ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت آج کی دنیا میں > مذہب سے ماورا اخلاقیات

مذہب سے ماورا اخلاقیات

تقدس مآب چودھویں دلائی لاما
فریبورگ، سوِٹزر لینڈ، اپریل ۲۰۱۳
خفیف ترمیم از الیگزانڈر برزن

درجہ دوئم کے تفرقات کو اہمیت دینے کے نقصانات

 

پیارے بہنو اور بھائیو، مجھے آپ سے بات کرنے کا جو موقع ملا ہے میں اس پر بیحد خوش ہوں۔ اولاً، جب میں لیکچر دیتا ہوں تو میں اس امر کی وضاحت کرتا ہوں کہ آپ سب اپنے آپ کو انسان سمجھیں۔ میرا مطلب یہ ہے مثلاً، یہ مت سوچیں کہ "میں سوِستانی ہوں"، "میں اطالوی ہوں"، یا "میں فرانسیسی ہوں"۔ میرے مترجم کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ فرانسیسی ہے! مجھے بھی یہ نہیں سوچنا کہ میں تبتی ہوں۔ مزید برآں، مجھے یہ بھی نہیں سوچنا کہ میں بدھ مت کا پیروکار ہوں، کیونکہ عموماً میرے لیکچر میں ایک پر مسرت، کم پریشانی والی زندگی بطور ایک انسان کے، گذارنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔

 

سات ارب انسانوں میں سے ہر کوئی ایک پر مسرت زندگی کا خواہاں ہے، اور ہر ایک کو اس ہدف کو پانے کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر ہم درجہ دوئم کی تفریق مثلاً "میں تبتی ہوں" پر زور دیں، تو پھر میں تبت کے بارے میں زیادہ فکرمند نظر آؤں گا۔ یا یہ کہنا کہ "میں بدھ متی ہوں" دوسرے بدھ متیوں سے قریبی تعلق کو ظاہر کرتا ہے، لیکن لا محالہ دوسرے مذاہب سے کچھ دوری کا احساس پیدا کرتا ہے۔

 

ایسا انداز فکر درحقیقت مسائل کا منبع ہے، جس میں وہ بیشمار مسائل اور بیحد خونریزی شامل ہیں جس سے انسانوں کا ماضی میں واسطہ پڑا ہے اور اکیسویں صدی میں بھی اس سے دوچار ہیں۔ اگر آپ دوسرے لوگوں کو بھی اپنی طرح انسان سمجھیں تو پھر خونریزی کبھی واقعہ نہیں ہوتی۔ ایک دوسرے کو مارنے کا کوئی جواز نہیں؛ لیکن جب ہم انسانیت کی یکجہتی کو بھلا دیتے ہیں اور دوسرے درجے کے تفرقات مثلاً "میری قوم" اور "انکی قوم"، "میرا مذہب" اور "انکا مذہب"، کو اہمیت دیتے ہیں، اس طرح ہم تفریق پیدا کرتے ہیں اور اپنی قوم اور اپنے مذہب کے لوگوں کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ اس طرح ہم دوسروں کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہیں اور حتیٰ کہ غیروں کی زندگی کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ہمارے آجکل کے اکثر مسائل کی یہی وجہ ہے، کہ ہم دوسرے درجہ کے تفرقات کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

 

اب اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنے بارے میں منطقی انداز میں انسان ہونے کے ناطے سے سوچیں، بغیر حد بندی یا رکاوٹیں لگانے کے۔ مثال کے طور پر، جب میں لیکچر دیتا ہوں، اگر میں اپنے آپ کو تبتی بدھ متی تصور کروں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اگر میں اپنے کو "تقدس مآب دلائی لاما" سمجھوں ، تو اس سے میرے اور حاضرین کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو گا، جو کہ احمقانہ بات ہے۔ اگر میں خلوصِ دل سے آپ کا خیرخواہ ہوں، تو پھر مجھے آپ سے انسانی بھائی بہنوں کی طرح بات کرنی چاہئے، ویسے ہی انسان جیسا کہ میں ہوں۔ درحقیقت ہم سب ایک ہیں: من، جذبات اور جسم کے لحاظ سے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر کوئی دکھ سے مبرّا، پر مسرت زندگی کا متمنی ہے، اور میں بھی ویسا ہی ہوں، تو ہم اس سطح پر بات کریں گے۔

 

سیکولر اخلاقیات

 

