ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تبتی فلکیاتی علوم

ایلکزانڈر برزن
دھرمسالہ، ھندوستان، ۱۹۸۶

۱۔ اساسی اصول

تبتی فلکیاتی علوم کی گنجائش

تقویم بنانے، اختر شناسی، علمِ نجوم اور ریاضیات کے فلکیاتی علوم تبتی زندگی کے کئی پہلووں سے منسلک ہیں۔ یہ روایت تبت سے نام نہاد بیرونی اور اندرونی منگولیا، منچوریا، مشرقی ترکستان، روس کی بُریاتیا، کالمیکیا اور تُوا جمہوریتوں میں پھیلی اور ہمالیہ، وسطی ایشیا اور آج کے چین کے تمام تبتی ثقافتی اثرات کے تحت علاقوں میں بھی۔ یہ علوم تبتی طبی روایت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تمام طبی طلباء کو ایک مخصوص حد تک فلکیاتی علوم پڑھنے پڑتے ہیں اگرچہ فلکیاتی علوم کے طلباء کو طب پڑھنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

علم کا یہ موضوع تقویم کا حساب دیتا ہے جس سے سیاروں کے مقام معلوم کیے جاتے ہیں، تقویم یعنی کیلنڈر بنائے جاتے ہیں اور گرہنوں کی پیشگوئی کی جاتی ہے۔اس میں ذاتی زائچوں کے فلکیاتی حساب بھی شامل ہیں اور سالانہ جنتریوں کی یہ معلومات بھی کہ سال کے کون سے دن مختلف کاموں کے لیے موزوں ہیں مثلاً کاشت کے لیے۔ یہ علم کا ایک وسیع موضوع ہے۔

اس کی دو اقسام ہیں: سیاہ اور سفید حساب۔سیاہ اور سفید سے مراد چینی اور ھندوستانی نظاموں سے اخذ کردہ مادہ ہے اس لباس کے رنگ کی نسبت سے جو کہ ان ممالک میں روایتی طور پر پہنے جاتے تھے۔ تبتی طب کی مانند، تبتی علمِ نجوم بھی ھندوساتنی ہندو اور چینی نظاموں سے مشترکہ پہلو رکھتا ہے۔ تاہم ان مشترکہ چیزوں میں ترمیم کر کے انہیں مخلوط کر دیا گیا ہے اور انہیں مختلف طرح سے استمعال کیا جاتا ہے ایک یکتا تبتی نظام کے جزو کے طور پر۔

فلسفیانہ سیاق و سباق

فلکیاتی علوم کا فلسفیانہ سیاق و سباق ھندوستانی ہندو، تبتی بودھی اور چینی کنفیوشسی دنیاؤں میں خاصا مختلف ہے۔ تبتی قرینہ "کالچکر تنتر" سے اخذکردہ ہے۔ 'کالچکر' کا مطلب ہے 'دورِ زمان'۔ اس تنتر میں مہاتما بدھ نے اندرونی، بیرونی اورمتبادل ادوار کاایک نظام پیش کیا۔ بیرونی ادوار کا تعلق آسمان پر سیاروں کی حرکت سے ہے اور وقت کی مختلف اقسام و ادوار سے جو کہ اس کی پیمائش سالوں ، دنوں اور مہینوں وغیرہ میں کرتے ہیں۔ اندرونی ادوار کا تعلق بدن میں توانائی اور سانس کے دوروں سے ہے۔ متبادل ادوار تنتر نظام کی مختلف مراقبہ کی مشقوں پر مشتمل ہیں جن میں بدھ شبیہ کالچکر دوسرے دونوں ادوار پر قابو پانے اور ان کی تنظیف کے لیے استمعال ہوتی ہے۔

بیرونی اور اندرونی ادوار ایک دوسرے کے متوازی ہیں اور مجموعی بیرونی اور انفرادی اندرونی توانائی (یعنی کرموں) کے محرک کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر، ہم سب سے مربوط توانائی کے کچھ ایسے محرک ہیں جو کہ فلکیاتی اور انسانی بدنی ادوار دونوں کو چلاتے ہیں۔ کیونکہ توانائی اور ذہنی حالتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس لیے ہمیں ان ادوار کا تجربہ یا تو پریشان کن اور یا پھر غیر پریشان کن صورت میں ہوتا ہے۔کالچکر مشقوں کی مدد سے ہم ناقابلِ تسلط طور پر مکرر اندرونی و بیرونی حالات (سمسار) کے اثر سے آزاد ہو سکتے ہیں تاکہ ہم ان کے باعث نہ تو پریشان ہوں اور نہ ہی محدود اور تاکہ ہم ہر ایک کو فائدہ پہنچانے کے اپنے امکان کو بھر پور طریقہ سے پورا کر سکیں۔

اکثر لوگ اپنے ذاتی زائچہ کے زیرِ اثر ہوتے ہیں یا پھر موسم اور آب و ہوا کی تبدیلی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کا ان پر اثر ہوتا ہے یا پھر اس امر کا کہ وہ اپنی زندگی کے کس دور میں ہیں یعنی بچپن، جوانی، بڑھاپا وغیرہ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بدن کے اندر توانائی کے ادوار کے زیرِ اثر بھی ہوتے ہیں مثلاً حیض کا ماہواری دور اور آغازِ بلوغت سے سنِ یاس تک کا دور۔ یہ چیزیں لوگوں کو بڑی حد تک محدود کر دیتی ہیں۔ کالچکر نظام ہمیں مراقبہ کی ایک ایسی ساخت فراہم کرتا ہے جس کی مدد سے ہم ایسے اثرات کے اختیار سے نکل سکتے ہیں تاکہ ان کی لگائی ہوئی حدوں سے باہر نکل سکیں اور دوسروں کی بہترین مدد کر سکیں۔ تبتی بودھی نظام، علمِ نجوم اور فلک شناسی کو اس عمومی فلسفیانہ سیاق و سباق میں پیش کرتا ہے۔ یہ ہندو ویدی سیاق عبارت سے خاصا مختلف ہے جس میں طلبا ان علوم کو اس لیے سیکھتے ہیں تاکہ ویدی رسوم ادا کرنے کے درست وقت کا حساب لگا سکیں۔

