ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ دوم: بنوعباس کا ابتدائی دور (۷۵۰- وسط نویں صدی عیسوی)

۹. ویغوروں کی تبدیلئ مذہب

بدھ مت کا ابتدائی انتخاب

ویغوروں نے بھی غیرملکی مذہب کو جمانے کے لیے وہی معیار ﴿اور اصول﴾ استعمال کیے جو مشرقی ترکوں نے کیے تھے۔ ۶۰۵ء میں جب چینی سوئی افواج نے ترفان کو فتح کرنے میں ان کی مدد کی، اس وقت ویغوروں نے اپنے سرکاری مذہب کے طور پر بدھ مت کا انتخاب کیا۔ بظاہر وہ اتنے ہی متاثر دکھائی دیے جتنے کہ مشرقی ترک سوئی فوجی کامرانی سے بدھ مت کی روحانی حفاظت کے تحت ہان چین کو متحد کرنے میں متاثر ہوئے تھے۔ چونکہ سوئی کے بانی نے خود کو ایک بودھی عالمی شہنشاہ ﴿سنسکرت: چکرورتی﴾ کے طور پر ڈھال لیا تھا، ﴿ل ہٰذا﴾ ویغوروں اور مشرقی ترکوں کے قائدین، دونوں نے اپنے لیے ٫٫ بودھی ستو شہزادوں،، کا لقب اختیار کرلیا۔ بہر حال، مشرقی ترکوں ہی کی طرح ویغوروں نے بھی، ہان چینی ثقافت میں ضم ہوجانے سے خود کو بچانے کے لیے، ہان چینی بدھ مت کے بجائے بنیادی طور پر بدھ مت کی وسطی ایشیائی شکل اپنالی۔ انہوں نے اصلاً ترفان میں مروّج بدھ مت کی تشاری / ختنی شکل اختیار کی اور اس میں روایتی ترکیائی اور قدرے شمالی چینی عناصر شامل کر دیے جیسا کہ مشرقی ترک کر چکے تھے۔

تانگ بادشاہوں کے سلسلے (۶۱۸۔۹۰۶ء) نے ٫٫سوئی،، ﴿خاندان﴾ کی حکومت کے صرف انتیس برسوں کے بعد انہیں ہٹا کر ان کی جگہ لے لی۔ ہر چند ابتدائی تانگ بادشاہوں نے سرکاری نوکری کے لیے کنفیوشیائی امتحانی نظام پھر سے عائد کر دیا اور داؤ مت کی حمایت کرنے لگے، مگر وہ بدھ مت کے حامی بھی تھے۔ دراصل سوئی اور ابتدائی تانگ ادوار ہی بیشتر ہان چینی بودھی مسالک کے فروغ کے لیے سب سے اوپر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر چند کہ مشرقی ترک بدھ مت کو خود اپنی پہلی سلطنت کے کھو جانے کا ذمہ دار سمجھتے تھے، مگر اس زمانے کے ویغوروں نے نہ تو ۶۱۸ء میں تانگ چین سے سوئی ﴿حکومت﴾ کی مشروط اطاعت کو نہ ہی ۶۳۰ء کے دوران ہی تانگ فوجوں کے ہاتھ اپنے ترفان کے نقصان کا قصور وار، بدھ مت کو ٹھرایا۔ وہ تانگ اتحادیوں کے تئیں وفادار رہے اور بدھ مت سے اپنا ربط جاری رکھا۔

تانگ چین اور تبت کے واقعات کی روشنی میں بدھ مت کی بابت شکوک و شبہات

 

ملکہ وو کے ذریعے ۶۸۴ء اور ۷۰۵ء کے درمیان تانگ خاندان کی سلطنت کو غصب کیے جانے کے وقت سے، تانگ فوجی طاقت ہر چند کہ کئی واسطوں سے نہایت کامیاب رہی تھی، مگر شواندزنگ کی اس معذوری نے، کہ وہ بودھی بھکشوؤں کو فوجی ملازمت میں شامل نہیں کرسکا تھا، نہ ہی اپنی مہمات کو مالی امداد بہم پہنچانے کے لیے خانقاہوں پر محصول عائد کرسکا تھا، اس کی حیثیت میں مسلسل تخفیف کر دی تھی۔ ان اقدامات کے باوجود، مغربی ترکستان میں، ۷۵۱ء اور پھر ۷۵۵ء کے دوران دریائے تالاس کے کنارے تانگ فوجیں شکست سے دوچار ہوئیں، جس کے نتیجے میں این لوشان کی بغاوت کے ذریعے شواندزنگ کو معزول کردیا گیا۔

