ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور بون کی تاریخ > تبت میں مول-سرواستیواد تقرری سلسلوں کی تاریخ

تبت میں مول-سرواستیواد تقرری سلسلوں کی تاریخ

الیکزانڈر برزن، اگست ۲۰۰۷ء

اگرچہ تبت میں تین مواقع پر مول-سرواستیواد بھکشونی تقرر کے خطوط کا قیام ہوا، تاہم وہاں مول-سرواستیواد بھکشونی سنگھا کبھی بھی مضبوطی سے جڑ نہ پکڑ سکی۔ نتیجتاً وہ خواتین جو تبتی بودھی روایت میں مول-سرواستیواد ونایا کی پیرو ہیں اور بھکشونی تقرر کی خواہشمند، وہ شرمنریکا یعنی مبتدی راھبات بنتی ہیں۔

تبت میں مول-سرواستیواد بھکشونی تقرر کا اولین آغاز ۷۷۵ء میں ھندوستانی مرشد شنترکشت کی تیس عدد راھبوں کے ہمراہ آمد اور مرکزی تبت میں سامیے خانقاہ کے قیام سے ہوا۔ یہ آغاز تبتی شہنشاہ ٹری سونگ دتسن کے زیر سرپرستی ہوا۔ تاہم چونکہ نہ تو بارہ ھندوستانی مول-سرواستیواد بھکشونیاں اس وقت تبت آیں اور نہ ہی اس کے بعد تبتی خواتین اعلی تقرر کے حصول کی خاطر ھندوستان گئیں، لہذا اس اولین دور میں مول-سرواستیواد بھکشونی تقرری سلسلہ تبت میں قائم نہ ہوا۔

تاہم، دُن ہوانگ دستاویزات میں محفوظ ایک چینی مآخذ کے مطابق شہنشاہ ٹری سونگ دتسن کی ایک ثانوی بیگم، ملکہ ڈروزا جنگڈرون اور تیس دوسری خواتین نے سامیے خانقاہ سے بھکشونی تقرر حاصل کیا۔ یہ تقرر غالباً ان چینی راہبوں نے عطاء کیا جو ۷۸۱ء میں سامیے خانقاہ کے ترجمے کے دفتر میں مدعو کیے گئے تھے۔ کیونکہ چینی تانگ شہنشاہ ژنگ۔ژونگ نے ۷۰۹ء میں حکم جاری کیا تھا کہ چین میں صرف دھرمگپت تقرری سلسلہ کی پیروی ہو لہذا یہ تبتی بھکشونی تقرر بھی ضرور دھرمگپت سلسلہ میں ہوا ہو گا۔ اغلباً یہ تقرر اکلوتے سنگھا طریقہ سے عطا کیا گیا اور سامیے مباحثہ (۷۹۲۔۷۹۴ء) میں چینی گروہ کی شکست اور تبت سے اس کے اخراج کے بعد اس تقرر کا تسلسل قائم نہ رہ سکا۔

تبتی شہنشاہ ٹری رلپاچن (۸۱۵۔۸۳۶ء) نے اپنے دور حکومت میں فرمان جاری کیا تھا کہ ما سواء سرواستیوادی متون کے کسی اور ہینیان متن کا تبتی زبان میں ترجمہ نہ کیا جاوے ۔ اس حکم نے مؤثر طور پر مول-سرواستیواد کے علاوہ کسی دوسرے تقرری سلسلہ کا تبت میں داخلہ روک دیا۔

نویں صدی عیسوی کے اختتام یا دسویں صدی کی ابتدا میں جب شاہ لنگ درما نے بدھ مت پر جبر و سختی کی تو شنترکشت سے جاری شدہ مول-سرواستیواد بودھی سلسلہ تقریباً ختم ہی ہو گیا۔ تین باقی ماندہ مول-سرواستیواد بھکشوں نے دو چینی دھرمگپت بھکشوں کی مدد سے گونگپا۔رابسل کی مشرقی تبت میں تقرری سے اس بھکشو تقرری سلسہ کا از سرنو احیا کیا۔ تاہم اس وقت، دھرمگپت بھکشونیوں کو شامل کر کے مخلوط سلسلوں کی دوہری سنگھا کے ذریعے مول-سرواستیواد بھکشونی تقرر کا کوئی متشابہ طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔

[دیکھیے: دسویں صدی تبت میں راھبانہ تقرری سلسلہ کا احیا۔]

