ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت آج کی دنیا میں > دنیا میں بدھ مت کی موجودہ صورت حال (۱۹۹۶)

دنیا میں بدھ مت کی موجودہ صورت حال (۱۹۹۶)

یہ مقالہ سب سے پہلے الیکزینڈر برزن کی کتاب
Buddhism and Its Impact on Asia. Asian Mongraphs, no. 8.
Cairo: Cairo University, Centre of Asian Studies, June 1996.

میں شائع ہوا

جنوبی اورجنوب مشرقی ایشیائی تھرواد بدھ مت

سری لنکا

اس وقت بدھ مت کچھ ممالک میں فروغ پذیر ہےاور کچھ ممالک میں اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر تھرواد بدھ مت سری لنکا، تھائی لینڈ اور برما (میانمار) میں بہت طاقتور ہے- لیکن لاؤس، کمبوڈیا (کمپوچیا) اور ویتنام میں بہت ہی کمزوری کا شکار ہے۔ سولہویں سے انیسویں صدی کے دوران بدھ مت پہلے کلیسا کی احتسابی عدالتوں کی طرف سے ملنے والی سزاؤں اور پھر عیسائی نوآبادیاتی حکمرانوں کی طرف سےآنے والے تبلیغی وفود کی وجہ سے سری لنکا میں زوال کا شکار رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی اہل علم اور حکمت یزدانی والوں کی مدد سے اسکا دوبارہ احیا ہوا۔ اسی وجہ سے سری لنکا کے بدھ مت کو بعض اوقات "" پروٹسٹنٹ" بدھ مت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں حصول علم اور مطالعے پر زور دیا جاتا ہے، راہبوں کی طرف سے عوام کے لیے مذہبی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں اور راہبوں کے علاوہ عام لوگوں کے لیے براہ راست مراقبے اور مراقبہ کی مشقیں کرنے کی اجازت ہے۔ عام سطح کے لوگوں میں یقین بڑا پختہ ہے لیکن انہیں ایسے راہبوں کی شدید کمی کا سامنا ہے جن میں برابر کا علم اور عمل موجود ہوں۔

انڈونیشیا اور ملیشیا

سری لنکا کے راہب بالی، انڈونیشیا کے دوسرے حصوں اور ملیشیا میں تھرواد بدھ مت کے احیا کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ ان علاقوں میں پندرھویں صدی کے آخر تک بدھ مت آہستہ آہستہ ختم ہوچکا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ بہت ہی محدود پیمانے پر ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جو بالی میں بدھ مت میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں وہ بالی کے ہندومت، بدھ مت اور مقامی ارواح پرستی کی روایتی آمیزش کے پیروکار ہیں۔ جبکہ انڈونیشیا اور ملیشیا کے دوسرے حصوں میں عوام زیادہ تر سمندر پار رہنے والے چینی ہیں اور مہایان بدھ مت سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں نئے انڈونیشی بدھ مت کے کچھ بہت ہی چھوٹے چھوٹے فرقے اور بھی ہیں جو تھرواد، چینی اور تبتی نقطہ نظر کا ملغوبہ ہیں۔

انڈونیشی حکومت کی "پانچ شیل" پالیسی کے مطابق تمام مذاہب کے لیے خدا پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگرچہ بدھ مت میں خدا کو ایک انفرادی ہستی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، اس لیے بدھ مت کو اکثر اوقات غیر یزدانی بھی کہا جاتا ہے، لیکن اسے آدی-بدھ پر ایمان رکھنے کے باعث مذہب تسلیم کیا جاتا ہے۔ "آدی-بدھ" کا لفظی مطلب ہے "پہلا بودھ" ہے جس کے بارے میں "کال-چکر تنتر" میں اظہار خیال کیا گیا ہے اور یہ انڈونیشیا میں ایک ہزار سال پہلے فروغ پذیر ہوا۔ آدی-بدھ تمام مظاہر کا علیم و خبیر خالق ہے جو وقت، الفاظ اور دوسری حدود سےبالاتر ہے۔ اگرچہ اسے ایک شبیہ کی صورت ظاہر کیا جاتا ہے لیکن وہ خود اصل میں کوئی ہستی نہیں ہے۔ آدی-بدھ اس سے کہیںتجريدی ہے اور تمام مخلوقات میں ذہن، فکر یا خیال کی لطیف نورانی صورت میں موجود ہے۔ اسی بنیاد پر بدھ مت کو اسلام، ہندومت اور عیسائیت کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کا پانچواں ریاستی مذہب تسلیم کیا جاتا ہے۔

ہندوستان

ہندوستان میں ہمالیہ کی ترائی کے علاقوں میں تقریبا ساتویں صدی کے دوران بدھ مت آہستہ آہستہ کمزور ہو گیا۔ تاہم انیسویں صدی کے اختتام پر سری لنکا کے لوگوں نے برطانوی اہل علم کی مدد سے مہابودھی سوسائٹی قائم کی، تاکہ ہندوستان میں بدھ مت کی مقدس زیارت گاہوں کو پھر سے بحال کیا جائے۔ اس کام میں ان کو بڑی حد تک کامیابی ہوئی اور اب ان میں سے ہر مقام پر خانقاہیں ہیں جہاں پر راہب بھی رہتے ہیں اور اسی طرح بدھ مت کی کئی دوسری روایتیں بھی زندہ کی گئی ہیں۔

