ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > بدھ مت کے پیمان اور ذمہ داریاں > پیمان اور ذمہ داریاں > مشتاق بودھی چت کی مشغول حالت کی تربیت کے اقدامات

مشتاق بودھی چت کی مشغول حالت کی تربیت کے اقدامات

برزن الیگزینڈر
ترمیم مارچ ۲۰۰۲، ماخوذ از
Berzin, Alexander
Taking the Kalachakra Initiation.
Ithaca, Snow Lion, 1997.

مشتاق اور مشغول بودھی چت

بودھی ستوا وہ لوگ ہیں جنہیں بودھی چت حاصل ہے – ایک ایسا دل جو مکمل طور پر دوسروں کے لئے وقف ہے، اور روشن ضمیری پانے کے لئے، تا کہ ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کر سکیں۔ بودھی چت کے دو درجات ہیں:

۱۔ مشتاق

۲۔ مشغول

مشتاق بودھی چت ہماری اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی زبردست خواہش کا نام ہے۔ مشغول بودھی چت سے مراد ایسی عبادات کرنا ہے جو اس ہدف کو پاتی ہیں، اور ان کاموں سے بچنے کا بودھی ستوا عہد اٹھانا جو اسے نقصان دیتی ہیں۔ ان دونوں کے درمیان فرق ایسے ہی ہے جیسے ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھنا اور پھر سچ مچ طبی مدرسہ میں داخلہ لینا۔

محض مشتاق اور مشغول بودھی چت

کسی خاص رسم میں شامل ہو کر ہم بودھی چت کی مشتاق حالت پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کا مطلب بودھی ستوا عہد اٹھانا نہیں۔

مشتاق بودھی چت کے دو درجات ہیں:

۱۔ دوسروں کے بھلے کی خاطر مہاتما بدھ بننے کی خواہش،

۲۔ اس بات کا عہد کرنا کہ اس ہدف کو کبھی نہیں چھوڑیں گے حتیٰ کہ اسے پا لیں۔

بودھی چت عہد کی حالت میں ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم وہ پانچ عبادات کریں گے جو ہمیں کبھی بھی اپنے مدعا سے رو گردان نہیں ہونے دیتیں۔ خالی تمنا کی حالت میں یہ عہد شامل نہیں ہوتا۔ پہلی چار عبادات کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا بودھی چت عہد اس جنم میں کمزور نہ پڑے۔ پانچویں عبادت ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم اپنے عہد کو آئیندہ زندگیوں میں بھی نہ بھولیں۔

بودھی چت ہدف کو اس جنم میں کمزور پڑنے سے روکنے والی چار عبادتیں

(۱) ہر دن اور رات کو بودھی چت کے فوائد کو یاد کرنا۔ جس طرح اپنے بچوں کی نگہداشت میں ہم اپنی تھکن کو بھول جاتے ہیں اور اپنی توانائی جمع کر لیتے ہیں، ایسے ہی جب ہمارا زندگی کا بنیادی مقصد بودھی چت ہو تو ہم آسانی سے تمام مشکلات پر قابو پا لیتے ہیں اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروۓ کار لے آتے ہیں۔

(۲) ہر روز دن اور رات کو تین تین بار، اپنے دلوں کو روشن ضمیری اور دوسروں کے لئے وقف کر کے، اس عہد کا اعادہ کرنا اور اسے تقویت بخشنا۔

(۳) روشن ضمیری کو مضبوط کرنے کی جد و جہد کرنا – مثبت توانائی اور گہری آگہی کے جال بننا (انعام کی مستحق خوبی اور عمیق فہم)۔ دوسرے لفظوں میں دوسروں کی بخوبی مدد کرنا، اور ایسا کرتے وقت حقیقت سے گہری آگہی کو بیدار رکھنا۔ ملاحظہ کیجئے:

(۴) کسی کی مدد کرتے وقت کبھی پیچھے نہ ہٹنا، یا کم از کم ایسا کرنے کی خواہش رکھنا خواہ وہ شخص کتنا ہی کج رو کیوں نہ ہو۔

بودھی چت ہدف کو آئیندہ زندگیوں میں نہ کھو دینے کی عبادت

مشق کے پانچویں حصے کا تعلق چار قسم کے تاریک رویوں (چار "کالے" فعل) سے چھٹکارا حاصل کرنا اور اس کی جگہ چار روشن رویوں (چار "سفید" فعل) کو اپنانا ہے۔ ان چاروں مجموعوں میں سے ہر ایک میں پہلا رویہ تاریک قسم کا ہے جسے ہم روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دوسرا روشن والا ہے جسے ہم اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

(۱) اپنے روحانی مرشد، والدین یا تین جواہر کو کبھی بھی دھوکہ دینے سے باز رہنا۔ اس کے بجاۓ ان سے ہمیشہ دیانتداری سے پیش آنا، خصوصاً دوسروں کی مدد کرنے کے بارے میں ہماری نیت اور جہد کے متعلق۔

(۲) بودھی ستوا سے کبھی بھی بد سلوکی سے پیش آنے سے باز رہنا۔ چونکہ صرف مہاتما بدھ ہی اس بات کا وثوق سے تعین کر سکتے ہیں کہ کون صحیح بودھی ستوا ہیں، اس لئے ہمیں سب سے اپنے استادوں کی مانند خلوص سے پیش آنا چاہئے۔ اگر لوگ بد تمیزی اور بد اخلاقی سے بھی پیش آئیں، تو ہم ان سے یہی سیکھتے ہیں کہ ہم ان والا رویہ نہیں اختیار کریں گے۔

(۳) دوسروں نے اگر کوئی اچھا کام کیا ہے تو کبھی بھی انہیں اس بارے میں پچھتاوا محسوس کرانے سے باز رہنا۔ اگر کوئی شخص ہمارے لئے ایک چٹھی ٹائپ کرتا ہے اور اس میں بہت ساری غلطیاں کرتا ہے، تو اگر ہم اس پر شدید غصہ کا اظہار کریں تو وہ آئیندہ کبھی ہماری مدد نہیں کرے گا۔ اس کے بجاۓ ہمیں دوسروں کو تعمیری روش سکھانی چاہئے، اور اگر وہ ہماری بات سننے کو تیار ہوں تو ان کی کمزوریوں پر قابو پانے اور ان کی صلاحتیوں کو اجاگر کرنے میں ان کی مدد کرنی چاہئے تا کہ وہ سب کا مزید بھلا کر سکیں۔

(۴) لوگوں سے تعلقات میں کبھی بھی ریاکاری یا بناوٹ سے کام لینے سے باز رہنا۔ دوسرے لفظوں میں یعنی اپنی کمزوریوں کو چھپانا اور ایسی خوبیوں کا دکھاوا کرنا جو ہم میں نہیں ہیں۔ اس کے بجاۓ ہمیں دوسروں کی مدد کا ذمہ لینا چاہئے، اپنی خامیوں اور خوبیوں کے بارے میں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہئے۔ اپنی استطاعت سے بڑھ کر کچھ کرنے کا وعدہ کرنا بہت بری بات ہے، اس سے دوسروں کو جھوٹی توقعات لگ جاتی ہیں۔