کلاسیکی چینی فلسقہ کے مطابق علمِ نجوم سے مشورہ کا مقصد حکومت کے لیے سیاسی جواز حاصل کرنا ہے۔ کنقیوشسی فلسفہ میں شہنشاہ، آسمان اور زمین کے مابین ہوتا ہے۔ پس اگر پادشاہ، اس کا دربار اور اس کی حکومت، موسموں اور تقویم کے مطابق کام کریں اور کائنات میں تبدیلی کے معروف اصولوں کے مطابق چلیں تو سلطنت میں چین ہوتا ہے۔ انہیں ظاہر ہے کہ آسمانی اختیارات تفویض ہوتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ان اصولوں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو پھر قدرتی حادثات پیش آتے ہیں جن سے طاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا سیاسی جواز ختم ہو گیا ہے۔ پس ہم آہنگی اور سیاسی طاقت کو قائم رکھنے کے لیے موسموں کا درست وقت جاننا اور آفاقی فلکیاتی طاقتوں کی روش جاننا بہت ضروری ہے۔

پس علمِ نجوم کا چینی فلسفیانہ سیاق و سباق بھی تبتی بودھی سیاق و سباق سے بہت مختلف ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سیاسی تھا۔ چین میں ذاتی زائچوں کا رواج آٹھویں صدی عیسوی میں آیا اور یہ غالباً بودھی اثرات کے زیرِ اثر تھا۔

سفید حساب

تبتی فلکیاتی علوم میں ھندوستانی نژاد مادہ کے بنیادی طور پر دو منبع ہیں۔ ایک تو "کالچکر" یا "ادوارِ زمان تنتر" جو کہ خالصتاً بودھی ہے اور دوسرا "سوارودایا" یعنی "اعرابوں سے طلوع شدہ تنتر"، کہ جس کا مادہ بودھیوں اور ہندووں، دونوں میں مشترک ہے۔

بیرونی ادوارِ زمان پر بحث سے منسلک، "کالچکر تنتر" کائنات کے حرکت کے قوانین اور تقویموں اور جنتریوں کا حساب پیش کرتا ہے۔ اس سے ریاضی کے دو عدد کلیہ سازی کے نظام ماخوذ ہیں: ایک سدھانتا یعنی 'راسخ عقیدہ نظام' جو کہ تبت پہنچنے سے پہلے ہی گم ہو گیا تھا اور دوسرا کرانا یعنی خلاصہ نظام۔

پندرہویں اور ستارہویں صدیوں کے درمیانی عرصہ میں مختلف تبتی اساتذہ نے راسخ عقیدہ نظام کی تعمیرِ نو کی۔ پس آج کے تبتی فلکیاتی مدارس دونوں حسابی نظام پڑھاتے ہیں۔ اور جب کچھ تبتی سلسلہ راسخ عقیدہ نظام کو بہتر سمجھتے ہیں تب بھی وہ چاند اور سورج گرہن کا حساب لگانے کے لیے خلاصہ نظام استمعال کرتے ہیں کیونکہ وہ بہتر نتائج دیتا ہے۔

ھندوستانی نژاد مادہ کا دوسرا منبع "اعرابوں سے طلوع شدہ تنتر"، "یودھا جے تنتر" یعنی "جنگ میں فتح کا تنتر" بھی کہلاتا ہے۔ یہ وہ واحد شیوای ہندو تنتر ہے جس کا تبتی زبان میں ترجمہ ہوا اور اس میں ھندوستانی تفاسیر کا "تنگیور" مجموعہ بھی شامل ہے۔ اس سے اخذ شدہ سب سے اہم چیز پیشگویانہ ذاتی زائچوں کا حساب ہے۔ مغربی علمِ نجوم میں، ذاتی زائچوں میں زیادہ توجہ پیدائشی مقام دیکھنے اور اس سے شخصیت کا تجزیہ کرنے اور اس کی تفصیل بتانے پر ہے۔ تاہم یہ چیز بودھی اور ہندو، دونوں ھندوستانی نظاموں میں اس قدر اہم نہیں اگرچہ یہ موجود ہے۔ ان دونوں میں زیادہ توجہ ایک زندگی کی روش کا حساب لگانے پر ہے۔

پیشگویانہ زائچہ

تمام ھندوستانی فلکیاتی روایات ایک زندگی کی مدت کا حساب نو عرصوں میں لگاتی ہیں جن میں سے ہر عرصہ پر ایک آسمانی بدن حکمران ہوتا ہے۔ بودھی نظام زندگی کی مدت کا حساب پیدائش کے وقت اور اس وقت چاند کے مقام سے لگاتا ہے اور پھر اس کو مخصوص فارمولوں کے مطابق نو عدد عرصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ ہندو نظام میں زندگی کی مدت کا حساب نہیں ہوتا اور یہ عرصوں کی تقسیم ایک مختلف حساب سے کرتا ہے۔ دونوں نظاموں میں ماہرینِ نجوم ایک عرصہ کی تعبیر اس کے حکمران سیارہ، پیدائشی زائچہ اور اس عمر کی نسبت سے کرتے ہیں جب یہ شروع ہوتا ہے۔

اگرچہ بودھی علمِ نجوم کے نظام میں ایک شخص کی مدتِ عمر پتہ کرنے کا نظام موجود ہے، تاہم یہ جبریت پر مبنی محض مقدرانہ نظام نہیں ہے۔ یہ اس چیز کا حساب بھی پیش کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کی مدت کس حد تک بڑھا سکتے ہیں اگر ہم مثبت اور تعمیری کام کریں۔ ھندوستان میں اصلی کالچکر نظام ایک زندگی کی زیادہ سے زیادہ مدت کا حساب ۱۰۸برس لگاتا تھا جبکہ ہندو نظاموں میں یہ مدت ۱۲۰ برس ہے۔ تبت میں ۱۰۸ کو کم کر کے ۸۰ کر دیا گیا کیونکہ بودھی تعلیمات کے مطابق زندگی کی مدت اس تنزل پزیر دور میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ انیسویں صدی میں نیئنگما استاد میپام نے اس مدت کے حساب پر نظرِ ثانی کر کے اسے ۱۰۰ برس کر دیا۔ تاہم، از حد مدت کو بھی ہو، تبتی نظام میں زندگی کی مدت کا حساب لگانے کے چار مختلف طریقہ موجود ہیں۔ پس ہر شخص کی کئی ممکنہ مدتِ عمر ہیں۔ ہم بہت سے کرموں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جن میں سے مختلف کرم پختہ ہو سکتے ہیں۔

