ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > تاریخی، ثقافتی اور تقابلی مطالعے > بدھ مت اور بون کی تاریخ > افغانستان میں بدھ مت اور اسلام کا تاریخی خاکہ

افغانستان میں بدھ مت اور اسلام کا تاریخی خاکہ

الیگزینڈر برزن
نومبر ۲۰۰۱ء، نظرِ ثانی ۲۰۰۶ء

جغرافیہ

قدیم ترین زمانوں سے، وسط ایشیا کی تجارتی شاہراہ کے کنارے آباد ریاستوں کے ساتھہ ساتھہ ہینیان بدھ مت کے مختلف مکاتب بھی موجود تھے۔ خاص ریاستیں گندھارا اور باختر کی تھیں۔ گندھارا میں پاکستانی پنجاب اور درۂ خیبر کی افغانی سمتوں، دونوں کے علاقے شامل تھے۔ نتیجتاً، درۂ خیبر سے لے کر وادئ کابل تک کے نصف افغانی علاقے کا نام نگر ہار پڑگیا، جب کہ پنجابی علاقے نے گندھارا کا نام پایا۔ باختر کی توسیع وادئ کابل سے شمال کی سمت میں ہوئی اور اس میں جنوبی ازبکستان اور تاجکستان شامل ہوگئے۔ اس کے شمال کی جانب وسطی ازبکستان اور شمال مغربی تاجکستان میں سغدیہ واقع تھا۔ صرف وادئ کابل ہی نہیں، باختر کا جنوبی حصہ بھی کپث کہلاتا تھا، جب کہ شمالی حصے نے بعد میں تخاریستان کا نام اختیار کرلیا۔

بدھ مت کے زیر اقتدار آنے والے ابتدائی علاقے

بودھ کی اولین ہینیان سوانح عمریوں، جیسے کہ سروستی واد کے متن "لمبے کھیل کا سوتر"، تبتوں اور بھلّیکا کے مطابق باختر کے دوتجارت پیشہ بھائيوں نے ان کے پہلے چیلے سے اور ان سے بیعت قبول کی۔ شاکیہمُنی کے حصولِ عرفان کے آٹھہ ہفتوں بعد یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا جسے روایتاً ۵۳۷ء صدی قبل مسیح پر محمول قرار دیا جاتا ہے۔ بھلّیکا نے بعد میں رہبانیت اختبار کرلی اور اپنے آبائی شہر بلخ کے قریب ایک خانقاہ تعمیر کی جو موجودہ مزار شریف کے پاس واقع ہے۔ وہ اپنے ساتھہ بودھ کے آٹھ عدد موئے مبارک لائے، ان کی باقیات کے طور پر اور ان باقیات کے لیے ایک استوپا بنوایا۔ لگ بھگ اسی عرصے میں باختر ایران کی اشمینائی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

۳۴۹ ء صدی قبل مسیح میں، دوسری بودھی کونسل کے بعد، ہینیان کی مہاسانگھک روایت تھرواد سے پھوٹ کر نکلی۔ بہت سی مہاسانگھکیں گندھارا کی طرف چل پڑیں۔ افغانی علاقے کے خاص شہر، ہدّا کے مقام پر جو موجودہ جلال آباد کے پاس ہے، انھوں نے بالآخر ناگر وہار خانقاہ کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھہ بودھ کی جمجمی باقیات لے آئے۔

جلد ہی تھرواد کے ایک بزرگ سمبھوت سنواسی نے اس کی تقلید میں کپیشا کے مقام پر ان کی روایت قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب نہ ہوئے اور مہاسانگھک نے افغانستان کی مرکزی بودھی روایت کے طور پر جڑ پکڑ لی۔

انجام کار، مہاسانگھکیں پانچ ذیلی مکاتب میں منقسم ہوگئیں۔ افغانستان میں ان میں سب سے اہم شاخ لوکوتّراواد تھی، جس نے بعد کو ہندوکش پہاڑوں کی وادئ بامیان میں اپنے قدم جمالیے۔ تیسری اور پانچویں صدی عیسوی کے دوران کسی وقت، اس کے پیروکاروں نے، اپنے اس ایقان کی روشنی میں کہ بودھ کی حیثیت ایک منزّہ فوق الانسانی ہستی کی ہے، دنیا کے سب سے بڑے مجسمے بنائے جس میں بودھ کو کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ طالبان نے ۲۰۰۱ء کے دوران یہ عظیم الجثّہ مجسمے منہدم کردیے۔

۳۳۰ء صدی قبل مسیح میں مقدونیہ کے سکندرِ اعظم نے اشمینائی سلطنت کا بیشتر علاقہ، بہ شمول باختر اور گندھارا کے، فتح کرلیا۔ وہ ان علاقوں کی مذہبی روایات کے تئیں رواداری کا رویّہ رکھتا تھا اور بہ ظاہر اس کی دل چسپی  خصوصاً فوجی تسخیر میں تھی۔ اس کے وارثوںنے سلیوسی سلطنت قائم کی۔ ۳۱۷ صدی عیسوی قبل مسیح میں، بہرحال، ہندوستان کی موریہ سلطنت نے سلیوسیوں سے گندھارا چھین لیا اور اس طرح اتنے مختصر عرصے میں اس علاقے پر صرف سطحی اعتبار سے یونانیت نے گرفت حاصل کرلی۔

موریہ بادشاہ اشوک (جس نے ۲۳۲ء تا ۲۷۳ء صدی قبل مسیح حکومت کی) تھرواد بدھ مت کا معین و مویّد تھا۔ اپنی حکومت کے اواخر میں اس نے مہارکّھیا کی قیادت میں گندھارا کی طرف ایک تھروادن مشن روانہ کیا۔ جنوب میں واقع قندھار کی دوری تک، اس مشن نے "اشوک کے ستون" کھڑے کروائے جن پر بودھی اصولوں کے ترجمان کتبے موجود تھے۔ ان مبلغوں کے ذریعے تھرواد نے افغانستان میں اپنی معمولی سی موجودگی قائم کرلی۔

سرواستیواد اسکول اور گریکو باختر حکومت

اشوک کی حکومت کے اختتامی دور میں، تیسری بودھی کونسل کے بعد، ہینیان کے سرواستیواد نامی مکتب نے تھرواد سے علاحدگی اختیار کرلی۔ اشوک کی موت کے بعد، اس کے بیٹے جلوک نے سروستی واد سے کشمیر کو متعارف کرایا۔

۲۳۹ء صدی قبل مسیح میں باختر کے مقامی یونانی امرا نے سلیوسی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور آزادی حاصل کرلی۔ بعد کے برسوں میں انھون نے سغدیائی اور کشمیر کو فتح کرلیا اور اس طرح گریکو باختری حکومت کی بنیاد پڑی۔ جلد ہی کشمیری راہبوں نے ہینیان کے مکتب سرواستیواد کو باختر میں پھیلا دیا۔

۱۹۷ء صدی قبل مسیح میں گریکو باختریوں نے موریہ حکمرانوں سے باختر کو فتح کرلیا۔ انجام کار، افغانستان کے جنوب مشرقی حصّے میں بھی سرواستیواد آگیا۔ اس کے بعد یونانی اور ہندوستانی ثقافتوں کے مابین جو میل ملاپ شروع ہوا، اس کے نتیجے میں یونانی اسالیب نے بودھی آرٹ پر گہرا اثر بالخصوص اس کی انسانی شبیہوں اور پوشاکوں کو اوڑھنے کے انداز میں مرتب کیا۔

اگرچہ گریکو باختری حکومت میں تھرواد کو کبھی بھی استحکام نہیں ملا، اس کے ایک بادشاہ مینیند روس (دورِ حکومت ۱۳۰ء تا ۱۵۵ء صدی قبل مسیح)، ہندوستان سے آنے والے ایک راہب ناگ سین سے متاثر ہونے کے باعث، تھرواد کا پیرو کار بن گیا۔ اپنے اس ہندوستانی گُرو سے بادشاہ نے متعدد سوالات کیے اور ان کا یہ مکالمہ "ملند کے سوالات" کے طور پر معروف ہے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد، گریکو باختری ریاست نے سری لنکا سے تعلقات قائم کرلیے اور راہبوں کا ایک وفد راجہ دھتّا گرمنی (دورِ حکومت ۷۷ء تا ۱۰۱ء صدی قبل مسیح) کے ذریعے تعمیر کیے جانے والے عظیم استوپا کی توقیف سے متعلق دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا۔ اس سے جو ثقافتی رابطہ پیدا ہوا اس کی وجہ سے گریکو باختری راہبوں نے زبانی یا حکائی طور پر "ملند کے سوالات" کو سری لنکا منتقل کردیے۔ بعد کو ان سوالات نے تھرواد روایت میں، ایک اضافی ضابطے پرمبنی متن کی حیثیت اختیار کرلی۔

