ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ سوم: ترک لوگوں کے درمیان اور ان کے ذریعے اسلام کی اشاعت (۸۴۰۔۱۲۰۶ء)

۱۸۔ غزنوی اور سلجوق

گندھارا اور شمال مغربی ہندوستان میں غزنوی مہم

محمود غزنوی نے ۱۰۰۸ء میں اپنے شمال کی جانب قاراخانی سلطنت پر جو حملہ کیا تھا، اس میں پسپائی کے بعد، اس نے اپنی حکومت کو قاراخانی انتقام سے بچانے کے لیے جنوبی سغد اور خوارزم میں سلجوق ترکوں کو اپنا حامی بنا لیا۔ سلجوقیوں کا تعلق ایک غلام بنالیے جانے والے ترکیائی قبیلے سے تھا جسے سامانیوں نے دفاعی افواج کے طور پر استعمال کیا تھا اور۹۹۰ء کے بعد کی دہائی میں انہیں اسلام کے دائرے میں شامل کرلیا تھا۔ اپنے وطن کی حصولیابی کے بعد، محمود نے اب پھرسے برصغیر ہندوستان کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔

کئی دہائیاں پہلے ۹۶۹ء میں فاطمیوں (۹۱۰۔۱۱۷۱ء) نے مصر پر فتح پائی تھی اور اسے اپنی تیزی سے پھیلتی ہوئی سلطنت کا مرکز بنا دیا تھا، وہ اپنے اسمٰعیلی فرقے کے پرچم کے تلے پوری مسلم دنیا کو متحد کرنے کی خواہش رکھتے تھے تاکہ اسلامی مسیحا موعود کی آمد کے استقبال کی تیاری کرسکیں، جیسا کہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ بارہویں صدی کے آغاز کے ساتھ ایک الہامی جنگ ہوگی جو دنیا کو ختم کردے گی۔ ﴿اور پھر ان کا ظہور ہوگا﴾ ان کاعلاقہٴ اقتدار شمالی افریقہ سے مغربی ایران تک پھیلا ہوا تھا، اور ایک بڑی بحری طاقت کے طور پر، انہوں نے اپنے اثر اور عقیدے کی توسیع کے لیے دور دراز علاقوں تک اپنے سفیروں اور مشنریوں کو روانہ کیا۔ اسلامی دنیا کی سربراہی کے لیے، وہ سنی عباسیوں کے خاص حریف تھے۔

بنوامیہ کی فتح کے بعد سندھ میں مسلم حکومت کے آثار انتہائی کمزور تھے۔ عباسی خلیفا کے لیے سنی العقیدہ گورنروں کی اطاعت بس برائے نام تھی، جب کہ دراصل وہ مقامی ہندو حکمرانوں کے ساتھ اقتدار میں شریک تھے۔ ایک پرامن بقائے باہمی ﴿کے اصول﴾ کے تحت اسلام بدھ مت، ہندومت اور جین مت کے ساتھ چین سے رہ رہا تھا۔ بہر حال، اسمٰعیلی مشنریوں کو وہاں ان کی باتوں پر کان دھرنے والے کچھ لوگ مل گئے جو سنیوں اور ہندوؤں میں صورت حال کی یکسانیت سے اکتائے ہوئے تھے۔ ۹۵۹ء تک شمالی سندھ میں ملتان کا حکمراں اپنا مذہب بدل کر اسمٰعیلی شیعہ ہوگیا، اور ۹۶۸ء میں ملتان نے اپنے آپ کو عباسیوں کے اقتدار سے آزاد ایک اسمٰعیلی فاطمی تابعدار ریاست کے طور پر مشہور کردیا۔ اسی نقطے پر، عباسیوں کو، جن کے ساتھ ان کے تابعدارغزنوی بھی آگئے تھے، مشرق اور مغرب دوسمتوں سے ان کے فاطمی حریفوں نے گھیر لیا۔ ان کے سروں پر اب ﴿ایک ساتھ﴾ دوطرفہ ﴿دو محاذوں سے﴾ حملے کا خوف منڈلا رہا تھا۔ غزنویوں پر حملہ کرنے کے لیے ملتان کے اسمٰعیلیوں کو صرف غزنوی دشمنوں، یعنی کہ ہندو شاہیوں کے علاقے سے گزرنے کی ضرورت تھی۔

