ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ سوم: ترک لوگوں کے درمیان اور ان کے ذریعے اسلام کی اشاعت (۸۴۰۔۱۲۰۶ء)

۱۳ـ وسطی ایشیا میں نئی سلطنتوں کا قیام

قاراخانی سلطنت کی تاسیس

جب ۸۴۰ء میں کرغزستان پر قبضہ کرنے کے بعد کرغزوں نے اورخون ویغور ترکوں کو منگولیا سے بھگا دیا، تو وہ اپنے سابقہ دارالسلطنت اردوبالیق کے نزدیک ارض مقدس کی دیوی اوتوکان پربت کی ملکیت سے بھی محروم ہوگئے۔ ماقبل بودھی اور ماقبل مانوی تینگریائی عقیدوں کے مطابق جس کسی کو بھی اس پربت پر اختیار حاصل ہوتا، وہی تمام تر ترکیائی ﴿ترکی بولنے والی﴾ دنیا کا اصولی حکمراں ہوتا تھا۔ صرف وہی اور اس کے خلاف قاغان کا لقب اپنا نےکاروحانی حق رکھتے تھے۔ وہ روحانی طاقت ﴿قوت﴾ جو مجموعی طور پر ترکوں کے مقدر کی ترجمانی کرتی تھی اسی پربت پر براجمان تھی اور وہی اپنی مرکزی توانائی یا کرشمائی طاقت کو، جو اس کی کامرانی یا شکست کے لیے ذمہ دار ہو، قاغان ﴿کے پیکر﴾ میں مجسم کر دیتی تھی۔

ویغور پناہ گزینوں کی تشکیل دی ہوئی، دو خاص ﴿بڑی﴾ مملکتوں کے حکمراں، شمالی تارم طاس میں قوچو ویغور اور گانسو کوریڈور میں زرد اویغور اس سیاسی نیز مذہبی لقب کے اہل اس لیے نہیں تھے کہ ان کی ریاستیں منگولیا تک نہیں پہنچتی تھیں۔ نہ ہی ﴿اس لقب کے اہل﴾ بجائے خود منگولیا کے کرغز حکمراں، کیونکہ نسلی اعتبار سے کرغز منگولیائی باشندے تھے اور اصلاً وہ ترکیائی زبان نہیں بولتے تھے۔ وہ سائبیریائی جنگل کے باسیوں میں سے تھے، صحراؤں کے نہیں اور اوتوکان کے تقدس میں یقین نہیں رکھتے تھے۔

شمالی کرغزستان میں، بہرحال، دریائے چو کے کنارے، اسیک کول جھیل ﴿پہلوی: دریاچہٴگرم﴾ کے پاس ایک دوسرا مقدس پربت بھی تھا، بالاساغون۔ یہ مغربی ترکوں کے زیر اقتدار رہا تھا جنہوں نے اس کی ڈھلانوں پر متعدد بودھی خانقاہیں تعمیر کی تھیں۔ چونکہ یہ پربت اب قرلوق ترکی مملکت کے اندر تھا ﴿اس لیے﴾ قرلوق حکمراں، بلگا کول قادر نے ۸۴۰ء میں اپنے ”قاغان“ ہونے کا اعلان کر دیا، تمام ترکیائی قبائل کا جائز ﴿حق دار﴾ رہنما اور محافظ، اور اپنے دارالسلطنت اور شاہی سلسلے کا نام بدل کر” قاراخانی “ رکھ دیا۔

اپنی بنیاد پڑنے کے کچھ ہی عرصے بعد، قاراخانی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ مغربی شاخ ﴿حصّے﴾ کی سلطنت دریائے تالاس کے کنارے تراز کے مقام پر تھی اور جنوب مشرق کی سمت، تارم طاس کی آخری مغربی حد پر تیان شان پربتوں کے اس پار، کاشغر کی شہری ریاست اس ﴿حصے﴾ میں شامل تھی۔ مشرقی حصہ شمال کی جانب کرغز سلسلے کے دوسری طرف چو کے کنارے مقدس پربت بالاساغون کے گرد واقع تھا۔

 [بائیسواں نقشہ دیکھیے: شمالی وسطی ایشیا،تقریبا۸۵۰ءسےقبل.]

