ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بودھی اور اسلامی ثقافتوں کے مابی نتاریخی تعامل:
منگول سلطنت سے پہلے

الیکزینڈر برزن، ۱۹۹۶ء
معمولی نظر ثانی، جنوری ۲۰۰۳ء، دسمبر ۲۰۰۶ء

حصہ اوّل: خلافت بنو امیہ ۶۶۱۔۷۵۰ء

۳۔ وسطی ایشیا میں مسلمانوں اور بودھوں میں پہلی لڑائی

اسلام سے پہلے بدھ مت کی شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا میں موجودگی

 

ہندوستان اور مغربی ایشیا کے درمیان زمینی اور سمندری راستوں سے تجارت کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ہندوستان اور میسوپوٹیمیا میں کاروباری روابط کا آغاز بہت پہلے ۳۰۰۰ سال قبل مسیح میں ہوا، یمن کی درمیانی بندرگاہوں کے ذریعے ۱۰۰۰ سال قبل مسیح۔ بدھ کی پچھلی زندگیوں کی روداد پر مشتمل ابتدائی بودھی مجموعے، "بویرو جاتک" کے ایک باب میں بابل (سنسکرت: بویرو) کے ساتھ سمندری ساحلوں کے آس پاس ہونے والے کاروبار کا تذکرہ ملتا ہے۔

سال ۲۵۵ قبل مسیح میں، ہندوستان کے موریہ شہنشاہ اشوک نے (دور حکومت: ۲۳۲۔۲۷۳ سال قبل مسیح) بودھی بھکشوؤں کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا تاکہ وہ شام اور مغربی ایشیا کے مذہبی حکمراں اینٹی یوکس دوم، مصر کے فلاڈیلفاس بطلیموس دو، سائرین کے ماگاس، مقدونیہ کے اینٹی گون گونٹاس اور کورنتھ کے اسکندر سے تعلقات قائم کرسکیں۔ آخرکار، ہندوستانی سوداگروں، ہندو اور بودھ مت دونوں کے گروہ ایشیائے کوچک، جزیرہ نمائے عرب، اور مصر کی سمندری اور دریائی بندرگاہوں میں سے بعض اہم بندرگاہوں میں جاکر بس گئے۔ جلدی ہی دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں نے بھی ان کی تقلید کی، شامی مصنف، زینوب گلاک نے ایک ہندوستانی قوم کے بارے میں لکھا ہے جو پوری طرح اپنی مذہبی عبادت گاہوں (مندروں) کے ساتھ، موجودہ زمانے کے ترکی میں، دوسری صدی قبل مسیح کے دوران وان جھیل کے مغرب میں دریائے فرات کے بالائی علاقے کی طرف آباد ہوگئی تھی، اور یونان کے سابق قوم پرست ڈیوں کرائسوسٹم (۴۰۔۱۱۲ء) نے ایسی ہی ایک قوم کے اسکندریہ میں بودوباش اختیار کر لینے کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ آثار قدیمہ کی باقیات سے ثابت ہے، دوسری بودھی بستیاں دریائے فرات کے نشیبی علاقے میں کوفہ کے مقام پر، زیرراہ کے مشرقی ایرانی ساحل پر، اور جزیرہ سوکوترا کے خلیج عدن کے دہانے پر واقع تھیں۔

پہلے ہزار برس کے وسط میں بابلی اور مصری تہذیبوں کے زوال، اور اسی کے شانہ بشانہ بحر احمر میں بازنطینی جہاز رانی میں تخفیف کے ساتھ، ہندوستان اور مغرب کے مابین ہونے والی تجارت کا بڑا حصہ جزیرہ نمائے عرب تک سمندری راستے سے پہنچتا تھا اور پھر عرب ثالثوں کی وساطت سے زمینی راستہ اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا تھا۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) (۵۷۰۔۶۳۲ء) کی جائے پیدائش مکہ مکرمہ ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا جہاں مشرق و مغرب کے سوداگر آپس میں ملتے تھے۔ ان میں جو سب سے اہم (کاروباری) تھے، انہی میں جاٹ لوگ (عربی: ذوت) بھی شامل تھے، جن میں سے بہت ساروں نے خلیج فارس کے اوپری سرے پر واقع، موجودہ زمانے کے شہر بصرہ کو اپنی جائے رہائش بنا لیا۔ پیغمبر اسلام کی زوجہ حضرت عائشہ کا علاج ایک مرتبہ ایک جاٹ معالج نے کیا تھا۔ اس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یقینی طور پر ہندوستانی ثقافت سے واقف تھے۔