۱۹۵۰ء میں امبیدکر نے مغربی ہندوستان میں اچھوتوں کے لیے نئے بدھ مت کی تحریک کا آغاز کیا۔ ہزارہا لوگوں نے نچلی ذات سے تعلق کی بدنامی سے بچنے کے لیے اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد اپنے لیے سیاسی اور سماجی حقوق حاصل کرنا تھا۔ اس احیائی جدوجہد کی بنیاد رکھنے کے بعد جلد ہی امبیدکر کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کی سربراہی ایک انگریز سنگھا رکشت کے پاس آ گئی جس نے "مغربی بدھ مت کے دوست" کے نام سے ایک شاخ کی بنیاد رکھی جو بدھ مت کی ایک نئی شکل ہے اور مغربی لوگوں کے لیے خصوصی طور پر ترتیب دی گئی ہے۔

تھائی لینڈ

تھائی لینڈ میں تھائی شہنشائیت کے نمونے سے متاثر ہوکر بدھ مت کے راہبوں کے طبقے میں بھی ایک بڑا سربراہ اور بزرگوں کی کونسل قائم کی گئی جن کی ذمہ داری اس روایت میں درستگی اور اخلاص کو محفوظ رکھنا ہے۔ وہاں راہبوں کے دوطرح کے طبقے ہیں، وہ لوگ جو جنگلوں میں رہتے ہیں اور وہ لوگ جو گاؤں کے باشندے ہیں۔ دونوں کے لیے عام معاشرے میں عزت و احترام اور تعاون موجود ہے۔ درویشوں کی طرح جنگل میں رہنے والے راہبوں کے مضبوط سلسلے سے وابستہ لوگ الگ تھلگ جنگلوں میں رہتے ہیں اور گیان مراقبہ کی مشکل ترین مشقیں سر انجام دیتے ہیں۔ یہ خانقاہی نظم و ضبط کے سخت قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہیں جس میں مطالعے کے پروگرام پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔ گاؤں میں رہنے والے راہب عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف طرح کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ تاہم ان کا مطالعہ اوردراسات بنیادی طور پر بدھ مت کی متون کو حفظ کرنے پر مشتمل ہیں۔ تھائی ثقافت میں ارواح پرستی ہے۔ اس سے مناسبت اختیار کرتے ہوئے یہ راہب عام لوگوں کو حفاظت کے لیے تعویذ بھی فراہم کرتے ہیں۔ وہاں راہبوں کے لیے بدھ مت کی یونیورسٹی بھی قائم ہے جہاں بنیادی طور پر راہبوں کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ بدھ مت کی مقدس کتابوں کا قدیم پالی زبان سے جدید تھائی زبان میں ترجمہ کرسکیں۔

میانمار (برما)

میانمار (برما( میں فوجی حکومت نے وزارت مذہبی امور کے تحت بدھ مت کو سخت نگرانی میں لے رکھا ہے۔ اس حکومت نے خصوصاً ملک کے شمالی حصوں میں انتہائی ظالمانہ طریقے سے خانقاہوں کو تباہ کیا جہاں حکومت سے منحرف اور برگشتہ لوگ رہ رہے تھے۔ اب حکومت بقیہ راہبوں کو بھاری مقدار میں رقم فراہم کر رہی ہے تاکہ ان کی حمایت حاصل کر سکے اور ان کی طرف سے حکومت کے خلاف ہونے والی تنقید کو ختم کر سکے۔ برما میں مراقبے اور مطالعے پر برابر اور متوازن توجہ کی ایک طویل روایت موجود رہی ہے۔ اس میں خصوصاً بدھ مت کی "ابھیدھرم " نفسیات ، الاہیات اور اخلاقیات کے مطالعے پر زور دیا جاتا ہے۔ اس طرح کا نقطہ نظر رکھنے والی بہت سی خانقاہیں اب بھی کھلی ہیں اور عام آبادی ان پر بہت زیادہ یقین رکھتی ہے۔انیسویں صدی کے آواخر میں شاید برطانیہ کے نوآبادیاتی قبضے کے زیر اثر بہت سے ایسے مراقباتی مرکز قائم کئے گئے جہاں راہب اور عام اساتذہ برمی مردوں اور خواتین کو مراقبے کے بنیادی اعمال و اشغال سکھاتے ہیں تاکہ وہ حاضر دماغی حاصل کرسکیں۔

بنگلہ دیش

جنوبی بنگلہ دیش میں برمی سرحد کے ساتھ ساتھ واقع پہاڑوں میں بہت سے ایسے الگ تھلگ گاؤں ہیں جہاں برمی بدھ مت کے روایتی پیروکار لوگ رہتے ہیں۔ تاہم برما سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے ان کی سوجھ بوجھ اور کارکردگی کی سطح بہت معمولی ہے۔

لاؤس

لاؤس میں دیہاتی علاقوں میں اب بھی روایتی انداز میں بدھ مت کو پڑھایا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ ویتنام کی جنگ کی وجہ سے خانقاہیں انتہائی بُری حالت میں ہیں۔ لاؤس کے عام لوگ راہبوں کو بھکشا مانگنے پر انھیں کھانا دیتے ہیں اور پورے چاند کے دنوں میں خانقاہوں میں بھی جاتے ہیں۔ تاہم وہاں مراقبے کی روایت بہت ہی زیادہ کمزور ہے۔ اس سے پہلے وہاں راہبوں کو مارکس ازم پڑھنا اور پڑھانا پڑتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب لوگ صرف زبانی حد تک ہی کمیونزم کی بات کرتے ہیں اور اب راہب بننا بہت آسان ہے۔

کمپوچیا (کمبوڈیا)