سیکولر اخلاقیات کا تعلق طبعی عناصر سے ہے، مگر مذہب صرف انسانوں کو ودیعت ہے۔ انسانوں میں مذہب نے جنم لیا، مگر یہ یقیناً کوئی طبعی امر نہیں۔ سیکولر اخلاقیات کا دائرہ سات ارب انسانوں پر حاوی ہے۔ جیسا میں نے کل ذکر کیا تھا کہ سات ارب میں سے، ایک ارب نے باقاعدہ طور پر اپنے آپ کو لا مذہب قرار دیا ہے، اور اگر ہم باقی ماندہ چھ ارب کو مذہب کے پیروکار مانیں بھی، تو کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بدعنوان ہیں۔ دنیا میں سکینڈل ہیں، استحصال، بد عنوانی، دھوکہ دہی، دروغ گوئی اور دھونس دہی ہے۔ میرے خیال میں اس کی وجہ اخلاقی اصولوں پر سچے ایمان کی کمی ہے۔ حتیٰ کہ مذہب کو بھی غلط مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ نہ معلوم کل میں نے اس بات کا ذکر کیا تھا یا نہیں، بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مذہب ہمیں منافقت سکھاتا ہے۔ ہم "محبت" اور "درد مندی" جیسی عمدہ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں، مگر حقیقتاً ویسا عمل نہیں کرتے، دنیا میں بہت ناانصافی ہے۔

 

مذہب ان نفیس چیزوں کے بارے میں رسماً بات کرتا ہے، مگر اس طرح نہیں جیسے اس کا آپ کے دل پر اثر ہو۔ اس کی وجہ لوگوں میں اخلاقی اصولوں کی کمی، یا اخلاقی اصولوں پر ایمان کی کمی ہے۔ قطع نظر اس امر کے کہ آپ مذہب پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں، ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے کہ لوگوں کو کس طرح اخلاقی اصولوں کی تعلیم دی جاۓ۔ اور پھر اگر آپ اس میں مذہب کو شامل کر لیں تو یہ ایک سچا خالص مذہب بن جاتا ہے۔ تمام مذاہب، جیسا میں نے کل ذکر کیا تھا، ان اصولوں کی بات کرتے ہیں۔

 

اپنے مسلک سے لاتعلقی پیدا کرنا

 

گذشتہ صدی میں، جب لوگ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، تو دونوں اطراف سے لوگ خدا سے دعائں مانگ رہے تھے۔ مشکل ہے! آج بھی جب آپ مذہب کے نام پر فساد دیکھتے ہیں، میرے خیال میں دونوں مد مقابل خدا سے دعا مانگتے ہیں۔ میں بعض اوقات تفریحاً کہتا ہوں کہ لگتا ہے کہ خدا الجھن کا شکار ہے! وہ کیسے فیصلہ کرے، جب دونوں حریف اس سے دعا گو ہوں، اس سے کسی قسم کی استمالت کے طلبگار ہوں؟ یہ مشکل کام ہے۔ ایک بار ارجنٹینا میں سائنسدانوں اور مذہبی لیڈروں کے ساتھ مباحثے کے دوران، اگرچہ یہ کوئی بین المذہبی مجلس نہیں تھی، میں ایک ماہرِطبیعات میچورانا سے ملا۔ وہ مرحوم واریلا کا استاد تھا اور میں اس سے پہلے بھی اسے سوِٹزر لینڈ میں مل چکا تھا اور پھر ارجنٹینا میں، مگر تب سے اب تک نہیں۔ اس نے اپنی بات چیت میں کہا کہ اسے بطور ماہرِطبیعات کے اپنے سائنس کے شعبہ سے تعلق نہیں جوڑنا چاہئے۔ یہ ایک نہائت عمدہ اور زیرک بات تھی جو میں نے سیکھی۔

 

میں بدھ متی ہوں، مگر مجھے بدھ مت سے تعلق نہیں جوڑنا چاہئے کیونکہ تعلق ایک منفی جذبہ ہے۔ جب آپ تعلق جوڑ لیتے ہیں تو آپ کی سوچ میں جانبداری آ جاتی ہے، آپ چیزوں کو وسعتِ نظر سے نہیں دیکھ پاتے۔ اسی لئے جو لوگ مذہب کے نام پر لڑ رہے ہوتے ہیں، بیشتر اوقات میرے نزدیک اصل وجہ مذہب نہیں ہوتا، بلکہ معاشی یا سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔ مگر بعض اوقات، جیسے بنیاد پرستوں کے معاملہ میں، وہ اپنے مذہب سے اسقدر تعلق جوڑ لیتے ہیں کہ انہیں دوسرے مذاہب کی قدروقیمت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔

 

میچورانا کی سوچ میرے لئے بڑی کام کی بات تھی۔ بہت سے لوگوں سے ملنے کے نتیجہ میں، میں کئی ایک دوسرے مذاہب کا بھی مداح ہوں اور بے شک میں امید کرتا ہوں کہ میں کوئی بنیاد پرست یا جنونی نہیں ہوں۔ کبھی کبھار میں اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ میں جنوبی فرانس میں لورڈز کو گیا۔ میں ایک یاتری کی حیثیت سے گیا اور، حضرت عیسیٰ کے ایک مجسمہ کے سامنے، میں نے کچھ پانی پیا۔ میں نے مجسمے کے سامنے کھڑے ہو کر سوچا، کہ لاکھوں لوگ گذشتہ صدیوں کے دوران اس جگہ کو دیکھنے آۓ، تشفّی کی خاطر، ان میں بعض بیمار بھی تھے، جو اپنے عقیدہ اور عنائت کی بدولت صحت یاب ہوۓ، ایسا میں نے سنا۔ تو میں نے ان باتوں پر غور کیا اور اس سے میرے دل میں عیسائیت کے لئے ایک خاص قسم کا جذبۂ قدر پیدا ہوا، اور قریب قریب، آنسو آ گئے۔ اور ایک دوسرے موقع پر، فاطمہ، پرتگال میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ عیسائیوں اور کیتھولک لوگوں سے گھرے ہوۓ، ہم نے مریم کے ایک چھوٹے سے مجسمہ کے سامنے مختصر مدت کے لئے مراقبہ کیا۔ جب میں اور باقی سب لوگ وہاں سے چلنے والے تھے، تو میں نے مڑ کر دیکھا اور مریم کے مجسمہ کو اپنی جانب مسکراتے پایا۔ میں نے بار بار دیکھا، اور ہاں، وہ مسکرا رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ مریم کو میرے کسی ایک عقیدہ سے عدم لگاؤ کا علم تھا! اگر میں کچھ دیر رک کر مریم سے فلسفہ پر بات کرتا، تو ممکن ہے کہ کوئی مزید گمبھیر بات سامنے آتی!

 

بہر حال، تعلق خواہ وہ اپنے مذہب سے ہی کیوں نہ ہو اچھی بات نہیں۔ بعض اوقات مذہب اختلاف اور تفریق پیدا کرتا ہے جو کہ نہائت سنجیدہ معاملہ ہے۔ مذہب کا مقصد درد مندی اور رواداری کو فروغ دینا ہے، جو غصہ اور نفرت کو دور کرتے ہیں۔ تو اگر مذہب دوسرے مذاہب سے نفرت کو فروغ دے، تو یہ ایک ایسی دوا کی مانند ہے جس کا کام مرض کا علاج کرنا ہے، مگر یہ مرض کو پیدا کر رہی ہے۔ تو کیا کیا جاۓ؟ یہ تمام افسوسناک اثرات اخلاقی اصولوں میں ایمان کی کمی کے باعث ہیں، تو میرا خیال ہے کہ ہمیں مختلف عبادات اور عناصر کی ضرورت ہے تا کہ ہم سیکولر اخلاقیات کو فروغ دینے کی خاطر دل سے کوشش کریں۔

 

سیکولر اندازِ فکر اور اغیار کا احترام

 

اب کچھ سیکولر اخلاقیات کی بات کریں۔ میری سابقہ بھارتی نائب وزیر اعظم، ادوانی، سے اچھی جان پہچان تھی۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کی ایک ٹیلیویژن ٹیم نے ان کا انٹرویو لیا اور پوچھا کہ بھارت میں جمہوریت کی کامیابی کی وجہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں یہ ہزاروں برس پرانی ریت ہے کہ ہمیشہ غیروں کی عزت کرو، باوجودیکہ تمہارا ان سے اختلاف یا جھگڑا ہو۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ قریب تین ہزار سال قبل، بھارت میں، چرواک، یا "اخلاقی اصول سے اغماض"کا فلسفہ وجود میں آیا۔ دیگر بھارتی فلسفیانہ نظریات والوں نے انہیں ہدفِ تنقید بنایا اور انہیں رد کیا، مگر چرواک فلسفہ کے حامل لوگوں کو پھر بھی "رشی" پکارا جاتا، جس کا مطلب ہے دانا۔ یہ اس بات کی جانب غمازی ہے کہ اختلاف اور گرما گرم بحث کے باوجو، احترام پھر بھی قائم تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں غیر معتقد لوگوں کی بھی عزت کرنی چاہئے۔