قاراخانیوں اور ویغوروں کے باہمی تعلقات

اپنے پورے دور (۸۴۰۔۱۱۳۷ء) میں قاراخانیوں نے اپنے سابقہ فرماں رواؤں، ویغوروں کے خلاف کبھی کوئی فوجی مہم نہیں شروع کی، اگرچہ پہلے، قرلوقوں کے طور پر وہ متواتر لڑتے رہے تھے۔ چار ویغور پناہ گزیں فرقوں میں سے دو فرقے بہت مختصر تھے اور قاراخانی سلطنت کی حدود میں کاشغر میں اور دریائے چو کی وادی کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے بود و باش اختیار کر رکھی تھی۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ وہ ان میں کس حد تک گھل مل گئے یا یہ کہ انہوں نے اجنبی اقلیتوں کے طور پر اپنے آپ کو برقرار رکھا۔

بہرحال، قاراخانیوں نے قوچو ویغوروں اور زرد اویغوروں کے ان دونوں گروہوں سے، جو نسبتاً کافی بڑے تھے، ایک ثقافتی رقابت برقرار رکھی۔ وہ اس کوشش میں رہتے تھے کہ ان دونوں پر دوسرے، غیر فوجی ذرائع سے برتری حاصل کرسکیں۔

تارم طاس کے شمالی نخلستانوں میں قوچو ویغور نہایت متمدن ہوتے گئے، اپنی صحرائی زندگی والی سابقہ فوجی روایات کو ترک کر دینے اور بدھ مت اختیار کرلینے کے بعد، وہ گرد وپیش کی مملکتوں کے ساتھ بیشتر پرامن طریقے سے رہتے تھے۔ گانسو کو ریڈور کی شہری ریاستوں میں رہنے والے زرد اویغور بھی متمدن ہوگئے، اور بودھی بھی ہوگئے، لیکن مشرق کی طرف اپنے پڑوسیوں تنگوتوں کے ساتھ تقریباً ہمیشہ جنگ وجدال میں مبتلا رہے جوا نہیں مسلسل دھمکاتے رہتے تھے۔ دونوں ویغور شاخیں ہان چین کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھتیں تھیں، جب سے اس علاقے میں بسنے والے مقامی ہان باشندوں نے انہیں علاقے کے سابق تبتی حکمرانوں کو معزول کرنے اور اپنی مملکتیں قائم کرنے میں مدد دی تھی۔

دونوں ویغور باشندوں نے باہم مل کر اس وقت واحد ترکیائی گروہ کی تشکیل کی تھی، جس کے پاس ایک اپنی تحریری زبان اور اعلیٰ ثقافت تھی، اور جسے انہوں نے اپنی اقلیم میں رہنے والے سغدیائی تاجروں اور بھکشوؤں کی مدد سے حاصل کیا تھا۔ قاراخانی باشندے، کاشغر پر اپنے قبضے کے باوجود جہاں کچھ سغدیائی بھی رہتے تھے، ان اوصاف سے محروم تھے۔ بہر حال، بالاساغون کو اپنے زیر اقتدار لانے کے بعد، ترکیائی لوگوں کی قیادت پران کا دعویٰ مضبوط ہوگیا تھا۔

قاراخانیوں اور تبت کے مابین ابتدائی تعلقات

قاراخانیوں نے، اپنے سے پہلے کے مغربی ترکوں کی طرح بدھ مت، ترکیائی شمن پرستی اور تینگریت کے ایک مرکب کی حمایت کی قرلوق رسم کو برقرار رکھا۔ انہوں نے اپنے سابق، طویل مدتی فوجی اتحادی تبت کے ساتھ اپنے روایتی دوستانہ تعلقات بھی جاری رکھے۔ ثانی الذکر، ہرچند کہ سیاسی لحاظ سے کمزور تھا، پھر بھی قاراخانیوں کے فوری مشرقی علاقوں پر اس کے ثقافتی اثرات اب تک مضبوط تھے، ۸۹۲ء میں لنگ درما کے قتل کے ایک صدی سے زیادہ کی مدت کے بعد بھی۔ تبتی ہی تجارت اور سفارت کی بین الاقوامی زبان تھی۔ جس کا چلن ختن سے گانسو تک تھا۔ اس علاقے پر تبتوں کے طویل اقتدار کی وجہ سے یہی ﴿تبتی﴾ علاقے کی مشترکہ زبان تھی۔ وسیع ترین استعمال کی غرض سے، بہت سے ہان چینی اور ویغور بودھی متون تبتی حروف میں منتقل کیے گئے، اس طرح کہ ان میں سے کچھ کی کفالت کرغز کا شاہی خاندان کر رہا تھا۔

[تئیسواں نقشہ دیکھیے: جنوبیوسطی ایشیا،نویں صدی کااختتام.]

