لوگ کسی مبارک دن سفر شروع نہیں کر سکتے تو وہ اپنے سامان کا کچھ حصہ ایک مبارک دن میں راستے پر تھوڑی دور کسی اور گھر لے جاتے ہیں تاکہ علامتی طور پر ان کا سفر اس مبارک دن میں شروع ہو۔ تاہم اگر کسی کی وفات مہینہ کی نو، انیس یا انتیس تاریخ کو ہو، یا پھر جب چاند نویں کوکب میں ہو اور یا اتوار کے روز اور خاص طور پر جب یہ تینوں چیزیں اکٹھی ہو جائیں تو اسے پسماندگان کے لیے منحوس سمجھا جاتا ہے۔

سال کی سب سے منحوس تاریخ "نو بد شگونی دن" ہے۔ یہ گیارہویں تبتی مہینہ کی چھ تاریخ میں دوپہر کو شروع ہوتا ہے اور سات تاریخ کی دوپہر تک جاری رہتا ہے۔ اس دن اکثر تبتی کوئی خاص مذہبی یا دوسرا مثبت کام نہیں کرتے بلکہ اسے سیر و تفریح اور آرام کے لیے استمعال کرتے ہیں۔ اس روایت کی تاریخ یہ ہے کہ مہاتما بدھ کے زمانہ میں ایک شخص نے اس روز بہت سے مثبت عمل انجام دینے کی کوشش کی لیکن اسے نو بد چیزوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر مہاتما بدھ نے اسے مشورہ دیا کہ مستقبل میں اس تاریخ پر بہت اچھے کاموں کی کوشش نہ کرنا بہتر رہے گا۔

تاہم اس چوبیس گھنٹے کے عرصہ کے فوراً بعد ہی یعنی گیارہویں تبتی مہینہ کی ساتویں تاریخ کی دوپہر سے لے کر آٹھویں تاریخ کی دوپہر تک "دس نیک شگونی روز" ہے۔ مہاتما بدھ کے زمانہ میں اس تاریخ میں اُسی شخص کو دس عمدہ چیزیں پیش آئیں جب اس نے مثبت کاموں کی کاوش جاری رکھی۔ پس یہ عرصہ مثبت اور تعمیری کاموں کے لیے بہت مبارک سمجھا جاتا ہے لیکن بالعموم تبتی اس دن کو بھی سیر و تفریح اور کھیلوں کے لیے استمعال کرتے ہیں۔

سال کے دو اور عرصوں کی بھی جنتری میں نشاندہی ہوتی ہے اور یہ دونوں قابلِ ذکر ہیں۔ پہلا عرصہ ہے "رِشی ستارہ کا طلوع"۔اس کا حساب آٹھویں تبتی مہینہ کے ایک مخصوص مقام سے لگایا جاتا ہے اور اس کی مدت سات روز ہے۔ اس عرصہ کے دوران رِشی ستارہ کی روشنی ایک حیرت انگیز مجسمہ کے تاج کے ایک گوہر پر چمکتی ہے جس کے نتیجہ میں اس سے رس جاری ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً اس عرصہ میں گرم چشمہ بہت موثر ہو جاتے ہیں اور ان سات دنوں کو تبتی لوگ نہانے کے دن کہتے ہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں گرم چشموں میں علاج اور درمان کے لیے جاتے ہیں۔

دوسرا عرصہ "زہر خنزیر ایام" ہیں۔ اس کی مدت بھی سات روز ہے اور اس کا حساب پانچویں تبتی مہینہ کے ایک اور مقام سے لگایا جاتا ہے۔ ان ایام میں زہریلی بارش کی بنا پر پانی زہر آلود ہو جاتا ہے اور وہ طبی جڑی بوٹیاں جنہیں ان ایام میں چنا جائے، زہریلی ہوتی ہیں۔ اسی طرح گرم چشمہ بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اور لوگ ان سے احتراز کرتے ہیں۔