 

کل میں نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ میرے بعض احباب، کچھ عیسائی اور کچھ مسلمان، لفظ "سیکولرزم" سے قدرے کتراتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانسیسی انقلاب یا بولشوِک انقلاب کے دوران، مذہب سے مخالفت کا رحجان رہا ہے۔ مگر میں مذہب اور مذہبی اداروں کے درمیان جو واضح فرق ہے اس کو بیان کرنا چاہتا ہوں، جو کہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ کوئی با شعور انسان کیسے مذہب کی مخالفت کر سکتا ہے؟ مذہب سے مراد ہے محبت اور دردمندی، اور کوئی شخص بھی ان کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ البتہ مذہبی ادارے ایک دوسرا معاملہ ہے۔ فرانسیسی اور بولشوِک انقلابات کے دوران، دونوں صورتوں میں اُمرا نے واقعتاً عوام سے بدسلوکی روا رکھی۔ مزید برآں، اُمرا کو مذہبی اداروں کی پشت پناہی حاصل تھی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ اُمرا کے خلاف محاذ آرائی میں مذہبی اداروں سے مخالفت بھی شامل ہو گئی۔ لہٰذا، مذہب یا خدا سے مخالفت کا رحجان موجود تھا۔

 

آج بھی، اگر مذہبی اداروں میں بشمول تبتی بدھ مت لوگوں کے کسی قسم کا استحصال نظر آۓ، تو ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ میرا اپنا طریقہ بھی یہ ہے کہ آج سے دو برس قبل میں نے چار سو سالہ پرانی، دلائی لاما کو تبتیوں کا دونوں ہی یعنی دنیوی اور روحانی پیشوا بنانے کی رسم ختم کر دی۔ میں نے یہ کام اپنی مرضی سے، بخوشی اور فخر سے کیا۔ ایسی چیزیں دراصل مذہب، یا دھرم، کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ پس ہمیں مذہبی اداروں اور سچی مذہبی رسومات اور پیغامات کے درمیان امتیاز کرنا چاہئے۔

 

سیکولرزم کی بھارتی تعریف کے مطابق، مذہب کی مخالفت کا کوئی تصور نہیں، بلکہ تمام مذاہب کا احترام لازم ہے، اور تمام غیر معتقد لوگوں کی عزت بھی۔ میرے خیال میں یہ بڑی عقلمندی ہے۔ ہم اسے کیسے فروغ دیں؟ بذریعہ تبلیغ؟ نہیں۔ تو دعا کے ذریعہ؟ نہیں۔ مگر تعلیم کے راستے، ہاں۔ ہم جسمانی صفائی کی تعلیم تو لیتے ہیں، تو پھر جذبات کی اور من کی صفائی کیوں نہ سیکھیں، ایک صحتمند من کا خیال رکھنے کی بنیادی باتیں؟ خدا یا آئندہ زندگی، بدھا یا نروان، کسی پر بات کرنے کی ضرورت نہیں، محض ایک من کا مالک خوش باش انسان۔ ایک خوش انسان ایک خوش باش گھرانہ بناتا ہے، جو ایک خوش باش جماعت تشکیل دیتا ہے۔ تو میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں جذباتی صفائی پر درس کی ضرورت ہے۔

 

جذباتی صفائی

 

جذباتی صفائی کیا شے ہے؟ اس سے مراد ہے ان عناصر سے نبردآزمائی جو ہمارے شانت من کو تباہ کرتے ہیں، یا ہمارا سکون برباد کرتے ہیں۔ یہ عناصر کسی دماغی علّت کی مانند ہیں، کیونکہ یہ منفی جذبات نہ صرف ہمارے شانت، صحتمند من کو تباہ کرتے ہیں، بلکہ یہ ہماری حقیقت سے آشنا ہونے کی صلاحیت کو بھی برباد کرتے ہیں۔ اس سے بہت نقصان ہوتا ہے کیونکہ جب آپ غصے سے بھرے ہوں، تو آپ حقیقت کو نہیں دیکھ پاتے اور آپ کا من طرفداری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور مزید یہ کہ تعلق کی وجہ سے آپ حقیقت کا صحیح روپ نہیں دیکھ پاتے۔ یہ من کی علّت ہے۔ شعور ہمارے من کی فطرت ہے اور ہر وہ شے جو اس شعور کی قوت میں کمی کا باعث ہو وہ منفی ہے۔