اور اگر ہم ایک شخص کی مخصوص مدتِ زندگی کی بات کریں بھی تو غیر معمولی حالات میں یہ گھٹ، بڑھ سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص بسترِ مرگ پر ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس میں بہتریِ صحت کا کرمی امکان موجود ہی نہ ہو۔ تاہم یہ ضرور ممکن ہے کہ دعاوں اور کسی عظیم لامہ کی ادا کردہ رسمی تقریب سے یہ ہو جائے کہ لمبی زندگی کا کوئی گہرا مدفون کرمی امکان ابھر آئے کہ جس کے اس زندگی میں ابھرنے کا ویسے کوئی امکان نہیں تھا۔ اسی طرح سے یہ بھی ممکن ہے کسی بیرونی حادثہ مثلاً زلزلہ یا جنگ سے کوئی ایسا منفی کرمی امکان پختہ ہو جائے کہ جس کا بصورتِ دیگر کوئی امکان نہیں تھا۔ ایسی صورت میں ہم ایک ناہنگامی موت کا شکار ہو جائیں گے۔ بہر صورت، اگر کوئی ایسا مدفون کرمی امکان موجود ہی نہیں تو پھر غیر معمولی صورتحال میں بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کچھ لوگوں کو خصوصی تقریبات سے بھی فائدہ نہیں ہوتا اور کچھ لوگ زلزلہ میں بھی بچ جاتے ہیں۔

پس ایک تبتی زائچہ کسی ایک زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی محض ایک ممکنہ صورت کی ایک عمومی پیشگوئی ہے۔ اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ ہماری زندگیاں واقعی ایسے ہی بسر ہوں گی۔ اس کے علاوہ دوسری ممکنات بھی ہیں کیونکہ علمِ نجوم مختلف زندگیوں کے بارہ میں پیشگوئی کر سکتا ہے۔ہر امکان ایک کوانٹم سطح سے مشابہ ہے یعنی ان سب کے ہونے کا امکان ہے اور کیا ہو گا؟ یہ منحصر ہے ہمارے اعمال، عادات اور غیر معمولی صورتحال پر۔ ہماری زندگیوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ان کرمی ممکنات کے سبب ہے جو ہم نے گزشتہ اعمال اور گزشتہ زندگیوں میں کمائے ہیں۔ ورنہ ایک انسان اور ایک کتے کی زندگی جو ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ پر پیدا ہوتے ہیں، بالکل یکساں ہوتی۔

ایک تبتی زائچہ کا اصل مقصد ہمیں زندگی کی ان ممکنہ روشوں سے خبردار کرنا ہے جو کہ ہمارے مقدر میں ہیں۔ اور ان کا وقوع پزیر ہونا یا نہ ہونا ہمارے پر منحصر ہے۔ اگرچہ ہم میں بہت سارے امکانات ہیں لیکن ان میں سے ایک مجموعہ کو جاننے سے ہماری اس امر میں حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے کہ ہم ایک روحانی مقصد حاصل کر کے اپنی قیمتی زندگیوں کی قدر کریں۔ کالچکر کے سیاق و سباق میں ہم ان تمام کرمی حدود پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ہمیں ہر ایک کی مدد کرنے کے کامل امکان سے روکتی ہیں۔ اپنی مصیبتوں پر مراقبہ کرنے سے ہم آزاد ہونے (کنارہ کشی) کا عزم حاصل کر سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے ہمدردی کا جذبہ بھی۔ اسی طرح ایک زائچہ کے مطابق ہماری زندگی میں پیش آنے والی ممکنہ مصیبتوں پر غور کرنا ہمارے روحانی سفر میں مددگار ہو سکتا ہے۔ ایک تبتی زائچہ پس ایک ماہرانہ ذریعہ ہے ان لوگوں کے لیے جو کہ اپنی راہ میں ترقی کی خاطر۔ علمِ نجوم میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک تبتی زائچہ ہرگز ایک مقدر اور خلقی طور پر درست مستقبل کی پیشگوئی نہیں۔

علمِ نجوم کے دوسرے نظاموں سے تقابل

سفید حسابی نظام اپنے بین الہندی اصل کے باعث قدیم یونانی فلکیاتی نظاموں سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کی سب سے معروف مثال راس چکر کی بارہ نشانوں اور خانوں میں تقسیم ہے اور ان نظاموں کے وہی نام ہیں جو کہ جدید مغربی نظام میں ہیں لیکن تبتی ترجمہ میں۔ پس پیدائشی زائچہ سیاروں کو نشانوں اور خانوں میں ترتیب دیتے ہیں جیسا کہ مغربی زائچہ میں کیا جاتا ہے۔ ان کی تعبیر، تاہم، بہت مختلف ہے۔ ہندو اسکیم کی طرح برابر خانوں کا نظام استمعال ہوتا ہے، سیاروں کے درمیان زاویوں کی پرواہ نہیں کی جاتی اور ابھرتا ہوا نکتہ کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں ہے۔

راس چکر وہ روش ہے کہ جس میں سورج، چاند اور سیارہ زمین کے گرد ایک ارض مرکزی تجویز میں گزرتے ہیں۔ اکثر حسابوں میں اس روش کو بارہ نشانوں کی بجائے، چاند کے ستائیس خانوں یا کوکبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ترتیب قدیم یونانی یا جدید مغربی نظاموںمیں نہیں پائی جاتی لیکن تبتی اور ہندو نظاموں میں مشترک ہے۔ کبھی کبھار اٹھائیس کوکبیں استمعال ہوتی ہیں لیکن ہندو نظام ان کو اٹھائیس برابر حصون میں تقسیم کرتے ہیں جبکہ تبتی نظام میں ستائیس برابر حصوں میں سے ایک کو دو میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

