ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بدھ مت کی حقیقت پسند سوچ کے متعلق دلائی لامہ کے افکار:
دھرمشالہ کے مغرب سے تعلق رکھنے والے سابقہ مکینوں سے خطابات

تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ
دھرمشالہ، ہندوستان، ۳-۲ نومبر، ۲۰۱۰
نقل نویسی از شان جونز، و مائیکل رچرڈز
ادارت و ترمیم از لیوک رابرٹس، و الیگزینڈر برزن
معہ توضیحات بنفشی رنگ میں قوسین کے درمیان

حصہ چہارم: مغربی معاشرہ بدھ مت کی نظر میں

مذہب

جہاں تک مذہب کا تعلق ہے میں ہمیشہ آپ مغرب کے مکینوں سے کہتا ہوں بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے اپنے مذاہب پر قائم رہیں۔ بیشک لاکھوں کروڑوں افراد میں سے چند ایک آپ جیسے ہیں جو – اچھا خوب، میرا خیال ہے آپ میں چند ایک ۱۹۶۰ کی دہائی میں ہپیوں جیسے تھے – اپنے من کے بارے میں قدرے مغالطہ میں، اور موجود صورت حال اور مغربی مذاہب کے متعلق قدرے باغیانہ رویہ رکھے ہوۓ، ہے نا؟ تو آپ ادھر اُدھر سرگرداں رہے، جیسے کہ آپ کی کوئی منزل نہ ہو، اور آخر کار آپ کو بدھ مت میں کچھ نئے نظریات ملے۔ تو ٹھیک ہے، اگر آپ واقعی یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ کوئی فائدہ مند چیز ہے، تو ٹھیک ہے۔

تبتوں کی طرح – جو ۹۹٪ سے زیادہ بدھ متی ہیں، مگر ان میں کچھ مسلمان بھی ہیں، اور میرے خیال میں بیسویں صدی سے اب یہاں چند عیسائی بھی ہیں۔ پس یہ ممکن ہے۔ مغربی لوگوں کے درمیان جو کہ یہودیت اور عیسائیت کی روایات کے حامل ہیں – اور کسی حد تک مسلمان بھی – بعض کو اپنا مذہب اتنا کارگر نہیں لگتا، اور وہ ناستک بن جاتے ہیں۔ اپنے من میں قدرے بے چینی کی وجہ سے انہیں من کی تربیت کے لئے بدھ مت کی تعلیمات میں کچھ فائدہ نظر آتا ہے، اور وہ اس پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ بجا ہے۔ یہ ہر فرد کا حق ہے۔

تعلیم

ایک بدھ متی یا کسی قسم کا انسان ہونے کے ناطے ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ غیر حقیقی سوچ تباہی کا باعث ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں تعلیم کا اصل مقصد ظاہر اور باطن کے درمیانی فاصلہ کو کم کرنے میں ہماری مدد کرنا ہے۔ یہ جو نمود اور حقیقت کے درمیان فاصلہ پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے بہت سارے غیر حقیقی احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ چونکہ ہمارے پاس ذہانت ہے، اس لئے ہمیں تعلیم کی ضرورت ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے من حکیم ہوں، معقول ہوں، اور حقیقت پسند ہوں۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی تمام زندگی کے بارے میں، تمام مقاصد کے بارے میں حقیقت پسند ہوں۔ حتیٰ کہ تباہ کن ہدف، جیسے دہشت گردوں کے – انہیں بھی اپنے ہدف حاصل کرنے کے لئے حقیقت پسند حربے استعمال کرنے چاہئیں؛ وگرنہ وہ اپنا مقصد پورا ہونے سے قبل ہی جہنم رسید ہو جائیں گے۔ ہر انسانی فعل حقیقت پر مبنی ہونا چاہئے۔

