ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ اوّل: خلافت بنو امیہ ۶۶۱۔۷۵۰ء

۶۔ مغربی ترکستان میں مزید اموی توسیع

آٹھویں صدی عسیوی کے نصف اوّل کے بعد کے برسوں میں اموی دور کے باقی ماندہ حصّے نے مختلف حکومتوں کے مابین معاہدوں اور سمجھوتوں میں ایک چکرا دینے والی تیز رفتار تبدیلی کا مشاہدہ کیا کیونکہ اب مغربی ترکستان اور شاہراہ ریشم پر قابض ہونے کے لیے پہلے سے زیادہ طاقتیں میدان میں اترآئی تھیں۔ خاص خاص واقعات کے جائزے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اموی عرب ایسے راسخ العقیدہ مذہبی انتہا پسند نہیں تھے جو کفار کے ایک سمندر کو مسلمان بنانے کی مہم میں لگ گئے ہوں، بلکہ ان کی حیثیت بھی ایسے بہت سے حوصلہ مند لوگوں میں بس ایک کی تھی جو سیاسی اور معاشی فائدے کے لیے سرگرم ہو۔ بہ شمول بنو امیہ، سب کی سب طاقتیں مسلسل ایسے معاہدے کرتی اور توڑتی رہتی تھیں جن کی اساس مذہب پر نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ فوجی مصلحتوں پر قائم ہوتی تھی۔

ریاستی علاقوں کے اختیارات اور اتحادوں کی تبد یلی

عمر دوم کی مملکت ﴿دورحکومت ۷۱۷۔۷۲۴ء) کے وسط میں باختر اور سغدیہ کے شہر بخارا، سمرقند اور فرغانہ امویوں کے زیر اقتدار تھے۔ تبتی لوگ ان کے اتحادی تھے۔ سغدیہ کا باقی حصہ، بالخصوص تاشقند اور اسی کے ساتھ ساتھ مغربی تاریم طاس میں کاشغر اور کوچا ترغش ترکوں کے پاس تھے۔ تانگ چینی افواج تاریم طاس کی مشرقی سرحد پر ترفان میں اور ترفان کے شمال کی سمت تیان شان پہاڑوں سے پرے بیشبالق میں تھیں. مشرقی ترک سغدیہ کے شمال میں مغربی ترکستان بہ شمول سویاب کے بقیہ حصوں پر قابض تھے جب کہ تبتوں نے جنوبی تاریم راستے کے ساتھ ساتھ اپنی موجودگی قائم کر رکھی تھی۔ ختن کے تخت حکومت پر، بہر حال ایک تانگ نواز حکمران براجمان تھا۔ ترکی شاہی گندھارا تک محدود تھے۔ اموی عربوں کے استشنا کے ساتھ، وسطی ایشیا کے تمام دوسرے اقتدار کی کشمکش کے نمائندے دلال مختلف درجات میں بدھ مت کے حمایتی تھے۔ بہر حال، ایسا لگتا ہے کہ اس صورت حال کا بعد کے واقعات پر کچھ بھی اثر نہیں پڑسکا۔

[ دسواں نقشہ دیکھیے: وسطی ایشیا، تقریبا ۷۲۰ء سے قبل۔]

اموی جرنیل قیتبہ کی موت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، پہلی پیش رفت تانگ فوجوں کی طرف سے ہوئی۔ انہوں نے ترفان میں اپنے مضبوط مورچے کو چھوڑا اور تیان شان پہاڑوں کے شمال کی سمت سے مشرقی ترکستان کو عبور کرتے ہوئے عقبی حملے کی مدد سے کوچا اور کاشغر کو ترغشوں سے چھین لیا۔ مغربی ترکستان میں دور دراز کے مغربی حصے کو پار کرنے کے بعد انہوں نے مشرقی ترکوں سے سویاب، امویوں سے فرغانہ اور ترغشوں سے تاشقند بھی اپنے قبضے میں کرلیا۔