قاراخانیوں اور تبتوں کے مابین قریبی ربط کی مزید نشاندہی اس سے بھی ہوتی ہے کہ بودھی خانقاہی روایت پر لنگ درما کے جبر اور ستم رانی کے بعد وسطی تبت کے تین راہبوں نے ایذا رسانی سے اپنا بچاؤ اس طرح کیا تھا کہ مغربی تبت کے راستے سے گزرتے ہوئے کاشغر کے قاراخانی علاقے میں عارضی پناہ قبول کرلی تھی۔ قاراخانیوں کو ان کی اس خستہ حالی سے ہمدردی تھی اور اس علاقے میں بدھ مت اتنا مستحکم تھا کہ وہاں خود کو محفوظ سمجھا جاسکے۔ مشرقی سمت میں بڑھتے ہوئے، غالباً تارم طاس کے جنوبی کنارے کے ساتھ ساتھ، اور اپنے بہت سے ہم وطنوں کو ہدایت دیتے ہوئے، بالآخر وہ شمال مشرقی تبت کے کوکو نورعلاقے میں جا بسے، جہاں جلد ہی تسونگ کا کی حکومت قائم کردی گئی۔ یہی لوگ بھکشوؤں کی درجہ بندی کے اس سلسلے کی بقا کے لیے ذمہ دار تھے، جسے تسونگ کا سے ڈیڑھ صدی کے بعد وسطی تبت میں بحال کیا گیا۔

صفاری مملکت

۸۱۵ء میں جنرل طاہر نے جب باختر میں طاہری ریاست قائم کردی، اس کے بعد دوسرا مقامی اسلامی قائد جس نے عباسیوں کے زیر اقتدار خود مختاری کا اعلان کیا، یعقوب بن الصفار تھا، جس نے جنوب مشرقی ایران میں سیستان کے مقام پر قلعے سے صفاری شاہی سلسلے (۸۶۱۔۹۱۰ء) کی بنیاد قائم کی۔

صفاریوں نے۸۷۰ء میں کابل پر حملہ کیا۔ سر پر منڈلاتی ہوئی شکست کے پیش نظر، بودھی ترکی شاہی حکمرانوں میں سے آخری حکمراں کو ان کے برہمن وزیر کلار نے نکال باہر کیا، جس نے کابل کو صفاریوں کے لیے خالی کر دیا اور گندھارا نیز اڈیانہ میں ہندو شاہی سلسلہ (۸۷۰۔۱۰۱۵ء) قائم کیا۔

صفاری قائد نے وادئ کابل کی خانقاہوں کو تاراج کیا اور وہاں سے بدھ کے لوٹے ہوئے مجسموں کو جنگ کی ٹرافیوں ﴿فتح کی نشانی﴾ کے طور پر بغداد میں عباسی خلیفہ کے پاس بھیج دیا۔ کابل پر یہ جنگجویانہ مسلم قبضہ وہاں بدھ مت پر پہلی سنگین ضرب تھی۔ ۸۱۵ء میں ہونے والی سابقہ شکست اور کابل شاہ کا اسلام قبول کرلینا، اس علاقے میں بدھ مت کی عام حالت پر صرف بہت ہلکے اور معمولی نتائج کا حامل ہوسکا۔

صفاریوں نے شمال کی جانب فتح اور تباہی کی اپنی مہم جاری رکھی اور ۸۷۳ء میں طاہریوں کو بے دخل کر کے باختر پر قبضہ کر لیا۔ بہرحال، ان کی یہ شان و شوکت، محض چند روزہ تھی۔ ۸۷۰ء میں ہندوستانیوں نے کابل کے علاقے کو پھر سے اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہ اپنے عوام کے درمیان ہندو مت اور بدھ مت دونوں کی سرپرستی کرتے تھے، اور بدھ مت کا اس پورے علاقے میں احیا ہو رہا تھا۔

