ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ دوم: بنوعباس کا ابتدائی دور (۷۵۰- وسط نویں صدی عیسوی)

۱۲۔ ویغوروں کے ذریعے بودھی مملکتوں کا قیام

منگولیاکی کرغز فتح

کرغز ﴿کرغزستان کے﴾ لوگ اصلاً موجودہ زمانے کے التائی اور تووا ضلعوں کے پہاڑی جنگلات میں آباد منگول نسل کے باشندے تھے۔ یہ دونوں اضلاع دزونغاریہ کے شمال کی جانب جنوبی سائبیریا میں واقع ہیں۔ ان کے کچھ قبائل دزونغاریہ کے جنوب کی سمت، تیان شان سلسلہ کوہ کے مغربی حدود میں بھی رہتے ہیں۔ مشرقی ترک سلطنت نے روایتی کرغز التائی زمینوں کو بھی اپنے علاقے میں شامل کرلیا تھا، اور جب ویغور اس سلطنت پر قابض ہوگئے، اس وقت انہوں نے ﴿ویغوروں نے﴾ ۷۵۸ء میں ان زمینوں کو فتح کر کے برباد کر ڈالا۔ اس کے بعد ویغور اور کرغز ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ بہت سے کرغز مغربی تیان شان علاقے کی طرف منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے ویغوروں اور تانگ چین کے خلاف قرلوقوں، تبتوں اورعباسیوں کے ساتھ اتحاد کرلیا۔

آٹھویں صدی کے نصف دوم سے تبتی عرب تجارت کا راستہ مغربی تبت سے واکھان کے مقبوضہ قطعئہ زمین کے راستے مغربی باختر اور اس سے آگے سغد کو جاتا تھا۔ بہرحال، ایک دوسرا راستہ شمال مشرقی تبت سے گانسو کوریڈور ﴿مقبوضہ زمین﴾ میں تبتوں کی اجارے کی زمین سے ہوتا ہوا، ترفان اور بیشبالق کے متنازعہ علاقوں کی طرف جاتا تھا۔ ان علاقوں پر تبتوں، ویغوروں اور تانگ چین میں مسلسل جھگڑے ہوتے رہے، تاوقت یہ کہ ۸۲۱ء میں اس ﴿جھگڑے﴾ کا فیصلہ تبتوں کے حق میں ہوگیا۔ اس کے بعد یہ راستہ جنوبی دزونغاریہ کو عبور کرتا ہوا، شمال مغربی ترکستان کی سمت تیان شان پہاڑوں کے مغربی حصے کے اوپر سے جاتا تھا۔ یہ سارا علاقہ ۷۹۰ء کی دہائی تک قرلوقوں، پھر ویغوروں اور بالآخر عربوں کے زیر اقتدار سغد کے قبضے میں رہا۔ ویغور لٹیرے تیان شان پہاڑوں سے گزرنے والے راستے کے ایک حصے پر ہمیشہ آفت برپا کیے رہتے تھے۔ ان لٹیروں سے لڑنے اور تجارتی راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے میں کرغزوں نے ایک اہم رول ادا کیا۔

[ انیسواں نقشہ دیکھیے: تبت۔عرب کےتجارتی راستے.]

اس راستے ﴿سے آنے جانے والے﴾ تبتی سوداگر بودھی تھے جب کہ موجودہ مشرقی کرغزستان میں، اسیک کول جھیل ﴿پہلوی: دریاچہٴگرم﴾ کے قریب پائی جانے والی چٹانوں پر تبتی رسم الخط میں، ان کے کندہ کیے ہوئے بودھی منتروں ﴿مقدس ارکان تہجی﴾ سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ وسطی ایشیائی شاہراہ ریشم کے مغربی مقام آخریں پر مسلم علاقوں میں ان ﴿سوداگروں﴾ کے ساتھ کسی قسم کی پابندی یا بدسلوکی روا نہیں رکھی جاتی تھی ورنہ وہ اس سفر کا خطرہ مول نہ لیتے۔ اس سے ایک اور اشارہ اس بات کا ملتا ہے کہ تبتی ترکی شاہی قرلوق اوغوز اتحاد کے خلاف خلیفہ المامون کے ۸۱۵ءکے جہاد کا رخ سیاسی مقاصد کی طرف تھا، لوگوں کے کسی ایسے اجتماعی اور جبریہ تبدیلئ مذہب کی طرف نہیں جنہیں ملحد کے طور پر دیکھا گیا ہو۔