کمپوچیا (کمبوڈیا) میں پول پاٹ کی تباہی اور سزا دہی کے بعد خصوصاً جب سے شہزادہ سہانوک بادشاہ بنا، بدھ مت کو بھال کیا جا رہا ہے اور اب اس پر پابندیاں بتدریج نرم ہو رہی ہیں۔ تاہم اب بھی راہب کے منصب پر فائز ہونے کے لیےتیس سےچالیس سال عمر ہونا ضروری ہے کیونکہ ملک کو افرادی قوت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ سربراہ کھمیر راہب مہاگوسانند نے تھائی لینڈ میں مراقبہ اور مراقبہ سیکھا کیونکہ یہ روایت کمبوڈیا میں تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ اور اب وہ اس روایت کو وہاں زندہ کر رہے ہیں۔ ملک میں جنگل کی جو روایت بچی ہے اس کی زیادہ توجہ مراقبے کی بجائے کرشماتی طاقت حاصل کرنے پر ہے۔

ویتنام

اگرچہ ویتنام میں "ثقافتی انقلاب" جیسی کوئی بات نہیں تھی پھر بھی بدھ مت کواب بھی یہاں ریاست کا دشمن سمجھا جاتا ہے کہ یہاں راہب لوگ ریاستی اقتدار، اختیار اور کنڑول کو مسلسل چلینج کررہےہیں۔ یہاں راہبوں کے منصب پر فائز ہونا بہت مشکل ہے اور اب بھی بہت سے راہب قید میں ہیں۔ صرف علامتی طور پرکچھ خانقاہیں کھلی ہیں جن میں اکثر صرف تشہیری مقاصد کےلیے ہیں۔ حکومت شمال کے راہبوں کے حوالے سے زیادہ پرسکون ہے جہاں ویتنام کی جنگ کے دوران خانقاہی ادارے کمیونسٹوں کے ساتھ مل جل کر رہے۔ تاہم ملک کے جنوب میں رہنے والے راہبوں پر حکومت بہت زیادہ شک کرتی ہے اور ان کے لیے بہت مشکلات پیدا کرتی ہے۔

مشرقی ایشیائی مہایان بدھ مت

تائیوان، ہانگ کانگ اور سمندر پار چینی علاقے

مشرقی ایشیائی مہایان بدھ مت کی وہ روایتیں جو چین سے باہر نکلی ہیں ان کا تائیوان، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا میں بہت زور ہے۔ تائیوان میں راہبوں اور راہباؤں کی ایک مضبوط خانقاہی برادری موجود ہے جسے عام معاشرہ بہت زیادہ امداد فراہم کرتا ہے۔ وہاں بودھ یورنیورسٹیاں بھی ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بودھ پروگرام بھی موجود ہیں۔ ہانگ کانگ میں بھی نہایت فروغ پزیر راہبوں کی برادری موجود ہے۔ سمندر پار چینی بدھ مت کی روایت جو ملیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ اور فلپائن میں ہے اسلاف کی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں اور زندگی میں خوشحالی اور دولت کے حصول پر بہت زیادہ زوردیتی ہے۔ یہاں بہت سے ایسے کاہن موجود ہیں جن کے ذریعے بودھ فال دیکھنے والے سرمستی میں بات کرتے ہیں اور جن سے عام لوگ اپنی صحت اور نفسیاتی مسائل میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ چین کے کاروباری لوگ جو ان" ایشیائی ٹائیگرز" معیشتوں کی اصل طاقت ہیں، اکثر و بیشتر ان راہبوں کو بہت بڑے بڑے نذرانے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ ان کی اقتصادی اور تجارتی کامیابیوں کے لیے مختلف رسومات انجام دے سکیں۔

کوریا

جنوبی کوریا میں بدھ مت اب بھی مضبوط ہے اگرچہ اسے یہاں تبلیغی ایوینجلک عیسائی تحریکوں کی طرف سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں راہبوں اور راہباؤں کے بہت سے ایسے خانقاہی گروہ موجود ہیں جنہیں بہت عوامی تائید حاصل ہے۔ یہاں مراقبے کی روایت خصوصی طور پر ترقی پذیر ہے خاص کر سون کی روایت جو مراقبہ بدھ مت زین کی کوریائی شکل ہے۔ دوسری طرف شمالی کوریا میں گوہ دکھانے کو ایک خانقاہ کھلی ہوئی ہے لیکن بدھ مت کو سختی سے دبایا گیا ہے۔