کابل کی خانقاہوں نے جلد ہی اپنی گزشتہ خوش حالی اور شان وشوکت دوبارہ حاصل کرلی۔ اسدی طوسی نے اپنے گرشاسپ نامہ، محرر ہ۱۰۴۸ء میں، غزنویوں کے ذریعے ہندوستانیوں سے، کم وبیش پچاس سال پہلے سو بہار خانقاہ کو، کابل کی فتح کے وقت، اپنے قبضے میں لے لینے کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے ایک مندر کی دیواریں سنگ مرمر کی تھیں، دروازے گلٹ ﴿سون رنگ ملمعے﴾ کے، فرش چاندی کا اور اس کے بیچوں بیچ تخت نشین بدھ کا ایک طلائی مجسمہ تھا۔ اس کی دیواریں سیاروں کی نمائندہ علامات اور بارہ ستاروں کے نشانات سے آراستہ تھیں جو صدیوں پہلے ایرانی ساسانی محل، تقدیس کے تخت شاہی والے کمرے میں پائے جانے والے زروانی موتیف سے مشابہہ تھا۔

سامانی اور بویّہ مملکتیں

دریں اثنا، بخارا اور سمرقند کے فارسی گورنروں نے بھی بنوامیہ سے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا اور سامانی مملکت (۸۷۴۔۹۹۹ء) کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ۸۹۲ء میں سامانی شاہی سلسلے کے بانی اسمٰعیل بن احمد ﴿دور:۸۷۴۔۹۰۷ء﴾ نے مغربی قاراخانی دارالسلطنت طرز پر قبضہ کرلیا اور اس کے حکمراں اوغل چاق کو اپنا دارالسلطنت بدل کر کاشغر لے جانے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد اسمٰعیل بن احمد نے ۹۰۳ء میں صفاریوں سے باختر لے لیا اور ان کے سخت گیر حکمرانوں کو وسطی ایران میں مراجعت پر مجبور کر دیا۔

[چوبیسواں نقشہ دیکھیے: وسطی ایشیا،دسویں صدی کی ابتدا.]

سامانیوں نے روایتی ایرانی ثقافت کی طرف واپسی کو فروغ دیا لیکن سیاسی طور پرعربوں کے تئیں اپنی وفاداری برقرار رکھی۔ وہ عربی رسم الخط میں فارسی لکھنے والے پہلے لوگ تھے اور انہوں نے فارسی ادب کی ترقی کے لیے بڑا کام کیا۔ نصر دوم ﴿دور:۹۱۳۔۹۴۲ء﴾ کے تحت، ان کی حکومت کے وقت عروج میں، سغد اور باختر میں ثقافت کی ایک بلند سطح کے ساتھ امن کا دور دورہ تھا۔

سامانی سنی العقیدہ تھے، مگر نصر دوم شیعہ اور اسمٰعیلی فرقوں کے لیے بھی ہمدردانہ رویہ رکھتا تھا۔ وہ بدھ مت کے تئیں بھی روادار تھا جس کا ثبوت اس واقعے سے ملتا ہے کہ اس کے دور میں سامانی دارالسلطنت بخارا میں ابھی بھی بدھ کی تراشیدہ شبیہیں بنائی اور بیچی جاتی تھیں۔ سامانیوں کا رویہ خاصے مقہور اور ستم رسیدہ مانویوں تک کی طرف ہمدردانہ تھا، اور ﴿ان میں سے﴾ بہت ساروں کو سامانیوں کے دور حکومت میں سمرقند میں پناہ ملی۔

واحد مذہبی گروہ جس نے اپنے آپ کو ناپسند محسوس کیا، زرتشتیوں کا تھا جو سامانی سلطنت کے بنیاد گزار کے، قبولیت اسلام سے پہلے کے مذہب کو ماننے والے تھے، ان کا ایک بڑا گروہ ہندوستان کو ہجرت کرگیا اور بحری راستے سے ۹۳۶ء میں گجرات پہنچا- وہاں انہیں پارسیوں کے طور پر جانا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد نصردوم کے جانشین نوح ابن نصر ﴿دور:۹۴۳۔۹۵۴ء﴾ نے اسلام کے اسمٰعیلی فرقے پر بہت ستم ڈھائے۔

