ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور اسلام > بدھ مت اور اسلام کے نظری معتقداتی روابط – ماضی، حال اور مستقبل

بدھ مت اور اسلام کے نظری معتقداتی روابط – ماضی، حال اور مستقبل

الیگزینڈر برزن

پہلے مفصل حاشیوں کےساتھ
Buddhist Attitudes toward Other Religions ,
ed. Perry Schmidt-Leukel. St. Ottilien: EOS Verlag, 2008,
p. 212 – 236

میں شائع ہوا

تمہید

گذشتہ ساڑھے تیرہ سو سال میں مسلمانوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کے روابط ثقافتی اور سیاسی سطح پر بھی رہے، اقتصادی لین دین بھی ہوا اور کبھی کبھار فوجیں بھی ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوئیں۔ ان تمام دائروں میں باہمی تعلق نے کئی صورتیں اختیار کیں، دوستی سے لے کر دشمنی تک۔ اس کا انحصار اس بات پر رہا کہ رابطہ کس زمانے میں کہاں ہو رہا تھا اور کون لوگ اور کیسی حکومتیں اس میں شریک تھے۔ ان علاقوں کی تاریخ پر تو خاصی توجہ دی گئی ہے جہاں یہ روابط سامنے آے تھے لیکن عقائد و تعلیمات کی سطح پر جو تبادلۂ افکار ہوا اس کا تجزیہ بہت کم کیا گیا ہے۔ اپنے مقالے میں میری سعی یہ رہے گی کہ ماضی اور حال کے باہمی تعلقات کے اس پہلو کا جائزہ لوں اور اس کی روشنی میں یہ تجزیہ کروں کہ مستقبل میں باہمی مکالمے کے لیے کیا امکانات مضمر ہیں اور یہ مکالمہ کن بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے۔ میری گفتگو کا ہدف بنیادی طور پر یہ ہو گا کہ معتقدات پر تبادلۂ خیال کرنے کے سلسلے میں بدھ مت کا نقطۂ نظر کیا ہے، خاص طور پر ہند۔ تبتی۔ منگولیائی ثقافتی خطے میں اس کی کیا صورت ہے۔

اموی اور عباسی دورِ خلافت کا تاریخی جائزہ

مسلمانوں اور بدھ مت کے  پیرو کاروں کا ایک دوسرے سے سب سے پہلا واسطہ ان علاقوں میں پڑا جو آج افغانستان، مشرقی ایران، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کہلاتے ہیں اور اس زمانے میں ہوا جب ساتویں صدی عیسوی کے نصف میں یہ خطہ عربوں کی اموی خلافت کے زیرِ نگیں آیا۔ اموی عہد کے فارسی مصنف عمر ابن الازرق الکرمانی نے مسلمان قارئین کے لیے بدھ مت کی شرح و وضاحت میں دلچسپی لی۔ اس کے نتیجے میں، آٹھویں صدی کے آغاز میں، اس نے بلخ، افغانستان میں واقع نووہار خانقاہ کا مفصل تذکرہ لکھا اور بدھ مت کی جو بنیادی رسوم و عبادات وہاں دیکھیں ان کو اسلام میں ان سے مشابہ مراسم عبودیت کے حوالے سے بیان کیا۔ چنانچہ اس کے بیان میں ایک مکعب پتھر کا ذکر ملتا ہے جو مندر کے مرکز میں رکھا ہوا تھا، اسے کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا اور زائرین اس کا طواف کرتے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ ایسے ہی جیسے مکہ مکرمہ میں کعبے کے سامنے ہوتا ہے۔

الکرمانی کی تحریریں دسویں صدی عیسوی کی تصنیف "کتاب البلدان" یعنی "ممالک کےمتعلق کتاب" میں محفوظ ہیں۔ اس کتاب کا مصنف تھا ابن الفقیہ الھمدانی۔ دوسری طرف بدھ مت کے علماء پر نظر کیجیے تو یہ لگتا ہے کہ ان حضرات نے بدھ مت کے پیروکاروں کو مسلمانوں کے عقائد اور عبادات کے بارے میں کچھ بتانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس زمانے کی دستاویزات میں ہمیں ایسی کسی چیز کا تحریری ثبوت نہیں ملتا۔

۷۱۵ء سے لے کر تقریباً ۷۲۷ء تک تبت والے اموی حکمرانوں کے فوجی حلیف تھے۔ اس دور میں خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے فرمان جاری کیا کہ بنو امیہ کے تمام حلیف اسلام کے پیرو کار ہو جائیں۔ حلیف کی حیثیت ضائع ہونے سے بچنے کے لیے تبت کی ملکہ جن چنگ نے درخواست کی کہ کسی مسلمان عالم کو تبت روانہ کیا جائے۔ خلیفہ وقت کی طرف سے الصلت بن عبداللہ الحنفی کو بھجوایا گیا۔ تاہم تبتی بدھ مت کے پیروکاروںنے غالباً اسلام سے کسی مخلصانہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ تو بین المذاہب مکالمے کا کوئی ریکارڈ دستیاب ہے نہ اس مسلمان عالم کی آمد کے نتیجے میں بدھ مت کے تبتی پیرو کارں کے قبول اسلام کا کوئی تذکرہ ملتا ہے۔ اس سرد مہری کا سب سے بڑا سبب غالباً یہ تھا کہ اس وقت تبت کے شاہی دربار میں اایک گروہ کا غلبہ تھا جسے  غیر ملکیوں سے یک گونہ وحشت تھی۔

بدھ مت اور اسلام کے درمیان معتقدات کی سطح پر دوسرا رابطہ آٹھویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں عباسی دورِ خلافت میں واقع ہوا۔ خلیفہ المہدی اور ا س کے بعد خلیفہ الرشید نے ہندوستان اور بلخ کی نووہار خانقاہ سے بدھ مت کے علماء کو بغداد میں بیت الحکمت آنے کی دعوت دی۔ یہاں ان کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ طب اور فلکیات کی کتابیں سنسکرت سے عربی میں ترجمہ کرنے میں مدد کریں۔ ابن الندیم کی "کتاب الفہرست" میں دسویں صدی عیسوی میں بدھ مت کی متعدد کتب کا ذکر ہے جو اس دور میں عربی میں ترجمہ ہوئیں مثلاً مہاتما بدھ کی حیات ہائے گذشتہ کا تذکرہ جسے عربی میں "کتاب البد" یعنی "بدھ کی کتاب" کا عنوان دیا گیا۔ اس کا متن سنسکرت کی دو کتب پر ماخوذ تھا، "گزشتہ زندگی تاریخ کی ایک مالا" اور اشوا گھوش کی "بدھ کے اعمال"۔

مسلم علماء نے تو بدھ مت سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا لیکن اس دور کے کسی بودھ عالم کے بارے میں پتا نہیں چلتا کہ اس نے بھی اسلامی عقائد کے بارے میں ایسی کوئی تصنیف کی ہو یا اسلام سے متعلق کسی کتاب کا ترجمہ کیا ہو۔ اس طرح بودھ راہبوں کی یونیورسٹیوں میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ شہادت میسر نہیں کہ وہاں مسلمان علماء سے کوئی فلسفیانہ مکالمہ یا بحث وجود پذیر ہوئی ہو اگرچہ اس زمانے میں بدھ مت کے پیروکار اور مسلمان ایک ہی خطے میں آباد تھے۔ جو مباحث ملتے ہیں وہ صرف ان مختلف ہندوستانی مسالک اور عقائد کے ماننے والوں سے کیے گئے جو بدھ مت کے پیرو کار نہیں تھے اور یہ بھی زیادہ تر وسطی شمالی ہند کے علاقوں میں ظہور اسلام سے قبل کے زمانے کے ہیں۔ بدھ مت پر لکھی گئی سنسکرت کی فلسفیانہ کتابوں میں اس زمانے میں اور اس کے بعد اسلامی معتقدات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

کالچکر تصانیف

بدھ مت سے متعلق تصانیف کا واحد سلسلہ جس میں کسی اسلامی عقیدے یا عبادات کا ذکر ملتا ہے "کالچکر تنتر" کی کتابیں ہیں جو دسویں صدی عیسوی کے اواخر اور گیارہویں صدی عیسوی کے شروع میں لکھی گئیں لیکن ان میں بھی سب مسلمانوں کو عمومی طور پر تاریخی حوالہ نہیں بنایا گیا۔ یہ کتب خاص طور پر دسویں صدی عیسوی کے اواخر کے  مشرقی اسماعیلی شیعہ فرقے کے پیروکاروں کے عقائد کو سامنے رکھ کر لکھی گئی تھیں اور وہ بھی اس صورت میں جیسا کہ یہ عقائد آج کے پاکستان کے شمال مرکز میں واقع شہر ملتان کی ذیلی فاطمی ریاست کے باشندوں میں پائے جاتے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب مصر کے اسماعیلی فاطمی اور ان کے ملتانی حلیف عالم اسلام پر غلبے کے لیے سنی المسلک عباسیوں سے برسر پیکار تھے۔ عباسی سلطنت کے لیے یہ دو طرفہ خطرہ تھا کیونکہ ان کی سلطنت دونوں طرف سے ان کے درمیان گھری ہوئی تھی۔ عباسیوں کی عملداری میں واقع غزنوی سلطنت وہ علاقہ ہے جو آج مشرقی افغانستان کہلاتا ہے۔ یہاں کے رہنے والے ہندو اور بدھ مت کے پیرو کار دونوں ہی اس ہولناک زمانے کی سختیوں کے شکار تھے۔ "کالچکر تنتر" کے وہ حصے جو خارجی دنیا کے معاملات سے  متعلق  ہیں وہ غالباً اسی صورتحال کے نتیجے میں لکھے گئے تھے۔ ان میں ہندوؤں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی روحانی اقدار کی پاسداری کریں اور بدھ مت والوں اور دیگر باشندوں کے ساتھ ایک جاتی میں اکٹھے ہو جائیں۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنی نا اتفاقی اور سادگی کی وجہ سے وہ حملہ آوروں کے مذہب میں جذب ہو کر رہ جائیں۔