ویغور حکمراں، بوگوقاغان کو، ۷۴۴ء میں مشرقی ترکوں کا تختہ پلٹتے ہوئے ترکوں کے مقدس پربت اوتوکان کی حفاظت کا ذمہ، ورثے میں مل گیا۔ اس کے نتیجے میں صورت حال، سابق ویغور قائدین کی بہ نسبت مکمل طور پر تبدیل ہوگئی۔ تمام ترکیائی قبائل کے لیے اخلاقی طور پر ذمہ دار ہونے کے باعث، بلا شبہ، قاغان تون یوقوق کی طرف سے بدھ مت پر ہونے والی اس تنقید سے باخبر تھا کہ وہ ﴿بدھ مت﴾ ہمہ ﴿پان﴾ ترکیائی فوج اقدار کے ناگزیر خسارے کی قصور وار ہے۔

مغربی ترکستان اور اس کی اپنی راجدھانی چانگ آن میں شواندزنگ کی شرم ناک شکست سے بدھ مت پر اس تنقید کی دوہری تصدیق ہوئی۔ ایک ترکیائی نقطہ نظر سے، یہ صاف ظاہر ہے کہ تانگ بادشاہ، اپنی فوجی کمزوری کے بودھی ماخذ کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے، زیادہ دور تک نہیں جاسکا تھا۔

علاوہ ازیں، این لوشان کی بغاوت سے کچھ مہینے پہلے، تبتی بادشاہ می اگت سوم کو اس کے بودھی حامی میلانات کی وجہ سے قتل کر دیا گیا تھا۔ تبت جو علاقے کی دوسری خاص طاقت تھا، اب بدھ مت کی پامالی کے ایک دور میں گھرا ہوا تھا۔ اسی لیے، اپنے عوام کو متحد رکھنے کی غرض سے ایک مذہب کا انتخاب کرنے میں، بوگوقاغان کے لیے بدھ مت کو اختیار کرنا اور تمام ترکوں کے قائد کا اعتبار بھی حاصل کرلینا، غالباً امکان سے باہر تھا۔ دوسری طرف، اس کے لیے یہ راستہ بھی بند تھا کہ تینگریت اور ترکیائی شمن پرستی کے ایک مرکب کا انتخاب کرلے کیونکہ وہ ان مشرقی ترکوں کا عقیدہ تھا جنہیں اس نے اپنی حیثیت کو حاصل کرنے کے لیے شکست دی تھی۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ روایتی مذہب کے بس میں نہیں تھا کہ فوجی طور پر کسی مضبوط قوم کو سنبھال سکے۔

مانویت کا انتخاب کرنے کے اسباب: تانگ چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی خواہش

ڈیڑھ صدی تک ویغور باشندے تانگ چین کے کم وبیش اتحادی رہے تھے۔ انہوں نے این لوشان کی بغاوت کو کچل کر، جب کہ ثانی الذکر ایسی کوشش میں ناکام ہوچکے تھے، تانگ فوجوں پر اپنی فوجی برتری کا مظاہرہ کر دیا تھا۔ اس کے باوجود، پل بھر کے لیے، ویغور قاغانوں کے دل میں ابھی بھی یہی خواہش ابھری تھی کہ تانگ چین کے ساتھ وہ دوستانہ تعلقات قائم کرلیں۔ ویغوروں کے ہاتھوں چانگ آن اور لویانگ کی برطرفی کے باوصف تانگ دربار بھی اسی کا متمنی تھا۔

۷۱۳ء میں طاقت ور مشرقی ترک وزیر تون یاقوق نے قاپاغان قاغان ﴿دور حکومت ۶۹۲۔۷۱۶ء) کو اس بات کا قائل کر دیا کہ وہ چونکہ اپنی سلطنت کو اس کی شمن پرستانہ اور تنیگریائی رواتیوں کے احیا کی سمت لے جا رہا ہے، اس لیے منگولیا سے سغدیائی قوم کو نکال باہر کرے۔ اس قوم میں بودھی اور مانوی، دونوں شامل تھے، اور تانگ دربار نے ان سب کو یہ اجازت دے رکھی تھی کہ وہ سغدیائیوں کے ساتھ جا ملیں جو پہلے سے ہی چانگ آن اور لویانگ میں بس چکے تھے۔ بہرحال، ۷۳۲ء میں شواندزنگ نے ہان چینیوں کو مانویت کی پیروی کرنے سے روک دیا تھا اور اسے غیرملکی فرقے تک محدود کر دیا تھا، آٹھ برس بعد اس نے تمام بدھ بکھشوؤں کو ملک بدر کر دیا، تاہم، وہ تانگ چین میں ابھی بھی ایسے اجنبیوں ﴿بدیسیوں﴾ کو برادشت کرتا رہا جنہوں نے مانویت کو قبول کرلیا تھا۔ اگر ویغوروں نے بھی بعد کے اس مذہب کو اپنا لیا ہوتا تو وہ تانگ چین کے ساتھ مذہبی پالیسیوں کو ٹھیس پہنچائے بغیر ساتھ دوستانہ رشتے استوار کرسکتے تھے۔ بہر حال، اس انتخاب کو روبہ عمل لانے کے لیے، مزید وجوہات بھی ہوسکتی تھیں۔