[ چوتھا نقشہ دیکھیے: مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں ابتدائی ہندوستانیوں کا قیام۔]

مزید ثبوت کے طور پر وسط بیسویوں صدی کے اسکالر حامد عبدالقادر کی کتاب "بدھ اعظم، ان کی حیات اور فلسلفہ" (عربی: "بدھ الاکبر، حیاتہ و فلسفۃ") کا یہ بیان ہے کہ پیغمبر ذوال کفل (کفل کا باشندہ)، جس کا تذکرہ قرآن میں ایک صابر اور نیک شخص کے طور پر دوبار آیا ہے، بدھ کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے، اگرچہ بیشتر لوگ اس سے عیزیکیل مراد لیتے ہیں۔ اس تھیوری کے مطابق "کفل" کپل وستو کی جائے پیدائش کپل وستو کا عربی مترادف ہے۔ اسی اسکالر نے یہ خیال بھی پیش کیا ہے کہ انجیر کے درخت کا حوالہ بھی بدھ کی ہی طرف ہے جنہوں نے ایک شجر کے نیچے عرفان پایا۔

اسلام کی ابتدائی تاریخوں میں سے ایک "تاریخ طبری" دسویں صدی عیسوی کے دوران بغداد میں الطبری (۸۳۸۔۹۲۳ء) کے ذریعے لکھی گئی جس میں عرب میں موجود ہندوستانیوں کے ایک گروہ کا تذکرہ ہے جو سندھ سے آئے تھے اور سرخ لباس (احمر) پہنتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ اشارہ "زعفرانی ملبوس" والے بودھی بھکشوؤں کی طرف ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان بھکشوں میں سے تین نے اسلامی دور کے ابتدائی کچھ برسوں کے دوران عربوں کے سامنے فلسفیانہ تعلیمات کی تشریح کی۔ لہٰذا، یہ طے ہے کہ کم سے کم عرب رہ نما، جزیرہ نمائے عرب سے آگے اسلام کو لے جانے سے پہلے، بدھ مت سے واقف ہو چکے تھے۔

خلافت بنو امیہ کا قیام

پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (دور خلافت ۶۳۲۔۶۳۴ء) اور پھر حضرت عمرفاروق (دور خلافت ۶۳۴۔۶۴۴ء) کو ان کے دینی وارث کے طور پر منتخب کیا گیا۔ ثانی الذکر کے عہد اقتدار میں عربوں نے شام، فلسطین، مصر، شمالی افریقہ کے کچھ حصے فتح کرلیے اور ایران پر حملہ شروع کردیا۔ ان دونوں کے بعد چھ اشخاص پر مشتمل ایک کونسل نے حضرت علی المرتضی کو خلافت کی پیش کش کی جو رسول اللہ کے چچازاد بھائی اور داماد تھے۔ مگر ایسی شرطوں کے ساتھ جنہیں وہ قبول نہیں کرسکتے تھے۔

اس کے بعد خلافت حضرت عثمان غنی (دور خلافت ۶۴۴۔۶۵۶ء) کے سپرد کی گئی، جنہوں نے ۶۵۱ء میں ایران میں ساسانیوں کا تختہ پلٹنے کے عمل کی تکمیل کی اور اسلام کی حدود میں مرجیہ تحریک کا نفاذ کیا۔ انہوں نے یہ فرمان جاری کیا کہ غیر عرب بھی مسلمان بن سکتے ہیں اگر ظاہری طور پر بھی وہ شرعی قانون کی پابندی کریں اور خلیفہ کے اقتدار کو تسلیم کرلیں۔ بہر حال، صرف اللہ ان کے باطنی زہد وتقویٰ کا حساب کرسکتا ہے۔

