ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور اسلام > تبتی مسلمانوں کا تاریخی خاکہ

تبتی مسلمانوں کا تاریخی خاکہ

الیگزینڈر برزن
اکتوبر ۲۰۰۱ء

تبتی مسلمانوں کا جائزہ

۱۹۵۹ء سے تقریباً ٣٠٠٠ مسلمان تبت میں مقیم تھے۔ یہ ان مسلمان سوداگروں کی اولادوں میں سے تھے، جو کشمیر، لدّاخ ، نیپال اور چین سے چودھویں صدی عیسوی اور سترھویں صدی عیسوی کے درمیان میں تبت آئے تھے، تبتی عورتوں سے شادی بیاہ رچایا تھا اور یہیں بس گئے تھے۔ وہ تبتی زبان بولتے تھے اور انھوں نے کافی حد تک تبتی طور طریقے اپنا لیے تھے۔ ان لوگوں کی چار مسجدیں لھاسا میں، دو شیگاتسی اور ایک تسیتاگ میں تھی اور یہ مسجدیں تبتی فن تعمیر کے مطابق بنائی گئی تھیں۔ مزید براں، درس قرآن اور اردو کی تعلیم کے لیے ان کے دو اسلامی اسکول لھاسا اور ایک شیگاتسی میں بھی تھے۔ ہندوستان میں جلا وطنی کے بعد بھی تبتی مسلمان اور بودھ، مذہبی رواداری کے ساتھہ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔

کشمیر اور لدّاخ سے شروعات

کشمیر لدّاخ اور تبت کے مابین تجارتی رشتہ بہت پرانا ہے، جس کے نتیجے میں ان علاقوں کے سوداگر مغربی اور وسطی تبت میں بس گئے تھے۔ چودھویں صدی عیسوی کے اواخر میں جب کشمیر اور لدّاخ میں صوفی سنتوں نے اسلام کو متعارف کرایا تو وہاں کے آبادکاروں میں مسلمان بھی رہےہوں گے۔ تاہم، کشمیر اور لدّاخی مسلمانوں کا سب سے بڑا مہاجروں کا ہجوم سترہویں صدی عیسوی کے وسط میں پانچویں دلائی لامہ کے اقتدار کے دوران تبت پہنچا۔

پانچویں دلائی لامہ سے خاص مراعات کی منظوری

تمام مذاہب کے مابین رواداری کے اصول کے تحت پانچویں دلائی لامہ نے مسلمانوں کو کچھہ خاص مراعات عطا کی تھیں۔ وہ لوگ اپنے اندرونی معاملات کو طے کرنے کے لیے پانچ اراکان پر مشتمل ایک کمیٹی چن سکتے تھے، اپنے تنازعات شرعی قانون کے مطابق طے سکتے تھے، دکانیں کھول سکتے تھے، تبت کے دوسرے شہروں میں تجارت کرسکتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے محصول بھی معاف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ بودھوں کے مقدس مہینے سکاداوا میں گوشت کھا سکتے ہیں اور مونلم کی دعائیہ تقریب کے دوران انھیں خانقاہی افسروں کے آگے ٹوپی اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مزید براں، پانچویں دلائی لامہ نے مسلمانوں کو لھاسا میں مسجد اور قبرستان کے لیے زمینیں دیں اور وہ مسلمان سربراہوں کو اہم سرکاری تقریبات میں شرکت کی دعوت بھی دیتے تھے۔

لدّاخ کے ساتھہ تجارتی مشن

۱۶۸۴ ء کے تبت اور لدّاخ کے مابین امن معاہدہ کے تحت، تبتی سرکار نے ایک لدّاخی تجارتی مشن کو ہر تین سال میں ایک مرتبہ لھاسا آنے کی اجازت دے دی اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک کہ تبت کو دوسرے بیرونی لوگوں کے لیے بند کیاجاچکا تھا۔ لاتعداد کشمیری اور لدّاخی مسلمان جو ان مشنوں کے ساتھہ گئے تھے، تبت میں رک گئے اور تبت میں پہلے سے مقیم مسلمانوں کے ساتھہ آباد ہوگئے۔

کشمیری مسلمان تاجر نیپال میں بھی بس گئے تھے، جہاں وہ لوگ نیپالی اور تبت میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھہ تجارت کرتے تھے۔ ۱۷۶۹ء میں وادئ کٹھمنڈو پر فتح حاصل کرنے کے بعد پرتھوی نارائن شاہ نے جب ان کو نکال باہر کیا، تب ان میں سے کافی لوگ تبت چلے گئے تھے۔ ۱۸۵۶ء کے نیپال تبت معاہدے کے بعد انھون نے نیپال اور ہندوستان کے ساتھہ پھر سے تجارت شروع کردی تھی۔

۱۸٤۱ء میں کشمیرکی ڈوگرا فوجوں نے تبت پر حملہ کر دیا۔ جنگ میں ان کی ہار کے بعد بہت سے کشمیری اور لدّاخی مسلمان سپاہی، جنہیں قیدی بنالیا گیا تھا، وہیں رک گئے۔ کچھہ ہندو ڈوگرا سپاہی بھی تبت میں بس گئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اس ملک میں سیب اور خوبائی کی شجر کاری کا آغاز کیا۔

ھُوِئی مسلمان آبادکار

بہت پہلے سترہویں صدی عیسوی کے دوران ننگزیا سے چینی ھُوِئی مسلمان سوداگر تبت آئے۔ شمال مشرقی تبت کے سِلِنگ (شینِنگ) جو امدو علاقہ میں ہے، وہاں بس گئے۔ انہوں نے تبتوں سے شادیاں کیں اور چین اور وسطی تبت کے مابین تجارت کو فروغ دیا۔ ان میں سے کچھہ لوگ بعد میں لھاسا میں بس گئے۔ جھاں انہوں نے اپنی مسجد اور قبرستان کے ساتھہ ایک منفرد قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرلی۔

عوامی چینی جمہوریہ کی حکومت میں حالات کافی بدل گئے۔ تبتی مسلمانوں پر اسی طرح مظالم ڈھائے گئے، جس طرح تبتی بودھوں پر ڈھائے گئے تھے۔ امڈو کے بیش تر شہروں میں اب بالخصوص ھُوِئی مسلمان رہتے ہیں اور مقامی تبتی لوگ حاشیے پر دھکیل دیے گئے ہیں اور شہروں سے وابستہ مضافاتی ڈھلانوں میں رہنے لگے ہیں۔ مزید برآں، ھُوِئی مسلمان تاجروں کی اکثریت اب مرکزی تبت میں آباد ہو رہی ہے۔ لیکن تبتی مسلمانوں کے برعکس، یہ لوگ، بہر حال مقامی لوگوں میں گھل مل نہیں سکے، بلکہ اپنی چینی زبان اور طور طریقوں پر قائم ہیں۔