اس مرحلے پر ترغشوں نے اپنے آپ کو ایک دوسرے رہنما کی قیادت میں پھر سے منظم کرلیا اور منظر نامے پر ترکوں کا ایک نیا گروہ رونما ہوا، دزونغاریہ میں قرلوق خرلوخ جو بدھ مت کے سرپرست بھی تھے۔ قرلوقوں نے تانگ کے زیر اقتدار سویاب سے آگے، شمال مغربی ترکستان کے علاقے میں مشرقی ترکوں کی جگہ لے لی اور خود کو ہان چینیوں کے ساتھ متحد کرلیا۔ ترغشوں نے پلٹ کرعرب تبتی اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔ پھر ترغشوں نے اپنے وطن مالوف سویاب کو دوبارہ فتح کرلیا اور اس کے جواب میں، امویوں نے فرغانہ واپس لے لیا۔ تاشقند عارضی طور پر آزاد ہوگیا۔ اب تانگ فوجوں کے پاس صرف کاشغر اور کوچا رہ گئے تھے۔

[ گیارہواں نقشہ دیکھیے: وسطی ایشیا، تقریبا ۷۲۵ء سے قبل۔]

سندھ پر اموی حکومت کا دوبارہ غلبہ

۷۲۴ء میں نئے اموی خلفیہ ہاشم ﴿دور ۷۲۴۔۷۴۳ء﴾ نے جنرل جنید کو جنوب کی طرف بھیجا تاکہ وہ سندھ پر دوبارہ اقتدار قائم کرسکیں۔ عربوں کی قیادت میں جانے والی افواج کو سندھ میں کامیابی ملی، لیکن گجرات اور مغربی پنجاب کو زیر کرنے کی کوشش میں وہ ناکام رہیں۔ سندھ کے گورنر کی حیثیت سے جنرل جنید نے ہندوؤں اور بودھوں دونوں پر، عام محصول عائد کرنے اور اسی کے ساتھ ساتھ دونوں مذاہب کے مقدس شہروں کی زیارت کے لیے جانے والوں سے ٹیکس وصول کرنے کی گزشتہ اموی پالیسی برقرار رکھی۔

اگرچہ مغربی پنجاب میں ہندو پراتیہار حکمرانوں کو سندھ سے اموی فوجوں کو نکال باہر کر دینے کی طاقت حاصل تھی، مگر وہ ایسی کسی کاروائی سے باز رہے۔ مسلمانوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر پراتیہاروں نے حملہ کیا تو وہ خاص ہندو زیارت گاہوں اور مجسموں کو تباہ کر دیں گے، ہندو اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کو روایتی علاقے پر پھر سے اقتدار قائم کرنے کی بہ نسبت زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ اس سے اس امر کی مزید نشاندہی ہوتی ہے کہ اموی عربوں کے نزدیک غیر مسلم مذہبی مقامات کو برباد کرنا اقتدار کی سیاست کے بنیادی عمل کا حصّہ تھا۔

اموی نقصان اور سغدیہ کی بازیافت

دریں اثنا، سویاب میں اپنی ارضِ وطن کی واپسی نے ترغشوں کے اعتماد میں جو اضافہ کیا اس کی وجہ سے انہوں نے امویوں کے ساتھ اپنا مختصر مدتی اتحاد ختم کردیا۔ عرب فوجوں کے بیشتر حصّے کی سندھ میں صف آرائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ترغشوں نے امویوں کی طرف رخ کیا اور انہیں فرغانہ سمیت سغدیہ نواحی علاقوں سے نکال باہر کردیا۔ اس کے بعد نئے ترغشی ۔ تبتی اتحاد نے امویوں پر وار کیا، اور ۷۲۹ء تک انہوں نے سغدیہ اور باختر کے باقی ماندہ بیشترعلاقوں سے انہیں بے دخل کردیا۔ عربوں کے پاس اب صرف سمرقند بچ گیا تھا۔