معاشی فائدے اور زمینی سیاست

ویغور باشندے اپنی مملکت کو مزید وسعت دینے پر تلے بیٹھے تھے، بالخصوص تارم طاس ﴿نشیبی علاقے﴾ جہاں سے وہ شاہراہ ریشم کے راستے کی جانے والی منافع بخش تجارت کو اپنے قابو میں رکھ سکتے۔ ترفان، بیشبالق اور کوچا اور کاشغر میں اس راستے کی شمالی شاخ کے ساتھ ساتھ تانگ چین کی موجودگی بس کمزور سی تھی۔ بہرحال، سغدیائی سوداگروں کو تمام نخلستانی ﴿سرسبز علاقوں والی﴾ شہری ریاستوں، خاص کر ترفان میں دیکھا جاسکتا تھا۔

این لو شان کی بغاوت کو پسپا کرنے کے بعد، جس میں تانگ بادشاہ کو خفت کے ساتھ فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اب ویغوروں کی حیثیت وقت کے مرحلے میں ہیروز ﴿فوق البشری صفات کے حامل سورماؤں﴾ جیسی تھی۔ تانگ حکومت کو نہ صرف یہ کہ خفیف ہونا پڑا تھا، بلکہ وہ اب ترفان یا تارم طاس میں کسی بھی جگہ، پہلے کی بہ نسبت اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ کسی طرح کی موثر گرفت قائم رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا ۔تانگ چین نے، ہر چند کہ سغدیائیوں کو ۷۱۳ء میں سیاسی پناہ دی تھی، تاہم، بودھی بکھشوؤں کو ان کے درمیان سے بے دخل کرکے، اس نے بلاشبہ سغدیائی قوم کا اعتماد کھو دیا تھا۔ ویغوروں نے اگر ایک بڑا سغدیائی مذہب اختیار کرلیا ہوتا، تو انہیں بڑی رضا مندی کے ساتھ ترفان کے سغدیائیوں کے محافظوں اور سربراہوں کی حیثیت سے قبول کر لیا جاتا۔ اس نے انہیں تارم طاس میں مزید توسیع اور شاہراہ ریشم کے ممکنہ کنٹرول کے لیے اپنے قدم جمانے کا ایک موقعہ بھی دے دیا ہوتا۔

اپنا مذہب چھوڑ کر مانویت اختیار کر لینا

بے شک، ذہن میں ایسے ہی خیالات کے ساتھ ۷۶۲ء میں، بوگوقاغان نے ویغور میں مانویت کے سرکاری مذہب ہونے کا اعلان کردیا کیونکہ اس وقت بدھ مت ایک زندہ رہنے کے لیے قابل عمل متبادل نہیں تھا۔ مزید برآں، اپنے اس اصرار کے ساتھ کہ اندھیرے کی طاقتوں پر اجالے کی طاقتوں کا غالب آنا یقینی ہے، مانویت یہ تاثر قائم کرسکتی تھی کہ ایک بہادر جنگ جو قوم کے لیے وہ بدھ مت سے زیادہ موزوں ہے۔ ترک بادشاہوں کے پہلے اور دوسرے سلسلے سے سیکھے گئے سبقوں کے مطابق، قاغان نے سغدیائی حروف تہجی تو مستعار لے لیے، مگر سغدیائی زبان نہیں، اور پھر ویغور لکھنے کے لیے ان میں ضروری ترمیم بھی کرلی۔ اس نے سغدیوں کو مانوی متون کا ویغور میں ترجمہ کرنے پر مامور کرتے ہوئے، اس ﴿رسم الخط﴾ کو انتظامی اور مذہبی، دونوں قسم کے مقاصد کی خاطر استعمال کیا۔

