ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور اسلام > کیا بدھ مت اور اسلام کے درمیان کوئی قدرِ مشترک ہے؟

کیا بدھ مت اور اسلام کے درمیان کوئی قدرِ مشترک ہے؟

الیکزانڈر برزن، برلن، جرمنی، جنوری ۲۰۱۱ء

نظریاتی نقطہِ نظر

کسی بھی دو مختلف مذہبی یا فلسفیانہ نظاموں کے درمیان قدرِ مشترک تلاش کرنے میں بہت سی مشکلات اور خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ اہم ترین مشکلات میں سے ایک یہ ہوتی ہے کہ تقابلِ ادیان کے علمی میدان میں سے کونسا نظریاتی نقطہ نظر اختیار کیا جائے۔ یہاں پر میں مسیحی الہیات کے تقابلی مطالعہ میں نقطہ ہائے نظر کی درجہ بندی کے لیے استمعال ہونے والی ایک ترتیب کا ذکر کروں گا جسے 'کرسٹن بیس کِبلنگر' نے ایک مقالہ " بدھ مت کے غیروں کی جانب مؤقف: اقسام، مثالیں، ملاحظات" میں وضع کیا اور جو " دوسرے ادیان کی طرف بودھی رویہ" میں شایع ہوا۔

اس مقالہ میں کِبلنگر نے تین نقطہ ہائے نظر کے خاکہ پیش کیے ہیں: قطعیت، شمولیت اور کثرتِ وجود۔

  • قطعی نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ صرف ایک مذہب نجات حاصل کرنے کا سچا راستہ بتاتا ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ دوسرے مذاہب بھی مشترکہ موضوعات پر بات کرتے ہوں، تاہم اُن کا مؤقف غلط ہے۔ کئی بودھی متون کا نہ صرف غیر بودھی خیالات کے بارہ میں بلکہ دوسرے بودھی خیالات کے بارہ میں بھی یہی مؤقف ہے ۔
  • شمولیت کے نقطہ نظر کے مطابق نجات یا مُکتی حاصل کرنے کے کئی طریقہ ہیں لیکن ان میں سے ایک بہتر ہے۔ بالفاظِ دیگر، اگرچہ دوسرے مذاہب اور ہمارے درمیان مشترکہ اقدار موجود ہیں اور وہ سب درست ہیں تاہم، ہمارا طریقہ ان سے بہتر ہے۔ کئی تبتی روایات کے کچھ پیرو دوسری تبتی روایات کے بارہ میں یہ رویہ رکھتے ہیں یعنی سب روایات روشن ضمیری کی طرف لے جاتی ہیں لیکن ہماری روایت بہترین ہے۔
  • کثرتِ وجود کے نقطہِ نظر کے مطابق نجات کی کئی راہیں ہیں اور ان میں سے کوئی دوسرے سے بہتر نہیں۔ یہ ایک غیر فرقہ وارانہ نظریہ ہے جو محض مشترکہ موضوعات پر مختلف مذاہب کے نظریات پیش کرتا ہے، بہتر یا بدتر کی تفریق کے بغیر۔

شمولیت اور کثرت وجود کے نظریات میں بھی حقیقی اختلافات کو قبول کرنے اور ان کی گہرائی جانچنے کی مختلف اقسام ہیں:

  • پہلی قسم مشترکہ چیزوں پر زور دیتی ہے اور اگرچہ اختلافات کا اقرار کرتی ہے لیکن ان کو مشابہات یا برابری یا غیر اہم ذیلی موضوعات کہہ کر ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کو بھی وہی کرتے دیکھتی ہے جو ہم خود کرتے ہیں یعنی ایک طرح سے دوسرے بھی اس بات کا احساس کیے بغیر ہمارے ہی مذہب کے پیرو ہیں۔ مثلاً گیلوگ روایت نیئنگما دزوگ چن روایات کی شرح، گیلوگ انوتریوگا اصول کے تحت کرتی ہے۔
  • دوسری قسم حقیقی اختلافات کا اعتراف کرتی ہے اور مکالمہ کو ترقی کے لیے بطور ایک کارآمد آلہ کے دیکھتی ہے، چاہے وہ اپنے مذہب کو بہتر سمجھتی ہو یا نہ۔

پہلے قسم (وہ وہی کر رہے ہیں جو ہم کرتے ہیں، لیکن ایک دوسرے طریقہ سے) میں خطرہ یہ ہے کہ یہ غرور، تکبر اور خودپسندی کا شکار ہو سکتی ہے کیونکہ یہ فرض کر لیتی ہے کہ آپ دوسروں کے مذہب کو ان سے بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کی وہ شمولی قسم جو یہ سمجھتی ہے کہ ہمارا مذہب بہتر ہے، اس خیال کا شکار ہو سکتی ہے کہ دوسرے مذاہب جانے بغیر ہمارے ہی مقصد کی جستجو کر رہے ہیں ۔ یا پھر اس خیال کا، کہ دوسرے مذاہب ہمارے ہی راستے کا ایک نچلا درجہ ہیں۔ اس رویہ کا نتیجہ یہ ذہنیت ہے کہ ہم ان سے کچھ نہیں سیکھ سکتے لیکن وہ ہم سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس قسم کی ذیلی شاخیں یہ ہیں:

  • سب، یا اکثر مذاہب ایک ہی مقصد کی جانب گامزن ہیں، اور اگرچہ ان کا راستہ ہمارے جتنا اچھا نہیں ہے لیکن بالآخر وہ انہیں اسی منزل پر پہنچائے گا جہاں ہمارا راستہ پہنچاتا ہے۔
  • دوسروں کو بالآخر ہمارے راستہ کا راہ دکھانا پڑے گا تاکہ وہ ہمارے راستہ سے اس مشترکہ مقصد تک پہنچ جائیں جس کے وہ خواہشمند ہیں، لیکن جس تک وہ اپنے راستہ سے نہیں پہنچ سکتے۔ بدھ مت میں اس کی مثال انوتریوگا تنتر دعوی ہے کہ سوتروں یا ذیلی تنتروں سے لوگ بھومی ذہن کی دسویں سطح (دسویں بھومی) تک پہنچ سکتے ہیں تاہم روشن ضمیری حاصل کرنے کے لیے انوتریوگا طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پہلی قسم کے شمولیت کے نقطہ نظر (جو اختلافات کو نظر انداز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ در حقیقت مشابہات ہیں) کی اور اقسام یہ کہتی ہیں:

  • الفاظ، خیالات اور نظریات مراقباتی تجربہ کے ناقص اظہار ہیں اور تمام مذاہب ایک ہی تجربہ کا ذکر کرتے ہیں۔
  • تمام مذاہب کا ایک 'مشترکہ مغز نظریہ' ہے یا ان کے بنیادی دعوے مشترک ہیں اور اختلافات کا سبب ثقافتی اور تاریخی وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر مختلف ممالک میں بدھ مت کی مختلف اقسام ہیں، جیسا کہ ھندوستان، جنوب مشرقی ایشیا، چین، جاپان، اور تبت وغیرہ میں۔

مزید از آن جب ہم اسلام اور بدھ مت کے درمیان قدرِ مشترک کی بات کرتے ہیں تو مذہب کی تبدیلی کا موضوع بھی پیش آتا ہے۔

  • ایک قطعی نقطہِ نظر سے: اگر صرف ہمارا مذہب سچا ہے اور آپ نجات چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنا مذہب چھوڑ کر ہمارا اختیار کرنا پڑے گا۔
  • ایک شمولی نقطہِ نظر سے: آپ اپنے مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مذہب کی ہی ایک نچلی قسم ہے اور بالآخر آپ یا تو قدرتی طور پر ہماری راہ پر آ جائیں گے ('چت مترن' جو انوتریوگا تنتر کی مشق کریں گے، قدرتی طور پر پر'سانگک' بن جائیں گے جب وہ کامل مرحلہ وار مشق کے ذہنی تنہائی کے مرحلہ پر پہنچیں گے) اور یا پھر، ہمیں آخر کار آپ کا مذہب تبدیل کرنا پڑے گا۔
  • ایک کثرتِ وجود کے نقطہِ نظر سے: ہر مذہب اپنے مخصوص حتمی مقصد کی نشان دہی کرتا ہے اور وہ سب (مقاصد) قابلِ تعریف ہیں۔ اس کی مزید دو اقسام ہیں: ایک یہ کہ سب مذاہب کے مقاصد برابر ہیں اور دوسری یہ کہ وہ برابر نہیں لیکن ان میں سے کوئی دوسرے سے بہتر بھی نہیں لہذا مذہب تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی اگر آپ بدھ مت کے پیروکار ہیں تو آپ بودھی بہشت میں جائیں گے مسلمان جنت میں نہیں اور اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کے لیے اسلام کی جنت ہے نہ کہ بدھ مت کی بہشت۔

جہاں تک دوسری قسم کے شمولیت کے نقطہ نظر اور کثرت وجود کی اس قسم کا تعلق ہے جوسب مذاہب کو درست جانتے ہوئے ان میں اختلافات کی عزت کرتی ہے، چاہے وہ اپنے آپ کو بہتر سمجھتی ہو یا نہ، تو ان کے لیے نازک مسئلہ یہ ہے کہ ایک دوسرے مذہب کو کیسے سمجھا جائے اور اس کا اپنے مذہب سے کیسے موازنہ کیا جائے۔

  • کیا آپ کسی دوسرے مذہب کو محض اس کی اپنی اصطلاحات میں جان سکتے ہیں یا کیا اس کو قابلِ فہم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اُس کے دعووں کو اپنے نظامِ اعتقاد کی اصطلاحات میں ڈھالیں۔
  • آخر الذکر صورت میں (ان دعووں کو اپنی اصطلاحات میں بیان کرنا) کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں اس کو پہلے قسم کا نظریہ بنائے بغیر جہاں آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دوسروں کے اعتقادات آپ کے اپنے اعتقادات کی ہی ایک قسم ہیں۔

دوسری جانب، اگر آپ دو مذاہب مثلاً بدھ مت اور اسلام کے درمیان مشترکہ مسائل اور موضوعات پاتے ہیں اور تو اگرچہ آپ کو ان موضوعات کو اپنے اعتقاد کے تصوراتی نظام کے مطابق بیان کرنا پڑتا ہے تب بھی آپ ان میں اختلافات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی قدر کر سکتے ہیں۔ آپ ان کی قدر کر سکتے ہیں دوسرے مذاہب کی جانب ایک متحمل، روادار رویہ کے ساتھ اور ایک غیر سرپرستانہ مؤقف رکھتے ہوئے اور یہ دعوی کیے بغیر کہ آپ کا مذہب ہی سب سے بہترین ہے۔ اسی طرح کے باہمی فہم اور قدر و عزت سے ہی آپ مذہبی ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔

عزتِ مآب دلائی لامہ بھی یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ "بہترین مذہب کون سا ہے" تو انہوں نے جواب دیا "عقائد اور اعمال کا وہ مجموعہ جو آپ کو ایک زیادہ مہربان اور زیادہ درد مند انسان بناتا ہے"۔

تاریخی تناظر

بدھ مت کی جانب تاریخی طور پر مسلمان رویہ

اب ہم خاص طور پر بدھ مت اور اسلام کی طرف نگاہ کرتے ہیں۔ اسلام کے بارہ میں، میں نے اپنی ذاتی تحقیقات کے علاوہ رضا شاہ کاظمی کی کتاب "اسلام اور بدھ مت کے درمیان قدرِ مشترک"، جس کے پیش لفظ عزت مآب دلائی لامہ اور اردن کے شہزادہ غازی بن محمد نے لکھے ہیں، سے بھی استفادہ کیا ہے۔ خاص طور پر قران سے مطلقہ اقتباسات میں نے ڈاکٹر کاظمی کی کتاب سے لیے ہیں۔

تاریخی طور پر مسلمان اور بدھ مت کے پیروکاروں (اور یہاں پر ہماری مراد ہند تبتی بدھ مت ہے) دونوں نے شمولیت کے نقطہِ نظر کو اپنایا ہے۔ مثلاً مسلمانوں نے یہودیوں، مسیحیوں اور زرتشتیوں کی طرح بدھ مت کے پیرووں کو بھی اہلِ کتاب میں گردانا۔ یہ کیسے واقع ہوا؟

خلافتِ بنو امیہ (۶۶۱ء تا ۷۵۰ء) کے دور میں عربوں نے اپنی حکومت اور اپنے مذہب اسلام کو سارے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلا دیا۔ پس آٹھویں صدی کی ابتدا میں عرب جرنیل محمد بن قاسم نے آج کے جنوبی پاکستان میں واقع بودھی اکثریت کے علاقہ سندھ کو فتح کیا۔ وہاں کے ایک بڑے شہر برہمن آباد کے ہندووں اور بدھ مت کے پیرووں نے درخواست کی کہ ان کی مذہبی آزادی برقرار رکھی جائے اور انہیں اپنے مندروں کی تعمیرِ نو کی اجازت دی جائے۔ محمد بن قاسم نے گورنر حجاج بن یوسف سے مشورہ کیا جس نے مسلمان علما سے پوچھا۔ مسلمان علما نے فیصلہ میں، جسے بعد میں "برہمن آباد بندوبست" کہا گیا، بدھ مت کے پیروکاروں (اور ہندووں) کو اہلِ کتاب قرار دے دیا۔

اموی گورنر حجاج بن یوسف نے حکم جاری کیا "بودھی اور دوسرے مندر تعمیر کرنے اور مذہبی امور میں رواداری کے لیے برہمن آباد کے سرداروں کی درخواست منصفانہ اور معقول ہے۔ میں نہیں جانتا کہ سوائے ٹکس وصول کرنے کے ہمارے اُن کے اوپر اور کیا حقوق ہیں۔ انہوں نے ہماری اطاعت قبول کر لی ہے اور خلیفہ کو جزیہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کیونکہ وہ اب ذمّی بن گئے ہیں اس لیے ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم ان کی جان و مال میں مداخلت کریں۔ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی کریں اور اس امر سے انہیں کوئی منع نہ کرے"۔

بعد از آن بدھ مت کے پیرووں کو اپنے معبد اور خانقاہیں دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت مل گئی اور ساتھ ہی انہیں، جزیہ ادا کرنے کی شرط پر، ذمی (یعنی غیر مسلم محفوظ اشخاص) کا رتبہ مل گیا ۔ اموی خلفاء اور اس کے بعد بغداد سے حکومت کرنے والے عباسی خلفاء (۷۵۰ء تا ۱۲۵۸ء) اور ان کے بعد کے ھندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے اصولی طور پر یہی پالیسی اپنائی رکھی۔ اگرچہ سب ہی حکمرانوں اور جرنیلوں نے ہمیشہ اس پر عمل نہیں کیا۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بدھ مت کو مشرکانہ مزاہب میں نہیں گردانا گیا جن کے پیرووں کو مندرجہ بالا استحقاق حاصل نہیں تھے۔

اب یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں کو یہ قانونی حیثیت دینا ایک سیاسی فعل تھا نہ کہ دینی، اور اس کا باعث مصلحت اندیشی تھی نہ کہ کوئی فلسفیانہ تجزیہ۔ اور یہ غالباً درست بھی ہو۔ بودھی اور ہندو مندروں کی تعمیرِ نو کے بعد عرب گورنروں نے وہاں آنے والے زائرین پر ٹکس عاید کر دیا تھا۔ تاہم مسلمان علما نے نہ تو اس زمانہ میں اور نہ ہی اب اس "مصلحت آمیز" پالیسی کو بنیادی اسلامی عقائد کے خلاف سمجھا۔ بدھ مت کے پیروکاروں کو قانونی حیثیت، سیاسی حمایت اور مذہبی رواداری کے سلوک کا ملنا اس امر پر دلالت کرتا تھا کہ بدھ مت کی روحانی راہ اور اخلاقی قواعد ایک بالاتر قدرت یعنی خدا کی مستند وحی سے حاصل شدہ تھے۔