بالآخر، اس گروہ نے جو حضرت علی کا حامی تھا، اس کے ہاتھوں حضرت عثمان قتل کردیے گئے۔ خانہ جنگی چھڑ گئی جس میں پہلے حضرت علی اور پھر ان کے سب سے بڑے بیٹے حسن، مختصر مدت کے لیے خلافت سنبھالنے کے بعد شہید کردیے گئے۔ پیغمبر کے برادر نسبتی اور حضرت عثمان کے حمایتیوں کے قائد، معاویہ آخر کار فتح یاب ہوئے اور انہوں نے اپنے بنو امیہ (۶۶۱۔۷۵۰ء) کے پہلے خلیفہ ہونے کا اعلان کردیا (دور خلافت ۶۶۱۔۶۸۰ء) انہوں نے اپنا دارالسلطنت مکّہ سے دمشق منتقل کردیا جب کہ خلافت پر دعوے داری کے حق کا اعلان حضرت علی کے چھوٹے بیٹے حضرت امام حسین کی طرف سے ہوا۔ وسطی ایشیا میں مسلمان عربوں اور بودھوں کے مابین سب سے پہلے روابط اس کے کچھ ہی عرصے بعد رونما ہوئے۔

[ پانچواں نقشہ دیکھیے: وسطی ایشیا، بنو امیہ کا ابتد ئی دور۔]

باختر پر بنو امیہ کے حملے

۶۶۳ء میں ایران میں مقیم عربوں نے، باختر پر اپنا پہلا حملہ کیا۔ حملہ آور فوجوں نے ترکی شاہوں سے بلخ کے اطراف کا علاقہ خانقاہ نووہار سمیت چھین کر اپنے قبضے میں لے لیا جس کے باعث ترکی شاہی جنوب کی سمت میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔ جہاں وادئ کابل میں انہوں نے اپنا مضبوط مورچہ بنا رکھا تھا۔ جلد ہی عرب اس قابل ہوگئے کہ وہ اپنا اقتدار شمال کی جانب پھیلا سکیں، انہوں نے مغربی ترکوں سے بخارا چھین کر سغدیہ میں اپنی کامرانی کا پہلا راستہ بنا لیا۔

عربوں کی فوجی پالیسی یہ تھی کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کر دیں گے جو مزاحمت پر کمربستہ ہوں، مگر ان لوگوں کو محفوظ حیثیت عطا کردیں گے جو پرامن طریقے سے ان کی اطاعت قبول کرتے ہوں اور جن سے خراج وصول کیا جاسکے، چاہے رقم کی شکل میں چاہے چیزوں کی شکل میں۔ کوئی بھی ایسا شہر جو اس معاہدے کی پابندی پر راضی ہوتا تھا، اسے وہ ایک قانونی اقرار نامے کے ذریعے حفاظت کی ضمانت بھی دے دیتے تھے۔ اسلامی قانون کے مطابق کئے گئے عہد اور معاہدے پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوتے اور اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ عربوں نے جلد ہی اپنی نئی وجوبی رعیت کا اعتبار بھی حاصل کرلیا تاکہ انہیں اپنے اقتدار کا تابع بناتے وقت کم سے کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔

مذہبی پالیسی کے بعد فوجی پالسی سامنے آئی۔ جن لوگوں نے معاہدے کے مطابق عربوں کی حکومت قبول کرلی تھی، انہیں ایک معینہ محصول (جزیہ) کی ادائیگی کے بعد اپنے مذاہب پرکار بند رہنے کی اجازت تھی۔ مزاحمت کرنے والوں کے سامنے یا تو تبدیلئ مذہب کا راستہ تھا یا پھر تلوار کا۔ بہر حال، بہت ساروں نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کرلیا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو محصول کی ادائیگی سے بچنا چاہتے تھے، جب کہ دوسری طرف وہ لوگ تھے، خاص کر بیوپاریوں اور کاری گروں میں جنہیں مذہب کی تبدیلی میں نئے اور زائد مالی فائدے دکھائی دیتے تھے۔

ہر چند کہ باختر میں کچھ بدھ مت کے پیروکاروں نے، یہاں تک کہ نووہارکے ایک پروہت نے بھی اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا، لیکن اس علاقے کے بیشتر بودھوں نے اسلامی ریاست کے اندر بحفاظت ایک وفادار غیرمسلم رعایا کی حیثیت میں رہنے اور اس کے لیے خود پرعائد ہونے والا محصول ادا کرتے رہنے کو ترجیح دی۔ خانقاہ نووہار حسب معمول کھلی رہی اور اپنا کام کرتی رہی۔ ہان چینی زایر "یی-جنگ" نے آٹھویں صدی کے آغاز کے آس پاس نووہار کی زیارت کی اور اطلاع دی کہ یہ خانقاہ خوب پھل پھول رہی تھی۔