ہر چند کہ اس کے باپ نے شیعی اسلام کی حمایت کی تھی، مگر محمود غزنوی نے سنی اسلام اختیار کیا جو صرف عباسیوں کا ہی نہیں، قاراخانیوں اور سامانیوں کا بھی ممتاز عقیدہ تھا۔ اسلام کی دوسری شکلوں ﴿مسالک﴾ کے لیے اپنی عدم رواداری کے باعث وہ خاصا بدنام ہے۔ ۹۹۸ء میں تخت نشین ہونے اور افغانستان میں اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے بعد، ۱۰۰۱ء میں اس نے گندھارا اور اڈیانہ کے ہندو شاہیوں پر حملہ کیا اور اپنے باپ کے دشمن جے پال کو شکست دی جسے وہ خود بھی اپنے لیے ایک امکانی ﴿اور قوی﴾ خطرے کے طور پر دیکھتا تھا۔ ہر چند کہ اوڈیانہ ابھی تک بودھی تنتر کا ایک خاص مرکز تھا، یوں کہ راجہ اندربھوتی اور پدم-سمبھاوا، ہندو شاہی حکومت سے پہلے وہیں سے آئے تھے، یہاں بارونق بودھی خانقاہوں کی کمی تھی۔ اس کے برعکس، یہاں کے ہندو مندورں میں دولت بھری پڑی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ محمود نےانہیں لوٹا اور برباد کردیا۔

اب جے پال کے جانشین آنند پال ﴿دور:۱۰۰۱۔۱۰۱۱ء﴾ نے ملتان کے ساتھ ایک اتحاد کی تشکیل کرلی۔ لیکن ۱۰۰۵ء تک، محمود نے ان کی مشترکہ فوجوں کو شکست دی اور ملتان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا، اس طرح مشرق کی طرف سے سنی عباسی دنیا کے تئیں فاطمی اسمٰعیلی خطرے کو بے اثر کردیا۔ محمود نے اپنے سپاہیوں کو ”غازی” کا لقب دیا، یعنی کہ عقیدے کے لیے جنگ کرنے والے، اور اپنی مہم کو ”جہاد” قرار دیا جس کا مقصد اسمٰعیلی شیعوں کی بدعت کے خلاف راسخ العقیدہ سنی رسوم و آداب کا دفاع کرنا تھا۔ اگرچہ ہوسکتا ہے کہ مذہبی جوش اس کی ترغیب کا حصہ رہا ہو، مگر اس سے زیادہ بڑا حصہ، بلاشبہ، اس کی اس خواہش کا رہا ہو گا کہ اسلامی دنیا کے قائدین کے طور پر وہ عباسیوں کے محافظ کی حیثیت سے اپنے آپ کو قائم کرلے۔ اس طرح کے رول کی ادائیگی، عباسیوں کے ایک تابعدار کی شکل میں اس کی اپنی حکومت کو حق بجانب ثابت کردے گی اور اس نے جو لوٹ مار برپا کی تھی اس کی مدد سے کہیں اور بھی فاطمی مخالف عباسیوں کی مہمات کو معاشی تعاون دیا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر، قدیم ہندو سوریہ مندر، ملتان کا سورج مندر، برصغیر ہندوستان کا سب سے دولت مند مندر ہونے کی شہرت رکھتا تھا۔ اس کے خزانوں نے اور زیادہ مال و دولت حاصل کرنے کی غرض سے، مزید مشرق کی طرف محمود کے جانے کی پیاس بڑھا دی۔

قاراخانیوں کے خلاف محمود کی ناکام مہم کے بعد، ۱۰۰۸ء میں وہ پھر ہندوستانی برصغیر کو لوٹ آیا، اور آج کے دور کے ہندوستانی پنجاب اور ہماچل پردیش میں آنند پال اور راجپوت حکمرانوں کے مابین ایک اتحاد کو شکست دے دی۔ اس کے بعد محمود نے ناگر کوٹ ﴿موجودہ کانگڑہ﴾ میں ہندوشاہیوں کا غیرمعمولی طور پر بڑا خزانہ ضبط کرلیا اور آئندہ برسوں میں اس علاقے کے مالدار ہندو مندروں اور بودھی خانقاہوں میں لوٹ مار کے ساتھ تباہی مچا دی۔ اس نے جو بودھی خانقاہیں تباہ کیں ان میں، موجودہ دہلی کے جنوب میں واقع متھرا کی خانقاہیں بھی تھیں۔