بدھ مت کے پیروکاروں کو اہلِ کتاب کا رتبہ دینے کی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ محض ایک مشترکہ عبادت کی روایت کی بنا پر تھا؟ مثلاً آٹھویں صدی عیسوی میں فارسی تاریخ دان الکرمانی نے بلخ، افغانستان میں واقع نووہار خانقاہ کے مفصل حالات لکھے اور کچھ بودھی روایات کو اسلام میں ان کی مشابہ اصطلاحات میں بیان کیا۔ اس نے مرکزی معبد کا ذکر کیا جس کے درمیان میں ایک چادر پوش پھتر کا مکعب تھا جس کے گرد معتقدین طواف اور سجدے کرتے تھے جیسا کہ مکہ میں کیا جاتا ہے۔ تاہم اس نے بودھی اعتقادات کی کوئی تفصیل نہیں لکھی۔

پس کیا بدھ مت کے پیروکاروں کو اہلِ کتاب قرار دینے کی کوئی اعتقادی بنیاد بھی تھی؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ انہیں اہلِ کتاب قرار دینے کا ضمنی مطلب یہ تھا کہ وہ "نجات یافتہ" گروہوں میں شمار ہوتے تھے قران مجید کی مندرجہ ذیل آیت کے مطابق (سورۃ بقرہ، آیت ۶۲) " جو کوئی مسلمان اور یہودی اور نصرانی اورصابئی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں موجود ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے"۔

یہ قران کے مطابق اسلام اور بدھ مت کے درمیان قدرِ مشترک کی نشاندہی کرتا ہے، یعنی خدا اور قیامت کے روز پر ایمان اور اچھے اور نیک کام کرنا۔ پس اگرچہ نظریات مختلف ہیں لیکن وہ اسلام کی نظر میں اتنے قریب ہیں کہ وہ موافق ہیں۔ جیسا کہ قران میں آیا ہے (سورۃ بقرہ، آیت ۱۳۷) " پس اگر وہ بھی ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پا گئے"۔ پس یہ واضح طور پر شمولیت کا نظریہ ہے۔ بدھ مت کے پیرو بھی اسلام میں سکھائی ہوئی نجات پائیں گے کیونکہ وہ مشابہ نظریات کی پیروی کرتے ہیں۔

سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ 'خدا'، 'روزِ جزا'، 'حق کی وحدانیت' وغیرہ کے مفہوم میں شمولیت کی حدود کیا ہیں؟ مسلمان اور بودھی علما، دونوں میں سے کچھ نے ان نظریات کی تعریف کو بہت سخت اور محدود کہا ہے لیکن کچھ اور نے ان کے تعریف خاصی لچکدار بھی رکھی ہے۔

بدھ مت کا تاریخی طور پر اسلام کی جانب رویہ

اس سے قبل کہ ہم ان نظریات کی حدود تلاش کریں، آئیے، پہلے بدھ مت کے اسلام کی جانب تاریخی رویہ کو دیکھتے ہیں۔ واحد بودھی متنی روایت جو کہ اسلامی روایات اور اعتقادات کا ذکر کرتی ہے، سنسکرت کی "کالچکر تنتر" تحریریں ہیں جو کہ دسویں صدی عیسوی کے اختتام اور گیارہویں کے شروع میں اغلباً جنوب مشرقی افغانستان اور شمالی پاکستان میں ظاہر ہوئیں۔ در این اوقات، اس علاقہ کے بدھ مت کے پیرو مرکزی پاکستان میں واقع ملتان کے حکمرانوں سے ممکنہ حملہ کا خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ ملتان کے حکمران اسلام کے ایک فرقہ، مشرقی شیعہ اسماعیلیت کے پیرو تھے۔ ملتان، مصر کے فاطمی خلفاء کے ہمراہ، مسلمان دنیا پر غلبہ کے لیے عباسی عربوں کا رقیب تھا۔ جنوب مشرقی افغانستان اور شمالی پاکستان کے ہندو اور بدھ مت کے پیرو، اس رقابت کے بیچ میں پھنسے ہوئی تھے۔

کالچکر تحریریں ممکنہ حملہ آوروں کے کچھ عقائد اور رسومات کا ذکر کرتی ہیں۔ کچھ اعتقادات جو ان میں بیان ہوئے ہیں محض اس زمانہ کی اسماعیلی فکر سے متعلق ہیں مثلاً پیغمبروں کی فہرست، جب کہ کچھ اس کے خلاف ہیں جیسا کہ اس فہرست میں مانی (مانویت کے بانی) کی شمولیت۔ تاہم ان میں بیان کردہ اکثر چیزیں، بشکلِ عام، اسلام کے بنیادی اعتقادات ہیں۔ ان میں سے کچھ اخلاقیات کے متعلق ہیں جن میں بدھ مت کے اخلاقی نظم و ضبط کی ایک جھلک ملتی ہے اگرچہ تحریروں میں اس شباہت کے بارہ میں کوئی ذکر نہیں۔ تاہم ان نکات کو دونوں مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار گردانا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، "شاندار کالچکر تنتر کے مزید تنتر کا اصل" میں (مسلمانوں کے بارہ میں) آیا ہے "اُن کی ایک ہی ذات ہے، وہ چوری نہیں کرتے اور سچ بولتے ہیں۔ وہ پاک صاف رہتے ہیں، دوسروں کی بیویوں سے احتراز کرتے ہیں، مسلّم زاہدانہ طریقوں پر عمل کرتے ہیں اور اپنی بیویوں کے وفادار رہتے ہیں"۔

