ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بدھ مت اور اسلام میں مقدس جنگیں: حکایتِ شمبھالہ
(مختصر متن)

الیگزینڈر برزن
نومبر ۲۰۰۱ء ; نظرثانی: دسمبر ۲۰۰۶ء

[نیز دیکھیے مکمل متن .]

خلاصہ

اکثر لوگ جب مسلمانوں کے تصور جہاد یا مقدس جنگ کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کے ساتھ بہت سی منفی باتیں جوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو صحیح راستی پر جانتے ہوئے اللہ کے نام پر کی جانے والی تباہی کی ایک ایسی انتقامی مہم پر قائم ہیں جو دوسرے لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ عیسائیت میں ایسی ہی چیز صلیبی جنگوں کے نام سے موجود تھی، لیکن ان کا خیال یہ ہے کہ بدھ مت میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ دیکھیے آخر کو بدھ مت تو امن کا مذہب ہے اور اس میں "مقدس جنگ" جیسی کوئی اصطلاح موجود نہیں ہے۔

بدھ مت کی تحریریں، خاص طور پر "کالچکر تنتر"، غور سے دیکھنے سے خارجی اور داخلی دونوں طرح کی ایسی جنگوں کا پتا چلتا ہے جنہیں آسانی سے "مقدس جنگیں" کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کا غیر جانبدار مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے۔ دونوں مذہبوں کے رہنماؤں نے مقدس جنگ کے خارجی پہلو کو سیاسی، معاشی اور ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے یوں استعمال کیا کہ اس سے اپنی فوج کو جنگ لڑنے کے لیے اکسا سکیں۔ اسلام سے متعلق اس کی تاریخی مثالیں جانی بوجھی ہیں۔ لیکن اس حوالے سے بدھ مت کے بارے میں ہمیں کسی خوش گمانی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ بدھ مت اس طرح کے واقعات سے پاک رہا ہے۔ تاہم دونوں مذہبوں میں زیادہ زور داخلی روحانی جنگ پر دیا گیا ہے جو انسان کو اپنی جہالت اور تخریبی رویوں کے خلاف لڑنا پڑتی ہے۔

تجزیہ

بدھ مت میں فوجی تمثیلیں

شاکیہمُنی بودھ ہندوستان کی ایک جنگی ذات میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے روحانی سفر کو بیان کرنے کے لیے اکثر جنگ کی علامتیں استعمال کی ہیں۔ ان کا لقب مردِ فاتح تھا جس نے غفلت، بگڑے ہوئے خیالات، گمراہ کن جذبات اور غیر ذمہ دارانہ کرموں کے رویے کی شیطانی طاقتوں (مارا) کو ہرا دیا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے بدھ گرو شانتی دیو نے بھی اپنی کتاب "بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا" میں جنگ کے استعارے کو بار بار استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ اصل دشمن جنہیں شکست دینا ہے ہمارے پریشان کن جذبات اور غلط رویے ہیں جو ذہن کی گہرائیوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ اہل تبت سنسکرت کی اصطلاح "ارہت" (مخلوق جو مُکش حاصل ہے) کا ترجمہ "دشمن کش" کے الفاظ سے کرتے ہیں یعنی ایسا شخص جس نے اپنے داخلی دشمنوں کو زیر کر لیا ہو۔ ان مثالوں سے ایسے لگتا ہے کہ بدھ مت میں "مقدس جنگ" کی ترغیب صرف ایک داخلی اور روحانی معاملہ ہے۔ "کالچکر تنتر" سے البتہ اس کا ایک اور بیرونی پہلو سامنے آتا ہے۔