کشان عہد

۱۷۷ء اور ۱۶۵ء صدی قبل مسیح کے درمیان، گانسو اور مشرقی ترکستان کے علاقے میں مغرب کی جانب چین کی ہان سلطنت کی توسیع نے مقامی وسط ایشیائی خانہ بدوش قبائل میں سے بہتوں کو، مغرب کی طرف مزيد ڈھکیل دیا۔ ان قبائل میں سے ایک نے جو زیونگنو کے نام سے جانا جاتا تھا ایک دوسرے قبیلے یوئ۔جی پر حملہ کردیا اور ان کے ایک بڑے حصّے کو اپنے علاقے میں ملایا۔ یوئ۔جی لوگ کاکیشیا کے باشندے تھے جو ایک قدیم مغربی ہند یوروپی زبان بولتے تھے اور کاکیشین نسل کی انتہائی مشرقی سمت میں ہونے والی ہجرت کی نمائندگی کرتے تھے۔ بعضے مآخذ کے مطابق یوئ۔جی کے پانچ اشرافی قبائل میں سے ایک، جو یونانی مآخذ میں تخاریوں کے نام سے جانا جاتا ہے، اس نے موجودہ دور کے مشرقی قازقستان کی طرف ہجرت کی جس کے باعث مقامی خانہ بدوش شاکاؤں جنھیں یونانیوں میں اسکائتھینز کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا، جنوب کی سمت میں کھدیڑ دیے گئے۔ تخاری اور شاکا لوگ، یہ دونوں ، بہر حال، ایرانی زبانیں بولتے تھے۔ زبانوں کے اس فرق کی وجہ سے یہ امر متنازعہ ہے کہ ان تخاریوں کی قرابت داری یوئ۔جیوں کے ورثا سے تھی یا نہیں کیونکہ یہ لوگ بھی "تخارین" کے نام سے معروف تھے اور انہی نے دوسری صدی عیسوی کے دوران جنوبی ترکستان میں کوشا اور ترفان کی کامیاب تہذیبیں قائم کی تھیں۔ تاہم، یہ تو واضح ہے کہ وسطی شمالی ہندوستان کے شاکیہ قبیلے سے، جس میں شاکیہمنی بودھ کا جنم ہوا، شاکاؤں کا کوئی تعلق نہ تھا۔

شاکاوں نے پہلے تو ۱۳۹ء صدی قبل مسیح کے دوران بادشاہ مینند روز کے عہدِ حکومت میں گریکو باختریوں سے سغدیہ فتح کرلیا، پھر باختر بھی چھین لیا۔ وہاں شاکاؤں نے بدھ مت قبول کرلیا۔ ۱۰۰ء صدی قبل مسیح تک، تخاریوں نے شاکاؤں سے سغدیہ اور باختر کے علاقے جیت لیے۔ یہاں اپنے قدم جمانے کے بعد، انھون نے بدھ مت کو بھی اپنے اندر جذب کرلیا۔ یہیں سے کشان سلطنت کی شروعات ہوتی ہے، جو بالآخر کشمیر، شمالی پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان تک پھیل گئی۔

سب سے مشہور کشان حکمراں کنشک )دورِ حکومت ۷۸ء تا ۱۰۲ء صدی قبل مسیح( تھا جس کا مغربی دارالسلطنت کپیشا میں واقع تھا۔ وہ ہینیان کے سروستی واد مکتب ِفکر کے حامی تھا۔ اس اسکول کی ضمنی شاخ ویبھاسکا توشارستان میں خاص طور سے نمایاں ہے۔ تخارین راہب گھو شاک ابھی دھرم کے موضوع پر علم سے متعلق خاص موضوعات ویبھاسکا تفسیروں کے مرتبین میں سے ایک تھے جسے کنشک کے ذریعہ منعقد کی جانے والی چوتھی بودھی کونسل نے اپنی منظوری دی تھی۔ کونسل کے اختتام پر جب گھوشاک تخاریستان واپس آئے تو انھوں نے مغربی ویبھاسکا )بالہکا (مکتب ِفکر کی بنیاد رکھی۔ بلخ کے مقام پر واقع ايک خاص خانقاہ نووہار جلد ہی پورے وسط ایشیا میں بودھی مطالعات کی اعلٰی تعلیم کا مرکز بن گئی جس کا موازنہ وسط شمالی ہندوستان کی نالندہ خانقاہ سے کیا جاسکتا تھا۔ یہاں خاص طور سے ویبھا سکا ابھی دھرم کے مطالعے پر زور دیا جاتا تھا اور صرف ان راہبوں کو داخلہ ملتا تھا جو اس موضوع پر پہلے سے متون مرتب کرچکے ہوں۔ چونکہ یہاں بودھ کی ایک دندانی یادگار محفوظ تھی اس لیے اسے چین سے لے کر ہندوستان تک پھیلی ہوئی شاہراہِ ریشم پر واقع زیارت گاہوں میں ایک خاص مرکز کا درجہ حاصل ہوگیا۔

بلخ تقریباً ۶۰۰عیسوی صدی قبل مسیح میں جنم لینے والے زرتشت کا مولد رہا تھا۔ یہ اس ایرانی مذہب والے زرتشیتوں کا مقدس شہر تھا جس کی نشو و نما زرتشت کی تعلیمات کے زیر اثر ہوئی تھی اور جس میں آگ کی پرستش پر زور دیا جاتا تھا۔ کنشک نے مذہبی رواداری کی گریکو باختری پالیسی پر عمل کیا۔ اس طرح، بلخ میں بدھ مت اور دینِ زرتشت، امن چین کے ساتھہ باہمی تجربے سے گزرے اور دونوں نے ایک دوسرے کے فروغ پر اثر ڈالا۔ مثال کے طور پر اس عہد کی وہ خانقاہیں جو غاروں میں تعمیر کی گئی تھیں، ان میں بدھ کی دیواری تصویریں ایک نورانی ہالے کے ساتھہ ملتی ہیں اور ان پر جو تحریریں موجود ہیں ان میں انھیں بدھ کو "بدھ مزد" کہا گیا ہے۔ یہ ایک مرکب تھا بدھ اور اہرمزد کا جو دین زرتشت کا سب سے اعلا دیوتا ہے۔

۲۲۶ء صدی قبل مسیح میں سامانی سلطنت نے افغانستان میں کشان حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ ساسانی گرچہ زرتشت مذہب کے زبردست حامی تھے، پھر بھی انھوں نے بدھ مت کو برداشت کیا اور مزید بودھ خانقاہوں کی تعمیر کی اجازت دے دی۔ یہ واقعہ انہی کے دورِ حکومت کا ہے جب لوکوتراواد کے پیروکاروں نے بامیان کے مقام پر بودھ کے دو عظیم الجثّہ مجسمے کھڑے کیے۔

ساسانیوں کی رواداری میں صرف ایک اسثنائی صورت تیسری صدی عیسوی کے نصف آخر میں اس وقت رونما ہوئی جب ریاست کی مذہبی پالیسی پرزرتشتی بڑے راہب کا تسلط قائم تھا کیونکہ اس کے نزدیک بدھ مت اور زرتشت مذہب کا امتزاج اس کے نزدیک بدعت تھی۔ بہرحال، اس کی موت کے بعد بدھ مت کی حالت جلدی ہی بحال ہوگئی۔

سفید فام ہُن اور ترکی شاہی

پانچویں صدی عیسوی کے شروع میں سفید فام ہُن، جنھیں یونان لوگ ہفسلائٹس کے طور پر اور ہندوستانی تُروشکاوں کے طور پر جانتے تھے، انھوں نے ساسانیوں سے بشمول افغانستان کشان علاقوںکا بیشتر حصّہ چھین لیا۔ پہلے تو سفید فام ہُنوی نے خود اپنے دین کی پیروی کی جودین زرتشت سے مشابہہ تھا۔ مگر، جلد ہی وہ بدھ مت کے شدید حمایتی بن گئے۔ ہان چینی زائر فاشیان نے ۳۹۹ صدی عیسوی اور ۴۱۴ صدی عیسوی کے درمیان ان کے علاقے کا دورہ کیا اور اس نے کئی ہین یاں مکاتب کے فروغ اورترقی کی روداد رقم کی ہے۔

ترک شاہی لوگ ترک نسل کے تھے اور کشانوں کی اولاد تھے۔ ساسانیوں کے ہاتھہ کشان سلطنت کی ہار کے بعد انھوں نے سابقہ سلطنت کے کچھہ حصّے، جو شمال مغربی اور شمالی ہندوستان میں واقع تھے، اپنے قبضے میں کرلیے۔ اوائل چوتھی صدی عیسوی کے دوران ہندوستان کی گپت سلطنت کے قیام تک انھوں نے ان پر حکومت کی، پھرناگرہار کی طرف بھاگ گئے۔ انھوں نے پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں سفید فام ہُنوں سے ان کی سلطنت کے کچھہ حصّے فتح کرلیے اور اپنی حکومت وادئ کابل اور کپیشا تک بڑھا لی۔ کشانوں اور اپنے سے پہلے کے سفید فام ہُنوں کی طرح، ترکی شاہیوں نے افغانستان میں بدھ مت کا ساتھہ دیا۔