تبتوں اور تانگ چین کے ساتھ ۸۲۱ء کے امن معاہدوں کے بعد، رفتہ رفتہ ویغور اپنے داخلی اختلاف اور تبتوں کی عائد کی ہوئی اس خلیج کے باعث، کمزور پڑتے گئے جس نے ان علاقوں کو منگولیا اور دزونغاریہ میں تقسیم کر دیا تھا۔ ۸۴۰ء میں، موسم سرما کی انتہائی شدید برف باری نے ویغور کے ریوڑ ہلاک کر دیئے تھے۔ اس کے بعد کرغزوں نے منگولیا، دزونغاریہ میں اور شمال مغربی ترکستان کے مشرقی حصوں میں اورخون سلطنت کا تختہ پلٹ دیا۔ پھر کرغزوں نے التائی پہاڑوں کے دامن میں اپنے ٹھکانوں سے اس وقت تک اس علاقے پر حکومت کی جب تک کہ خود انہی کو خیتان ﴿کتان﴾ نے ۹۲۴ء میں بے دخل نہیں کر دیا۔

ویغوروں کی ترکستان اور گانسو مقبوضہ قطعہٴزمین ﴿کوریڈور﴾ میں ہجرت

اپنی سلطنت کو کرغزوں کے ہاتھ کھو دینے کے بعد اورخون ویغوروں کی اکثریت جنوب کی طرف ہجرت کر گئی۔ ان میں زیادہ تر ترفان ﴿قوچو﴾، بیشبالق اور کوچا چلے گئے۔ یہ شہری ریاستیں جو تارم طاس ﴿نشیبی علاقے﴾ کے شمالی کنارے سے ملحق یا ان کے ساتھ ساتھ واقع تھیں، جہاں تشاری ثقافت کا چلن تھا اور جہاں سغدیائیوں اور ہان چینی اقلیتوں کی بھاری تعداد بستی تھی، جو مہاجروں کی فطری منزل مقصود تھیں۔

کم سے کم چوتھی صدی عیسوی سے ترفان میں ویغوروں کی ایک مختصر آبادی رہتی آئی تھی اور ۶۰۵ء سے ۶۳۰ء کی دہائی تک انہوں نے مختصر عرصے کے لیے وہاں حکومت بھی کی تھی۔ ۷۹۰ء کی دہائی اور ۸۲۱ء کے درمیان وقفے وقفے سے انہوں نے وہاں اور بیشبالق پر اپنا اقتدار قائم رکھا تھا۔ اب انہوں نے تبتوں کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرلیا تھا جو اس وقت ان دونوں شہری ریاستوں پر حکومت کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ، ۷۹۰ء کی دہائی سے جب انہوں نے تانگ چین سے اسے اپنے اقتدار میں لے لیا تھا، کوچا میں بھی ان کی موجودگی برقرار تھی۔

کاشغر کے قرلوقوں اور ترفان کے تبتوں میں کوچا کو لے کر بھی ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا، اور یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس وقت وہاں ﴿کوچا میں﴾ واقعتاً کس کی حکمرانی تھی۔ بہر حال، اگر قرلوقوں کی حکومت تھی بھی تو پھر ثانی الذکر، ابھی تک، ویغوروں کے برائے نام باج گزار تھے، اس واقعے کے باوجود کہ پچھلی پوری صدی کے دوران، وہ ان کے خلاف مسلسل نبرد آزما رہے تھے۔ قرلوقوں کے ذریعے نہ تو ویغور وہاں سے بے دخل کیے جاسکے تھے، نہ ان کے داخلے پر کوئی پابندی تھی۔ اس طرح ان نخلستانی ﴿سرسبز شاداب﴾ ریاستوں کی بے حرکت شہری ثقافت سے طویل واقفیت کے ساتھ، ویغور مہاجروں کے لیے وہاں جانا اور اپنی صحرائی زندگی کو خیر باد کہتے ہوئے نقل مکانی کرلینا کچھ مشکل نہیں تھا۔

تین دوسرے نسبتاً مختصر حلقے بھی اورخون ویغوروں کے تھے جو شمالی تارم کی شہری ریاستوں میں آباد نہیں ہوئے۔ ان تینوں میں سب سے بڑے گروہ نے گانسو کوریڈور کی شہری ریاستوں کی طرف ہجرت کی جہاں تبتوں کی حکومت تھی اور جنہیں بعد میں زرد اویغور کے طور پر جانا گیا، باقی دو گروہوں میں سے ایک تو شمال مغربی ترکستان کے ویغوروں کے مقبوضہ مشرقی حصے سے مغرب کو ہجرت کر گیا اور شمالی کرغزستان میں دریائے چوکی وادی میں قرلوقوں کے درمیان بود وباش اختیار کرلی۔ ایک چھوٹا سا حلقہ ﴿گروہ﴾ مشرق کی سمت منچوریا چلا گیا، ان میں جلدی سے گھل مل گیا اور تاریخ کے اوراق میں دوبارہ اس کا ذکر نہیں آیا۔

[ بیسواں نقشہ دیکھیے: منگولیااوردزونغاریہمیں اورخونویغوروں کاپھیلاؤ.]