جاپان

جاپان میں بہت سے ایسے مندر ہیں جو سیاحوں اور باہر سے آنے والے لوگوں کے لیے خوبصورت انداز میں سجائے گئے ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر تجارتی مقاصد کے لیے ہیں۔ اگرچہ بدھ مت پر سنجیدگی سے عمل کرنے والے کچھ لوگ بھی ہیں لیکن اس روایت کا اکثر حصہ بہت زیادہ رسمی اور کمزور ہے۔ تیرھویں صدی سے جاپان میں مندروں میں شادی شدہ راہبوں کا رواج ہو گیا جن پر شراب پینے کی پابندی بھی نہیں تھی۔ ان راہبوں نے راہبوں کی روایت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا۔ اکثر جاپانی بدھ مت اور روایتی جاپانی شنتو مذہب کی امتزاجی شکل کے پیروکار ہیں۔ وہاں ایسے راہب ہیں جو پیدائش اور شادی کے موقع شنتو رسوم و رواج اور تدفین کے موقع پر بدھ مت کی رسوم انجام دیتے ہیں لیکن انہیں ان میں سے کسی بھی بات کا ٹھیک سے پتا نہیں ہے۔ وہاں کچھ ایسی تحریکیں بھی موجود ہیں جو بڑی کمپنیوں میں کام کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بدھ مت کے مختلف طریقے تجویز کرتی ہیں اور ایک بہت بڑے جاپانی بدھ مت فرقے نے امن اور سکون اور شانتی کے مندروں پر مشتمل دنیا بھر میں عمارات تعمیر کرنے کا وسیع پروگرام ترتیب دیا ہے جاپان میں انتہا پسند جنونی لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے آپ کو بودھ کہتے ہیں لیکن ان لوگوں کا بودھ شاکیہمُنی کی تعلیمات کے ساتھ بہت کم ہی کوئی تعلق ہے۔ تاریخی طور پر کچھ جاپانی بودھ روایات بہت زیادہ قومیت پرستی کی حامل ہیں جن کی بنیاد یہ یقین ہے کہ جاپان بدھ مت کےپیروکاروں کے لیے جنت ہے۔ یہ تصور شہنشاہ کی شنتو روایت اور جاپانی قوم سے تعلق رکھنے کی اہمیت کے تصور سے پیدا ہوا۔ اس طرح کی روایتوں نے کئی بودھی سیاسی پارٹیوں کو بھی جنم دیا جو بہت زیادہ قومیت پرست اور بنیاد پرست ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین

اندرونی چین میں پیپلز ری پبلک کے وہ علاقے جنہیں ہان چینی علاقے کہا جاتا ہے بودھی خانقاہوں کا بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا اور بہت سے تربیت یافتہ راہبوں اور اساتذہ کو یا تو قتل کر دیا گیا یا ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء کے درمیان بپا ہونے والے ثقافتی انقلاب کے دوران قید کر دیا گیا۔ تاہم یہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی نہیں تھی جیسا کہ دوسرے غیر- ہان علاقوں مثلا تبت، اندرونی منگولیا اور سنکیانگ میں ہوا۔ آج اندرونی چین میں ہان چینیوں کی ہر عمر کے لوگوں کی بڑی تعداد بدھ مت میں دلچسپی لے رہی ہے لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پڑھانے والے نہیں ملتے۔ بہت سے نوجوان لوگ خانقاہوں سے وابستہ ہو رہے ہیں اور خانقاہی ذمہ داریاں لے رہے ہیں لیکن ان کا معیار بہت ہی پست ہے۔ کالج میں تعلیم یافتہ اکثر نوجوان کام کرنے اور پیسہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن وہ لوگ جو خانقاہوں سے وابستگی اختیار کرتے ہیں اکثر غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور غیر تعلیم یافتہ خاندانوں سے متعلق اور بنیادی طور پر دیہاتی علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ بڑی عمر کے بہت کم تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ راہب اور راہبائیں رہ گئے ہیں جو کمیونسٹ سزاؤں سے بچ پائے اور اب وہ پڑھا سکتے ہیں – لیکن درمیانی عمر کا کوئی بھی فرد ایسا نہیں جس نے تربیت حاصل کر رکھی ہو۔ بہت سے سرکاری بودھ کالج بھی موجود ہیں جہاں دو سے چار سال تک کے پروگرام چلائے جاتے ہیں – یہ کالج اکثر اندرونی چینی شہروں میں ہیں اور وہاں زیارت گاہیں بھی موجود ہیں۔ ان کالجوں میں سیاسی تعلیم بھی نصاب کا حصہ ہے۔ نئے ہان چینیوں میں سے نسبتاً کم لوگ بدھ مت کے خانقاہی سلسلے میں شامل ہونے کے بعد ان کالجوں میں داخلہ لیتے ہیں۔

عام طور پر ہان چینی خانقاہوں میں بدھ مت کی تعلیم کی سطح بہت پست ہے۔ فی الحال لوگوں کی زیادہ توجہ بدھ مت کی تعمیرات مثلاً خانقاہیں، مندر اور مجسمے وغیرہ بنانے پر ہے اور اس طرح رقم اکٹھا کرنے اور عماراتیں بنانے کے لیے بہت زیادہ وقت اور کوششوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بعض اوقات چینی حکومت بھی ان تعمیرات کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ نتیجے کے طور پر بدھ مت کی بہت سی خانقاہیں سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں اور بطور عجائب خانہ کھلی ہوئی ہیں جہاں خانقاہوں کے راہب ٹکٹ اکٹھے کرنے والے عملے یا وہاں آنے والے لوگوں کی خدمت گاروں کے طور پر موجود ہیں۔ اس سے " مذہبی آزادی" کا ایک دکھاوا کیا جاتا ہے، ایسی نمائش جس کی بیجنگ حکومت کو ضرورت بھی ہے۔ تاہم بہت سی نئی تعمیرات مقامی لوگوں کی مالی امداد اور بعض اوقات بیرونی امداد اور اکثر خود خانقاہی لوگوں کی کوششوں کے ساتھ مکمل ہو رہی ہیں۔ کمیونسٹ عتاب کے عمل سے پہلے کی ہونے والی روایتی اسلاف پرستی کی رسومات اب پھر زندہ ہو رہی ہیں۔ تاہم اندرونی چین کے مختلف حصوں میں چند چینی خانقاہیں ایسی بھی ہیں جو فعال ہیں اور وہاں مطالعے، علم اور عمل کا کوئی معیار موجود ہے۔