اور کچھ جگہوں پر ہم زیادہ شمولیت کا نقطہِ نظر پاتے ہیں جہاں کالچکر تحریریں حملہ آوروں کے اعتقادات کا بودھی اصطلاحات میں ذکر کرتی ہیں۔ مثلاً "مختصر راجائی کالچکر تنتر" (باب ۲، شعر ۱۶۴) میں آیا ہے کہ " خالق کی پیدا کردہ ہے ہر تخلیق شدہ چیز، ساکت اور متحرک۔ اسے خوش کرنے سے، طائیوں کے لیے نجات کا باعث، جنت ہے۔ اور یقیناً یہ رحمان کی تعلیمات ہیں انسانوں کے لیے۔" طائی کی اصطلاح جو کالچکر تحریریں حملہ آوروں کے لیے استمعال کرتی ہیں، ایران میں عرب حملہ آوروں کے لیے عربی اصطلاح تھی۔ "رحمان" یعنی بہت مہربان اللہ کا ایک نام ہے۔

پنڈاریکا "بے داغ روشنی 'مختصر راجائی کالچکر تنتر' کی وضاحتی شرح" میں اس کی تشریح کچھ یوں کرتا ہے: "سو، طائی حملہ آوروں کا کہنا ہے کہ رحمن خالق نے ہر برسرعمل شے کو پیدا کیا، چاہے وہ متحرک ہو يا ساکت ہو۔ سفید پوش حملہ آوروں یعنی طائی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ نجات اس سے ملتی ہے کہ رحمن ان سے خوش ہو جائے اور اس سے ان کو یقینی طور پر (جنت میں) ایک اونچا نیا جنم ملے گا۔ اسے ناراض کرنے سے جہنم میں (دوبارہ جنم لے کر) جانا ہو گا۔ یہ ہیں رحمن کی تعلیمات ، طائیوں کے دعوے۔"

پنڈاریکا اس کی مزید تفصیل یوں بتاتا ہے: "طائی حملہ آوروں کا کہنا یہ ہے کہ جو لوگ مر جاتے ہیں ان کو رحمان کے فیصلے کے مطابق ایک بالا تر جنم میں (جنت میں) یا جہنم میں اپنے انسانی جسم کے ساتھ خوشی یا عذاب ملے گا"

یہاں پر اپنے اخلاقی رویہ کی بنیاد پر جنت یا جہنم میں دوبارہ جنم لینا، بدھ مت اور بدھ مت کے اسلام کے فہم میں مشترکہ قدر ہے ۔ ان تحریروں میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ ایک خالق کے وجود کے بارہ میں دعوی پر کوئی تبصرہ نہیں کرتیں اور نہ ہی آخرت کی زندگی کے تعین کا انحصاراس کی رضامندی پر ہونے کے بارہ میں۔ اور اس آخری نکتہ پر، ضمناً، بدھ مت کا بیان ناانصافی پر مبنی ہے۔ ایک حدیثِ قدسی کے مطابق اللہ تعالی کہتا ہے "اے میرے بندو، یہ تمہارے اعمال ہیں جو میں شمار کرتا ہوں اور جن کی میں تمہیں جزا دیتا ہوں"۔

بہر حال، بالعموم کالچکر تحریریں محض اُخروی زندگی کی نوعیت اور اِس دنیا میں ایک شخص کے اعمال کا ان پر اثر، پر مرتکز ہیں۔ اس مضمون کو اس طرح بیان کرنے سے یہ متون حملہ آوروں کے ایک دائمی دوسرے جنم کے دعوی کے غلطی، جو کہ بدھ مت میں زیادہ صحیع بیان ہوا ہے، کے ذکر میں ایک شمولیت کے نقطہِ نظر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ "مختصر راجائی کالچکر تنتر" (باب۲، شعر ۱۷۴) میں آیا ہے "ہمیشہ رہنے والی آخرت کی زندگی سے ہی فرد کو اپنے ان تجربات کے نتیجے کا سامنا ہوتا ہے جو اس دنیا میں اپنے پہلے کے کیے ہوئے کرموں کا پھل ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو ایک جنم سے دوسرے جنم میں جاتے ہوئے انسانی کرموں کا بوجھ اترنے کا امکان نہ رہے گا۔ اس طرح سمسار سے اخراج نہ ہو سکے گا اور مُکش میں قدم دھرنے کی نوبت نہ آئے گی خواہ اس کو ہستئ لامحدود کے معنی ہی میں کیوں نہ لیا جائے۔ یہ خیال طائیوں میں بلاشبہ پایا جاتا ہے گو دوسرے فرقے اسے رد کرتے ہیں۔"