اس پورے دور میں، بغداد میں عباسی خلفا ہمیشہ سے کمزور تر ہوتے گئے۔ ۹۱۰ء میں صفاریوں کے زوال کے جلد ہی بعد، بویہّ نے ایران کے بیشتر حصے پر (۹۳۲۔۱۰۶۲ء) اپنی خاندانی حکومت قائم کرلی۔ بویّہ شیعہ تھے، اور ان کی حکومت کے دوران انہوں نے خلفائے بغداد کو موثر طریقے سے قابو میں رکھا۔ انہوں نے، بہرحال، غیرملکی علوم، بالخصوص سائنس میں عباسیوں کی دلچسپی کے تئیں اپنی حمایت جاری رکھی۔ ۹۷۰ء میں بغداد کے علما کا ایک گروہ، جو “اخوان الصفا” یعنی برادران پاکیزگی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے پچاس جلدوں پر مشتمل ایک قاموس شائع کیا جو معاصرعلوم کے تمام میدانوں کا احاطہ کرتا تھا اور اس میں یونانی، فارسی اور ہندوستانی ماخذوں سے دستیاب شدہ مواد کے ترجمے بھی شامل تھے۔

خیتان سلطنت

دریں اثنا جنوب مغربی منچوریا میں ایک اور اہم سلطنت اوپر اٹھ رہی تھی جو وسطی ایشیا میں طاقت کے توازن پر جلد ہی اثر انداز ہوگی۔ یہ خیتانوں کی سلطنت تھی۔ اپاؤچی (۸۷۲۔۹۲۶ء) نے اس علاقے میں مختلف خیتان قبائل کو متحد کیا اور خود کو ۹۰۷ء میں چینی تانگ مملکت کے زوال کے سال بھر بعد، ”خان” مشہور کر دیا۔ خیتان لوگ، شمن پرستی کی اپنی دیسی شکل کے ساتھ ساتھ بدھ مت کی ہان چینی اور کوریائی روایات کے ایک مرکب کی پیروی کرتے تھے۔ اپاؤچی نے پہلے ہی، ۹۰۲ء میں خیتان بودھی مندر تعمیر کیا تھا، اور ۹۱۷ء میں بدھ مت کا ایک ریاستی مذہب کے طور پر اعلان کر دیا تھا۔

پہلا معلوم گروہ جس نے ایک منگولیائی زبان بولی، وہ خیتانوں کا تھا۔ دھاتوں کے کام میں خصوصی مہارت کے ساتھ، وہ ایک انتہائی ترقی یافتہ تہذیب کے مالک تھے۔ اپنے عوام کے لیے ایک الگ تشخص رکھنے کی خواہش کے پیش نظر، ۹۲۰ء میں اپاؤچی نے خیتان زبان کے لیے ایک تحریری رسم الخط کا حکم دیا جو ہان چینی حروف کے نمونے پر تیار کیا گیا تھا۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔ بعد کی صدیوں میں یہی رسم الخط جور چین اور تنگوت نظام تحریر کی بنیاد بنا۔

اپاؤ چی خان نے ۹۲۴ء میں کرغزوں کا تختہ پلٹ دیا اور منگولیا کو فتح کرلیا۔ بہر جال، وہ نہایت کشادہ ذہن تھا اور اورخون ویغوروں کی روانگی کے بعد وہاں جو مانوی اور نسطوری عیسائی بچ گئے تھے، انہیں برداشت کرتا تھا۔ اس نے شمالی تارم طاس اور گانسو کوریڈور کے اوپر تک اپنی فرماں روائی کی توسیع کی، جہاں زرد اویغور اور قوچو ویغوروں نے پرامن طریقے سے اس کی اطاعت قبول کرلی، اس کی باج گزار ریاستیں بن گئیں۔ ۹۲۵ء میں اس خیتان زبان کو لکھنے کے لیے ویغور رسم الخط کو ایک دوسرے اور آسان تر طرز تحریر کے طور پر اختیار کرلیا۔ اس نے دو ویغور گروہوں کو اپنے صحرائی علاقوں میں واپس آنے تک کی دعوت دی۔ بہر حال، ایک سست اور آرام طلبی کی شہری زندگی کا اسلوب اختیار کر لینے اور شاید اپنی عدم موجودگی میں شاہراہ ریشم کے پوری طرح خیتانوں کے قبضے میں چلے جانے کے ڈر سے، ویغوروں اور یوغوروں، دونوں نے اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