اٹھائیس قمری کوکبوں کا ایک نظام قدیم چینی علمِ نجوم میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس میں زور قطبی ستارہ پر ہے بطور آسمان کے مرکز کے، چینی شہنشاہ کی طرح۔ خانے، وزیروں کی طرح کوکبی خطِ استوا کے گرد گھومتے ہیں اور پس بین الہندی نظام سے کچھ مختلف ستاروں کے جھرمٹوں پر مشتمل ہیں۔ مزید از آں، اٹھائیس چینی کوکبیں آسمان کی پوری تقسیم نہیں کرتیں۔

کالچکر نظام میں دس عدد آسمانی اجسام ہیں جن سب کو وہ سیاروں کا نام دیتا ہے۔ اولین آٹھ سورج، چاند، مریخ، عطارد، مشتری، زہرہ اور زحل اور ایک دمدار سیارہ ہیں۔ دمدار سیارہ زائچوں میں استمعال نہیں ہوتا۔ آخری دو آسمانی اجسام چاند کی شمالی اور جنوبی گرہیں ہیں۔

اگرچہ سورج اور چاند دونوں کے مدار راس چکر کی روش پر ہیں، وہ ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں۔ وہ دو مقام جہاں یہ مدار ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں، چاند کی شمالی اور جنوبی گرہ کہلاتے ہیں۔ ہر نئے چاند پر سورج اور چاند کےمداروں کا تقریباً اتصال ہوتا ہے یعنی وہ ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں لیکن جب یہ اتصال شمالی یا جنوبی قمری گرہ پر ہوتا ہے تو صرف تب ہی یہ مکمل ہوتا ہے اور سورج گرہن وقوع پزیر ہوتا ہے۔ پورے چاند پر سورج اور چاند ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں اور جب ایسا ہو کہ ان میں سے ایک شمالی گرہ پر ہو اور دوسرا جنوبی پر تو چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔

دونوں، کلاسیکی ہندو اور کالچکر نظاموں میں شمالی اور جنوبی قمری گرہوں کو سیارہ گردانا جاتا ہے جب کہ یونانی نظام میں ایسا نہیں ہے۔ دونوں ھندوستانی نظام، گرہن کی شرح سورج اور چاند کے گرہ سیاروں سے اتصال سے کرتے ہیں۔

کالچکر نظام میں شمالی گرہ سیارہ کو یا تو 'راہو' کہا جاتا ہے یعنی غرانے والا اور یا پھرسرِ اژدھاسیارہ۔ اور جنوبی گرہ سیارہ کو یا تو 'کل اگنی' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے وقت کی آگ اور یا پھر اژدھے کی دم سیارہ۔ اگرچہ ہندو نظام شمالی سیارہ کو راہو ہی کہتا ہے لیکن یہ جنوبی کا نام 'کیتو' رکھتا ہے جس کے معنی ہیں لمبی دم جس سے اشارہ اژدھے کی دم کی طرف ہے۔ بین الہندی دیو مالا کے مطابق یہ نام نہاد اژدھا گرہن کے دوران سورج اور چاند کو کھا جاتا ہے۔ کالچکر نظام میں تاہم کیتو نام دسویں سیارہ یعنی دمدار سیارہ کو دیا جاتا ہے جو کہ کلاسیکی ہندو اور یونانی نظاموں میں شامل نہیں ہے جو کہ علی بالترتیب محض نو اور سات آسمانی اجسام سے حساب کرتے ہیں۔

کلاسیکی چینی نظام میں شمالی اور جنوبی قمری گرہوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ چینی صرف سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کا ذکر کرتے ہیں۔ بعد کے وقتوں میں جب شمالی اور جنوبی قمری گرہوں کا تصور چینی فلکیات میں داخل ہوا تو ان کے نام اژدھے کے سر اور دُم رکھے گئے جس سے ان کے ھندوستانی اصل کا صاف پتہ لگتا ہے۔ تاہم، ان کو سیارہ نہیں سمجھا گیا۔

قدیم یونانی اور ہندو نظاموں میں ایک اور قدر مشترک ہفتہ کے دنوں کے نام سیاروں کے نام پر رکھنا ہے۔ اتوار سورج کے نام پر ہے اور سوموار چاند کے نام پر۔ منگل مریخ کے نام اور بدھ عطارد کے نام پر۔ جمعرات مشتری کے نام پر، جمعہ زہرہ اور ہفتہ زحل کے نام پر۔ اسی وجہ سے تبتی زبان میں ہفتہ کے دنوں کا نام وہی ہے جو کہ سیارہ کا نام ہے۔

روایتی طور پر چینی ایک دس روزہ ہفتہ استمعال کرتے تھے اور سات روزہ ہفتہ کا استمعال ساتویں صدی عیسوی میں ایرانی اور سغدیائی نسطوری عیسائیوں کے زیرِ اثر شروع ہوا جو کہ چین میں رہائش پزیر تھے۔ تاہم چینی ہفتہ کے دنوں کو ان کے نمبر سے پکارتے ہیں نہ کہ سیاروں کے نام سے۔

قدیم یونانی اور ہندو نظاموں میں ایک سب سے اہم فرق یہ ہے کہ راس چکر کی کونسی قسم استمعال کی جائے۔ جدید مغربی نظام کی طرح قدیم یونانی بھی استوائی راس چکر استمعال کرتے تھے جبکہ ہندو نظام ثابت ستارہ راس چکر استمعال کرتا ہے۔ ان دونوں راس چکروں میں فرق برج حمل کے صفر ڈگری کے مقام پر ہے۔ استوائی راس چکر میں جب بھی سورج، شمالی نیم کرہ میں بہاری اعتدال پر ہوتا ہے تو وہ جگہ برج حمل کی صفر ڈگری تصور کی جاتی ہے اس امر کی پرواہ کیے بغیر کہ اس وقت حمل کی کوکب کہاں واقع ہے۔ جب کہ ثابت ستارہ راس چکر میں اس جگہ کو برج حمل کی صفر ڈگری کہا جاتا ہے جب سورج کا حمل کی کوکب سے اتصال ہوتا ہے۔

