ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

بدھ مت کی حقیقت پسند سوچ کے متعلق دلائی لامہ کے افکار:
دھرمشالہ کے مغرب سے تعلق رکھنے والے سابقہ مکینوں سے خطابات

تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ
دھرمشالہ، ہندوستان، ۳-۲ نومبر، ۲۰۱۰
نقل نویسی از شان جونز، و مائیکل رچرڈز
ادارت و ترمیم از لیوک رابرٹس، و الیگزینڈر برزن
معہ توضیحات بنفشی رنگ میں قوسین کے درمیان

حصہ اول: موت اور موت سے ہمکناری کے متعلق پند و نصیحت

ایک بامقصد زندگی گزارنا

سب سے پہلے تو میں آپ سب کو خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں۔ میرے خیال میں آپ میں سے بیشتر بہت پرانے دوست ہیں، ہمدم دیرینہ ہیں، اور دائمی دوست ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔

تین چار دہائیاں گذریں جب آپ یہاں رہتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ہمارے اجسام تبدیل ہو چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ روحانیت اور مراقبہ بھی اس عمل کو نہیں روک سکتے۔ ہم ناپائدار ہیں۔ ہمیشہ بدلتے ہوۓ، ہر دم تغیّر پذیر، اور یہ قدرتی عمل کا حصہ ہے۔ وقت ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے؛ کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ تو اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سے پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں یا نہیں۔ کیا ہم اپنا وقت دوسروں کے لئیے مسائل پیدا کرنے میں صرف کرتے ہیں جو کہ آخر کار ہمیں خود اندرونی طور پر عدم مسرت سے ہمکنار کرتا ہے؟ میری راۓ میں یہ وقت کا غلط مصرف ہے۔

وقت کے اصراف کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم روزانہ اپنے من میں ایک معقول محرک تشکیل دیں۔ اور پھر سارا دن اُس تحریک کے مطابق گذاریں۔ اور اس کا مطلب ہے کہ اگر ممکن ہو تو دوسروں کی خدمت کریں؛ اور اگر یوں نہیں تو کم از کم کسی کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ اس معاملہ میں مختلف پیشوں میں کوئی تفریق نہیں۔ آپ کا پیشہ کچھ بھی ہو آپ ایک مثبت اندازفکر اپنا سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنا وقت دنوں، ہفتوں، مہینوں، سالوں میں اسی طرح خرچ کریں – عشروں تک نہ کہ محض پانچ سال کے لئیے – تو ہماری زندگیاں بامقصد بن سکتی ہیں۔ اس طرح ہم، اور کچھ نہیں تو کم از کم، اپنی خوشی میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ جلد یا بدیر ہمارا انجام قریب آ جاۓ گا اور اس روز ہمیں کوئی پچھتاوا نہیں ہو گا؛ ہمیں خبر ہو گی کہ ہم نے اپنا وقت تعمیری انداز میں صرف کیا۔

میرے خیال میں آپ میں سے بیشتر اپنا وقت معقول، مثبت انداز میں صرف کرتے ہیں۔

موت کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویّہ رکھنا

ہماری اس زندگی کو بقا نہیں۔ مگر یوں سوچنا:"موت ایک دشمن ہے" قطعاً غلط ہے۔ موت ہماری زندگیوں کا حصہ ہے۔ حقیقتاّ، بدھ متی نظریہ کے مطابق ہمارا یہ شریر کسی لحاظ سے ہمارا دشمن ہے۔ مُکش حاصل کرنے کی سچی خواہش پیدا کرنے کے لئیے ہمیں اس قسم کی سوچ رکھنا لازم ہے: کہ اس جنم، اس جسم کی فطرت دکھ پر مبنی ہے اور ہم اسے (دکھ کو) ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ایسی سوچ بیشمار مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ موت ایک دشمن ہے تو پھر یہ شریر بھی ہمارا دشمن ہے۔ یہ حد سے تجاوز ہے۔

یقیناّ موت سے مراد ہے ختم وجود، کم از کم جسم کا۔ ہمیں ان تمام چیزوں سے، جن سے ہم نے اس جنم میں تعلق استوار کیا، بچھڑنا ہو گا۔ جانور بھی موت کو پسند نہیں کرتے، تو قدرتی بات ہے کہ انسانوں کے لئیے بھی معاملہ ایسا ہی ہے۔ مگر چونکہ ہم قدرت کا حصہ ہیں لہٰذا موت ہماری زندگی کا جزو لازم ہے۔ منطقی لحاظ سے زندگی کا ایک اول اور ایک آخر ہے۔ پہلے پیدائش ہے پھر موت۔ یہ کوئی عجب بات نہیں۔ مگر میری راۓ میں موت کے بارے میں ہماری غیر حقیقت پسندانہ سوچ اور رویہ ہمارے لئیے ضرورت سے زیادہ فکر اور خوف کا باعث ہوتے ہیں۔