کالچکر میں حملہ آوروں کے مذہب کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے والوں کو اس زمانے کے مسلم فرقوں کے بارے میں محض کچھ ادھوری معلومات میسر تھیں۔ اس میں درج ذیل باتیں شامل تھیں۔ سارے عالم اسلام کی مشترک عبادت یعنی وضو کر کے نماز پنجگانہ ادا کرنا، ارض مقدس کی طرف رخ کر کے سجدہ، آسمانی خدائے واحد کی پناہ طلب کرنا، فلاح اخروی و سعادت کے روحانی ہدف کی جستجو، دیوتاؤں کے ہر طرح کے بت توڑنا، جانوروں کو ذبح کرنے کا حلال طریقہ اختیار کرنا، رمضان کے روزوں میں غروب آفتاب تک کچھ نہ کھانا، عمومی طہارت کا لحاظ، سب انسانوں کو "ایک ذات" کی مساوات کی وجہ سے باعث عزت جاننا اور برہمنوں کو پوتر جات نہ گرداننا، ختنہ، عورتوں کا حجاب، اخلاقیات کی سختی سے پابندی، بالخصوص چوری، جھوٹ اور زنا سے پرہیز۔ اسلام کے مشترک عقائد میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مسلمان ایک خدا کو مانتے ہیں جو خالق کائنات ہے اور اس کا نام "رحمان" ہے۔ مادہ جوہری ماہیت رکھتا ہے ہر فرد کی لافانی روح جو اپنے اعمال کی ذمہ دار ہو گی اور ایک روز حساب جب "رحمان" ان ارواح کو جن سے وہ خوش ہو گا ایک آسمانی اقلیم جنت میں نیا جنم دے کر بھیج دے گا اور ان ارواح کو جن سے ناراض ہو گا اقلیم جہنم میں نیا جنم لینا ہوگا۔

کچھ تفصيلات ایسی ہیں جو بالخصوص مشرقی اسماعیلی شیعہ مآخذ پر اپنی بنیاد رکھتی ہیں اور ابو یعقوب السجستانی کی بیان کردہ ہیں مثلاً اسلامی انبیاء کی فہرست اور یہ دعوی کہ روح کا صرف ایک جزو عارضی طور پر اس عالم ہستی میں جنم لیتا ہے۔ دیگر تفصیلات مثلاً جنت یا جہنم میں انسانی بدن کے ساتھ دوبارہ جنم لینا وغیرہ دیگر مسلم علمائے کلام کی آراء پر مبنی ہیں۔ باقی تفاصیل محض وہ کوششیں ہیں جو اسلامی عقائد کو بودھوں اور ہندوؤں کے لیے قابل فہم پیرایہ اظہار اور اصطلاحات میں بیان کرنے کے لیے کی گئی ہیں مثلاً حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو "رحمان" کا اوتار کہنا، جیسے کرشن جی وشنو کا اوتار کہے جاتے ہیں۔

کالچکر تصانیف میں ان نکات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جو اسلام اور بدھ مت کے درمیان مشترک ہیں مثلاً ایٹم کی جوہری نوعیت اور روح کا اپنے اعمال کی بدلے میں سزا و جزا کا تصور۔ ان نکات پر مسلم نقطۂ نظر اور تعبیرات کی براہ راست تردید میں پڑے بغیر یہ تحریریں ایک راہ دکھاتی ہیں جس پر چل کر مسلمانوں کے لیے بدھ مت کے عقائد کی تفہیم اور آگاہی ممکن ہو سکتی ہے۔ بدھ مت کی کتابوں میں جو مسئلہ بنیادی طور پر اختلافی بن کر ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا جنت میں دوسری زندگی حاصل کرنا ہی وہ حتمی روحانی منزل اور آخری مقصد ہے جو کسی بھی فرد کے لیے حصول سعادت کا منتہا ہو سکتا ہے کیونکہ اس بات کو ماننے سے بدھ مت کے مرکزی عقیدے پر زد پڑتی ہے جس کے مطابق کرم اور جنم در جنم کے سلسلے سے حتمی آزادی اور سکون ہی آخری مقصد ہے۔ بدھ مت کی ان کتب میں ذبیحہ کرنے کے حلال طریقے پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ اسے ان تحریروں میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ جانور کا گلا کاٹتے ہوئے خدا کا منتر بسم اللہ پڑھنا۔ تاہم اس تنقید کی بنیاد ایک غلط فہمی پر تھی۔ وہ اس شعارِ اسلامی کو کسی دیوتا کے لیے خون کی بھینٹ دینے کی رسم سمجھ بیٹھے تھے۔

بدھ مت میں مسلمانوں کی دلچسپی کا تسلسل

اس بات کا تو کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ بعد کی صدیوں میں مسلم علماء کو ان مسائل اور مشکلات کا ادراک ہوا ہو جو کالچکر کتابوں کے ضمن میں مذکور ہوئے یا انہوں نے ان کے جواب دینے کی کوشش کی ہو۔ تاہم بدھ مت سے ان کی دلچسپی برقرار رہی جیسا کہ متعدد تاریخی تصانیف سے ظاہر ہو تا ہے۔ دوسری طرف کالچکر کتابوں پر لکھی جانے والی چند شرحوں ، وضاحتی تحریروں کو چھوڑ کر بدھ مت والوں نے اسلام میں مزید کوئی دلچسپی نہیں ظاہر کی۔

مثال کے طور پر دورِ غزنوی کا ایرانی مؤرخ البیرونی گیارہویں صدی میں برصغیر ہندوستان پر حملے کے دوران محمود غزنوی کے ہمراہ تھا۔ قیام ہندوستان میں اسے جو معلومات حاصل ہوئیں ان پر مبنی تصنیف کا نام ہے "کتاب الہند"۔ اس کتاب میں البیرونی نے بدھ مت کے بنیادی معتقدات اور عبادات بیان کیے ہیں اور ذکر کیا ہے کہ ہندوستان والے مہاتما بدھ کو اللہ کا نبی سمجھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ البیرونی یہاں یہ نہیں کہہ رہا کہ مسلمان مہاتما بدھ کو اللہ کا نبی مانتے ہیں لیکن اس تحریر سے یہ بہر حال پتا چلتا ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ تھا کہ بدھ مت کے پیروکار یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ شاکیہمُنی ان کا خدا ہے۔ الشہرستانی سلجوق سلاطین کا ملازم تھا۔ اس نے اپنی بارہویں صدی کی تصنیف "کتاب مذاہب اور فرقوں" کی کتاب "کتاب الملل و النحل" میں البیرونی کا یہ بیان اس کی کتاب سے اخذ کر کے دوبارہ درج کیا ہے۔

منگول

تیرہویں صدی کے اواخر میں چنگیز خان کا پوتا قبلائی خان چین کی یوان سلطنت کا حاکم تھا۔ اس نے تبتی بدھ مت کی ساکیہ شاخ کا مذہب قبول کر لیا۔ عوام سے لگان وصول کرنے کے لیے قبلائی خان نے ٹیکس افسر مرکزی ایشیا کے مسلمانوں میں سے مقرر کیے تاکہ منگول حکمرانوں اور ان کی چینی رعایا کے درمیان ایک آڑ اور فاصلہ موجود رہے۔ اپنے دورِ حکومت کے آغاز میں قبلائی خان نے مسلمانوں کو اجازت دے دی تھی کہ وہ اپنی تمام عبادات انجام دیتے رہیں لیکن جب اس کے چچا زاد بھائی اور دشمن خیدو نے مسلمانوں کی حمایت شروع کر دی تو قبلائی خان نے مسلمانوں کے خلاف قوانین نافذ کر دیے۔ ۱۲۸۰ء میں اس نے ختنے اور ذبح کرنے کے حلال طریقے پر پابندی عائد کر دی۔ اس میں سے دوسرا حکم چنگیز خان کے  "یاسا" یعنی  "ضابطۂ" قوانین کے مطابق تھا جس میں ذبح شدہ جانوروں کے خون سے زمین کو ناپاک کرنا ممنوع تھا۔ بدھ مت کے معتقدات سے اس بات کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بدھ مت سے پہلے کی منگول رسموں کا معاملہ تھا۔ سو بات یہ ہوئی کہ اگرچہ قبلائی خان نے بدھ مت قبول کر لیا تھا لیکن اپنی مسلمان رعایا سے اس کے معاملات کا بدھ مت اور اسلام کے معتقداتی مکالمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

منگولوں نے بدھ مت کی ان علاقوں میں بھی اشاعت کی کوشش کی جو روایتی مسلم منطقے بن چکے تھے۔ اس کے باوجود بدھ مت والوں نے مقامی آبادی کے معتقدات میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ یہ بات اس دور کے بارے میں خاص طور پر درست ہے جب ایل خانیوں کی سلطنت کے تحت، تیرہویں صدی کے نصف آخر میں ایران پر منگولوں کی حکومت تھی اور منگول خوانین اس علاقے میں تبتی بدھ مت پر عمل پیرا بھی تھے اور اس کی اشاعت بھی کر رہے تھے۔ ارغون خان کے وزیر سعد الدولہ نے تجویز دی کہ اسلام کے کچھ حصے خان کے شاہی فرامین کا حصہ بنا دیئے جائیں۔ اس کا مشورہ یہ تھا کہ چنگیز خان اور آل چنگیز کو نبی قرار دے دیاجائے جیسے شیعوں میں نسل بہ نسل اماموں کا سلسلہ پایا جاتا ہے۔ اور ارغون خان کو چاہیے کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کی مثال سامنے رکھتے ہوئے ایک عالمگیر مذہبی قوم کی بنیاد رکھے اور کعبے کو بدھ مت کے ایک معبد میں تبدیل کر دے۔ خان نے بدھ مت کو حکومت کا سرکاری مذہب بنانے کا اعلان تو کر دیا اور تبت اور کشمیر سے بہت سے راہبوں کو اپنی عملداری میں بلوایا بھی مگر اپنے وزیر کی باقی سفارشات پر اس نے کوئی عمل نہیں کیا۔

اس کا جانشین اور دوسرا ایل خانی حکمران، غزان خان نے تخت نشین ہونے کے کچھ عرصے بعد اسلام قبول کر لیا۔ جب اس نے اپنے وزیر رشید الدین (فضل اللہ) کو "جامع التواریخ" لکھنے پر مامور کیا تو اسے ہدایت کی کہ ان تمام اقوام کے معتقدات کا تذکرہ بھی شامل کتاب کیا جائے جن سے منگولوں کا سابقہ رہا تھا۔ ان میں بدھ مت کے ماننے والے بھی شامل تھے۔ اس غرض سے اس نے کشمیر کے ایک راہب بکشی کمالشری کو اپنے دربار میں بلوا لیا تاکہ رشید الدین کی معاونت ہوتی رہے۔ اس مشترکہ کوشش کا نتیجہ عربی اور فارسی، دونوں زبانوں میں تصنیف ہونے والی کتاب "جامع التواریخ" کی دوسری جلد یعنی "تاریخ الهند" کے حصہ سوم میں "بدھ کی زندگی اور تعلیمات" کے طور پر سامنے آیا۔