ایک اموی فارسی مصنف، عمر ابن لأزرق الکرمانی نے، آٹھویں صدی عیسوی کے عہد آغاز میں نووہار کے تفصیلی حالات قلم بند کیے ہیں، جنہیں ابن الفقیہ الحمدانی نے دسویں صدی کی ایک کتاب جو "كتاب البُلدان" کے نام سے موسوم ہے میں محفوظ کرلیا ہے، اس کتاب میں انہوں نے نووہار کی تفصیلات ایسی اصطلاحوں میں بیان کی ہیں جو مکے میں واقع کعبے سے خاص مماثلت رکھتی ہیں اور جنہیں مسلمان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی بیان کردہ تشریح کے مطابق خاص مندر کے مرکز میں ایک مربع سنگین چوکی تھی۔ کپڑے سے ڈھکی ہوئی اور لوگ اس کا طواف کرتے تھے۔ یہ مربع سنگین چوکی، بلاشبہ اس پلیٹ فارم کی نشاندہی کرتی ہے جس پر ایک استوپا کے تبرکات خانے کی تعمیر کی گئی تھی، جو کہ باختری اور تخاری مندروں میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ وہ غلاف جس نے اسے ڈھانک رکھا تھا، احترام کے اظہار کی ایرانی رسم کے عین مطابق تھا جس کا اطلاق بدھ کے مجسموں اور استوپاؤں دونوں پر ہوتا ہے، اور جہاں تک طواف کا تعلق ہے، تو یہ عبادت کا عام طریقہ ہے۔ پھر بھی، الکرمانی کے متذکرہ بیان سے اس کشادہ اور احترام آمیز رویّے کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو اموی عربوں نے ان تمام دوسرے غیراسلامی ادیان جیسے کہ بدھ مت کو سمجھنے کی کوشش کے طور پر اختیار کررکھا تھا، جن سے کہ اپنی نئی مفتوحہ سرزمینوں میں ان کا سامنا ہوتا تھا۔

ایران میں امویوں کا غیر مسلموں کے ساتھ سابقہ تجربہ

باختر پر حملے سے قبل، امویوں نے ایران میں اپنی زرتشتی، نسطوری عیسائی اور بودھی رعایا پر تحفظ کی ضمانت کے ساتھ ساتھ محصول (جزیہ) عائد کردیا تھا۔ بہر حال، کچھ مقامی عرب عہدیدار، دوسروں کی بہ نسبت کم روادار تھے۔ بعض اوقات اپنے تحفظ کی ضمانت پانے والی رعایتوں کو خاص وضع کے ملبوسات یا بلّے نشان پہننے پڑتے تھے تاکہ ان کی شناخت نمایاں رہے اور اس کی مزید اہانت اس طرح کی جاتی تھی کہ ہر مرتبہ جب وہ اپنا جزیہ ادا کرتے تھے اور اطاعت میں اپنا سر جھکاتے تھے تو ان کی گردن پر ایک گھونسا بھی رسید کیا جاتا تھا۔ اس محفوظ رعایا کو اگرچہ اپنے طریقے سے عبادت کی آزادی تھی، پھر بھی کچھ سخت گیر حکام انہیں نئے مندروں یا گرجا گھروں کی تعمیر سے روکتے تھے اور اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ دوسری طرف، وہ لوگ جو جمعہ کی نماز کے لیے مسجدوں میں آتے تھے انہیں کبھی کبھی کچھ رقم بھی بطور انعام دے دی جاتی تھی۔ بعد کے ادوار میں، اگر کسی غیرمسلم خاندان کا کوئی فرد اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیتا تو اسے اس کے اپنے خاندان کی ساری جائیداد کا وارث بنا دیا جاتا تھا۔ مزید برآں، اور زیادہ جارحانہ مزاج رکھنے والے عہدے دارغیر ملکیوں کو خاص کر ترکوں کو متواتر غلام بنا لیتے تھے لیکن اگر وہ اپنا مذہب تبدیل کردیں تو انہیں آزادی بھی دے دیتے تھے۔