وسط ایشیائی مہایان بدھ مت

جلا وطن تبتی

وسط ایشیا کی تبتی روایتوں میں سب سے مضبوط ترین روایت تبت سے جلا وطن ہونے والے لوگوں کی ہے جو ہندوستان میں تقدس مآب دلائی لامہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ یہ لوگ تبت پر چینی فوجی قبضے کے خلاف ۱۹۵۹ء میں مشہور بغاوت کے بعد جلا وطن ہوئے۔ انہوں نے وہاں بہت سی خانقاہوں کی تعمیر نو کی اور تبت کے بہت سی راہبوں کی قیام گاہوں کو دوبارہ شروع کیا۔ ان کے پاس راہب دانشوروں، مراقبہ کرنے والے لوگوں اور اساتذہ کے لیے روایتی تربیت کا پورا پروگرام موجود ہے۔ ان کے پاس تعلیمی، تحقیقی اور طباعتی سہولتیں بھی ہیں تاکہ وہ تبت کی بدھ مت کے ہر مکتب فکر کی مختلف جہتوں کو محفوظ کر سکیں۔

جلا وطن تبتوں نے ہندوستان، نیپال، بھوٹان، لدّاخ اور سکم کے ہمالیائی علاقوں میں بد ھ مت کو دوبارہ زندہ کر نے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ انھوں نے اس کے لیے وہاں اساتذہ بھیجے اور سلسلوں کو دوبارہ وہاں منتقل کیا۔ ان علاقوں کے بہت سے راہب اور راہبائیں تبت کے پناہ گزینوں کی خانقاہوں اور راہباؤں کی قیام گاہوں میں آ کر تعلیم اورتربیت حاصل کر رہے ہیں۔

نیپال

اگرچہ مشرقی نیپال کے شیرپا لوگ اور تبت کے جلا وطن اور پناہ گزین لوگوں میں جو ملک کے مرکزی حصے سے تعلق رکھتے ہیں بدھ مت کی تبتی روایت کی پیروی کی جاتی ہے ، کٹھمنڈو وادی کے نیواری لوگوں کے ہاں نیپالی بدھ مت بھی محدود سطح پر موجود ہے۔ یہ واحد بودھی معاشرہ ہے جو مہایان کی سابقہ ہندوستانی شکل اور ہندو مت کی آمیزش کی پیروی کرتے ہوئے خانقاہوں میں ذات پات کی تقسیم کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ سولہویں صدی سے راہبوں کو شادی کرنے کی اجازت ہے اور یہاں مندروں کا انتظام کرنے والوں اور مذہبی رسوم و رواج ادا کرنے والے رہنماؤں کے درمیان نسل در نسل ذات پات کا نظام موجود ہے۔ وہ لوگ جو یہ وظیفہ اور یہ کام انجام دیتے ہیں ان کا تعلق ذات پات کے اسی نظام سے ہونا لازمی ہے۔

تبت

خود تبت میں بدھ مت کی صورت حال بہت ہی کمزور ہے۔ جسے عوامی جمہوریہ چین نے پانچ صوبوں تبت، چنگھائی ، گانسو، سیچوآن اور یوننان میں تقسیم کر دیا ہے۔ ۱۹۵۹ء سے پہلے موجود ۶۵۰۰ خانقاہوں اور راہباؤں کی قیام گاہوں میں سے ۱۵۰ کے علاوہ سب تباہ کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر ثقافتی انقلاب سے پہلے تباہ کی گئیں۔ پڑھے لکھے راہبوں کی بڑی اکثریت کو یا تو قتل کر دیا گیا ہے یا ان مخصوص کیمپوں میں جہاں وہ رکھے گئے تھے مر گئے۔ اور عام طور پر اکثر خانقاہی لوگوں کو اپنا منصب چھوڑنے اور مذہبی لباس ترک کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ۱۹۷۹ء سے چین نے تبتوں کو اپنی خانقاہیں تعمیر کرنے کی اجازت دی اور ان میں سے اکثر پہلے ہی تعمیر ہو چکی تھیں۔ چینی حکومت نے ان میں سے دو یا تین کی تعمیر میں مدد بھی دی لیکن ان میں سے اکثریت کی تعمیر پہلے راہبوں اور تبت کی مقامی آبادی کی کوششوں سے ممکن ہوئی جو جلا وطنی میں رہ رہی ہے۔ ہزارہا لوگ راہب یا راہبائیں بن چکے ہیں لیکن چینی حکومت ایک بار پھر ان پر سخت پابندیاں لگا رہی ہے۔ پولیس اور بہت سے حکومتی جاسوس راہبوں کے روپ میں ان میں داخل ہو گئے ہیں اور وہ خانقاہوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ راہب اور راہبائیں چینی حکومت کی ظلم و ستم پر مبنی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اکثر احتجاج کرتے اور حقیقی خودمختاری اور مذہبی آزادی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

چینی کمیونسٹ حکمرانوں نے تبت میں بدھ مت پر کنٹرول حاصل کرنے کےلیے پنچن لامہ کی تجسیم کے تصور کو تلاش کرنے کے حوالے سے بہت کام کیا۔ پہلے پنچن لامہ جو سترھویں صدی میں موجود تھے پانچویں دلائی لامہ کے استاد تھے اور انہیں دلائی لامہ کے بعد تبتوں میں دوسرا بڑا عظیم ترین روحانی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ دلائی لامہ یا پنچن لامہ کے انتقال کے بعد ایسے بچے کو ان کے نائب کے طور پر چنا جاتا ہے جسے اپنے پیش رو کی تجسیم قرار دیا جائے۔ اس بچے کی تلاش غیب گویوں کے مشورے کے بعد کی جاتی ہے اور اس کی پہلی زندگی میں موجود لوگوں اور اشیا کے بارے میں اس کی صحیح یادداشت کو مکمل طور پر آزمایا جاتا ہے۔