۵۱۵ء صدی عیسوی میں سفید ہون بادشاہ مہرا کُلا نے، اپنے دربار کے حاسد غیر بودھی گروہوں کے اثر میں آکر بدھ مت کو دہا دیا۔ اس نے خانقاہیں تباہ کردیں اور شمال مغربی ہندوستان کے طول و عرض میں بہت سے راہبوں کو قتل کردیا، گندھارا اور خاص کر کشمیر میں۔ ناگرہار کے ان حصوں میں جو اس کے زیر نگیں تھے، یہ ظلم و تشدد نستباً کم شدید تھا۔ اس کے بیٹے نے اس پالیسی کو الٹ دیا اور ان سب علاقوں میں نئی خانقاہیں تعمیر کرائیں۔

مغربی ترک

شمال مغربی ترکستان سے آئے ہوئے، ۵۶۰ء میں مغربی ترکوں نے وسط ایشیائی شاہراہ ریشم کے مغربی حصّے پر قبضہ کرلیا۔ دھیرے دھیرے وہ ناگرہار کے اور زيادۃ مشرق کی طرف ترک شاہیوں کو کھدیڑ کر باختر میں پھیلتے گئے۔ بہت سے مغربی ترک لیڈروں نے مقامی لوگوں سے بدھ مت قبول کرلیا اور ۵۹۰ صدی عیسوی میں انھوںنے کپشا کے مقام پر ایک نئی بودھی خانقاہ تعمیر کرڈالی۔ ۶۲۲ء میں شمالی ہندوستان سے آنے والے ایک راہب پربھاکر مترا کی رہبری میں، مغربی ترک حکمراں تونگ شی ہوتاغان نے باقاعدہ طور پر بدھ مت اختیار کرلیا۔

ہان چینی زائر ہیونتسانگ نے لگ بھگ ۶۳۰ء صدی عیسوی میں ہندوستان کی طرف اپنے سفر کے دوران مغربی ترکوں سے ملاقات کی۔ اس نے اطلاع دی ہے کہ ان کی سلطنت کے باختری حصّے، بالخصوص بلخ میں نووہار خانقاہ کے مقام پر بدھ مت خوب پھیل رہا تھا۔ اس نے راہبوں کی یونیورسٹی کا تذکرہ صرف اس کے علمی ماحول کے سیاق میں نہیں کیا ہے بلکہ ریشمی ملبوسات اور جڑاؤ زیورات سے آراستہ بودھ کے ان خوبصورت مجسموں کے لیے بھی کیا ہے جو مقامی زرتشتی رسوم سے مطابقت رکھتے تھے۔ اُس وقت اس خانقاہ کے ختن سے قریبی روابط رکھتے تھے جو مشرقی ترکستان میں واقع ایک مضبوط بودھی ریاست تھی اور اس نے تدریس کی غرض سے وہاں بہت سے راہبوں کو بھیجا۔ شیونگ دزنگ نے نووہار کے قریب کی ایک خانقاہ کا ذکر بھی کیا ہے جو ترقی یافتہ ہینیان مراقبے وپاش یان کی مشق کے لیے مخصوص کردی گئی تھی۔ جس کا مطلب ہے بے ثباتی کااور کسی شخص کے آزادانہ تشخص کی قلت یا کمی کا خصوصی ادراک۔

شیونگ دزنگ نے ترکی شاہیوں کے تحت ناگرہار میں بدھ مت کا حال کہیں زیادہ ابتر دیکھا تھا۔ گندھارا کے پنجابی حصّے کی مانند یہ علاقہ بھی ایک صدی سے زیادہ پہلے کے راجا مہرا گلا کے استبداد سے پوری طرح خود کو بحال نہیں کرسکا تھا۔ گرچہ ناگرہار کو بودھ کی جمجمی باقیات کی موجودگی کے باعث بودھی دنیا کی مقدس ترین زیارت گاہوں میں سے ایک کی حیثت حاصل تھی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہاں کے راہب زوال زدہ ہوچکے تھے۔ وہ ہر زاءر سے ان باقیات کی زیارت کے بدلے سونے کا ایک سکہ وصول کرتے تھے اور اسی لیے اس علاقے میں مطالعے کا کوئی بھی مرکز نہیں تھا۔

مزید برآں، گوکہ پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی کے دوران، مہایان نے کشمیر اور پنجابی گندھارا اسے افغانستان کی طرف خاص پیش رفت کرلی تھی، شیونگ دزنگ نے اس کی موجودگی کا مشاہدہ صرف کپشا میں اور ناگرہار کے مغرب میں واقع ہندوکش کے علاقوں میں کیا تھا۔ ناگرہار اور شمالی باختر کی نمایاں بودھی روایت سروستی واد تک محدود رہی۔

اموی دور اور اسلام کا تعارف

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پانچ برس بعد، ۶۳۷ء میں عربوں نےفارسی ساسانیوں کو شکست دی اور ۶۶۱ء خلافت امیہ کی بنیاد رکھی۔ اس نے ایران اور مشرق وسطی کے کافی بڑے حصّے پر حکومت کی ۶۶۳ء میں انھوں نے باختر پر حملہ کردیا جسے ترک شاہیوں نے اس وقت تک مغربی ترکوں سے چھین کر اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔ امیہ افواج نے بلخ کے اطراف کا علاقہ بہ شمول نو وہار خانقاہ فتح کرلیا جس کے نتیجے میں ترکی شاہی وادئ کابل کی طرف پیچھے ہٹ گئے۔

عربوں نے غیر مسلم مذاہب کو اس بات کی اجازت دے دی کہ مفتوحہ علاقوں کے لوگ اگر چاہیں تو اپنے عقیدوں پر قائم رہیں، بشرطے کہ وہ پر امن طریقے سے ایک راہ داری محصول، جزیہ، ادا کرتے رہیں۔ گرچہ باختر کے کچھہ بودھوں، حتّی کہ نووہار کی خانقاہ کے راہبوں کے ایک صدر نے اسلام قبول کرلیا۔ مگر اس علاقے کے زیادہ تر بودھوں نے ایسے وفادار غیر مسلموں کے طور پر جنھیں ایک اسلامی ریاست کے اندر محفوظ رعایا کا مرتبہ حاصل تھا، اپنی ذمّی حیثیت قبول کرلی۔ نووہار خانقاہ کھلی رہی اور اس کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ ہان چینی زایر آئیجینگ نے ۶۸۰ء کی دہائی میں نووہار کا دورہ کیا اور یہ اطلاع دی کہ مطالعے کے ایک سروستی واد مرکز کی شکل میں یہ خانقاہ ترقی کر رہی تھی۔

آٹھویں صدی عیسوی کے شروع میں ایک اموی فارسی مصنف، الکرمانی نے نووہار کا تفصیلی حال قلم بند کیا ہے، جو دسویں صدی عیسوی کی کتاب "ممالک کےمتعلق کتاب" مصنفہ الہمدانی میں محفوظ ہے۔ اس نے یہ تفصیل اس طرح پیش کی ہے کہ اسلام کی مقدس ترین عبادت گاہ، مکّہ میں واقع کعبہ سے اس کی مماثلتوں کا تذکرہ مسلمانوں کی سمجھہ میں فی الفور آجانے والی اصطلاحات کے مطابق ہو – اس کی وضاحت کے مطابق مرکزی عبادت گاہ میں بیچوں بیچ پتھر کا بنا ہوا ایک مکعب تھا، غلاف سے ڈھکا ہوا اور زائرین اس کا طواف اور سجدہ اسی طرح کرتے تھے جیسے کعبے کا۔ سنگین مکعب سے مراد وہ پلیٹ فارم ہے جس پر ایک استوپا کھڑا ہوا تھا جیسا کہ باختری مندروں میں ہوتا ہے۔ وہ غلاف جس نے اس استوپا کو ڈھک رکھا تھا، عین ایرانی روایت کے مطابق تھا جس سے احترام و عقیدت کا اظہار ہوتا ہے اور جس کا مساوی اطلاق بدھ کے مجسموں اور اس کے ساتھہ استوپاؤں پر کیا جاسکتا ہے۔ الکرمانی کی وضاحتوں سے اموی عربوں کے ایک صاف طور پر واضح اور اقرام آمیز رویّے کی نشان دہی ہوتی ہے تاکہ غیر مسلم مذاہب، مثلاً بدھ مت کے تئیں ان کے انداز نظر کو سمجھا جا سکے، جسے انھوں نے اپنے نو مفتوح علاقوں کے اوّلین ادوار میں اختیار کیا تھا۔