الکرمانی اور البیرونی کی تصانیف کی طرح رشید الدین نے بھی بدھ مت کو اسلامی اصطلاحات میں سمجھانے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس کے ہاں مہاتما بدھ کو ان چھہ بانیان مذاہب میں شمار کیا گیا ہے جنہیں ہندوستان والے پیغمبر مانتے ہیں۔ ان میں سے پہلے تین یعنی شو، وشنو اور برہما خدائی اوتار مانے جاتے ہیں اور دوسرے تین غیر خدائی یعنی جین مت کے  ارہنت، چارواک مسلک کے ناستک اور بدھ مت کے شاکیہمُنی۔ اس کے ہاں ہمیں دیوتا بمعنی فرشتگان اور مارا بطور ابلیس یا شیطان کا بیان نظر آتا ہے۔ اسی کتاب میں دوبارہ جنم لینے کی چھ اقالیم اور کرموں کے قانون علت و معلول کا ذکر ملتا ہے اور یہ بھی کہ مہاتما بدھ کے اقوال "کانگیور" میں محفوظ ہیں جو ان اقوال کی تبتی زبان میں ترجمے پر مشتمل ہیں۔

رشید الدین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے زمانے میں بدھ مت کی گیارہ کتب عربی ترجمے کی صورت میں ایران میں پائی جاتی تھیں۔ مہایان بدھ مت کی ان کتب میں مندرجہ ذیل کتابیں بھی شامل تھیں: "سکھہ کی خالص سرزمین کے ترتیب کی سوتر" جس کا موضوع تھا آمی تابھا کی ارض پاک، "بُنی ہوئی ٹوکری کی طرح ترتیب کی سوتر" جس کا موضوع تھا ایوا لوکیت ایشور مجسم رحمت اور "مایتریا کا بیان" جس کا موضوع تھا مایتریا مستقبل کا بدھ اور پیار کی تجسیم۔ رشید الدین نے بدھ مت کو جس طرح بیان کیا ہے اس کے بعض پہلو تقریباً خیال آرائی کی ذیل میں آتے ہیں مثلاً اس نے دعویٰ کیا کہ ظہور اسلام سے قبل مکہ اور مدینہ کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور کعبہ میں رکھے ہوئے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جو مہاتما بدھ کے مجسموں سے مشابہ تھے۔

ایک صدی سے کچھ اوپر گزرا ہو گا کہ پندرہویں صدی کے اوائل میں تیموری سلطان شاہ رخ کے دربار کے ملازم حافظ آبرو نے سمرقند میں" مجمع التواريخ" ترتیب دیا۔ اس میں وہ حصہ جو بدھ مت اور مہاتما بدھ کے بارے میں تھا اس کا مواد رشید الدین کی کتاب سے اخذ کیا گیا تھا۔

ہندوستان کی جو تاریخیں مسلمان علماء نے لکھیں ان میں تو بدھ مت کی تعلیمات اور عقائد کا ذکر ملتا ہے لیکن اسلام کی آمد کے بعد تبتی اور منگولیای بودھ مصنفین نے تاریخ ہند پر جو تصانیف مرتب کیں ان میں اسلام کے معتقدات کا اس طرح کا کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا۔ مثلاً "ہندوستان میں بدھ مت کی تاریخ" سترہویں صدی کے اوائل کے تبتی عالم تارا ناتھ کی تصنیف ہے۔ اس نے کتاب میں یہ ذکر تو کیا ہے کہ تیرہویں صدی کے آغاز میں شمال مرکزی ہند میں گُز ترکوں کی مسلم افواج نے غوریوں کے دورِ حکومت میں بدھ مت کی خانقاہوں کو مسمار کر دیا لیکن خود اسلام کے بارے میں یہ مصنف سرے سے کوئی کلام نہیں کرتا۔ یہی نہیں بلکہ جب سترہویں صدی کے وسط میں اپنے قحط زدہ علاقے کے ستائے ہوئے کشمیری مسلمان تبت میں آن بسے اور انہیں پانچویں دلائی لامہ کی طرف سے خصوصی مراعات دے کر پُر امن طریقے سے تبت کے بودھ معاشرے کا جزو بنا لیا گیا، تب بھی دونوں مذاہب کے مابیں عقائد و تعلیمات کی سطح پر کوئی مکالمہ نہیں ہوا۔

مزید براں، ہندوستان، تبت اور منگولیا میں بدھ مت کی وہ کتب جو نظام عقائد یا معتقداتی مباحث کی نوع سے تعلق رکھتی تھیں ان میں جب بدھ مت کے علاوہ دوسرے معتقدات سے بحث ہوتی تو ساری نہیں تو بیشتر توجہ صرف ہندوستان کے مقامی اعتقادی اختلافات پر صرف کی جاتی رہی۔ ان کتب میں جہاں کہیں ہندوستان کے ثقافتی منطقے سے باہر نکل کر بدھ مت کے علاوہ چینی یا تبت کے پرانے مقامی عقائد پر بات کرنے کی نوبت آئی، مثلاً اٹھارویں صدی کے آخر کے عالم توکن لوزانگ چوکیی نییما کی کتاب "بلوریں آئینہ در بیانِ عالی معتقدات و مآخذِ نظام ہائے عقائد" میں بھی اسلام پر کوئی بحث نہیں کی گئی۔

اسلام سے بدھ مت کی اس لا تعلقی سے صرف ایک شخص مثتسنیٰ تھا، انیسویں صدی کے وسط کا منگولین ناول نگار انجن ناشی۔ منگولیا کی تاریخ پر اس کی افسانوی کتاب "صحیفۂ نیلگوں" چینیوں کے بھی خلاف ہے اور مانچو حکومت کے بھی۔ اس میں وہ کہتا ہے کہ اسلام اور بدھ مت میں ایک چیز کی آرزو مشترک ہے یعنی "نیکی اور خیر" ۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ مسلمان اور بودھ قصاب دونوں ہی جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے دعا پڑھتے ہیں تاکہ وہ جنت میں دوسرا جنم لے سکیں۔

اسلام سے بدھ مت کی روایتی عدم دلچسپی کی ایک توجیہ

ایک بات عمومی طور پر درست ہے۔ مسلمان اور بدھ مت کے علماء دونوں نے ان علاقوں میں تو دوسرے مذاہب سے دلچسپی کا اظہار کیا جہاں ان کا دین اشاعت پذیر تھا اور جہاں پہلے سے مقامی مذاہب موجود تھے۔ لیکن جب معاملہ برعکس ہوا تو ان کی دلچسپی مفقود ہو گئی۔ وہ علاقے جہاں پہلے سے ان کا مذہب غالب اکثریت کا مذہب تھا اور دوسرے مذاہب وہاں پھیل رہے تھے یا اشاعت کے لیے کوشاں تھے تو ایسے علاقوں میں بودھی اور مسلم علماء دونوں نے دوسرے مذاہب میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

 بسا اوقات بدھ مت نے ان علاقوں کے مقامی مذاہب سے بھی کچھ تصورات مستعار لیے جہاں بدھ مت پھیل رہا تھا یا ہندوستانی بدھ مت کے ان نکات پر زور دیا جو ان مذاہب کے بعض پہلوؤں سے میل کھاتے تھے۔ مثال کے طور پر بودھی ستوا اآدرش، خالص سرزمین اور امیتابھ یعنی نور لامحدود کا حامل مہاتما بدھ کے تصورات ایرانی تمدنی علاقوں میں موجود  زرتشتیوں  میں بھی پائے جاتے تھے۔ بدھ مت کی کتابوں میں ان علاقوں میں پائی جانے والی ان رسومات پر بھی بلا تذبذب تنقید کی گئی ہے جو اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض تھیں۔ " بڑی تفسیر" دوسری صدی عیسوی میں کشمیر میں مرتب کی گئی۔ اس میں لکھا ہے کہ یوناک  تعلیمات میں چیونٹیوں کو مارنے اور محرمات سے زنا کی اجازت تھی۔ یوناک سے مراد لغوی طور پر تو کشن سلطنت کے وہ باشندے ہیں جو یونان سے آ کر باختر کے علاقے میں آباد ہوئے لیکن اس کا اصل حوالہ ہند۔سكوثيون لوگوں کا ہے جو اس علاقے میں رہتےتھے اور زرتشتیت اور مثریت کے پیروکار تھے۔ چھٹی صدی عیسوی کے بودھ مرشد بھاو وویک نے بھی اپنی تصنیف "دلیل کے شعلے" میں ان قابل اعتراض یونا ک تعلیمات کا بیان نقل کیا ہے۔ بھاو وویک کی یہ کتاب نظام عقائد پر لکھی جانے والی کتب کا اولین نمونہ ہے۔

جب چین میں بدھ مت پھیلنا شروع ہوا تو ترجمۂ متن کے لیے جو پہلا طریقہ استعمال ہوا اس کا عنوان "معنی کی پہنچنے" تھا۔ اس میں ہوتا یہ تھا کہ بدھ مت کی اصطلاحات کو ترجمہ کرنے کے لیے ان کی ہم معنی اور مترادف تاؤ مت اور نو۔ تاؤ مت تصورات و اصطلاحات استمعال کی جاتی تھیں۔ بلکہ بدھ مت کے وہ چینی علماء جو شروع کے زمانے میں ہو گذرے ہیں، مثلاً چوتھی صدی عیسوی کے اوائل کے جیدون اور پانچویں صدی کے آغاز میں سینگ جاؤ، نے تو یہ تک کیا کہ خالی پن  (عدمیّت) (voidness [emptiness]) کے تصور کو "وجود" اور "عدم وجود" (being and non-being) کی اصطلاحات میں بیان کر کے سمجھانے کی کوشش کی جائے ۔ کنفیوشس مت کے اندازِ فکر اور اقدار نے بھی ترجمے کی اصطلاحات کے انتخاب پر اپنے اثرات مرتب کیے مثلاً یہ کہ "انسان" کی جگہ "ذی شعور مخلوقات" کا استعمال اور قرابت داری کے اصول کو بدھ مت کے بیان کردہ محاسن اخلاق میں شمار کرنا۔ ان سب باتوں کا مطلب یہ ہوا کہ اگر باقاعدہ مکالمہ نہ بھی واقع ہوا ہو تب بھی اتنا تو تھا کہ بدھ مت کے پیرو کار مقامی چینی نظام عقائد سے واقف ہو چکے تھے۔