اس طرح کی پابندیوں اور ذلتوں سے بچنے اور مالی و سماجی فائدے حاصل کرنے کی طلب کے باعث بہت سے لوگ فطری طور پر اپنا مذہب چھوڑنے اور نیا مذہب اختیار کرنے پر بھی تیار ہوجاتے تھے۔ لہٰذا، ایران میں بہت سے زرتشتیوں نے بالآخر اپنی محفوظ حیثیت چھوڑ دی اور حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا باختر اور بخارا میں بودھوں کے درمیان بھی اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تھی، لیکن یہ فرض کر لینا بعید از عقل نہیں کہ ایسا ضرور ہوا ہوگا۔

اس وقت اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرلینے کا عمل، بنیادی طور پر، ایک بیرونی معاملہ اور مرجیہ رسم و رواج کے عین مطابق تھا۔ بس اتنا کرنا ہوتا تھا کہ اسلامی عقیدے کے بنیادی ارکان کو تسلیم کر لیا جائے اور روزآنہ پنج گا نہ نمازوں کی ادائیگی، غریب مسلمانوں کے لیے زکوۃ دینے، رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے اور زندگی میں ایک بار حج کی خاطر مکہ جانے کے اساسی مذہبی فرائض قبول کرلیے جائیں۔ ان سب کے پہلے امیہ حکومت کی اطاعت کا اقرار ضروری تھا کیونکہ سب سے خاص اور مطلوبہ شرط روحانی اطاعت سے زیادہ سیاسی اطاعت شعاری اور تابع داری کی تھی۔ وہ لوگ جو شرعی قوانین کو توڑنے کے قصوروار ٹھہرتے تھے ان پر اموی عدالت میں مقدمہ چلایا جاتا تھا اور سزا دی جاتی تھی ہر چند کہ اس وقت بھی وہ اپنی تمام شہری مراعات کے ساتھ باضابطہ طور پر مسلمان ہوتے تھے۔ یہ فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھوں میں تھا کہ اپنے مذہبی عقائد میں کون کتنا مخلص ہے۔

ایسی رعیت جو عرب اقتدار کے مطابق تابعدار اور وفا شعار ہو، اس کا دل جیتنے کے لیے کچھ خاص رسمیں رائج کر دی گئی تھیں۔ ان میں وہ لوگ فطرتاً کشش محسوس کرتے تھے جو سیاسی، سماجی اور اقتصادی ضرورتوں کے تحت تبدیلئ مذہب پر رضامند ہوں، خواہ اپنے باطن کی سطح پر، وہ اپنے اصل اور پرانے دین پر پوری طرح قائم ہوں۔ اس قسم کے نومسلموں کی بہ نسبت ان کے بیٹی بیٹے، یا پوتے پوتیاں اسلام کی بیرونی چوکھٹے کے اندر اپنی نشوونما کے باعث، اپنے نئے عقیدے سے کہیں زیادہ مخلص اور وفادار تھے۔ اس طریقے سے وسطی ایشیا میں مسلمانوں کی آبادی میں بتدریج پر امن طریقے سے اضافہ ہوتا رہا۔

جنوبی سغدیہ میں بنو امیہ کی دھیمی پیش رفت

سغدیہ کے باقی ماندہ حصوں پر بنو امیہ کے اقتدار کا قیام کوئی سیدھا سادا معاملہ نہِیں ہے۔ مغربی ترکوں سے اس علاقے کو چھیننے کی کوشش میں تین دوسری طاقتیں بھی ایک دوسرے سے برسرپیکار تھیں تاکہ شاہراہ ریشم کے راستے ہونے والی منافع بخش تجارت پر قبضہ کرسکیں۔ یہ راستہ اسی طرف سے گزرتا تھا۔ کاشغر کے تبتی، تاریم کے طاس کی باقی ماندہ ریاستوں میں بسنے والے تانگ چینی اور پھر، بالآخر منگولیا کے مشرقی ترک باشندے یہ وہ طاقتیں تھیں جو اس علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش میں مصروف تھیں ۔ ان کی باہمی چپقلش نہایت پیچیدہ ہوتی گئی۔ یہاں ان سے متعلق تمام تفصیلات کا بیان ضروری نہیں ہے۔ سو، ہم ساتویں صدی عیسوی کے نصف دوم اور آٹھویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران وقوع پذیر ہونے والی باتوں کا صرف خلاصہ بیان کیے دیتے ہیں تاکہ عربوں کو درپیش مقابلے کو سمجھا جاسکے۔