 

پس جذباتی صفائی سے مراد اس قسم کے جذبات کو کم کرنا ہے اور حکمت اور سکون کی خاطر من کی صلاحیت کو قائم رکھنا ہے، جو کہ ایک صحتمند من ہے۔ ایسا کرنے کی خاطر، پہلے ہمیں اس کام میں دلچسپی پیدا کرنی ہے۔ بغیر شوق کے، آپ لوگوں کو یہ کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ کوئی قانون قاعدہ لوگوں کو اس کام پر راضی نہیں کر سکتا۔ اسے اپنے انفرادی جذبے سے جنم لینا ہے، جو تب پیدا ہوتا ہے جب آپ کسی کام کی قدروقیمت کو پہچانیں۔ اور یہ وہ اقدار ہیں جن کے بارے میں ہم سکھا سکتے ہیں۔

 

من اور جذبات پر سائنس کی دریافت

 

اب ہم سائنس کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلے سائنس مادے پر توجہ دیتی تھی، جس میں آپ ماپ تول کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں بیسویں صدی کے آخر میں اور اب، اکیسویں صدی کے اوائل میں، زیادہ سائنسدان من اور اس کے جذبات میں دلچسپی لے رہے ہیں، کیونکہ جہاں تک صحت کا تعلق ہے من اور جذبات میں گہرا رشتہ ہے۔ بعض سائنسدان کہتے ہیں "صحتمند من، صحتمند جسم۔" طبی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقل خوف، غصہ اور نفرت در حقیقت جسم کی قوتِ دفاع کو کمزور کر دیتے ہیں، جبکہ ایک دردمند من جسمانی صحت کو نہ صرف برقرار رکھتا ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے ہم خوش باش لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں، کہ ان کے بدن پر (اس رویہ کے) بیحد مثبت اثرات ہوتے ہیں۔

 

منفی حالات میں مثبت پہلو کی پہچان

 

میری اپنی زندگی میں، سولہ برس کی عمر میں میں نے بہت ساری ذمہ داری اٹھائی، اور حالات بہت زبوں ہو گئے۔ پھر ۲۴ برس کی عمر میں، مجھ سے میرا وطن چھن گیا اور میں نے اپنی بیشتر زندگی بطور پناہگزیں مہاجر کے گذاری ہے۔ اس دوران، تبت کے اندر بہت سے مسائل اور مصیبتیں پیدا ہوئی ہیں، اور لوگ مجھ پر بھروسہ کرتے اور مجھ سے بہت سی امیدیں وابسطہ کرتے ہیں۔ مگر میں لاچار ہوں۔ البتہ میرے شانت من نے مجھے یہ سب کچھ شفاف انداز سے دیکھنے کا موقع دیا ہے۔ جیسا کہ شانتی دیو نے کہا، اگر مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے، تو پھر فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر صورتحال اس قدر دگرگوں ہے کہ نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آتی، پھر زیادہ فکر کرنے سے کیا حاصل۔ یہ بڑی حقیقت پسند بات ہے، لہٰذا میں اس کی مشق کرتا ہوں۔

 

یہ ضروری ہے کہ ہم چیزوں کی اصل کو پہچانیں اور یہ جانیں کہ ہر شے ضمنی ہے۔ جو بھی ہوتا ہے، اس کا کچھ نہ کچھ مثبت اثر ہو سکتا ہے۔ میرے معاملہ میں میں مہاجر بن گیا، مگر اس کی وجہ سے مجھے بہت سے لوگوں کو ملنے اور مختلف نظریات کے بارے میں جانکاری کا موقع ملا۔ میں گداگروں، لیڈروں، مختلف شعبوں کے علماء اور مذہب دشمن لوگوں سے ملا۔ یہ بڑی کارآمد بات ہے، کیونکہ اگر میں تبت کے اندر ہی رہتا، تو میرا خیال ہے کہ میرے علم کا ذخیرہ میرے موجودہ ذخیرے سے نصف ہوتا۔ پس ایک لحاظ سے تو یہ بہت بڑا سانحہ ہے، مگر دوسرے لحاظ سے اس نے کئی ایک اچھے مواقع پیدا کئے ہیں۔ اگر ہم مختلف پہلوؤں سے دیکھیں تو ہم بہتر محسوس کریں گے۔ برے واقعات پیش آ سکتے ہیں، مگر ان کے پسِ پردہ کچھ اچھی باتیں بھی ہو سکتی ہیں۔