بودھی متون کا قدیم ترک میں ترجمہ کرنے کا تجربہ کرنے کے بعد، سغد کے لوگوں نے پہلی اور دوسری مشرقی ترک سلطنتوں کے درمیانی عہد (۶۳۰۔۶۸۲ء) میں بودھی صحیفوں کو خود اپنی زبان میں منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہی وہ دور تھا جب صرف منگولیا اور ترفان نے نہیں بلکہ پورے تارم طاس کو بھی تانگ چین نے فتح کرلیا تھا۔ سغدیائی مترجموں نے بنیادی طور پر ہان چینی ماخذوں کا استعمال کیا تھا، اس روایت اور زبان کا جس سے وہ سب سے زیادہ مانوس تھے۔ تانگ چین کی ایسی غالب سیاسی حیثیت کے ساتھ، سغدیائی بودھوں نے، بالآخر، غالباً اپنے تشخص کو اتنا غیر محفوظ خیال کیا کہ اس اقدام کے ذریعے، اس ڈر سے کہ ہان چینی ثقافت کہیں انہیں اپنے اندر جذب نہ کرلے، اپنے آپ کو اس سے دور کرلیا تھا۔ چونکہ ترجمے کی یہ بودھی سرگرمی، ابھی جاری تھی، اس وقت جب ویغوروں نے سغدیائی مترجمین کو ویغور مانوی متون کی تیاری پر مامور کردیا تھا، اور چونکہ سغد کے لوگ پہلے ہی قدیم ترک زبان کے ساتھ کام کرچکے تھے جو ویغور سے رشتہ رکھتی تھی، سغدیائیوں نے فطری طور پر اپنے اس نئے کام کے لیے خاصی مقدار میں بودھی اصطلاحوں کو مستعار لیا۔

تبدیلئ مذہب کے خلاف مقبول عام مزاحمت

۶۰۵ء سے ۶۳۰ء کی دہائی تک ترفان پر ویغور حکومت کے نتیجے کے طور پر، بہت سے ویغوروں نے پہلے ہی بدھ مت کی مشرقی ترک شکل کو قبول کرلیا تھا، خاص کر لڑاکو سپاہیوں اور عام لوگوں نے۔ پھر بھی، این لوشان کی بغاوت سے ویغور پسپائی کے بعد، بوگوقاغان نے چانگ آن اور لویانگ کی لوٹ مار کے دوران، تمام بودھی خانقاہوں اور مندروں کو برباد کرنے میں، اپنے عوام کی قیادت کی۔ آگے چل کر اس نے اپنی مملکت کے دوسرے حصوں میں بھی، اتنی دور تک جہاں شمالی مغربی ترکستان میں سیمریچیے واقع ہے، بودھی خانقاہوں کی تاراجی کا حکم دیا۔ ایسا کرتے ہوئے، بلاشبہ، وہ ہمہ ترکیائی عسکری روایت کی پھرسے توثیق کرنے اور بدھ مت کی کمزوری کے مزید مظاہرے کی وساطت سے، اپنے مانویت کے انتخاب کو برحق ٹھہرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

بہر حال ان گنت ویغور سپاہی، بے شک اس وقت بھی، بدھ مت، تینگریت اور ترکیائی شمن پرستی کی ایک ملی جلی شکل ﴿مرکب﴾ کی پیروی کر رہے تھے۔ یہ نشاندہی اس واقعے سے بھی ہوتی ہے کہ بوگو قاغان کو اپنے عوام کے ساتھ مانویت کو قبول کرنے کے لیے زبردستی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس نے ان سب کو دس دس کے گروپوں میں منظم کیا اور ان میں سے ایک شخص کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ہر گروپ کی مذہبی تعمیل کی نگرانی کرے۔ اس کے باوجود، یہ خصوصی طور پر سغدیائی مذہب، کبھی بھی ویغوروں میں اچھی طرح پھیل نہ سکا۔ اصلاً یہ طبقہ اشراف کے امرا تک محدود رہا، جنہیں یہ اس لیے اپیل کرتا تھا کہ اس کا زور ایک خالص اور صاف شفاف مذہبی اشرافیہ پر تھا جو نام نہاد ٫"غلیظ عوام" پر اخلاقی برتری رکھتے تھے۔ بے شک، منگولیا پر ویغور حکومت کے پورے دور میں، بدھ مت انہی "غلیظ عوام" میں پھیلتا رہا۔