۱۰۱۰ء میں محمود نے ملتان کی ایک بغاوت کچلی، پھر ۱۰۱۵ء میں یا ۱۰۲۱ء میں ﴿اس کا انحصار قبول کیے جانے والے ماخذ پر ہے﴾، اس نے اگلے ہندو شاہی حکمراں ترلوچن پال ﴿دور:۱۰۱۱۔۱۰۲۱ء﴾ کا پیچھا کیا جو کشمیر کی طرف جانے والے مغربی دامن کوہ میں واقع، لوہارا قلعے کے مقام پر اپنی فوجوں کو مستحکم کر رہا تھا۔ بہر حال، اس قلعے پر قبضہ حاصل کرنے یا کشمیر پر حملہ کرنے میں محمود کو کبھی بھی کامیابی نہ مل سکی۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کشمیر کے لوہارا شاہی سلسلے (۱۰۰۳۔۱۱۰۱ء) کے ہندو بانی سنگرام راجا ﴿دور: ۱۰۰۳۔۱۰۲۸ء﴾ نے محمود کو شکست دینے میں کتنا مضبوط کردار ادا کیا تھا۔ روایتی بودھی تذکروں کے مطابق ناروپا کے ایک شاگرد، پرجنارکشتا کے ذریعے پڑھے جانے والے بودھی منتروں نے غزنوی فرماں روا کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

محمود کی فوجوں کی طرف سے ہندوستانی پنجاب اور ہماچل پردیش کی بودھی خانقاہوں کو پہنچا جو بھاری نقصان اس کی وجہ سے بہت سے بودھی پناہ گزینوں نے کہیں اور جا کر پناہ ڈھونڈ لی۔ لیکن، کشمیر کی سمت میں غزنوی سپاہیوں کے حملوں کے ساتھ زیادہ تر پناہ گزیں اپنے آپ کو وہاں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ لہٰذا، ادھر جانے کے بجائے، پناہ گزینوں کا زبردست ریلا، کانگڑہ سے ہوتے ہوئے ہمالیہ سے آگے تبت میں نگاری کی طرف گیا،۱۰۲۰ء کے بعد کی دہائی میں، وہاں کے راجہ نے ایک قانون کے ذریعے غیرملکیوں پر، اپنے ملک میں تین سال کی مدت سے زیادہ کے لیے، ٹھہرنے پر پابندی عائد کر دی۔

اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ برصغیر ہندوستان میں غزنوی جہاد کا رخ اصلاً بودھوں، ہندوؤں یا جینیوں کی طرف نہیں بلکہ ﴿شروع میں﴾ اسمٰعیلیوں کی جانب تھا۔ تاہم، جب ایک مرتبہ محمود نے اپنا مذہبی اور سیاسی مقصد حاصل کرلیا، تو اس کی کامیابی نے اسے مزید علاقے اور خاص طور پر، ان علاقوں میں واقع دولت مند مندورں اوربودھی خانقاہوں سے لوٹ کا مال حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ جیسا کہ تین صدیاں پہلے بنوامیہ کی مہم کے ساتھ ہوچکا تھا، ترکیائی فوجیوں نے ان علاقوں کو پہلے فتح کیا، پھر انہیں اچھی طرح لوٹنے کے بعد مندروں اور خانقاہوں کو مسمار کردیا، لیکن اپنی تمام نئی رعایا پر، اسلام کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محمود ایک عملی اور حقیقت پسند انسان تھا اور اس نے ان ہندو سپاہیوں کو جنہوں نے مذہب نہیں بدلا تھا، یہاں تک کہ ایک ہندو جنرل کو بھی، آل بوئیہ کے ایران میں، جو شیعہ مسلمان اس سے مزاحم ہوئے، ان کے خلاف استعمال کیا۔ اس کا خاص نشانہ شیعی اور اسمٰعیلی ہی رہے۔