ہجرت کے بعد ویغوروں کے چاروں حلقوں نے بدھ مت اختیار کرلیا وہ لوگ جو تارم طاس کے شمالی کنارے پر تھے، انہوں نے ترفان اور کوچا میں مروّج تشاری / سغدیائی / ہان چینی شکل ﴿ب دھ مت کی﴾ اپنائی، گانسو کوریڈور والوں نے ہان چینی / تبتی امتزاج سے بننے والی شکل، جب کہ کاشغر میں رہنے والوں نے کاشغری شکل اپنالی۔ زرد اویغوروں کو چھوڑ کر، ویغوروں کی تمام شاخیں، صدیوں بعد بالآخر حلقہ اسلام میں داخل ہوگئیں۔ ترکوں میں تبدیلئ مذہب کی حرکیات کو سمجھنے کے لیے، ہم ایک بار پھر ویغوروں میں رونما ہونے والے تبدیلئ مذہب کے اسباب پر نظر ڈالتے ہیں، اب کے مانویت سے بدھ مت کی طرف جانے کے اسباب کا۔ ہم اپنی بحث سب سے بڑے دو گروہوں، قوچو ﴿قوکو﴾ ویغوروں اور زرد اویغوروں پر مرکوز رکھیں گے۔

بدھ مت سے ویغوروں کی سابقہ شناسائی

تبدیلئ مذہب کے بعد اورخون ویغور امرا کے مانویت کو قبول کرنے سے پہلے، ویغوروں نے بدھ مت اختیار کیا تھا جب شروع ساتویں صدی کے دوران انہوں نے ترفان پر حکومت کی تھی۔ ویغوراور خون سلطنت کے پورے دور میں ویغور جنگجوؤں اور عام لوگوں نے بدھ مت کے لیے ایک خاص سطح پرعقیدت قائم کر رکھی تھی۔ اس امر کی شہادت بعد کے کچھ ویغور قاغانوں کی بودھی مخالف خطابت سے ملتی ہے۔ مگر اس کے باوجود، اس دور کے ویغور مانوی متون میں سغدیائی مترجمین کے پس منظر کی وجہ سے، نہایت نمایاں اور طاقتور بودھی عناصر پائے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ویغور اشرافیہ بجائے خود، خصوصی طور پر مانوی نہیں تھا۔ ان میں بہت سے نسطوری عیسائی عقیدے کے پیروکار تھے۔ کچھ نے بدھ مت تک کو قبول کر لیا تھا جیسا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبتی بادشاہ ٹری ریلپا چین نے ۸۲۱ء کے امن معاہدے کے کچھ ہی دنوں بعد بودھی متون کو تبتی سے ویغور میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ﴿بدھ مت سے﴾ واقفیت اور شناسائی کے علاوہ یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے ویغوروں کو عقائد کی تبدیلی کا راستہ دکھایا۔

تبتی سلطنت کا ﴿انحطاط اور﴾ بکھراؤ

۸۳۶ء میں، کرغزوں کے اورخون ویغور مملکت پر قابض ہونے سے چار برس پہلے، تبت کے بادشاہ ٹری ریلپاچین کو اس کے بھائی لنگ درما ﴿دور: ۸۳۶۔۸۴۲ء، گلانگ۔ ڈار۔ ما﴾ نے قتل کردیا۔ تخت نشیں ہوتے ہی، نئے بادشاہ نے پورے تبت میں بدھ مت پر شدید ایذا رسانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ سیاست میں مذہبی کونسل کی مداخلت ختم کی جائےاور ٹری ریلپا چین کی اس پالیسی نے کہ قانون کی رو سے خانقاہوں کی حمایت ہمیشہ سے زیادہ شاندار سطح پر کی جائے، معیشت کو جس طرح کھوکھلا کر دیا تھا، اس سلسلے کو ختم کر دیا جائے۔ لنگ درما نے تمام خانقاہوں کو بند کروا دیا اور راہبوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنا رہبانیت کا لبادہ اتار دیں۔ اس نے بہرحال ﴿خانقاہوں کی﴾ عمارتوں کے کمپلکس عملی طور پر برباد نہیں کیے، نہ کتب خانوں کو ہاتھ لگایا۔ صحیفائی لٹریچر تک رسائی حاصل کیے بغیر بھی، بدھ مت بہت سے عام تبتی پیروکاروں کے درمیان جاری رہا۔