اگر ہم ابدی جہنم کے بارہ میں اس نکتہ کو وسیع تر بودھی سیاق و سباق میں دیکھیں تو بدھ مت اور اسلام کے درمیان مشترکہ اقدار بھی وسیع تر ہو جاتی ہیں۔ اور اگر ہم دوبارہ جنم اور نجات کے بارہ میں مسلمان نظریہ کو اس بارہ میں بودھی نظریہ کی سمت میں ایک قدم کے طور پر دیکھیں تو اُن کی وسعت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک بودھی سیاق و سباق میں پھر آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام محض ابتلا کے عذاب سے نجات کی، یا بدتر پنر جنم حالتوں سے نجات کی بات کر رہا ہے۔ یہ نجات جنت میں ایک اعلی تر دوسرا جنم ہے۔ آخرکار، راہ کی 'لم- رِم' مرتب درجہ بندی میں ابتدائی حوصلہ افزائی کی یہی گنجائش ہے۔ بدھ مت اس سے آگے، ہمہ جانب سرایت شدہ سمسار کے عذاب سے نجات کی بات کرتا ہے جو کہ وسطی حوصلہ افزائی کی گنجائش ہے۔ اور سمسار میں جنم در جنم سلسہ ابدی ہے سوائے اس کہ آپ اس بارہ میں کچھ کریں، یعنی دھرم کی طرف رُخ کریں۔

انیسویں صدی کے نیئنگما استاد میپام نے "واجر سورج کی تابانی، عظیم کالچکر تنتر کی عبارت کے مطلب کی وضاحت، باب پنجم کی شرح، گہری آگہی" میں کالچکر تحریروں سے بھی زیادہ شمولیت کے نقطہِ نظر کی پیروی کی ہے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مہاتما بدھ نے نہایت مہارت سے وہ طریقے سکھائے جن سے مسلمانوں کو مُکش حاصل سکتی ہے۔ اس نے لکھا "غیر ہندی حملہ آوروں کے دو (فلسفیانہ نکات) ہیں جس کے وہ قائل ہیں۔ وہ دنیا کی خارجی چیزوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ ایٹموں کے مجموعے سے بنتی ہیں اور ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ ہر فرد جو عارضی جنم لیتا ہے یا جس کا کوئی ایک پہلو سمسار میں جنم لیتا ہے اس کی روح کا مقصد ہے خداؤں کی خوشنودی حاصل کرنا۔ اس کے سوا وہ کسی اور طرح کے نروان کا دعوی نہیں رکھتے۔"

میپام پھر یہ بھی کہتا ہے کہ مادہ کی ایٹمی نوعیت کے بارہ میں حملہ آوروں کے دعوے بدھ مت کے اعتقادات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ ہینیان بدھ مت کے وائبھاشک اور ساؤتراتک فلسفیانہ مکاتب فکر کا دعوی ہے کہ ایٹم ناقابل تقسیم اور بغیر اجزاء کے ہے جبکہ مہایان بدھ مت کے چت متر اور مدھیامک مکاتب فکر ایسے ایٹموں کے قائل ہیں جن کی تقسیم در تقسیم کی کوئی حد نہیں ہے۔

روح یا نفس کے بارہ میں میپام لکھتا ہے "مہاتما بدھ ان کے رجحانات اور خیالات جانتے تھے سو انہوں نے ان سوتروں کی تعلیم کی جو وہ (طائی) بھی قبول کر سکیں۔ مثال کے طور پر 'ذمہ داری اٹھانے کے سوتر' میں مہاتما بدھ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنے کیے کے ذمہ دار ہوں واقعی موجود ہیں لیکن انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے پتا چلے کہ آدمی کی روح فانی ہے یا لا فانی ۔ بظاہر تو یہ باتیں طائی عقائد کے مطابق ہیں۔ مہاتما بدھ کی مراد ان لفظوں سے یہ ہے کہ انسان ایک ایسی ذات کا تسلسل ہے جو اپنے کرموں کی ذمہ دار ہے اور اس ذمہ داری کا اطلاق محض اس تسلسل پر لاگو ہوتا ہے جو اپنی ماہیت میں نہ تو دائمی ہے نہ مٹ جانے والی ہے"۔

ایک خواب کے دوران جو محض ذہن کی عادتوں کی بنا پر ابھرتا ہے، اس کا مجسم انسان جو خوشی یا غم محسوس کرتا ہے وہ معدوم ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ محض ایک منظر ہے، لہذا اس صورت میں (اس خواب کی) ناپائداری ایک ناپائدار چیز کی ماہیت بھی نہیں رکھتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک فرد کی ماہیت کے بغیر ہے۔ معائنہ ہونے پر یہ (برملا) صرف ایک چیز ہے جس پر دائمی یا غیر دائمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا، اور یہی سکھایا گیا ہے۔ "اس طرح گزشتہ" (مہاتما بدھ) کی اس تعلیم سے حملہ آوروں نے اپنا دھرم چھوڑ دیا اور (وہ) بودھی نظام کو پکڑے ہوئے وائبھاشک بن گئے"۔

یہاں شمولیت کا نقطہِ نظر یہ ہے کہ مہاتما بدھ نے وہ تعلیمات دیں جو حملہ آوروں کے دعووں سے مطابقت رکھتی تھیں اور اس ماہرانہ طریقہ سے وہ حملہ آوروں کو مُکش کی جانب لے گئے۔ مسلمان اس کو توہین آمیز پائیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ مذہبی ہم آہنگی کی طرف نہیں لے جائے گا۔

بدھ مت کے پیروکاروں کو اہلِ کتاب قرار دینے کی بنیاد پر قدرِ مشترک

اب ہم مزید مشترک اقدار کے معائنہ کے لیے، اسلام کے بدھ مت کے پیروکاروں کو اہلِ کتاب قرار دینے کے نتائج کی جانب آتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، اس دعوی سے مشترک اقدار یہ نکلتی ہیں کہ بدھ مت ایک بالاتر قدرت یعنی خدا کی جانب سے نازل کردہ مذہب ہے۔ اس سے خدا کے بطور اس وحی کے نازل کرنے والے اور کسی انسان کے اس وحی کے قبول کرنے اور دنیا میں پھیلانے کے بارہ میں لازمی سوال درپیش ہوتے ہیں۔