ہندوستان کے باہر بدھ مت کی طرف غزنویوں کے رویّے

فارسی مورخ البیرونی جو برصغیر ہندوستان پر محمود کے حملے کے وقت اس کے ساتھ تھا، اس نے بدھ مت کا تذکرہ توصیفی انداز میں کیا ہے اور لکھا ہے کہ ہندوستانی باشندے بدھ کا نام ایک پیغمبر کے طور پر لیتے ہیں۔ اس سے شاید فارسیٔ میانہ کی اصطلاح ﴿پہلوی﴾ “بروخین” بہ معنی پیغمبر سے اس کی واقفیت ظاہر ہوتی ہے جو بدھ کے لیے سغدیائی اور ویغور متون میں مستعمل تھی اور اس سے پہلے مانوی میں بھی تمام پیغمبروں کے لیے رائج تھی۔ بہر حال، اس سے یہ اشارہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ بودھوں کو ”اہل کتاب” کے طور پر قبول کیا جاتا تھا، ہندؤوں اور جینیوں کے ساتھ ساتھ مندروں اور خانقاہوں کی ابتدائی توڑ پھوڑ کے بعد، یہ لوگ بھی حفاظت یافتہ ﴿یامحفوظ﴾ رعایا یعنی ”ذمی” کا مرتبہ بھی پاسکتے تھے۔

اس تاثر یا نتیجے کی تائید کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ غزنویوں نے سغد، باختر یا کابل پر اپنے پچھلے تسلط کے دوران بدھ مت کے ساتھ کسی طرح کی ایذارسانی کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ ۹۸۲ء میں نووہار ﴿خانقاہ کی دیواروں پر﴾ بودھی فریسکوز، یعنی ﴿بدھ کی حیات و تعلیمات پر مبنی تصاویر﴾ ابھی بھی نمایاں تھیں اور وسطی افغانستان میں بامیان کی چٹانوں پر بدھ کی دیو پیکر شبیہوں کو اس وقت کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البیرونی کی اطلاع کے مطابق ﴿پہلے﴾ ہزار سالہ دور حکومت کے اختتام پر سغد کی جنوبی سرحدوں سے ملحق بودھی خانقاہیں ابھی سرگرم تھیں۔

غزنویوں نے بھی اپنے سے پہلے کے سامانیوں کی طرح، فارسی ثقافت کو فروغ دیا۔ نویں صدی عیسوی سے بارہویں صدی تک مسلسل فارسی اورعربی دونوں کے ادب میں بودھی آثار کی خوبصورتی کے حوالے بھرے پڑے ہیں جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خانقاہیں اور مسجدیں پرامن طریقے سے ساتھ ساتھ کام کرتی رہتی تھیں۔ مثال کے طور پر اسدی طوسی نے اپنی ۱۰۴۸ء کی تصنیف گرشاسپ نامہ میں کابل کی سوبہار خانقاہ کی رونق کا تذکرہ کیا ہے۔ فارسی شاعری میں اکثر مقامات کی تشبیہہ یوں دی جاتی ہے کہ وہ اتنے خوبصورت ہیں جیسے کہ ”نوبہار” ﴿نووہار﴾۔

بدھ کی شبیہیں، خاص طور سے ” مائیتریا” یعنی کہ مستقبل کے بدھ کی جو شبیہیں نووہار اور بامیان میں ملتی ہیں، ان میں بدھ کے سر کے گرد چاند کا ہالہ ہے۔ اسی سے حسن کے اس شاعرانہ بیان کو تحریک ملی کہ ”بدھ کا چاند جیسا چہرہ” حسن وجمال کی تصویر ہے۔ اس طرح، گیارہویں صدی میں فارسی شاعری کے بعض نمونوں مثلاً عیوقی کی ”ورقہ اور گل شاہ” میں پہلوی لفظ ”بت” پہلے کی سغدیائی اصطلاح ”پرُت” کا جو استعمال کیا گیا وہ ”بدھ” کے لیے ایک مثبت مفہوم کے ساتھ ہے۔ اس کا مطلب ہے بے جنس ﴿غیرجنسی﴾ حسن، اور اس کا اطلاق یکساں طور پر، مردوں اور عورتوں، دونوں پر ہوتا ہے۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ لفظ ”البد” فارسی سے ماخوذ ہے یا سندھ پر امویوں کی فتح کے وقت براہ راست وضع کیا گیا تھا۔ شروع میں بنوامیّہ اس ﴿لفظ﴾ کا استعمال بودھی اور ہندو شبیہوں دونوں کے لیے کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ ان مندروں کے لیے بھی جہاں یہ شبہیں موجود ہوتی تھیں۔ بعض اوقات یہ ان کا استعمال کسی بھی غیرمسلم مندر ﴿عبادت گاہ﴾ کے لیے کرتے تھے چاہے وہ زرتشتی، عیسائی یا یہودی ہو۔ بہر حال، بعد میں اس کا استعمال مثبت اور منفی دونوں معنوں میں ہونے لگا جیسے کہ ”بدھ” اور “بت”۔