کئی مرتبہ یہ بھی ہوا کہ بدھ مت والوں نے دوسرے مذہبی نظام فکر سے دلچسپی صرف اس غرض سے لی کہ شاہی سر پرستی حاصل کرنے میں اس سے مقابلہ درپیش تھا۔ ایسا بھی ہوا کہ دونوں فریق پہلے سے ایک ہی سرزمین پر قدم جما چکے تھے۔ شمال مرکزی ہند کی خانقاہوں کے بدھ مت کے علماء نے چوتھی صدی عیسوی کی ابتداء اور بارہویں صدی کے اواخرمیں جب بدھ مت کے علاوہ دیگر مختلف مذاہب اور فلسفیانہ مکاتب فکر سے مناظرے شروع کیے تو صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔

ایک زمانے میں یوں بھی ہوا کہ دونوں فریق شاہی سرپرستی کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی اس لیے کوشش کر رہے تھے کہ پوری سلطنت میں ایک وحدت پیدا کرنے کے لیے کسی ایک مذہب کو سرکاری مذہب قرار دیا جانا تھا۔ تبت کی سامیے خانقاہ میں آٹھویں صدی عیسوی کے آخری سالوں میں ہندوستان کے مدھیامک اور چین کے چان مرشدوں کے درمیاں جو مناظرے ہوئے تھے وہ بدھ مت ہی کے دو مسالک کے درمیان تھے۔ ان کا تعلق سرکاری سر پرستی کے حصول کی اس جدو جہد سے تھا۔ اس کا ایک زیادہ بامعنی حوالہ بدھ مت کے ماننے والوں اور چین کے تاؤ مت کے پیروں کاروں کے مابین ہونے والے مناظروں کا ہے جو چنگیز خان کے پوتوں نے نوزائیدہ منگول حکومتوں کے لیے سرکاری مذہب کا فیصلہ کرنے کے لیے منعقد کروائے۔ ان میں سے پہلا مناظرہ مونگکے خان کے دربار میں ۱۲۵۵ء میں ہوا تھا اور دوسرا قبلائی خان کے دربار میں اس کے تین سال بعد۔ اس میں نزاعی مسئلہ یہ تھا کہ تاؤ مت والے یہ دعویٰ رکھتے تھے کہ مہاتما بدھ تو خود لاؤدزہ کے چیلے تھے۔ ان بحثوں میں فلسفیانہ عقائد اور تعلیمات کا دخل بہت کم تھا۔

تیرہویں صدی عیسوی کے ایک فلیمش نژاد فرانسسکن مشنری ولیم آف روبرک نے مونگکے خان کے دربار کا سفر کیا تھا۔ اپنے سفر نامے میں اس نے ایک مناظرے کا ذکر کیا ہے جو ۱۲۵۴ء میں دربار میں ہوا تھا۔ اس کے بقول یہ مناظرہ اس کے اور "تو-این" کے "مشرکانہ" مذہب کے ایک نمائندے کے مابین ہوا تھا اور اس کا موضوع بحث تھا وجودِ خدائے واحد۔ مناظرے کے موقع پر نسطوری عیسائیوں اور "شرقون" (مسلمانوں) کے نمائندے بھی موجود تھے۔

بعض اہل علم نے اس مباحثے کو بدھ مت بمقابلہ اسلام و عیسائیت قرار دیا ہے جس میں موخر الذکر مذاہب مل کر بدھ مت کے خلاف فریق بنتے ہیں لیکن اس رائے کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں جن کی بنیاد ولیم آف روبرک کا اپنا بیان ہے۔ پہلی بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ "تو-این" کی اصل چینی زبان کا لفظ "تاؤ-رن" ہے جس کا مطلب تاؤ مت والے لوگ۔ لگتا ہے کہ فرانسسکن راہب نے منگول دربار کے چینی مترجمین ہی پر کلیتاً انحصار کیا تھا۔ مزید یہ کہ اس کے بیان کے مطابق تو-این لوگ مانویت کے قائل تھے جس کے مطابق کائنات خیر اور شر میں منقسم ہے۔ان کے عقیدے کے مطابق آسمان پر ایک سب سے بڑا خدا ہے، ولیم کا بیان ہے، لیکن وہ قادر مطلق نہیں ہے، خالص روح ہے اور اس نے کبھی صورت انسانی اختیار نہیں کی۔ اس کے نیچے دس اور خدا رہتے ہیں ان کے نیچے ایک اور خدا ہے اور پھر زمین پر تو لاتعداد خدا ہیں۔ اگرچہ تو-این لوگ دوسرے جنم کے قائل ہیں لیکن اس کے بیان کے مطابق ان کا عقیدہ ہے کہ روح کا وجود ہے۔ ان کے راہب مجرد ہوتے ہیں، عبادت خانوں میں رہتے ہیں ، منتروں کا جاپ کرتے ہیں لیکن ان کی عبادت گاہوں میں جو بت ہیں وہ ان کے خدائے بزرگ و بر تر کے نہیں بلکہ وفات یافتہ لوگوں کے ہیں۔

اس بیان کی روشنی میں یہ ماننا مشکل ہے کہ تو-این والے صحیح معنی میں بدھ مت کے پیرو کار تھے۔ یوں لگتا ہے کہ ولیم آف روبرک نے ان کے عقائد کو مسیحی اصطلاحات میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بدھ مت، تاؤ مت اور مانویت کے پیرو کاروں کو ایک دوسرے سے ملا دیا ہے کیونکہ یہ تینوں گروہ مونگکے خان کے دربار میں موجود تھے اور ان سب کو وہ ایک ہی نام "بت پرست" کے نام سے یاد کرتا ہے۔ مزید یہ کہ فرانسسکن راہب کے بیان کے مطابق مسلمانوں اور نسطوریوں نے مباحثے میں عملاً کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ صرف اس کے دعووں کی تائید کرتے رہے۔ چنانچہ یہ سارا بحث و مناظرہ کسی طرح بھی بدھ مت۔ اسلام مکالمہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہوا کہ بدھ مت نے دوسرے مذاہب کے عقائد سے دلچسپی اس وقت ظاہر کی ۱) جب بدھ مت ان علاقوں میں پھیل رہا تھا جہاں غالب مذہب کوئی اور تھا یا ۲) جب بدھ مت اور دوسرے مذاہب میں سے کسی ایک کو سرکاری مذہب کے طور پر اختیار کرنے پر غور کیا جا رہا تھا یا ۳) جب بدھ مت کو شاہی سرپرستی حاصل کرنے کے لیے دیگر مذاہب کا مقابلہ تھا۔ ایل خانیوں کے دور حکومت میں ایک مختصر مدت کے لیے ایران میں یہ صورتحال تھی لیکن اس کے علاوہ اسلام کبھی بھی ان تین میں کسی ایک زمرے میں شامل نہیں رہا کہ اسے بدھ مت کے علاوہ "دوسرے مذہب " کی حیثیت میں سامنے آنا پڑتا ۔ لیکن جب منگول حکمران ایران میں بدھ مت لے کر داخل ہوئے تب بھی بدھ مت والوں نے اسلام کے عقائد و تعلیمات سے کسی دلچسپی کا اظہار نہیں ظاہر کیا۔ بدھ مت نے اسلامی عقائد پر توجہ صرف اس وقت دی جب اسلامی فوجی قوتوں کی طرف سے یورش کا خطرہ پیدا ہوا۔

ایشیا میں مسلمان اور بدھ مت کے  پیروکاروں کی موجودہ صورتحال

ہم نےتاریخ سے جو مثالیں پیش کی ہیں ان سے دوسرے مذاہب کے بارے میں بدھ مت کا آج کا رویہ اور مزاج بھی متعین کیا جا سکتا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر سے بدھ مت دنیا کے کئی ایسے علاقوں میں پھیل گیا ہے جہاں کی مذہبی روایت کچھ اور تھی۔ اس کے نتیجے میں بدھ مت کے سرکردہ لوگوں اور عیسائی، یہودی رہنماؤں کے درمیان بین المذاہب مکالمے کا رجحان نمو پاتا رہا۔ دوسری طرف بدھ مت روایتی مسلم علاقوں میں نہیں پھیلا۔ اس لے بدھ مت نے اگر اسلام میں دلچسپی لی تو اس کا سبب کچھ اور تھا یعنی اس کا محرک بنیادی طور پر خدشۂ شورش یا انقلاب تھا بالخصوص اکیسویں عیسوی صدی کے آغاز کے بعد سے۔ اس خطرے کا کچھ تعلق ان حالات سے بھی تھا جو مسلمان شدت پسندوں کے برپا کردہ دہشت گردی کے واقعات اور ان کے جواب میں کیے جانے والے مضبوط فوجی اقدامات سے تھا اور کچھ حصہ اس میں اس اقتصادی رقابت اور مقابلے کا بھی تھا جو روایتی طور پر بدھ مت اور اسلام کے ماننے والوں کے درمیان ایشیا میں پہلے سے چلی آ رہی تھی اور جس میں اس احساس نے شدت پیدا کر دی تھی کہ اقتصادی ہمہ گیریت اب ایک خطرہ بن چلی ہے۔ بعض علاقوں میں صورتحال میں مزید پیچیدگی اس چیز نے پیدا کر دی کہ ماضی و حال کی نو آبادیاتی قوتوں کی وضع کردہ پالیسیاں معاملات پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔ اکثر اوقات یہ بھی ہوا کہ ان عوامل  نے ایک دوسرے کو شدت عطا کی۔

ایسے خطرناک حالات میں تعلیم اور مکالمہ ناگزیر ہو جاتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ غلطی سے سارے مسلمانوں کو شدت پسند سمجھ لیتے ہیں اور ان شدت پسندوں کے حربے اور طور طریقے اسلامی تعلیمات کے مترادف بنا دیے جاتے ہیں۔ مزید کچھ لوگ خود مذہبی عقائد کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں یا اس امر سے انکار کرتے ہیں کہ اس معاملے میں سیاسی، سماجی، ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی عوامل بھی کار فرما ہیں۔ اس طرح کی کوتاہ نظری سےآویزش اور کشاکش مزید بڑھ جاتی ہے۔