اگرچہ ہماری زندگیوں میں بہت سے مشکلات کے ادوار چینی نژاد عنصری حسابی نظام سے اخذ شدہ ہیں، لیکن ان میں سے سب سے اہم جو کہ سب تبتوں کے لیے قابلِ ذکر ہے، "عمر کا رکاوٹی برس" ہے۔ یہ ہر وہ برس ہے کہ جس میں ہمارا پیدائشی جانور نشان عود آتا ہے۔ مثلاً اگر ہم چوہے کے سال میں پیدا ہوئے ہیں تو اس کے مابعد، ہر چوہے کا سال رکاوٹی سال ہو گا۔ پس یہ ہر بارہ سال کے بعد ہوتا ہے۔ عمر شمار کرنے کے مندرجہ بالا تبتی طریقہ کے مطابق ان میں سے پہلا ہماری عمر کا پہلا سال ہو گا اور دوسرا تیرہواں سال وغیرہ وغیرہ۔

تبتی لوگوں میں علمِ نجوم کا مقبول استمعال

ساعتی علمِ نجوم یعنی دن کی مختلف ساعتوں کی برکت دیکھنا، تبتی جنتری سے ماخوذ سب سے اہم نقش ہے اور یہ تبتوں کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا تعلق پہلے دو شمولی نقوش سے ہے، یعنی کہ قمری ہفتہ کا دن اور قمری کوکبیں۔

اٹھائیس قمری کوکبوں میں سے ہر ایک اور سات ہفتہ کے دن اور ان کے آسمانی اجرام میں سے ہر ایک، چار میں سے ایک عنصر سے وابستہ ہے۔ یہ پانچ ھندوستانی عناصر میں سے چار ہیں یعنی زمین، پانی، آگ اور ہوا۔ ایک مخصوص تاریخ کے لیے چاند کی متواتر وابستہ کوکبوں کے عنصر کا قمری ہفتہ کے دن کے عنصر سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ ہر دس ممکن عنصری اتصال کی ایک مختلف توجیہ ہے جس پر بنیاد کر کے ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا ایک مخصوص کام اس وقت پر کرنا چاہیے یا نہیں۔

یہ دس کمتر مطابقتوں کا نظام ہے۔ مثلاً اگر ہم ایک مراقبہ کی خلوت کے اختتام پر آتش نذرانہ کی رسم ادا کر رہے ہیں تو موافق ہو گا کہ ہم دگنی آگ کے عرصہ سے کوئی ساعت چنیں جو کہ آگ کو بڑھائے گی، نہ کہ آب آتش عرصہ سے کوئی ساعت جو کہ آگ کو بھجائے گی۔

تبتی لوگ عام طور نجومیوں سے مشورہ یا تو نو زائیدہ بچے کے زائچہ کے لیے کرتے ہیں اور یا پھر شادیوں اور اموات کے لیے۔ زائچہ بنانے کے لیے سیاہ اور سفید حساب، دونوں کے نقوش کو ملا کر ان سے استفادہ کیا جاتا ہے۔تبتی والدین کی زیادہ دلچسپی اپنے بچوں کی متوقع مدتِ عمر جاننے میں ہوتی ہے۔ اگر یہ مدت کم ہو اور اس میں بہت سی مشکلات درپیش ہوں تو زائچہ کے مطابق مختلف مذہبی رسوم انجام دی جاتی ہیں اور کئی مجسمے اور تصویریں بنوائی جاتی ہیں۔

شادی سے قبل جوڑے کی آپس میں ہم آہنگی کو دیکھا جاتا ہے اور یہ جیسا کہ پہلے بتایا گیا، ان کے کنکری عنصر اور سہ حرفوں کے موازنہ سے ہوتا ہے۔ ہفتہ کا روز کامیابی کا دن ہے۔ پس شادی کے حساب میں دلہن کی آمد اور اپنے شوہر کے خاندانی گھر میں منتقلی کے لیے یہ بہترین دن سمجھا جاتا ہے۔ دلہا اور دلہن کے خاندان والے نجومی کو ان کی شادی کی اندازاً تاریخ بتاتے ہیں۔ پھر اس عرصہ میں دس کمتر مطابقتوں کے مطابق ہفتہ کا سب سے مبارک دن اور وقت اختیار کیا جاتا ہے۔ اور اگر ہفتہ کا روز سب سے مبارک نکلے تو پھر اسی دن شادی رکھنا بہترین ہے لیکن اگر یہ دن مبارک نہ ہو تو پھر اس سے قریب ترین مبارک دن چنا جاتا ہے اگرچہ دلہن کو یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نئے خاوند کے گھر اس سے سابقہ ہفتہ کے دن جائے۔