شمبھالہ کی داستان

ایک روایت کے مطابق بدھ فلسفی نے جنوبی ہند کے آندھرا علاقے میں۸۸۰ صدی قبل مسیح میں شمبھالہ کے راجہ سچندر اور اس کے ساتھ آنے والے لوگوں کو "کالچکر تنتر" کی تعلیم دی۔ راجہ سچندر یہ تعلیمات اپنے ساتھ شمالی علاقے میں لے گیا جہاں یہ آج تک پروان چڑھ رہی ہے۔ سچندر کے بعد شمبھالہ کے راجاؤں کی ساتویں نسل میں ۱۷۶ء صدی عیسوی قبل مسیح میں راجہ منجوشری یاشس یاشس نے شمبھالہ کے مذہبی رہنماؤں خاص طور پر برہمن داناؤں کو جمع کیا، ان کو خبردار کیا اور پیشین گوئیاں کیں۔ اس نے بتایا کہ آٹھ سو سال بعد مستقبل میں یعنی ۶۲۴ء صدی عیسوی میں مکہ میں ایک غیر ہندی مذہب سامنے آئے گا۔ مستقبل بعید میں جب اس نئے مذہب کے رہنما ہند پر یلغار کرنے والے ہوں گے تو برہمن قوم میں اتفاق نہ ہونے اور ویدوں کی ہدایات و احکامات کی پیروی میں سستی کے باعث بہت سے لوگ اس مذہب کو قبول کر لیں گے۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے منجوشری یاشس نے شمبھالہ کے لوگوں کو کالچکر عطاء اختیار دے کر ایک ہی "وجر – ذات" میں اکٹھا کر دیا۔ ا س عمل سے راجہ پہلا "کالکی" یعنی پہلا "ذات والا" بن گیا۔ پھر اس نے" مختصر کالچکر تنتر" تیار کیا۔ یہی وہ "کالچکر تنتر" ہے جو ہمارے پاس موجود ہے۔

غیر ہندی حملہ آور

چونکہ اسلام کا آغاز ۶۲۲ء صدی عیسوی میں ہوا، جو کالچکر کی بتائی ہوئی تاریخ سے دو سال پہلے ہے اس لیے بہت سے اہل علم کے مطابق غیر ہندی مذہب سے مراد یہی مذہب ہے۔ کالچکر کی کتب میں دوسرے مقامات پر بھی اس مذہب کی جو تفصیلات دی گئی ہیں ان میں اللہ کا نام لیتے ہوئے مویشیوں کو ذبح کرنا، ختنہ، باپردہ عورتیں اور اپنی مقدس سر زمین کی طرف رخ کرتے ہوئے دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنا شامل ہیں۔ اس سے بھی اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔

غیر ہندی کے لیے سنسکرت میں "ملیچھ" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو کسی غیر سنسکرت زبان میں ناقابل فہم انداز سے گفتگو کرتا ہو۔ ہندو اور بودھ دونوں نے اس اصطلاح کا استعمال شمالی ہندوستان کے تمام غیر ملکی حملہ آوروں کے لیے کیا جن کا آغاز سکندر اعظم کے وقت سے مقدونیوں اور یونانیوں سے ہوا۔ دوسری بڑی سنسکرت اصطلاح "طائی" ہے جو عربوں کے لیے فارسی اصطلاح سے لی گئی ہے- مثلاً یہ اصطلاح ساتویں صدی عیسوی کے نصف میں ایران پر حملہ کرنے والے عربوں کے لیے استعمال ہوئی تھی۔

غیر ہندی حملہ آوروں کے بارے میں بیان کردہ کالچکر تفصیلات دسویں صدی عیسوی کے آخر میں ملتان میں موجود اسماعیلیوں پر مبنی ہیں جس میں آٹھویں صدی کے آخر کے مانوی مسلمانوں کے کچھ تصورات بھی شامل ہو گئے۔ ملتان کے اسماعیلی جو مصر کے اسماعیلی فاطمیوں کے زیرِ اثر تھے، عالم اسلام پر تسلط حاصل کرنے کے لیے بغداد کے سنی عباسیوں اور ان کے سنی غزنوی اتحادیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔

دنیا کے خاتمے سے پہلے آخری جنگ کی پیشین گوئی

کالکی اول نے پیشین گوئی کی تھی کہ غیر ہندی مذہب کے پیروکار ایک نہ ایک دن ہندوستان پر حکمرانی کرنے لگیں گے۔ اپنی راجدھانی دہلی سے ان کا بادشاہ کرِن متی ۲۴۲۴ء عیسوی میں شمبھالہ کو فتح کرنے کی کوشش کرے گا۔ پھر پچیسواں کالکی راودر-چکرن ہندوستان پر حملہ کرے گا اور ایک بڑی جنگ میں ان غیر ہندی لوگوں کو شکست دے گا۔ اس کی فتح سے کلیوگ یعنی "جھگڑوں کے دور" کا خاتمہ ہو گا جس کے دوران دھرم عمل بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک نیا سنہری عہد شروع ہو گا جس میں بدھ مت خصوصاً کالچکر کی تعلیمات فروغ پائیں گی۔