مزید برآں، ویغور طبقہ امرا خود مانویت سے کسی طرح کی خصوصی وابستگی نہیں رکھتا تھا۔ سرکاری طور پر ریاست کی تبدیلئ مذہب کے اٹھائیس برس بعد، الپ قتلغ ﴿دور حکومت۷۸۰۔۷۹۰ء) نے بوگو قاغان کو اس نئے مذہب کی حمایت میں اس کی معاشی زیادتیوں کے لیے، قتل کردیا۔ قاغان کا لقب اختیار کرتے ہوئے، اس نے سردار کلیسا ٹموتھیئس ﴿دور۷۸۰۔۸۱۹ء) سے درخواست کی کہ وہ اس کی مملکت کے لیے ایک نسطوری عیسائی عہدے دار کا تقرر کریں، عیسائیت کا یہ روپ رنگ بہر حال، مانویت ہی کی مانند، تاحال بنیادی طور پر، ایک سغدیائی عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اپنی منطق کے اعتبارسے، اس عقیدے کی سرپرستی عام ویغور حکمت عملی سے اچھی طرح مطابقت رکھتی تھی، کیونکہ اس ﴿حکمت عملی﴾ کا مقصد اصلاً تارم طاس کے باشندوں کو اپنا وفادار اور مطیع بنانا تھا چونکہ ان کی اقتصادی راہنمائی سغد کے تاجروں کے ہاتھ میں تھی۔

مذہب کی تبدیلی کے ایشیائی طرز کا خلاصہ

مختصر یہ کہ مشرقی ترکوں اور ویغوروں میں اپنا مذہب تبدیل کر لینے سے متعلق یہ مثالیں، وسط ایشیائی ترکیائی اقوام میں مذہبی ردّ وقبول کے مظہر کی پوری تصویر سامنے لاتی ہیں۔ جب یہ تبدیلیاں حکمرانوں کی شہ پر رضامندی کے ساتھ ہوتی تھیں، تو یہ بیشتر معاشی فائدے، حمایت کے حصول یا اقتدار میں اضافے کی ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوتی تھیں، نہ کہ کسی روحانی فیصلے کے باعث۔

بہر حال، کسی کو اتنا سنکی بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مذہب بدلنے کے اس سلسلے کو خالصتاً میکیا ویلی کے سکھائے ہوئے ﴿دنیادارانہ اور عدم اخلاص پر مبنی﴾ مقاصد اور محرکات کا ہی نتیجہ سمجھ لے، اور اس کے پیچھے کسی طرح کے مذہبی مقاصد کا ہاتھ ہونے سے صریحاً انکار کردے۔ یقیناً، نئے اختیار کیے جانے والے مذہب میں کچھ نہ کچھ ایسے عناصر ضرور ہوں گے جو مقامی ثقافت کے پس پشت کار فرما ذہنیت سے مطابقت رکھتے ہوں، ورنہ کوئی بھی اس ﴿نئے مذہب﴾ سے اپنے آپ کو جوڑ کر نہ دیکھتا، تاہم، کسی کو اتنا آدرش وادی بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسی قیاس کا ہو کر رہ جائے کہ جنگ جوئی اور شجاعت کی روایت سے بہرہ ور لوگوں کے وسطی ایشیائی حمکرانوں نے، ان معاملات میں اپنے فیصلے صرف اس بنیاد پر کیے ہوں گے کہ ایک مذہب کی سو فسطائی ما بعد الطبیعاتی پیچیدگیاں، دوسرے مذہب پر فوقیت رکھتی ہی ہوں گی۔ وہ زیادہ متاثر اس وقت ہوتے تھے جب کسی مذہب سے انہیں ایسی مافوق فطری توانائی حاصل ہوتی تھی جو انہیں فوجی فتح یابی کا راستہ دکھا سکے۔ اپنی توسیع پسندانہ کوششوں کے تحت وہ اسی طرح کا تعاون تلاش کرتے تھے اور اسی کے لیے اپنا قومی مذہب ترک کرکے دوسرا مذہب اختیار کرلیتے تھے۔

یہ صورت حال، ان واقعات میں صرف مشرقی ترکوں اور ویغوروں کے ساتھ ہی صحیح نہیں ثابت ہوتی، وسط ساتویں صدی میں تبتی بادشاہ سونگ تسین گامپو کی بدھ مت میں دلچسپی کے معاملہ پر بھی اسی ﴿صورت حال﴾ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ نوجوان بادشاہ می اگت سوم، اوائل نویں صدی میں اسلام کی بابت کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے پر آمادہ تھا کیونکہ اس وقت عباسیوں کے ساتھ اتحاد کے نتیجے میں، اسے مزید علاقے حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی تھی، اور اسی لیے، جب انہیں آگے فائدہ ہوتا ہوا نظر نہ آیا تو اسلامی عقیدے میں ان کی تمام تر دلچسپی ختم ہوگئی۔