ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بدھ مت اور اسلام میں مقدس جنگیں: حکایتِ شمبھالہ
(مکمل متن)

الیگزینڈر برزن
نومبر ۲۰۰۱ء ، نظرثانی: دسمبر ۲۰۰۶ء

[نیز دیکھیے مختصر متن ۔]

خلاصہ

اکثر لوگ جب مسلمانوں کے تصور "جہاد" یا مقدس جنگ کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کے ساتھ بہت سی منفی باتیں جوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو صحیح راستی پر جانتے ہوئے اللہ کے نام پر کی جانے والی تباہی کی ایک ایسی انتقامی مہم پر قائم ہیں جو دوسرے لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ عیسائیت میں ایسی ہی چیز صلیبی جنگوں کے نام سے موجود تھی، لیکن ان کا خیال یہ ہے کہ بدھ مت میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ دیکھیے آخر کو بدھ مت تو امن کا مذہب ہے اور اس میں مقدس جنگ جیسی کوئی اصطلاح موجود نہیں ہے۔

بدھ مت کی تحریریں، خاص طور پر "کالچکر تنتر"، غور سے دیکھنے سے خارجی اور داخلی دونوں طرح کی ایسی جنگوں کا پتا چلتا ہے جنہیں آسانی سے "مقدس جنگیں" کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کا غیر جانبدار مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے۔ دونوں مذہبوں کے رہنماؤں نے مقدس جنگ کے خارجی پہلو کو سیاسی، معاشی اور ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے یوں استعمال کیا کہ اس سے اپنی فوج کو جنگ لڑنے کے لیے اکساسکیں۔ اسلام سے متعلق اس کی تاریخی مثالیں جانی بوجھی ہیں۔ لیکن اس حوالے سے بدھ مت کے بارے میں ہمیں کسی خوش گمانی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ بدھ مت اس طرح کے واقعات سے پاک رہا ہے۔ تاہم دونوں مذہبوں میں زیادہ زور داخلی روحانی جنگ پر دیا گیا ہے جو انسان کو اپنی جہالت اور تخریبی رویوں کے خلاف لڑنا پڑتی ہے۔

تجزیہ

بدھ مت میں فوجی تمثیلیں

شاکیہمُنی بودھ ہندوستان کی ایک جنگی ذات میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے روحانی سفر کو بیان کرنے کے لیے اکثر جنگ کی علامتیں استعمال کی ہیں۔ ان کا لقب مردِ فاتح تھا جس نے غفلت، بگڑے ہوئے خیالات، گمراہ کن جذبات اور غیر ذمہ دارانہ کرموں کے رویے کی شیطانی طاقتوں (مارا) کو ہرا دیا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے بدھ گرو شانتی دیو نے بھی اپنی کتاب "بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا" میں جنگ کے استعارے کو بار بار استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ اصل دشمن جنہیں شکست دینا ہے ہمارے پریشان کن جذبات اور غلط رویے ہیں جو ذہن کی گہرائیوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ اہل تبت سنسکرت کی اصطلاح "ارہت" (مخلوق جو مُکش حاصل ہے) کا ترجمہ "دشمن کش" کے الفاظ سے کرتے ہیں یعنی ایسا شخص جس نے اپنے داخلی دشمنوں کو زیر کر لیا ہو۔ ان مثالوں سے ایسے لگتا ہے کہ بدھ مت میں "مقدس جنگ" کی ترغیب صرف ایک داخلی اور روحانی معاملہ ہے۔ "کالچکر تنتر" سے البتہ اس کا ایک اور بیرونی پہلو سامنے آتا ہے۔

شمبھالہ کی داستان

ایک روایت کے مطابق بدھ فلسفی نے جنوبی ہند کے آندھرا علاقے میں۸۸۰ صدی قبل مسیح میں شمبھالہ کے راجہ سچندر اور اس کے ساتھ آنے والے لوگوں کو "کالچکر تنتر" کی تعلیم دی۔ راجہ سچندر یہ تعلیمات اپنے ساتھ شمالی علاقے میں لے گیا جہاں یہ آج تک پروان چڑھ رہی ہے۔ شمبھالہ ایک انسانی دنیا ہے نہ کہ بدھ مت کی پاک سر زمین جہاں کے حالات کالچکر پر عمل کرنے کے لیے سازگار ہوں۔ روئے زمین پر اس طرح کا کوئی ملک سچ مچ موجود ہو گا مگر تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ نے شمبھالہ سے خالصتاً روحانی دنیا ہی مراد لیا ہے۔ روایتی کتب میں اس کے لیے ظاہری سفر کے بیان کے باوجود اس منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ وہی ہے جو کالچکر مراقبات اور مراقبہ کی مشقوں کی سخت محنت کا تقاضا کرتا ہے۔