اس وقت ایک معاشی بحران آیا ہوا ہے۔ لوگ، بغیر سوچے سمجھے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، حد سے زیادہ قیاس آرائی (سٹہ بازی) کر رہے تھے، اور اس خام خیالی میں مبتلا تھے کہ سب ٹھیک ہے۔ بعض اوقات ان لوگوں کو حقیقت کا علم تھا بھی، مگر انہوں نے جان بوجھ کر عوام کو تصویر کا غلط رخ دکھایا۔ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے۔ پس یہ لاعلمی اور لالچ کا نتیجہ تھا۔ میرے بعض دوستوں کی راۓ میں عالمگیر معاشی بحران میں اس امر کا بھی ہاتھ تھا۔ اگر لوگ شروع سے ہی صاف گو اور ایماندار ہوتے تو آخری اعلان کے وقت لوگوں کو اتنا صدمہ نہ پہنچتا۔ انہیں شروع سے ہی صاف صاف بتا دینا چاہئے تھا۔ لیکن اب حالات بہت خراب ہیں، ہیں نا؟ پس ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ اور بے شک بین الاقوامی معاملات، ماحولیاتی مسائل ، یا کسی بھی شعبہ میں – ہر معاملہ میں، ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے۔

جدید تعلیم میں ایک چیز کی کمی ہے، اور وہ ہے دلسوزی۔ مگر اب کچھ ادارے، کچھ جامعہ ایسی ہیں جو اس پر کچھ تحقیق کر رہی ہیں۔ انہوں نے طلبا پر تجربات کئے ہیں: اگر وہ روزانہ اپنے من کودرد مندی کی تربیت دینے کے لئے تھوڑے وقت کا مراقبہ کریں تو آٹھ ہفتے بعد کچھ فرق محسوس کریں گے۔ تو بہر حال یہ ایک پہلو ہے۔

صحت

جانوروں اور حیات کی دوسری شکلوں کے مقابلہ میں ہم نہائت خوش قسمت ہیں کہ ہمیں انسانی جسم ملا ہے، کیونکہ ہمارے پاس یہ شاندار دماغ ہے – ہمارے پاس لا انتہا ایثار پیدا کرنے اور حقیقت لا منتہا پر تحقیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اور کوئی بھی جاندار جس کا دماغ انسانی دماغ سے کمتر ہو ایسا نہیں کر سکتا۔ تمام معمولی ذی شعور ہستیاں جہالت کی غلام ہیں۔ صرف انسانی دماغ کو ہی یہ وصف ہے کہ وہ اس جہالت کی کمزوریوں کو پہچان سکے۔ لہٰذا انسانی شریر ایک قیمتی شے ہے اور ہمیں اس زندگی کی حفاظت کرنی چاہئے۔ ایک ہزار برس تک ہم ان خداؤں سے طویل عمری کی دعائں مانگتے رہے، مگر اب ہمارے پاس جدید دوا، ورزش جس میں یوگا ورزش بھی شامل ہے، میسر ہے۔ اور یہ سب ہمارے قیمتی جسم کی حفاظت کے لئے بہت فائدہ مند ہے، ہے نا؟ تو یہ بات ہے۔

اقتصادیات

بے شک اس شعبہ میں میرا علم بہت محدود ہے۔ اولاً میں کارل مارکس کے اقتصادی نظریہ – میں اس کے اقتصادی نظریہ میں دولت کی منصفانہ تقسیم کے نظریہ سے بہت متاثر ہوا۔ یہ اخلاقیات ہے؛ جب کہ سرمایہ داری نظام اس کے متعلق بات نہیں کرتا، صرف منافع کمانے کی بات کرتا ہے۔ لہٰذا جہاں تک سماجی- اقتصادی نظریہ کا تعلق ہے میں ابھی بھی ایک مارکسی ہوں۔