۸۴۲ء میں لنگ درما کو ایک بھکشو نے قتل کر دیا، جو ایک اسکالر کے مطابق مذہبی کونسل کا معزول سربراہ اور سمیاے کا سابق صدر راہب تھا۔ تخت نشینی کی وراثت کے سوال پر خانہ جنگی پھوٹ پڑی جس کے نتیجے میں تبتی سلطنت کا بکھراؤ شروع ہوگیا۔ اگلی دو دہائیوں میں تبت نے گانسو اور مشرقی ترکستان کے مقبوضات سے بتدریج اپنے آپ کو پیچھے کھنیچ لیا۔ کچھ﴿ ریاستیں﴾ آزاد سیاسی اکائیاں بن گئیں پہلے دُن ہوانگ جسے گوئی یی جون ﴿گوئی یی چون﴾ کی ریاست کے طور پر جانا گیا۔ (۸۴۸۔۸۹۰ء۔ گوئی یی جون) پہلے یہ ایک مقامی ہان جرگے کے زیر اقتدار رہی، پھر ختن (۸۵۱۔۱۰۰۶ء) کے ایک اپنے ہی غیر منقطع شاہی سلسلے کے، دوسری ریاستوں میں مقامی ہان چینیوں نے شروع میں تو قابو حاصل کرلیا، کوئی مستحکم اقتدار قائم نہ کرسکے، مثلاً ترفان میں جس پر اپنے اقتدار کی شروعات انہوں نے ۸۵۱ء میں کی تھی۔ بہرحال، ۸۶۶ء تک ان سابقہ تبتی مقبوضات میں ویغوروں کے مہاجر فرقے اتنے مضبوط تو ہو ہی گئے تھے کہ خود اپنی حکومت قائم کرلیں۔

بعد میں مشرقی ترکستان اور گانسو کا سیاسی بٹوارہ

قوچو ویغور مملکت (۸۶۶۔۱۲۰۹ء) میں پہلے ترفان اور بیشبالق کے بیچ کا علاقہ بھی شامل تھا، تنیجتاً یہ ﴿مملکت﴾ تارم طاس نشیبی علاقے﴾ سے کوچا کی دوری تک کا احاطہ کرتی تھی۔ جنوبی کنارے کا ختن کی سرحد تک کا مشرقی حصہ نو مینز لینڈ، یعنی ایک ایسا قطعہٴزمین بن گیا جس پر کسی کی حکومت نہ تھی، بس گنتی کے کچھ تبتی قبائل اس کے پیچھے آباد تھے۔ اس قطعہٴزمین سے ہان چین اور ختن کے درمیان اور پھر اس سے آگے مغرب تک کی ساری تجارت بالکل بند ہو کر رہ گئی۔ کاشغر حسب سابق قرلوقوں کے ہاتھ میں رہا۔

[ اکیسواں نقشہ دیکھیے:وسطی ایشیا،وسط نویں صدی.]

زرد اویغور مملکت (۸۶۶۔۱۰۲۸ء) نے گانسو کو ریڈور کو گھیر رکھا تھا۔ گوئی یی جون نے مہاجر ویغوروں کو مدد دی کہ اسے قائم کریں اور ان کے فوجی تعاون سے تبتی اقتدار کے باقی ماندہ آثار کو ختم کر دیں۔ بہت سے تبتی جنوب کی سمت کوکونور علاقے کو فرار کی راہ اختیار کر گئے جہاں سے ﴿ان میں سے﴾ بیشتر کا آنا ہوا تھا اور جہاں سے بالآخر تسونگ کا تسونگ۔ کھا﴾ مملکت نے سر اٹھایا۔ زرد اویغوروں نے جلد ہی گوئی یی جون میں ان کے اتحادیوں پر دھاوا بول دیا اور ۸۹۰ء کے بعد کی دہائی میں اس پر قابض ہوگئے۔

لوگوں کا ایک اور گروہ، تنگوت، اسی علاقے میں رہتے تھے اور جلد ہی تاریخی ترقی کے عمل میں وہ ایک بڑی طاقت بن گئے۔ تبتوں سے ان کی رشتے داری تھی اور مشرقی گانسو میں ان کی مملوکہ زمین چانگ آن کے مقام پر زرد اویغوروں کو ہان چینیوں سے الگ کرتی تھی۔ وسط ساتویں صدی میں، وسطی تبت کے مسلسل حملوں کی وجہ سے تنگوت لوگ کوکونور علاقے میں اپنے وطن کی جانب فرار ہوگئے تھے اور مشرقی گانسو میں تانگ تحفظ کے تحت پناہ لے لی تھی۔ وہاں پہلی بار وہ بدھ مت سے متعارف ہوئے۔ ایک صدی بعد مزید تنگوت پناہ گزینوں کے آجانے سے ان کی تعداد بہت بڑھ گئی جو اس علاقے میں، این لوشان بغاوت کے بعد تبتوں کی فوجی سرگرمی سے جان بچا کر بھاگے تھے۔

گانسو اور مشرقی ترکستان کے یہ تمام علاقے جہاں تبتی ثقافت نے فروغ پایا تھا، بدھ مت کے لنگ درما کی ستم رانیوں سے بچ رہے تھے۔ واقعہ تو یہ ہے کہ بہت سے تبتی پناہ گزینوں نے یہاں پناہ اس لئے ڈھونڈی کہ اورخون ویغوروں کی آمد کے وقت ان علاقوں میں بدھ مت یہاں خوب پھیل رہا تھا۔ بہرحال ہان چینی وضع کا بدھ مت یہاں کی اہم اور مقبول ترین شکل تھی، لیکن مضبوط تبتی اثرات کے ساتھ اور ترفان میں سغدیائی اور تشاری عناصر کی بڑی مقدار کی خوراک کے ساتھ۔