سچندر کے بعد شمبھالہ کے راجاؤں کی ساتویں نسل میں ۱۷۶ء صدی عیسویقبل مسیح میں راجہ منجوشری یاشس یاشس نے شمبھالہ کے مذہبی رہنماؤں خاص طور پر برہمن داناؤں کو جمع کیا، ان کو خبردار کیا اور پیشین گوئیاں کیں۔ اس نے بتایا کہ آٹھ سو سال بعد مستقبل میں یعنی۶۲۴ء صدی عیسوی میں مکہ میں ایک غیر ہندی مذہب سامنے آئے گا۔ مستقبل بعید میں جب اس نئے مذہب کے رہنما ہند پر یلغار کرنے والے ہوں گے تو برہمن قوم میں اتفاق نہ ہونے اور ویدوں کی ہدایات و احکامات کی پیروی میں سستی کے باعث بہت سے لوگ اس مذہب کو قبول کر لیں گے۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے منجوشری یاشس نے شمبھالہ کے لوگوں کو کالچکر عطاء اختیار دے کر ایک ہی "وجر – ذات" میں اکٹھا کر دیا۔ ا س عمل سے راجہ پہلا "کالکی" یعنی پہلا " ذات والا" بن گیا۔ پھر اس نے " مختصر کالچکر تنتر" تیار کیا۔ یہی وہ "کالچکر تنتر" ہے جو ہمارے پاس موجود ہے۔

غیر ہندی حملہ آور

چونکہ اسلام کا آغاز ۶۲۲ء صدی عیسوی میں ہوا، جو کالچکر کی بتائی ہوئی تاریخ سے دو سال پہلے ہے اس لیے بہت سے اہل علم کے مطابق غیر ہندی مذہب سے مراد یہی مذہب ہے۔ کالچکر کی کتب میں دوسرے مقامات پر بھی اس مذہب کی جو تفصیلات دی گئی ہیں ان میں اللہ کا نام لیتے ہوئے مویشیوں کو ذبح کرنا، ختنہ، باپردہ عورتیں اور اپنی مقدس سر زمین کی طرف رخ کرتے ہوئے دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنا شامل ہیں۔ اس سے بھی اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔

غیر ہندی کے لیے سنسکرت میں "ملیچھ" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو کسی غیر سنسکرت زبان میں ناقابل فہم انداز سے گفتگو کرتا ہو۔ ہندو اور بودھ دونوں نے اس اصطلاح کا استعمال شمالی ہندوستان کے تمام غیر ملکی حملہ آوروں کے لیے کیا جن کا آغاز سکندر اعظم کے وقت سے مقدونیوں اور یونانیوں سے ہوا۔ دوسری بڑی سنسکرت اصطلاح "طائی" ہے جو عربوں کے لیے فارسی اصطلاح سے لی گئی ہے- مثلاً یہ اصطلاح ساتویں صدی عیسوی کے نصف میں ایران پر حملہ کرنے والے عربوں کے لیے استعمال ہوئی تھی۔

کالکی اول نے مستقبل کے غیر ہندی مذہب کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے اس میں آٹھ بڑے گروؤں کا ذکر کیا ہے جو یہ ہیں: آدم، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسٰی، مانی، محمد اور مہدی۔ محمد سر زمینِ مکہ میں بغداد میں آئیں گے۔ اس بیان سے اسلامی معاشرے کے اندر حملہ آوروں کی نشاندہی ہوتی ہے:

  • محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ حیات ۵۷۰ء سے ۶۳۲ء عیسوی صدی کے عرب کا ہے۔ تاہم بغداد ان کے بعد ۷۶۲ء میں عرب عباسی خلافت کے دارالخلافہ کے طور پر (۱۲۵۸ء – ۷۵۰ء) تعمیر کیا گیا۔
  • مانی تیسری صدی کا ایرانی شخص تھا جس نے ایک ملغوبہ مذہب مانویت کی بنیاد رکھی۔ اس میں قدیم ایرانی مذہب زرتشتیت کی طرح بھلائی اور برائی کی طاقتوں کے درمیان جدوجہد پر زور دیا گیا۔ مانی نبی تھا یا نہیں یہ تو واضح نہیں لیکن اسلام میں صرف ایک زندیق مانوی فرقے کے لوگوں ہی نے جو بغداد میں ابتدائی عباسی دربار کا حصہ تھے، اسے نبی تسلیم کیا۔ تاہم عباسی خلفاء نے مانویت کے پیرو کاروں کو بہت سخت سزائیں دیں۔
  • موجودہ افغانستان اور برصغیر پاک وہند کے بہت سے بودھ اہلِ علم نے بغداد میں آٹھویں صدی عیسوی کے اواخر میں سنسکرت کتب کا عربی زبان میں ترجمہ کرنے کا کام کیا۔
  • مہدی جو آل رسول میں سے ہوگا مستقبل کا حکمران (امام) ہوگا۔ وہ اہل ایمان کی قیادت کرتے ہوئے یروشلم کی طرف بڑھے گا۔ وہ قرآن کا قانون نافذ کرے گا اور تمام دنیا کے اہل ایمان اور اسلام کے پیروکاروں کو ایک سیاسی مملکت میں متحد کرے گا۔ یہ سب کچھ اس آخری جنگ سے پہلے ہو گا جس کے ساتھ ہی یہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ مہدی دنیائے اسلام میں مسیح موعود کے ہم پلہ ہستی ہے۔ مہدی کا تصور ابتدائی عباسی دور میں زیادہ مقبول اور نمایاں ہوا جب اس منصب کے تین دعوے دار سامنے آئے۔ خلیفہ، مکہ میں اس کا ایک حریف اور ایک شہید جس کے نام پر عباسی مملکت کے خلاف بغاوت برپا کی گئی۔ تاہم بطور ایک نجات دہندہ کے مہدی کا مکمل تصور نویں صدی عیسوی کے اختتام تک سامنے نہیں آیا تھا۔
  • اسماعیلی شیعوں کے ہاں بھی پیغمبروں کی تفصیل وہی ہے جو کالچکر میں بیان کی گئی تاہم اس میں مانی کا ذکر نہیں۔ اسماعیلی واحد اسلامی فرقہ ہیں جو مہدی کو پیغمبر سمجھتے ہیں۔
  • اسماعیلی شیعہ اسلام کا وہ فرقہ ہے جو دسویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف کے دوران ملتان (موجودہ پاکستان کے شمالی سندھ کا حصہ) میں حکمران تھا۔ ملتان اسماعیلی فاطمی مملکت کا اتحادی تھا جس کا مرکز مصر تھا۔ یہ مملکت پوری مسلم دنیا میں عباسیوں کی بالا دستی کو چیلنج کرتی تھی۔