یہ نام نہاد "اشتراکی نظام" جو سابق سوویت اتحاد اور جدید چین کے ابتدائی دور اور بعض اشتراکی ممالک میں نافذ تھا – ان کی معیشتیں آخرکار ٹھنڈی پڑ گئیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ لہٰذا جہاں تک معاشی ترقی کا تعلق ہے مغربی سرمایہ دارانہ نظام ایک زیادہ فعال قوت ہے۔ ڈنگ شیاؤ پنگ کی قیادت تلے چین نے اپنے مارکسی اقتصادی نظام کی قربانی دیکر رضاکارانہ طور پر سرما یہ دارانہ نظام کو اپنایا۔ میرے خیال میں چین کے دور حاضر کے تمام مسائل کے لئے سرمایہ دارانہ نظام کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ میرے خیال میں کوئی بھی آزاد مملکت سرمایہ داری کو [ان مسائل کے بغیر] اپنا سکتی ہے۔ مگر [اس کے لئے] ایک آزاد عدلیہ اور پریس (ذرائع ابلاغ) کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ ایمانداری کے اصول پر عمل کریں تو منتخب شدہ حکومت کا احتساب کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام میں ایک متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لئے کچھ اور باتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

اب چین میں محض ایک سرمایہ دارانہ نظام ہے – نہ کوئی آزاد عدلیہ ہے نہ ہی آزاد پریس، اور نہ ہی جواب دہی۔ عدلیہ اور معیشت پر پارٹی کا قبضہ ہے، اور پریس پارٹی کے پیروکاروں کے ہاتھ میں ہے۔ تو چین کے موجودہ مسائل کی بڑی وجہ یہ ہے۔ وہاں بیحد بدعنوانی ہے، اور ان چیزوں کو روکنے کا کوئی موثر انتظام نہیں۔ غریب لوگ اگر بدعنوانی کے مرتکب ہوں تو انہیں سزاۓ موت دی جاتی ہے، لیکن بارسوخ لوگ قانون سے بالا تر ہیں۔ تو یہ وجہ ہے۔

جب برلن کی دیوار گری تو سابقہ مشرقی یورپ کے ممالک کو آزادی ملی – مثال کے طور پر چیک جمہوريہ اور سلوویکیہ۔ میرے خیال میں میں چیک جمہوريہ کا، صدر حاول کی دعوت پر، پہلا زیارتی تھا، اور پھر میں بالٹک ریاستوں میں بھی گیا، اور ہنگری اور بلغاریہ بھی۔ مجھے کبھی رومانیہ جانے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن میں سابقہ یوگوسلاویہ – کوسوو، کروایشیا اور سلووینیا بھی گیا ہوں۔ جب میں پہلی بار چیک جمہوريہ گیا، میں نے کہا،"مزید تحقیق کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اشتراکی نظام کی اچھی باتیں لو، اور سرمایہ دارانہ نظام کی اچھی باتیں لو، اور انہیں یکجا کر کے ایک نیا معاشی نظام تشکیل دو۔" تو میں نے یہ بات کہی۔ مگر یہ بےمعنی الفاظ سمجھے گئے۔ بیشک مجھے اقتصادیات کے بارے میں کوئی علم نہیں۔

مادہ پرست طرز حیات

کل میں نے مختصراً مغربی طرز زندگی کا ذکر کیا تھا۔ اور یہ محض مغرب کی ہی بات نہیں – اب تو ہندوستان کا معاشرہ بھی کہیں زیادہ مادہ پرست ہے، وہاں ایسا معاشرہ ہے نا؟ وہ اپنے محسوسات کے راستے راحت طلب کرتے ہیں – ناٹک، فلمیں، موسیقی، اچھی غذا، اچھی خوشبوئیں، اور اچھی جسمانی مسرتیں، بشمول جنسی لذت۔ تو وہ ان خارجی ذرائع سے راحت کے متلاشی ہیں، محسوسات کی سطح پر۔

اندرونی تشفی اپنے من کی تربیت سے ملتی ہے، نہ کہ حسّی تجربات پر بھروسہ کرنے سے۔ ہمارے آلودہ [داغدار] اعمال کا خاتمہ لازم ہے۔ ان کی آلودگی ماحول کی وجہ سے نہیں؛ ہمارے اعمال کی آلودگی کا باعث غلط نظریات یا لا علمی ہے۔ لہٰذا ایسے آلودہ کرم کو ختم کرنے کے لئے جو ہمارے مسائل کا باعث بنتا ہے، ہمیں پہلے اس لاعلمی کو دور کرنا ہے جو ہمارے سروں میں ہے۔ یہ بدھ متی طریقہ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا اب تعلیمی ادارے ہمارے جذبات، ہمارے من کی احتیاج کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ یہ ایک بہت صحت مند علامت ہے۔

