ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

عالمی فہم و تفہیم میں تبتی زبانی اور متنی میراث کا حصہ: ترقی اور توقعات
(خلاصہ)

الیکزانڈر برزن
نئی دہلی، ھندوستان، دسمبر ۲۰۰۹ ء

تبتی ثقافت کئی مختلف تہذیبوں کی بنیاد پر ابھری مثلاً ژانگ ژُنگ، ھندوستانی، چینی، ایرانی، خُتنیاور ترکی تہذیبیں۔ یہ جامد اور دوسروں سے جدا نہیں رہی بلکہ یہ پھیلی اور شاہراہ ریشم، منگول علاقوں، شمالی چین، اور ہمالیہ کے نزدیک کے کئی لوگوں سے اس کا باہمی تعامل رہا۔ اس طریقِ عمل میں اس نے اپنی تاریخ میں عالمی فہم بڑھانے میں معنی خیز کردار ادا کیا۔ نتیجتاً کثیر جہتی تبتی ثقافت اور زبان نے وسطی ایشیا اور ہمالیہ کے علاقوں میں ایک وحدتی کردار ادا کیا جیسا کہ قرون وسطی کے یورپ میں رومی ثقافت اور لاطینی زبان نے ادا کیا تھا۔

تاہم، بیسویں صدی کے وسط سے شروع ہو کر، تبتی ثقافت کے کئی رخ مزید ممالک میں پھیل رہے ہیں یہاں تک کہ اب اس کی واقعی عالمی پہنچ ہے۔ اس رجحان کو حوصلہ ھندوستان اور نیپال میں تبتی جلا وطنوں کی آمد سے ملا اور اس امر سے کہ تبتی زبان اور ثقافت سیکھنے کے لیے مزید مادے اور مواقع پیدا ہو گئے۔

مزید از آں باہمی فہم بڑھانے اور ایک دوسرے کے روحانی طریقے سیکھنے کی خاطر تبتی اساتذہ دنیا کے اکثر مذاہب کے روحانی پیشواوں سے گفت و شنید میں مشغول ہیں۔ نیز وہ اپنے علم و تجربہ کے وسیع خزانوں میں بھی سائنسدانوں، ماہرینِ نفسیات، فلسفیوں اور کاروباری اور سیاسی رہنماؤں کو شریک کر رہے ہیں۔

عالمی باہمی فہم و تفہیم میں تبتی ثقافت کی جاری اعانت کا دارومدار اس کے اپنے مختلف نقوش کے روایتی شکل میں اور دوسری ثقافتوں سے باہمی تعامل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے رخوں کے تحفظ میں ہے۔ تبت کے زبانی اور متنی ورثہ سے متعلق کئی تنظیمیں اور منصوبے تبتی متون کو مائیکرو فلم پراور کمپیوٹر پر اسکین کر کے محفوظ کر رہے ہیں اور انہیں روایتی طریقہ سے بھی چھاپ رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر بھی۔ کئی اور لوگ عظیم تبتی اساتذہ کی زبانی تعلیمات کو ریکارڈ کر کے انہیں صوتی فائلوں، ویڈیو اور ڈی وی ڈی پر محفوظ اور مہیا کر رہے ہیں۔ مزید از آں بہت سے افراد اور ادارے ان زبانی اور متنی مادوں کا ترجمہ کر کے انہیں کتابوں اور انٹرنیٹ پر شایع کر رہے ہیں۔ کئی غیر تبتی لوگ بھی تربیت حاصل کر کے بون اور بودھی اساتذہ بن گئے ہیں۔ ان کی شایع شدہ تحریروں اور زبانی تعلیمات سے وہ ثقافتی موافقت اور تعلیمی طریقہ کار واضح ہوتے ہیں جو کہ تبت کے روحانی علوم اور دانائی کی عالمی تفہیم کی تسہیل کرتے ہیں۔

برزن دفتر خانہ (آرکائیو) اپنی بلا قیمت متعدد زبانوں کی ویب سائٹ (www.berzinarchives.com) کے ذریعہ اس عالمی تفہیم کو پرورش دینے کی کوششوں کی صفِ اول میں ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد سالانہ زائرین یہاں ڈاکٹر برزن کی تحریروں، تعلیمات، تبتی بدھ مت کی چار روایتوں کے تراجم، بدھ مت کی تاریخ، تبت اور وسطی ایشیا کی تاریخ، تبتی طب اور فلکیاتی علوم، اور بودھی مسلمان روابط جیسے موضوعات سے استفادہ کرنے آتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹر برزن کے استاذہ بشمول عزت مآب دلائی لامہ، تسنژابسرکونگرنپوچے، گَیشے نگاوانگدھارگیئےکے کئی یگانہ و یکتا تعلیماتی مادے اپنے ترجموں میں محفوظ ہیں۔ سن ۲۰۰۹ء کے اختتام پر یہاں چھ زبانوں یعنی انگریزی، جرمن، پولستانی، پرتگالی، ہسپانوی اور روسی میں ۱۴۰۰ تحریری مضامین اور ۷۰۰ صوتی فائلیں موجود تھیں۔ اس کے علاوہ چینی اور فرانسیسی حصوں کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور تبتی ثقافت کے فہم کی ترویج کے لیے برزن دفتر خانہ مسلمان دنیا سے رابطہ بڑھانے کی خاطر اپنی ویب سائٹ میں سے متعلقہ مادوں کا عربی اور اردو زبان میں ترجموں کا اہتمام کر رہا ہے۔ مستقبل میں اس منصوبہ کو فارسی، ترکی اور انڈونیشائی زبانوں میں بڑھانے کا بھی ارادہ ہے۔ اس طرح کی راہوں سے شاید تبتی ثقافت کی عالمی تفہیم، عالمی امن قائم کرنے میں شریک ہو سکے۔