تبتی اتحاد

۶۸۰ء میں حسین نے بنو امیہ کے خلاف عراق میں ایک ناکام بغاوت کی قیادت کی تھی۔ اس تصادم نے وسط ایشیا کی طرف سے عربوں کی توجہ کا رخ تبدیل کردیا تھا اور وہاں ان کے اقتدار کو کمزور کردیا تھا۔ اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے ۷۰۵ء میں تبتوں نے ترکی شاہیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور ان کے ساتھہ مل کر باختر سےاموی افواج کو کھدیڑ بھگانے کی ایک ناکام کوشش کی۔ تقریباً ساٹھہ برس پہلے تبتوں نے چین اور نیپال کے توسط سے بدھ مت کے بارے میں جانکاری حاصل کی تھی، گرچہ اس وقت ان کی اپنی کوئی خانقاہ نہیں تھی۔ ۷۰۸ء میں ترکی شاہی شہزادے نزاکتر خان نے امویوں کو وہاں سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور باختر میں ایک نہایت پر جوش بودھی حکومت قائم کرلی، یہاں تک کہ اس نے نووہار کے سابق صدر خانقاہ کا سر قلم کردیا جس نے اپنا مذہب بدل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔

۷۱۵ء میں عرب جنرل قتیباہ نے ترک شاہیوں اور ان کے تبتی حلفاء سے باختر لینے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے نووہار گزشتہ بغاوت کی وجہ سے بہت تباہی مچائی۔ کئی راہب مشرق میں کشمیر اور ختن فرار ہوگئے اور بدھ مت کو پھیلایا۔  تبت نے اب اچانک سیاسی مصلحت کے بطور، اموی فوج جوان کے ساتھ لڑ رہی تھی، سے صلاح کرلی۔

نووہار نے بہت جلد خود کو بحال کرلیا اور پھر پہلے ہی کی طرح اپنا کام شروع کردیا جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ باختر میں بودھی خانقاہوں کو جو نقصان پہنچا تھا، وہ کسی مذہبی ترغیب کے باعث نہیں تھا- اگر ایسا ہوا ہوتا تو انھوںنے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی ہوتی۔ اموی لوگ تو محض بدھ مت کے تئیں اپنی اسی پالیسی کو دوہرا رہے تھے جو انھوں نے اسی صدی میں اس وقت اپنائی تھی، جب موجودہ جنوبی پاکستان کے سندھ کے علاقوں کو انھوں نے جیتا تھا۔ انھوں نے صرف کچھہ چنیدہ خانقاہوں کو تباہ کیا جن کے بارے میں انھیں یہ شک ہوا کہ وہ ان کے قبضے کے خلاف سازش کو بڑھا وا دے رہی ہیں، لیکن پھر انھیں بھی نئے سرے سے اپنی تعمیر اور ترقی کی اجازت دے دی۔ ان کا خاص مقصد معاشی استحصال کا تھا اور انھوں نے بودھوں پر ایک انتخابی محصول اور مقدس درگاہوں کے زائرین پر ایک زیارت محصول عاید کیا تھا۔

سابقہ اموی خلفا کی مذہبی روا داری کے عام رویّے کے باوجود، عمر ثانی (جنھوں نے ۷۱۷ء سے۷۲۴ء تک حکومت کی) نے یہ فرمان جاری کیا کہ بنو امیہ کے تمام اتحادی لازماً اسلام قبول کریں۔ تاہم، ان کی یہ قبولیت، بہرحال رضامندانہ ہونی چاہیے اور اس رضامندی کا انحصار اسلام کے اصولوں کی آگہی پر ہو۔ اپنے اتّحادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے یے تبتوں نے ۷۱۷ء میں اپنا ایک سفیر اموی دربار میں بھیجا تاکہ ایک مسلمان مدرّس کو دعوت دی جاسکے۔ خلیفہ نے الحَنَفِی کو بھیج دیا۔ اس واقعے سے کہ مذکورہ معلّم کو تبت میں تبدیلئ مذہب کے معاملے میں کوئی بھی دستاویزی کامیابی نہیںملی، یہ پتہ چلتا ہے کہ امویوں کو اپنے دین کی تبلیغ کی جد و جہد پر اصرار نہ تھا۔ مزید برآں، الحنفی کا جس سرد مہری کے ساتھہ خیر مقدم کیا گیا، اس کی خاص وجہ بیگانہ خوفی کا وہ ماحول تھا جو تبتی دربار کے مخالف گروہ نے وہاں پھیلا رکھا تھا۔

بعد کی دہائیوں میں، وسط ایشیا پر اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے عربوں، چینیوں، تبتوں، ترکی شاہیوں اور دوسرے مختلف ترک نژاد قبائل کے درمیان جو کھینچ تان ہوئی، اس کی وجہ سے سیاسی اور فوجی اتحاد کی شکل بھی جلدی جلدی تبدیل ہوتی رہی۔ ترکی شاہیوں نے بنو امیہ سے کپیشا دوبارہ چھین لیا اور ۷۳۹ء میں، ترک شاہیوں اور ختن کے مابین شادی کے ایک اتحاد کی خوشی منانے کے لیے برپا کی جانے والی ایک تقریب کے سلسلے میں، شہنشاہ تبت کے ایک سفرِ کابل کے واسطے سے، تبتوں نے اپنا اتحاد دوبارہ قائم کرلیا۔ بنو امیہ شمالی باختر پر بدستور حکومت کرتے رہے۔

عہدِ عباسی کا ابتدائی دور

۷۵۰ء میں ایک عرب گروہ نے خلافت امیہ کا تختہ پلٹ دیا اور سلطنت عباسی کی داغ بیل ڈال دی۔ انھوں نے شمالی باختر پر اپنا اقتدار برقرار رکھا۔ نہ صرف یہ کہ عباسیوں نے وہاں بودھوں کے لیے ذمّی حیثیت منظور کیے جانے کی اپنی پالیسی جاری رکھی، انھوں نے بدیسی، بالخصوص ہندوستان کی، ثقافت میں گہری دلچسپی لی۔ ۷۶۲ء میں خلیفہ المنصور (دورِ حکومت ۷۵۴ء تا ۷۷۵ء) نے ایک نئے عباسی دارالخلافہ بغداد کا نقشہ بنانے کے لیے ہندوستان کے ماہرین تعمیرات کو کام پر لگایا۔ یہ نام بغداد اس نے سنسکرت لفظ بھاگ داد سے اخذ کیا تھا جس کا مطلب ہے "تحفہ خدا وندی"۔ خلیفہ نے ایک بیت الحکمت بھی بنوایا جس میں ترجمے کا ایک شعبہ بھی شامل تھا۔ انھوں نے مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے علما کو بھی مدعو کیا تاکہ عربی میں متون کے تراجم کیے جاسکیں، بالخصوص منطق اور سائنسی موضوعات پر۔

شروع کے عباسی خلفا اسلام کے معتزلۃ اسکول کے سرپرست تھے جو تعقل کی رو سے قرآن کی تشریح کرنا چاہتا تھا۔ خاص توجہ قدیم یونانی علم پر تھی، لیکن سنسکرت روایات پر بھی دھیان دیا جاتا تھا۔ بہر نوع، بیت الحکمت میں صرف سائنسی متون کے ترجمے نہیں کیے گئے۔ بودھ علما نے عارفانہ اور اخلاقی موضوعات سے متعلق چند مہایان اور ہینیان سوتروں کا بھی عربی میں ترجمہ کیا۔

اگلے خلیفہ، المہدی (دورِ حکومت ۷۷۵ء تا ۷۸۵ء) نے سندھ میں عباسی افواج کو سوراشٹر پر جنوب مشرق کی طرف حملہ کرنے کا حکم دیا۔ عرب میں ایک حریف دعویدار، جس کے مہدی یا مسیح موعود ہونےکا اعلان بھی کردیا گیا تھا، اس کے پیش نظریہ حملہ خلیفہ کی اُس مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد دنیائے اسلام کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے وقار اور اقتدار کا قیام تھا۔ عباسی فوج نے ولابھی کے مقام پر بودھ خانقاہیں اور جین مندر تباہ کردیے۔ بہرحال، جیسا کہ سندھ پر بنو امیہ کی فتح کے معاملے میں دیکھا گیا تھا، عباسی فوج صرف اُن مراکز کو ختم کردینا چاہتی تھی جن پر اُسے اپنے اقتدار کے خلاف سازشیں رچنے کا شک ہوتا تھا۔ حتّی کہ خلیفہ المہدی کے دور میں بھی عباسیوں نے اپنی باقی ماندہ سلطنت میں صرف بودھی خانقاہوں کو ہاتھہ نہیں لگایا تاکہ وہ اُن سے اپنی آمدنی کے ذرائع کے طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ علاوہ ازیں، المہدی نے بغداد میں بیت الحکمت کی ترجمے سے متعلق سرگرمیوں کو فروغ دینا جاری رکھا۔ وہ ہندوستانی ثقافت کی تباہی کے درپے نہیں تھا، بلکہ اسے سمجھنا چاہتا تھا۔