اگرچہ پانچویں دلائی لامہ کے بعد آنے والے سب دلائی لامہ تبت کے روحانی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے سربراہ اور رہنما ہوتے تھے، پنچن لامہ کے پاس کبھی بھی کوئی سیاسی عہدہ نہیں رہا۔ تاہم ابتدائی بیسویں صدی سے چینی حکومت نے پنچن لامہ کو دلائی لامہ کے سیاسی حریف کے طور پر حمایت فراہم کر کے تبتوں کو تقسیم کرنے کی ناکام کوششیں بھی کی ہیں۔

شمال مشرقی ایشیا کے غیر-ہان چینی لوگوں کے ایک گروہ منچو نے سترھویں صدی سے ابتدائی بیسویں صدی تک چین پر حکومت کی۔ انہوں نے اپنی سلطنت کے دائرہ عمل میں منگولی اور تبتی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کیں اور اس کے لیے انہوں نے تبت کے بدھ مت کی غیر معمولی حد تک حمایت کی اور اس کے اداروں پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس کے اثر و رسوخ کے مرکز کو لہاسا سے بیجنگ منتقل کرنے کے لیے انہوں نے کئی خفیہ سازشیں بھی کیں۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں انہوں نے یہ اعلان کیا کہ صرف منچو شہنشاہ ہی دلائی لاماؤں اور پنچن لاماؤں کی تجسیموں کے انتخاب اور تعیناتی کا اختیار رکھتا ہے اور وہ یہ انتخاب ایک سنہری مرتبان سے قرعہ اندازی کرنے کے نظام کے ذریعے کرے گا۔ اہل تبت نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا اور پنچن لامہ کے انتخاب کی توثیق ہمیشہ دلائی لامہ ہی کرتے رہے۔

اپنے دعوؤں کے مطابق تو چینی حکومت لادینی حکومت ہے جو مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتی اور اس نے سابقہ شہنشاہی خاندانوں کی تمام حکومتی پالیسیوں کو مکمل طور پر غیر موثر کر دیا ہے جو اس سے پہلے چین پر حکمران تھے۔ پھر بھی ۱۹۹۵ء میں اس نے اپنے آپ کو منچو شہنشاہوں کا جائز وارث قرار دے دیا جب اس نے ۱۹۸۹ء میں انتقال کرنے والے دسویں پنچن لامہ کی تجسیم کو تلاش کرنے اور اس کی توثیق کرنے کا اختیار سنبھالا۔ یہ سب کچھ اس کے فورا بعد ہوا جب پنچن لامہ کی خانقاہ کے سربراہ نے پنچن لامہ کی تجسیم کا تعین کیا اور دلائی لامہ نے اس لڑکے کی باقاعدہ توثیق کی۔ بعدازاں اس لڑکے اور اس کے خاندان کو بیجنگ لے جایا گیا اور آج تک ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ خانقاہ کے سربراہ کو قید کر دیا گیا اور پنچن لامہ کی خانقاہ کو کمیونسٹوں کی سخت نگرانی میں دے دیا گیا۔ اس کے بعد چینی حکمرانوں نے حکم جاری کیا کہ تمام لامہ اساتذہ ایک تقریب میں اکٹھے ہوں اور اپنے پنچن لامہ کی تجسیم کا اعلان کریں۔ بعدازاں چین کے صدر نے چھ سالہ لڑکے سے ملاقات کی اور اسے حکم دیا کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کا وفادار رہے۔

چینی حکومت کی اس مداخلت کے علاوہ تبت میں بودھوں کو جس بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ ہے لائق اساتذہ کا نہ ہونا۔ صرف چند ہی بڑے گرو کمیونسٹوں کی عتاب سے بچ سکے ہیں اور ایسے چند ہی اساتذہ موجود ہیں جنہوں نے دو یا زیادہ سے زیادہ چار سالہ تربیت اس محدود نصاب کے تحت حاصل کی ہے جو پنچن لامہ کی کوششوں کے تحت قائم ہونے والے حکومتی بودھ کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر اندرونی چین میں مطالعے کا اس سے زیادہ رواج ہے۔ تبت کی اکثر خانقاہیں صرف سیاحوں کی دلچسپی ہی کے لیے کھلی ہوئی ہیں اور وہاں موجود راہب ٹکٹ دینے والے یا خانقاہوں میں آنے والے لوگوں کی میزبانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ عام طور پر عوام پختہ یقین کے حامل ہیں لیکن نوجوان نسل کا بڑا حصہ بے روزگاری اور یہاں ہن چینی آبادی کی منتقلی کی وجہ سے سخت مایوسی کا شکار ہے اور اس کے علاوہ اندرونی چین سے سستی شراب، ہیروئین، عریاں تصویریں اور جوے بازی کا سامان بھی یہاں فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا ہے۔

مشرقی ترکستان (سنکیانگ)

مشرقی ترکستان یعنی (سنکیانگ) میں رہنے والے کلمیک منگولوں کی اکثر خانقاہیں ثقافتی انقلاب کے دوران تباہ کر دی گئیں۔ ان میں سے بعض دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں لیکن اب بھی تبت کی نسبت یہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ نئے نوجوان راہب مطالعے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بہت مایوس ہوئے اور ان میں سے اکثر بدھ مت چھوڑ گئے۔