[ چھٹا نقشہ دیکھیے: ساتویں صدی کے اختتام پر وسطی ایشیا میں اقتدار کی جدوجہد۔]

تبتوں  نے پہلے ۶۷۰ء میں، تانگ چین کے قبضے سے تاریم کے طاس کی بچی کچی شہری ریاستیں اپنے اختیار میں منتقل کرلیں، اس طرح کی شروعات انہوں نے ختن سے کی اور پھر کاشغر کے شمال میں واقع کئی اضلاع تک پہنچے۔ ایک مسلسل بڑھتے ہوئے تبتی فوجی خوف کے پیش نظر، تانگ فوجوں نے، بتدریج تاریم کے نشیب میں باقی ماندہ علاقے سے، ترفان کی جانب پسپائی اختیار کی، اور یہ خلا جوان کے پیچھے ہٹنے سے پیدا ہوا تھا اب تبتوں نے بھر دیا۔ اس کے بعد، تانگ فوج نے تیان شان پربتوں کو پار کرکے، ترفان سے بیشبالیق کی جانب بڑھتے ہوئے اور مغربی سمت میں اپنی پیش قدمی کے ساتھ شمال مغربی ترکستان میں، ۶۷۹ء میں، سویاب کے مقام پر، اپنی عسکری حیثیت بنالی۔ بہر حال، تانگ چین کے عمومی زوال کے پس منظر میں یہ ایک استثنائی صورت حال تھی۔ ۶۸۲ء میں ترکوں نے منگولیا میں تانگ حکومت کے خلاف بغاوت کردی اور دوسری مشرقی ترک سلطنت قائم ہوئی۔ اور پھر، ۶۸۴ء میں خود تانگ سلطنت کا تختہ ایک ناگہانی آفت کے نتیجے میں پلٹ گیا۔ یہ سلطنت ۷۰۵ء تک بحال نہ ہوسکی اور ۷۱۳ء تک اس میں استحکام پیدا نہ ہوسکا۔

دریں اثنا باختر پرعربوں کی گرفت کمزور پڑنے لگی۔ ۶۸۰ء میں خلیفہ یزید (دورحکومت ۶۸۰۔۶۸۳ء) کے مختصر غلبہ اقتدار کے شروع میں، حضرت علی کے چھوٹے بیٹے حسین نے بنو امیہ کے خلاف ایک ناکام بغاوت کی قیادت کی جس میں، عراق میں کربلا کی جنگ کے دوران وہ شہید کر دیے گئے۔ اس تصادم نے خلافت کی توجہ کا مرکز وسطی ایشیا سے ہٹا دیا۔ نتیجتاً، یزید کے اقتدار کے خاتمے پر، بیشتر باختری شہری ریاستوں کی باگ ڈور بنو امیہ کے ہاتھ سے نکل گئی۔ لیکن سغدیہ میں بخارا پر انہوں نے اپنی گرفت قائم رکھی۔ بعد کے برسوں میں، حضرت امام حسین کی شہادت کی یاد میں اسلام میں سنی گروہ کے بالمقابل شیعہ فرقے کی تشکیل کی اور اسے امیہ سلسلے کی مرجیہ تحریک سے مزید ترقی ملی۔

اس زمانے کا تبتی حکمران اندرونی اقتدار کی جدوجہد میں اپنے ایک حریف قبیلے سے الجھا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۶۹۲ء میں تبتوں نے تاریم کے طاس کی ریاستوں پر اپنی گرفت کھودی گو کہ انہوں نے اپنی موجودگی تو وہاں قائم رکھی، بالخصوص جنوبی گھیرے کے ساتھ ساتھ ۔ ہان چینیوں کے پاس ترفان میں اپنے مرکز اقتدار سے نسبت رکھنے والی ان ریاستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کی ایک لمبی روایت تھی جسے کلاسیکی چینی تاریخوں میں "باج گذار مشن" کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح اگرچہ ترفان سے آگے تاریم کے بیشتر نشیبی علاقے میں تانگ چین کو اب ایک غالب بدیسی طاقت کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، لیکن سارا دبدبہ تجارت اور کاروبار میں ترقی کی وجہ سے تھا، سیاسی یا فوجی کنٹرول کے باعث نہیں، بالخصوص جنوبی ریاستوں میں۔

