ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ سوم: ترک لوگوں کے درمیان اور ان کے ذریعے اسلام کی اشاعت (۸۴۰۔۱۲۰۶ء)

۱۵۔ ختن کے خلاف قاراخانی مہم

ہان چین کے لیے ختنی مشن

کاشغر میں قاراخانیوں کے مستحکم مقام کے مشرق میں واقع، ختن ایک دولت مند بودھی ریاست تھی۔ شاہراہ ریشم کے کنارے کنارے آباد تمام علاقوں، بالخصوص ہان چین کے لیے، ختن کی کانیں سبزیشم ﴿ایک قیمتی پتھر﴾ کا خاص منبع تھیں۔ اس کے بادشاہوں نے کبھی کبھی ہان چین کا دورہ تک کیا تھا، مثلاً ۷۵۵ء میں این لوشان بغاوت کی پسپائی میں مدد دینے کی غرض سے۔ بہرحال،۷۹۰ء میں ختن پر تبت نے جب پھر سے دعویٰ کرنا شروع کیا، اسی وقت سے ختنی اور ہان چینی درباروں کے مابین سارے رابطے ختم ہوگئے تھے۔ ختن والوں نے ۸۵۱ء میں دوبارہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہ رابطہ بحال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تارم طاس کے جنوبی کنارے کے ساتھ ساتھ جانے والا تجارتی راستہ بھی، قریب قریب ڈیڑھ صدی تک استعمال میں نہیں آیا، لہٰذا اس سے ملحق علاقوں میں جو تبتی قبائل آباد تھے، اکثر ختن پر حملہ کرتے رہتے تھے۔

بہرحال، ۹۳۸ء میں ساطوق بغرا خان کے قاراخانی تخت سلطنت کوغصب کرنے کے کچھ ہی عرصے کے بعد، ختنی بادشاہ نے اسی جنوبی تارم کے راستے ہان چین کے لیے ایک نذرانہ اور تجارتی مشن روانہ کیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پانچ شاہی خاندانوں ﴿مملکتوں﴾ کے عہد اقتدار (۹۰۷۔۹۶۰ء) کے دوران، متعدد رجواڑوں ﴿چھوٹی چھوٹی ریاستوں﴾ میں ٹوٹ کر بکھر جانے سے ہان چین کمزور پڑ چکا تھا، ختن نے اس سے دوبارہ تعلقات بحال کرنے کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی۔ بلا شبہ، راجا کو اس اقدام کی ترغیب، کاشغر کے مغرب میں سیاسی بدامنی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خوف کے احساس سے ملی تھی۔

[ چھبیسواں نقشہ دیکھیے: ختنپرقاراخانیوںکےحملےکےوقتمرکزی ایشیا،تقریبا ۱۰۰۰ ءسےقبل.] 

ہر چند کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے ہان چین کے ساتھ ختن، براہ راست تجارت نہیں کر رہا تھا، دوسرے علاقوں کے ساتھ اس کی تجارتی سرگرمی خاصی اچھی مقدار میں جاری تھی۔ ختن سے تمام تجارتی راستے، بہر حال، یا تو کاشغر سے نکلتے ہوئے مغربی ترکستان کی طرف جاتے تھے، یا شمالی تارم طاس کی طرف، یا پھر وہ یارقند کی راہ سے کاشغر کی سمت اور پھر قراقرم پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے، کشمیر اور اس سے بھی آگے ہندوستان کے میدانی علاقوں کی طرف۔ کاشغر اور اس کے ارد گرد کا ماحول اگر سیاسی اعتبار سے غیر مستحکم ہوتا اور صنعتی آمدو رفت کے لیے غیر محفوظ ہوتا، تو ختن کے لیے معاشی طور پر خود کو باقی رکھنا دشوار ہوجاتا۔ ہان چین تک شاہراہ ریشم کی جنوبی تارم شاخ کو پھر سے کھولنے کی بنیادی وجوہات میں سے یقیناً یہ ایک وجہ رہی ہوگی، تاکہ ختن کے سبزیشم اور دوسری اشیا ﴿کی کھپت﴾ کے لیے ایک متبادل بازار قائم کیا جاسکے۔

﴿اس کے نتجے میں﴾ چونکہ اب قاراخانیوں نے ایک توسیع پسندانہ پالیسی اختیار کر لی تھی اس لیے، بے شک، ختن کے رہنے والے علاقائی سطح پر بھی اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگے تھے۔ چنانچہ، ہان چین کے ساتھ تعلقات ﴿کے قیام﴾ کی ایک زائد وجہ یہ امید تھی کہ اس طرح ایک نیا فوجی اتحاد بحال کرلیا جائے گا جس سے دونوں ممالک ماضی میں متواتر بہرہ مند ہوتے رہے تھے۔