مثال کے طور پر ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں بامیان کے مہاتما بدھ کے بڑے مجسمے تباہ ہوئے۔ ان مجسموں کو توڑنے سے طالبان کا مقصد شاید اپنا یہ احتجاج دنیا کی نظر میں لانا تھا کہ انسان دوستی کی بنیاد پر بھجوائی جانے والی امداد پر بین الاقوامی پابندیاں کیوں لگائی گئی ہیں، اس سے ان کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ بدھ مت اور بدھ مت کے پیرو کاروں کو حملوں کا ہدف بنایا جائے۔ افغانستان میں نہ کوئی بدھ مت کا ماننے والا آباد تھا نہ ان مجسموں کی پوجا کی جاتی تھی۔

دوسری طرف بنگلہ دیش میں بدھ مت کے ماننے والوں کی ایک فیصد اقلیت ہے جو ضلع چٹاگانگ اور چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعات کے بعد بنگلہ دیش میں اسلامی بنیاد پرستی بڑھتی رہی ہے اور اس سے ہوا یہ ہے کہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ لڑائی جھگڑے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں جس کا ہدف بدھ مت کے ماننے والے باشندے ہیں۔ اس طرح کی دراز دستی صرف اس علاقے کے بدھ مت کے پیرو کاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ سارے ملک میں عیسائی آبادی بھی اس کا شکار نظر آتی ہے۔ یہ واضح مثال ہے اس چیز کی کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ" اورافغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے بعد تشدد میں کیونکر اضافہ ہوا ہے۔ ۱۹۸۸ء میں بنگلہ دیش میں ایک آئینی ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت بنگلہ دیش "اسلامی طرز حیات" اپنانے کا پابند ہے، اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گردی کے حملوں سے پہلے بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ اور  چقپلش آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔

ملیشیا اور انڈونیشیا ان ملکوں کی مثال ہیں جہاں اقتصادی عوامل نے مذہبی کشمکش میں اضافہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں میں مقامی مسلمانوں کی بڑی تعداد رہتی ہے اور بدھ مت کے چینی پیرو کاروں کی اقلیتیں بھی آباد ہیں جو مقامی آبادی کے مقابلے میں زیادہ خوشحال اور مالدار ہیں۔ ان دو ملکوں میں سے صرف انڈونیشیا میں دونوں قوموں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کی نوبت آئی اور وہ بھی ۹۸- ۱۹۹۷ء کے اقتصادی بحران اور سوہارتو حکومت کے خاتمے کے بعد۔

کشمیر لدّاخ اور عوامی جمہوریہ چین کے تبتی ثقافت کے منطقوں میں اسلام۔ بدھ مت کشمکش کھلی لڑائی کی حد تک نہیں پہنچی، تاہم کشیدگی موجود ہے اور اس کا بنیادی سبب دونوں گروہوں کے درمیان اقتصادی رقابت ہے نہ کہ عقائد و تعلیمات کا اختلاف۔ تبتی ثقافت کے علاقوں میں صورتحال اس لیے بگڑ رہی ہے کہ چینی حکومت ایک پالیسی کے تحت ان علاقوں میں غیر تبتی لوگوں کو لا کر آباد کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ، اس کام کے لیے مدد باہم پہنچاتی ہے اور نقل مکانی کے لیے سہولتیں فراہم کرتی ہے۔

برما / میانمار میں بھی حکومتی لائحہ عمل صورتحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر جھگڑے بدھ مت والوں اور اراکان اور شمالی  راکھین کی ریاست کے روہنگیا مسلمانوں کے درمیان ہوتےرہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عام طور پر بدھ مت کے پیرو کار اپنے علاقوں میں غیر بدھ مت والوں ، خاص طور پر بنگالی نژاد مسلمانوں کا آباد ہونا گوارا نہیں کرتے۔ یہ عدم رواداری انگریز نو آبادیاتی حکومت کے اس رویے کے جواب میں پیدا ہوئی جس کے تحت وہ اپنے زیرِ نگیں علاقوں میں دوسرے مذاہب کو بدھ مت کے پیروکاروں پر ترجیح دیتے رہے۔ اس وقت برما پر جو فوجی ٹولہ حکمران ہے وہ اس تعصب کو استعمال کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے مسلمانوں پر کڑی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، انہیں حقوق شہریت سے محروم رکھا جاتا ہے اور مسلمان باشندے اکثر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ حکومت ان کے خلاف بدھ مت کے پیرو کاروں کو آمادۂ فساد کرتی رہتی ہے۔

جنوبی تھائی لینڈ میں مسلمانوں اور بدھ مت والوں کے درمیان فسادات کا سبب یہ تھا کہ ۱۹۰۹ء کے اینگلو سیامی معاہدے کے تحت مالے کی مسلم ریاست پٹانی کا الحاق تھائی لینڈ سے کرایا گیا تھا اور اس الحاق کے بعد بھی اس علاقے کو بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل قوم سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

معاصر مسلم۔ بدھ مت مکالمہ

جنوبی تھائی لینڈ کی نازک صورتحال اور جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے علاقوں میں رونما ہونے والے دیگر خطرات کو دیکھتے ہوئے دنیا میں انصاف کی "بین الاقوامی تحریک براےٴ منصفانہ دنیا" اور "سنتی پرچا دھمما انسٹی ٹیوٹ" نے مل کر ۱۹۹٦ء میں پینانگ، ملیشیا میں اسلام اور بدھ مت مکالمہ کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی۔ اس کا عنوان تھا "ایشیا کے لیے متبادل سیاست"۔ اس کا ہدف یہ تھا کہ دونوں ادیان کی روحانی اقدار اور روایتی دانش و حکمت کو علاقائی مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لایا جائے۔

۲۰۰۴ء میں تھائی لینڈ کی حکومت نے مذہبی فسادات کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک قومی مصالحتی کمیٹی تشکیل دی۔ اس کے نتیجے میں نومبر ۲۰۰۵ء میں اس کمیٹی نے ماہیڈول یونیورسٹی کے مرکز تحقیق برائے فروغ امن کے اشتراک سے سلایا، تھائی لینڈ میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا عنوان تھا "بدھ مت اور اسلام کا مکالمہ: فساد اور مصالحت"۔

اسی سے متعلق ایک اور کانفرنس جون ۲۰۰۶ء میں بینکاک، تھائی لینڈ میں منعقد ہوئی جس میں تین ادارے شریک تھے: "بین الاقوامی مشغول کار بودھی نیٹ ورک"، "بین الاقوامی تحریک براےٴ منصفانہ دنیا" اور "سنتی پرچا دھمما انسٹی ٹیوٹ"۔ کانفرنس کا موضوع تھا "جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمان اور بدھ مت والوں کی  امن و انصاف کے لیے مشترکہ جدو جہد"۔ کانفرنس کے نتیجے میں "اعلان ڈوسیٹ" وجود میں آیا۔ اعلان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیم، مطبوعات، نشرو اشاعت، الیکٹرونی اطلاعات اور میڈیا کے میدانوں میں مزید کاوش کی جائے اور مذہبی ، سیاسی رہنماؤں کی کوششوں سے ہم آہنگی اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دیا جائے تاکہ دونوں مذاہب کے ماننے والوں میں باہمی افہام و تفہیم میں اضافہ ہو، وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور دونوں مذاہب میں بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکے۔

اعلان ڈوسیٹ کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے:

عالمگیر سرمایہ داری کے نئے "مذہب" کی قوت جو سب پر مسلط ہوتی چلی جا رہی ہے ان تمام آفاقی، روحانی اور اخلاقی اقدار اور تصورِ کائنات کے لیے خطرہ بن گئی ہے جو بدھ مت، اسلام اور دیگر ادیان میں مجسم نظر آتے ہیں۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ بدھ مت، اسلام اور دیگر ادیان مل کر گہری وحدت اور یک جہتی کو جنم دیں جس سے ایک متبادل نقطۂ نظراور ایک دوسرا تناظر پیش کیا جا سکے جو ایک منصفانہ، مہربان اور صلح کل آفاقی تہذیب کا مظہر ہو۔ یہ مقصد ذہن میں رکھتے ہوئے ہم جنوب مشرقی ایشیا کے لیے بودھی اور ۔ مسلم شہریوں کے ایک مستقل کمیشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔
 

عالمگیر سرمایہ داری کی جگہ ایک متبادل اخلاقیات کا تقاضا کرنے میں البتہ ایک خدشہ یہ ہے کہ اس سے سیموئیل ہنٹنگٹن کی بیان کردہ "تہذیبوں کے تصادم" کی جلتی پر مزید  تیل چھڑکنے کا عمل نہ شروع ہو جائے۔ اس نقطۂ نظر میں خطرہ یہ ہے کہ اس سے دوسرے گروہوں سے مکالمہ کرنے میں دشواری عملاً بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ بدھ مت اور اسلام کے مکالمے سے دلچسپی رکھنے والے دیگر گروہوں نے اس کے مقابلے میں ایک زیادہ آفاقی اور وسیع تر راہ عمل اختیار کی ہے۔

مثلاً جب بامیان کے بدھ مجسمے تباہ کیے گئے تو "محبت اور امن کا عالمی خاندان"  اور تائی پے تائیوان کے عالمی مذاہب کا عجائب خانہ دونوں نے مل کر مسلم اور بدھ مت مکالمے کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کا طریق کار اور اسلوب زیادہ جامع اور ہمہ گیر تھا۔ اس سلسلے کی تین کانفرنسیں پے در پے ہوئ یں۔ ان کا انعقاد، بالترتیب نیو یارک، امریکہ، مارچ ۲۰۰۲ء، کوالالمپور، ملیشیا ، مئی۲۰۰۲ء اور جکارتہ، انڈونیشیا، جولائی۲۰۰۲ء میں کیا گیا۔ ان کے بعد یونیسکو کے صدر دفتر، پیرس، فرانس میں مئی ۲۰۰۳ء میں "عالمی اخلاق اور بھلائی حکومت پر بدھ مت اور اسلام کے مکالمے کی کانفرنس" کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی گئی۔ بارسلونا، سپین مین جولائی۲۰۰۴ء میں "دھرم، اللہ اور حکومت: ایک بدھ مت اور اسلام مکالمہ" کے عنوان سے سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جو "عالمی مذاہب کی مجلس" کا حصہ تھا۔ پھر نومبر ۲۰۰۵ء میں "بدھ مت اور اسلام کے مکالمے کا مباحثہ" کے عنوان سے مراکیش، مراکش میں مجلس ہوئی اور اسی کے تسلسل میں بیجنگ ، چین میں اکتوبر ۲۰۰٦ء میں ایک مسلم – بدھ مت کانفرنس کی گئی جس کا عنوان تھا "مذہبی زندگی اور موت"۔

مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں نیز دیگر ادیان کے مابین صلح جوئی اور تعاون کی دعوت اور اس کے ذریعے ایک ادیان گیر اخلاقیات کی تشکیل کی باز گشت اور بھی مقامات پر سنائی دی۔ مثال کے طور پر بین "الاقوامی سوکا گاکای" کے صدر دائیساکو آئیکیدا نے توکیو، جاپان اور ہونولولو، ہوائی، امریکہ میں "عالمی امن اور حکمت عملی کا تودا ادارے" کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا ہدف تھا ایک"عالمی تہذیب" کی نشو و نما جو ہر انسانی جان کی حفاظت، ماحول کی حفاظت اور تمام انسانی طبقات کی ہم آہنگ اور متوازن ترقی کو اپنا مقصد قرار دے۔ اس غرض سے اس ادارے نے بہت سی مطبوعات اور کانفرنسوں کے لیے امداد فراہم کی۔ مطبوعات میں"عالمی تہذیب: ایک بدھ مت اور اسلام مکالمہ" بھی شامل ہے۔

تقدس مآب، چودھویں دلائی لامہ نے بھی اس طرح بار بار لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس "عالمگیر ذمہ داری" کو قبول کریں جو ان سے ایک پُر امن دنیا کی تخلیق کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتی ہے اور جس کی بنیاد اس "سیکولر اخلاقیات" پر رکھی گئی ہےجو تمام ادیان اور انسانیت نواز نظاموں میں مشترک ہے۔ دلائی لامہ کی دعوت سب لوگوں کے لیے عام ہے، مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی اور "نہ ماننے والوں" کے لیے بھی۔ یہ "سیکولر اخلاقیات" اپنی بنا اساسی انسانی قدروں کے اثبات پر رکھتی ہیں۔ مثلاً سب انسانوں کی مشترکہ خواہش کہ خوش رہا جائے اور نا خوش ہونے سے بچا جائے اور سب انسانوں کا مساوی حق کہ وہ خوشی سے لطف اندوز ہوں اور دکھ نہ اٹھائیں۔

اپنی اس دعوت کی روشنی میں تقدس مآب بہت سے بین المذاہب مکالموں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کا خاص موضوع بدھ مت۔ مسلم تعلقات تھا۔ اس مکالمے کا نقطۂ آغاز وہ ملاقات تھی جو ان کے اور ڈاکٹر ترمذیاؤ ڈیالو کے درمیان دھرمشالہ، ہندوستان میں مارچ ۱۹۹۵ء میں ہوئی۔ ڈاکٹر ڈیالو گنی، مغربی افریقہ کے صوفی سلسلے کے موروثی سربراہ ہیں۔ اس ملاقات میں بدھ مت اور تصوف کے تصور رحم اور درد مندی کا موضوع زیرِ گفتگو رہا۔ اس کے بعد دیگر اجلاس بھی ہوئے جن میں سان فرانسسکو، کیلی فورنیا، امریکہ کا اپریل۲۰۰۶ء کا "جلسہ آگہی اور درد مندی والے دلوں کا جلسہ" بھی شامل تھا اور پراگ چیک جمہوریہ میں اکتوبر۲۰۰۶ء کا جلسہ بھی جس کا عنوان تھا "عالمگیریت کے خطرات: مذہب اس کا حل ہیں  یا ان مسائل کا سبب ہیں؟"

اہل علم و تحقیق کی طرف سے بدھ مت اور اسلام کے موضوع اور مباحث سے متعلق کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی رہی ہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ تاریخی تحقیق کے ذریعے دونوں مذاہب کے درمیان بہتر افہام و تفہیم پیدا کی جا سکے۔ باہمی تعاون کی اس نوع کی کوششوں میں میری شرکت مئی ۱۹۹۴ء میں شروع ہوئی جب بشکک، کرغیزستان اور الماتی، قازقستان کی دانشگاہوں کے مسلم اہلِ علم سے میری ملاقاتوں کا آغاز ہوا اور یہ گفتگو بعد ازاں استنبول ترکی، فروری ۱۹۹۵ء میں بھی جاری رہی۔ اس سرگرمی کا ہدف یہ تھا کہ بندوستان اور مرکزی ایشیا میں اسلام اور بدھ مت کے باہمی تعلقات کا زیادہ معروضی تجزیہ کیا جا سکے جو اس طرح کے یک رخے بیانات سے آزاد ہو جن میں صرف فساد کی اطلاعات اور بدھ مت کی خانقاہوں کو منہدم کرنے کی خبروں پر زور دیا جاتا ہے۔ تبادلۂ خیال کا یہ دائرہ نومبر ۱۹۹۵ء سے مزید وسیع ہوتا رہا جب قاہرہ، مصر اور مفرق، اردن اور استنبول میں مزید اجلاس ہوئے۔ اکتوبر ۱۹۹۶ء میں مذاکرات کا وسیع تر دور شروع ہوا جس میں بشکک، الماتی، قاہرہ، مفرق اور ترکی میں استنبول، قونیہ، قیصری اور انقرہ کی دانشگاہوں کے دورے شامل تھے۔ تبادلۂ معلومات کے اس عمل کے نتیجے میں مجھے جو سطح فہم میسر آئی، بہ الفاظ دگر میرا حاصلِ علم، وہ میری الیکٹرونی کتاب "منگول سلطنت سے قبل بدھ مت اور اسلامی ثقافتوں کے تاریخی روابط" ( The Historical Interaction between the Buddhist and Islamic Cultures before the Mongol Empire ) میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ماضی قریب پر نظر ڈالیے تو پتا چلتا ہے کہ گلاسگو، سکاٹ لینڈ میں اکتوبر – نومبر ۲۰۰۶ء میں منعقدہ جیرالڈ ویسفیلڈ لیکچرز بابت اسلام میں دو طرح کے مقالات شامل تھے، "بدھ مت، اسلام کی نظر میں" اور "اسلام، بدھ مت کی نظر میں"۔ اسی نوع کی علمی کانفرنس وہ تھی جو واربرگ انسٹی ٹیوٹ نے لندن، انگلستان میں نومبر ۲۰۰۶ء میں "اسلام اور تبت کے ثقافتی تعلقات" کے عنوان سے منعقد کی تھی۔ ما قبل مذکور معلومات سے یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے ادارے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ادیان عالم اور انسانیت نواز نظاموں میں باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی اہمیت کیا ہے اور اس میں اسلام اور بدھ مت کی کیا حیثیت ہے۔

مستقبل میں مکالمے کے امکانات

بدھ مت اور اسلام کے موجودہ مکالموں کا مرکزی ہدف توجہ ایک نکتہ رہا ہے اور وہ ہے ایک ایسی مشترک اخلاقیات کی تلاش یا بازیافت جو دنیا میں پھیلتے مذہبی فساد و عناد کی لہر کو روکنے میں مدد دے سکے۔ اسے پیشِ نظر رکھتے ہوئے، تقدس مآب، چودھویں دلائی لامہ نے میڈیسن، وسکونسن، امریکہ میں مئی ۲۰۰۷ء کے ایک عوامی لیکچر"درد مندی مسرت  کا منبع" میں اس بات پر زور دیا کہ اخلاقیات کے بارے میں ایک انتہا پسند نقطۂ نظر سے بچنا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کا ایک پہلو یہ ہے کہ کوئی ایک مذہبی نظامِ معتقدات اخلاقیات کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ دوسرے پہلو سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر لوگ ایک خاص مذہبی نظام کے پابند نہ ہوں یا مذہب ہی سے عمومی طور پر بے گانہ ہوں تو لازماً ان کے ہاں اخلاقیات کا فقدان ہو گا۔ تقدس مآب نے واضح کیا کہ کچھ مسلمان، بالخصوص، اس نقطۂ نظر کے حامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی جو "بنیادی انسانی اقدار پر مبنی سیکولر    اخلاقیات" کی تشکیل کی دعوت دی ہے اور اس کے شرح یوں کی کہ اس نوع کی اخلاقیات سے مذہب پر اساس رکھنے والی اخلاقیات کو نہ تو کوئی خطرہ ہے نہ یہ لا دینی اخلاقیات اسے اقلیم اخلاقیات سے خارج کر سکتی ہیں ۔ اس کے برعکس یہ تو سارے مذاہب اور انسانیت نواز نظاموں کی مشترک اقدار کی جامع ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حصول مسرت کی خواہش اور دکھ درد سے آزاد رہنے کی تمنا تو ان حیاتیاتی عوامل سے پیدا ہوتی ہے جو انسان میں خلقی طور پر موجود ہیں خواہ یہ نظامِ حیات و حیاتیات خدا کا تخلیق کردہ ہو یا اس کے سوا۔

تقدس مآب کی یہ توضیح شاید اس رد عمل کو دیکھ کر مرتب کی گئی تھی جو بہت سے مسلمان رہنماؤں کی جانب سے "انسانی حقوق کا آفاقی منشور" کے بارے میں سامنے آیا تھا جو اقوام متحدہ نے ۱۹۴۸ء میں جاری کیا تھا۔ بعد ازاں سوڈان، پاکستان، ایران اور سعودی عرب نے اس پر یہ تنقید بھی کی کہ اس اعلان میں مغربی دنیا کے علاوہ باقی ادیان اور تہذیبوں کی اقدار کو شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے اعتراضات نے آگے چل کر "قاہرہ  کے اسلام میں حقوق انسانی کا منشور" کی تشکیل کی جسے ۴۸ اسلامی ممالک  نے ۱۹۹۰ء میں "اسلامی کانفرنس کی تنظیم" میں قبول کیا۔ اس دستاویز میں صرف ان انسانی حقوق کو پذیرائی حاصل ہوئی جو اسلامی قانون، یعنی شریعت سے مطابقت رکھتے تھے۔