ہان چین میں بدھ مت پر جبر

دریں اثنا بدھ مت کو ہان چین میں تبت کی بہ نسبت کہیں زیادہ جبر اور ایذا رسانی کا شکار ہونا پڑا۔ تانگ بادشاہ شواندزنگ کی اصلاحات کے بعد کی صدی میں، جن کا مقصد بدھ مت طاقت کو کم کرنا تھا، ہان چینی بودھی خانقاہوں کو محصول کی ادائیگی سے مشتثنٰی ہونے کی حیثیت دوبارہ مل گئی تھی۔ ان کے پاس ملک کی دولت کا غیر متناسب حصہ تھا، بالخصوص قیمتی دھاتوں کی شکل میں، جو مندروں کی مورتیاں بنانے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں اور جس کے لیےعام لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو ان کی مملوکہ وسیع زمینوں میں ملازم رکھا جاتا تھا۔ شاہی حرم کی خواتین اور ہجڑے راہبوں اور راہباؤں سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور بادشاہوں پر اپنا اثر ڈالتے تھے کہ ان زیادتیوں کا ارتکاب کریں۔

جس وقت ووزونگ ﴿وو۔ تسنگ، دور:۸۴۱۔۸۴۷ء﴾ نے تخت نشینی اختیار کی، داؤمت کے ماننے والے درباری اہل کاروں نے اسے مشورہ دیا کہ سابق بادشاہ کی بودھی خانقاہوں سے متعلق پالیسی کو خیر باد کہہ دے۔ شاہی حرم پر اس پالیسی کے اثرات کے باعث ایک حاسدانہ تشویش میں مبتلا ان اہل کاروں کی ترغیب اور قومی معیشت کے لیے ان کی فکر مندی سے اثر لے کر وو زونگ نے کارروائی کی۔ ۸۴۱ء میں اس نے حکم دیا کہ تمام راہب جو ﴿اپنے ساتھ﴾ عورتیں رکھتے ہیں اور لوگوں کے توہمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لباس فاخرہ سے محروم کردئے جائیں اور خانقاہوں کے پاس جو مملوکہ زمینیں اور زائد رقوم ہیں، انہیں ضبط کر لیا جائے۔ اس عمل کے ساتھ وہ شمالی ہان چینی بادشاہوں کا وہ روایتی رول ادا کر رہا تھا جس کی رو سے انہیں بودھی نظریے کی سچائی کا محافظ قرار دیا گیا تھا۔

بہرحال، داؤمت کے پیروکار وزرا بادشاہ کے اس اقدام سے مطمئن نہیں ہوئے انہوں نے ہان چین سے تمام بدیسی اثرات کے خاتمے اور روایتی اقدار اور اخلاقیات کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا۔ صرف مانویت اور نسطوری عیسائیت کو ہی نہیں، انہوں نے بدھ مت کی تشخیص بھی ایک غیرملکی مذہب کے طور پر کی، مگر اول الذکر دونوں مذاہب کے خلاف کارروائی شروع کی کیونکہ ہان چین میں یہ دونوں نسبتاً محدود سطح پر پائے جاتے تھے۔ ۸۴۳ء میں انہوں نے بادشاہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ پوری سلطنت میں مانویت اور نسطوری عیسائیت پر مکمل پابندی عائد کر دے اور ان کے تمام تبرکات وہاں سے باہر نکال دے۔ اس نے نہ صرف سغدیائی تاجر فرقے کو متاثر کیا، اس کا اثر ویغورامرا میں سے بھی ان لوگوں نے محسوس کیا جو ہان چین میں پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔ ۸۴۵ء میں داؤمت والے گروہ نے بادشاہ کو اس پر قائل کر دیا کہ وہ بس کچھ کو چھوڑ کر تمام بودھی مندروں اور خانقاہوں کو مسمار کر دے، ان کی جو مورتیاں قیمتی دھاتوں سے بنائی گئی ہیں انہیں ضبط کر لے یا انہیں پگھلا دے، تمام راہبوں اور راہباؤں کو عام زندگی کی طرف واپس کر دے، خانقاہی زمین پر جو ملازمت پیشہ عوام قابض ہیں انہیں معطل کردے اور خانقاہوں کی تمام املاک کو اپنے تصرف میں لے آئے۔