بہر حال، پھر بھی یوں کہنا،"میری زندگی بہت اچھی ہے،" بڑی اچھی بات ہے۔ بدھ مت اس کا بھی ذکر کرتا ہے، اور ایک اچھی زندگی کے لئے چار اعلیٰ ترین عناصر ہیں [(۱) اعلٰی پنرجنم (۲) وسائل کی جستجو (۳) تعلیمات، اور (۴) مُکش]۔ فضیلت کے پہلے دو عناصر اعلٰی پنر جنم یا محض انسانی شکل میں دوبارہ جنم لینا اور پھر ضروریات ہیں – دولت، جائداد، ساتھی، وغیرہ ایک اچھی، خوشگوار زندگی کے لئے۔ آپ کو سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس کے لئے پیسے کی۔ لہٰذا یہاں پیسے کا ذکر آتا ہے۔ مگر مستقبل بعید کے لئے ہمیں نروان کی ضرورت ہے – ہمیشہ کے لئے لا علمی اور تباہ کن جذبات کا خاتمہ۔ لہٰذا یہ ہے ایک دیرپا حل، اور اس کے لئے ہمیں دھرم کی مشق چاہئے۔

امیر اور غریب کے درمیان فرق

ایک اور بڑا مسٔلہ امیر اور غریب کے درمیان فرق کا ہے۔ یہ بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔ ایک دفعہ جب میں واشنگٹن میں ایک بڑے جلسہ میں تھا، تو میں نے کہا،"یہ دنیا کے امیر ترین ملک کا دارالحکومت ہے مگر واشنگٹن کے گردونواح میں بہت سارے غریب لوگ اور غریب خاندان بستے ہیں۔ یہ نہ صرف اخلاقی لحاظ سے غلط ہے بلکہ کئی مسائل کا منبہ بھی ہے۔" جیسے ۱۱ ستمبر کے واقعات – ان کا تعلق بھی اس بڑی تفریق سے ہے۔ عرب ممالک میں غربت ہے اور مغرب والے ان کے وسائل کو حتی ا لمقدور لوٹتے ہیں، تو وہاں کے عوام بعض اوقات یوں سوچتے ہیں کہ یہ ناانصافی ہے۔

یہ نہائت پیچیدہ مسائل ہیں۔ میرے خیال میں بدھ متی لوگوں کو بھی کچھ کرنا چاہئے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم اپنے ہمسایہ لوگوں کا خیال رکھیں؛ ان کے من کو کچھ آس دلائیں، کچھ خود اعتمادی۔

میں اکثر اپنے ہندوستانی دوستوں سے کہتا ہوں، وہ جو "نیچی ذات" والے، ڈاکٹر امبیدکر کے پیروکار – ان میں سے کئی ایک بدھ متی ہیں – میں انہیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ یہ امیر اور غریب کا فرق مٹنا لازم ہے ۔ نعرے مارنے اور احساس محرومی کو اجاگر کرنے کی بجاۓ غریب عوام کو اپنے اندر خوداعتمادی پیدا کرنی چاہئے کہ وہ سب ایک جیسے ہیں۔ میں انہیں کہتا ہوں،"برہما نے یہ چار ذاتیں اپنے چار سروں سے پیدا کیں ۔ مگر برہما تو ایک ہی ہے نا؛ ہے نا؟ لہٰذا ہم سب برابر ہیں۔

میں ہمیشہ معاشرے کے غریب عوام کی تعلیم پر زور دیتا ہوں۔ امیر لوگوں کو، دولت مندوں کو چاہئے کہ وہ انہیں سہولتیں مہیا کریں – تعلیم، تربیت، اور آلات – تا کہ وہ اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکیں۔ میں نے افریقہ میں بھی چند موقعوں پر اس بات کا ذکر کیا ہے۔ جنوبی خطے کے لئے یہ کام بہت مشکل ہے۔ ذخائر کا ذخیرہ عموماً شمالی خطہ کے پاس ہوتا ہے۔ جنوب والوں کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوتیں۔ حالانکہ یہ تمام لوگ انسانیت کے ناطے سے بھائی بہن ہیں۔