کسی کی وفات ہونے پر تقریباً ہر تبتی ہی ایک نجومی سے مشورہ کرتا ہے۔ وفات کے وقت کی بنیاد پر چینی نژاد عنصری نظام سے اس امر کا تعین کیا جاتا کہ نعش کو کس وقت اور کس سمت میں گھر سے دفن کرنے یا چتا جلانے کے لیے لے جایا جائے۔ دفن یا آتشزدگی کے وقت کا حساب نہیں لگایا جاتا اور نہ ہی دس کمتر مطابقتوں کے نظام سے مبارک اور منحوس دنوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ لیکن اس چیز کا تعین کیا جاتا ہے کہ وفات شدہ شخص کے لیے کونسی رسومات ادا کی جائیں خاص طور پر اگر اس کی وفات میں بد روحوں کا ہاتھ تھا۔

تبتی لوگ عام طور پر گھر تبدیل کرنے سے پہلے اور نیا کاروبار وغیرہ شروع کرنے سے قبل نجومیوں سے مبارک دنوں کے تعین کے لیے مشورہ کرتے ہیں۔ تبت میں کاروبار سے مراد عام طور پرتجارتی کاروان شروع کرنا ہوتا ہے جب کہ ہندوستان میں یہ دور دراز کے شہروں میں جا کر کپڑے بیچنا ہوتا ہے۔ اکثر تبتی جلا وطنی میں یہ کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ مبارک دنوں کا تعین تب کیا جاتا ہے جب ایک نئے پنر جنمی لامہ کی تختنشینی ہو یا پھر جب وہ اپنی تعلیم شروع کرنے کے لیے اپنی خانقاہ کو رسمی نذرانہ پیش کرے یا جب ایک خاندان اپنے بچے کو خانقاہ بھیجے اور یا پھر جب ایک نیا گیشے اپنی مذہبی تعلیم ختم کرنے اور امتحانات میں کامیابی کے بعد اپنی خانقاہ کو رسمی نذرانہ پیش کرے۔ اس کے علاوہ یہ ایک تبتی رسم ہے کہ بچوں کے بال پہلی مرتبہ ان کی پیدائش کے ایک سال بعد کاٹے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک مبارک دن میں کیا جاتا ہے ورنہ یہ سمجھا جاتا ہے کے بچہ کو زخم ہو جائیں گے۔

تبتی طبیب مریضوں کے خاص علاج مثلاً داغنا یا سونے کی سوئی سے آکوپنکچر، کے لیے مبارک دن کا تعین کرنے کے لیے طبی علمِ نجوم سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کے لیے مریض کے پیدائشی زائچہ سے اس کی زندگی کی قوت یا زندگی کے جوش کے دنوں کا چناو کیا جاتا ہےاور خطرناک دنوں سے احتراز۔

جب کسی لامہ کو ایک لمبی زندگی کی رسم کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے تو یہ رسم اس کی زندگی کی طاقت یا زندگی کے جوش کے دن علی الصبح ادا کی جاتی ہے۔ عزت مآب چودہویں دلائی لامہ 'زمین سور سال' میں پیدا ہوئے تھے۔ کیونکہ ان کی زندگی کے جوش کا دن بدھ کا روز ہے۔ نتیجتاً بہت سے لامہ اس دن کی برکت کی بنا پر اپنے درس کا آغاز بدھ کو کرتے ہیں۔ جب کسی مریض کے لیے رسمی تقریب منعقد کرنی ہو تو اس کے لیے اس کی زندگی کی قوت یا زندگی کے جوش کے دنوں کا چناو کیا جاتا ہے۔

ایک اور امر جس کی خاطر تبتی لوگ عام طور پر نجومیوں سے مشورہ کرتے ہیں یہ ہے کہ کیا اس سال ان کا کاروبار منافع بخش ہو گا۔ اس کے لیے نجومی "اعراب سے طلوع شدہ" نظام کی ایک اسکیم کے مطابق پیشین گوئی کرتے ہیں۔ یہ سوال باقاعدہ طور پر نجومی کو پیش کیا جاتا ہے اور پھر اس کے الفاظکی تعداد اور اس وقت جب یہ سوال کیا گیا، کمرہ میں موجود لوگوں کی تعداد کی بنا پر حساب کیا جاتا ہے۔