جنوبی تارم کے راستے کو اپنے دوبارہ کھولنے سے لے کر ۹۷۱ء تک، ختن والوں نے ہان چینی درباروں کو سبزیشم کے تحائف کے ساتھ اور اپنی علاقائی وحدت کی سلامتی کے لیے، ان گنت وفود ﴿مشن﴾ روانہ کیے۔ تجارتی فوائد سے قطع نظر ایسا نہیں لگتا کہ اپنے سابق اتحادیوں سے انہیں کبھی بھی کوئی فوجی امداد ملی ہو، حتٰی کہ ۹۶۰ء میں، شمالی سونگ شاہی سلسلے کی تاسیس کے ساتھ، ہان چین کے ازسرنو اتحاد کے بعد بھی ﴿انہیں ایسی کوئی مدد نہیں ملی﴾ شمالی سونگ فوجیں، اپنے عین مغرب میں تنگوتوں کے خلاف کم و بیش مستقل طور پر جنگ وجدل میں پہلے سے الجھی ہوئی تھیں۔ ہر چند کہ ہان چین سے وسطی ایشیا کے سفر کے دوران، تسونگ کا کے جنوب مشرقی کونے سے گزرتے ہوئے اور شمال کی جانب گانسو کوریڈور تک اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے، اس تصادم سے صرف نظر بھی کیا جاسکتا تھا، مگر شمالی سونگ اتنا کمزور تھا کہ اس کے لیے تنگوت کے تصادم کی طرف سے اپنی توجہ کا رخ تبدیل کرنا اور مشرقی ترکستان میں براہ راست فوجی مداخلت کرنا ممکن نہ تھا۔ ختن والوں کو کسی ممکنہ حملے کی صورت میں، ہان چینیوں کی مدد کے بغیر ہی اپنی سلامتی کی فکر کرنی تھی۔

ختن میں بدھ مت کی صورت حال

ہان چین کو جو نذرانے، خراج تحسین اور تجارتی وفود بھجے گئے، اکثر و بیشتر ان کے ساتھ بودھی بھکشوؤں کا جانا ہوتا تھا۔ یہ بودھی ممالک کا عام وطیرہ تھا کیونکہ بھکشوؤں کو ہی اکثر معاشرے کے پڑھے لکھے اور سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اراکین کی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ ﴿مختلف﴾ ریاستیں انہیں سفارتی مقاصد کے تحت اکثر کام میں لگا لیتی تھیں۔

عمومی طور پر، اس وقت ختن میں بودھی سرگرمی بہت مستحکم تھی۔ ختن کے راجہ وشا شور ﴿د ور:۹۶۷۔۹۷۷ء﴾ نے اپنی زبان میں بکثرت سنسکرت بودھی متون کے تراجم کی کفالت کی اور بہت سے بودھی اساتذہ کو قوچو ویغوروں تک بھیجا۔ اگرچہ، چھٹی صدی کے وسط تک ختن والوں نے اپنی زبان میں بودھی متون کے تراجم کرنا شروع کر دیئے تھے اور لگ بھگ اسی وقت جب تشاریوں نے بھی یہی سرگرمی اختیار کر لی تھی، ﴿اس لحاظ سے﴾ ایسےکام میں یہ اس زمانے کی سب سے بڑی کوششیں تھیں۔

ایک مذہبی جنگ کا اعلان

اسلامی تاریخی تذکروں کے مطابق، کاشغر کے باشندے، ترکیائی ﴿ترکی بولنے والے﴾ نہ ہونے کے باعث قاراخانیوں کے واسطے سے اپنے مذہب کی تبدیلی کے عمل میں مزاحم ہوتے تھے۔ انہیں ختن میں اپنے بودھی ساتھیوں سے اپنی اس کوشش میں تعاون ملا تھا، جنہوں نے ۹۷۱ء میں عارضی طور پر ترکیائی مسلم حکومت کو اکھاڑنے میں ان کی مدد کی تھی، جب کہ قاراخانی فوجیں سغد میں سامانیوں کے خلاف ایک مہم میں مرکوز ہوگئی تھیں۔