 

ماضی میں تبتی لوگ کسی حد تک باقی دنیا سے الگ تھلگ رہے ہیں، مگر اب ان کی سوچ میں کافی وسعت آ گئی ہے۔ صدیوں سے، تبتی لوگ خوابیدہ حالت میں تھے، مگر اب وہ جاگ اٹھے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے! تو آپ دیکھتے ہیں، کہ اگر آپ مختلف زاویوں سے دیکھیں، تو آپ کو کوئی مثبت پہلو نظر آۓ گا۔ یہ چیز من کا قرار قائم رکھنے میں بیحد مفید ہے۔ آجکل، جب میں اپنے پرانے دوستوں سے ملتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ میرا چہرہ کسقدر جوان لگتا ہے، تو میرے ان احباب میں سے بعض اس کا راز جاننا چاہتے ہیں۔ میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ ۸ یا ۹ گھنٹے کی نیند من کا سکون برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ بیشک ایک عنصر ہے، مگر جو چیز واقعتاً استمدادی ہے وہ یہ کہ ہمارا من اور من کی کیفیتیں پر سکون اور شانت ہوں۔

 

ایک پر سکون من دراصل آپ کو ایسی چیزیں مثلاً کسی جراحت سے صحت یاب ہونے میں مدد کرتا ہے۔ جب میری پِتے کی جراحت ہوئی، یہ خاصی تکلیف دہ تھی۔ بعد میں مجھے سرجن نے بتایا کہ عموماً اس پر ۱۵-۲۰ منٹ لگتے ہیں، مگر میرا کیس اتنا خراب تھا کہ اس پر تقریباً تین گھنٹے لگے، کیونکہ میرا پِتہ اپنے عام حجم سے تقریباً دو گنا بڑا ہو چکا تھا اور اس میں بہت سی پیپ پڑ گئی تھی۔ مگر میں پانچ دن کے اندر صحت یاب ہو گیا، دیکھتے ہی دیکھتے۔ پس ایک صحتمند جسم کے لئے شانت من اور رجائی رویہ ضروری ہے۔ ، اور اگر پھر کچھ خرابی ہو بھی جاۓ، تو آپ جلدی سنبھل جائں گے۔ اچھی صحت کے لئے شانت من بہت ضروری ہے۔

 

داخلی حسن بالمقابل خارجی حسن

 

میں یہاں اس بات کا ذکر کروں گا، کچھ بذلہ سنجی اور کچھ دل لگی کی خاطر، کہ بعض جوان خواتین بناؤ سنگھار پر بے تحاشا خرچ کرتی ہیں۔ بعض خواتین اپنے چہروں پر مختلف رنگوں کا لبادہ اوڑھتی ہیں – نیلا، ہرا، وغیرہ۔ یہ بھلا دکھائی نہیں دیتا، مگر وہ اسے بہت حسین سمجھتی ہیں! لوگ ظاہری حسن کو زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اگلے روز ایک لیکچر میں موجود کسی خاتون کے بال نیلے رنگ کے تھے، یہ بڑی انوکھی بات تھی۔ تو میں نے اسے ازراہِ مذاق کہا کہ نیلے بال کوئی خوبصورت شے نہیں! مانا کہ خارجی حسن بھی اہم ہے، مگر اصل شے داخلی حسن ہے۔ وہ خواتین جو ظاہری حسن پر بہت سا پیسہ خرچ کرتی ہیں، مہربانی کر کے داخلی حسن پر توجہ دیں، جو کہ بہت احسن بات ہے!

 

من اور جذبات بطور ایک علمی نظریہ

 

ہم سائنسی نظریات کی بات کر رہے ہیں۔ سچی من کی شانتی نہائت اہم ہے۔ من کی شانتی کی بنیاد خوداعتمادی اور اندرونی طاقت ہے، جن کا منبع محبت اور دردمندی ہے، جس میں اغیار کی عزت اور ان کی بھلائی کا احساس شامل ہے۔ یہ ہے سیکولر اخلاقیات۔

 

کنڈرگارٹن سے لیکر جامعہ تک، ہم من اور جذبات پر قابو پانے کی تعلیم دے سکتے ہیں۔ یہ ایک وسیع مضمون ہے، اور ہمارے من اور جذبات اور ان کے باہمی تعلق کی کئی ایک صراحتیں موجود ہیں۔ ہم یہاں علت و معلول کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، جس کے مطابق جب من کے کسی حصہ میں کچھ وقوع پذیر ہوتا ہے، تو کہیں اور کچھ اور ہوتا ہے۔ اس کو سمجھنے کی خاطر، ہمیں سنجیدگی سے اس بات کا مطالعہ کرنا ہے کہ من اور دماغ کا باہمی رشتہ کیا ہے۔