بدھ مت کا علمِ نجوم کے متعلق نقطہِ نظر

ایک مخصوص عرصہ کی توجیہ پر اثر انداز، بالعموم بھی اور کسی خاص شخص کے لیے بھی، بہت سے ایسے قابلِ تغیر عوامل ہیں جن میں ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی خطا ہوتی ہے۔ سب عوامل کی ایک جتنی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایک مخصوص صورتحال میں صرف کچھ عوامل کو دیکھا جاتا ہے جبکہ کچھ دوسروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر کچھ عوامل دوسروں پر بھاری ہو جاتے ہیں۔ پس ایک سفر نو تاریخ یا انیس یا انتیس کو شروع کیا جا سکتا ہے یا ایک کالچکر اختیار ایک کامل چاند کے دن دیا جا سکتا ہے اور یہ اتنا اہم نہیں اگر دوسرے عوامل بہت مبارک نہ بھی ہوں۔

اس نظام کا مقصد لوگوں کو توہمات سے مفلوج کر دینا نہیں ہے بلکہ یہ عوام کے لیے موسم کی پیشگوئی کے مانند ہے۔ اگر ہمیں عمومی طور پر علم ہو کہ ایک مخصوص تاریخ اتنی مبارک نہیں ہے تو پھر ہم مخصوص پرہیزی اقدامات لے سکتے ہیں مثلاً رسوم ادا کرنا، ایک محتاط طریقے اور مہربانی سے پیش آنا وغیرہ کہ جن سے ہم اس تاریخ کے بد اثرات سے بچ سکیں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جب ہمیں پتا ہو کہ بارش کا امکان ہے تو ہم چھتری ساتھ لے لیں۔

بدھ مت میں علم نجوم کا تصور کوئی ایسے اثر کا نہیں جو کہ آ تا ہو آسمانی اجسام سے جو کہ کسی شخص کے ذہنی تسلسل سے لا پرواہ، آزادانہ وجود رکھتے ہوں ۔ بلکہ اس کا تصور بطور ہمارے گزشتہ رجحانی اعمال یعنی کرموں کا ہے۔ پس ایک زائچہ ایک نقشہ کی ماند ہے کہ جس کی مدد سے ہم اپنے کرمی نقوش پڑھ سکتے ہیں۔ گزشتہ زندگیوں میں ہمارے رجحانی اعمال کا ایک نتیجہ ہماری کرمی صورتحال کا عکس ہےجو ہماری پیدائش کے وقت فلکیاتی اور نجومی ہئیت میں جھلکتا ہے۔ پس فلکیاتی معلومات ہمیں ہمارے گزشتہ رجحانی اعمال کے نتائج کے بارہ میں مطلع کر سکتی ہیں تاکہ ہم پرہیزی عمل کر کے صورتحال کو بدل سکیں۔ پس یہ ہمیں کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت دیتی ہیں۔ اسی طرح ایک جنتری وہ مجموعی نتائج بتاتی ہے جو کہ بہت سے لوگوں کے مجموعی اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

بودھی جہان بینی ہرگز جبری تقدیر پر یقین نہیں رکھتی۔ موجودہ صورتحال علت و معلول کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم اس صورتحال کو صحیح طرح دیکھ لیں تو پھر نئے علت و معلول پیدا کر سکتے ہیں جن سے یہ صورتحال اسی زندگی میں بہتر ہو سکتی ہے اور اس کا ہمیں بھی فائدہ ہے اور دوسروں کو بھی۔ لیکن یہ مختلف اجرامِ فلکی کے دیوتاوں کو خوش کرنے کے لیے انہیں نذرانہ یا قربانیاں پیش کرنے سے نہیں بلکہ اپنا رویہ اور طرزِ عمل بدلنے سے ہی ممکن ہے۔

ایک عوامی سطح پر جب ہمیں کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کی مدت بڑھانے کے لیے کسی مخصوص بدھ شبیہ کی تصویر یا مجسمہ بنوانا چاہیے تو شاید یہ خیال پیدا ہو کہ یہ اُس شبیہ کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ایک غیر تعلیم یافتہ غلط فہمی ہے۔ دراصل ایسا کام کرنے سے جو رویہ پیدا ہوتا ہے وہ سب سے موثر چیز ہے۔ اگر یہ رویہ خوف یا خود غرضی کا ہو تو پھر اس کا اثر کم سے کم ہو گا۔ ہماری زندگیوں کی مدت بڑھانے اور ہماری صحت اور مالی حالات کو بہتر بنانے کے لیے اس سے کہیں بہتر چیز مخصوص مراقبہ کی مشقیں ہیں جن کو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کیا جاتا ہے۔