پھر قاراخانی قاغان کے بھائی یوسف قادرخان کو، چار اماموں نے، کاشغر کی بازیافت کے لیے ایک مذہبی جنگ کی مہم پر بھیج دیا۔ خان کو نہ صرف یہ کہ کامیابی نصیب ہوئی، بلکہ اس نے مشرقی سمت میں مزید پیش رفت کی، اس طرح کہ یارقند کو قاراخانی سلطنت میں شامل کرتے ہوئے وہاں کے باشندوں کو مسلمان کرلیا۔ بعد ازاں، اس نے چوبیس برسوں تک ختن کا محاصرہ جاری رکھا۔ ختن والوں کو اپنے سابق حکمرانواں اور بودھی ساتھیوں، یعنی کہ تبتوں سے موصول ہونے والی اس کی مدد کے باوجود ۱۰۰۶ء میں شہری ریاست ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔

کاشغری شورش کا تجزیہ

یہ تذکرہ فوری طور پر ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے۔ اگر کاشغر کے دیسی ﴿مقامی﴾ باشندے قاراخانیوں کے توسط سے اپنا مذہب بدل کر اسلام قبول کرنے سے اس لیے گریزاں تھے کہ وہ ترکیائی ﴿ترکی بولنے والے﴾ نہیں تھے، تواس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ان کی مخالفت کا سبب ان کا بودھی مذہب نہیں تھا، بلکہ یہ کہ وہ ہند ایرانی نسل کے لوگ تھے اس تذکرے سے بالواسطہ طور پر یہ مطلب نکلتا ہے کہ کاشغر کے بودھی قاراخانی ترکی تبدیلئ مذہب سے مزاحم نہیں تھے۔ اس لیے، یہ تاثر پیدا ہوگا کہ اصل مسئلہ مذہب نہیں تھا۔ کاشغر کے دیسی باشندے خصوصی طور پر اپنے غیرملکی فاتحین کا دین اسلام نہیں بلکہ قاراخانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

پھر اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ایک خاص حد تک کاشغر کی اس شورش کے پیچھے مذہبی محرکات کا عمل دخل تھا اور مشرقی ترکستان کی ختنی اور قاراخانی مہمات میں مذہبی اطاعت شعاری نے بھی ایک رول ادا کیا تھا، ﴿تب بھی﴾ ارضی اور علاقائی حقائق نیز اقتصادی مصلحتوں نے بھی بلاشبہ، ایک اہم رول نبھایا تھا۔ ایک غالب امکان جس نے تقریباً تمام وسطی ایشیائی حکمرانوں کے پالیسی فیصلوں پر ہمیشہ گہرے اثرات مرتب کیے، ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ شاہراہ ریشم کے راستے ہونے والی نفع بخش تجارت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں یا کم سے کم اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ کاشغر اور قاراخانیوں کے خلاف ختن والوں کے اقدام سے، ختن کو جو الٹا نقصان پہنچا، اس کا حساب بھی اسی سیاق میں ضرور کیا جانا چاہیے۔

کاشغر میں ختن کی سرگرمی کے بیان کی غرض سے ایک مذہبی جنگ کے نمونے ﴿ماڈل﴾ کے استعمال کی قدر پیمائی

اسلام کی مذہبی تاریخیں ان واقعات کا بیان اس طرح کرتی ہیں گویا کہ ختن نے جہاد کے کسی بودھی متبادل کی قیادت کی تھی، یعنی کہ کاشغر کے مسلمانوں کے خلاف کسی مذہبی جنگ کی قیادت جس کا مقصد وہاں خالص بودھی عقیدے کی بجا آوری کا دفاع کرنا تھا۔ قاراخانیوں نے، جو اسلام پر بودھی ستم رانیوں کا سامنا کر رہے تھے، بجا طور پر ﴿اس کا﴾ جواب یوں دیا کہ ختن کے خلاف خود اپنا ایک جہاد شروع کر دیا۔ یہ تشریح، بہرحال، نہ صرف یہ کہ اس لحاظ سے بے جہت ہے کہ مذہب کے سوا یہ دوسرے تمام عوامل سے صرف نظر کر جاتی ہے، بلکہ یہ ان کے ساتھ ایسے مقاصد جوڑتی دکھائی دیتی ہے جو اسلامی ثقافت کے حساب سے تو با معنی ہو سکتے ہیں لیکن بدھ مت پر بس اوپر سے عائد کر دیئے گئے ہیں اور واقعتاً اس سے مناسبت نہیں رکھتے۔