مسلمان اور بدھ مت کے پیرو، دونوں، اس وحی یا الہام کے سوال پر ایک شمولیت کا نقطہِ نظر رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کالچکر تفسیر "بے داغ روشنی" کہتی ہے"حملہ آوروں کے بارہ میں، محمد، رحمن کے ایک اوتار تھے۔ ملیچھ تعلیمات کے نمائندہ، وہ طائی حملہ آوروں کے گرو اور آقا تھے"۔ ہندو مت میں اوتار کسی دیوتا کی روح کے کسی اور صورت میں تجسیم کو کہتے ہیں۔ پس محمد صلى الله عليه وسلم کو رحمن کا اوتار کہنا کرشنا کا وشنو دیوتا کا اوتار ہونے کے ہندو دعوی کے متوازی ہے۔ بودھی اصطلاحات میں یہ تشبیہ محمد صلى الله عليه وسلم کو خدا کی نرمانکایا تجلی کہنے کے مترادف ہو گی۔

دوسری جانب، کیا مہاتما بدھ کو واقعی خدا کا نبی یا پیغمبر گردانا جا سکتا ہے؟ ، ایرانی مؤرخ البیرونی، محمود غزنوی کے ابتدائی گیارہویں صدی عیسوی میں ھندوستان پر حملہ میں اس کے ہمراہ تھا۔ اس نے ھندوستان میں جو کچھ سیکھا اس پر مبنی ایک کتاب 'کتاب الہند' تحریر کی۔ اس میں اُس نے بنیادی بودھی روایات اور اعتقادات کی تفصیل بتائی اور کہا کہ ھندوستانی مہاتما بدھ کو ایک پیغمبر مانتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ البیرونی مسلمانوں کو کہ رہا تھا کہ وہ مہاتما بدھ کو خدا کا پیغمبر تسلیم کر لیں۔ تاہم قران (سورۃ النساء، آیت: ۱۶۳ ۱۶۴) میں آیا ہے "ہم نے تیری طرف وحی بھیجی جیسی نوح پر وحی بھیجی اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد آئے اور ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسی اور ایوب اوریونس اور ھارون اور سلیمان پر وحی بھیجی اور ہم نے داؤد کو زبور دی۔ اور ایسے رسول بھیجے جن کا حال اس سے پہلے ہم تمہیں سنا چکیں ہیں اور ایسے رسول جن کا ہم نے تم سے بیان نہیں کیا"۔ پس مہاتما بدھ کا شمار ان انبیاء میں کیا جا سکتا ہے جن کا صریحاً ذکر نہیں ہوا۔

'ایک بدھ کے بارہ منور اعمال' کے بیان کے مطابق، ایک بدھ مختلف اوقات میں آتا ہے جب مخلوق اس کی آمد کے لیے تیار ہوتی ہے اور وہ ہر عہد میں دھرم مختلف طرح سکھاتا ہے اُس زمانہ کی مخلوق کی مناسبت سے۔ اگرچہ اس دورِ زمان میں ایک ہزار نرمانکایا بدھ موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک کے درمیان بیشمار دورِ زمان ہیں، کئی ایک نرمانکایا عالی بشر بھی بیچ میں آتے ہیں۔ نرمانکایوں کے ان دونوں گروہوں کو 'دھرم کے پیغمبر' کہا جا سکتا ہے۔ مزید از آن، ہر بدھ مختلف لوگوں کو دھرم مختلف ماہرانہ طریقوں سے سکھاتا ہے۔ کچھ کو مہاتما بدھ نے یہ بھی سکھایا کہ نفس کا وجود ہے۔ اسلام کی بھی ماہرانہ تربیت کی اپنی قسم ہے۔ قران (سورۃ ابراہیم، آیت ۴) میں آیا ہے " اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے"۔

تاہم یہاں پر ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اسلام مہاتما بدھ کو خدا کا پیغمبر تسلیم کر سکتا ہے لیکن نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی اور یہودی بھی اسے توہین آمیز سمجھیں گے اگر انہیں کہا جائے کہ محمد صلى الله عليه وسلم اور حضرت عیسی، حضرت ابراہیم، اور حضرت داؤد، نرمانا کایا بدھ یا خدا کے اوتار تھے۔ یہ تقابلِ ادیان میں شمولیت کے نقطہِ نظر کی ایک بڑی خامی ہے۔ بہر کیف، ہم بدھ مت کے ان دعووں کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ناگارجن نے "پرجنا پارمتا" تعلیم کو ظاہر کیا جسے منجوشری نے ناگوں کی حفاظت میں دیا جنہوں نے اسے سمندر کی تہہ میں چھپا دیا؟ یا یہ کہ اسانگ کو جب توشیتا جنت پر لے جایا گیا تو وہاں اس نے مائیتریا سے محبت، دردمندی اور بودھی چت پر 'گستردہ اقدام تعلیم' حاصل کی؟ اور ہم نیئنگما روایت میں اس 'خالص نظر' اور 'ظاہر شدہ خزانہ متن تعلیم' کو کیسے سمجھیں؟ کیا یہ بودھی دعوے پیغمبروں کے خدا سے الہام پانے کے اسلام کے دعووں سے اتنے مختلف ہیں؟