جنگ کے علامتی معانی

"مختصر کالچکر تنتر" میں منجوشری یاشس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مکہ کے غیر ہندی لوگوں کے ساتھ ہونے والی جنگ سچ مچ کی جنگ نہیں کیونکہ حقیقی جنگ انسانی جسم کے اندر لڑی جاتی ہے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے گیلوگ شرح نگار کئیڈروب جے نے اس کی وضاحت کی ہے کہ منجوشری یاشس کے الفاظ کسی ایسی جنگی مہم کی طرف اشارہ نہیں کرتے جس کے تحت غیر ہندی مذہب کے پیروکاروں کو قتل کیا جائے۔ جنگ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کالکی اوّل کا مقصد من کی دنیا میں لڑی جانے والی جنگ کے لیے کچھ استعارے فراہم کرنا ہے تاکہ جہالت اور تخریبی رویے کےخلاف خالی پن کی گہری اور شانتی والی آگہی پیدا کی جا سکے۔

منجوشری یاشس نے بڑے واضح انداز سے اس داخلی رمزیت کو بیان کیا ہے۔ راودرا-چکرن "من-وجر" یعنی روشن-صاف ذہن کی علامت ہے۔ شمبھالہ مہاسکھہ کی وہ کیفیت ہے کہ جس میں من-وجر کا راج ہے۔ کالکی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ من-وجر کو کامل اور گہری آگہی یعنی خود بخود ابھرنے والا خالی پن اورسکھہ حاصل ہوگی۔ راودر-چکرن کے دو جرنیل راودر اور ہنومان گہری آگہی کی دو مددگار قسموںپرتیک-بودھ اور شراوک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بارہ ہندو دیوتا جو یہ جنگ جیتنے میں مدد کرتے ہیں وہ پیدا ہونے کا انحصار کے بارہ رابطوں اور کرم پھونک کی یومیہ بارہ تبدیلیوں کے خاتمے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ رابطے اور تبادلے دونوں سنسار کے مسلسل عمل کو بیان کرتے ہیں۔ راودر-چکرن کی فوج کے چار حصے محبت، درد مندی، آنند اور مساوات و برابری کے چار اتاہ رویے کی خالص ترین سطح کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ غیر ہندی طاقتیں جنہیں راودر-چکرن اور اس کی فوج کے مختلف حصے شکست دیں گے منفی کرموں کی طاقتوں کے ذہنوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کی مدد نفرت، حسد، انتقام اور تعصب کرتے ہیں۔ ان پر فتح کا مطلب مُکش اور روشن ضمیری کی راہ کی وصولی ہے۔

بدھ مت کا اصلاحی طریقہ

اس کے باوجود کہ تحریروں میں اصلی مقدس جنگ پر اکسانے سے انکار کیا گیا ہے پھر بھی یہاں اس پوشیدہ مفہوم کی موجودگی کو، کہ اسلام ایک ظالمانہ مذہب ہے جس کی خصوصیت نفرت، حسد، تخریبی رویہ ہے، بڑی آسانی کے ساتھ یہ موقف اختیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ بدھ مت مسلم دشمن مذہب ہے۔ اگرچہ ماضی کے کچھ بودھ پیروکار واقعی اس طرح کے تعصب کے حامل رہے ہوں گے اور دور حاضر کے بدھ مت کے کچھ پیروکار آج بھی اس طرح کا فرقہ وارانہ نقطہٴ نظر رکھتے ہوں گے تاہم ہمیں مہایان بدھ مت کے اصلاحی طریقوں کی روشنی میں قدرے مختلف نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔

مثلا مہایان کی تحریریں کچھ ایسے خیالات پیش کرتی ہیں جو ہینیان بدھ مت میں خاص ہیں مثلاً خود غرضی پر مبنی اپنی شخصی مُکش کے حصول کے لیے کوشاں رہنا اور دوسروں کی مدد کو نظرانداز کرنا۔ ہینیان کے پیروکاروں کی واضح منزل اور مقصد اپنی مُکش ہے نہ کہ روشن ضمیری، جس سے وہ ہر ایک کو فائدہ پہنچا سکیں۔ اگرچہ ہینیان کو اس طرح بیان کرنا تعصب تک لے جا سکتا ہے تاہم ہینیان مکاتب فکر مثلاً تھرواد کا بر تحقیق، بامقصد مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہاں بھی محبت اور درد مندی پر مراقبہ کا ایک نمایاں کردار ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مہایان والے ہینیان کی سچی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ ہی نہیں تھے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں مہایان والے بدھ مت کی منطق کے طریقوں کو استعمال کر رہے تھے جس کے مطابق وہ ہر موقف کو اس کے لایعنی نتیجے تک لے جا کر لوگوں کی یوں مدد کرتا ہے کہ وہ انتہا پسند نظریات سے بچ سکیں۔ "پرسانگک" کے اس طریقے کا مقصد اس پر عمل کرنے والوں کو خبردار کرنا ہے کہ وہ خود پسندی و خود غرضی کی انتہا سے بچ سکیں۔