[دیکھیے: مذہبی جنگیں بدھ مت اور اسلام میں: شمبھالا کی اسطور۔ مکمل کتاب۔]

کالچکر تنتر واحد بودھی صحیفہ ہے جو مذہبی جنگ کو بیان کرتا ہے۔ اپنے، مستقبل سے متعلق الفیائی نقطہ نظر میں، یہ متن ایک الہامی جنگ کی پیشین گوئی کرتا ہے جو پچیسویں صدی عیسوی کے دوران اس وقت رونما ہوگی جب غیر ہندی طاقتیں روحانی تفاعل ﴿سرگرمی﴾ کے تمام احکامات کو فنا کے گھاٹ اتار دینے کی کوشش کریں گی۔ ان پر کامرانی حاصل کرنا ایک نئے سنہرے دور کی بشارت دے گا، بالخصوص بدھ مت کے لیے۔ ہر چند کہ اس متن کی تعبیریوں بھی کی گئی ہے کہ یہ ہر فرد کے باطن میں تیرگی اور جہالت کی داخلی قوتوں کے خلاف ایک انفرادی روحانی جدوجہد کی دعوت بھی ہے، ﴿مگر﴾ اسے بودھی معاشرے کو درپیش کسی بھی خطرے کی گھڑی میں کبھی خارجی جنگ کے لیے ایک سفارش یا اجازت نامے کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔

تاہم، اگر کوئی شخص کالچکر تنتر کی تعبیر اس طریقے سے کرتا بھی ہے تب بھی غیر ہندی طاقتیں ﴿فوجیں﴾، جن کی قیادت مہدی کر رہے ہوں، عمومی طور پر مسلمانوں کی طرف اشارہ نہیں کرتیں۔ اگرچہ ان فوجوں کی متنی تفصیلات ایک طرح کی اسلامی وابستگی کی نشاندہی کرتی ہیں، جیسے کہ جانوروں کا حلال ذیبحہ یا ختنہ، ان کے پیغمبروں کی فہرست میں آٹھ معلموں کا تذکرہ ہے۔ ان میں سات مسلمہ شبیہیں تو اسمٰعیلی شیعی فہرست پر مشتمل ہیں اور ایک زائد شبیہ “مانی” کی ہے، جو شاید مانویت یا مانوی شیعیت کو ترک کرکے اسمٰعیلی شیعہ مسلک اختیار کرنے والوں سے وابستہ ہوسکتی ہے۔ دوسرے شیعہ فرقے اور اسی کے ساتھ ساتھ سنی بھی، پچیس پیغمبروں کی ایک فہرست پر زور دیتے ہیں، اور ان کی فہرست میں مہدی کا نام شامل نہیں ہے، جب کہ اسمٰعیلیوں کی فہرست میں ﴿مہدی کا نام﴾ شامل ہے۔

مغربی اسکالرشپ کے نقطہٴ نظر سے کالچکر تنتر میں تاریخی حوالے یا کم سے کم کچھ دوسرے نکات کو پہلی مرتبہ دسویں صدی عیسوی کے نصف دوم کے دوران مشرقی افغانستان کے علاقے کابل اور اڈیانہ میں مرتب کیا گیا۔ یہ دونوں علاقے پہلے تو ہندو شاہی حکومت کے تحت تھے اور پھر، ۹۷۶ء میں ان پرغزنویوں نے قبضہ کر لیا۔ کالچکر تنتر سے متعلق مواد کے ایک ماخذ کے طور پر کابل کے علاقے کی شمولیت کا اشارہ اس واقعے سے ملتا ہے کہ کالچکر تنترمیں علامتی کائنات ﴿منڈل﴾ کا جو تذکرہ کیا گیا ہے، اس میں ہندو شاہیوں کے ۸۷۹ء میں صفاریوں سے شکست کھانے کے بعد، کابل میں سوبہار خانقاہ کے جو مندر ازسرنو تعمیر کیے گئے، ان میں سے ایک مندر کے فریسکوز ﴿دیواری تصویروں﴾ میں ساسانی شاہی موتیفوں ﴿علائم﴾ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان تینوں میں سیاروں کی علامات اور ﴿قسمت کے﴾ اور ستاروں کے نشانات کا ایک دائرہ ہے جس نے ایک مفروضہ مرکزی شاہی شبیہ کو گھیر رکھا ہے جیسے کہ تقدیس کے ساسانی محل میں "بادشاہِ زمین وزماں" نے۔ کالچکر کے لغوی معنی ہیں “زماں کا دائرہ” جس میں ”دائرے” سے بعض اوقات کائنات کی وسعت مراد لی جاتی ہے۔