کالچکر نظام نے ہندو نظام پر تنقید کی اور ایک استوائی راس چکر کی تائید۔ تبتوں نے، تاہم، کالچکر فلکیات کے اس پہلو کو نہ اپنایا اور ایک ثابت ستارہ راس چکر کی طرف لوٹ گئے۔ تاہم، کالچکر، قدیم یونانی اور جدید مغربی استوائی راس چکر ایک دوسرے سے مختلف ہیں جیسا کہ ہندو اور تبتی ثابت ستارہ راس چکر ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان اختلافات کی تفصیل خاصی پیچیدہ ہے لہذا اس کو آسان بنانے کے لیے ہم قدیم یونانی نظام کو علیحدہ کر دیتے ہیں۔

تقریباً ۲۹۰ قبل مسیح میں بہاری اعتدال درحقیقت آسمان کے مشاہدہ پر، برج حمل کی کوکب کے شروع میں واقع تھا۔ تب سے یہ آہستہ، آہستہ بہتر سال میں ایک ڈگری کی رفتار سے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ اس اثر کو ہم اعتدالی تقدیم کہتے ہیں یعنی کہ سورج کے بہاری اعتدال کے مقام کا پیچھے جانا۔ صفر ڈگری برج حمل کے مشاہدہ شدہ مقام اور بہاری اعتدال پر مبنی صفر ڈگری برج حمل کے مقام میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ زمین کا قطبی محور ثابت ستاروں کی نسبت گھومتا ہے اور اس دور کی مدت ۲۶۰۰۰ سال ہے۔

بہاری اعتدال کا مقام اب تئیس سے چوبیس ڈگری پیچھے برج حوت میں واقع ہے جو کہ برج حمل سے پہلے کا نشان ہے۔پس جدید مغربی نظام اب آسمان کے مشاہدہ کے مطابق صفر ڈگری برج حمل، برج حوت کے چھ اور سات ڈگری کے درمیان واقع ہے یعنی کہ استوائی مقام سے تئیس سے چوبیس ڈگری منفی۔

صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ فلکیاتی حساب کے پانچ مختلف ہندو کلاسیکی نظام ہیں۔ ان میں سے سب سے معروف "سوریا سدھانت" یعنی کہ حساب کا سورج نظام ہے جو کہ اب بھی ھندوستان میں استمعال ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ۵۰۰ قبل مسیح میں بہاری اعتدال کا مقام صفر ڈگری برج حمل تھا جب کہ در حقیقت، اس وقت بھی آسمان پر مشاہدہ کے مطابق یہ برج حوت میں چند ڈگری اندر واقع تھا۔ اس مقام کی بنیاد پر اس نظام نے ایک ثابت ستارہ راس چکر تخلیق کیا جس میں بہاری اعتدال کا مقام برج حمل کا آغاز ہے۔

ھندوستانی ہندو نظام اعتدالی تقدیم سے آشنا تھے اور انہوں نے اس کا حساب لگانے کے ریاضی فارمولے مہیا کیے۔ تاہم، اگرچہ برج حمل کے مشاہدہ شدہ مقام اور بہاری اعتدال میں فرق درازتر ہوتا چلا جاتا ہے تا وقتے کہ ۲۶۰۰۰ سال میں وہ دونوں پھر مل جاتے ہیںلیکن"سوریا سدھانت" نظام دعوی کرتا ہے کہ یہ فرق مذبذب ہوتا ہے۔ پہلے بہاری اعتدالی مقام بتدریج واپس جاتا ہے یہاں تک کہ وہ برج حمل کے اصلی ثابت مقام سے ستائیس ڈگری پیچھے پہنچ جاتا ہے اور پھر وہ اپنا رُخ بدل کر آگے کی طرف چلتا ہے یہاں تک کہ وہ اس ثابت مقام سے آگے پہنچ جاتا ہے اور وہ پھر اپنا رخ بدل کر دوبارہ ثابت مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ اور یہ سارا عمل پھر دوبارہ واقع ہوتا ہے۔یہ سارا عمل پھر، بہاری اعتدال پر سورج کے بدلتے مقام کے مطابق نہیں ہے، نہ تو صفر ڈگری برج حمل کے "سوریا سدھانت" کے طے کیے مقام کے مطابق اور نہ ہی آسمان پر حمل کی کوکب کے مشاہدہ کے مطابق۔

کالچکر فلکیاتی نظام نے "سوریا سدھانت" اور دوسرے چار ھندوستانی نظاموں کے ثابت ستارہ راس چکر نظاموں اور مذبذب بہاری اعتدال کے تصور پر تنقید کی۔ اس کی بجائے کالچکر نظام نے ایک ترمیم شدہ استوائی راس چکر کی حمایت اور وکالت کی۔کالچکر نظام کے مطابق ہر ساٹھ سال بعد بہاری اعتدال کے دوبارہ مشاہدہ کی ضرورت ہے۔ یہ اعتدالی مقام پھر اگلے ساٹھ برس کے لیےصفر ڈگری برج حمل تصور ہو گا اور پھر اُس سے اگلے ساٹھ برس کے عرصہ کے لیے اس کی مشاہدہ پر مبنی تصحیح کی ضرورت ہو گی۔ مزید از آں، جدید مغربی نظام کی طرح کالچکر نظام نے بھی بہاری اعتدال کا فرق خطی طور پر بڑھتے بتایا بغیر کسی تذبذب کے۔

تاہم، جب گیارہویں صدی کے ابتدا میں کالچکر نظام تبت پہنچا تو تبتوں نے ہر ساٹھ سال بعد بہاری اعتدالی مقام کی تصحیح کرنی چھوڑ دی۔ نتیجتاً تبتی راس چکر نظام ایک ثابت ستارہ راس چکر کی طرف لوٹ گیا۔ لیکن اس نظام اور دیگر ہندو نظاموں میں صفر ڈگری برج حمل کے تہیہ شدہمقام اور مشاہدہ شدہ مقام کے فرق میں اختلاف ہے۔ فی الوقت تبتی نظام میں یہ فرق چونتیس ڈگری ہے۔