یہ تمام حوالہ جات اس واقعے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تیرہویں صدی کے دوران اولین منگول عہد میں، بودھی خانقاہیں اور شبیہیں ایرانی ثقافتی علاقوں میں پائی جاتی تھیں، یا پھر کم از کم، وہاں کے جو بودھی اپنا مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوئے ان کے درمیان صدیوں تک ایک مضبوط بودھی وراثت موجود رہی۔ اگر غزنویوں نے اپنے غیرہندوستانی علاقوں میں بدھ مت کو برداشت کیا، حتٰی کہ اس کی ﴿بودھی﴾ فنی روایت کی تعریف کرنے والے ادبی کارناموں کی سرپرستی کرتے رہے، تو یہ بات انہونی سی لگتی ہے کہ برصغیر میں ان کی طویل مدتی پالیسی تلوار کے ذریعے لوگوں کا مذہب بدلوانے کی رہی ہوگی۔ جیسا کہ بنوامیّہ کے ساتھ ہوا، غزنویوں کے یہاں بھی ﴿دشمنوں پر﴾ فتح حاصل کرنے کا طریقہ وہ نہیں تھا جو ان کی حکومت کا تھا۔

غزنویوں کا زوال اور سلجوقیوں کا عروج

برصغیر ہندوستان میں اپنی فوجی کامرانیوں کے باوجود غزنوی حکمراں اپنے زیر اقتدار سلجوقیوں کو قابومیں نہیں رکھ سکے اور ۱۰۴۰ء میں ثانی الذکر نے بغاوت کردی۔ سلجوقیوں نے خوارزم، سغد اور باختر غزنویوں سے چھین لیے اور ۱۰۵۵ء میں خلفائے بنوعباس کا مرکز بغداد بھی فتح کر لیا۔

[اٹھائیسواں نقشہ دیکھیے:سلجوقسلطنت،گیارہویں صدی کےدوسرےنصف حصےمیں.

سلجوقی، سنی العقیدہ تھے اور غزنویوں ہی کی طرح سخت شیعہ مخالف اور اسمٰعیلی مخالف بھی تھے۔ وہ ایران کے آل بوئیہ شیعوں کے اثر اور گرفت سے خلافت کو اپنے قبضے میں لانے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ بالآخر انہوں نے بوئیہ مملکت کو فتح کیا اور اس واقعے کے اگلے برس خود اپنی سلطنت کا اعلان کردیا۔ سلجوق سلطنت کے آخری حصے ۱۲۴۳ء میں منگولوں کی اطاعت قبول کرنے تک برقرار رہے۔

سلجوقیوں کے ہاتھوں اپنی ہار کے بعد غزنویوں نے ہندوکش پہاڑوں کے مشرق تک خود کو سمیٹ لیا اور غزنہ، کابل اور پنجاب تک محدود رہے۔ انہوں نے اپنی مملکت کے مختلف مسلمان ترک پہاڑی قبیلوں کی مدد سے اپنی فوج تشکیل دی اور اپنی ریاست کو مالی اساس مہیا کرنے کے لیے برصغیر ہندوستان کے دولت مند غیرمسلموں پرعائد کردہ ٹیکسوں پر تکیہ کرتے رہے۔ کشمیر کی طرف ان کی پالیسی، دوسرے مذاہب کی طرف ان کے اسی رویّے کی واضح مثال ہے۔