۹۶۸ء میں ملتان (شمالی سندھ﴾ کی اسلامی مملکت اسمٰعیلی فاطمی سلطنت (۹۱۰۔۱۱۷۰ء) کی باج گزار ریاست بن گئی جس کی بنیاد شمالی افریقہ میں رکھی گئی تھی۔ ۹۶۹ء میں فاطمیوں نے مصر کو فتح کرلیا اور قاہرہ کے قریب اپنے نئے دارالسلطنت کے ساتھ جلد ہی انہوں نے اپنی سلطنت مغربی ایران کی دوری تک بڑھالی۔ مسیحی العقیدہ اسمٰعیلی فاطمیوں نے متوقع الہام اور ابتدائی بارہویں صدی میں دنیا کے خاتمے سے، اسلامی دنیا کو، پیغمبر کے پانچ سو برس بعد، اپنے زیر اقتدار لانے کی دھمکی دی تھی۔ وہ لوگ جو عباسی سیاسی دائرے کے اندر تھے، مانویت کے پیروکار، مانوی شیعہ اور مانویت سے اسمٰعیلی شیعہ مسلک قبول کرلینے والے، یہ لوگ ﴿س ب کے سب﴾ عباسی سلطنت سے فرار کی راہ اختیار کرگئے۔ یہ فرض کرلینا معقول بات ہوگی کہ ان میں سے بہت ساروں نے ملتان میں پناہ ڈھونڈ لی۔ چونکہ تبدیلئ مذہب کے ساتھ اسمٰعیلی شیعہ مسلک اختیار کرلینا اس بات کی اجازت دیتا تھا کہ ابتداً باہم متضاد عناصر کو بھی یکجا کردیا جائے، ﴿اس لیے﴾ ان نومذہبوں کو یہ اجازت حاصل رہی ہوگی کہ وہ اسمٰعیلیوں کی پیغمبروں کی فہرست میں مانی کے نام کا بھی اضافہ کرلیں۔ اس طرح، کالچکر کی ایک حملے والی تنبیہ، عین ممکن ہے کہ ملتان کے اسمٰعیلیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہو جو ملحد ﴿زندیقی﴾ ہوگئے تھے اور اپنے عقائد میں مانوی عناصر کی شمولیت کے ذریعے اور بھی زیادہ خطرناک ہوگئے تھے۔ آٹھویں صدی کے اواخر میں، بغداد میں کام کرتے وقت، بلاشبہ، افغان بودھی علما کی ملاقاتیں عباسی دربار کے مانوی شیعوں سے ہوئی ہوں گی۔ اس عہد کی وراثت کے طور پر بودھوں نے تمام اسمٰعیلیوں کو مانوی شیعی نو مذہبوں سے الجھا دیا ہوگا ﴿خلط ملط کردیا ہوگا۔﴾

کوئی بھی صورت رہی ہو، کالچکر تنتر ان حملہ آوروں کا بیان تمام روحانی سرگرمیوں کے دشمنوں کے طور پر کرتا ہے۔ اسلام بھی ﴿ان میں شامل ہے﴾ چونکہ متعلقہ متن تمام مذاہب کے پیروکاروں سے، اپنے اختلافات کو الگ چھوڑ دینے اور اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کا تقاضہ کرتا ہے۔ ہندو شاہیوں کے زیر اقتدار، کابل کی وادی میں بودھوں، ہندووؤں اور سنی و شیعہ دونوں کی مشترکہ آبادی تھی۔