آسمان کے مشاہدہ سے پتا چلتا ہے کہ مغربی نظام کی صفر ڈگری برج حمل، مشاہدہ شدہ برج حمل کے آغاز سے مطابقت رکھتی ہے، منفی تئیس سے چوبیس ڈگری اعتدالی تقدیم کے۔ اور جب یہ، تقریباً چار صدیاں بعد، اس سے پچھلے نشان یعنی برج دلو میں جائے گا تو پھر ہی دلو کا نیا دور شروع ہو گا۔ عام بحث میں جب لوگ دلو کے نئے دور کے جلد آغاز کی بات کرتے ہیں تو وہ غالباً اس مسیحی خیال کے زیرِ اثر ہوتے ہیں کہ نئے ہزار سال کا آغاز ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

ھندوستان میں مغل دور میں، خصوصاً اٹھارہویں صدی کے بعد جب عربی فلکیاتی علوم کے مسلسل زیرِ اثر، سیاروں کے مشاہدہ شدہ مقام عام ہو گئے اور مغربی علمِ نجوم سے واسطہ پڑا تو بہت سے ہندو نظاموں نے روایتی حسابی طریقوں کو نہ صرف سورج بلکہ تمام سیاروں کا مقام معلوم کرنے کے لیے ترک کر دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مغربی طریقے بہتر نتائج دیتے تھے جن کی دوربین اور مشاہدہ کے دیگر آلات جو کہ مغلوں نے اپنی رصدگاہوں میں بنائے تھے، سے بھی تصدیق ہوتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک مذبذب بہاری تقدیم کا تصورغلط تھا۔ پس، ثابت ستارہ راس چکر کو قائم رکھتے ہوئے انہوں نے ایک نئی تکنیک اپنا لی جس میں مغربی طریقہ سے حاصل شدہ سیاروں کے مقامات سے ایک تقدیمی حصہ نکال کر ثابت ستارہ راس چکر مقام حاصل کیے جا سکتے تھے۔ ہر ہندو سلسلہ نے مختلف تقدیمی حصہ اپنایا، سب سے عام تقدیمی حصہ تئیس اور چوبیس ڈگری کے درمیان ہے جو کہ مشاہدہ شدہ فرق بھی ہے۔

تاہم علمِ نجوم کے کچھ ہندو ماہرین دعوی کرتے ہیں کہ روایتی حساب کردہ سیاروں کے مقامات سے بہتر نجومی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ اب تبتی فلکیاتی علوم اس مقام پر ہیں جہاں ہندو فلکیاتی علوم اٹھارہویں صدی میں تھےکہ جب ان کا مغربی فلکیاتی علوم سے سامنا ہوا تھا۔ کالچکر ریاضی فارمولوں سے حاصل شدہ سیاروں کے مقامات بھی مشاہدہ شدہ مقامات سے عین مطابقت نہیں رکھتے۔ لیکن اس امر کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ کیا ہندو نظام کی طرح روایت کو ترک کرتے ہوئے مغربی اعداد و شمار کو اپنا لیا جائے جن میں سے تقدیمی جزو کو نفی کر کے ثابت ستارہ مقام حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سیاروں کے اصل مشاہدہ شدہ مقام کیا ہیں کیونکہ تبتی بودھی فلکیاتی نظام کا مقصد کبھی بھی چاند پر راکٹ بھیجنا نہیں تھا اور نہ ہی جہاز رانی تھا۔ فلکیاتی اعداد و شمار محض علم نجوم کی خاطر لگایا جاتا ہے اور اگر یہ نجومی معلومات صحیح اور مددگار ہوں تو یہی اہم چیز ہے۔

تبتی علمِ نجوم کا مقصد اس زندگی میں ہمیں ہمارے کرمی حالات کی خبر دینا ہے تاکہ ہم ان پر محنت کر کے اپنی تمام حدود کو پار کر سکیں اور اپنے دوسروں کی مدد کے امکان کو بھر پور طریقہ سے پورا کر سکیں۔ تبتی فلکیاتی علوم کو اسی بودھی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ فلکیاتی اعداد و شمار کے مشاہدہ شدہ مقام سے مختلف ہونے کی بنا پر ان پر فیصلہ دینا اور ان کو بدلنا، ایک غیر متعلقہ بات ہے۔

ایک دوسرے کے نظاموں کے بارے میں جاننے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی خاطر، مغربیوں اور تبتوں، دونوں کو ایک دوسرے کے مجموعہِ علم و دانش کی سالمیت کی قدر کرنی چاہیے۔ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ ممکن ہے اور نئی تحقیق کے میدانوں کی نشاندہی، لیکن روایت کو ترک کر کے اجنبی چیزوں کو اپنا لینا ایک المیہ ہو گا۔ جیسا کہ تبتی طب اور علمِ نجوم دونوں کی تاریخ سے دیکھا جا سکتا ہے، اجنبی ثقافتوں سے لیے گئے خیالات کی کبھی بھی اندھی تقلید نہیں کی گئی۔ ان کے زیرِ اثر تبتوں نے ہمیشہ اپنی تحقیق و تجربہ کی بنیاد پر اپنے یگانہ نظام بنائے جن میں یہ اجنبی خیالات ایک نئی شکل میں سامنے آئے۔ ترقی کا یہ طریقہ ہے کہ جس میں ہر ایک کا فائدہ ہے۔

سیاہ حساب

چینی نژاد سیاہ حساب کہ جسے عنصری حساب بھی کہا جاتا ہے، نے تبتی تقویم میں خاصے سارے پہلووں کا اضافہ کیا جیسا کہ حیوانی اور عنصری ادوار میں ہم آہنگی۔ مثلاً فولادی گھوڑے کا سال۔ اس کے علاوہ یہ شخصیت کا تجزیہ کرنے اور پیشگویانہ ذاتی زائچوں کے لیے مزید متغیر عناصر مہیا کرتا ہے۔ ان نقوش کو پھر سفید حساب نظام سے حاصل کردہ معلومات کے ساتھ متحد کر دیا جاتا ہے۔

