ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور بون کی تاریخ > ھندوستان میں بھکشونی سلسلہ کا قیام

ھندوستان میں بھکشونی سلسلہ کا قیام

الیکزانڈر برزن، اگست ۲۰۰۷ء

مہاتما بدھ نے خود، اوّلین راہبوں کی تقرری محض ان الفاظ کی ادائیگی سے کی تھی: "ایہی بھکھو" (یعنی ادھر آؤ، راہب"۔ جب راہبوں کی کافی تعداد اس طرح سے مقرر ہو گئی تو انہوں نے بھکشووں کے اپنے جانب سے تقرری (سنسکرت میں: اُپاسمپادا) کو رائج کر دیا۔

کئی روایتی داستانوں کے مطابق، تاہم، جب مہاتما بدھ کی خالہ، مہاپرجاپتی گوتمی نے ان سے بطور ایک راہبہ، تقرری کی درخواست کی تو انہوں نے پہلے تو انکار کر دیا۔ اس کے باوجود، مہاپرجاپتی نے پانچ سو خواتین پیروکاروں کے ہمراہ اپنا سر منڈوا کر پیلا چولا زیبِ تن کیا اور ان سب نے بطور بے گھر تارکوں کے، مہاتما کا اتباع شروع کر دیا۔ جب مہاپرجاپتی نے تقرری کے لیے دوسری اور تیسری بار درخواست کی اور مہاتما بدھ نے انکار کیا تو ان کے چیلے آنند نے مہاپرجاپتی کے حق میں سفارش کی۔

اس چوتھی درخواست پر مہاتما بدھ اس شرط پر مان گئے کہ وہ (مہاپرجاپتی) اور آئیندہ تمام راہبات، آٹھ کڑی پابندیوں (پالی میں: گرودھم) پر عمل کریں گی بشمول اس کے کہ راہبات کا تقدمی رتبہ ہمیشہ راہبوں سے کم تر ہو گا چاہے ایک راہب یا راہبہ کو عہد و پیمان لیے کتنا ہی عرصہ کیوں نہ گزر چکا ہو۔ مہاتما بدھ نے ایسی پابندیوں کا نفاذ اپنے زمانے کے ھندوستان کی ثقافتی اقدار کے مطابق کیا تاکہ معاشرے کی جانب سے اُن کے پیرووں اور نتیجتاً ان کی تعلیمات کی بی قدری نہ کی جائے۔ انہوں نے یہ راہبات کے تحفظ اور عوام کی جانب سے ان کی عزت کو یقینی بنانے کے لیے بھی کیا۔ قدیم ھندوستان میں عورتیں پہلے اپنے والد، پھر اپنے شوہروں اور بالآخر، اپنے بیٹوں کی زیرِ نگرانی ہوتی تھیں۔ اکیلی عورتوں کو فاحشہ سمجھا جاتا تھا اور ونایا میں ایسے کئی واقعات ہیں جب راہبات کو محض اس وجہ سے فاحشہ کہا گیا کیونکہ وہ کسی مرد رشتہ دار کی تحتِ حمایت نہیں تھیں۔ پس بھکشونی سنگھا کا بھکشو سنگھا سے تعلق قائم کرنے نے معاشرے کی نگاہ میں راھبات کی مجرد حالت کو با عزت بنا دیا۔

کچھ روایات کے مطابق آٹھ گرودھم کی قبولی ہی پہلی (بھکشونی) تقرری تھی جبکہ کچھ دوسری روایات کے مطابق، مہاتما بدھ نے مہاپرجاپتی اور اُن کی پانچ سو خواتین پیرووں کی ابتدائی تقرری کی ذمہ داری، آنند کی زیرِ سربراہی دس بھکشووں کے ایک گروہ کے سپرد کی تھی۔ بہر حال، بھکشونی تقرر کا اولین اصولی طریقہ، دس بھکشووں کے گروہ کے ذریعے ہی تھا۔ تقرر کا یہ طریقہ عام طور پر "اکلوتی بھکشو سنگھا تقرر" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تقرری طریقہ میں امیدواروں سے ان رکاوٹوں کے متعلق جو انہیں اپنے کامل عہد و پیمان رکھنے کے بارہ میں پیش آ سکتی ہیں،سوالات کی ایک فہرست پوچھی جاتی ہے۔ ان سوالوں کے علاوہ جو ایک بھکشو تقرری کے امیدوار سے کیے جاتے ہیں، بھکشونی تقرر کی امیدواروں سے ان کی بطور ایک عورت، جسمانی ساخت کے متعلق مزید سوال بھی کیے جاتے ہیں۔

جب کچھ بھکشونی امیدواروں نے راہبوں کے پیش ایسے ذاتی سوالات کا جواب دینے پر سخت ناراحتی کا اظہار کیا تو مہاتما بدھ نے "دوہری سنگھا تقرری" قائم کر دی۔ اس میں بھکشونی سنگھا پہلے امیدواروں سے اُن کے بھکشونی بننے کی مناسبت کے بارہ میں سوال کرتی ہے۔ پھر، بعد میں اُسی روز بھکشونی سنگھا، بھکشو سنگھا کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مجلس بناتی ہے۔ بھکشو سنگھا تقرر عطا کرتی ہے جبکہ بھکشونی سنگھا بطور گواہوں کے موجود ہوتی ہے۔

ابتدا میں، خانقاہی جماعت کے عہد و پیمان میں صرف "فطرتی طور پر غیر قابلِ تحسین اعمال" سے احتراز شامل تھا۔ یعنی وہ جسمانی یا زبانی اعمال جو ہر ایک کے لیے تباہ کن ہیں چاہے وہ ایک عام شخص ہو یا راہب۔ اگرچہ تقرر شدہ اشخاص کے لیے اس میں مجرد زندگی گزارنے کا عہد بھی شامل تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ مہاتما بدھ نے کئی نئے عہد و پیمان جاری کیے جو کے "ممنوعہ غیر قابلِ تحسین اعمال" کے بارہ میں تھے۔ یعنی، وہ اعمال جو قدرتی طور پر تباہ کن نہیں، مگر تقرر حاصل شدہ اشخاص کو منع ہیں تاکہ معاشرے میں بودھی خانقاہی جماعت اور مہاتما بدھ کی تعلیمات کی بی قدری نہ ہو۔ صرف مہاتما بدھ کو ایسے عہد و پیمان جاری کرنے کا اختیار تھا۔ راہبات کو راہبوں کی نسبت زیادہ پیمان ملے کیونکہ ہر نیا عہد کسی خاص واقع کی وجہ سے، جس میں کسی راہب یا راہبہ کا عمل نامناسب تھا، جاری ہوا تھا ۔ راہبات کے عہد و پیمان میں وہ پیمان شامل ہیں جو ان کے راہبوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ کے بارہ میں ہیں جبکہ راہبوں کے لیے اس قسم کی کوئی متقابل شرائط نہیں ہیں۔