نو وہار خانقاہوں کے بودھی سربراہانِ انتظامیہ میں سے ایک برمک کا مسلمان پوتا یحیٰ ابن برمک دوسرے عباسی خلیفہ الرشید (دورِ حکومت ۷۸۶ء تا ۸۰۸ء) کا وزیر تھا۔ اس کے زیر اثر، خلیفہ نے ہندوستان کے بہت سے علما اور معلّمین، بالخصوص بودھوں کو بغداد آنے کی دعوت دی۔ اُس زمانے میں مرتب کیے جانے والی ایک "کتاب الفہرست" میں، جو مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے متون پر مشتمل ہے، بودھی کتابوں کی ایک فہرست بھی شامل ہے۔ انہی میں بدھ کی سابقہ زندگیوں کی تفصیلات کا احاطہ کرنے والی ایک کتاب "بودھا کی کتاب" بھی ہے جسے عربی میں منتقل کیا گیا تھا۔

اسی زمانے میں، اپنی اعلا تہذیبی اور علمی سطح کی اپیل کے ذریعے زمینداروں اور اوپری طبقے کے تعلیم یافتہ شہری طبقوں میں اسلام کے قدم مضبوطی سے جمتے جا رہے تھے۔ بدھ مت کے مطالعے کے لیے، ایک خانقاہ میں جانا ضروری تھا۔ گرچہ اس دورِ میں نووہار کی سرگرمیاں ابھی جاری تھیں، لیکن اپنی گنجائش کے لحاظ سے یہ خانقاہ محدود تھی اور اس میں داخل ہونے سے پہلے خاصی وسیع تربیت درکار ہوتی تھی۔ اس کے برعکس، اسلام کی اعلا تہذیب اور اس کے مطالعے کے لیے دسترس آسان تھی۔ بدھ مت کو خاص طور پر، دیہی علاقوں کے غریب ترکسان طبقوں میں، بیشتر مذہبی درگاہوں پر رائج عبادت کی رسموں کی شکل میں استحکام حاصل رہا۔

اس پورے علاقے میں ہندومت بھی موجود تھا۔ ۷۵۳ء میں آنے والے ہان چینی زائر وُوکُنگ نے یہ اطلاع دی ہے کہ خاص کر وادئ کابل میں ہندو اور بودھ، دونوں مذاہب کی عبادت گاہیں موجود تھیں۔ جیسے جیسے تجارت پیشہ طبقوں میں بدھ مت کا زوال ہوتا گیا، ہندومت میں بھی مضبوطی آتی گئی۔

عباسیوں کے خلاف بغاوتیں

شروع کے عباسیوں کو بغاوتوں نے تنگ کر رکھا تھا۔ ایک بغاوت کو کچلنے کے لیے سغدیہ کے دارالخلافہ سمرقند کی طرف جاتے ہوئے ۸۰۸ء میں خلیفہ الرشید کا انتقال ہو گیا۔ موت سے پہلے اس نے اپنی سلطنت اپنے دو بیٹوں میں تقسیم کر دی۔ المامون کو، جو سغدیہ کی مہم میں اپنے باپ کے ساتھہ تھا، بہ شمول باختر نصف مشرقی حصّہ ملا۔ الامین کو جو دونوں میں زیادہ طاقتور تھا نصف مغرب کا زیادہ موقّر حصہ ملا جس میں بغداد اور مکّہ بھی شامل تھے۔

سلطنت عباسیہ کا جو نصف حصہ الامین کے پاس تھا، اس پر قبضہ کرنے کی عام حمایت حاصل کرنے کے لیے المامون نے سغدیہ میں زمینیں اور دولت بانٹی۔ پھر اپنے بھائی پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں دو طرفہ ہلاکتوں والی جو جنگ چھڑی، اس کے دوران، اپنے تبتی اتحادیوں کے ساتھہ کابل کے ترکی شاہیوں نے، سغدیہ اور باختر کے عباسی مخالف باغیوں سے ہاتھہ ملا لیا تاکہ صورت حال کا فائدہ اٹھا سکیں اور عباسی حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کر سکیں۔ المامون کے وزیر اور جنرل الفضل نے اپنے حکمراں کو جہاد کے اعلان کی ترغیب دی، اس اتّحاد کے خلاف ایک مقدس جنگ کی تاکہ خلیفہ کے وقار میں اور زیادہ اضافہ ہو جائے- صرف ایسے حکمراں جو خالص ایمان کے علم بردار ہوں، ایسے لوگوں کے خلاف جو اسلام پر حملہ آور ہوں، اپنے دین کے تحفظ کے لیے جہاد کا اعلان کر سکتے تھے۔

اپنے بھائی کو مغلوب کرنے کے بعد المامون نے اس جہاد کا اعلان کر دیا۔ ۸۱۵ء میں انھوں نے ترکی شاہی حکمراں کو، جو کابل شاہ کے طور پر جانے جاتے تھے، اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ مسلمانوں کو عقیدے کے لحاظ سے سب سے زیادہ ناگوار گزرنے والی چیز بت پرستی تھی۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیشرو زندیقی عرب قبائل، دیوتاؤں کے بت رکھتے تھے۔ اسلام کی اشاعت کے ساتھہ پیغمرِ اسلام نے تمام بتوں کو مسمار کر دیا۔ اسی لیے، اطاعت قبول کرنے کی نشانی کے طور پر، المامون نے شاہ کو بودھ کا ایک طلائی مجسّمہ مکّہ بھیجنے کو کہا۔ اپنا اعتبار قائم کرنے کے لیے، بلا شبہ پروپگنڈے کی غرض سے، المامون نے کعبے میں اس بت کی نمائش دو برس تک جاری رکھی، اس اعلان کے ساتھہ کہ اللہ نے تبت کے بادشاہ کو اسلام کا راستہ دکھا دیا ہے۔ عرب لوگ تبت کے بادشاہ پر المامون کا تابع یا مزارع ہونے کا گمان رکھتے تھے۔ ۸۱۷ء میں، عباسیوں نے بودھ کے مجسمے کو سونے کے سکّے ڈھالنے کے لیے پگھلا ڈالا۔

ترکی شاہیوں کے خلاف اپنی کامیابی کے بعد، عباسیوں نے تبتوں کے زیرنگیں علاقے گلگت پر، جو موجودہ شمالی پاکستان میں واقع ہے، حملہ کر دیا، اور مختصر سی مدت میں اسے بھی اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ پھر ایک تبتی قیدی کمانڈر کو ذلیل کرنے کے لیے بغداد واپس بھیج دیا۔

طہاری، صفاری اور ہندوشاہی سلطنتیں

لگ بھگ اسی دوران میں، سلطنتِ عباسیہ کے مختلف حصوں میں، مقامی فوجی لیڈروں نے خود مختار اسلامی ریاستیں قائم کرنا شروع کر دیا جو بغداد میں خلیفہ کے تئیں بس برائے نام اطاعت گزار تھے۔ اپنی خود مختاری کا اعلان کرنے والا پہلا علاقہ شمالی باختر کا تھا جہاں ۸۱۹ء میں جنرل طاہر نے طاہری سلطنت قائم کر دی۔

اس طرح کے زیادہ اہم معاملات کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے، عباسیوں نے کابل اور گلگت سے جیسے ہی مراجعت اختیار کی، تبتوں اور ترکی شاہیوں نے اپنے سابقہ علاقوں کو پھر سے حاصل کر لیا۔ ان علاقوں کے قائدین کی جبری تبدیلئ مذہب کے باوجود، عباسیوں نے وہاں بدھ مت پر ستم نہیں ڈھائے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ عربوں نے، اس پورے عرصے میں تبتوں کے ساتھہ تجارتی رشتے قائم رکھے۔

عباسیوں کے تحت خود مختاری کا اعلان کرنے والا اگلا اسلامی جنرل، الصفار تھا۔ ۸۶۱ء میں اس کے وارث نے جنوب مشرقی ایران میں صفاری سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ایران کے باقی ماندہ حصوں پر اقتدار قائم کرنے کے بعد، ۸۷۰ء میں صفاریوں نے وادئ کابل پر حملہ کر دیا۔ اس کی متوقعہ شکست کے پیشِ نظر، بودھی ترکی شاہی سلسلے کے آخری بادشاہ کا تختہ اُس کے برہمن وزیر، کلار نے پلٹ دیا۔ کابل اور ناگرہار کو صفاریوں کے لیے چھوڑ کر، کلار نے پنجابی گندھارا میں ہندو شاہی سلطنت قائم کردی۔

صفاری لوگ منتقم مزاج فاتح تھے۔ انھوں نے وادئ کابل اور بامیان کی بودھی خانقاہوں کو لوٹ لیا اور وہاں بودھ کے جو مجسمے موجود تھے انھیں خلیفہ کے لیے جنگی تمغوں کے طور پر بھجوا دیا۔ یہ جارحانہ فوجی کارروائ کابل کے علاقے میں بدھ مت کے خلاف پہلی کاری ضرب تھی۔ ۸۱۵ء میں کابل شاہ کی سابقہ شکست اور قبول اسلام کے واقعے نے تو اس علاقے میں بدھ مت کی عام صورت حال پر صرف معمولی سے اثرات مرتب کیے تھے۔