جبر کا تجزیہ

یہ بات غور طلب ہے کہ غیر ملکی مذاہب پر یہ جبر وستم رانی اور پابندی کبھی بھی اسلام تک نہیں لے جائی گئی۔ مسلمان تاجروں کا گروہ جنوب مشرق کے ساحلی شہروں تک محدود تھا، بعد کی کئی صدیوں تک انہوں نے شاہراہ ریشم پر سفر نہیں کیا۔ سغدیائی، ہان چینی اور تبتی اس تجارت کو جاری رکھے ہوئے تھے اور ویغوروں کو اس میں شراکت کا اشتیاق تھا۔ ﴿ان میں باہمی﴾ مقابلہ سخت تھا، اور یہ حقیقت کہ داؤمت کے پیروکار وزرا کی شدت پسندی کا رخ صرف بودھوں کی طرف نہیں بلکہ مانویوں اور نسطوری عیسائیوں کی طرف بھی تھا، یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ انہیں بنیادی طور پر اپنے اقتصادی فائدے سے‌ غرض تھی۔

تبت ایک خانہ جنگی کی مصیبت میں گھرا ہوا تھا اور یہ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ گانسو اور مشرقی ترکستان پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑنے والی ہے۔ شاہراہ ریشم پر تبتوں کے چلے جانے سے طاقت کا جو خلا پیدا ہونے والا تھا اس کے لیے ان کے تنہا حریف بس ویغور اور سغدیائی بچ رہے تھے۔ یہ واقعہ کہ جبر کے سارے سلسلے کا رخ صرف سغدیائیوں، ہان چینیوں، تبتوں اور ویغوروں کے مذاہب کی طرف ہے، عربوں یا فارسیوں کی طرف نہیں، اس کی تصدیق کرتا ہے کہ تانگ وزرا کی پالیسی کا سارا ارتکاز شاہراہ ریشم اور وسطی ایشیا پر تھا، جنوبی سمندورں پر نہیں، وسطی ایشیا میں مذہبی ستم رانی اور جبر کا اطلاق اگر سیاسی وجوہ کی بنا پر نہیں ہو رہا تھا، تو یہ معاشی فوائد کے سبب تھا، اور مشکل ہی سے کبھی روحانی یا نظریاتی بنیادوں پر۔

ما حاصل

۸۴۷ء میں وو زونگ کی موت کے بعد، نئے بادشاہ شواندزنگ ﴿ہسوان۔ تسنگ، دور: ۸۴۷۔۸۶۰ء﴾ نے داؤمت کے راہنماؤں کو قتل کروا دیا اور جلد ہی بدھ مت کی بحالی کی اجازت دے دی، بہرحال، ہان چینی بودھی فرقوں میں سے زیادہ تراس شدید ستم رانی کو برداشت نہ کرسکے۔ صرف چان﴿جاپانی: زین﴾ اور ارض پاک کے مکاتب بحال ہوسکے، اوالذکر تو مغربی ہان چین کے زیادہ دور افتادہ پربتی علاقوں میں اپنے وقوع اور خانقاہی کتب خانوں پر اپنا انحصار نہ ہونے کی وجہ سے، اور ثانی الذکر اپنی مقبول، غیرعالمانہ بنیادوں کے باعث۔

چونکہ تانگ سلسلہ ۹۰۷ء میں اپنے خاتمے تک اپنی طاقت کے اعتبار سے مرجھا چکا تھا، اور ہان چین پانچ مملکتوں کے دور (۹۰۷۔۹۶۰ء) میں ٹوٹ کر دو نیم ہوچکا تھا، ﴿اس لیے﴾ ہان چینیوں نے وسطی ایشیا میں اپنا سارا اثر اور دبدبہ کھو دیا تھا۔ شاہراہ ریشم پر مقابلہ آرائی اور تانگ چین کے لیے معاشی فائدہ حاصل کرنے کی، داؤمت کے پیروکار وزرا کی حکمت عملی کا خاتمہ، ناکامی پر ہوا۔

ویغوروں کے بدھ مت قبول کرنے پر ان واقعات کا اثر

لہٰذا، یہ تھا وہ سیاسی اور اقتصادی سیاق جس کے اندر رہتے ہوئے اورخون ویغوروں نے اپنے مذاہب مانویت سے بدھ مت میں تبدیل کیے۔ جیسا کہ مشرقی ترکوں کے شمن پرستی سے بدھ مت کی طرف اور پھر اپنے اصل کی طرف لوٹ جانے، یا اس سے بھی پہلے ویغوروں کے شمن پرستی سے بدھ مت اور پھر مانویت کی طرف جانے سے ظاہر ہوتا ہے، اس تمام تر تبدیلی اور مذہب کے انتخاب کو بنیادی طور پر تین عوامل نے متاثر کیا تھا۔ پہلا تو یہ ہے کہ عوام کو ایک نئے شاہی خاندان کے پیچھے یکجا کرنے کے لیے، لوگوں کو متحد کرنے والی ایک طاقت درکار تھی۔ دوسرا یہ کہ نئی حکومت کو سہارا دینے کے لیے ایک مافوق الفطرت طاقت کی تلاش تھی جو دوسری غیرملکی حکومتوں کا آسرا بننے میں مختلف مذاہب کی کامیابی کو آنک سکتی ہو۔