پھر امویوں نے طاقت ور ترغشی ۔ تبتی اتحاد کو توڑنے کے لیے، عارضی طور پر، خود کو تانگ چین کے ساتھ شامل کرلیا۔ انہوں نے ۷۳۶ء میں سویاب کے مقام پر ترغشوں کو شکست دی۔ دو برس بعد اپنے راجہ کی موت کے ساتھ ترغش قبائل بکھر گئے اور نہایت کمزور ہوگئے۔ ہان چینیوں نے سویاب کو بچائے رکھا اور تبتوں کے خلاف اپنی جنگیں جاری رکھیں، جب کہ امویوں نے باختر اور باقی ماندہ سغدیہ میں واپسی کی راہ اختیار کی۔ اس سے ۷۳۹ء میں تبتی بادشاہ کی کابل اور ختن کے درمیان شادی کے ایک جشن میں شرکت کے لیے کابل میں آمد سے تبتوں کو ترکی شاہیوں کے ساتھ اپنے روایتی اتحاد کو ازسرنو فعال بنانے کی ترغیب ملی۔

تانگ دربار نے اب سغدیہ میں امویوں کے زیر اقتدار شہروں میں حکومت کے مخالفین کو حمایت دینے کی ایک پالیسی کا آغاز کیا۔ اس مرحلے کے دوران، ایک وقت وہ بھی آیا جب سویاب سے صفایا کرتے ہوئے وہ نیچے اترے اور تاشقند میں افراتفری مچادی جو پہلے عارضی طور پر ان کے قبضے میں رہ چکا تھا۔ چینی عرب رشتوں میں تناؤ پیدا ہوگیا۔ بہر حال، یہ تصادم بھی مذہبی بنیادوں کے باعث نہ تھا بلکہ خالصتاً سیاست کی ترغیب کا نتیجہ تھا۔ اس مسئلے کا ہم زیادہ قریب سے جائزہ لیتے ہیں۔

[ بارہواں نقشہ دیکھیے: وسطی ایشیا، تقریبا ۷۴۰ء سے قبل ۔]

امویوں کے زیر اقتدار سغدیہ پر تانگ حملوں کا تجزیہ

اس وقت کے تانگ چینی بادشاہ شوان-دزونگ کی پالیسیوں میں سے کچھ پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے، ہم اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ پچھلے امویوں میں غیرمسلموں کو جارحانہ طریقے سے مذہب تبدیل کروا کر انہیں مسلمان بنانے کی جستجو نہیں تھی، اور یہ کہ سغدیہ میں بنوامیہ کے مخالفین کو تانگ بادشاہ کی حمایت کا سبب، اسلام کے تئیں بودھی ناپسندیدگی کا جذبہ نہیں تھا۔

دو واقعات نے بادشاہ کی پالیسیوں کے لیے اسٹیج تیار کیا۔ پہلا،جب شوان-دزونگ کی دادی ملکہ وو نے بودھی ہزار سالہ حکومت الف سعادت کے عقیدے کو اپیل کرتے ہوئے، تانگ خاندان کا تختہ پلٹ دیا تھا اور بودھی بھکشوؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں ٹیکسوں سے مستثنٰی کردیا تھا۔ دوسرا، جب بادشاہ کے تخت نشین ہونے کے بعد جلد ہی، بہت سے سغدیائی ہان چین کی طرف امڈ آئے جو منگولیا میں جابسے تھے۔ بالآخر ان دو واقعات کی طرف بادشاہ کے رویّے نے سغدیہ میں اس کی سرگرمیوں کا راستہ کھولا۔

منگولیا کو سغدیائیوں کی دعوت اور نتیجتاً ان کی بے دخلی

اگرچہ، پہلے صدیوں تک ہان چین میں شاہراہ ریشم کے ساتھ سغدیائی تاجروں کا تعلق رہا تھا، مگر چھٹی صدی کے وسط میں سغدیائی مہاجروں کا ایک بہت بڑا ریلا اس علاقے میں آیا۔ ان کے اس ریلے کی آمد کا سبب ایران کے ساسانی بادشاہ خسرو اوّل ﴿دور حکومت ۵۳۱۔۵۷۸ء﴾ کی مذہبی ستم رانیاں تھیں۔ پہلی مشرقی ترک سلطنت (۵۵۳۔۶۳۰ء) کے دوران، یہ سغدیائی مشرقی ترکوں کے ساتھ ایک مراعات یافتہ تعلق رکھتے تھے۔ بہت ساروں کو ترفان میں رہنے والی اپنی قوم کی طرف سے منگولیا آنے کی دعوت ملتی تھی اور وہی بودھی متون کو قدیم ترک زبان میں ترجمہ کرنے کا ذریعہ بنتے تھے۔ حکومت اپنے معاشی امور کی انجام دہی کے لیے سغدیائی زبان اور رسم الخط کا استعمال کرتی تھی۔ بہر حال، دوسرے مشرقی ترک دور (۷۴۴۔۶۸۲ء) میں طاقت ور وزیر تونیوقوق نے اس کے حکمرانوں کو ایک بودھی مخالف راستے پر لگا دیا۔