 

علمی لحاظ سے اس موضوع کا مطالعہ وقیع ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ میں، ان معلومات کی بنیاد پر سائنسدان تجربات کر رہے ہیں، اور بعض ٹھوس نتائج سامنے آۓ ہیں۔ اس کے نتیجہ میں، اب ایسے نصابی پروگرام بھی ہیں جہاں سیکولر اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اب ہم سیکولرزم پر مبنی اخلاقیات کا تعلیمی نصاب تشکیل دینے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں، جو کہ سیکولر اخلاقیات سے مطابقت رکھتا ہو۔

 

حاضرین، اور خصوصاً اگر یہاں کوئی مدرس اور مفکر موجود ہیں، اس پر مزید غور کریں اور اگر موقع ملے، تو اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔ فی الحال، اخلاقیات پر درس تعلیمی نظام میں شامل نہیں، لہٰذا بیشتر لوگ اس کے لئے مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ یقیناً اچھی بات ہے، مگر ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں اور ان کے لئے مذہبی تصورات کو اپنانا مشکل ہے۔ اس سے مشکل پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے ہمیں سیکولر راہ اختیار کرنی ہے، جو کہ عالمی سطح پر قابلِ قبول ہو۔

 

بات ختم ہوئی۔ اب چند سوالات۔

 

سوالات

سوال: تقدس مآب، اپنی آخری بات میں آپ نے اس بات کا ذکر کیا جس کے بارے میں میں سوال پوچھنے والا تھا، مگر ایک مکمل جواب کی خاطر، اگر آپ برا نہ منائں تو میں یہ سوال دوبارہ پوچھنا چاہوں گا۔ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں سیکولر اخلاقیات کی تعلیم دینے کی خاطر، کیا آپ کسی کے ساتھ مل کر کوئی معقول تعلیمی پروگرام تشکیل دے رہے ہیں؟ اور اگر ایسا ہے، تو کیا اس سلسلہ میں کوئی تعلیمی یا مالی ادارہ آپ کی مدد کر رہا ہے؟

 

تقدس مآب: بھارت میں، دہلی میں چند یونیورسٹیوں کی مدد سے، ہم نے پہلے ہی ایک عبوری نصاب بنانے پر کام شروع کر دیا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔ اور پھر ہمارا 'من اور زندگی کا انسٹیٹیوٹ' بھی ہے۔ اور امریکہ میں، اپنے اپنے شعبوں میں انفرادی طور پر ایسی جگہوں مثلاً وسکانسن یونیورسٹی، ایموری یونیورسٹی، سٹینفورڈ یونیورسٹی، وغیرہ میں سیکولر اخلاقیات کی تعلیم پر کام ہو رہا ہے۔ اور اس کام کو ہم نے یورپ میں بھی پھیلایا ہے۔ عنقریب ہی ہم دہلی میں یا اس کے قریب ایک ادارہ قائم کریں گے۔ ابھی تک تو ہم اس پر ہی کام کر رہے ہیں۔ ایک بار نصاب تیار ہو جاۓ، پھر شائد ہم اساتذہ کو تربیت دیں گے، اور پھر کچھ ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قابلِ قدر ہو، ہم دیکھیں گے۔

 

سوال: تقدس مآب، میں اس کرہ ارض اور جو کچھ اس میں پایا جاتا ہے سے پیار کرتا ہوں، زمین اور نباتات اور چرند پرند، اور ہم دلچسپ انسانوں سے۔ مگر انسان ہر دم اس کرہ ارض کو تباہ کرنے میں مصروف ہے، بعض اوقات تو بالکل معمولی، چھوٹی باتوں سے مثلاً پلاسٹک کی بوتلیں خرید کر، اور کبھی بڑے بڑے کام کر کے مثلاً جنگلوں کا صفایا کر کے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے صبر سے کام لینا چاہئے مگر جب میں یہ سب دیکھتا ہوں، جب میں حیات کو دکھ اٹھاتے اور موت کے منہ میں جاتے دیکھتا ہوں، تو میرے اندر بیحد غصہ پیدا ہوتا ہے اور میں ان قوتوں کے خلاف محاذ آرائی کرنا چاہتا ہوں۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ، کیا صحتمند غصہ نام کی کوئی شے بھی ہے؟ کیا میں محبت کے ذریعہ لڑ سکتا ہوں؟