ان عوامل میں تیسرے عنصر کی حیثیت اس تھکا دینے والی ترجیح کو حاصل تھی جو شاہراہ ریشم کے راستے تجارت کو کنٹرول کر کے معاشی فائدہ اٹھانے سے عبارت ہے۔ قوچو ویغور اور زرد اویغوروں نے صرف نئے شاہی خاندانوں کی ہی شروعات نہیں کی، بلکہ نخلستان کے سست الوجود شہری باشندوں کی حیثیت سے انہوں نے زندگی کے نئے آداب اور اسالیب کا آغاز بھی کیا۔ اپنی سابقہ اورخون سلطنت کو سنبھالنے کی مافوق الفطری طاقت مہیا کرنے کے اہل ایک ریاستی مذہب کے طور پر مانویت نے خود کو بالکل قلاش ثابت کر دیا تھا۔ انہیں اپنے لیے ایک نئے مذہب کی ضرورت تھی جس کے گرد لوگ یکجا ہوسکیں اور انہیں کامیابی کے ساتھ اس عبوری مرحلے سے گزارنے کے لیے مطلوبہ ماورائے دنیوی سہارا دے سکیں۔

تبتی سلطنت کا ڈھانچہ ابھی ابھی بکھرا تھا اور تانگ چین بکھراؤ اور انتشار کے دہانے پر تھا۔ ویغور لوگ دونوں سے پہلے ہی نبرد آزما رہ چکے تھے اور ان کی طاقت اور کمزوری دونوں کو سمجھتے تھے۔ ایک خانہ بدوشانہ اور شمن پرستانہ نقطہٴ نظر سے، دونوں کی شکست کو صرف بدھ مت کی طرف ان کی ستم رانی اور ایذا رسانی کے حالیہ رویے سے منسوب کیا جاسکتا تھا۔ بدھ مت کی فوق فطری طاقت اچھی طرح ثابت ہوچکی تھی۔ ایک صدی قبل ویغوروں نے فیصلہ کیا تھا کہ بنوعباس کے ہاتھوں تانگ بادشاہ کی شکست اور این لوشان بغاوت، بدھ مت کی کمزروی کے باعث رونما ہوئی تھی، لہٰذا انہوں نے مانویت کی قیمت پر اس عقیدے کو خود ہی ترک کر دیا تھا۔ بہرحال، واقعات کے سلسلے نے یہ دکھا دیا، کہ ان کا یہ اندازہ غلط سمجھ لیا گیا تھا۔

مزید برآں، تبت اور تانگ چین، دونوں شاہراہ ریشم سے کٹے ہوئے تھے اور دونوں اتنے کمزور تھے کہ شاہراہ ریشم کی نفع بخش تجارت کو قابو میں رکھنے سے قاصر تھے، جو ابھی تک بیشتر سغدیائیوں کے ہاتھ میں تھی ۔بہت سے وسطی تبتی اور ہان چینی بودھی پناہ گزیں، جو اپنی ہی زمینوں میں جبر اور ایذا رسانی سے بھاگتے پھر رہے تھے، اب ان علاقوں کی طرف لوٹتے جا رہے تھے جن سے شاہراہ ریشم کا مشرقی حصہ گزرتا تھا، یعنی کہ ترفان، گوئی یی جون، گانسو کوریڈور، شمال مشرقی تبت کا کوکونورعلاقہ، اور مملکت تنگوت۔ ایسا اس وجہ سے تھا کہ ان تمام علاقوں میں بدھ مت سرکاری روکاوٹ کے بغیر فروغ پذیر تھا، چنانچہ شاہراہ ریشم کے مشرقی حصے کے ساتھ ساتھ، بلاشبہ، مانویت یا نسطوری عیسائیت کہ بہ نسبت بدھ مت زیادہ مضبوط تھا۔ مزید یہ کہ تبت اور تانگ چین دونوں نے جیسا کہ اسی وقت بدھ مت کے تئیں ستم رانی ﴿اور جبر﴾ کا دور ختم کیا تھا، وہ لوگ جو شاہراہ ریشم کے ساتھ والے علاقوں میں اس عقیدے کے پیروکار تھے، کسی طاقتور شاہی سرپرست سے محروم تھے۔ خانقاہی لوگ اور عوام الناس، یکساں طور پرایسے کسی بھی مذہبی حکمراں کا خیر مقدم کرتے جو اس رول کو اختیار کر لیتا۔