کشمیر میں سیاسی اور مذہبی صورت حال

۱۰۲۸ء سے لے کر ۱۱۰۱ء میں پہلی لوہارا ﴿خاندان کی﴾ حکومت تک، کشمیر کی معاشی خوش حالی بڑی تیزی کے ساتھ روبہ زوال رہی۔ اس کے نتیجے میں بودھی خانقاہیں نہایت معمولی اقتصادی امداد کے مسئلے سے دوچار رہیں۔ مزید برآں، غزنویوں کا علاقہ بیچ میں آجانے کے باعث شمالی ہندوستان کے وسطی حصے میں واقع عظیم بودھی خانقاہی یونیورسٹیوں سے کشمیری خانقاہوں کا رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا اور کشمیری خانقاہوں کا معیار بتدریج گرتا گیا۔ اس شاہی خاندان کے آخری بادشاہ ہرش ﴿دور:۱۰۸۹۔۱۱۰۱ء﴾ نے مذہبی جبر اور ایذا رسانی کا ایک اور سلسلہ شروع کردیا اور اس مرتبہ اس نے ہندو مندر اور بودھی خانقاہیں دونوں مسمار کر دیں۔

دوسری لوہارا مملکت (۱۱۰۱۔۱۱۷۱ء) کے دوران بالخصوص راجہ جے اسیمہا ﴿دور:۱۱۲۸۔۱۱۴۹ء﴾ کے عہد حکومت میں شاہی حمایت کے ذریعے دونوں مذاہب ایک بار پھر سے بحال ہوگئے۔ تاہم، مجموعی طور پر، حکومت کی اقتصادی حالت مزید زوال پذیر رہی اور یہ سلسلہ بعد کے ہندو حکمرانوں کے دور (۱۱۷۱۔۱۳۲۰ء) میں بھی جاری رہا۔ ہر چند کہ خانقاہیں مفلوک الحال تھیں، پھر بھی کم سے کم چودھویں صدی تک، معلموں اور مترجموں کے وقتاً فوقتاً تبت کا دورہ کرتے رہنے تک، بودھی سرگرمی ترقی پذیر رہی۔ تاہم، تین صدیوں سے زیادہ کے عرصے ۱۳۳۷ء تک نہ تو غزنویوں نے، نہ ہی ہندوستان میں ان کے مسلم جانشینوں نے اس پر حملہ کرنے کی کوئی جستجو کی۔ یہ واقعہ اس امر کی مزید شہادت دیتا ہے کہ اسلامی حکمرانوں کو بودھی خانقاہوں سے نومسلموں کے بجائے خزانے اور مال کی طلب زیادہ تھی۔ ثانی الذکر اگر مفلس ہوتے تو وہ انہیں ان کے حال پر تنہا چھوڑ دیا کرتے تھے۔

سلجوق توسیع اور مذہبی پالیسی

مزید برآں، ۱۰۷۱ء میں سلجوقیوں نے مغربی سمت میں بازنطینیوں پر فتح حاصل کرکے اپنی سلطنت وسیع کرلی۔ سلجوق سلطان ملک شاہ ﴿دور:۱۰۷۲۔۱۰۹۲ء﴾ نے فرغانہ، شمال مغربی ترکستان، کاشغر اور ختن میں قاراخانیوں پر اپنی حکمرانی مسلط کردی۔ اپنے وزیر نظام الملک کے زیر اثر، سلجوقیوں نے بغداد اور پورے وسطی ایشیا میں مذہبی اسکولوں ﴿مدارس﴾ کی تعمیر کروائی۔ ہر چند کہ مدارس کا سلسلہ پہلے پہل شمال مشرقی ایران میں نویں صدی عیسوی کے دوران رونما ہوا تھا، جو خالصتاً دینی مطالعات کے لیے وقف تھے، مگر یہ نئے مدارس سلجوقیوں کے لیے ایک شہری دفتر شاہی ﴿کا وسیلہ﴾ مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی گہری فہم پیدا کرنے کی تربیت بھی دیتے تھے۔ مذہب کی طرف سلجوقیوں کا رویہ نہایت حقیقت پسندانہ تھا۔