اس ثبوت کی روشنی میں ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ غیر ہندی حملہ آوروں کے بارے میں بیان کردہ کالچکر تفصیلات دسویں صدی عیسوی کے آخر میں ملتان میں موجود اسماعیلیوں پر مبنی ہیں جس میں آٹھویں صدی کے آخر کے مانوی مسلمانوں کے کچھ تصورات بھی شامل ہو گئے۔ ان تفصیلات کو جمع کرنے والے اکثر و بیشتر بدھ مت کے گرو تھے جو مشرقی افغانستان اور اڈیانہ (موجودہ شمال مغربی پاکستان کی وادی سوات) کے ہندوشاہی حکمرانوں کی رعیت میں رہتے تھے۔ افغانستان کے علاقے کابل کی بودھ خانقاہوں مثلاً سوبہار کی خانقاہ کا نمونہء تعمیر اسی طرح کا ہے جیسا کہ کالچکرکے منڈلوں میں ہے۔ اڈیانہ ان بڑے علاقوں میں سے ایک تھا جہاں بودھ تنتر کو فروغ ملا۔ اس کے علاوہ اڈیانہ کے کشمیر کے ساتھ بھی گہرے تعلقات تھے جہاں بدھ مت اور ہندو شو مت کے تنتر پھلا پھولا۔ ایک مشہور بودھ زیارتی شاہراہ نے ان دونوں کو باہم ملا دیا تھا۔ لہٰذا ہمیں مشرقی افغانستان، اڈیانہ اور کشمیر میں عباسی دور حکومت کے دوران بودھ مسلم تعلقات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ ہم تاریخ اور مقدس جنگوں کے حوالے سے اس کے افکار و تعلیمات کو صحیح طرح سے سمجھ سکیں۔

دنیا کے خاتمے سے پہلے آخری جنگ کی پیشن گوئی

کالکی اول نے پیشین گوئی کی تھی کہ غیر ہندی مذہب کے پیروکار ایک نہ ایک دن ہندوستان پر حکمرانی کرنے لگیں گے۔ اپنی راجدھانی دہلی سے ان کا بادشاہ کرِن متی ۲۴۲۴ء عیسوی میں شمبھالہ کو فتح کرنے کی کوشش کرے گا۔۔ پھر پچیسواں کالکی راودر-چکرن ہندوستان پر حملہ کرے گا اور ایک بڑی جنگ میں ان غیر ہندی لوگوں کو شکست دے گا۔ اس کی فتح سے کلیوگ یعنی "جھگڑوں کے دور" کا خاتمہ ہو گا جس کے دوران دھرم عمل بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک نیا سنہری عہد شروع ہو گا جس میں بدھ مت خصوصاً کالچکر کی تعلیمات فروغ پائیں گی۔

خیر وشر کی طاقتوں کے درمیان ایسی کشمکش کا تصور جو مسیح موعود کی قیادت میں لڑی جانے والی آخری جنگ پر ختم ہو گی، پہلے زرتشتیوں کے ہاں ظاہر ہوا جس کی بنیاد چھٹی صدی قبل مسیح یعنی بدھ فلسفی کی پیدائش سے کئی دہائیاں پہلے رکھی گئی۔ دوسری صدی قبل مسیح سے دوسری صدی عیسوی کے درمیان کسی زمانے میں یہ تصور یہودیت میں داخل ہوا اور اس کے بعد یہ پہلے عیسائیت، مانویت اور بعد ازاں اسلام میں بھی شامل ہو گیا۔ 

دنیا کے خاتمے کے تصور کی کچھ بدلی ہوئی شکل ہندو مت، خاص طور پر "وشنو پران" میں بھی سامنے آئی جس کا زمانہ کم و بیش چوتھی صدی عیسوی ہے۔ اس کے مطابق کلیوگ کے اختتام پر وشنو اپنی آخری تجسیم کی صورت میں کالکی کے طور پر ظہور کرے گا۔ اس کی پیدائش شمبھالہ کے گاؤں میں برہمن وشنو یاشس کے بیٹے کے طور پر ہو گی۔ وہ اپنے زمانے کے غیر ہندی لوگوں کو شکست دے گا جو تباہی کے راستے کے پیروکار ہیں اور پھر وہ لوگوں کے ذہنوں کو بیدار کرے گا۔ اس کے بعد ہندوؤں کے زمان کے دوری تصور کے مطابق ایک نیا سنہری زمانہ آئے گا۔ وہ کائنات کا آخری فیصلہ یا دنیا کا اختتام نہیں ہوگا جیسا کہ اس تصور کی غیر ہندی صورتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کیا "وشنو پران" میں بیان کی جانے والی یہ تفصیلات خارجی اثرات کے تحت مرتب کی گئیں اور پھر ان کو ہندی ذہنیت کے مطابق ڈھالا گیا یا یہ تصورات یہاں از خود ظہور پذیر ہوئے۔

