ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بدھ مت کی بنیادی اقسام کا جائزہ

الیکزانڈر برزن، قاہرہ مصر، جون ۱۹۹۶

اصلاً بطور مندرجہ ذیل کے حصہ کے شایع ہوا:
Berzin, Alexander. Buddhism and Its Impact on Asia .
Asian Monographs , no. 8.
Cairo: Cairo University, Center for Asian Studies, June 1996.

اب ہم تھرواد، چینی اور تبتی اقسام کے بدھ مت کو، موجودہ دور میں باقی ماندہ اہم بودھی طریقوں کے نمائندوں کے طور پر لیتے ہوئے، ان کی کچھ امتیازی خصوسیات کا جائزہ لیتے ہیں۔

تھرواد

تھرواد آگاہ (ذہن میں رکھتے ہوئے) مراقبہ کی مشقوں پر زور دیتا ہے۔ یہ بیٹھے ہوئے، سانس اور بدن کے احساسات پر اور بہت آہستہ چلتے ہوئے، حرکات اور ارادوں پر مرتکز ہونے سے کیا جاتا ہے۔ ہر حرکت کے اتار اور چڑھاو کی آگاہی سے انسان ناپائداری کا ایک تجرباتی ادراک پاتا ہے۔ اور جب اس ادراک کو اپنے تجربات کے تجزیے کے لیے استمعال کیا جاتا ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی بھی نفس پائدار اور غیر متغیّر نہیں ہے جو کہ ہر کسی اور ہر چیز سے آزاد وجود رکھتا ہو۔ ہر چیز ہر وقت تبدیلی میں ہے۔ اس طرح انسان اس حقیقت کا شعور پاتا ہے جو کہ اسے اپنی ذات پر مرتکز تشویش، اور اس کی نتیجہ میں پیدا شدہ ناخوشی سے نجات دیتی ہے۔ تھرواد محبت اور درد مندی پر مراقبہ کرنا بھی سکھاتا ہے۔ لیکن یہ صرف گزشتہ کچھ دہائیوں میں ہوا ہے کے اس میں "مشغول کار بودھی تحریک" بھی شروع ہوئی ہے۔ یہ تحریک تھائی لینڈ میں شروع کی گئی تھی تاکہ بدھ مت کے پیروکاروں کو معاشرتی اور ماحولیاتی کاموں میں مدد کے لیے مشغول کیا جائے۔ مزید از آں، تھرواد راہب بودھی متون کو پڑھتے اور با ترنم گاتے ہیں اور عوام الناس کے لیے تقریب کی رسمیں بھی انجام دیتے ہیں۔ راہب خاموشی سے بھیک مانگنے کے روزانہ دوروں پر بھی جاتے ہیں اور لوگ انہیں کھانا دے کر سخاوت کی مشق کرتے ہیں۔

مشرقی ایشیائی مہایان

مشرقی ایشیائی مہایان دو صورتوں میں پایا جاتا ہے، ایک قسم "خالص سرزمین" کہلاتی ہے اور دوسری وہ جسے جاپان میں زین کہا جاتا ہے۔ خالص سرزمین روایت امیتابھ (لا متناہی روشنی کا بدھ) کے نام کی قرات پر زور دیتی ہے جو ایک طریقہ ہے خوشی کی خالص سرزمین میں پہنچنے کا جو کہ ایک قسم کی جنت ہے اور وہاں ہر چیز ایک بدھ بننے کے لیے سازگار ہے۔ زین سخت مراقبہ کی تاکید کرتا ہے جس میں ذہن سے ہر تصوراتی خیال بیدخل کر دیا جاتا ہے تاکہ ذہن کی خالص فطرت، جو کہ دانا اور درد مند ہے، چمکنے لگے۔ دونوں روایتوں میں راہب اور راہبات مقدس متون کا چاپ کرتے ہیں اور کنفیوشسی ثقافت کے مطابق عوام کے وفات شدہ آبا و اجداد کے لیے خصوصی تقریبات انجام دیتے ہیں۔

تبتی مہایان

مہایان بدھ مت کی تبتی قسم جو کہ وسطی ایشیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہے، مطالعہ پر زور دیتی ہے۔ خصوصاً ذہن اور جذبات کی نوعیت کے بارہ میں مطالعہ، منطق اور جدل کے ذریعہ اور شدید مراقبہ کے ہمراہ۔ اس کے ساتھ تنتر مشقیں کی جاتی ہیں جن میں انسان اپنی تخیلاتی قوت استمعال کرتا ہے اور جسم کی لطیف توانائیوں کے استمعال کے ذریعہ سے اپنے آپ کو بدھ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ خالی پن اور درد مندی پر مرتکز ہو کر کیا جاتا ہے اور پھر اس حالت میں اپنے آپ کے بارہ میں تصور کیا جاتا ہے کہ آپ بدھ کی ایک مخصوص شبیہ بن گئے ہیں۔ اگرچہ ایسی شبیہات کو بعض اوقات "معبودِ مراقبہ" کہا جاتا ہے لیکن یہ اپنے معنی یا عمل میں خدا کے مترادف نہیں ہوتیں اور بدھ مت کسی طرح سے بھی ایک مشرک مذہب نہیں ہے۔ ہر بدھ کی شبیہ، مہاتما بدھ کی روشن ضمیری کے ایک پہلو مثلاً حکمت یا درد مندی کی ایک نمائندگی علامت ہے۔ اپنے آپ کو ایسی صورت میں تصور کرنے اور اس سے متعلق مقدس منتر چاپنے سے انسان کو اپنے فریب خوردہ ذاتی تصور پر قابو پانے اور اس شبیہ میں مجسم خصوصیات کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ایک بہت ترقی یافتہ مشق ہے اور اس کو کرنے کے لیے ایک مکمل طور پر اہل استاد کی قریبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

تبتی بدھ مت میں رسوم اور چاپنے کا ایک بڑا عنصر بھی شامل ہے جن کا عمومی مقصد منفی قوتوں اور مداخلتوں، جن کا تصور بھوتوں کے طور پر کیا جاتا ہے، کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ یہ رسوم ادا کرتے وقت، مراقبہ میں مدد کے لیے، انسان اپنے آپ کو ایک بہت طاقتور اور خشمگین شکل میں تصور کرتا ہے تاکہ مشکلات پر قابو پانے کے لیے قوت اور حوصلہ حاصل کر سکے۔ اسی طرح، محبت اور درد مندی پیدا کرنے کی مراقباتی تکنیک جو کہ تصوراتی تخیل کا استمعال کرتی ہیں، پر بھی زور دیا جاتا ہے۔