ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ایشیا میں بدھ مت کا فروغ

یہ مقالہ سب سے پہلے الیکزینڈر برزن کی کتاب
Buddhism and Its Impact on Asia. Asian Mongraphs, no. 8.
Cairo: Cairo University, Centre of Asian Studies, June 1996.

میں شائع ہوا

مختصر تاریخ

گرچہ بدھ مت کبھی بھی ایک مشنری مذہب کے طور پر پھیلایا نہیں گیا۔ تا ہم، بودھ کی تعلیمات برِصغیر ہندوستان میں دور دور تک اور پھر پورے ایشیا میں پھیل گئی تھیں۔ ہراس نئی ثقافت میں جہاں تک بودھ کی رسائی ہوئی، اپنی بنیادی درد مندی اور حکمت میں کسی طرح کی تخفیف کیے بغیر وہاں  بدھ مت کےطریقہ کار اور اسالیب میں مقامی ذہنیت کے مطابق ردّ و بدل کی جاتی رہی۔ بہر حال، بدھ مت میں کبھی کسی مذہبی اقتدار اور اس کے حاکم اعلٰی کی کوئی درجہ بندی نہيں کی گئی۔ ہر وہ ملک جہاں بدھ مت پہنچا، اس نے اپنے اسالیب کی خود تشکیل کی، اپنا مذھبی ڈھانچہ تیار کیا اور اپنے روحانی پیشوا کا انتخاب کیا۔ ایسی شخصیتوں میں اس وقت عالمی سطح پر سب سے معروف اور معزز شخصیت، تبت کے تقدس مآب دلائی لاما کی ہے۔

بدھ مت کے دو بڑے مسالک ہیں۔ اول، ہینیان یعنی چھوٹا حلقہ جس میں ذاتی مُکش پر زور دیا جاتا ہے اور دوسرا مسلک ہے مہایان یعنی وسیع حلقہ جس میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ انسان ایک مکمل اور روشن ضمیر بودھ بننے کی کوشش کرے تاکہ وہ دوسروں کی مدد کر سکے- ان دو مسالک کے مزید ذیلی حصے ہیں۔ حالیہ دور میں بدھ مت کی تین اہم قسمیں پائی جاتی ہیں۔ ہینیان جسے تھرواد کے طور پر جانا جاتا ہے اورجو جنوب مشرقی ایشیا میں پھیلا ہے اور پھر مہایان جو چینی اور تبتی روایات کا ملا جلا روپ ہے۔

تھرواد روایات ہندوستان سے سری لنکا اور برما میں تیسری صدی قبل مسیح کے دوران پہنچی اور وہاں سے جنوب مغربی چین کے یوننان اور پھر تھائی لینڈ، لاؤس، کمبوڈیا، جنوبی ویتنام اور انڈونیشیا تک۔ جلد ہی ہندوستانی تاجروں کا ایک گروہ بدھ مت کا تھا۔ جزیرۃ العرب کے ساحلی علاقے یہاں تک کہ مصر کے اسکندریہ تک جا پہنچا۔ ہینیان کی دوسری قسم اسی وقت سے موجودہ پاکستان، کشمیر، افغانستان، ایران کے مشرقی اور ساحلی حصے، ازبکستان، ترکمانستان اورتاجکستان میں پھیل گئی۔ یہ ماضی کے  گندھارا، باختر، پارتھیا اور سغدیہ جیسے ملک تھے۔ وسطی ایشیا کے اسی مرکز سے بدھ مت کے یہ قسمیں دوسری صدی عیسوی کے دوران مشرقی ترکستان (سنکیانگ) اور اس کے آگے چین تک پھیل گئیں اور پھر ساتویں صدی عیسوی میں کرغیزستان اور قازقستان تک پہنچ گئیں۔ ہینیان کی ان شکلوں کا بعد میں مہایان کے عناصر سے، جو ہندوستان سے آئے تھے، امتزاج ہوگیا اور اس طرح، آخر کار، وسطی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں مہایان ہی بدھ مت کی غالب شکل کے طور پر سامنے آیا۔