خیتان سلطنت تیزی کے ساتھ بہت سی سمتوں میں پھیل گئی۔ جلد ہی اس نے پورے منچوریا، شمالی کوریا کے ایک حصے، اور شمال مشرقی نیز شمالی ہان چین کے بہت بڑے حصے کا احاطہ کرلیا۔ اپاؤچی کے جانشینوں نے لی آو (لی آو) شاہی سلسلے (۹۴۷۔۱۱۲۵ء) کا اعلان کر دیا جو چین کے شمال سونگ ﴿سونگ﴾ شاہی سلسلے (۹۶۰۔۱۱۲۶ء) کا مستقل حریف اور دشمن تھا۔ ان میں ثانی الذکر نے آدھی صدی کے بکھراؤ کے بعد باقی ماندہ ہان چین کو پھر سے متحد کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

ہر چند کہ خیتان کا طبقہٴ امرا جس نے ہان چینی علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا، بڑی حد تک چین ﴿کی ثقافت﴾ کا رنگ اس پر حاوی ہو گیا تھا، مگر ہان چین کے باہر رہنے والے خیتانوں نے خود اپنے رسوم اور ثقافتی شناخت محفوظ رکھی تھی۔ خیتان حکمرانوں نے ہمیشہ اپنا شاہی دربار اور اپنی فوجی طاقت کا مرکز جنوب مغربی منچوریا میں قائم رکھا تھا، کنفیوشیائی مذہبی رسموں کا وہ خالی خولی زبانی تذکرہ تو کرتے تھے، مگر بودھی رواجوں پر سخت زور دیتے تھے جنہیں انہوں نے اپنے روایتی شمن پرستانہ معتقدات کے ساتھ گھلا ملا لیا تھا۔ دھیرے دھیرے بودھی اقدار حاوی ہوتی گئیں۔ دستاویزی شہادتوں کے مطابق خیتان کے شاہی شمشان میں آخری انسانی قربانی ۹۸۳ء میں ادا کی گئی۔ خیتان بادشاہ شواندزنگ ﴿ہسنگ۔ تسانگ﴾ نے ۱۰۳۹ء میں بودھی احکامات کا عہد کیا اور ۱۰۴۳ء میں رسوم میت کے دوران گھوڑوں اور بیلوں کی قربانی پر پابندی عائد کر دی۔

چونکہ اپنے شاہی سلسلے ﴿اور مملکت﴾ کا اعلان کرنے سے پہلے، صدیوں تک، خیتان کے لوگ ہان چینی بدھ مت سے مانوس رہے تھے، اور چونکہ چینی زبان میں انتہائی وسیع ذخیرہ بودھی کا ادب دستیاب تھا، ﴿اس لیے﴾ ہان تہذیب نے جلد ہی خیتانی معاشرے پر خاص بیرونی اثر کے طور پر ویغور عناصر پرغلبہ حاصل کر لیا۔ قوچو ویغوروں اور زرد اویغوروں میں آپسی تناؤ کا احساس روز بروز بڑھتا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے فرماں روا خیتانوں کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بدستور قائم رکھتے ہوئے بھی، انہوں نے زیادہ خود مختاری کا راستہ اختیار کیا۔ تاہم، انہوں نے شاید بہت سی وجوعات سے، کبھی بغاوت نہیں کی۔ خیتانوں کو فوجی برتری حاصل تھی۔ نہ صرف یہ کہ ویغور اور یوغور انہیں مغلوب کرنے سے قاصر رہے، برخلاف اس کے، ان کا تحفظ اختیار کرکے، وہ ان سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔

مزید برآں، ویغوروں کے دونوں گروہ، بدھ مت اختیار کرلینے کے بعد بھی، بغیر کسی شک وشبہ کے، ابھی تک اپنی آنکھیں منگولیا میں واقع مقدس اوتوکان پربت پر گاڑئے ہوئے تھے جو خیتانوں کے قبضے میں تھا اور وہ اس سے اپنے تمام رابطے کھونا نہیں چاہتے تھے۔ ویغور بدھ مت نے، اپنے پیش رو قدیم ترک ﴿بدھ مت﴾ اور اپنے متوازی خیتانی روپ رکھنے والے ﴿بدھ مت﴾ کی طرح، اس عقیدے میں تنگریائی اور شمن پرستانہ عناصر کو ایک ساتھ ملا رکھا تھا۔