تاہم، اگر کسی کے نزدیک کالچکر تنتر نے، محض اس کے کٹر اور تنگ نظر مسیحی العقیدہ عناصر ہی کے نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کے خلاف ایک خارجی جنگ کی دعوت دی ہے، تب بھی یہ اصرار کرنا، کہ ختن کے لوگوں کو اس کی تعلیمات سے کاشغر میں قاراخانیوں کے خلاف ایک بودھی جہاد کے اعلان کی ترغیب ملی تھی، تاریخ کی حقیقت ﴿یا ایک طرح کے سہو زمانی﴾ سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ برصغیر ہندوستان میں کالچکر تعلیمات کی موجودگی کا قدیم ترین حوالہ دسویں صدی عیسوی کے خاتمے یا گیارہویں صدی کے آغاز میں کشمیر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کشمیر کے شومت کے تنترمتن ”تنتروں کو روشن کرتے ہوئے ”﴿سنسکرت: تنترلوک﴾ کے سولہویں باب میں کالچکر کے نظام مراقبہ ﴿دھیان﴾ کا تنقیدی جائزہ، ہندو نقطہٴ نظرسے ایک کشمیری پنڈت ابھینوگپت کا تحریر کردہ ہے۔ بعض علما کے مطابق، ابھینوگپت نے اپنا متن ۹۹۰ء اور۱۰۱۴ء کے درمیان لکھا اور ۱۰۲۵ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔ بہرحال، اس امر کی جانب کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ کالچکر کا پورا نظام، ایک حملے کے بارے میں تعلیمات کی شمولیت کے ساتھ، اس وقت کشمیر میں، یا اس سے پہلے ۹۷۱ء میں دستیاب تھا جب ختن نے کاشغری شورش کی حمایت کے لیے فوجی دستے بھجوائے تھے۔ اگر کالچکر تعلیمات کے یہ پہلو اس وقت کشمیر میں موجود بھی تھے، تو اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ کالچکر تنتر کبھی بھی ختن پہنچ سکا، کشمیر اور ختن کی جغرافیائی قرابت اور ان کے مابین خاصے ثقافتی اور معاشی لین دین کے باوجود بھی۔

اسی لیے، چونکہ بدھ مت اسلامی مفہوم میں مذہبی جنگوں کی کسی رسم یا روایت کا حامل نہیں ہے، زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ قاراخانیوں کو تخت سے اتارنے کے لیے ہی ختن نے کاشغری شورش کو ایک آسان موقع سمجھ کر، اس پر ایک حملے کی ٹھانی ہوگی۔ اس ﴿اقدام﴾ کا مقصد یہی رہا ہوگا کہ شاہراہ ریشم کے مغربی حصے ﴿سیکٹر﴾ کے ساتھ ساتھ معاشی تجارت کے لیے ایک زیادہ پائیدار سیاسی ماحول پیدا کیا جائے۔ چونکہ ختن والوں کو مغربی ترکستان میں اپنے مال اور اشیاء ﴿کی کھپت﴾ کے لیے اسلامی بازار میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا، لہٰذا اس قسم کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ساطوق بغراخان کے اسلام کو کاشغر کا ریاستی مذہب قرار دے دینے سے، وہ خود کو مذہبی طور پرغیرمحفوظ محسوس کرنے لگے ہوں گے۔

[دیکھ: مذہبی جنگیں بدھ مت اور اسلام میں: شمبھالا کی اسطور۔ مکمل کتاب۔]

قاراخانی عمل بطور ایک مذہبی جنگ کی قدر پیمائی

قاراخانیوں کی طرف، چاروں آئمہ یقیناً تاریخی شخصیات تھے۔ ان شہیدوں کے مقبرے ختن میں بارہویں صدی کے دوران تک احترام وعقیدت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ مزید برآں، ہوسکتا ہے کہ انہوں نے دیسی کاشغری شورش کے لیے ختن والوں کی حمایت کو ایک بودھی مذہبی جنگ کے معنی پہنائے ہوں اور ﴿جواباً﴾ جہاد کی دعوت دی ہو۔ بہرحال، یہ واقعہ بعید از امکان ہے کہ چار اسلامی علما یہ اختیار رکھتے تھے کہ محض اپنے طور پر، کلیتاً مذہبی مقاصد کے تحت،فوجی کارروائی شروع کروا دیں۔

قاراخانی قاغانوں اور جرنیلوں کو بجائے خود ﴿نہایت﴾ طاقتور فوجی قائدین کی حیثیت حاصل تھی، مسلم اورغیرمسلم ریاستوں، دونوں کی قیمت پر، اپنی سلطنت کو پھیلانے کے ایک مضبوط ایجنڈے ﴿دستور العمل﴾ کے ساتھ، انہوں نے شخصی طور پر اپنی فوجوں کی مہمات کا نقشہ تیار کیا اور ان کی قیادت کی۔ انہوں نے اپنے تمام بودھی پڑوسیوں مثلاً قوچو ویغوروں کے خلاف مذہبی جنگ نہیں چھیڑی بلکہ صرف ختن کو نشانہ بنایا۔ اسی لیے ہمیں آس پاس کی مملکتوں کی صورت حال کو پرکھنا چاہیے تا کہ ہم ان علاقائی مصلحتوں کو سمجھ سکیں جنہوں نے قاغانوں کے فوجی فیصلوں کی تشکیل کی ہوگی۔