سو اگر مسلمان اور بدھ مت کے پیرو کار اپنے دو طرفہ تعلقات ہی میں نہیں بلکہ دنیا میں عمومی طور پر امن کے فروغ کے لیے، سماجی انصاف اور ہم آہنگی کے لیے تعاون کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ مزید تلاش و تحقیق سے کام لیں اور اپنی اپنی اخلاقی تعلیمات کے مشترک عناصر پر اس تعاون کی بنیاد استوار کریں۔ "کالچکر تنتر" کی تحریروں میں اس مشترک اقلیم فکر کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں دونوں ادیان کے ماننے والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور دونوں مذاہب کے پیروکار اخلاقیات کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہندوستان میں بدھ مت کی ابتدائی فلسفیانہ تحریروں میں تو اللہ کے خالق کائنات ہونے کے بارے میں، ایک الٰہِ خالّق کے بارے میں مفصل بحثیں ملتی ہیں کیونکہ مختلف ہندو نظام عقائد میں خدا کو خالق مانا گیا تھا لیکن کالچکر تحریروں میں صرف اتنا درج ہے کہ مسلمان الرحمٰن کو خالق مانتے ہیں۔ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ خدائے قادر و خالّق کے وجود کا مسئلہ اگر بدھ مت کی تحریروں میں زیرِ بحث نہیں لایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نظر میں یہ ایک لا حاصل بحث تھی کہ کائنات کے طبعی اخلاقی نظام کا صدور خدا کی ذات سے ہوتا ہے یا اسے غیر  تخلیق شدہ  قرار دیا جانا چاہیے۔ انڈونیشیا میں البتہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ مذاہب میں شامل ہونے کی شرائط پوری کرنے کے لیے بدھ مت والوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ کالچکر کے آدی-بدھ کی حیثیت خالق کائنات کی ہے: اس مسئلے کا گہرائی میں جا کر تجزیہ کرنا فساد کے مقابل بین المذاہب تعاون کو فروغ دینے کے لیے آج بھی اتنا ہی عبث معلوم ہوتا ہے جتنا اس وقت تھا جب کالچکر مکتب فکر کی چیزیں معرض تحریر میں آئی تھیں۔ پھر یہ بھی پیش نطر رہنا چاہیے کہ دونوں مذاہب میں اس مسئلے پر دینی جذبات کی فراوانی پائی جاتی ہے اور دونوں مذاہب کے عام ماننے والوں کے لیے یہ بحث اتنی زیادہ فلسفیانہ ہے کہ وہ اسے اپنی روزمرہ کی زندگی اور تجربے سے کسی بامعنی انداز میں ربط رہنے سے قاصر ہیں۔

اسلام اور بدھ مت کے معتقداتی مکالمے کے لیے زیادہ بامعنی مباحثہ شاید مذہبی جنگ کا موضوع ہے۔ اسلام میں عربی کے لفظ "جہاد" کا مطلب ہے ایسی جدو جہد، کاوش جس سے انسان کو اللہ کی خاطر صعوبت اٹھانا پڑےاور  تکلیف جھیلنا پڑے۔ جہاد کی اقسام کی کئی طرح درجہ بندی کی گئی ہے تاہم اکثر مسلمان اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ جہاد کی دو بنیادی قسمیں ہیں: جہاد اکبر اور جہاد اصغر۔ "جہاد اکبر" نفس انسانی کے اندر ان خیالات اور میلانات کے خلاف جدوجہد ہے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ "جہاد اصغر" وہ مسلح جدوجہد ہے جو اسلام کو درپیش خارجی خطرات کے خلاف اور خود کو، اپنے خاندان کواور  اپنے معاشرے کو لاحق ہونے والے خطرات کے دفاع کے لیے کی جاتی ہے۔

مسلم علماء اور اہل دین کی آراء اس باب میں مختلف ہیں کہ دونوں اقسام جہاد میں سے زیادہ بنیادی کونسی قسم ہے لیکن اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ قرآن مجید میں اسلام کے دفاع کے لیے مسلح جدوجہد کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم، اسلام اور بدھ مت کے مکالمے کے لیے اور علاقائی اور عالمی امن اور باہمی تعاون بڑھانے کے لیے جو معتقداتی موضوع بارآوری کے زیادہ امکانات رکھتا ہے اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے وہ جہاد اکبر کا موضوع ہے۔ جہاد اکبر کے افضل ہونے کی دلیل کے طور پر بعض علماء درج ذیل حدیث پیش کرتے ہیں۔

ایک غزوے سے لوٹنے والے کچھ دستے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا "تم بہترین چیز کی طرف آ گئے ہو، جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی جانب"۔ کسی نے پوچھا "جہاد اکبر کیا ہے؟" آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا "بندے کی لڑائی خواہشات نفس کے خلاف۔


آٹھویں صدی عیسوی کے ہندوستانی گرو، شانتی دیو نے اپنی کتاب "بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا" [۱] میں کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے جب وہ پریشان کن جذبات و داعیات، مثلاً غصے کے خلاف داخلی جنگ کو بہتر قرار دیتا ہے:

ظالم مخلوق (ہر جگہ) ہے،
   جیسے فضا ہر طرف
 یہ ممکن کہاں کہ میں ان میں سے
   ہر ایک کو ختم کردوں
 لیکن اگر میں یہ غضبناک،
   غصے میں بھرا دماغ ہی ختم کر لوں
 تو جانو کہ میں نے اُن سب دشمنوں
   کو تباہ کر دیا۔


معتقدات اور تعلیمات کی سطح پر بدھ مت ایک بہتر حیثیت میں ہے کہ اسلام سے دو قسم کے جہاد کے بارے میں مکالمہ کر سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بدھ مت کی تعلیمات میں بھی جہاد اصغر کی قبیل کی چیز پائی جاتی ہے۔ چنانچہ تقدس مآب چودھویں دلائی لاما نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ اگر دوسرے انسانوں پر تشدد اور فساد کو روکنے کے لیے سب پر امن اور عدم جارحیت پر مبنی طریقے ناکام ہو جائیں تو بعض اوقات اس مقصد کے حصول کے لیے طاقت کا ستعمال نا گزیر ہو جاتا ہے۔ تاہم ان سنگین حالات میں بھی ہماری نیت اور محرک عمل، ظالم اور مظلوم فسادیوں اور متاثرینِ فساد دونوں کے لیے دردمندی کا جذبہ ہونا چاہیے نہ کہ غصہ اور نفرت۔ چونکہ فساد سے بالعموم مزید فساد ہی جنم لیا کرتا ہے لہذا عدم جارحیت کے طریقوں کو ہمیشہ ترجیح حاصل ہو گی۔

جہاد سے متعلق بدھ مت اور اسلام کے مکالمے کی حدود کو مزید وسعت دینے سے کچھ اور نتائج بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور ماحولیاتی بحران کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے کے لیے تدابیر وضع کرنا بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر درجہ حرارت میں عالمگیر اضافے اور ماحولیاتی خرابی کا مقابلہ کرنے اور ان کی اصلاح کے لیے اگرچہ خارجی اقدامات اور طریقے درکار ہیں لیکن اس ضمن میں ایک داخلی جدو جہد کہیں زیادہ لازمی ہے جو کوتاہ بینی پر مبنی اس خود غرضی اور ہوس پر غلبہ پا سکتی ہے جس نے مسئلے کی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ 

اسلامی عبادات اور مراسم جو بدھ مت والوں کے لیے مددگار ہو سکتے ہیں

جیسے جیسے بین المذاہب مکالمے میں اضافہ ہو رہا ہے دنیا کے مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کی  ی تعلیمات اور طور طریقوں سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے تو یہ بھی دریافت کیا کہ دوسرے ادیان کی بعض رسوم اور طریقے ایسے ہیں جو ان کی اپنی روایت سے ہم آہنگ ہیں اور ان سے ایسے اعمال و اشغال سیکھے جائیں جن سے اپنے مذہب کے اصولوں کا معمولات زندگی پر اطلاق کرنا زيادہ ہو جاتا ہے۔ اس رجحان کی روشنی میں بہت سے اسلامی شعائر شاید بدھ مت والوں کے لیے مزید دلچسپی کا سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔

اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو ہر صاحب استطاعت صحتمند مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج بیت اللہ کرنا فرض ہے۔ حج کے دوران ہر شخص کو ایک سا لباس پہننا ہوتا ہے۔ اسے احرام کہتے ہیں جو دو سفید چادریں اور پاؤں میں چپل پر مشتمل ہوتا ہے۔ خواتین کے لیے کوئی مقررہ لباس نہیں۔ وہ اپنے اپنے ملک کا باپردہ زنانہ لباس استعمال کرتی ہیں۔ مردوں کے لیے حج کا لباس مسلمانوں میں مساوات اور برابری کی علامت ہے، امیر غریب، طبقے و فرقے کے فرق اور ملکوں و علاقوں کی غیریت مٹا کر ایک ہی جامۂفقر میں ملبوس ہوتے ہیں جو انہیں یاد دلاتا رہتا ہے کہ حج سادگی، انکسار اور گناہوں سے مغفرت حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔ حج کرنے والے سب لوگ ایک سے مقررہ شعائر کو ایک ضابطے کے مطابق انجام دیتے ہیں اور سبھی پر پابندی ہوتی ہے کہ حج کے ایام میں کچھ چیزوں سے اجتناب کریں جس میں دوسرے لوگوں کو عمداً تکليف دینا، جنسی تعلقات، لڑائی جھگڑا اور بدکلامی شامل ہیں۔

بدھ مت کی مختلف روایتوں کے پیرو کاروں میں بہت سے لوگ بھی زندگی میں ایک مرتبہ بودھ گیا کی زیارت سے مشرف ہونے کی آرزو رکھتے ہیں۔ بودھ گیا ہندوستان کا وہ مقدس مقام ہے جہاں مہاتما بدھ کو روشن ضمیری حاصل ہوا۔ یہاں آنے والے زائرین کے لیے کوئی مقررہ رسومات نہیں ہیں نہ کسی خاص لباس اور طرز عمل کی پابندی ہے۔ مختلف علاقوں اور روایتوں کے بودھوں میں یکجہتی اور وحدت پیدا کرنے کے لیے یہ ایک قابل توجہ نکتہ ہے کہ بدھ مت کے زائرین حج کے بعض مراسم اپنے ہاں اختیار کر لیں اور انہیں بدھ مت کے عقائد کے مطابق ڈھال لیں۔ سال کے کسی خاص دن کو یوم زیارت قرار دینے کی تو شاید ضرورت نہ ہو تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ بدھ مت کے عام زائرین ایک سے سادہ لباس میں ملبوس ہوں اور بودھ گیا میں اپنے قیام کے دوران رسوم و عبادات ایک مجوزہ ترتیب سے انجام دیں جو بدھ مت کی تمام شکلوں کے لیے قابل قبول ہو۔

اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک زکوۃ ہے جس کے تحت ایک خاص حد سے اوپر اپنی جملہ آمدنی کا اڑھائی فیصد حصہ غریبوں کو صدقہ کر دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بدھ مت کی ساری شکلیں یہی تعلیم کرتی ہیں کہ سخاوت کے دور رس رویوں کمال میں سے ایک ہے۔ اسی لیے بدھ مت کے عام پیروکاروں میں روایتی طور پر یہ رسم ہے کہ وہ راہبوں ، راہباؤں اور ان کی خانقاہوں کو کھانا اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرتے رہتے ہیں تاہم ضرورت مند اور غریب محتاج لوگوں کی مدد اور ان کے لیے فیاضی کا رویہ بدھ مت کے عام پیرو کاروں میں خاصا نایاب ہے۔ حالیہ زمانے میں کئی بودھ تحریکوں نے اس کمی کے ازالے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ جیسے کہ "بدھ مت مہربان امدادی دزو چی فاؤنڈیشن" جو تائیوان میں ۱۹۶۶ء میں مرشد چنگ ین نے قائم کی اور "مصروف بودھیوں  کے بین الاقوامی نیٹ ورک" تھائی لینڈ میں ۱۹۸۷ء میں سولک سیوا رکسا کے ذریعے عمل میں آیا۔ مسلمانوں میں جو اپنے مال پر ایک نظام کے تحت ٹیکس دینے کا رواج ہے اس سے رہنمائی ملتی ہے کہ اس سلسلے میں بدھ مت والے اور بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

بدھ مت کے ہاں یہ تو ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں میں کشادہ دلی، سخاوت اور دوسرے دور رس رویوں کی نمو اور آبیاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس کی تحریک اور آغاز لوگوں کو خود کرنا ہوتا ہے۔ اگر غریبوں کے لیے ایک خاص مالی ٹیکس لازم کر دیا جائے تو اس سے مذکورہ ضبط نفس غیر اہم ہو جائے گا۔ تاہم اپنی آمدنی میں سے سالانہ ایک مقررہ فیصد رقم غریبوں کی مدد اور دیکھ ریکھ کے لیے مخصوص کرنے کے بارے میں معین تجاویز عمومی طور پر مدد گار ہو سکتی ہیں۔ نیز اس غرض سے مزید رضا کار ادارے اور تنظیمیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں جو ان عطیات اور صدقات کو تقسیم کرنے کی ذمہ داری قبول کریں۔

آخری نکتہ یہ کہ بدھ مت کے پیرو کار اسلام سے ایک اور معاملے میں بھی سود مند طریقے سیکھ سکتے ہیں کہ نشے کے عادی افراد کی بحالی اور علاج کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر زنجبار میں بحالی کے پروگراموں میں نشے کی عادت چھوڑنے کے لیے کوشاں مریضوں کے وقت کا ایک حصہ مذہبی رسوم و عبادات میں صرف کروایا جاتا ہے، جیسے دن کی پانچ نمازیں۔ اس سے انہیں جسمانی اور ذہنی مشکلات سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے جس کا نشہ چھوڑنے کے عمل میں انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایک نئے اور زیادہ مثبت رخ پر ڈھال سکتے ہیں۔

ایشیا کے کئی ایسے معاشروں میں شراب اور منشیات کی عادت بڑھ رہی ہے جو بدھ مت کے پیرو کار ہیں۔ ہیروئن کا استعمال نہ صرف برما/میانمار، تھائی لینڈ اور لاؤس کی سنہری تکون میں عام ہو گیا ہے بلکہ ان علاقوں سے باہر بھی پھیل رہا ہے۔ ہندوستان اور نیپال میں تبت سے جو لوگ مہاجر ہو کر آئے ان کی نئی نسل کے مایوس اور دل شکنی کے شکار بچوں میں روز بروز منشیات کی لت بڑھ رہی ہے۔ ایک زنجبار میں سے کسی کو بھی اسی طرح کے پروگرام کے عادی کی وصولی کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے. منگولیا میں کئی دہائیوں سے کثرت شراب نوشی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور اب منشیات کے عادی لوگ بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ سو اگر ہندوستان، تبت ، منگولیا کے بدھ مت کے حوالے سے بات کیجیے تو بحالی و بہبود کے پروگرام میں تزکیے کی غرض سے سجدہ اور ایسی دوسری ابتدائی عبادات کا ایک لاکھ دفعہ انجام دینا اگر شامل کر دیا جائے تو وہ ایک اچھی تجویز ہو گی۔

اختتامیہ

خلاصہ یہ کہ روایتی طور پر بدھ مت کے علماء اور پیروکاروں نے اسلام کی تعلیمات میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ اس کا سبب کوئی ثقافتی نخوت نہیں تھی بلکہ وجہ یہ تھی کہ بدھ مت والوں نے معتقداتی مکالمے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور ضرورت کا احساس اس لیے نہیں کیا کہ بدھ مت اور دیگر ادیان کے رابطے کے بر عکس یہاں نہ تو بدھ مت اسلامی دنیا کے کسی علاقے میں پھیل رہا تھا اور نہ ہی اسے شاہی سر پرستی کے لیے اسلام کے مقابلے میں اترنے کی نوبت آئی تھی۔ بدھ مت والوں نے اس وقت بھی عقائد و تعلیمات پر کسی مکالمے کی ضرورت محسوس نہیں کی جب مسلم فوجوں نے ہندوستان میں ان کی خانقاہیں گرا دیں یا بدھ مت کے روایتی علاقوں مثلاً وسطی ایشیا اور انڈونیشیا میں اسلام پر امن طریقے سے پھیلنے لگا۔ بدھ مت کے پیروکارہں کو مذہب بدلنے کی ہمیشہ آزادی رہی ہے اور جب ایک مرتبہ خانقاہیں تباہ ہو گئیں تو اس کے بعد ان پر تباہی لانے والوں سے معتقداتی مکالمہ کرنا ایک بے مقصد عمل تھا۔ بدھ مت کی طرف سے ایسا ہی رد عمل حالیہ زمانے میں ہونے والے جبرو تشدد اور تباہ کاری کے جواب میں سامنے آیا جب انہیں روس، منگولیا، چین، ویتنام، لاؤس اور کمبوڈیا کی کمیونسٹ حکومتوں کے مظالم اٹھانے پڑے۔

اسلام کے ساتھ عقائد و تعلیمات کی سطح پر مکالمہ کرنے کی بدھ مت کی تاریخ میں صرف ایک مثال ملتی ہے جب دسویں صدی عیسوی کے اواخر میں انہیں مسلمانوں کے ایک مسلح شدت پسند اقلیتی فرقے کی طرف سے حملے اور ظلم کا خطرہ ہوا، اس خطرناک صورت حال میں بھی بدھ مت کی تحریروں میں اسلامی عقائد میں سے کسی عقیدے کو رد کرنے کی کوشش نظر نہیں آتی۔ اس کی جگہ سعی یہ کی گئی کہ دونوں ادیان کے درمیان مشترک چیزیں دریافت کی جائیں تاکہ حملہ آور مسلمان گروہ کو بدھ مت کے نقطۂ نطرسے بہتر انداز میں آگاہ کیا جا سکے۔ سو آج بھی اگر بدھ مت اور اسلام کے مکالمے کا سب سے نتیجہ خیز طریقہ یہی ہے کہ دونوں مذاہب کے درمیان اس مشترک سرزمین فکر کی نشاندہی کی جائے جس کے حوالے سے بڑھتے ہوئے گروہی اور مذہبی تصادم، مسلح لڑائی، دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ، ماحولیاتی آلودگی اور منشیات کے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پرامن تعاون اور باہمی افہام وتفہیم سے ہی شاید آج کے ان سنگین مسائل کے حل تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

پس نوشت

جرمنی کے شہر ہمبرگ میں جولائی ۲۰۰۷ء میں تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ نے "ہمہ گیریت کی اس دنیا میں درد مندی" کے عنوان سے ایک لیکچر دیا۔ اس میں مستقبل کے بدھ مت اور اسلام کے مکالمے کی کامیابی کے حوالے سے ایک نہایت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ معتقداتی اختلافات کا حل ایسی صورت میں کیونکر  ہوسکتا  ہے جب کچھ ادیان صرف ایک صداقت کا دعویٰ رکھتے ہیں جبکہ دوسرے ادیان متعدد صداقتوں کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔ تقدس مآب نے وضاحت کی کہ دین ایک انفرادی معاملہ ہے لہذا ہر شخص کے لیے اس کے معتقدات، فی الحقیقت، اس کی واحد صداقت ہوتے ہیں۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں اور متعدد صداقتیں جن پر ان مذاہب کے ماننے والے ایمان رکھتے ہیں۔ اس نکتے کی تفصیل ان کے الفاظ میں یوں تھی:

میرے عیسائی اور مسلمان دوستو، حقیقت یہ ہے کہ مذاہب متعدد ہیں اور متعدد صداقتوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے اور حقیقت ہماری خواہشات سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ لہذا بہت سی اقوام اور بہت سے انسانی گروہوں کی نسبت سے متعدد ادیان ہی مناسب ہیں۔ جو لوگ اس خیال کے حامل ہیں کہ صداقت صرف ایک ہے، مذہب صرف ایک ہی ہے تو انہیں اسے اپنےتک رکھنا چاہیے۔ براہ کرم دوسروں کے مذہب کا احترام کیجیے کیونکہ ان مذاہب سے ہمارے بہنوں اور بھائیوں کو گہری مدد فراہم ہوتی ہے۔

میں دوسرے تمام مذاہب عیسایت، اسلام، ہندومت، یہودیت کی قدر کرتا ہوں، ان کا معترف ہوں، ان کا احترام کرتا ہوں۔ کچھ عیسائی مجھے اچھا عیسائی کہتے ہیں اور میں ان کو اچھے بودھ سمجھتا ہوں۔ میں عیسائیت کے سب بڑے مراسم و شعائر کو تسلیم کرتا ہوں جیسے درگذر، شفقت و مہربانی، حسن سلوک۔ لیکن میرے نزدیک علت و معلول مذہب کی بنیاد ہے جبکہ وہ خدا کو مذہب کی بنیاد مانتے ہیں۔ مِں ان سے کہتا ہوں کہ منحصر پیدایش اور خالی پن ہمارا مسئلہ ہے ان کا نہیں لیکن اس کے علاوہ باقی تمام پہلو تو ہم سب کے لیے ایک ہی ہیں۔ یہی تمام ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔


ان آخری کلمات میں جن مشترک اخلاقی اقدار پر زور دیا گیا ہے وہ بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں کے مابین آہنگی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔


[۱]"بودھی-ستوا سیرت و کردار کی پرداخت"، باب ۵، شعر ۱۲۔