اسی تجزیے کا اطلاق اس انداز پر بھی ہوتا ہے جو مہایان نے قرون وسطٰی کے ہندو اور جین فلسفوں کے چھ مکاتب فکر کو پیش کرتے ہوئے اختیار کیا۔ یہ تبتی بدھ مت کی روایتیں ایک دوسرے کے تصورات کو جس طرح پیش کرتی رہی ہیں یا تبت کی مقامی بون روایت کے تصورات پیش کرتی ہیں یہ بھی اسی کی مثال ہے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا نقطہ نظر ٹھیک سے بیان نہیں کرتے۔ ان میں سے ہر ایک نےدوسرے کی کسی نہ کسی خصوصیت کے بارے میں مبالغہ کیا یا اس کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ مختلف نکات کی وضاحت کی جا سکے۔

پیشین گوئیوں اور تاریخ کا تعلق

یہی بات اسلام کو ظالم مذہب اور ایک چھپا ہوا خطرہ سمجھنے کے کالچکر نقطہ نظر کے بارے میں بھی درست ہے۔ دسویں صدی عیسوی کے اواخر اور گیارہویں صدی عیسوی کے شروع میں جب کالچکر کی تعلیمات پہلے پہل ہندوستان میں سامنے آئیں، اس وقت اسلامی فوجوں نے کئی بودھ علاقوں پر حملہ کیا۔ کئی بودھوں اور ہندووں نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کر لیا تا کہ اپنا آبائی مذہب برقرار رکھنے کی صورت میں انہیں جزیہ نہ ادا کرنا پڑے۔ سو مبالغہ آرائی کے لیے ایک بنیاد موجود تھی۔ اگرچہ بدھ مت کے کچھ ماہر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ پرسنگک طریقے کے مطابق ہم اسلام کو روحانی خطرے کے بیان کے لیے ایک موثر تدبیر یا طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کے خلاف یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ایسا کرنا حکمت عملی کو، خصوصاً جدید دور میں بڑی حد تک، نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

کئیڈروب جے نے البتہ وضاحت کی ہے کہ شمبھالہ اور غیر ہندی طاقتوں کے درمیان جس جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ محض ایک استعارہ نہیں ہے جس کا مستقبل کی تاریخی حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسا ہی ہوتا تو پھر جب "کالچکر تنتر" سیاروں اور کہکشاؤں کے لیے داخلی مثالیں برتتا ہے تو اس سے یہ لایعنی نتیجہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اجسام فلکی صرف ایک استعارہ ہیں اور ان کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ کئیڈروب جے نے البتہ اس بات سے خبردار کیا ہے کہ یہاں لفظی معنی مراد نہ لیے جائیں کیونکہ کالچکر نے ایک اور پیشین گوئی کی ہے کہ غیر ہندی مذہب آخر بارہ بر اعظموں تک پھیل جائے گا اور پھر راودر-چکرن کی تعلیمات وہاں بھی اس پر غالب آ جائیں گی۔ اس کا ان خاص غیر ہندی لوگوں سے جن کو پہلے بیان کیا گیا ہے کوئی تعلق نہیں بنتا نہ ان کے مذہبی عقائد اور رسوم و رواج کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہاں "ملیچھ" کا نام محض غیر دھرمی طاقتوں اور عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بدھ فلسفی کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