اور جہاں تک خدا کا تعلق ہے، وہ واحد ادعا جسے بدھ مت رد کرتا ہے وہ ایک قادرِ مطلق خدا کے تصور کا ہے جو کسی بھی چیز کے زیرِ اثر ہوئے بغیر تخلیق کرتا ہے، حتی کہ تخلیق کی خواہش کے بھی۔

بدھ مت خدا کی دوسری خصوصیات کی تردید نہیں کرتا اور نہ ہی تخلیق کی۔ مثلاً انوتریوگا تنتر کہتا ہے کہ ہر فرد کا روشن- صاف ذہن ان سب ظاہری چیزوں کا خالق ہے جنہیں وہ شخص محسوس کرتا ہے، اور یہ اس فرد کے ذاتی اور اجتماعی کرم کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بطور گہرے ترین سچ کے، روشن- صاف ذہن، الفاظ اور نظریات سے باہر ہے جیسا کہ اللہ ہے۔ قران مجید کہتا ہے "جو یہ بیان کرتے ہیں، اللہ اس سے بعید تر ہے"۔

تاہم، اللہ کے ننانوے نام ہیں اور یہ اس کی ذاتی خصوصیات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح سے "منجوشری کے ناموں کی ایک سنگت" میں منجوشری سے مراد روشن- صاف ذہن ہے اپنی عنصری حالت میں اور اس کالچکر تحریر کے اشعار اس کی خصوصیات بیان کرتے ہیں۔

اللہ کی طرح، روشن- صاف ذہن منجوشری بھی "اولین، اعلی ترین اور ابدی" (۵۸) ہے۔ وہ "ازلی اور ابدی" (۱۰۰) ہے۔ روشن- صاف ذہن منجوشری اللہ کی مانند "جلی ، ظاہر نہ ہونے والا اور بغیر کسی نشان کے جو اسے ظاہر کر دے" (۹۷) ہے۔ مزید از آں اللہ ایک ہے اور اسی طرح روشن- صاف ذہن منجوشری بھی "غیر دوگانہ ہے اور غیر دوگانگی کا سخنران" (۴۷)۔

اللہ کی ایک اہم خصوصیت "الحق" ہے یعنی اصل، صادق اور راستگو ایک اخلاقی معنوں میں بھی۔ پس اس کی دھرم سے "دھرم مت" یعنی گہرا ترین سچ، دھرم کایا کی گہری آگہی، کے معنوں میں نظریاتی وابستگی بھی ہے۔ روشن- صاف ذہن منجوشری "مقدس دھرم، دھرم کا مقدس حاکم۔۔۔۔۔۔۔ شاندار غیر فانی چرخِ حقیقت" (۵۵ ۵۶) ہے۔ ایک اور جگہ پر وہ "وہ ہے جو بالکل ویسا ہے، شناخت فطرت کی غیر موجودگی، حقیقی حالت،" (۴۷) اور وہ "عمیق ترین سچ کی پاکیزگی اور شان و شکوہ" (۱۵۷) ہے۔

اللہ کو ہمیشہ 'الرحمٰن" کا عنوان دیا جاتا ہے یعنی بیحد مہربان اور 'الرحیم' کا یعنی کہ بیحد رحم کرنے والا۔ مہربان کیونکہ تخلیق اس کی مہربانی ہے اور رحیم کیونکہ لوگوں کو عذاب سے نجات دینا رحم ہے۔ دزوگ چن میں، رِگپا کے معیار، خالص آگہی جو کہ ظاہریات کو تشکیل دیتا ہے، کو "دردمندی" (یعنی مہربانی) کہا جاتا ہے۔ اور منجوشری، روشن- صاف ذہن، "عظیم محبت پر مشتمل ہے، وہ عظیم دردمندی کا اولین ذہن ہے" (۳۸)، وہ " وہ وکیل ہے جو تمام محدود مخلوق کے مقاصد پورے کرتا ہے۔ بہتری کا خواہشمند، محدود مخلوق کے لیے اس کی شفقت پدرانہ ہے" (۸۸)۔

اللہ کی طرح روشن- صاف ذہن منجوشری بھی "قربانیاں چڑھانے کے قابل، تعریف کے قابل، قابلِ سجدہ، ۔۔۔۔۔۔قابلِ احترام، قابلِ ستائش اور قابلِ تحریم ہے" (۱۵۲)۔

مشترکہ بنیادی اخلاقی اصولوں کے علاوہ، اللہ کی یہ تمام خصوصیات، روشن- صاف ذہن، حق کا نزول، دردمندی وغیرہ اسلام اور بدھ مت کے درمیان مشترک اقدار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کئی اور خصوصیات کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے مثلاً اسلام میں ذکر اور بدھ مت میں منتر چاپنا، صدقہ و زکات، مطالعہ اور حق حلال کی کمائی وغیرہ پر زور۔ اگر ہم ان سب مشترکہ چیزوں کو ایک پُراحترام، کثرتِ وجود کے نقطہِ نظر سے دیکھیں، پہلے سے رائے قائم کیے بغیر، اور ایک دوسرے کی تعلیمات کو محض اپنی تعلیمات کی ایک قسم سمجھے بغیر، تو مذہبی ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے ہمارے پاس ایک مضبوط بنیاد موجود ہے۔