تونیوقوق نے پہلے مشرقی ترک خاندانی سلسلے کی شکست کے لیے ترکوں پر بدھ مت کے منفی اثر کو قصوروار ٹھہرایا۔ بدھ مت نرمی اور عدم تشدد سکھاتا تھا جس نے ترکوں کو ان کی شجاعانہ روح سے محروم کردیا۔ اس کی پکار یہ تھی کہ ترک اپنے روایتی ہمہ ترکی خانہ بدوش اور جنگ جوئی کے مسلک کو پھر سے اختیار کرلیں اور یہ خواہش ظاہر کی کہ تمام تر قبائل اس کے پیچھے متحد اور یکجا ہوکر اپنی سخت کوشی والا مزاج پھر سے پیدا کریں اور ہان چینیوں سے نبرد آزما ہوں۔

مشرقی ترکی اوتوکان اس منگولیائی پربت کے اجارہ دار تھے، جو ان سے پہلے بودھی تینگریائی اور شمالی مذاہب کے مطابق تمام ترکوں کے لیے مقدس تھا۔ تونیوقوق کا استدلال یہ تھا کہ اس نے جن حکمرانوں کی خدمت کی ہے، وہ اخلاقی طور پر اس بات کے پابند تھے کہ ترکی ثقافت اور اقدار کو برقرار رکھیں۔ سغدیوں کو بدھ مت اور ہان چینی سے وابستہ کرتے ہوئے، اس نے قاپاغان قاغان ﴿دور ۶۹۲۔۷۱۶ء﴾ پر دباؤ ڈالا کہ وہ انتظامی امور کے لیے سغدیائی زبان کا استعمال معطل کرے اور اس کی بجائے قدیم ترک زبان کو ایک رونک اسلوب والے رسم الخط کے ساتھ استعمال میں لائے۔ چونکہ منگولیا کی سغدیائی آبادی تیزی کے ساتھ مقبول ہونے لگی تھی، اسی لیے وہ لوگ ۷۱۳ء میں بڑے پیمانے پر شمالی چین کو ہجرت کر گئے اور خاص کر شاہراہ ریشم کے آخری شہروں چانگ۔ آن اور لویانگ میں بودوباش اختیار کرلی۔

[ تیرہواں نقشہ دیکھیے: سغدیائی نقل مکانی۔]

مانویت کا عنصر

منگولیا کا سغدیائی فرقہ خصوصی طور پر صرف بودھی نہیں تھا۔ درحقیقت ان میں اکثریت مانویت کے ماننے والوں کی تھی۔ اس ایرانی مذہب مانویت کی بنیاد بابل میں مانی (۲۱۷۔۲۷۶ء) نے ڈالی تھی۔ یہ ایک انتخابی عقیدہ تھا جس نے اپنے فروغ اور اشاعت کے دوران، وہ تمام عقائد جن سے اس کا سابقہ پڑا، ان کی بہت سی خصوصیات اور مقامی عقائد اپنا لیے۔ اس کی دو خاص شکلیں تھیں۔ ایک تو ایشیائے کوچک میں رواج پانےوالی مغربی شکل جو زرتشتیت اور عیسائیت سے ہم آہنگ تھی، اور دوسری، بعد میں رونما ہونے والی مشرقی شکل جو شاہراہ ریشم کے ساتھ ساتھ پھیلی اور جس نے بہت مضبوط بودھی عناصر اپنے اندر شامل کرلیے۔ ان میں اوّل الذکر کی سرکاری زبانیں سریانی (شامی) اور پارتھیائی تھیں، جبکہ ثانی الذکر کے لیے یہ کردار سغدیائی زبان نے ادا کیا۔

