ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > انٹرنٹ پر دستیاب کتب > شائع شدہ کتب > بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابین تاریخی تعامل: منگول سلطنت سے پہلے > ۱۹۔ بارہویں صدی کے دوران وسطی ایشیا میں واقعات کے ارتقا کا عمل

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ سوم: ترک لوگوں کے درمیان اور ان کے ذریعے اسلام کی اشاعت (۸۴۰۔۱۲۰۶ء)

۱۹۔ بارہویں صدی کے دوران وسطی ایشیا میں واقعات کے ارتقا کا عمل

جورچن سلطنت کا قیام

جورچن لوگ تنگوسک مانچو باشندے تھے جن کا وطن شمالی منچوریا اور اس سے ملحق جنوب مشرقی سائبیریا کا وہ علاقہ تھا جو دریائے آمور کے پار واقع تھا۔ وہ جنگلوں میں رہتے بستے تھے جنہیں خیتان کے باسی زبردستی اپنے مذہبی ارکان کی ادائیگی کے لیے ساتھ رکھ لیتے تھے۔ ان تک ۹۱۸۔۱۳۹۲ء میں بودھی اثرات شمالی سونگ چین اور کوریو کوریا دونوں کے ذریعے پہنچے۔ ۱۰۱۹ء میں انہوں نے شمالی سونگ بادشاہ سے نومطبوعہ بودھی (شرعی) قوانین کی ایک نقل کے لیے درخواست کی، اور ۱۱۰۵ء میں (ان قوانین کو اختیار کرنے کے ساتھ) ہان چینی بھکشوؤں نے جورچن دربار میں بودھی تقریبات کے دوران ان (قوانین) پرعمل درآمد شروع کردیا۔ بہر حال، بدھ مت کا اصل ماخذ خیتانوں سے ملا تھا۔

۱۱۱۵ء میں جورچنوں نے اپنے جین شاہی سلسلے (چن) (۱۱۱۵۔۱۲۳۴ء) کا اعلان کردیا اور اپنی زمینوں کو ایک سلطنت میں بدلنے کے لیے انہیں وسعت دینے لگے۔ ۱۱۲۵ء خیتانوں کو میں شکست دینے کے بعد، اس کے اگلے سال کے دوران انہوں نے شمالی ہان چین کا باقی ماندہ حصہ بھی فتح کرلیا۔ ہان چینی دارالسلطنت جنوب کی طرف بڑھا دیا گیا، اور اس طرح شمالی سونگ خاندان کا خاتمہ اور جنوب سونگ (۱۱۲۶۔۱۲۷۹ء) (شاہی سلسلے کی) شروعات ہوئی، جورچن (خاندان کی) حکومت منچوریا، جنوب مشرقی سائبیریا، شمالی، وسطی ہان چین اور اندرونی منگولیا پر پھیل گئی۔ ان کے شمال مغرب میں تنگوت تھے جب کہ منگولیا نے اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے بہت سے قبائلی علاقوں میں بکھیر دیا۔

[ انتیسواں نقشہ دیکھیے: قاراختائی اورجورچینی سلطنتوں کاعروج،بارویں صدی کادوسرانصف حصہ.]

بدھ مت کی خیتان شکل اندرونی منگولیا کےعلاقوں میں مروج رہی جن پر جورچنوں نے غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ بعد کے ’جین‘ برسوں میں بدھ مت کی ہان چینی شکلوں کو زیادہ سبقت حاصل ہوگئ۔ جورچن کی تحریری زبان کے ارتقا میں بھی اسی سلسلے کی متوازی صورت رونما ہوئی۔ پہلے تو جورچن نے خیتان ارکان تہجی پر مبنی رسم خط میں تصرفات اور ترمیمیں کیں، لیکن بعد کے ادوار میں ہان چینی حروف وارکان کا ایک آمیزہ بھی استعمال کرنے لگے۔