لہذا پیشین گوئی یہ ہے کہ تخریبی قوتیں جو روحانی کاموں کی دشمن ہیں مستقبل میں حملہ کریں گی اور اس سے مراد خاص طور پر مسلمانوں کی فوج نہیں ہے۔ ان قوتوں کے خلاف ایک خارجی مقدس جنگ لڑنا لازمی ہو جائے گا۔ اس میں پوشیدہ پیغام یہی ہے کہ اگر پرامن طریقے ناکام ہو جائیں اور ہمیں مقدس جنگ کرنا پڑے تو اس جدوجہد کی بنیاد بدھ مت کے درد مندی اور حقیقت کی گہری آگہی کرنےوالے اصولوں پر ہونی چاہیے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ سچ ہے کہ اس رہنمائی پر عمل کرنا بہت مشکل ہے کہ جب آپ ایسے سپاہیوں کو تربیت دے رہے ہوں جوبودھی ستوا نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ اگر جنگ نفرت، تعصب، حسد اور انتقام کے غیر ہندی اصولوں پر لڑی جا ئے تو آنے والی نسلیں اپنے آباء و اجداد کے طریقوں اور غیر ہندی طاقتوں کے طریقوں میں کوئی فرق نہیں دیکھ پائیں گی۔ سو وہ بڑی آسانی سے غیر ہندی مذہب کی پیروی کرنا شروع کر دیں گی۔

اسلام کا تصور جہاد

کیا بیرونی حملہ آوروں میں سے کسی نے بھی اسلامی تصور جہاد کو اختیار کیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا کالچکر جہاد کے بارے میں درست بات بیان کر رہا ہے یا یہ شمبھالہ پر غیر ہندی حملے کو محض ایک ایسی انتہا کا اظہار کرنے کے لیے بیان کر رہا ہے کہ جس سے بچنا ضروری ہے۔ بین المذاہب غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے اور انہیں دور کرنے کے لیے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔

عربی لفظ "جہاد" کا مطلب ہے کوشش کرنا۔ اس میں کوشش کرنے والا مختلف مشکلات اور تکالیف کو برداشت کرتا ہے- مثلا رمضان یعنی روزہ رکھنے کے مقدس مہینے کے دوران بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ جو لوگ یہ کوشش کرتے ہیں "مجاہدین" کہلاتے ہیں۔ یہاں ہمیں صبر کے بارے میں بدھ مت کی تعلیمات یاد آتی ہیں جو بودھی ستوا کی نروان اور آگہی کی جدجہد کرتے ہوئے مشکلات برداشت کر نے سے متعلق ہیں۔

اسلام میں اہل سنت کے نزدیک جہاد کی پانچ اقسام ہیں۔

  • عسکری جہاد: جو اسلام کو نقصان پہنچانے والی جارحانہ طاقتوں کے خلاف دفاعی جنگ ہوتی ہے۔ اس سے مراد اسلام قبول کروانے کے لیے کسی قوم پر متشددانہ حملہ کرنا نہیں ہوتا۔
  • جہاد بالمال میں غریبوں اور ضرورت مندوں کو مالی اور دوسری مادی اشیاء فراہم کرنا شامل ہے۔
  • جہاد بالعمل میں پوری تن دہی اور دیانتداری سے اپنے آپ اور اپنے خاندان کی کفالت کرنا شامل ہے۔
  • علمی جہاد علم حاصل کرنے کا نام ہے۔
  • اپنے نفس کے خلاف جہاد اپنے من کی دنیا میں ایک داخلی جدوجہد ہے جس میں اپنی خواہشات اور ان سوچوں پر قابو پایا جاتا ہے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں حائل ہوتی ہیں۔

اہلِ تشیع پہلی طرح کے جہاد پر ہی زور دیتے ہیں اور اس کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ اسلامی ریاست پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔ شیعہ فکر جہاد کی پانچویں قسم یعنی داخلی روحانی جہاد کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔

اسلام اور بدھ مت میں مشابہت

دیو مالائی شمبھالہ جنگ کے بارے میں کالچکر کے نظریات اور جہاد کے حوالے سے اسلامی مباحث میں نمایاں مشابہت پائی جاتی ہے۔ بدھ مت اور اسلام دونوں ہی میں مقدس جنگ بیرونی دشمن طاقتوں کی طرف سے ہونے والے حملے کے خلاف دفاعی تدبیریں ہیں اور کبھی بھی لوگوں سے زبردستی مذہب تبدیل کروانے کی جارحانہ جنگی مہمات نہیں رہیں۔ دونوں میں معنی کے لحاظ سے داخلی روحانی سطحیں موجود ہیں جس کے تحت یہ جنگیں منفی سوچوں اور تخریبی جذبات کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ دونوں میں جنگ آزمائی اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے نہ کہ تعصب اور نفرت کی بنیاد پر۔ لہذا شمبھالہ پر غیر ہندی یلغار کو بالکل منفی نوعیت کا بیان بنا کر اصل میں کالچکر تحریریں پرسانگک طریقہ کار کے تحت جہاد کے تصور کی غلط تعبیر کرتی ہیں۔ اس طرح اسے اس منطقی انتہا تک لے جایا جاتا ہے جہاں جا کر یہ ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس سے بچنا درکار ہے۔