اندرونی منگولیا

تاہم عوامی جمہوریہ چین کے کنٹرول میں تبتی بودھوں کے لیے بدترین صورتحال اندرونی منگولیا میں ہے۔ اس کے مغربی حصوں کی اکثر خانقاہیں ثقافتی انقلاب کے دوران تباہ کر دی گئیں۔ اس کے مشرقی حصوں میں جو پہلے منچوریا کا حصہ تھا دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر، جب روسیوں نے شمالی چین کو جاپان سے آزاد کرنے میں مدد دی، اسٹالن کی فوجوں نے اکثر خانقاہوں کو تباہ کر دیا۔ رہی سہی کسر ثقافتی انقلاب نے آ کر پوری کر دی۔ اندرونی منگولیا میں پہلے سے موجود سات سو خانقاہوں میں سے صرف ستائیس باقی بچی ہیں۔ تاہم تبت اور سنکیانگ کے برعکس یہاں ان کی تعمیر نو پر بھی بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ یہاں ہان چینی آباد کاروں کی کثیر تعداد کی آمد اور مقامی لوگوں کے ساتھ شادیاں کےباعث مقامی آبادی کا اکثر شہری حصہ اپنی زبان، روایتی ثقافت یا بودھ مذہب میں کم ہی دلچسپی لیتا ہے۔ چند ایک خانقاہیں سیاحوں کی دلچسپی کے لیے کھلی ہیں اور وہاں محدود نوجوان راہب موجود ہیں لیکن ان کی کوئی تربیت نہیں ہے۔ صحرائے گوبی کے دور دراز علاقوں میں ایک یا دو خانقاہیں باقی بچی ہیں جہاں راہب اپنی روایتی رسمیں ادا کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی ستر سال سے کم عمر کا نہیں۔ تبتی علاقوں کے برعکس جہاں مرغزار بہت زیادہ ہیں اور جہاں خانہ بدوشوں کے پاس اپنی خانقاہوں کی تعمیر نو کے لیے وسائل اور نئے راہبوں کو خوراک دینے کے لیے ذرائع موجود ہیں،گوبی کے اندرونی منگولی خانہ بدوش ،جو اب بھی بدھ مت پر یقین رکھتے ہیں، بہت زیادہ غریب ہیں۔

منگولیا

خود منگولیا (بیرونی منگولیا) میں ہزاروں خانقاہیں موجود تھیں۔ ۱۹۳۷ء میں اسٹالن کے حکم پران میں سے اکثر پوری طرح اور بعض جزوی طور پر تباہ کر دی گئیں۔ ۱۹۴۶ء میں ایک خانقاہ کو دارالخلافہ آلان باتور میں علامتی طور پر کھولا گیا اور ۱۹۷۰ء کی ابتدا میں یہاں پر راہبوں کے لیے پانچ سالہ ٹرینگ کالج شروع کیا گیا۔ اس میں بہت ہی مختصر نصاب تھا جس میں زیادہ زور مارکس ازم کے مطالعے پر تھا۔ یہاں راہبوں کو لوگوں کے لیے بہت ہی محدود تعداد میں رسوم کی ادائیگی کی اجازت تھی۔ حکومتی کارندے تربیت لینے والے لوگوں کی بہت محتاط انداز سے تفتیش کرتے تھے۔ ۱۹۹۰ء میں کمیونزم کے زوال کے ساتھ ہی یہاں ہندوستان میں آنے والے جلا وطن تبتوں کی مدد سے بدھ مت کی بڑا موثر احیا ہوا۔ تربیت کے لیے بہت سے نئے راہبوں کو ہندوستان بھیجا گیا اور ایک سو پچاس خانقاہیں یا تو دوبارہ کھولی گئیں یا محدود معیار کے ساتھ دوبارہ تعمیر کی گئیں اور یہاں ہندوستان کے تبتوں میں سے بہت سے اساتذہ بھی آئے۔ تبت کے برعکس یہاں سب چھوڑ جانے والے راہبوں نے دوبارہ خانقاہوں سے وابستگی اختیار نہیں کی تھی اور صرف خانقاہوں کی تعمیر اور تائید کی حد تک کام کیا تھا۔ منگولیا میں بہت سے بوڑھے راہبوں نے دوبارہ خانقاہوں کے ساتھ وابستگی اختیار کر لی تھی۔ چونکہ ان میں سے اکثر نے گھروں میں بیویوں کے ساتھ رہنا اور وادکا شراب پینا ترک نہیں کیا تھا سو راہبوں کے نظم و ضبط کے قواعد سے متعلق یہاں سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

آج منگولیا میں بدھ مت کو جن سنجیدہ اور سنگین مسائل کا سامنا ہے وہ امریکہ کے شدت پسند مورمن اور بپتسمی عیسائی تبلیغی لوگ ہیں جو پہلے پہل تو صرف انگریزی سکھانے کے لیے آتے ہیں پھر وہ لوگوں کے بچوں کو، اگر وہ اپنا مذہب بدل لیں، امریکہ میں تعلیم کے لیے رقم اور امداد کی پیشکش کرتے ہیں۔ وہ وہاں عیسی علیہ السلام پر مقامی منگولی زبان میں چھپی ہوئی خوبصورت کتابیں مفت تقسیم کرتے ہیں اور فلمیں دکھاتے ہیں۔ ان کا مقابلہ بودھ لوگ نہیں کر سکتے، کیونکہ ابھی تک مقامی زبان میں بدھ مت پر کوئی کتاب موجود بھی نہیں بلکہ صرف پرانی کتابیں موجود ہیں جن کا شاید ہی کوئی ترجمہ کر سکتا ہے اور اگر ترجمے ہو بھی جائیں تو ایسی کتابوں کو شائع کرنے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں۔ لہذا نوجوان لوگ اور دانشور بدھ مت سے ہٹ کر عیسائیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