 

تقدس مآب: غصے کا جیسے میں نے پہلے ذکر کیا، تحرک سے تعلق ہوتا ہے۔ تو ایسا غصہ جو کسی کام یا عوام کی بہبود سے منسلک ہو وہ ایک چیز ہے، اور نفرت کی بنیاد پر غصہ ایک بالکل مختلف بات ہے۔

 

سوال: جناب تقدس مآب، آپ کے یہاں آنے کا شکریہ۔ آپ کو دیکھنا اور آپ کو سننا بہت عمدہ بات ہے۔ میرا سوال بالکل سادہ ہے۔ اگر کل آپ کے پاس کچھ فارغ وقت ہو تو آپ کیا کریں گے؟

 

تقدس مآب: جب میرے پاس وقت ہو تو میں بدھ متی صحیفے پڑھتا ہوں، خصوصاً تبتی زبان میں۔ تبتی بدھ مت میں ہمارے ہاں ۳۰۰ جلدیں ہیں۔ ۱۰۰ تو مہاتما بدھ کے اپنے الفاظ ہیں، تقریباً بائبل کی طرح۔ پھر ۲۰۰ جلدیں شرح پر مشتمل ہیں۔ تو میں تبتیوں کو ہمیشہ کہتا ہوں کہ یہ کوئی پوجنے کی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ایسی تحریریں ہیں جنہیں پڑھنا چاہئے۔ میں اوروں کو اس کی تلقین کرتا ہوں، پر خود بھی انہیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان ۳۰۰ کتابوں میں سے ، غالباً میں نے ۳۰-۴۰ پڑھی ہیں۔ پس اور بہت سی ابھی پڑھنی ہیں۔ اور اگر میرے پاس دو دن کی فرصت ہوئی ، تو میں کسی برفانی پہاڑی علاقے میں جانا چاہوں گا۔ میں اور برف دیکھنا چاہتا ہوں۔

 

سوال: تقدس مآب، آپ نے کرہ ارض پر ۶ ارب دیندار اور ایک ارب دین سے عاری انسانوں کی بات کی ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو روائتی مذہب سے مطمٔن نہیں اور نہ ہی وہ بے دین ہیں، اور وہ روائتی مذہب سے ماوراء روحانیت کے متلاشی ہیں۔ ان کے لئے آپ کی پند ونصیحت کیا ہے؟

 

تقدس مآب: بہت سال پہلے میں سٹاکہوم میں ایک چھوٹے سے گروہ سے ملا۔ وہ موجودہ مذاہب کے حق میں نہیں تھے مگر پھر بھی کسی قسم کی روحانیت کے طلبگار تھے۔ ہاں، ایسے لوگ بھی ہیں۔ تاہم میں نے یہ دیکھا ہے ، کہ جسے آپ "نیا دور" کا نام دیتے ہیں، یا اِدھر اُدھر سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اکٹھے کر کے ایک بڑا مرکب بنا لیتے ہیں، یہ خاص سود مند نہیں!

 

میرے خیال میں محض اپنی مادی ضروریات کو پورا کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ گہری اقدار کی تلاش بہت عمدہ بات ہے۔ اپنی اقدار کا تجزیہ وقیع امر ہے، یہ جاننا کہ ہماری مسرت حسی تشفی سے نہیں آتی۔ جیسا کہ، جب موسیقی چل رہی ہو، آپ کو تسکین مل رہی ہوتی ہے، لیکن اگر موسیقی بند ہو جاۓ تو تسکین بھی جاتی رہتی ہے۔ من کی سطح پر، ایمان یا دردمندی کا شدید احساس – اس سے جو تسکین ملتی ہے وہ کہیں زیادہ دیرپا ہے۔

 

سوال: آپ کے نزدیک، انسانی زندگی میں، سب سے اہم بات کیا ہے؟

 

تقدس مآب: میں ہمیشہ لوگوں سے یہی کہتا ہوں کہ ہماری زندگی کا مقصد ایک خوشگوار زندگی بسر کرنا ہے۔ خوشی اور مسرت کا حصول، یہ حسی صلاحتیوں اور تجربات پر منحصر نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس کا دارومدار ہمارے من کی کیفیت پر ہونا چاہئے۔ تو میں اکثر یہ کہتا ہوں کہ، ہمیں اپنی اندرونی اقدار پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ بہت بہت شکریہ۔