مانویت نے ایک مستحکم تبلیغی تحریک کو جنم دیا، اور اس کے مشرقی شکل کے سغدیائی مقلدین نے، ایک مرتبہ ہان چین میں اس کے بدھ مت کی ایک شکل ہونے کا دعوی کیا تاکہ لوگوں کو تبدیلئ مذہب کے بعد اپنے حلقے میں لے آئیں۔ اس طرح انہوں نے ۶۹۴ء میں مانویت کا تعارف چین کے شاہی دربار میں ملکہ وو کو متاثر کرنے کے لیے کیا اور ۷۱۹ء میں منگولیا سے ان کی ہجرت کے بعد اسے دوبارہ دربار سے متعارف کرایا۔ یہ واقعہ ملکہ کے ذریعہ بودھی الف سعادت کی تقریب ہڑپ کیے جانے کے بعد کا ہے جس میں ملکہ کو بے دخل کر دیا گیا تھا اور تانگ حکومت دوبارہ مستحکم کردی گئی تھی۔ بہر حال ۷۳۶ء میں بادشاہ شوان-دزونگ نے ہان چینیوں کو مانویت سے باز رہنے کا فرمان جاری کیا اور اس مذہب کو غیرہان رعایا اورغیرملکیوں تک محدود کر دیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مانویت بودھی کی ایک سطحی اور چھچھلی نقالی ہے اور اسے ایک جھوٹ کی بنیاد پر ایک جعلی عقیدے کے طور پر پھیلایا جا رہا ہے۔

بہر حال تانگ بادشاہ بودھوں کے لیے ہمدردانہ رویہ نہیں رکھتا تھا، اور اس کی یہ تنقید اس خواہش کی وجہ سے نہیں تھی کہ وہ خالص بودھی تعلیمات کو بدعتوں سے صاف کرکے اوپر اٹھانا چاہتا تھا۔ بہت سے ہان چینی بادشاہ کی حوصلہ مندانہ وسطی ایشیائی مہمّات سے غیر مطمئن تھے کیونکہ نتیجتاً، ان سے ٹیکسوں کی ادائیگی اور فوجی خدمت انجام دینے کا بھاری مطالبہ کیا جاتا تھا۔ شوان-دزونگ کی بلاشبہ یہ خواہش رہی ہوگی کہ ہان چینیوں کے لیے ایک بدیسی، نیم بودھی مذہب کے حصول سے گریز کیا جائے، کیونکہ اپنے عدم اتفاق اور ممکنہ بغاوت کو سامنے لانے کے لیے وہ اس مذہب کے گرد یکجا اور متحد بھی ہوسکتے تھے۔

بادشاہ کی دادی نے مائیتریا بدھ کے مسلک کو اپیل کرتے تانگ سلسلے کو معزول کر دیا تھا۔ چونکہ سغدیائی متون میں مانی کو مائیتریا کے طور پر مسلسل دیکھا جاتا تھا، اور بادشاہ کی دادی مانویت کی طرف ہمدردانہ رویے کی حامل تھی، اس لیے الف سعادت جیسی ایک بغاوت، جس کا رخ اسی کی طرف رہا ہو، اس نے بے شک بادشاہ کو اس ایرانی مذہب مانویت کے خلاف اقدام کی حوصلہ افزائی کی ہوگی۔

ابھی تک ہان چین میں سغدیائی تاجروں کے تین مذاہب۔ مانویت، نسطوری عیسائیت اور بدھ مت، لوگوں کا مذہب بدلوا کر اپنے حلقے میں لے آنے کی سب سے زیادہ جارحانہ روش، اوّل الذکر مانویوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی دہائیاں پہلے، عرب اور ایرانی مسلمان تاجروں نے بھی ہان چین کی جانب سفر کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ لوگ اصلاً بنیادی طور پر بحری راستے سے آتے تھے نہ کہ شاہراہ ریشم کے زمینی راستے سے، اور چین کے جنوب مشرقی ساحلی شہروں میں جا بستے تھے۔ ایک مسلمان معلّم، سعد بن علی وقاص ﴿وفات ۶۸۱ء﴾ انہی کے ساتھ آیا تھا۔ تاہم، شواندزنگ نے کبھی بھی ہان چینیوں کے اسلام قبول کرنے کے خلاف ایسا کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔ واقعہ تو یہ ہے کہ بعد کے کسی چینی بادشاہ نے بھی، چاہے وہ بودھی رہا ہو یا نہیں، ایسا کبھی نہ کیا۔ انہوں نے اسلام کی طرف ہمیشہ مذہبی رواداری کی ایک پالیسی پرعمل کیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر ہان چین میں اولین مسلمانوں نے اپنے مذہب کو پھیلانے کی کوشش کی بھی ہو، تب بھی یہ کوشش بہت بڑی نہ رہی ہوگی، نہ ہی اسے وہاں ایک خطرے کے طور پر دیکھا گیا ہوگا۔