چینی نژاد مادہ پانچ اہم موضوعات کے لیے حساب کرتا ہے۔ پہلے سالانہ تدریج ہے یعنی کہ یہ دیکھنا کہ زندگی کے ہر سال میں کیا ہو گا۔ دوسرا موضوع بیماری کا ہے یعنی پتہ لگانا کہ کیا اس کا سبب بد روحیں ہیں اور اگر ہیں تو وہ کس قسم کی ارواح ہیں اور انہیں راضی کرنے کے لیے کونسی رسومات ادا کرنی ہوں گی، اور یہ پیشگوئی کرنا کہ بیماری کتنا عرصہ رہے گی۔ تیسرا موضوع مردہ لوگ ہیں، خاص طور پر یہ کہ لاش کو گھر سے کب اور کس سمت میں نکالا جائے اور یہ کہ بد قوتوں کو منتشر کرنے کے لیے کونسی رسوم ادا کی جائیں۔ چوتھا موضوع مشکلات کا حساب ہے کہ وہ تقویم میں عموماً کب پیش آئیں گے اور خصوصاً ایک زندگی میں کس وقت۔ پانچواں شادی سے متعلق ہے یعنی یہ دیکھنا کہ متوقع جوڑے کی آپس میں کیا ہم آہنگی ہو گی۔ پس عنصری حساب بنیادی طور پر علم نجوم کی خاطر کیے جاتے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے ھندوستانی نژاد مادہ اور ھندوستانی ہندو نظام کے ساتھ دیکھا، اگرچہ چینی نژاد مادہ کلاسیکی چینی فلکیاتی دبستانوں کے ساتھ بہت سی مشترک اقدار رکھتا ہے، لیکن جس طرح سے تبتوں نے اسے ترقی سے کر استمعال کیا وہ خاصا مختلف ہے۔

عنصری حسابی نظام تقویم کے ساٹھ سالہ ادوار کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں ہر سال بالترتیب بارہ مختلف جانوروں کے زیر حکمرانی ہوتا ہے۔ کلاسیکی چینی ترتیب چوہے سے شروع ہوتی ہے جب کہ تبتی ترتیب چوتھے چینی جانور یعنی خرگوش سے شروع ہوتی ہے۔ پس تسلسل میں وہ جگہ کہ جہاں سے ساٹھ سالہ دور شروع ہوتا ہے، مختلف ہے۔

بارہ جانوروں کی فہرست ہر سال کے مختار عنصر کے ساتھ باہم پیچیدہ ہے۔ یہ کلاسیکی چینی پانچ عناصر ہیں یعنی لکڑی، آگ، زمین، لوہا اور پانی۔ ہر عنصر دو سال متواتر حکمران ہوتا ہے کہ جن میں سے پہلا سال نر اور دوسرا مادہ شمار ہوتا ہے۔ تبتی کبھی بھی چینی یان اور ینگ استمعال نہیں کرتے۔ پس ایک مخصوص جانور عنصر امتزاج جیسا کہ چینی نظام میں پہلا سال یعنی لکڑی نر چوہا برس یا پھر تبتی نظام کا پہلا برس یعنی آگ مادہ خرگوش سال، ساٹھ سال کے بعد دوبارہ آتا ہے۔

تبتی فلکیاتی نظام، کلاسیکی چینی نظام کی دس آسمانی تنوں اور بارہ زمینی شاخوں والی تنظیم استمعال نہیں کرتا۔ چینی اس کو ساٹھ سالہ دور سے وابستہ کرتے ہیں اور اپنی تقویم اور علم نجوم میں اس کو جانوروں اور عناصر سے کئی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

پیدائش کے سال کے جانور و عنصر امتزاج کے علاوہ زندگی کے ہر برس کے لیے ایک تدریجی امتزاج بھی اخذ کیا جاتا ہے لیکن اس کا حساب مردوں اور عورتوں کے لیے مختلف طریقہ سے کیا جاتا ہے۔ در حقیقت اکثر چینی حساب مردوں اور عورتوں کے لیے مختلف ہیں۔ اس امر کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ ہماری زندگی، تبتی اور چینی نظام دونوں میں تقویمی سالوں میں گنی جاتی ہے، چاہے ان میں سے کوئی مخصوص سال کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی کسی سال کے دسویں تبتی مہینہ میں پیدا ہوتا ہے تو وہ شخص اگلے تبتی برس کے شروع تک ایک سال کا گنا جائے گا اور اگلا برس شروع ہوتے ہی وہ دو سال کا ہو جائے گا۔ یہ اس لیے کہ اگرچہ وہ صرف تین ماہ زندہ رہا ہے لیکن وہ تین مہینہ دو تقویمی سالوں میں تھے۔ پس ہر تبتی سال کے آغاز پر سب تبتی لوگوں کی عمر ایک سال بڑھ جاتی ہے اور ان میں مغربی انداز میں سالگرہ منانے کا رواج نہیں۔ تبتی عمر پس مغربی عمر کے تصور کا متبادل نہیں کہ جس میں پیدائش کے بعد پورے سالوں کو گنا جاتا ہے۔

ایک ساٹھ سالہ دور میں بارہ میں سے ہر جانور اور ایک عنصر کے امتزاج کے پانچ مربوط عناصر بھی ہوتے ہیں جنہیں 'سنگ ریزہ' حساب کے لیے استمعال کیا جاتا ہے۔ یہ ہیں زندگی کی توانائی، جسم، طاقت یا قابلیت، وادیِ قسمت اور روح سنگ ریزہ عناصر۔ پہلے چار کلاسیکی چینی علم نجوم میں بھی پائے جاتے ہیں جہاں طاقت کو دولت کہا جاتا ہے۔ روح یا زندگی کا اساسی اصول ایک تبتی تصور ہے جو کہ مقامی بون نظام میں بھی پایا جاتا ہے۔