انسانی حقوق

ایک بات اور جس کا میں آپ سے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہم ضمنی سطح کی چیزوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں – قومیت، مذہب، ذات – اس قسم کی چیزیں۔ ہم ذیلی سطح پر کچھ بہتری پیدا کرنے کے چکر میں بنیادی انسانی سطح کو بھول رہے ہیں۔ یہ ایک مسٔلہ ہے۔ میرے خیال میں، بد قسمتی سے، جیسا ۲۰۰۹ کے کوپن ہیگن اجلاس میں ہوا [۲۰۰۹ کی ماحولیاتی تغیر پر اقوام متحدہ کی کانفرنس]۔ بڑی قو میں عالمی بہبود کی بجاۓ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں؛ تو اس وجہ سے ہمیں کئی غیر ضروری مسائل کا سامنا ہے۔

ہمیں ہر ممکن طریقہ سے لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھانی چاہئے کہ ہم سب ایک ہیں۔ پھر اس کے بعد ہمارا اولین فریضہ بنیادی انسانی حقوق کا حصول ہے۔ مختلف قوموں اور مذہبی جماعتوں کے معاملات و مفادات ذیلی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے چین کو لے لیجئے – میں ہمیشہ لوگوں سے کہتا ہوں، کہ "چین، خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، پھر بھی اس دنیا کا حصہ ہے۔ لہٰذا مستقبل میں چین کو دنیاوی رحجانات کے ساتھ چلنا ہو گا۔" اس طرح سے۔

ہمیں دنیا کے سات ارب انسانوں کو ایک اکائی تصور کرنا چاہئے، ایک بہت بڑا انسانی گھرانہ۔ میرے خیال میں ہمیں اس چیز کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن یہ کام پرچار سے نہیں، بلکہ تعلیم اور عام سوجھ بوجھ کے استعمال سے ہو گا۔ یہ بات نہائت اہم ہے۔

جنگ

جب ہم ایک خوش باش، پر امن، اور بیش تر درد مند انسانیت کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں ان دہشت گردوں کے اصلی توڑ اور فوجی طاقت کے استعمال پر بھی غور کرنا چاہئے۔ آج کے حالات میں ہر شے کا ایک دوسرے پر باہمی انحصار ہے۔ یورپ کی معیشت اور یورپ کے مستقبل کا دارومدار ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر ہے۔ امریکا بھی ایسا ہی ہے۔ اور چین کا مستقبل بھی باقی ماندہ ایشیا اور دنیا پر منحصر ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ پس اس حقیقت کی بنا پر ہم کوئی ایسی حد بندی نہیں کر سکتے جس کے تحت ہم یہ کہیں،"یہ دشمن ہے۔ یہ دوست ہے۔" دشمنوں اور دوستوں کے تعین کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔ لہٰذا آج کی حقیقت کے مطابق ہمیں ایک بڑے "ہم" کا احساس پیدا کرنا ہے، بجاۓ "ہم" اور "وہ" کے۔

اگلے وقتوں میں، ایک ہزار سال قبل، اس "ہم" اور "وہ" کی ٹھوس بنیاد موجود تھی۔ اور اس بنیاد پر، اس حقیقت کے مطابق، ہمارے دشمن کی تباہی – "وہ" – ہماری جیت تھی۔ لہٰذا جنگ کا تصور انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر اب، عصر حاضر میں، دنیا کی ایک با لکل نئی حقیقت ہے جس کے مطابق ہمیں دنیا کے ہر خطے کو "ہم" کا حصہ سمجھنا چاہئے۔ ہمیں ان کی بہبود کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہم سب کو مل جل کر، باہمی انحصار کرتے ہوۓ رہنا ہے، اس میں جنگ و جدل کی کوئی گنجائش نہیں۔