ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور بون کی تاریخ > تھرواد تقرری سلسلہ کی تاریخ

تھرواد تقرری سلسلہ کی تاریخ

الیکزانڈر برزن، اگست ۲۰۰۷ء

بدھ مت کی سری لنکا میں اولین آمد ۲۴۹ قبل مسیح میں ہندوستانی شہنشاہ اشوک کے بیٹے مہند کے مشن کے ذریعہ سے ہوئی۔ اولین بھکشووں کی تقرری بھی تب ہی کی گئی۔ اگرچہ تھرواد نام کے آغاز کی تاریخ کے بارہ میں اختلاف ہے لیکن ہم آسانی کی خاطر یہاں اس بودھی سلسلہ کا ذکر تھرواد کے نام سے ہی کریں گے۔ پھر تھرواد بھکشونی تقرری سلسلہ ۲۴۰ ق۔م میں شہنشاہ اشوک کی دختر سنگھامتا کی سری لنکا آمد کے ساتھ اس جزیرہ میں منتقل ہو گیا۔ ١۰۵۰ء کے لگ بھگ تامل حملہ اور اس کے بعد سری لنکا میں چولا سلطنت کے قیام کے ساتھ اس تقرری سلسلہ کا اختتام ہو گیا۔

زبانی روایات کے مطابق شہنشاہ اشوک نے سونا اور اتارا نام کے دو ایلچی سواناپھم ﴿سنسکرت میں سوارنابھومی﴾ کی مملکت کی طرف بھی روانہ کیے تھے جنہوں نے وہاں تھرواد بدھ مت اور بھکشوی تقرری سلسلہ کی بنیاد ڈالی۔ اکثر علماء اس مملکت کی نشاندہی جنوبی برما میں مون نامی قوم ﴿تایلاینگ﴾ اور تھاٹون کی بندرگاہ کی طرف کرتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کیا بھکشونی تقرری سلسلہ کی منتقلی بھی اسی وقت ہوئی یا بعد ازاں۔

اگرچہ تھرواد بدھ مت شمالی برما کی مختلف پیو شہری ریاستوں میں کم از کم پانچویں صدی قبل مسیح سے موجود تھا لیکن وہ مہایان اور ہندو مت اور مقامی آری مذہب جس میں ارواح کو جانوروں کی قربانیاں پیش کی جاتی تھیں کے ساتھ مخلوط ہو چکا تھا۔ گیارہویں صدی عیسوی کے وسط میں شاہ اناورہاتا نے شمالی برما کو متحد کر کے تھاٹون میں قائم مون مملکت کو فتح کیا اور پاگان میں اپنا دارالحکومت قائم کر کے مون بھکھو اراہانتا کو دعوت دی کہ وہ تھرواد بدھ مت اور اس کے تقرری سلسلہ کو اس کی تمام مملکت میں رائج کرے۔

سن ١۰۷۰ء میں سری لنکا میں چولا سلطنت کی شکست اور پولوناروا میں جدید دارالحکومت کے قیام کے بعد تھرواد بھکشو تقرری سلسلہ کو پاگان سے مدعو کردہ بھکشووں کے ذریعے دوبارہ قائم کیا گیا۔ تاہم شاہ اناورہاتا نے مون بھکشونیاں کے سلسلہ کے تسلسل پر شک کی بنا پر کسی بھکشونی کو بھکشونی تقرر دوبارہ قائم کرنے نہیں بھیجا۔ نتیجتاً سری لنکا میں اس وقت بھکشونی تقرری سلسلہ کا دوبارہ قیام نہ ہو سکا۔ برما میں کسی بھکشونی خانقاہ کی موجودگی کا آخری نوشتہ ثبوت ١۲۸۷ عیسوی میں ملتا ہے جب پاگان کو حملہ آور منگولوں نے فتح کیا۔

سن ١۲١۵ء سے ١۲۳٦ء تک سری لنکا پر کلنگ ﴿آج کل ہندوستان کی مشرقی ریاست اڑیسہ ﴾ کے شاہ ماگھا نے حملہ کر کے اس کے پیشتر علاقے پر حکومت کی۔ اس دور میں  بھکشو سنگھا بہت کمزور ہو چکی تھی۔ شاہ ماگھ کی شکست کے بعد ١۲۳٦ء میں کانچی پرم جو کہ ایک کمزور شدہ چولا مملکت ﴿یعنی آج کے جنوبی ہندوستان کی تامل ناڈو ریاست﴾ میں واقع ایک بدھی مرکز تھا سے تھرواد بھکشوون سری لنکا مدعو کیے گیے تاکہ وہ بھکشوی تقرری سلسلہ کو از سر نو زندہ کریں۔ کیونکہ کسی تامل بھکشونی کو نہیں بلایا گیا اس لیے بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس وقت تک جنوبی ہند سے تھرواد بھکشونی سنگھا ختم ہو چکی تھی۔ شمالی ہندوستان بشمول بنگال سے کسی بھکشونی سنگھا کی موجودگی کا آخری نوشتہ ثبوت بارہویں صدی عیسوی کے اختتام کا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ راہبات کون سے سلسلہ کے بھکشونی عہد و پیمان رکھتی تھیں۔

تیرہویں صدی کے اختتام پر تھای لینڈ میں سکھوتھای مملکت کے شاہ رام کھم ہاینگ نے سری لنکا کے ذریعے تھای لینڈ میں تھرواد بدھ مت رائج کیا۔ کیونکہ اس وقت تک سری لنکا سے بھکشونی سنگھا ختم ہو چکی تھی اس لیے تھرواد بھکشونی تقرری سلسلہ تھای لینڈ نہ پہنچا اور محض بھکشو سلسلہ پہنچ سکا۔ اور پھر کیونکہ تھای لینڈ سے تھرواد کی ترویج چودہویں صدی عیسوی میں کمبوڈیا ہوئی اور وہاں سے کچھ عرصہ بعد کمبوڈیا سے لاوس میں اس لیے تھرواد بھکشونی سلسلہ ان ممالک میں بھی نہ پہنچا۔

سب تھرواد ممالک میں سے صرف سری لنکا نے تھرواد بھکشونی تقرری کو با ضابطہ طور پر دوبارہ جاری کیا ہے اور وہ بھی ١۹۹۸ء میں۔ تب تک سری لنکا میں خواتین صرف "دس سیل ماتا" یعنی "دس حکمی ماہر" بن سکتی تھیں نہ کہ بھکھونیاں۔ اگرچہ عام عورتیں راھبانہ لباس پہن کر مجرد زندگی گزار سکتی تھیں تاہم انہیں خانقاہی سنگھا کا عضو نہیں گنا جاتا تھا۔ برما اور کمبوڈیا میں عورتیں صرف ہشت حکمی ماہر بین سکتی ہیں اور برما میں انہیں "سیاشن" اور کمبوڈیا میں "دونچی" یا "یی چی" کہا جاتا ہے۔ برما میں کچھ خواتین کو دس حکم بھی عطا ہوتے ہیں۔ تھای لینڈ میں وہ "ہشت حکمی ماہر" بن سکتی ہیں جنہیں "مای چی" ﴿" مای جی"﴾ کہا جاتا ہے۔ ١۸٦۴ء میں برما کے ساحلی علاقے اراکان کے ذریعے چٹاگانگ اور چٹاگانگ کوہستانی علاقے میں تھرواد بدھ مت کی احیاء کے بعد سے وہاں بھی خواتین ہشت حکمی ماہر بن سکتی ہیں۔