صفاریوں نے شمال کی طرف اپنی فتح اور غارت گری کی مہم جاری رکھی اور ۸۷۳ء میں طہاریوں سے باختر چھین لیا۔ بہر نوع، ۸۷۹ء میں، ہندوشاہیوں نے کابل اور ناگرہار دوبارہ لے لیا۔ انھوں نے اپنے عوام میں ہندومت اور بدھ مت دونوں کی سرپرستی کرنے کی پالیسی برقرار رکھی اور کابل کی بودھی خانقاہوں نے جلد ہی اپنے ماضی کی خوش حالی کو بحال کر لیا۔

سامانی، غزنوی اور سلجوق سلطنتیں

اس کے بعد، سغدیہ کے فارسی گورنر، اسمٰعیل ابن احمد نے خود مختاری کا اعلان کر دیا اور ۸۹۲ء میں سامانی سلطنت کی داغ بیل ڈالی۔ ۹۰۳ء میں اس نے صفاریوں سے باختر فتح کر لیا۔ سامانیوں نے روایتی ایرانی تہذیب کی طرف مراجعت کی حوصلہ افزائی کی، مگر بدھ مت کی جانب ان کا رویّہ رواداری کا رہا۔ مثال کے طور پر، نصر دوئم (دورِ حکومت ۹۱۳ء تا ۹۴۲ء) کی حکومت کے دوران سامانی دارالخلافہ بخارا میں، ابھی بھی بودھ کے مجسمے تراشے اور بیچے جاتے رہے۔ انھیں "بودھا کے بت" کہہ کر ممنوع نہیں قرار دیا گیا۔

سامانیوں نے ترک نسل کے قبیلے والوں کو اپنی مملکت میں غلام بنا لیا اور انھیں اپنی افواج میں جبراً بھرتی کر لیا۔ اگر سپاہیوں نے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا تو انھیں برائے نام آزادی دے دی۔ بہر حال، ان لوگوں کو قابو میں رکھنے کا عمل سامانیوں کے لیے مشکل تھا۔ ایسا ہی ایک ترکک سردار، الپتگین، جس نے اسلام قبول کر لیا تھا، اس نے ۹۶۲ء میں کابل کے جنوب میں آباد غزنہ (موجودہ دور میں غزنی) پر قبضہ کر لیا۔ اس کے ولی عہد سبکتگین (دورِ حکومت ۹۷۶ء تا ۹۹۷ء) نے وہیں، ۹۷۶ء میں عباسیوں کے ایک مزارع کی حیثیت سے غزنوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ جلد ہی اس نے ہندوشاہیوں کو واپس گندھارا کی طرف کھدیڑ کر وادئ کابل کو فتح کر لیا۔

بدھ مت کو وادئ کابل میں ہندوشاہیوں کے زیر حکومت فروغ حاصل ہوا تھا۔ اسدی طوسی نے اپنے "گرشا سپ نامہ"، محررہ ۱۰۴۸ء میں اس کی خاص خانقاہ سوبہار(سووہار) کے ٹھاٹ باٹ کا بیان کیا ہے جب غزنویوں نے کابل کو تاراج کر دیا تھا۔ گرچہ ایسا نہیں لگتا کہ غزنویوں نے اس خانقاہ کو برباد کر دیا ہو۔

۹۹۹ء میں، اگلے غزنوی حکمراں، محمود غزنوی (دورِحکومت ۹۹۸ء تا ۱۰۳۰ء) نے سامانیوں کی ملازمت اختیار کرنے والے ترکک غلام سپاہیوں کی مدد سے، سامانیوں کا تختہ پلٹ دیا۔ اب سلطنتِ غزنوی میں باختر اور جنوبی سغدیہ شامل ہو گئے تھے۔ محمود غزنوی نے ایران کا بیشتر حصہ بھی فتح کر لیا۔ اس نے فارسی ثقافت کو ترقی دینے اور غیر مسلم علاقوں کو برداشت کرنے کی سامانی پالیسی جاری رکھی۔ غزنوی دربار کی ملازمت میں شامل اور ایک فارسی اسکالر اور مصنف البرونی نے اطلاع دی ہے کہ ہزاریے کے اختتام پر باختر کی بودھی خانقاہیں، بہ شمول نو وہار، اس وقت بھی سرگرم کار تھیں۔

بہر نوع، اپنے کٹّر سنّی مسلک کو چھوڑ کر، جس پر وہ خود عمل پیرا تھا، دوسرے مسالک کے تئیں محمود غزنوی کا رویہ عدم رواداری کا تھا۔ ۱۰۰۵ء کے دوران شمالی سندھ میں ملتان پر اُس کے حملے، پھر اس کے بعد ۱۰۱۰ء میں شیعی اسلام کے اسمٰعیلی فرقے کے خلاف اُس کی مہمات، جسے سامانیوں کی حمایت بھی حاصل رہی تھی، انھیں حکومت کی شہہ پر بڑھاوا ملا۔ ۹۶۹ء سے مصر میں مرکوز اسمٰعیلی فاطمی سلطنت (۹۱۰ء تا ۱۱۷۱ء) دنیائے اسلام پر اپنا اقتدار قائم کرنے کے سلسلے میں سنّی العقیدہ عباسیوں کی اصل حریف تھی۔ محمود کی نیت ان ہندوشاہیوں کا تختہ پلٹنے اور انھیں ختم کرنے کی بھی تھی جس کا سلسلہ اس کے باپ نے شروع کیا تھا۔ لھٰذا، اس نے گندھارا پر حملہ کر کے ہندوشاہیوں کو مار بھگایا اور پھر گندھارا سے ملتان کو جیتنے کے لیے چل پڑا۔

اگلے برسوں کے دوران، شمالی ہندوستان میں مشرق کی سمت آگرہ تک کی دوری والے علاقوں کو فتح کر کے محمود نے اپنی سلطنت مزید وسیع کر لی۔ مالدار ہندو مندروں اور راستے میں پڑنے والی بودھ خانقاہوں کی اس کے ہاتھوں لوٹ مار اور بربادی، اس کے حملے کے منصوبے کا حصّہ تھی۔ جیسا کہ زیادہ تر جنگوں میں ہوتا ہے، حملہ آور افواج اکثر اپنے بس بھر تباہی اس لیے مچاتی ہیں تاکہ مقامی آبادی کو، اگر وہ مزاحمت پر کمربستہ ہوں، تو ہتھیار ڈالنےپر مجبور کیا جا سکے۔ بر صغیر ہندوستان میں اپنی مہمات کے دوران، محمود غزنوی نے اپنی محکوم بودھی خانقاہوں میں صرف کابل اور باختر کی خانقاہوں کو باقی رہنے دیا۔

۱۰۴۰ء میں، سغدیہ میں غزنویوں کے سلجوق ترک مزارعوں نے بغاوت کر دی اور سلجوق سلطنت قائم کر لی۔ جلد ہی انھوں نے غزنویوں سے باختر، اور ایران کا بیشتر حصہ چھین لیا جو بالآخر وادئ کابل کی طرف پیچھے ہٹ گئے۔ نتیجتاً سلجوقیوں کی سلطنت بغداد، ترکی اور فلسطین تک پھیل گئی۔ یہ سلجوق وہی بدنام زمانہ "لادین لوگ" تھے جن کے خلاف ۱۰۹۶ء میں پوپ اربن دوئم نے پہلی صلیبی جنگ کا اعلان کیا تھا۔

سلجوقی سلاطین اپنی حکومت کے معاملات میں حقیقت پسند تھے۔ اپنی حکومت کے مختلف حصوں کے انتظام کی غرض سے ایک شہری افسر شاہی کو تربیت دینے کے لیے انھوں نے بغداد اور وسط ایشیا میں اسلامی تعلیمی مراکز یعنی مدارس قائم کیے۔ انھوں نے اپنے زیر نگیں علاقے میں غیر اسلامی مذاہب جیسے کہ بدھ مت کی موجودگی کو بھی برداشت کیا۔ چنانچہ، الشہرستانی (۱۰۷۶ء تا ۱۱۵۳ء) نے غیر مسلم مذاہب اور مسالک کے بارے میں ایک متن عربی میں اپنی "کتاب المیلاد و نہال" کے زیر عنوان بغداد سے شایع کیا۔ یہ متن بودھی ارکان کی آسان وضاحت پر مشتمل تھا اور اس میں ایک صدی پہلے والا وہی البرونی کا چشم دید بیان دوہرایا گیا تھا کہ ہندوستانی لوگ بودھ کو ایک پیغمبر کے طور پر تسلیم کرتے تھے۔