بطور بدھ مت کے پیروکار کے یہ امر نہائت اہم ہے کہ ہم روزانہ اپنے آپ کو موت اور اپنی ناپائداری کی یاد دہانی کرائیں۔ اس ناپائیداری کے دو پہلو ہیں: ایک ٹھوس پہلو [کہ تمام پیدا کردہ مظاہر کی تنسیخ]، اور ایک لطیف پہلو [کہ تمام مظاہر جو دم بدم وجوہات اور حالات سے متاثر ہو کر رو بہ تغیّر ہیں]۔ دراصل ناپائداری والا لطیف پہلو ہی بدھ مت کی اصل تعلیم ہے، لیکن عام طور پر ناپائداری کا ٹھوس پہلو بھی بدھ مت کی راہ پر چلنے کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ یہ ہمارے بعض تباہ کن جذبات کو کم کرتا ہے جن کی بنیاد اس احساس پر ہے کہ ہم لازوال ہیں۔

اُن بڑے بڑے بادشاہوں اور راجوں کو دیکھو – جو محلوں اور قلعوں کے مالک ہیں – یہ شہنشاہ خود کو لافانی سمجھتے تھے۔ لیکن آج جب ہم ان عمارتوں کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک احمقانہ سی بات لگتی ہے۔ عظیم دیوار چین کو دیکھو۔ جن لوگوں نے اسے تعمیر کیا ان کے لئیے یہ بہت آزار کا باعث ہوئی۔ یہ کارنامے اس احساس کے ساتھ سرانجام دئیے گئے تھے:"میری طاقت اور میری سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی" اور "میرا شہنشاہ لازوال ہے"۔ برلن کی دیوار کی نسبت – مشرقی جرمنی کے کسی اشتراکی رہنما نے یہ کہا تھا کہ یہ (دیوار) ہزار برس تک قائم رہے گی۔ یہ سب احساسات اپنے آپ کو، اپنی جماعت اور اپنے اعتقادات کو مظبوطی سے پکڑے رکھنے اور یہ سوچنے سے پیدا ہوتے ہیں کہ انہیں دوام حاصل ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ ہمیں اپنی تحریک کی خاطر مثبت خواہشات کی ضرورت ہوتی ہے – بغیر خواہش کے کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ مگر خواہش اور لاعلمی کا جوڑ خطرناک شے ہے۔ مثال کے طور پر دوام کا احساس یہ سوچ پیدا کرتا ہے کہ "میں ہمیشہ قائم اور دائم رہوں گا"۔ یہ (سوچ) غیر حقیقت پسند ہے۔ یہ جہالت ہے۔ اور جب آپ اسے خواہش کے ساتھ جوڑ دیں – اور سے اور کی تمنا – تو یہ مزید مسائل اور مشکلات کا باعث ہوتا ہے۔ مگر خواہش معہ حکمت نہائت اچھی بات ہے اور ہمیں اسی کی ضرورت ہے۔

تنتری مشق میں بھی دیکھتے ہیں، کھوپڑیوں اور ایسی اشیا کے ساتھ، اور بعض ہم انہیں [ناپائداری کی نشانیاں] جیسے منڈلوں میں قبرستانوں [مردہ خانوں] کا تصور کرتےہیں۔ یہ سب تشبیہات ہمیں ہماری ناپائداری کا احساس دلانے کے لئیے ہیں۔ ایک روز میری گاڑی ایک قبرستان کے اندر سے گزری اور کچھ عرصہ بعد جب میں نے لوگوں سے خطاب کیا تو یہ بات میرے من میں تازہ تھی:"میں قبرستان میں سے گزر رہا تھا، جو کہ ہماری آخری منزل ہے۔ ہمیں وہاں ہر حال جانا ہے"۔ حضرت عیسیٰ نے صلیب پر چڑھ کر اپنے پیروکاروں کو دکھا دیا کہ موت ہر صورت آنی ہے، اور محمد ﷺ نے بھی یہی بات اپنی وفات سے ثابت کر دکھائی۔

پس ہمیں موت کے آنے کے بارے میں، جلد یا بدیر، حقیقت پسندی سے کام لینا چاہئیے۔ اگر آپ شروع سے ہی موت کے بارے میں یہ رویّہ رکھیں کہ موت ہر حال آنی ہے تو پھر جب واقعتاّ موت آۓ گی تو آپ اتنے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ پس ایک بدھ مت کے پیروکار ہونے کے ناطے، یہ نہائت اہم بات ہے، کہ ہم خود کو اس کی یاد دہانی کراتے رہیں۔