بدھ فلسفی کی تعلیمات کے ماہرانہ طریقوں کے مطابق جس کے تصورات اور اصطلاحات ان کے سامعین کے لیے جانے پہچانے تھے،"کالچکر تنتر" میں "وشنو پران" کے نام اور مثالیں تک استعمال کی گئی ہیں۔ کیونکہ بدھ فلسفی کے یقینی سامعین اولاً تعلیم یافتہ برہمن ہی تھے۔ ان ناموں میں نہ صرف شمبھالہ ، کالکی، کلیوگ اور وشنو یاشس یا اس کی ایک اور شکل منجوشری یاشس شامل ہیں بلکہ اس میں ان غیر ہندی لوگوں کے لیے "ملیچھ" کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے جو تباہی اور گمراہی کے پیروکار ہیں۔ تاہم کالچکر کے بیان میں جنگ کے ایک علامتی معنی ہیں۔

جنگ کے علامتی معنی

"مختصر کالچکر تنتر" میں منجوشری یاشس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مکہ کے غیر ہندی لوگوں کے ساتھ ہونے والی جنگ سچ مچ کی جنگ نہیں کیونکہ حقیقی جنگ انسانی جسم کے اندر لڑی جاتی ہے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے گیلوگ شرح نگار کئیڈروب جے نے اس کی وضاحت کی ہے کہ منجوشری یاشس کے الفاظ کسی ایسی جنگی مہم کی طرف اشارہ نہیں کرتے جس کے تحت غیر ہندی مذہب کے پیروکاروں کو قتل کیا جائے۔ جنگ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کالکی اوّل کا مقصد من کی دنیا میں لڑی جانے والی جنگ کے لیے کچھ استعارے فراہم کرنا ہے تاکہ جہالت اور تخریبی رویے کےخلاف خالی پن کی گہری اور شانتی والی آگہی پیدا کی جا سکے۔

منجوشری یاشس نے بڑے واضح انداز سے اس داخلی رمزیت کو بیان کیا ہے۔ راودرا-چکرن "من-وجر" یعنی-روشن صاف ذہن کی علامت ہے۔ شمبھالہ مہاسکھہ کی وہ کیفیت ہے کہ جس میں من-وجر کا راج ہے۔ کالکی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ من-وجر کو کامل اور گہری آگہی یعنی خود بخود ابھرنے والا خالی پن اورسکھہ حاصل ہوگی۔ راودر-چکرن کے دو جرنیلراودر اور ہنومان گہری آگہی کی دو مددگار قسموںپرتیک-بودھ اور شراوک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بارہ ہندو دیوتا جو یہ جنگ جیتنے میں مدد کرتے ہیں وہ پیدا ہونے کا انحصار کے بارہ رابطوں اور کرم پھونک کی یومیہ بارہ تبدیلیوں کے خاتمے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ۔ یہ رابطے اور تبادلے دونوں سنسار کے مسلسل عمل کو بیان کرتے ہیں۔ راودر-چکرن کی فوج کے چار حصے محبت، درد مندی، آنند اور مساوات و برابری کے چار اتاہ رویے کی خالص ترین سطح کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ غیر ہندی طاقتیں جنہیں راودر-چکرن اور اس کی فوج کے مختلف حصے شکست دیں گے منفی کرموں کی طاقتوں کے ذہنوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کی مدد نفرت، حسد، انتقام اور تعصب کرتے ہیں۔ ان پر فتح کا مطلب مُکش اور روشن ضمیری کی راہ کی وصولی ہے۔

بدھ مت کا اصلاحی طریقہ

اس کے باوجود کہ تحریروں میں اصلی مقدس جنگ پر اکسانے سے انکار کیا گیا ہے پھر بھی یہاں اس پوشیدہ مفہوم کی موجودگی کو، کہ اسلام ایک ظالمانہ مذہب ہے جس کی خصوصیت نفرت، حسد، تخریبی رویہ ہے، بڑی آسانی کے ساتھ یہ موقف اختیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ بدھ مت مسلم دشمن مذہب ہے۔ اگرچہ ماضی کے کچھ بودھ پیروکار واقعی اس طرح کے تعصب کے حامل رہے ہوں گے اور دور حاضر کے بدھ مت کے کچھ پیروکار آج بھی اس طرح کا فرقہ وارانہ نقطہٴ نظر رکھتے ہوں گے تاہم ہمیں مہایان بدھ مت کے اصلاحی طریقوں کی روشنی میں قدرے مختلف نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔

مثلا مہایان کی تحریریں کچھ ایسے خیالات پیش کرتی ہیں جو ہینیان بدھ مت میں خاص ہیں مثلاً خود غرضی پر مبنی اپنی شخصی مُکش کے حصول کے لیے کوشاں رہنا اور دوسروں کی مدد کو نظرانداز کرنا۔ ہینیان کے پیروکاروں کی واضح منزل اور مقصد اپنی مُکش ہے نہ کہ روشن ضمیری کا حصول، جس سے وہ ہر ایک کو فائدہ پہنچا سکیں۔ اگرچہ ہینیان کو اس طرح بیان کرنا تعصب تک لے جا سکتا ہے تاہم ہینیان مکاتب فکر مثلاً تھرواد کا بر تحقیق، بامقصد مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہاں بھی محبت اور درد مندی مراقبہ کا ایک نمایاں کردار ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مہایان والے ہینیان کی سچی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ ہی نہیں تھے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں مہایان والے بدھ مت کی منطق کے طریقوں کو استعمال کر رہے تھے جس کے مطابق وہ ہر موقف کو اس کے لایعنی نتیجے تک لے جا کر لوگوں کی یوں مدد کرتا ہے کہ وہ انتہا پسند نظریات سے بچ سکیں۔ "پرسانگک" کے اس طریقے کا مقصد اس پر عمل کرنے والوں کو خبردار کرنا ہے کہ وہ خود پسندی و خود غرضی کی انتہا سے بچ سکیں۔

اسی تجزیے کا اطلاق اس انداز پر بھی ہوتا ہے جو مہایان نے قرون وسطٰی کے ہندو اور جین فلسفوں کے چھ مکاتب فکر کو پیش کرتے ہوئے اختیار کیا۔ یہ تبتی بدھ مت کی روایتیں ایک دوسرے کے تصورات کو جس طرح پیش کرتی رہی ہیں یا تبت کی مقامی بون روایت کے تصورات پیش کرتی ہیں یہ بھی اسی کی مثال ہے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا نقطہ نظر ٹھیک سے بیان نہیں کرتے۔ ان میں سے ہر ایک نےدوسرے کی کسی نہ کسی خصوصیت کے بارے میں مبالغہ کیا یا اس کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ مختلف نکات کی وضاحت کی جا سکے۔ یہی بات اسلام کو ظالم مذہب اور ایک چھپا ہوا خطرہ سمجھنے کے کالچکر نقطہ نظر کے بارے میں بھی درست ہے۔ اگرچہ بدھ مت کے کچھ ماہر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ پرسانگک طریقے کے مطابق ہم اسلام کو روحانی خطرے کے بیان کے لیے ایک موثر تدبیر یا طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کے خلاف یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ایسا کرنا حکمت عملی کو، خصوصاً جدید دور میں بڑی حد تک، نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

تاہم اسلام کو خطرہ بننے والی تباہ کن قوتوں کی علامت کے طور پر استعمال کرنا اس وقت قابل فہم نظر آتا ہے جب اسے کابل، خصوصاً مشرقی افغانستان، کے علاقے میں ابتدائی عباسی دورِ حکومت کے تناظر میں دیکھا جا ئے۔

[.بحث کے پس منظر کے طور پر دیکھیے: افغانستان میں بدھ مت اور اسلام کا تاریخی خاکہ؛ نیز دیکھیے: منگول حکومت سے پہلے بودھ اور اسلامی تہذیبوں کے تاریخی تعلقات، حصہ سوم، باب ۱۰]

عباسی دور میں اسلام اور بدھ مت کا تعلق

اپنے دور حکومت کے آغاز میں عباسی شمالی افغانستان کے علاقے باختر پر حکمران تھے جہاں انہوں نے مقامی بودھوں، ہندوؤں اور زرتشتیوں کو اپنا مذہب برقرار رکھنے کی اجازت دی بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کریں۔ تاہم ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کر لیا خاص طور پر زمینداروں اور پڑھے لکھے شہری لوگوں نے کیونکہ اسلامی ثقافت کے اونچے طبقات ان کے اپنے کلچر کی نسبت ان کے لیے زیادہ پہنچ میں تھے اور اس طرح وہ بھاری ٹیکس ادا کرنے سے بھی بچ سکتے تھے۔ ترکی شاہی جو تبتوں کے اتحادی بھی تھے، کابل پر حکومت کر رہے تھے جہاں بدھ مت اور ہندومت پھیل رہا تھا۔ بودھ حکمران اور بودھ روحانی رہنماؤں کو یہاں لازمی طور پر یہ فکر دامن گیر ہوئی ہو گی کہ اسی طرح کا طرز عمل یعنی آسانی سے مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے کا عمل یہاں بھی نہ شروع ہو جائے۔