اناطولیہ کو ترکیائی آباد کاری کے لیے کھولنے کے بعد، سلجوقیوں نے فلسطین پر بھی تسلط قائم کرنا چاہا۔ بازنطینیوں نے ۱۰۹۶ء میں پوپ اربن دوم سے اپیل کی، جس نے مغربی اور مشرقی روم سلطنتوں کو متحد کرنے اور ﴿غیر عیسائی﴾ اور بے دینوں سے ارض مقدس کو پھر سے جیتنے کی خاطر، پہلی صلیبی جنگ کا اعلان کیا۔ بہر حال، کسی بھی طرح سلجوقی مسیحی مخالف نہیں تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے وسطی ایشیا سے نسطوری عیسائیت کا صفایا نہیں کیا۔

مذہبی، سلجوقی بدھ مخالف نہ تھے، اگر وہ ایسے ہوتے، تو انہوں نے تنگوتوں، قوچو ویغوروں اور نگاری تبتوں کے خلاف ایک مذہبی جنگ میں اپنے قاراخانی تابعداروں ﴿باج گزاروں﴾ کی یا تو قیادت کی ہوتی یا پھر ان کی مدد کرتے، کیونکہ یہ سبھی راسخ العقیدہ بودھی اور فوجی لحاظ سے کمزور تھے۔ اس کے برعکس، بغداد میں اپنی حکومت کے دوران، سلجوقیوں نے الشہر ستانی (۱۰۷۶۔۱۱۵۳ء) کو اجازت دی کہ وہاں وہ اپنی” کتاب الملل ونحل ”شائع کردے جو عربی میں بودھی اصول و عقائد کے ایک تذکرے پر مشتمل ایک فلسفیانہ متن ہے، البیرونی کی طرح اس میں بھی بدھ کا ذکر ایک پیغمبر کے طور پر کیا گیا ہے۔

حشیشیوں کا نذاری ﴿النذاریہ﴾ سلسلہ

یورپی اور بازنطینی عیسائیوں میں، سلجوقیوں اور اسلام کی انتہائی منفی شبیہہ جو عام طور پر پائی جاتی ہے، اس وجہ سے ہے کہ وہ تمام تر اسلام کو اسمٰعیلیوں کے النذاریہ فرقے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس فرقے کو صلیبی جنگ آزما “حشیشیوں کے سلسلے” کے طور پر جانتے ہیں۔ ۱۰۹۰ء کے آس پاس شروع ہونے والے اس سلسلے، النذاریہ نے، پورے ایران، عراق اور شام میں ایسے نوجوانوں کے ساتھ جو حشیش کے نشے میں مبتلا تھے، ایک تشدد آمیز بغاوت کی قیادت کی۔ ان نوجوانوں کو فوجی اور سیاسی رہنماؤں کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ اپنے قائد ”نذار” کو نہ صرف یہ کہ خلیفہ اور امام بنانا اور دنیا کو اس کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے، بلکہ اسے ”مہدی” بھی قرار دیتے تھے، یعنی کہ آخری پیغمبر جو الف سعادت ﴿مسیح کی ہزار سالہ جنگ﴾ میں بدی کی طاقتوں کے خلاف اسلامی دنیا کی سربراہی کرے گا۔

اگلی دہائیوں میں، سلجوقیوں اور فاطمیوں نے نذاریوں کے خلاف مقدس جنگیں چھیڑیں اور انہیں کثیر تعداد میں قتل کردیا۔ نذاری تحریک نے بالآخر تمام ترعام حمایت کھودی۔ سلجوقیوں پر ان مذہبی جنگوں کا اثر بھی تباہ کن رہا اور ۱۱۱۸ء میں سلجوق سلطنت متعدد خود مختار حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

اسی اثنا میں غزنویوں کا اقتدار بتدریج کمزور پڑتا گیا۔ اپنی معدوم ہوتی ہوئی مملکت تک میں ان کے پاس انسانی وسائل کی کمی تھی۔ قاراخانیوں کی طاقت میں بھی زوال آتا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ غزنوی اور قاراخانی، سغد اور شمال مشرقی ایران کے خود مختار سلجوق صوبے کی باج گزار ﴿معاون﴾ ریاستیں بننے پر مجبور کردئیے گئے۔