شروع کے جورچن بادشاہوں نے بڑی مضبوطی کے ساتھ بدھ مت کی سرپرستی کی۔ اپنی راجدھانی بیجنگ میں اور اپنی پوری مملکت میں انہوں نے بہت سے مندر تعمیر کیے۔ بارہویں صدی عیسوی کے وسط تک جین سلطنت میں تیس ہزار سے زیادہ بھکشو تھے، اس طرح کہ خانقاہوں کو دربار کے عمال اور اہلکاروں کی بنسبت بلند تر مناصب حاصل تھے۔ جورچن دربار نے ہان چینی بودھی متون کے خاص وسیلے کے طور پر، اب شمالی سونگ کی جگہ لے لی، اور ان کی حصولیابی کے لیے تنگوت اپنی عرض داشتیں وہاں بھیجنے لگے۔

تبتی علاقوں میں سیاسی اور مذہبی صورت حال

بارہویں صدی عیسوی کے موڑ پر تسونگ کا میں ایک مختصر خانہ جنگی کے بعد، اپنے سابق تجارتی شریک شمالی سونگ چین کے ساتھ تسونگ کا کے رشتوں میں ترشی پیدا ہوگئی۔ شمالی سونگ افواج نے حملہ کرنے کے لیے اس غیرمستحکم صورت حال کا فائدہ اٹھایا۔ ۱۱۰۲ء سے اس سلسلے کی شروعات کرتے ہوئے، انہوں نے متعدد مرتبہ تسونگ کا کو اپنے قبضے میں کیا، پھر چھوڑ دیا، پھر دوبارہ گرفت میں لے آئے۔ اس کے باعث دو سابقہ دشمنوں، تسونگ کا اور تنگوت نے نہ صرف یہ کہ آپس میں امن قائم کرلیا بلکہ انہوں نے شمالی سونگ چین کے خلاف ۱۱۰۴ء میں ایک فوجی اتحاد کی تشکیل بھی کرلی۔ جنگ جاری رہی تاوقتے کہ جورچنوں نے ۱۱۲۶ء میں شمالی سونگ کا تختہ الٹ دیا۔ ہان چینی فوجوں نے تسونگ کا سے پوری طرح خود کو نکال لیا، جو اس کے بعد ایک بار پھر سے آزاد ہوگیا، اس وقت تک کے لیے جب ۱۱۸۲ء میں جورچنوں نے دوبارہ اسے فتح کرلیا۔ تنگوتوں نے جورچنوں سے اتحاد قائم کرلیا اور جنوبی سونگ کے خلاف برسرپیکار رہے جو تنگوتوں، جورچنوں اور خیتانوں کے ورثا قاراختائوں کو سالانہ خراج ادا کررہا تھا۔

دریں اثنا، دوسرے تبتی ثقافتی علاقوں میں جب نگاری راجاؤں کا سلسلہ اختتام کو جا پہنچا تو بودھی سرگرمی کا دائرہ گیارہویں صدی کے خاتمے تک مغربی تبت سے وسطی تبت کو منتقل ہوگیا۔ نگاری پر غیر تبتی قبائلی باشندوں، کھاساؤں کے ایک سلسلے کی حکومت رہی، جو ایک بہت مختصر حد تک بودھی تھے۔ ناگ دیو کا تسلط اس علاقے سے جاتا رہا، اور مغربی نیپال کو فتح کرتے ہوئے اس نے وہاں دوبارہ اپنی حکومت قائم کرلی۔ اس کے بعد سے مغربی تبت متعدد رجواڑوں میں تقسیم ہوگیا، اور ان سب نےبدھ مت کو بحال کرنے اور اسے اپنی حمایت دینے کا سلسلہ جاری رکھا، لیکن پچھلی صدی کے مقابلے میں نسبتاً ایک نہایت چھوٹے پیمانے پر۔

اس وقت وسطی تبت بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے آزاد علاقوں میں بٹا ہوا تھا۔ اکثر وہ نئی بودھی خانقاہوں کے اطراف میں مرکوز رہتے تھے جن میں سے بیشتر قلعوں کی شکل میں تعمیر کی گئی تھیں۔ اس علاقے میں متحدہ حکومت ۱۲۴۷ء میں ہی آئی جب منگول فرماں روائی کے تحت تبت کو پھر سے منظم کرلیا گیا۔ بہر حال، سیاسی عدم اتحاد کے باوجود، وسطی تبت میں، بارہویں صدی کے دوران، بودھی نئی بلندیوں تک پہنچا۔ تبتوں نے نہ صرف یہ کہ اپنا ترجمے کا کام جاری رکھا، خصوصاً سنسکرت سے، بلکہ انہوں نے تشریحی اور تفسیری لٹریچر کے ایک وسیع مجموعے کی تالیف و ترتیب بھی شروع کردی۔ تمام خانقاہوں میں سے ہر ایک نے اپنا ایک مخصوص دائرہ اور اپنے امتیازی اوصاف قائم کرلیے۔