مہایان کی چینی شکل بعد میں کوریا، جاپان اور شمالی ویتنام میں پھیلی۔ مہایان کی ایک اولیں لہرجو ہندو مت کی شو مت شاخ ہندوستان سے خلط ملط ہو کر نیپال، انڈونیشیا، ملیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھہ حصوں میں پانچویں صدی عیسوی سے پھیلنا شروع ہو چکی تھی، تبتی مہایان کی روایات جو ساتویں صدی عیسوی میں رونما ہوئی تھیں اور جو ہندوستانی بدھ مت کے تاریخی ارتقاء کو اپنے اندر جذب کیئے ہوئے تھیں، ہمالیائی علاقوں میں پھیل گئیں اور پھر منگولیا، مشرقی ترکستان، کرغیزستان، قازقستان، مشرقی اندرونی چین، منچوریا، سائبیریا اور کلمیک منگول علاقے، جو بحیرہ قزوین کے پاس روس کے یورپی حصے  میں شامل واقع ہیں، وہاں تک پھیل گیا۔

بدھ مت نے کس طریقے سے فروغ پایا

ایشیا کے بیشتر حصوں میں شروع سے آخر تک بدھ مت کا فروغ ایک پُر امن سطح پر ہوا اور اس کے طریقے مختلف رہے۔ شاکیہمُنی بودھ نے اس کی مثال قائم کی تھی۔ بنیادی طور پر ایک معلم ہونے کی حیثیت سے انہوں نے آس پاس کے ملکوں کا دورہ کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ان کے پیغام میں دلچسپی دکھائی، ان کے ساتھہ اپنے بصیرت کو آگے بڑھاتے رہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے راہبوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ باہر کی دنیا میں جائیں اور بودھ کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کبھی یہ نہيں کہا کہ دوسرے مذاہب کی مذمّت کی جائے یا لوگوں سے یہ کہا جائے کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ کر ایک نیا مذہب صرف اس لیے قبول کر لیں کہ وہ ایک نیا مذہب قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ تو بس لوگوں کو اس دکھہ اور ناخوشی پر قابو پانے میں مدد کرنا چاہتے تھے جو ان کی ناسمجھی کی وجھ پیدا کردہ تھیں۔ ان کی آنے والی نسلوں کے پیروکار بودھ کی مثال سے بے حد متاثر ہوئے اور دوسروں کو اس طریقئہ کار کے بارے میں بتایا جو ان کی اپنی زندگی میں معاون اور مفید ثابت ہوئے تھے۔ یہی طریقہ اس وقت "بدھ مت" کے طور پر دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔

کبھی کبھی یہ سارا سلسلہ ایک فطری سطح پر عمل میں آیا مثلا جب بدھ مت کے تاجر دوسرے ممالک میں جا کر بس گئے، اس وقت مقامی لوگوں میں سے کچھہ لوگ ان اجنبی لوگوں کے عقیدے میں دلچسپی لینے لگے، جیسا کہ انڈونیشیا اور ملیشیا میں اسلام کے ساتھہ ہوا۔ یہی سلسلہ بدھ مت کی ان ریگستانی ریاستوں کے ساتھہ بھی رہا جو وسطی ایشیا کی شاہ راہ ریشم پر واقع ہیں۔ دوسری صدی قبل مسیح سے لے کر دوسری صدی عیسوی تک، جیسے جیسے مقامی حکمران اور عوام کو اس ہندوستانی مذہب کے بارے میں واقفیت حاصل ہوتی گئی، وہ تاجروں کے اپنے ملکوں سے بہ طور مشیر یا معلم راہبوں کو مدعو کرنے لگے اور اسی طرح آخر کار بدھ مت اختیار کر لیا۔ ایک اور فطری طریقہ یہ تھا کہ فاتح قوم کے لوگ بالآخر ثقافتی طور پر مقامی لوگوں میں ‌ضم ہو جائیں۔ یہ سلسلہ موجودہ پاکستان کے مرکزی علاقے میں یونانی لوگوں کے گندھارا کے بودھبدھ مت کے لوگوں میں ‌ضم ہو نے پر دوسری صدی قبل مسیح کے بعد ظہور میں آيا۔