اس کے علاوہ جیسا کہ بہت سے رہنماوں نے جہاد کے تصور کو طاقت اور غلبے کے حصول کے لیے نہ صرف بگاڑا بلکہ غلط استعمال بھی کیا- یہی کچھ شمبھالہ کے تصور کے ساتھ اور بیرونی تخریبی طاقتوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہونے والے مباحث میں ہوا۔ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں تیرہویں دلائی لامہ کے روسی بریات منگول نائب اتالیق اگوان دورجیف نے اعلان کر دیا کہ روس شمبھالہ ہے اور زار ایک کالکی۔ اس طرح اس نے تیرہویں دلائی لامہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ "ملیچھ" برطانیہ کے خلاف وسط ایشیا پر قبضے کی جدوجہد میں روس کے اتحادی بن جائیں۔

روایتی طور پر منگولوں نے شمبھالہ کے راجہ سچندر اور چنگیز خان دونوں کو وجرپانی کی تجسیم کے طور پر جانا ہے۔ سو شمبھالہ کے لیے لڑنے کا مطلب چنگیز خان کی عظمت اور منگولیا کے لیے لڑنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۲۱ء کے منگولی کیمونسٹ انقلاب کے رہنما سوخ باتر نے سفید روس کے ظالمانہ استبدادی اقتدار اور جاپانی حمایت رکھنے والے بیرن وون انگرن-سٹیرنبرگ کے خلاف اپنی فوجوں کا دل بڑھانے کے لیے کالچکر کے بیان جنگ کو یہ کہتے ہوئے استعمال کیا کہ اس سے کلیوگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس نے ان سے وعدہ کیا کہ انہیں شمبھالہ کے بادشاہ کے جنگجوؤں کے طور پر نیا جنم ملے گا، حالانکہ کالچکر تحریروں میں اس کے اس دعوے پر لکھی ہوئی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ ۱۹۳۰ء میں جاپان کے اندرونی منگولیا پر قبضے کے دوران اس نے بھی اپنے مطلب کے لیے ایک پروپیگنڈہ مہم چلائی جس میں یہ باور کروایا گیا کہ جاپان ہی شمبھالہ ہے تاکہ اس کے ذریعے منگولوں سے اتحاد اور ان کی عسکری حمایت حاصل کی جائے۔

خاتمہ

جس طرح بدھ مت کے ناقد روحانی جنگ کے خارجی سطح پر اس غلط استعمال کو بڑھا کر دکھا سکتے ہیں اور اس کی داخلی سطح کو رد کر سکتے ہیں اور اس کی بنیاد پر پورے بدھ مت کے بارے میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ناروا اور غلط ہو گا۔ تو یہی کچھ جہاد کے حوالے سے اسلام کے ناقدین کے بارے میں بھی درست ہے۔ روحانی رہنما کے بارے میں بدھ مت کے تنتروں میں جو نصیحت ملتی ہے وہ یہاں مفید ہو گی۔ تقریباً ہر روحانی رہنما میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک چیلے کو اپنے گرو کی منفی خصوصیات سےانکار نہیں کرنا چاہیے لیکن ان کے بارے میں سوچتے رہنا اس کے لیے پریشانی و تناؤ کا باعث ہو گا۔ اس کے بجائے اگر کوئی شاگرد اپنے استاد کی مثبت خصوصیات اور پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرے تو اسے روحانیت کی راہ پر چلنے کی قوت اور جذبہ میسر آئے گا۔

بدھ مت اور اسلام کی مقدس جنگوں کے حوالے سے تعلیمات کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ جب تباہ کن قوتیں مذہبی رسوم و اعمال کے لیے خطرہ بنتی ہیں تو دونوں مذاہب بیرونی جنگوں کے حوالے سے اپنی تعلیمات کے غلط استعمال کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمیں نہ تو اس غلط استعمال کا انکار کرنا چاہیے نہ اس پر جما رہنا چاہیے بلکہ ہم اس سے ہر دو ادیان میں داخلی مقدس جنگ کے فوائد پر توجہ دیتے ہوئے روحانی رہنمائی لے سکتے ہیں۔