تنگوتوں پر تبتی ثقافتی اثرات کا عروج

شمالی سونگ سے تسونگ کا کی جانب تنگوتوں کے اتحاد میں بدلاؤ کی وجہ سے، بارہویں صدی میں تنگوت بدھ مت کا خاص اثر بھی اسی طرح ہان چین سے تبت کو منتقل ہوگیا۔ تنگوتوں کی تبتی زبان سے اور زیادہ متون کا ترجمہ کرنے کی رفتار تیز تر ہوتی گئی اور انہوں نے خود اپنے بودھی لٹریچر کی توضیع وتالیف شروع کردی جس پر تبتی تفسیروں کے نمونے کا عکس نہایت واضح تھا۔ بہت سے تبتی بھکشوؤں نے حصول تعلیم کی غرض سے وسطی تبت کا سفر کیا۔ ان میں سے ایک، من یاگ گوم رنگ (می۔ نیاگ۔ سگوم۔ رنگس) نے پاگمو۔ دردپا (پھاگ۔ موگرو۔ پا، ۱۱۱۰۔۱۱۷۰ء) کی شاگردی اختیار کرلی جس سے بہت سے کاگیو فرقوں کو منسوب کیا جاتا ہے۔ ۱۱۵۷ء میں اسی تنگوت بھکشو (کاگیو) نے وہ خانقاہ قائم کی جو بعد میں ڈریگونگ کاگیو (بری۔ گنگ بکا۔ رگیوڈ) روایت، ڈریگونگ تل (بری۔ گنگ۔ متھل) کے مرکز کے طور پر معروف ہوئی۔

ایک اور تنگوت استاد (ماہر) مترجم تسامی لوتساوا (رتسا۔ می۔ لو۔ تسا۔ با) وسط بارہویں صدی میں شمالی ہندوستان گیا، وجراسن (بدھ گیا) کے مقام پر واقع خانقاہ کا صدر پروہت بن گیا اور کشمیرسے کالچکر تنتر کے شجروں میں سے ایک شجرہ اپنے ساتھ لے کر واپس لوٹا۔ کشمیر اور تبت، دونوں جگہوں سے اساتذہ کو تنگوت واپسی کی دعوت دی گئی جہاں وہ شاہی اثالیق بنائے گئے۔ باہمی لین دین کی سرگرمی میں ہمیشہ سے زیادہ وسعت آئی۔

 

شمالی سونگ چین سے اپنے پیہم اور متواتر فوجی تصادمات کے باوجود، تنگوتوں نے ہان چینی معاشرے سے بھی بعض عناصر اور اوصاف اختیار کرنے کی روش برقرار رکھی

 

مثال کے طور پر، ۱۱۴۶ء میں ضابطہ پرستوں کے لیے ایک کنفیوشیائی طرز کا تعلیمی نظام اپنی ثقافتی یگانگت کو قائم رکھنے کی تنگوت کوششوں کے باوجود، (ثقافت) کو چینیانے (چین کا رنگ دینے) کا بڑھتا ہوا سلسلہ، بادشاہ رین شیاؤ (جین۔ ہسیاؤ) (دور: ۱۱۳۹۔۱۱۹۳ء) کی ماں کے باعث تھا جو نسلاً (دیسی) ہان چینی تھی۔

