ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور اسلام > بدھ مت اور تصوف کا تعلق: "مجید تہرانیان کے جواب میں"

بدھ مت اور تصوف کا تعلق: "مجید تہرانیان کے جواب میں"

الیگزینڈر برزن
نومبر ۲۰۰۶ء

پہلے مفصل حاشیوں کےساتھ
Islam and Inter-faith Relations: The Gerald Weisfeld Lectures 2006 ,
eds. Lloyd Ridgeon and Perry Schmidt-Leukel.
London: SCM Press, 2007, 256-61

میں شائع ہوا

پروفیسر مجید تہرانیان نے اپنے مضمون "بدھ مت کی بابت میں ایک مسلمان کا نقطہء نظر" میں ایک ایسی "عالمگیر تہذیب" کی اہمیت اور ضرورت بیان کی ہے جو دنیا کی مختلف مذہبی روایتوں کی اقدار کا احاطہ کر سکتی ہو۔ اسی طرح میں نے بھی اپنے مضمون "اسلام بدھ مت کی نظر میں" عالمی ذمہ داری کے حوالے سے تقدس مآب دلائی لامہ کا موقف بیان کیا ہے۔ عالمگیر تہذیب اور عالمی ذمہ داری دونوں کا انحصار دنیا کے بڑے مذاہب مثلا بدھ مت اور اسلام کے درمیان بامعنی مکالمے پر ہے۔ اس طرح کا مکالمہ مذہبی رہنماوں اور عوام دونوں کی سطح پر ہو سکتا ہے۔ نیز یہ مکالمہ عمومی باتوں کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے اور دلائل و حوالہ جات کی مدد سے کسی خاص مسئلے کو موضوع بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔

[دیکھیے: اسلام بدھ مت کی نظر میں ۔]

جیسا کہ میں نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے بدھ مت اور اسلام کے رہنما اور پیروکار دونوں ہی ماضی میں ایک دوسرے کے عقائد سے بالعموم آگاہ نہیں تھے۔ اب یہ صورت حال آہستہ اہستہ تبدیل ہو رہی ہے مگر اس کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ سو اس تناظر میں خصوصا عوام اور اس سے بھی بڑھ کر نوجوان نسل میں معلومات کے ابلاغ اور باہمی مکالمے کے لیے انٹرنیٹ بتدریج ایک بہت ہی قابلِ قدر وسیلے کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے والوں کو معلومات کے انبار سے، جو اکثر باہم متضاد بھی ہوتی ہیں، قابلِِ اعتماد اور غیر جانبدار مآخذ کی تلاش و تعین کے مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تصوف اور بدھ مت کے مابین مماثلتوں کے بارے میں تہرانیان کی تحریر عمومی تفصیلات بیان کرنے کی سمت ميں ایک درست کوشش ہے۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے کچھ خصوصی امور کا تفصیلی تجزیہ بھی کیا جائے۔

مثلا تہرانیان کہتے ہیں کہ "تاریخی لحاظ سے بدھ مت اور اسلام ایشیا میں صدیوں تک ہمسایہ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے سے بہت کچھ مستعار لیا ہے۔ نتیجے کے طور پر نئی مذہبی روایات (مثلا تصوف) وجود میں آئیں جن میں ان دونوں مذاہب کے عناصر موجود ہیں"۔ مگر ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ دونوں مذاہب کے درمیان روابط کا ہونا ایک بات ہے اور يہ بات کہ "انہوں نے ایک دوسرے سے بہت کچھ مستعار لیا ہے" بالکل دوسری بات ہے۔