روس

روس میں روایتی تبتی بدھ مت کے تین علاقے ہیں: بوریاتیا جو سائبیریا میں جھیل بیکال کے قریب ہے، سائیبریا ہی میں مغربی منگولیا کے شمال کی طرف تووا اور بحیرہ قزوین کے شمال مغرب میں کالمیکیا۔ بوریاتیا اور کالمیک کے لوگ منگول ہیں جبکہ تووا کے لوگ ترکی ہیں۔ بوریاتیا کی تین خانقاہوں کے سوا ان سب علاقوں میں تمام خانقاہیں آواخر ۱۹۳۰ء میں اسٹالن کے حکم پر تباہ کر دی گئیں۔ ۱۹۴۰ء کے آواخر میں اسٹالن نے علامتی طور پر بوریاتیا میں دو خانقاہیں کھول دیں لیکن یہ کے جی بی کی سخت نگرانی میں تھیں۔ منصبوں سے ہٹائے گئے راہبوں نے دوبارہ اپنا لباس پہن لیا جو وہ دن کے وقت پہن لیتے تھے اور کچھ مذہبی رسوم ادا کرتے تھے۔ ان میں سے کئی منگولیا میں تربیتی کالج میں پڑھنے کے لیے چلے گئے۔ ۱۹۹۰ء میں کمیونزم کے زوال کے بعد ان تین علاقوں میں بدھ مت کا بڑے پیمانے پر احیا ہوا۔ جلا وطن تبتوں نے یہاں اساتذہ بھیجے اور نئے نوجوان راہب ہندوستان میں تبتی خانقاہوں میں تربیت لے رہے ہیں۔ اب بوریاتیا میں سترہ خانقاہیں دوبارہ قائم کی گئی ہیں۔ منگولیا ہی کی طرح یہاں بھی شراب ایک مسئلہ ہے، اور وہ خانقاہی لوگ جو پہلے راہب تھے ان کی اب بیویاں بھی ہیں لیکن منگولیا کے برعکس یہ خانقاہی لوگ غیر شادی شدہ راہب ہونے کا دعوی نہیں کرتے۔ کالمیکیا اور تووا میں خانقاہوں کو کھولنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ ان تینوں علاقوں میں عیسائی تبلیغی لوگ بھی مصروف عمل ہیں لیکن یہاں وہ منگولیا جتنے موثر اور مضبوط نہیں ہیں۔

بدھ مت کی دوسری روایت کے ایشیائی لوگوں میں تبتی بدھ مت سے متعلق بہت زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے۔ ہندوستان میں جلاوطن لوگوں میں سے اکثر تبتی اساتذہ کو یہاں بلایا جاتا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا، تائیوان، ہانگ کانگ اور کوریا میں پڑھانے کے لیے آئیں۔ لوگوں کو بدھ مت کی تعلیمات کی جو تبتی روایت میں موجود ہیں، بڑی واضح تشریح ملتی ہے اور وہ اسے اپنی روایت کو سمجھنے کے لیے بہت مفید اور معاون مواد سمجھتے ہیں۔ یہاں لوگ خوشحالی اور صحت کے حصول کے لیے بھی تبتی رسوم سیکھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

بدھ مت کے غیر روایتی ممالک

پوری دنیا میں غیر روایتی بودھی ممالک میں بھی بدھ مت کی تمام انواع موجود ہیں۔ ان میں دو بڑے گروہ ہیں: ایشیائی تارکین وطن اور غیر ایشیائی پیروکار۔ ایشیائی تارکین وطن نے خصوصا امریکہ اور آسٹریلیا میں کئی نسلی عبادت گاہیں تعمیر کی ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر یہی صورت حال کینیڈا، برازیل، پیرو اور کئی مغربی ممالک خصوصا فرانس میں بھی ہے۔ یہاں زیادہ زور مذہبی اعمال اور ترک وطن کر کے آنے والے لوگوں کے لیے ایک کمیونٹی سنٹر کی فراہمی پر ہے تاکہ وہ اپنی انفرادی ثقافت اور قومی شناخت کو برقرار رکھ سکیں۔

اب دنیا کے ہر براعظم میں تقریبا ۸۰ سے زیادہ ممالک میں تمام روایتوں کے بودھ دھرم مراکز موجود ہیں۔ ان میں اکثریت غیر ایشیائی لوگوں کی ہے جو مراقبے، مطالعے اور بودھ روایتوں کے متون کی ادائیگی پر زور دیتے ہیں۔ ان مراکز کی وسیع تعداد تبت، مراقبہزین اور تھرواد روایتوں سے متعلق ہے۔ ان مراکز پر موجود اساتذہ میں مغربی اور ایشائی نسلی بودھ لوگ دونوں موجود ہیں۔ ان کی بڑی تعداد امریکہ، فرانس اور جرمنی میں موجود ہے۔ مزید وسیع اور گہرے مطالعے اور تربیت کے لیے سنجیدہ طلبہ اکثر ایشیا آتے ہیں۔ مزیدبرآں دنیا بھر کی اکثر یونیورسٹیوں میں بدھ مت کے مطالعے کے پروگرام موجود ہیں اور بدھ مت اور دوسرے مذاہب ، سائنس، نفسیات اور طب میں فروغ پاتا ہوا مکالمہ اور تصورات و افکار کا تبادلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ تقدس مآب دلائی لامہ نے اس سلسلے میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