اسی لیے، چونکہ مشرقی ترکستان اور گانسو میں، صرف سغدیائیوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ اس کے علاقے کے دوسرے وسطی ایشیائی لوگوں کے درمیان بھی، بدھ مت اتنی اچھی طرح قائم اور مستحکم تھا، چونکہ ویغوروں میں پہلے ہی سے ان کے بارے میں اچھی واقفیت تھی، خصوصاً ان لوگوں میں جو پہلے سے ان علاقوں میں رہ رہے تھے، قوچو، ویغور او رزرد اویغور شہزادوں کے لیے بدھ مت ہی مذہب کا منطقی انتخاب تھا۔ بدھ مت کا علم بردار بن جانے سے وہ مضبوط ترین حیثیت اختیار کر لیتے اور انہیں شاہراہ ریشم کے مالک ومختار اور محافظوں کے طور پر قبول کرلیا جاتا۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں نے، اسی لیے “بودھی ستو شہزادے” کا لقب اختیار کرلیا، جیسا کہ ویغور حکمراں ڈیڑھ صدی پہلے ہی کرچکے تھے جب انہوں نے رسمی طریقے سے ترفان پر قبضہ کر رکھا تھا۔

کثیر اللسانی سغدیائیوں کی مدد سے، اب ویغوروں نے اپنی زبان میں بودھی صحیفوں کا ترجمہ کرنا شروع کیا، مگر سغدیائی اشاعتوں سے نہیں، بلکہ ہان چینی اور تشاری متون سے، سابقہ قدیم ترک تراجم سے عناصر مستعار لیتے ہوئے۔ سغدیائیوں نے خود اپنے متون شاید اس لیے ترجمہ نہیں کیے کیونکہ وہ اپنی منفرد ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے اور ایک ایسے ویغور بودھی کلچر میں گم نہیں ہونا چاہتے تھے جس میں ہر کوئی ایک ہی جیسی روحانی روایت کو اختیار کیے ہوئے تھا۔

ابتدائی عہد بنوعباس کے خاتمے پر اسلام کی حالت

وسط نویں صدی میں جب وسطی ایشیا پر خلافت عباسیہ کی براہ راست گرفت ڈھیلی پڑنی شروع ہوگئی تھی، وہاں اسلام ابھی زیادہ تر سغد تک محدود تھا۔ اس کا چلن عرب نسل کے لوگوں اور مقامی باشندوں میں تھاـ جنہوں نے طاقت کے ذریعے ﴿جبراً﴾ اسلام قبول نہیں کیا تھا، بلکہ اسلام کی اعلی ثقافت کی کشش کے باعث۔ جس وقت عباسیوں نے سوراشٹرا اور کابل کے خلاف جہاد کی قیادت کی تھی، اس وقت اگرچہ ان کے مخالفین بودھی تھے، مگر ان کی مقدس جنگوں کا مقصد، فی نفسہہ بدھ مت کو تباہ کر دینے پر مرکوز نہیں تھا۔ دونوں معاملات میں، مسلم قائدین نے بدھ مت کے علمبردار کو بنوعباس مخالف مسلمیہّ اور مانوی شیعی باغیوں کے ساتھ خلط ملط یا گڈمڈ کر دیا تھا۔ بنوعباس زیادہ تر، بدھ مت کے تئیں روادار رہے تھے اور بودھی ممالک سے تجارتی اور ثقافتی رشتے برقرار رکھے تھے۔

بعد کی دہائیوں میں جیسے جیسے وسطی ایشیا مختلف ترکیائی باشندوں کے زیر حکومت آتا گیا، ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ متعدد ترکیائی ﴿ترکی﴾ ریاستوں نے اسلام قبول کرلیا کیونکہ ان کے قائدین عباسیوں کے تحت غلام فوجی سرداروں کی حیثیت رکھتے تھے اور اپنا مذہب بدل کر اسلام کا عقیدہ اختیار کرنے کے ذریعے ہی ان کے لیے آزادی جیتی تھی۔ بہرحال، ان میں سے ایک یعنی کہ قاراخانی ریاست نے، جو رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا تو بیشتر انہی اسباب کی بنا پر جو سابق ترکیائی باشندوں، جیسے کہ مشرقی ترکیوں اور ویغوروں کی تبدیلئ مذہب کا سبب بن چکے تھے، اور جن کی وجہ سے انہوں نے ﴿اپنا موروثی عقیدہ چھوڑ کر﴾ بدھ مت، شمن پرستی اور مانویت کو قبول کرلیا تھا۔ ان ترکیائی ﴿ترکی﴾ حکمرانوں کے اذہان پر سب سے زیادہ حاوی معاملات، ان کی ریاست کو مدد دینے کے لیے مافوق الفطرت طاقتوں، اور شاہراہ ریشم کے راستے سے ﴿ہونے والی﴾ تجارت پر اپنا قبضہ حاصل کر لینے سے متعلق تھے۔ وسطی ایشیا اور ہندوستان میں اسلام کی مزید اشاعت اور ان دونوں علاقوں میں بدھ مت کے ساتھ اس کے تعامل کو، اسی سیاق میں اور زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے گا۔