بلاشبہ تہرانیان یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ "یہ دونوں مذاہب انسان کی ناتوانی، کمزوری اور ناپائیدار ہستی کو اپنا موضوع بناتے ہیں"۔ تاہم یہ حقیقت کہ دونوں ایک ہی طرح کے مسائل کو زیر غور لاتے ہیں، اس بات کی تصديق نہیں کرتی کہ ان میں سے کسی بھی مذہب نے ان مسائل کے حل کے لیے اپنے نقطہٴ نظر کی تشکیل ميں دوسرے مذہب کو متاثر کیا ہے۔ تاہم اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی ایک مذہب نے دوسرے مذہب سے کچھ تصورات مستعار لیے ہوں۔ لیکن مستعار لینے کے اس موقف کو درست طور پر احتیاط سے متعین کر کے بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلومات قابلِِ اعتماد ہو سکیں۔ آخر تصوف اور بدھ مت دونوں کی ایک طویل تاریخ ہے، وسیع جغرافیائی علاقے ہیں اور مکاتبِ فکر و مشائخ کی اتنی رنگا رنگی ہے اور دونوں کا اپنا انفرادی اور الگ موقف ہے۔

مثلا تصوف میں بایزید بسطامی (۸۷۴ء – ۸۰۴ء) نے اپنے شیخ ابو علی السندی کے زیرِ اثر فنا اور خدع کے تصورات متعارف کرائے۔ فنا کا مطلب ہے انسانی ہستی کا خاتمہ اور انفرادی خودی کو کلیتا فنا کرتے ہوئے اللہ کے ساتھ ایک ہو جانا ہے اور خدع کا مطلب دھوکہ یا فریب ہے، وہ الفاظ جن سے مادی دنیا کو بیان کیا جاتا ہے۔ آر سی زہنیر نے "ہندو اور مسلم تصوف" میں دلائل کے ساتھ لکھا ہے کہ السندی کسی دوسرے مذہب سے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور یہ عین ممکن ہے کہ انہوں نے فنا کا تصور "چھاندوگیا اپنشد" اور خدع کا تصور "سویتا شوترا اپنشد" سے اخذ کیا ہو اس شرح کے مطابق جو ادویت ویدانت کے بانی شنکر (۸۲۰ء – ۷۸۸ء) نے کی تھی۔ یہ درست ہے کہ بدھ مت کے تمام مکاتبِ فکر اس سے ملتے جلتے موضوع،" نروان" یعنی مسلسل جنم در جنم سے نجات کو زیر بحث لاتے ہیں اور بہت سے مہایانی مکاتبِ فکر کا موقف یہ ہے کہ یہ عالم ظاہر گو"مایا" یعنی فریب نہیں لیکن مایا جیسا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ بدھ مت کی کسی بھی صورت نے صوفیانہ فکر کے ارتقا میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔

دوسری طرف ہمیں یہ ثبوت ملتا ہے کہ بدھ مت نے تصوف سے ادب کے میدان میں چیزیں مستعار لی ہیں۔ مثلا بدھ مت میں چار اندھوں کے ایک ہاتھی کو مختلف انداز سے بیان کرنے کی حکایت موجود ہے جس میں وہ ہاتھی کے مختلف حصوں کو چھو کر مختلف موقف اختیار کرتے ہیں ۔ یہ مثال ایرانی عالم ابو حامد الغزالی (۱۱۱۱ء - ۱۰۵۸ء) کی تحریروں کے ذریعے تصوف میں شامل ہو گئی۔ فلسفیانہ تشکیک کی وضاحت کرتے ہوئے الغزالی نے اس مثال کو اس بات کی وضاحت کے لیے بیان کیا کہ مسلمان علمائے کلام جزوی علم کے حامل ہیں جبکہ بدھ فلسفی نے اس مثال کو "غیر بودھ مکاتب کی سوتّا " میں غیر بودھ فلسفیوں کے ایک دوسرے کے نظریات پر بحث مباحثہ کے بے سود ہونے کو واضح کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔

تصوف پر بدھ مت کا دوسرا اثر اس کے رسوم و رواج کے دائرے میں ہوا ۔ تہرانیان نے اس حوالے سے ایران کے منگول ایل خانی دورِ حکمرانی (۱۳۳۶ء – ۱۲۵۶ء) کی طرف مختصر اشارہ کیا ہے۔ مزید تفصیل یہ ہے کہ پہلے چھ ایل خانی حکمرانوں میں سے پانچ حکمران تبتی بدھ مت کے پیروکار تھے۔ ان میں صرف احمد تگودر (۱۲۸۴-۱۲۸۲ء) شامل نہیں ہے۔ چھٹے ایل خانی حکمران غازان (۱۳۰۴ء – ۱۲۹۵ء) نے شیعہ صوفی شیخ صدر الدین ابراہیم کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اس دور کے بعد سے صوفی مشائخ کے مزاروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کی روش مضبوط ہوئی ہے اور شاید یہ بدھ مت کا اثر تھا جہاں استوپا میں موجود متبرک آثار کی تکریم کی جاتی ہے۔

اسلام کا بدھ مت سے متاثر ہونا صرف تصوف تک ہی محدود نہیں۔ تہرانیان نے مانویت کے کردار کو ایک پل قرار دیا ہے۔ بدھ فلسفی کی بطور  بودھی-ستوا سابقہ زندگیوں کی تفصیلات بھی قرون وسطی کے عیسائی مآخذ مثلا "برلام اور جوسافت" میں مذکور ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان تحریروں کا مانوی سغدین ترجمہ عربی میں "بلوهر اور یوداسف کی کتاب" کے زيرعنوان لکھے جانے سے قبل ہو چکا تھا۔ عربی کتاب کو بغداد کے ابان الاحقی (۸۱۵-۷۵۰ء) نے مدون کیا تھا۔ اس کتاب کی اسلامی صورت میں بدھ فلسفی کے سابقہ جنموں کے بارے میں اس سے قبل عربی میں لکھی گئی کتاب "بودھ کی کتاب" کے بعض حصے بھی شامل تھے ۔ "بودھ کی کتاب" اسی زمانے میں مرتب ہوئی تھی اور اس کی بنیاد سنسکرت میں بدھ فلسفی کے بارے میں لکھی کی گئی دو کتب "گزشتہ زندگی تاریخ کی ایک مالا" اور اشواگھوش کی "بودھ کے اعمال" پر رکھی گئی تھی۔ چونکہ ابان الاحقی کا متن دستیاب نہیں ہے لہذا یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے مانوی مآخذ سے کتنا مواد اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ اگر اس کتاب میں کچھ ایسا مواد ہے بھی تو وہ اس مکالمے کا اثر رہا ہو گا جو عباسی دربار میں موجود بودھ اور مانوی مسلم اہل علم کے درمیان ہوتے تھے۔

پھر یہ بھی ہے کہ اسلامی تہذیب پر بدھ مت کے اثرات صرف مذہبی یا ادبی دائروں تک ہی محدود نہ تھے۔ طب کے میدان میں بھی یہ اثرات ملتے ہیں۔ تہرانیان نے عباسی دربار میں برامکہ خاندان کے اثر و رسوخ کا ذکر کیا ہے۔ یہ چوتھے عباسی خلیفہ ہارون الرشید (۸۰۹ء – ۷۸۶ء) اور اس کے وزیر اعظم یحیی بن برمک کا ذکر ہے جو افغانستان میں بلخ کی نووہار خانقاہ کے بودھ منتظمین میں سے ایک کا پوتا تھا۔ بغداد کے بیت الحکمت میں اگرچہ اس وقت بھی بودھ دانشور موجود تھے لیکن یحیی نے دنیا کے مختلف حصوں خصوصا کشمیر سے مزید بودھ اہل علم کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔ تاہم یحیی کی سرپرستی کے دوران بودھ فلسفہ کی کسی کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ نہیں کیا گیا۔ زیادہ زور سنسکرت سے بدھ مت کی طبی کتب خاص طور پر رویگپت کی کتاب "کامیابیاں کا سمندر" کا عربی میں ترجمہ کروانے پر تھا۔