بالآخر، تنگوتوں نے وسطی ایشیا کے سب سے زیادہ شائستہ اور مہذب باشندوں کی حیثیت اختیار کرلی۔ مثلاً، ۱۱۷۰ء میں بادشاہ رین شیاؤ نے ایک تفصیلی قانونی ضابطے کا نفاذ کیا جو شہری (سول) اور مذہبی، دونوں دائروں کا احاطہ کرتا تھا۔ اس نے تنگوت بودھی خانقاہوں کو، بھکشوؤں کی پیدائش (نسل) تنگوت، ہان چینی یا ملے جلے تنگوت ہان خون کے مطابق تقسیم کردیا۔ اس میں ویغور یا زرد اویغور بھکشوؤں کا کوئی ذکر نہیں ہے، شاید ۱۱۲۴ء میں قاراختائیوں کے سامنے قوچوؤں کی تابعداری کے باعث۔ تمام بھکشوؤں کے لیے، اپنی پیدائش (یا نسل) سے قطع نظر کرتے ہوئے تنگوت، تبتی، ہان چینی اور سنسکرت زبانیں اور ادب کا مطالعہ ضروری تھا۔ اس مقصد کے تحت کہ وہ کوئی خانقاہی انتظامی منصب اختیار کرسکیں، انہیں ایک امتحان میں کامیاب ہونا پڑتا تھا جس سے ان کے تبتی ترجمے میں، کئی بودھی متون پران کی خصوصی ماہرانہ گرفت کا مظاہرہ ہوتا ہو۔ یہ (شرط) اس شہری (سول) قانون کے متوازی تھی جسے ہان چین سے اپنایا گیا تھا اور جس کے مطابق حکومت میں دفتری مناصب کی حصولیابی کے لیے امیدواروں کا کنفیوشیائی کلاسیکوں (ادب عالیہ) پرمبنی ایک کڑے امتحان کا پاس کرنا ضروری تھا۔

قوچو ویغوروں اور قاراخانیوں پر قاراختائیوں کا غلبہ

۱۱۲۴ء میں جنوب کی سمت سے جورچینوں کے حملے کی وجہ سے خیتان حکمراں ییلو داشی کے ہاتھ سے منگولیا خود جاتا رہا اور اس نے اپنے فوجیوں کے ساتھ بیشبالق میں واقع قوچو ویغوروں کی موسم گرما کی سلطنت کو فرار کی راہ اختیار کی۔ خیتان کے روایتی، پرامن، تابعدار باج گزاروں نے خوش دلی کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور خاطر تواضع کی۔ ییلو داشی کے اس (حوصلہ مندانہ) مقصد سے دوچار ہوتے ہوئے کہ وہ اپنے لیے ایک نیا علاقۂ اقتدار وضع کرلے، ویغوروں نے رضاکارانہ طور پر، خود کو اس ذی اثر خیتان پناہ گزیں کی حکومت کے سامنے پیش کردیا۔ اس (پناہ گزیں حکمراں) نے اپنے شاہی سلسلے قاراختائیوں یا مغربی لیاؤ (۱۱۲۴۔۱۲۰۳ء) کا اعلان کردیا اور دزونغاریہ کا اقتدار سنبھال لیا۔ قوچو ویغوروں نے اتنی آمادگی کے ساتھ اس کی اطاعت شاید اپنے اس خوف کی وجہ سے قبول کرلی تھی کہ جورچنوں اور تنگوتوں کا اتحاد مشرق کی سمت سے ان کو دھمکا رہا تھا، اور ماضی میں وہ خیتانوں کے تحفظ کے طلب گار رہ چکے تھے۔

۱۱۳۷ء میں ییلو داشی نے قاراخانیوں کو زیر کرلیا اور کاشغر، ختن، فرغانہ اور شمالی مغربی ترکستان میں اس کی سلطنت کے بعض حصوں پر قابض ہوگئے۔ ۱۱۴۱ء میں اس نے سمرقند میں سلجوقیوں کو شکست دی اور اپنے (زیر اقتدار) علاقے کی توسیع سغد، باختر اور خوارزم تک کرلی۔ ایک اندرونی بغاوت کے باعث ایران میں سلجوق ریاست ریزہ ریزہ ہوگئی جس کے بعد ایران متعدد چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا، اور بہت سی مختصر مملکتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا جو ۱۲۲۰ء میں منگول فتح کے وقت تک چلتا رہا۔ سلجوقیوں کا خاص قلعہ (یا حصار عافیت) اب اناطولیہ رہ گیا تھا۔