اکثر یہ بھی ہوا کہ مذہب کا فروغ کسی ایسے حکمران کی کوششوں سے ہوا جس نے خود اس بدھ مت کو اپنا لیا تھا اور اس کی حمایت کرنے لگا تھا۔ مثال کے طور پر، تیسری صدی قبل مسیح کے وسط میں، راجہ اشوک کی حمایت کے باعث، بدھ مت پورے شمالی ہند میں پھیل گیا۔ اس عظیم حکمران نے اپنی رعایا کو مجبور نہيں کیا کہ وہ بدھ مت اپنا لیں، بلکہ انہوں نے ہر جگہ لوہے کے ستونوں پر بودھ کی تعلیمات کو کندہ کروایا تاکہ لوگ انہی احکاموں کے مطابق اخلاقی طور پر ایک درست زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے خود بھی انہی اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگی بسر کر کے دوسروں کے لیے بدھ مت کی ایک مثال قائم کر دی۔

راجہ اشوک نے نہایت پرجوش طریقے سے اپنی ریاست کے باہر مبلغوں کی جماعتیں بھیج کر لوگوں کو بدھ مت کی طرف مائل کیا۔ کبھی کبھی غیر ملکی حکمرانوں کے اصرار پر بھی انہوں نے ایسا کیا، جیسا کہ سری لنکا کے راجہ تشیا کے معاملے میں، جس نے ان کو مدعو کیا تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خود اپنی تحریک پر، دوسرے ملکوں میں راہب اور سفیر بھیجے۔ لیکن ان راہبوں نے کبھی کسی کو جبراً مذہب بدلنے کی ترغیب نہيں دی۔ ان کا مقصد بس یہی تھا کہ لوگوں تک بودھ کی تعلیمات کو پہنچا دیں اور اس کے بعد لوگ اس کا فیصلہ خود کریں کہ یہ مذہب انہيں راس آتا ہے کہ نہيں۔ یہ حقیقت اس بات سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ جنوبی ہندوستان اور جنوبی برما میں تو بدھ مت نے جلد ہی جڑ پکڑ لی لیکن ایسی کوئی دستاویز نہيں ملتی جس کی بنا پر ہم یہ کہہ سکیں کہ وسطی ایشیا کی یونانی آبادیوں میں فوری طور پر اس کا کوئی اثر ہوا۔

پھر دوسرے ایسے مذہبی حکمراں بھی تھے، مثلاً سولہویں صدی کا منگول تانا شاہ التن خان، جنہوں نے بودھ معلموں کو اپنے ملک میں مدعو کیا اور بدھ مت کو سرکاری مذہب کے طور پر اس ‌غرض سے اپنا لیا کہ رعایا کے مابین ایک وحدت کا احساس پیدا ہو اور وہ اپنی حکومت کو مستحکم بنا سکیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس عمل کے دوران انہوں نے پہلے سے رائج کچھہ مقامی مذاہب یا غیر بودھ طور طریقوں کو ممنوع قرار دے دیا ہو، یہاں تک کہ اس عقیدے کے ماننے والوں پر ظلم بھی کیا ہو۔ لیکن ایسے جابرانہ اقدامات بنیادی طور پر، سیاست سے وابستہ تھے۔ اس قسم کے مہم جو حکمرانوں نے کبھی بھی اپنی رعایا کو اس بات پر مجبور نہيں کیا کہ وہ بدھ مت کے عقیدے اور طریق عبادات کو اپنا لیں۔ کسی طرح کا جبر اس مذہب کے عقیدے کا حصہ نہيں ہے۔

اگرچہ  شاکیہمُنی بودھ نے لوگوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ ان کی تعلیمات کو کسی اندھے عقیدے کے طور پر نہ اپنائیں، بلکہ ان کو اختیار کرنے سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لیں تو یہ بات بھلا کیوں کر سوچی جا سکتی ہے کہ لوگ بودھ کی تعلیمات کو مبلغوں کی جبری تبلیغ کے نتیجے میں یا محض سرکاری فرمان کے تحت اپنا لیں! مثال کے طور پر، جب اوائل سترہویں صدی عیسوی ميں نیئجی توین نے منگول خانہ بدوشوں کو جو مشرقی حصے میں آباد تھے، بدھ مت کی طرف راغب کرنے کے لیے، بہ طور رشوت تحفے میں جانوروں کی پیشکش کی تو ان لوگوں نے اعلی افسروں سے شکایت کر دی۔ اس کے نتیجے میں اس دراز دست معلم کو سزا دے کر جلا وطن کر دیا گيا۔