۷۰۳ء میں تبتوں نے تاریم کے طاس کے مشرقی سرے پر واقع تانگ فوجوں کے خلاف مشرقی ترکوں کے ایک اتحاد کی تشکیل کی، مگر انہیں ترفان سے نکال باہر کرنے میں ناکام رہے۔ مغربی ترکوں نے بھی اپنے آپ کو تانگ فوجی دستوں کے مقابل صف آرا کرلیا، مگر مغربی محاذ پر اور سویاب سے انہیں نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مغربی ترکوں نے شمال مغربی ترکستان کے حکمرانوں کے طور پر اپنے ذیلی قبائل میں سے ایک قبیلے، ترغش ترکوں پر مشتمل مغربی ترکوں کا ایک مورچہ قائم کیا ۔ ترغش دیس مسکن وہی علاقہ ہے جو سویاب کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔

اب تبتوں نے اپنے آپ کو گندھارا کے ترکی شاہیوں کے ساتھ متحد کرلیا اور ۷۰۵ء میں، یہ کوشش کی کہ بنو امیہ کی فوجوں کو جو پہلے ہی کمزور پڑچکی تھیں، باختر سے باہر نکال دیں۔ وقتی طور پر عرب اپنی زمین پر قدم جمانے میں کامیاب دکھائی دیۓ۔ بہر جال، خلیفہ الولید کے دور حکومت میں (۷۰۵۔۷۱۵ء) ترکی شاہی شہزادے نازاکتار خان نے امویوں کو باختر سے نکال دیا اور کئی برسوں کے لیے وہاں ایک تنگ نظر بودھی حکومت قائم کردی۔ اس نے نووہار کے بڑے پروہت کا سر تک قلم کر دیا جس نے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا تھا۔

باختر سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد، بنو امیہ کی افواج نے سغدیہ میں بخارا پر اپنی گرفت قائم رکھی۔ شمال سے پیش رفت کرتے ہوئے ترغشیوں نے سغدیہ کے بچے ہوئے حصے پر قبضہ کرلیا اور مغربی تاریم کے نشیبی علاقے سے کاشغر اور کوچہ کو بھی اپنا تابع بنالیا۔ ایک اور تبتی اتحادی، مشرقی ترک لوگ اس کے بعد سغدیہ کے لیے اقتدار کی جنگ میں شامل ہوگئے اور دزونگاریا کے راستے سے آتے ہوئے انہوں نے شمال کی جانب سے ترغشوں پر حملہ کردیا اور بالآخر سویاب میں ترغشوں کی ارض وطن پر قابض ہو گئے۔ شمالی محاذ کی طرف ترغشوں کو متوجہ دیکھ کر، اموی افواج نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور بخار اسے آگے بڑھتے ہوئے ترغشوں کے علاقے کے سب سے جنوبی حصے میں واقع سمرقند کو پانی مملکت میں شامل کرلیا۔

خلاصہ

باختر پر بنو امیہ عربوں کی اولین گرفت بہت مضبوط نہیں تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سغدیہ میں ان کی پیش رفت نہایت سست رہی۔ وہ من مانے طریقے سے حملے کرنے کی طاقت سے محروم تھے، اور انہیں سغدیہ پر نظر گاڑنے والی دوسری بڑی طاقتوں میں، فوجی اعتبار سے ان کا دھیان ہٹ جانے کے لمحوں کی راہ دیکھنی پڑتی تھی تاکہ وہ آگے بڑھ سکیں۔ پورے وسطی ایشیا میں بلاشک شبہ، وہ اسلام کی اشاعت کے لیے کوشاں کسی مقدس جنگ میں مصروف نہیں تھے، بلکہ وہ بھی سیاسی اور علاقائی زمینی مفادات کے لیے سرگرم، متعدد طاقتوں میں سے بس ایک تھے۔ عرب جرنیل قتیبہ نے بخارا میں، سغدیہ کی پہلی مسجد ۷۱۲ء میں تعمیر کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ۷۷۱ء تک کوئی دوسری مسجد نہیں بنوائی جاسکی، یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ درحقیقت اسلام کی اشاعت کس قدر دھیمی تھی۔