گونگپا۔رابسل سے جاری شدہ مول-سرواستیواد بھکشو تقرر واپس مرکزی تبت میں لایا گیا اور یہ بطور "زیریں تبتی ونایا" روایت کے مشہور ہوا۔ جبکہ مغربی تبت میں دسویں صدی عیسوی کے اختتام پر شاہ یے-شے-وو نے اپنی مملکت میں مول-سرواستیواد بھکشو تقرر کے قیام، یا شاید دوبارہ قیام، کے لیے ھندوستان کا انتخاب کیا۔ پس اس نے مشرقی ھندوستانی پنڈت دھرم پال اور اس کے متعدد چیلوں کو مغربی تبت میں واقع گوگے میں مدعو کیا تاکہ وہ دوسرے مول-سرواستیواد بھکشو تقرری سلسلے کو قائم کریں۔ یہ سلسلہ "بالای تبتی ونایا" روایت کے نام سے مشہور ہے۔

"وقائع گوگے" کے مطابق گوگے میں اس وقت ایک راہبات کے مول-سرواستیواد فرقے کا قیام بھی عمل میں لایا گیا اور شاہ یے-شے-وو کی دختر لہای۔میتوگ کا اس میں تقرر بھی ہوا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تقرر بطور ایک بھکشونی کے ہوا یا بطور ایک شرمنریکا یعنی مبتدی راہبہ کے۔ بہرحال، یہ بھی واضح نہیں کہ کیا تقرر عطا کرنے کے لیے مول-سرواستیواد بھکشونیوں کو گوگے مدعو کیا گیا تھا اور اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایک مول-سرواستیواد بھکشونی سنگھا اس وقت مغربی تبت میں مضبوطی سے قائم ہو گئی۔

۱۲۰۴ء میں تبتی مترجم ٹروپو لوتساوا نے نلندا خانقاہ کے آخری تخت نشین، ھندوستانی مرشد شاکیہ شری بھادرا کو غوری خاندان کے حملہ آور گُز ترکوں کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے تبت مدعو کیا۔ تبت میں قیام کے دوران شاکیہ شری بھادرا اور ان کے ہمراہ ھندوستانی راہبوں نے ساکیہ روایت کے امیدواروں کو مول-سرواستیواد بھکشو تقرر عطا کیا اور اس طرح تبت میں تیسرے تقرری تسلسل کا آغاز ہوا۔

اس تسلسل کی دو ذیلی شاخیں ہیں۔ ایک جو کہ شاکیہ شری بھادرا کے ساکیہ پنڈت کو تقرر عطا کرنے سے شروع ہوئی اور دوسری شاخ جس نے شاکیہ شری بھادرا کے راہبوں کے ایک گروہ کو تقرر عطا کرنے سے آغاز کیا اور ان راہبوں کو انہوں نے بعد میں تربیت دی اور یہ گروہ بلآخر چار ساکیہ خانقاہی انجمنوں میں تقسیم ہو گیا۔ اگرچہ اس امر کا ثبوت ہے کہ بارہویں صدی عیسوی تک شمالی ہند میں بھکشونیاں موجود تھیں، تاہم شاکیہ شری بھادرا کے ہمراہ کوئی مول-سرواستیواد بھکشونی تبت نہیں گئی۔ پس مول-سرواستیواد بھکشو تقرری سلسلہ کے تبت میں تین تسلسلوں میں سے کسی کے ساتھ بھی مول-سرواستیواد بھکشونی تقرری سلسلہ تبت نہیں پہنچا۔

شاکیہ شری بھادرا کے بعد کی صدیوں میں کم از کم ایک مرتبہ یہ کوشش کی گئی کہ مول-سرواستیواد بھکشونی تقرر کو تبت میں دوبارہ قائم کیا جائے، تاہم یہ ناکام رہی۔ پندرہویں صدی عیسوی کے ابتدا میں ساکیہ مرشد شاکیہ۔چوگدن نے خصوصی طور پر اپنی والدہ کے لیے ایک اکلوتی سنگھا مول-سرواستیواد بھکشونی تقرر کا انتظام کیا۔ تاہم، ایک اور ہم عصر ساکیہ مرشد گورامپا نے اس تقرر کی صحت پر کڑی تنقید کی اور بعد ازاں اسے جاری نہ رکھا گیا۔