بوقت مرگ کیا کرنا چاہئے

جب ہمارا آخری وقت آ جاۓ تو ہمیں اسے قبول کر لینا چاہئے اور اسے کوئی عجب شے نہیں ماننا چاہئے۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ اس وقت کسی ایسے شخص کو جو کسی الوہی مذہب کا پیروکار ہے یہ سوچنا چاہئے:"یہ زندگی خدا کی تخلیق شدہ تھی، پس اس کا اختتام بھی خدا کے منصوبہ کے مطابق ہے۔ اگرچہ مجھے موت پسند تو نہیں، مگر چونکہ خدا نے اسے بنایا تو اس میں ضرور کوئی مصلحت ہو گی"۔ جو لوگ ایک خالق حقیقی کو مانتے ہیں انہیں اس طرح سوچنا چاہئے۔

جو لوگ ہندی روایات کو مانتے ہیں اور پنر جنم میں یقین رکھتے ہیں انہیں اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہئیے اور ایک خوشگوار اگلی زندگی کے لئے مناسب اسباب پیدا کرنے چاہئیں، بجاۓ ہر وقت پریشان رہنے کے۔ مثلاّ بوقت مرگ تمہیں اپنی تمام خوبیاں نذر کر دینی چاہئیں تا کہ تمہاری اگلی زندگی خوشگوار ہو۔ اور پھر [خواہ ہمارے عقائد کچھ ہی ہوں] نزع کے عالم میں من شانت ہو۔ غصہ اور حد سے زیادہ خوف – یہ اچھا نہیں۔

اگر ممکن ہو تو بدھ مت کے پیروکاروں کو اپنا وقت اپنی آئندہ زندگیوں پر توجہ مرکوز کرنے پر صرف کرنا چاہئے۔ بودھی چت کی مشقیں اور بعض تنتری مشقیں اس مقصد کے لئے کار آمد ہیں۔ تنتری تعلیمات کے مطابق بوقت مرگ عناصر آٹھ مرحلوں میں تحلیل ہوتے ہیں – پہلے شریر کے کثیف عناصر تحلیل ہوتے ہیں، پھر لطیف۔ تنتری مشق کرنے والوں کو اسے اپنے روزمرہ مراقبے کا حصہ بنا لینا چاہئے، میں موت پر مراقبہ کرتا ہوں – مختلف منڈل مشقوں کے ذریعہ – کم از کم پانچ بار، تو میں ابھی تک زندہ ہوں! آج صبح میں ابھی تک تین بار موت کا مزہ چکھ چکا ہوں۔

لہٰذا اس طرح ان طریقوں سے مستقبل میں ایک اچھی زندگی کی ضمانت تشکیل پا سکتی ہے۔ اور جو لوگ اس (پنر جنم) میں ایمان نہیں رکھتے انہیں، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، زندگی کی ناپائداری کے متعلق حقیقت پسند ہونا چاہئے۔

جو بستر مرگ پر ہیں ان کی کیسے مدد کی جاۓ

جو لوگ قریب المرگ ہیں ان کے حق میں یہ اچھا ہو گا اگر ان کے گرد جمع لوگوں کو اس بات کا علم ہو کہ (ان کی مدد کیسے کی جاۓ)۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ایسے قریب المرگ لوگ جو ایک خالق حقیقی میں ایمان رکھتے ہیں انہیں آپ خدا کے بارے میں یاد دہانی کرا سکتے ہیں۔ خدا کے وجود پر ایک سیدھا سادہ ایمان بدھ مت کے نقطہ نظر سے بھی کسی حد تک سود مند ہے۔ مگر وہ لوگ جن کا کوئی دین ایمان نہیں، جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، انہیں حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔ اور یہ بات اہم ہے کہ ان کے من کو شانت رکھا جاۓ۔

ایک ایسا شخص جو بستر مرگ پر ہو اس کے گرد جمع آہ و فغاں کرنے والے عزیزواقارب اس کے من کو شانت رکھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں – یہ ہے حد سے زیادہ لگاؤ۔ اور اگر (مرنے والے کو) اپنے رشتہ داروں سے حد سے زیادہ لگاؤ ہو تو اس سے غصہ اور موت کو دشمن جاننے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ پس یہ لازم ہے کہ ان کے من کو شانت رکھا جاۓ۔ یہ اہم بات ہے۔

کئی بار [مجھ سے بدھ متی محتاج خانوں میں آنے کی درخواست کی گئی ہے]۔ مثلاّ جیسے آسٹریلیا میں ایک راہباؤں کی قیام گاہ ہے جہاں راہبائں صرف ان لوگوں کی خدمت کے لئے وقف ہیں جو یا تو قریب المرگ ہیں یا جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ یہ ہمارے دردمندی کے جذبہ کو روزمرہ انداز میں کام میں لانے کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے۔