غیرہان بودھی راہبوں کا تانگ چین سے اخراج

جیسے جیسے برس گزرتے گئے، تانگ حکومت کو وسطی ایشیا میں بادشاہ کی روز افزوں مہمات کی معاشی امداد کے لیے، اسی تناسب سے خزانے میں اضافے کی ضرورت بھی بڑھتی گئی۔ بودھی خانقاہوں کو محصول کی ادائیگی سے مستشنٰی کیے جانے کی جو حیثیت ملکہ وو کے غاصبانہ دور سے رائج چلی آرہی تھی، اس نے حکومت کی آمدنی کو بہت زیادہ محدود کر دیا۔ اس لیے، ۷۴۰ء میں، شوان-دزونگ نے داؤمت کی طرف اپنی حمایت پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی، بودھی خانقاہوں پر پھر سے ٹیکس عائد کر دیئے اور اپنی سلطنت میں ہان چینی بھکشوؤں اور راہباؤں کی تعداد شدّت سے گھٹا دی۔ اسے اس نے عوام پر ایک غیر ضروری مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے تمام غیر ہان بودھی راہبوں کو بھی نکال باہر کیا۔

اس طرح سغدیہ میں اموی مخالف حلقے کی طرف سے شوان-دزونگ کی حمایت کے پیچھے صاف طور پر سیاسی اور معاشی مصلحتیں تھیں، ان کو اسلامی اور بودھی تعلقات سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ بادشاہ تو خود بھی ایک بودھی تک نہ تھا اور اس کا سغدیائی راہبوں کو ہان چین سے بے دخل کروا دینا، یقینی طور پر سغدیائی بودھوں میں ایک اسلام مخالف تحریک کو تقویت عطا کرنے کی غرض سے، راہبوں کو واپس سغدیہ بھیجنے کے مترادف نہیں تھا۔ اس نے صرف سغدیہ والوں کا نہیں بلکہ دوسری غیرہان قومیتوں سے تعلق رکھنے والے راہبوں کا بھی اخراج کیا۔ تانگ چین کی تمام تر دلچسپی امویوں سے علاقے واپس لے کر وسطی ایشیا میں اپنے اقتدار کو مزید وسعت دینے اور اسی کے ساتھ ساتھ شاہراہ ریشم کے راستے نفع بخش تجارت پراپنی گرفت کو مزید مستحکم کرنے سے تھی۔

دورِ بنو امیہ کے آخری واقعات

اموی دور کے آخر (۷۴۴ء) میں وسطی ایشیا میں اسلام اور بدھ مت کے مابین ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے دونوں کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے لیے اہم اور بامعنی قرار دیا جاسکے۔ ویغور ترکوں کا مسکن شروع شروع میں شمال مغربی منگولیا کے پہاڑوں میں تھا، جب کہ ان کے بعض قبائل اپنی آوارہ خرامی کے ساتھ، جنوب میں تخاریوں کے زیر اقتدار ترفان علاقے اور شمال مشرق کی سمت میں سائبیریا کے جھیل بیکال کے علاقے کی دوری تک جا پہنچے تھے۔ یہ لوگ مشرقی ترکوں کے خلاف ہان چینیوں کے روایتی اتحادی تھے،جنہوں نے اپنے درمیان منگولیائی علاقوں کو سینڈ وچ کی طرح دبوچ رکھا تھا۔