اس دور کے بہت سے فارسی ادب کے بودھی حوالے بھی اس اسلامی-بودھی ثقافتی رابطے کا ثبوت مہیّا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فارسی شاعری میں بعض مقامات کے لیے اکثر اس تشبیہ کا استعمال کیا گیا ہے کہ "یہ جگہیں اتنی ہی خوبصورت تھیں جتنی کہ ایک "نوبہار" (نووہار)- مزيد براں ، نووہار اور باميان ميں بودھ کی شبيھيں، بلخروص ميتريا کی شبيھيں، یعنی کے مستقبل کے بودھ کی شبيھيں، اپنے سروں کے پیچھے چاند کے ہالے رکھتی تھیں۔ اسی سے خالص حسن کے اس شاعرانہ بیان کو تحریک ملی کہ اُس کی صورت "بدھ کے چاند جیسے چہرے" سے مماثل تھی۔ اس طرح، گیارہویں صدی کی فارسی نظموں مثلاً "ایّوقی کی ورقے" اور "گُل شاہ" میں لفظ "بت" کا ایک مثبت اشارہ "بودھا" کی طرف ہے، اپنے دوسرے اور منفی معنی "مجسمے" کے لیے نہیں ہے۔ اس میں مردوں اور عورتوں، دونوں کے مثالی غیر شہوانی حسن کا مفہوم چھپا ہوا ہے۔ اس طرح کے حوالے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یا تو بودھی خانقاہیں اور شبیہیں، کم سے کم تیرہویں صدی عیسوی کے دوران ابتدائی منگول عہد میں، ان ایرانی ثقافتی علاقوں میں موجود تھیں، یا پھر اتنا یقینی ہے کہ صدیوں تک، بدھ مت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں میں ایک مستحکم بودھی وراثت باقی رہی۔

قاراختائی اور غوری سلطنتیں

۱۱۴۱ء میں مشرقی ترکستان اور شمال مغربی ترکستان کے منگول بولنے والے لوگوں یعنی قاراختائیوں نے سمرقند کے مقام پر سلجوقیوں کو شکست دے دی۔ ان کے حکمراں يیلو داشی نے سغدیہ اور باختر کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ غزنوی لوگ ابھی بھی وادئ کابل سے مشرق کی سمت کے علاقے پر قابض تھے۔ قاراختائی لوگ بدھ مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت اور شمانیت کی ایک ملی جلی شکل کے پیروکار تھے۔ بہر نوع، يیلو داشی انتہائی روادار اور اپنی حکومت میں رائج تمام مذاہب، منجملہ اسلام کا محافظ تھا۔

۱۱۴۸ء میں وسطی افغانستان کے پہاڑوں سے آنے والے خانہ بدوش غز ترکوں میں سے ایک شخص علاء الدین نے قاراختائیوں سے باختر فتح کر لیا اور غوری سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ۱۱۶۱ء میں، اس نے غزنویوں سے غزنہ اور کابل بھی حاصل کر لیا۔ اس نے اپنے بھائی محمد غوری کو ۱۱۷۳ء میں غزنہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے برصغیر ہندوستان پر حملہ کرنے کے ترغیب دی۔

اپنے سے پہلے محمود غزنوی کی طرح، ۱۱۷۸ء میں، محمد غوری نے پہلے شمالی سندھ کی اسمٰعیلی ریاست ملتان پر قبضہ جمایا جس نے غزنوی حکومت سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ پھر وہ پاکستان کے پورے علاقہ پنجاب اور شمالی ہندوستان کو فتح کرنے کے لیے آگے بڑھا، اور اس کے بعد آج کے بہار اور مغربی بنگال کی دوری تک واقع گنگا کے میدان تک۔ اپنی مہم کے دوران، ۱۲۰۰ء میں بہ شمول وکرم شلا اور اودانت پوری، اس نے بہت سی بڑی بودھی خانقاہوں کو لوٹا اور برباد کر دیا۔ اس حملے کو ناکام بنانے کی کوشش میں، مقامی سینا راجہ نے انھیں فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ غوری لیڈروں نے اپنے فوجیوں کو مذہبی آموزش سے نبرد آزمائی میں جوش دلانے اور اکسانے کی کوشش کی ہو، جیسا کہ سیاسی اور وطن پرستانہ پروپگنڈے کی مہم میں کوئی بھی قوم کرتی ہے۔ ان کا خاص مقصد، بہر حال، بیشتر فاتحین کی طرح، زمین، دولت اور اقتدار کی حصولیابی تھا۔ لہٰذا، غوریوں نے صرف اُنہی خانقاہوں کو برباد کیا جو ان کے حملوں کی براہ راست زد پر تھیں۔ مثال کے طور پر نالندہ کی خانقاہ اور بودھ گیا، خاص راستے سے ہٹ کر واقع تھے۔ اسی لیے، جب ۱۲۳۵ء میں تبتی مترجم چاگ لوتساوا نے ان کا دورہ کیا تو دیکھا کہ گرچہ انھیں لوٹا اور نقصان پہنچایا گیا تھا، پھر بھی راہبوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کے ساتھہ ابھی یہ خانقاہیں اپنا کام کر رہی تھیں۔ شمالی بنگال کی جگودالہ خانقاہ کو ہاتھہ بھی نہیں لگایا گیا اور وہ بدستور سرگرم کار رہی۔

علاوہ برایں، غوریوں نے کشمیر کو فتح کرنے اور وہاں کے بودھوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اُس وقت کشمیر مفلوک الحال تھا اور خانقاہوں کے پاس کچھہ بھی دھن دولت یا ایسی چیز نہ تھی جسے لوٹا جائے- اس کے علاوہ، غوری لوگ اپنے جرنیلوں اور گورنروں کو چونکہ نہ تو تنخواہ دیتے تھے نہ رسد اور غلّہ، بلکہ ان سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنی اور اپنے سپاہیوں کی کفالت مقامی وسائل کے ذریعے خود ہی کریں گے۔ اگر اپنے دائرۂ اقتدار میں سے کسی کو، گورنروں نے جبراً اس کا مذہب بدل کر اسلام قبول کروا بھی لیا، تو بھی، وہ آبادی کے بڑے حصوں پر زاید ٹیکس کی خاطر، ان کا استحصال نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ، افغانستان کی طرح، یہاں بھی غوریوں نے ہندوستان میں غیر مسلموں کو ذمّی حیثیت دیے جانے اور ان سے جزیہ وصول کرنے کا روایتی چلن برقرار رکھا۔

منگول عہد

۱۲۱۵ء میں منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان نے غوریوں سے افغانستان جیت لیا۔ جیسی کہ ہر جگہ اس کی یہی پالیسی تھی، چنگیز نے اپنے اقتدار کے خلاف مزاحمت کا انداز اختیار کرنے والوں کو تباہ کر دیا اور ان کی زمینیں تہس نہس کر ڈالیں۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ افغانستان میں بدھ مت کے جو آثار ابھی بھی باقی تھے، اس وقت اُن کا کیا حال ہوا۔ چنگیز تمام مذاہب کے تئیں روادار تھا تا وقتے کہ ان مذاہب کے رہ نما چنگیز کی لمبی عمر اور فوجی کامرانی کے لیے دعا کرتے رہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۲۱۹ء میں اُس نے چین سے تاؤمت کے ایک مشہور عالم کو افغانستان طلب کیا تاکہ وہ چنگیز کی لمبی عمر کے لیے تقریبات کا اہتمام کرے اور اس کے لیے کیمیائے ابدیت تیار کر دے۔

۱۲۲۷ء میں چنگیز کی موت اور اس کے وارثوں میں سلطنتیں تقسیم کرنے کے بعد، اس کے بیٹے چغتائی کے حصے میں سغدیہ اور افغانستان کی حکومت آئی اور اس نے چغتائی خاقانیت کی داغ بیل ڈالی۔ ۱۲۵۸ء میں چنگیز کے پوتے ہلاکو نے ایران کو فتح کر لیا اور بغداد میں خلافت عباسیہ کا تختہ پلٹ دیا۔ اس نے خان خاندان کی حکومت قائم کی اور جلد ہی شمال مغربی ایران میں واقع اپنے دربار میں تبت، کشمیر اور لداخ سے بودھ راہبوں کو مدعو کیا۔ خاقانِ چغتائی کی بہ نسبت خوانین کی حکومت زیادہ طاقت ور تھی اور سب سے پہلے اس نے وہاں اپنے عم زادوں پر اپنی فوقیت ثابت کی۔ چونکہ ایران کی طرف جاتے ہوئے بودھ راہبوں کو افغانستان سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ انھیں، بلا شبہ دورانِ سفر سرکاری تعاون حاصل ہوا۔