ییلو داشی نے بدھ مت کے جس روپ کی پیروی کی وہ داؤمت، کنفیوشیت، ٹنیگریت اور شمن پرستی کا روایتی خیتان مرکب تھا۔ وہ انتہائی روادار تھا اور اپنی مملکت میں تمام مذاہب، بشمول اسلام، کا محافظ تھا۔ نسطوری عیسائیت سمرقند اور کاشغر کے مہانگروں میں فروغ پذیر تھی جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس وقت تک وسطی ایشیا میں مختلف مذاہب، بنیادی اعتبار سے ہم آہنگی کے ساتھ بستے تھے۔

صوفی علما کے واسطے سے وسطی ایشیائی ترکوں میں اسلام کی اشاعت

اسلام میں صوفی تحریک جس کا زور حقیقت اولٰی کے ذاتی تجربے پر ہے، نویں صدی عیسوی کے نصف دوم میں بغداد میں ابو القاسم الجنید (و:۹۱۰) اور خراسان (شمالی ایران) میں ابو یزید تیفور البسطامی (و:۸۷۴) کی تعلیمات کے توسط سے رونما ہوئی۔ قاراخانی،غزنوی اور سلجوق ادوار میں، گیارہویں صدی سے خانہ بدوش سیلانی صوفی علما نے اسے وسطی ایشیا میں پھیلانا شروع کیا۔ ان کے متصوفانہ طور طریقے ایک روحانی ضرورت کی تکمیل کرتے تھے جسے شیعی اور اسمٰعیلی فرقوں کے جبر اور ایذا رسانی نے، خاص طور پر ۱۰۵۵ء میں، بغداد پر سلجوقوں کی فتح کے بعد (کسی توجہ کے بغیر)خالی چھوڑ دیا تھا۔

ترکیائی خانہ بدوش قبیلوں تک تصوف کو لے آنے کا سہرا احمد ابن ابراہیم ابن علی الیسوی (و:۱۱۶۶) کے سر ہے۔ یسویہ سلسلہ جو ان سے منسوب ہے، یہی اسلام میں روایتی ترکیائی (ترکی کے) ثقافتی اور بالخصوص شمن پرستانہ عناصر کی شمولیت کا نتیجہ ہے۔ وہ ترکوں جیسا لباس پہنتے تھے، انہوں نے عبادات (دعاؤں) کے سیاق و سباق کے باہر ترکیائی (ترکی کی) زبان کے مذہبی استعمال کی اجازت دی، بعض مذہبی رسوم کے دوران مویشیوں کی قربانی شامل کی اور عورتوں کو یہ موقع دیا کہ روحانی جذب و انبساط تک رسائی کے لیے، تصوف کے ذکر و فکر (کی محفلوں) میں وہ بھی حصہ لیں۔ مذہبی بزرگوں کے گرد روحانی مہمان خانوں (خانقاہوں) کی تعمیر کا صوفیانہ رواج، جس کے دروازے تمام مسافروں کے لیے کھلے ہوں، اور صرف انفرادی سطح پر جابجا گشت کرتے ہوئے روحانی تلاش میں مبتلا لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ اس مرکز سے وابستہ پوری قوم (گروہ) تک، معہ اپنے ہادی اور معلم کے جو مہینوں اپنے روحانی سفر پر ایک ساتھ سرگراں ہوں، یہ روایت ترکیائی خانہ بدوش روایت کے لیے زبردست کشش (اپیل) رکھتی تھی۔

ان وسائل کی مدد سے، ترکیائی (وسطی ایشیا کے ترکی روایت کی پیروی کرنے والے) عوام الناس میں اسلام کو روزافزوں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس وقت وسطی ایشیا میں اسلام کی تیز رفتار ترقی، اسی لیے تلوار کے زور پر (غیرمسلموں کا) مذہب بدلوانے کے باعث نہیں تھی، بلکہ ترکیائی (ترکی کی) ثقافت سے کئی عظیم معلموں (اصحاب صوف) کے، اپنے مذہب کو ایک ہنرمندانہ طریقے سے متعارف کرانے کا نتیجہ تھی۔ اسلام کی یہ توسیع بدھ مت کی قیمت پر وقوع پذیر نہیں ہوئی اور اس کا (کوئی) پالا کسی جارحانہ بودھی ردعمل سے نہیں پڑا۔ اس حقیقت کا ظہور، بنیادی طور پر ایک بودھی حکومت یعنی کہ قاراختائیوں کے زیراقتدار ہوا اور اسے ان کی مدد اور حمایت حاصل رہی۔