پیدائشی سنگ ریزہ عناصر اور کسی ایک عبوری سال کے عناصر کے تعلق کے تجزیہ کی بنیاد پر ہم زندگی کی توانائی کے مربوط عنصر سے اس سال میں زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔ اور جسم کی قابلیت کے عنصر سے صحت اور بدن کو درپیش مشکلات کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ طاقت کے عنصر سے ہم کامیابی مثلاً کاروبار میں اور وادی قسمت سے خوش بختی اور سفر، روح کے عنصر سے ہم فلاح و بہبود اور زندگی کے اساسی اصولوں کے بارہ میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اگر اس سال میں کچھ مشکلات پیش آنی ہیں تو اس بے آہنگی کو دور کرنے کے لیے کچھ مخصوص رسومات کی ادائگی تجویز کی جاتی ہے۔

بارہ میں سے ہر جانور ہفتہ کے تین دنوں کے ساتھ مربوط ہے۔ ایک زندگی کی توانائی، ایک روح اور ایک مہلک۔ ہر اس شخص کے لیے جو یہ پیدائشی جانور نشان رکھتا ہے، پہلے دو دن مبارک اور تیسرا منحوس ہوتا ہے۔ اس کا استمعال طبی علم نجوم میں کیا جاتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ کونسا دن علاج کے لیے بہتر رہے گا۔

جادوئی مربعوں کا بھی استمعال کیا جاتا ہے خصوصاً تین ضرب تین کے جنگلہ میں جن میں ایک سے نو تک اعداد اس طرح ہر خانے میں لگائے جاتے ہیں کہ ان کا افقی، عمودی یا قطری حاصل جمع ہمیشہ پندرہ ہوتا ہے۔ ان نو نمبروں کا ساٹھ سالہ دور سے اختلاط ہوتا ہے پس ہر ۱۸۰ سال بعد، اس جادوئی مربع کا نمبر، اسی عنصر جانور اختلاط سے مربوط ہو گا۔ سلسلہ نمبر ایک سے شروع ہوتا ہے اور مخالف سمت میں چلتا ہے یعنی نو، آٹھ، سات وغیرہ۔ نو میں سے ہر نمبر کا ایک رنگ کے ساتھ ربط ہوتا ہے اور ہر رنگ کا پانچ میں سے ایک چینی عنصر سے۔ نمبروں کو عموماً ان کے رنگوںکے ساتھ بلایا جاتا ہے۔ ایک سفید فولاد ہے، دو سیاہ پانی، تین نیلا پانی، چار سبز لکڑی، پانچ زرد زمین، چھ سفید فولاد، سات سرخ آگ، آٹھ سفید فولاد، نو قرمزی یا نو سرخ آگ۔ جب بھی جادوئی مربع چھاپا جاتا ہے تو ہر خانہ کا رنگ اسی اسکیم کے مطابق ہوتا ہے۔

4 9 2
3 5 7
8 1 6


پیدائشی نمبر سے زندگی کے ہر سال کے لیے ایک تدریجی نمبر اخذ کیا جاتا ہے اور جیسا کہ تدریجی عنصر جانور الحاق میں ہوتا ہے، اس کا حساب مردوں اور عورتوں کے لیے فرق ہے۔ جادوئی مربع کے ہر نمبر کی ایک تعبیر ہے جس میں گزشتہ زندگیوں کی تفصیل، ان کے اس زندگی میں بقایا اثرات، ممکنہ مستقبل کی زندگی کی پیشگوئی، اور ان مذہبی رسومات اور مجسموں کی تجویز جس سے اس کو بہتر بیایا جا سکتا ہے اور اس بات کی تفصیل ہوتی ہے کہ پھر اگلا ممکن پنر جنم کیا ہوگا۔ پس یہ تبتی زائچوں میں گزشتہ اور آئیندہ زندگیوں کی معلومات کا منبع ہے۔ جسم، روح، زندگی کی توانائی، طاقت اور وادی قسمت کے جادوئی مربع نمبروں کا حساب اور تعبیر بھی کی جاتی ہے جیسا کہ عناصر کے ساتھ ہوتا ہے۔

کتابِ تغیرات کے سہ حرف یعنی تین افقی لکیریں، شکستہ یا غیر شکستہ، بھی تبتی عنصری یا سیاہ حساب میں استمعال ہوتے ہیںاگرچہ چونسٹھ شش جہت کبھی استمعال نہیں ہوتے۔ سہ حرفوں کی ایک مخصوص ترتیب سے عمر کے ہر سال کے لیے ایک مدرج سہ حرف اخذ کیا جاتا ہے۔ اس کا حساب مردوں اور عورتوں کے لیے مختلف ہے۔ ہر جنس کے ہر اس فرد کا جو کہ ایک ہے عمر کا ہو، ایک ہی مدرج سہ حرف ہوتا ہے۔

سوائے تبتی علم نجوم کی بون قسم کے، اور کوئی عبوری سالانہ سہ حرف نہیں ہوتے جن کے لیے ہر تقویمی سال کو ایک مخصوص سلسلہ میں ایک سہ حرف دینا پڑے گا۔ پس مردوں اور عورتوں دونوں کے پیدائشی سہ حرف کا حساب ان کے سالِ پیدائش سے نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی والدہ کی عمر کے اس سال کے مدرج سہ حرف سے کیا جاتا ہے کہ جب اس نے انہیں جنا تھا۔ پیدائشی اور مدرج سہ حرفوں کی تعبیر پیشگویانہ زائچہ میں مزید معلومات مہیا کرتی ہے۔

مزید از آں، جسم، زندگی کی توانائی، طاقت اور وادی قسمت کے سہ حرفوں کا بھی حساب کیا جا سکتا ہے اور انہیں ان چار اقسام کے جادوئی مربع نمبروں سے اخذ کیا جاتا ہے جو کہ پیدائشی نمبر سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ شادی کے حساب میں موافقت دیکھنے کے لیے ان چار سہ حرفوں، جسم ، زندگی کی توانائی، طاقت اور وادی قسمت اور پیدائشی سنگریز عناصر کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