مذہبی، ادبی اور سائنسی اثرات مستعار لینے سے بھی بڑھ کر عالمگیر تہذیب اور عالمی ذمہ داری دونوں کے لیے اہم مسئلہ ایک بنیاد کے مشترکہ اخلاقیات کی تشکیل ہے۔ مثلا سوڈان، پاکستان، ایران اور سعودی عرب نے ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ میں منظور ہونے والے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے پر تنقید کی ہے کہ اس میں غیر مغربی مذاہب اور ثقافتوں کی اقدار کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ان اعتراضات کے نتیجے میں مسلم دنیا نے انسانی حقوق کا اعلامیہ قاہرہ منظور کیا جسے اسلامی کانفرنس کی ۴۸ اسلامی ممالک کے وزراء پر مشتمل تنظیم نے ۱۹۹۰ء کے اجلاس میں منظور کیا۔ اس دستاویز میں صرف وہی انسانی حقوق بیان کیے گئے ہیں جو اسلامی قانون یعنی شریعت کے مطابق ہیں۔

اسلام اور بدھ مت کے تعلق کے تناظر میں تہرانیان نے "تصوف کو دونوں مذاہبی روایتوں کے درمیان پل" قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ "اسلام میں، تصوف" شریعت" یعنی قانون کے اظہار پر بہت زیادہ زور دینے کے خلاف ایک رد عمل ہے جبکہ "طریقت" میں قانون کی روح کو پیش نظر رکھا جا تا ہے"۔ یہاں بہت زیادہ احتیاط درکار ہے۔ ممکن ہے کہ آج بہت سے اسلامی ممالک میں صوفیاء کے کئی مکاتبِ فکر موجود ہوں مگر تمام اسلامی ممالک کا اعلامیہ قاہرہ پر دستخط کرنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ کسی بھی عالمگیر تہذیب یا عالمی ذمہ داری کے لیے اخلاقی بنیاد واضع کرتے وقت شریعت کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔ لہذا اس طرح کی اخلاقیات کی تشکیل کرتے وقت مزید مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب اور سیکولر نظاموں میں موجود مشترک اخلاقی اقدار کا تفصیلی تعین و تجزیہ کیا جائے۔

جہاں تک تہرانیان کے اس نظریے کا تعلق ہے کہ بدھ مت اور اسلام کے ایک دوسرے کے بارے میں مزید جاننے کے حوالے سے تصوف اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تو میرا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ یہ درست ہو لیکن یہ کردار بہت محدود ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ دونوں مذاہب میں مشترک اقدار کی تلاش میں علم باطن پر زور دینا مددگار ہو سکتا ہے۔ تصوف "علم باطن" کی ایک فنی اصطلاح ہے جو بنیادی طور پر خدا مرکز نظام عقاید میں خدا کے ساتھ کسی طرح کے باطنی وصال تک پہنچنے کی غرض سے موجود طریقوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایسی اصطلاحات بدھ مت سے غیر متلعق ہیں۔ یہاں زیادہ اہمیت روحانی گرو، مراقبے کے طریقوں، مثلا جو محبت کی ترقی کے لیے ہوں ، سانس کی مشقوں، "منتر" کا جاپ یا " ذکر" اور خیال جمانے، مراقبہ قائم کرنے وغیرہ کو دی جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ اس طرح کے موضوعات بدھ مت اور اسلام دونوں مذاہب کے چند افراد کے لیے ہی دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں جبکہ ان دونوں مذاہب کے عام پیروکاروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ لہذا آن لائن اور کتابی صورت میں مستند معلومات کی فراہمی اور اسلام اور بدھ مت کے تقابلی مطالعے کے علاوہ ان دونوں مذاہب و دیگر مذاہب کے رہنماؤں کی طرف سے منعقد کی جانے والی بین المذاہب سرگرمیوں کی میڈیا میں بھرپور تشہیر شاید مذہبی ہم آہنگی، عالمگیر تہذیب اور عالمی ذمہ داری کے قیام میں زیادہ گہرے اور مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