بعض علما کے مطابق جو تبتی راہب ایران آئے، وہ غالباً دری گُنگ کاگیو اسکول سے تعلق رکھتے تھے اور ہلاکو کی طرف سے اُنھیں مدعو کیے جانے کا سبب سیاسی رہا ہوگا۔ ۱۲۶۰ء میں اُس کے عم زاد قبلائی خان نے، جو شمالی چین کا منگول حکمراں تھا، اس نے اپنے آپ کو تمام منگولوں کا خان خاناں نامزد کر دیا۔ قبلائی تبتی بدھ مت کی شاکیہ روایت کا پاسدار تھا اور اس نے اس مسلک کے رہ نماؤں کو تبت پر بس برائے نام اختیارات سونپ دیے۔ اس سے پہلے، دری گنگ کا گیو رہ نماؤں کو تبت میں سیاسی سطح پر عروج حاصل تھا۔ قبلائی کا خاص حریف اس کا ایک اور عم زاد بھائی خدیو تھا جو مشرقی ترکستان کا حاکم اور خوانین کی دری گنگ کاگیو شاخ کا حامی تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اقتدار کی اس جنگ میں ہلاکو کے اندر خود کو خيدو سے وابستہ رکھنے کی خواہش رہی ہو۔

کچھہ لوگوں کا قیاس ہے کہ تبتی بدھ مت کی طرف قبلائی اور خيدو کے میلان کا سبب مہاکال کی مافوق الفطری حمایت حاصل کرنا تھا جسے شاکیہ اور کاگیو، دونوں کی مروجہ روایات کے مطابق، بودھی نگہبان یا محافظ کی حیثیت دی جاتی تھی۔ مہاکال تانگوتوں کا، جنھوں نے تبت اور منگولیا کے بیچ کے علاقے پر حکومت کی تھی، نگہبان یا محافظ رہا تھا۔ ان کے دادا چنگیز خان نے، بالآخر، تانگوتوں سے جنگ کے دوران ہی انتقال کیا تھا، جنھیں یقیناً مافوق الفطرت امداد حاصل رہی ہوگی۔ يہ بات بعید از امکان ہے کہ بہ شمول ہلاکو، منگول لیڈروں نے تبتی بدھ مت کا انتخاب اُس کی گہری فلسفیانہ تعلیمات کے باعث کیا ہو۔

۱۲۶۶ء میں ہلاکو کی موت کے بعد چغتائی خاقانیت کو خوانین کی گرفت سے مزید آزادی مل گئی اور انھوں نے قبلائی خان کے خلاف خدیو کی جد وجہد میں اس کے ساتھہ براہ راست اتحاد قائم کر لیا۔ دریں اثنا، ہلاکو کے ورثا کی شاخ تبتی بدھ مت اور اسلام کی حمایت میں اپنا پالا برابر تبدیل کرتی رہی، بہ ظاہر ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت بھی۔ ہلاکو کے بیٹے اباغا نے تبتی بدھ مت کے ساتھہ اپنے باپ کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ بہر نوع، اباغا کے بھائی تاکودر نے، جس نے ۱۲۸۲ء میں اُس کی جانشینی اختیار کی، مصر پر اپنے حملے اور فتح کے دوران مقامی تعاون کی حصولیابی کے لیے، اسلام قبول کر لیا۔ اباغا کے بیٹے ارغون نے اپنے چچا کو شکست دی اور ۱۲۸۴ء میں وہ خود الخان بن گیا۔ تبتی راہبوں نے گئیہا تو کو رنشن دورجی کا تبتی نام دیا تھا، مگر وہ ایک پست فطرت شرابی تھا جس سے بودھی عقیدے کو کسی طرح کی نیک نامی بہ مشکل ہی مل سکتی تھی۔ اس نے چین سے ایران کو کاغذی سکّے سے متعارف کرایا جس نے اقتصادی تباہی مچادی۔

قبلائی خان کی موت کے سال بھر بعد، ۱۲۹۵ء میں گئیہاتو کا انتقال ہو گیا۔ ارغون کے بیٹے غازان نے اس کی گدّی سنبھالی۔ اس نے اپنے سلطنت میں اسلام کو پھر سے سرکاری مذہب کے مرتبے پر فائز کر دیا اور وہاں کی نئی بودھی خانقاہوں کو منہدم کردیا۔ کچھہ اسکالرز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اپنے باپ کی مذہبی پالیسی کے طرف غازان خان کی مراجعت، اپنے آپ کو اپنے چچا کی اصلاحات اور عقاید سے دور رکھنے، اور منگول چین کی گرفت سے اپنے آزادی پر اصرار جتانے کے لیے تھی۔

بودھی خانقاہوں کو برباد کر دینے کا فرمان جاری کرنے کے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ غازان خان بدھ مت سے متعلق تمام آثار کو ختم کرنے کی خواہش نہیں رکھتا تھا۔ مثلاً، اس نے رشید الدین کو ایک "جامع التاریخ" لکھنے پر مامور کیا، اس ہدایت کے ساتھہ کہ فارسی اور عربی دونوں میں اس کا متن تیار کیا جائے۔ ان تہذیبوں اور انسانوں کی تاریخ کے حصے میں، جنھیں منگولوں نے فتح کر لیا تھا، رشید الدین نے "بودھ کی حیات اور تعلیمات" کو بھی شامل کیا۔ اس مورخ کو اپنی تحقیق کے کام میں مدد دینے کے لیے غازان خان نے کشمیر کے ایک بودھ راہب بخشی کمل شری کو اپنے دربار میں بلوایا۔ الکرمانی کے سابقہ علمی کام کی طرح، رشید کی کتاب میں بھی بدھ مت کو اس طرح کے پیرایے اور اصطلاحات میں پیش کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے لیے بآسانی قابلِ فہم ہو جیسے کہ بودھ کو پیغمبر کہا گیا ہے، دیوتا کو فرشتے اور مار کو شیطان قرار دیا گیا ہے۔

رشید الدین کی رپورٹ کے مطابق ان کے زمانے میں گیارہ عدد بودھی متون کے عربی تراجم ایران میں پائے جاتے تھے۔ ان میں مہایان متون مثلاً "مسرت کی خالص سرزمین کے نظام پر ایک سوتر" (سوتر جو امیتابھ کی ارض خالص سے متعلق ہے)۔ "ایک بُنی ہوئی ٹوکری کی ساخت کے نظام پر سوتر" (ترحم اور دردمندی کا پیکر) اور "میتریا پر ایک نمائش یا عام مظاہرہ" (میتریا سے متعلق، جو مستقبل کا بودھ ہے اور محبت کا پیکر) یہ متون، بلا شبہ اس ذخیرے میں شامل ہیں، آٹھویں صدی کے دوران بغداد کے بیت الحکمت میں عباسی خلفا کے زیر سرپرستی جن کے ترجمے کی شروعات ہوئی۔

رشید الدین نے اپنی تاریخ غازان کے وارث اولجائیتو کے دورِ حکومت میں، ۱۳۰۵ء میں ختم کی۔ ایسا لگتا ہے کہ بودھی راہب ابھی ایران میں موجود تھے، کم سے کم ۱۳۱۶ء میں اولجائیتو کی وفات تک تو ضرور، کیونکہ راہبوں نے منگول حکمراں کو واپس بدھ مت کی طرف لانے کی ایک ناکام کوشش ضرور کی۔ اس طرح کم از کم اس وقت تک، بودھی راہب افغانستان سے ہو کر آتے جاتے رہے، لہٰذا عین ممکن ہے کہ دربار چغتائی میں ان کی پذیرائی بھی ہوتی رہی ہو۔

۱۳۲۱ء میں چغتائی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔ مغربی چغتائی خاقانیت یعنی کہ خاقان کی مملکت میں سغدیہ اور افغانستان شامل تھے۔ شروع ہی سے اس کے خان لوگ اسلام قبول کرتے آئے تھے۔ ایران میں خوانین کا اقتدار ۱۳۳۶ء میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔ اس کے بعد افغانستان میں بدھ مت کے چلن کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔ وہاں اس نے تقریباً انیسو سو برسوں کی زندگی پائی تھی۔ تاہم بدھ مت کا علم معدوم نہیں ہوا تغلق تیمور نے ۱۳۶۴ء میں مغربی چغتائی خاقانیت کو فتح کر لیا اور ساتھہ ہی اس کی جانشینی حاصل کرنے والی چھوٹی چھوٹی اخوانی ریاستوں کو بھی تغلق تیمور کے بیٹے اور جانشین، شاہ رخ نے مورخ حافظ آبرو کو فارسی میں تاریخوں کا ایک "مجموعہ التواریخ" ہرات، افغانستان ميں ۱۴۲۵ء ميں لکھنے پر مامور کیا۔ یہ تاریخ، جو شاہ رخ کے دارالخلافہ ہرات، افغانستان ميں ۱۴۲۵ء میں ایک صدی پہلے لکھی جانے والی رشید الدین کی کتاب کے نمونے پر مکمل کی گئی، بدھ مت سے متعلق تفصیلات کی حامل ہے۔

[۔مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے: منگول سلطنت سے قبل بدھ مت اور اسلامی ثقافتوں کے تاریخی روابط]