ترکی شاہی حکمرانوں نے یہاں ۸۷۰ء تک حکومت کی اور ۸۱۵ء سے ۸۱۹ء کے درمیان آ کر ان کا اس علاقے پر اقتدار ختم ہوا۔ ان چار سالوں کے دوران عباسی خلیفہ المامون نے کابل پر حملہ کر کے حکمران شاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اسلام قبول کر لے۔ اپنی اطاعت کا اظہار کرنے کے لیے کابل شاہ نے خلیفہ کو سوبہار خانقاہ سے بدھ فلسفی کے سونے کے مجسمے کا تحفہ پیش کیا۔ خلیفہ مامون نے اس قیمتی مجسمے کو اسلام کی فتح کی علامت کے طور پر جس میں بدھ فلسفی ہیروں جڑا تاج پہنے چاندی کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے مکہ بھجوا دیا جہاں دو سال تک یہ کعبے میں رکھا۔ وہ اپنے بھائی کو خانہ جنگی میں شکست دے ہی چکا تھا۔ مجسمے کی نمائش سے وہ پوری اسلامی دنیا پر اپنے حقِ حکمرانی کا اظہار کر رہا تھا۔ اس نے نہ تو کابل کے بودھوں کو ترک مذہب پر مجبور کیا اور نہ وہاں کی بودھ خانقاہوں کو تباہ کیا۔ اس نے بدھ فلسفی کے اس مجسمے کو بھی بت سمجھ کر نہیں توڑا جو کابل کے حکمران نے اسے بھیجا تھا بلکہ اسے بطور مال غنیمت کے مکہ بھجوا دیا۔ جب عباسی فوجوں کو مملکت کے دوسرے حصوں میں آزادی اور خود مختاری کے لیے چلنے والی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے واپس بلا لیا گیا تو اس کے بعد جلد ہی بودھ خانقاہیں بحال ہو گئیں۔

اس کے بعد دوسرا دور بھی مختصر رہا (یعنی ۸۷۰ء سے ۸۷۹ء کے دوران) جب کابل کا علاقہ اسلامی حکومت کے تحت آیا۔ اس دور میں کابل کو ایک خود مختار فوجی ریاست کے صفاری حکمرانوں نے فتح کیا جنہیں اپنی درشتگی اور مقامی کلچر کو تباہ کرنے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ فاتحین نے بہت سے بودھ "مجسموں" کو جنگ میں فتح کی یادگار کے طور پر عباسی خلیفہ کے پاس بھجوا دیا۔ جب ترکی شاہی حکمرانوں کے بعد آنے والے ہندو شاہی خاندان نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو بدھ مت اور اس کی خانقاہیں ایک بار پھر اپنی پہلی شان و رونق کے ساتھ بحال ہو گئیں۔

ترک غزنوی حکمرانوں نے ہندو شاہی خاندان کو شکست دے کر ۹۷۶ء میں مشرقی افغانستان فتح کرلیا تھا۔ لیکن انہوں نے وہاں کی بودھ خانقاہوں کو بالکل بھی تباہ نہیں کیا۔ غزنوی عباسیوں کے ماتحت اور سنی اسلام کے کٹر پیروکار تھے۔ اگرچہ انہوں نے بدھ مت اور ہندومت کو مشرقی افغانستان میں برداشت کیا لیکن ان کے دوسرے حکمران محمود غزنوی نے عباسیوں کے حریفوں یعنی ملتان کی اسماعیلی ریاست کے خلاف جنگی مہموں کا آغاز کر دیا۔ ۸۰۰ا ء عیسوی صدی میں محمود نے ملتان پر فتح حاصل کر لی اور راستے میں گندھارا اور اڈیانہ کے ہندو شاہیوں کو بھی ریاست سے بے دخل کر دیا۔ ہندو شاہیوں نے ملتان کے ساتھ ایکا کر رکھا تھا۔ جہاں کہیں محمود نے فتح حاصل کی وہاں اس نے ہندو مندروں اور بدھ مت کی خانقاہوں سے دولت لوٹی اور اپنی طاقت کو بڑھایا۔

ملتان کی فتح کے بعد زیادہ علاقہ اور دولت حاصل کرنے کے لالچ میں محمود نے اپنی یلغار کا رخ مشرق کی طرف کر دیا۔ اس نے موجودہ ہندوستان کے پنجاب کے علاقے کو جسے اس زمانے میں "دہلی" کہا جاتا تھا، فتح کیا۔ تاہم جب غزنوی افواج دہلی سے شمال کی طرف کشمیر کے پہاڑی علاقوں کے دامن کی طرف بڑھیں اور ۱۰۱۵ء سے ۱۰۲۱ء کے دوران بچے کھچے ہندو شاہیوں کو بے دخل کرنا شروع کیا تو انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مآخذ یہ بتاتے ہیں کہ غزنوی فوجوں کو منتروں کے اثر سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی مسلم فوج کا کشمیر پر یہ پہلا حملہ تھا۔ زیادہ گمان یہ ہے کہ کالچکر کا یہ بیان کہ مستقبل میں دہلی پر غیر ہندی فوجیں حملہ کریں گی اور انہیں شکست ہو گی اس میں ملتان کی حکومت کا عباسیوں اور پھر غزنویوں کے لیے خطرہ بننا اور کشمیر پر غزنویوں کے حملے کا خطرہ سب باتیں مل کر پس منظر کا کام دے رہی تھیں۔

پیشین گوئیوں اور تاریخ میں تعلق

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کالکی اول کی تاریخی پیشین گوئیاں مندرجہ بالا ادوار پرپوری طرح صادق آتی ہیں لیکن ان کے واقعات کو سبق آموزی کےلیے اپنے انداز میں ڈھال کر بیان کیا گیا ہے۔ تاہم تیرہویں صدی عیسویں کے ساکیہ شرح نگار بوتن نے کالچکر کے تاریخی بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ "ماضی کے تاریخی واقعات کی چھان بین کرنا بے معنی ہے"۔ کئیڈروب جے نے البتہ وضاحت کی ہے کہ شمبھالہ اور غیر ہندی طاقتوں کے درمیان جس جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ محض ایک استعارہ نہیں ہے جس کا مستقبل کی تاریخی حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسا ہی ہوتا تو پھر جب "کالچکر تنتر" سیاروں اور کہکشاؤں کے لیے داخلی مثالیں برتتا ہے تو اس سے یہ لایعنی نتیجہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اجسام فلکی صرف ایک استعارہ ہیں اور ان کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔

کئیڈروب جے نے البتہ اس بات سے خبردار کیا ہے کہ یہاں لفظی معنی مراد نہ لیے جائیں کیونکہ کالچکر نے ایک اور پیشین گوئی کی ہے کہ غیر ہندی مذہب آخر بارہ بر اعظموں تک پھیل جائے گا اور پھر راودر-چکرن کی تعلیمات وہاں بھی اس پر غالب آ جائیں گی۔ اس کا ان خاص غیر ہندی لوگوں سے جن کو پہلے بیان کیا گیا ہے کوئی تعلق نہیں بنتا نہ ان کے مذہبی عقائد اور رسوم و رواج کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہاں "ملیچھ" کا نام محض غیر دھرمی طاقتوں اور عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بدھ فلسفی کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

لہذا پیشین گوئی یہ ہے کہ تخریبی قوتیں جو روحانی کاموں کی دشمن ہیں مستقبل میں حملہ کریں گی اور اس سے مراد خاص طور پر مسلمانوں کی فوج نہیں ہے۔ ان قوتوں کے خلاف ایک خارجی "مقدس جنگ" لڑنا لازمی ہو جائے گا۔ اس میں پوشیدہ پیغام یہی ہے کہ اگر پرامن طریقے ناکام ہو جائیں اور ہمیں مقدس جنگ کرنا پڑے تو اس جدوجہد کی بنیاد بدھ مت کے درد مندی اور حقیقت کی گہری آگہی کرنےوالے اصولوں پر ہونی چاہیے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ سچ ہے کہ اس رہنمائی پر عمل کرنا بہت مشکل ہے کہ جب آپ ایسے سپاہیوں کو تربیت دے رہے ہوں جو بودھی ستوا نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ اگر جنگ نفرت، تعصب، حسد اور انتقام کے غیر ہندی اصولوں پر لڑی جا ئے تو آنے والی نسلیں اپنے آباء و اجداد کے طریقوں اور غیر ہندی طاقتوں کے طریقوں میں کوئی فرق نہیں دیکھ پائیں گی۔ سو وہ بڑی آسانی سے غیر ہندی مذہب کی پیروی کرنا شروع کر دیں گی۔

اسلام کا تصور جہاد

کیا بیرونی حملہ آوروں میں سے کسی نے بھی اسلامی تصور جہاد کو اختیار کیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا کالچکر جہاد کے بارے میں درست بات بیان کر رہا ہے یا یہ شمبھالہ پر غیر ہندی حملے کو محض ایک ایسی انتہا کا اظہار کرنے کے لیے بیان کر رہا ہے کہ جس سے بچنا ضروری ہے۔ بین المذاہب غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے اور انہیں دور کرنے کے لیے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔

عربی لفظ "جہاد" کا مطلب ہے کوشش کرنا۔ اس میں کوشش کرنے والا مختلف مشکلات اور تکالیف کو برداشت کرتا ہے- مثلا رمضان یعنی روزہ رکھنے کے مقدس مہینے کے دوران بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ جو لوگ یہ کوشش کرتے ہیں "مجاہدین" کہلاتے ہیں۔ یہاں ہمیں صبر کے بارے میں بدھ مت کی تعلیمات یاد آتی ہیں جو بودھی ستوا کی نروان اور آگہی کی جدجہد کرتے ہوئے مشکلات برداشت کر نے سے متعلق ہیں۔

اسلام میں اہل سنت کے نزدیک جہاد کی پانچ اقسام ہیں۔

  • عسکری جہاد: جو اسلام کو نقصان پہنچانے والی جارحانہ طاقتوں کے خلاف دفاعی جنگ ہوتی ہے۔ اس سے مراد اسلام قبول کروانے کے لیے کسی قوم پر متشددانہ حملہ کرنا نہیں ہوتا۔
  • جہاد بالمال میں غریبوں اور ضرورت مندوں کو مالی اور دوسری مادی اشیاء فراہم کرنا شامل ہے۔
  • جہاد بالعمل میں پوری تن دہی اور دیانتداری سے اپنے آپ اور اپنے خاندان کی کفالت کرنا شامل ہے۔
  • علمی جہاد علم حاصل کرنے کا نام ہے۔
  • اپنے نفس کے خلاف جہاد اپنے من کی دنیا میں ایک داخلی جدوجہد ہے جس میں اپنی خواہشات اور ان سوچوں پر قابو پایا جاتا ہے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں حائل ہوتی ہیں۔

اہلِ تشیع پہلی طرح کے جہاد پر ہی زور دیتے ہیں اور اس کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ اسلامی ریاست پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔ شیعہ فکر جہاد کی پانچویں قسم یعنی داخلی روحانی جہاد کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔

اسلام اور بدھ مت میں مشابہت

دیو مالائی شمبھالہ جنگ کے بارے میں کالچکر کے نظریات اور جہاد کے حوالے سے اسلامی مباحث میں نمایاں مشابہت پائی جاتی ہے۔ بدھ مت اور اسلام دونوں ہی میں مقدس جنگ بیرونی دشمن طاقتوں کی طرف سے ہونے والے حملے کے خلاف دفاعی تدبیریں ہیں اور کبھی بھی لوگوں سے زبردستی مذہب تبدیل کروانے کی جارحانہ جنگی مہمات نہیں رہیں۔ دونوں میں معنی کے لحاظ سے داخلی روحانی سطحیں موجود ہیں جس کے تحت یہ جنگیں منفی سوچوں اور تخریبی جذبات کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ دونوں میں جنگ آزمائی اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے نہ کہ تعصب اور نفرت کی بنیاد پر۔ لہذا شمبھالہ پر غیر ہندی یلغار کو بالکل منفی نوعیت کا بیان بنا کر اصل میں کالچکر تحریریں پرسانگک طریقہ کار کے تحت جہاد کے تصور کی غلط تعبیر کرتی ہیں۔ اس طرح اسے اس منطقی انتہا تک لے جایا جاتا ہے جہاں جا کر یہ ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس سے بچنا درکار ہے۔

اس کے علاوہ جیسا کہ بہت سے رہنماوں نے جہاد کے تصور کو طاقت اور غلبے کے حصول کے لیے نہ صرف بگاڑا بلکہ غلط استعمال بھی کیا- یہی کچھ شمبھالہ کے تصور کے ساتھ اور بیرونی تخریبی طاقتوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہونے والے مباحث میں ہوا۔ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں تیرہویں دلائی لامہ کے روسی بریات منگول نائب اتالیق اگوان دورجیف نے اعلان کر دیا کہ روس شمبھالہ ہے اور زار ایک کالکی۔ اس طرح اس نے تیرہویں دلائی لامہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ "ملیچھ" برطانیہ کے خلاف وسط ایشیا پر قبضے کی جدوجہد میں روس کے اتحادی بن جائیں۔

روایتی طور پر منگولوں نے شمبھالہ کے راجہ سچندر اور چنگیز خان دونوں کو وجرپانی کی تجسیم کے طور پر جانا ہے۔ سو شمبھالہ کے لیے لڑنے کا مطلب چنگیز خان کی عظمت اور منگولیا کے لیے لڑنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۲۱ء کے منگولی کیمونسٹ انقلاب کے رہنما سوخ باتر نے سفید روس کے ظالمانہ استبدادی اقتدار اور جاپانی حمایت رکھنے والے بیرن وون انگرن-سٹیرنبرگ کے خلاف اپنی فوجوں کا دل بڑھانے کے لیے کالچکر کے بیان جنگ کو یہ کہتے ہوئے استعمال کیا کہ اس سے کلیوگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس نے ان سے وعدہ کیا کہ انہیں شمبھالہ کے بادشاہ کے جنگجوؤں کے طور پر نیا جنم ملے گا، حالانکہ کالچکر تحریروں میں اس کے اس دعوے پر لکھی ہوئی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ ۱۹۳۰ء میں جاپان کے اندرونی منگولیا پر قبضے کے دوران اس نے بھی اپنے مطلب کے لیے ایک پروپیگنڈہ مہم چلائی جس میں یہ باور کروایا گیا کہ جاپان ہی شمبھالہ ہے تاکہ اس کے ذریعے منگولوں سے اتحاد اور ان کی عسکری حمایت حاصل کی جائے۔

خاتمہ

جس طرح بدھ مت کے ناقد روحانی جنگ کے خارجی سطح پر اس غلط استعمال کو بڑھا کر دکھا سکتے ہیں اور اس کی داخلی سطح کو رد کر سکتے ہیں اور اس کی بنیاد پر پورے بدھ مت کے بارے میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ناروا اور غلط ہو گا۔ تو یہی کچھ جہاد کے حوالے سے اسلام کے ناقدین کے بارے میں بھی درست ہے۔ روحانی رہنما کے بارے میں بدھ مت کے تنتروں میں جو نصیحت ملتی ہے وہ یہاں مفید ہو گی۔ تقریباً ہر روحانی رہنما میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک چیلے کو اپنے گرو کی منفی خصوصیات سےانکار نہیں کرنا چاہیے لیکن ان کے بارے میں سوچتے رہنا اس کے لیے پریشانی و تناؤ کا باعث ہو گا۔ اس کے بجائے اگر کوئی شاگرد اپنے استاد کی مثبت خصوصیات اور پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرے تو اسے روحانیت کی راہ پر چلنے کی قوت اور جذبہ میسر آئے گا۔

بدھ مت اور اسلام کی مقدس جنگوں کے حوالے سے تعلیمات کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ جب تباہ کن قوتیں مذہبی رسوم و اعمال کے لیے خطرہ بنتی ہیں تو دونوں مذاہب بیرونی جنگوں کے حوالے سے اپنی تعلیمات کے غلط استعمال کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمیں نہ تو اس غلط استعمال کا انکار کرنا چاہیے نہ اس پر جما رہنا چاہیے بلکہ ہم اس سے ہر دو ادیان میں داخلی مقدس جنگ کے فوائد پر توجہ دیتے ہوئے روحانی رہنمائی لے سکتے ہیں۔