[ چودہواں نقشہ دیکھیے: ترک قبیلے، بنو امیہ دور کا اختتام ۔]

۶۰۵ء میں، جب چار صدیوں سے زیادہ کے عرصے میں پہلے ہان چینی نے تاریم طاس میں قدم رکھا، اس وقت سوئی چینی بادشاہ، وین-دی نے ویغوروں کو ترفان پر فتح پانے میں مدد دی جو قدیم ترک بدھ مت کا مرکز تھا۔ ویغوروں نے تیزی کے ساتھ بودھی عقیدہ اختیار کرلیا، بالخصوص اس واقعے کی روشنی میں کہ ونڈی نے اپنے ایک بودھی کائناتی بادشاہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ ۶۲۹ء میں پہلے ویغور شہزادوں میں سے ایک نے بودھی نام "بودھی ستوا" اپنا لیا، یہ لقب مشرقی ترک مذہبی حکمرانوں میں بھی مستعمل تھا۔ ۶۳۰ء میں تانگ چین نے ویغوروں سے ترفان اپنے قبضے میں لے لیا، لیکن ثانی الذکر نے، اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد پہلی مشرقی ترک حکومت کے سلسلے کو ختم کرنے میں ہان چینیوں کی مدد کی۔

نصف صدی کے بعد، دوسری مشرقی ترک سلطنت نے اپنی جارحانہ طور پرہمہ پان ترکی فوجی پالیسی کے ساتھ ویغوروں کے وطن کی سرزمین پر فتح حاصل کرلی۔ بہر حال ۷۱۶ء میں سغدیائیوں کے منگولیا کی طرف فرار ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد ویغوروں نے آزادی حاصل کرلی۔ اس کے بعد، انہوں نے اپنے ہان چینی اتحادیوں کو مشرقی ترکوں کو پریشان کرنے کی پالیسی میں مدد دینا جاری رکھی۔ اب ۷۴۴ء میں ویغوروں نے قرلوقوں کی مدد سے دزنغاریہ اور شمال مغربی ترکستان میں مشرقی ترکوں پر حملہ کر کے انہیں شکست دی اور منگولیا میں خود اپنی اورخون سلطنت قائم کرلی۔

مشرقی ترکوں کا اوغوز قبیلہ، جسے سفید لباس والے ترکوں کے طور پر جانا جاتا ہے، اسی مرحلے میں موجودہ دور کے اندرونی منگولیا سے ہجرت کرکے فرغانہ کے نزدیک، سغدیہ کے شمال مشرقی کونے کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے عباسیہ دور کے آغاز میں جلد ہی، سغدیہ کے پیچیدہ واقعات میں ایک اہم کر دار ادا کیا۔ مزید برآں، ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد، ویغور لوگ اپنے جاگیردار، قرلوقوں کے ساتھ متواتر لڑائی جھگڑے کرتے رہے۔ ویغوروں اور قرلوقوں کو اب ترکی قبائل کی مشرقی اور مغربی شاخوں کے باہم نبرد آزما قائدین کے کردار کی وراثت مل گئی تھی۔ ویغوروں کو بہر حال، عروج حاصل ہو رہا تھا کیونکہ ان کا قبضہ وسطی منگولیا میں، دارالسلطنت اوردوبالیق کے نزدیک، ترکوں کے مقدس پربت اوتوکان پر تھا۔ ان دو ترکی گروہوں کی باہمی رقابت نے بعد کے واقعات کے لیے بھی زمین تیار کر دی۔

لہٰذا، ۷۵۰ء میں عربوں کے ذریعہ باختر اور سغدیہ کو ایک بار کھو دینے اور پھر سے حاصل کر لینے کے ساتھ، اموی دور کا خاتمہ ہو گیا۔ علاقے پر ان کی گرفت ابھی بھی نازک تھی، بودھوں کے ساتھ ان کے رشتے، اپنی رعایا اور ہمیشہ تبدیل ہوتے ہوئے اتحادیوں اور دشمنوں کے ساتھ ان کے تعلقات ابھی بھی پہلے ہی کی طرح بیشتر سیاسی ، فوجی اور اقتصادی مصلحتوں پر مبنی تھے۔