ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

عالمی فہم و تفہیم میں تبتی زبانی اور متنی میراث کا حصہ: ترقی اور توقعات
(مختصر متن)

الیکزانڈر برزن
نئی دہلی، ھندوستان، دسمبر ۲۰۰۹ء

[نیز دیکھیے : مکمل متن۔]

 

مقدمہ

آج ہم یہاں اس کانفرنس میں 'عالمی فہم و تفہیم میں تبتی زبانی اور متنی میراث کا حصہ: ترقی اور توقعات' کے موضوع پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ تبتی ثقافت، ظاہر ہے کہ ایک وسیع موضوع ہے جس کے کئی پہلو ہیں: بودھی اور بون روحانی روایات، طب، تقویم سازی، علمِ نجوم، فنون، فنِ تعمیر، موسیقی،رقص، زبان اور ادب۔ تاہم ان میں سے کوئی پہلو بھی تنہائی میں نہیں ابھرا بلکہ سب نے دوسری تہذیبوں کے ساتھ رابطہ اور گفت و شنید کے عمل میں پرورش پائی۔ تبت وہ چوراہا تھا جہاں ژانگ ژنگ، ھندوستانی، چینی، یونانی، ایرانی خُتنی اور ترکی خیالات و افکار آپس میں آ ملتے تھے۔ تبتیوں نے ان میں سے کسی بھی روایت کو کاملاً قبول نہیں کیا، نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی مرکب صورت میں۔ بلکہ انہوں نے تمام اجنبی مادوں کو منتقدانہ طور پر لیا اور مختلف خیالات و افکار کو ملا کر اپنے طریقہ سے اپنا ایک یگانہ نظام تشکیل دیا۔

مزید از آں، تبتی ثقافت جو کہ کئی تہذیبوں کی بنیاد پر ابھری، جامد و ساکت نہیں رہی اور نہ ہی ارد گرد کے لوگوں سے تنہا اور جدا، بلکہ تبتی زبان و ثقافت پھیلے اور ان کا کئی دوسری تہذیبوں سے باہمی تعامل رہا جس نے لمبے عرصہ تک عالمی فہم بڑھانے میں معنی خیز کردار ادا کیا۔ اس سے قبل کہ ہم موجودہ زمانہ میں اس بین الثقافتی رجحان کا تجزیہ کریں، آئیے ہم اس کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔

تاریخی جائزہ

کئی صدیوں کے عرصہ میں تبتی ثقافت، شاہراہِ ریشم کے ساتھ شمالی سمت میں تریم طاس اور گانسو گزرگاہ کی شہری ریاستوں تک پہنچی اور پھر وہاں سے منگولیا، مشرقی ترکستان میں واقع دذونغاریا، موجودہ قازقستان اور کرغیزستانکے مشرقی حصے، شمالی چین، منچوریا اور روس کے بُریات، کلمیک اور تووا علاقوں تک پہنچی۔ جنوب میں یہ ہمالیائی ریاستوں اور ان سے پرے موجودہ شمالی پاکستان سے لے کرموجودہ شمالی برما تک پھیلی۔ نتیجتاً اس کثیر جہتی تبتی ثقافت اور زبان نے وسطی ایشیا اور ہمالیہ کے علاقوں میں ایک وحدتی کردار ادا کیا جیسا کہ قرون وسطی کے یورپ میں رومی ثقافت اور لاطینی زبان نے ادا کیا تھا۔

مثال کے طور پر ساتویں صدی عیسوی کے نصف سے لے کر نویں صدی کے نصف میں شاہ لنگ درما کے دورِ حکومت تک، تبتی سلطنت نے مختلف حد تک پورے علاقے میںکسیتریم طاس میں شاہراہِ ریشم سےکوہِہمالیہکےپارپر حکومت کی۔ اگرچہ اس وسیع علاقہ میں بہت سے قومی و نسلی گروہ اور ثقافتیں اور زبانیں موجود تھیں اور اس میں دور دراز کے تاجر سفر کرتے تھے، لیکن تبتی زبان اور ثقافت بین الاقوامی تفہیم کا ذریعہ تھیں۔

علاوہ بریں، شاہ لنگ درما کے قتل پر تبتی سلطنت کے سقوط و انتشار کے بعد کہ جب شاہراہ ریشم پر کئی میانہ سلطنتیں ابھر آئیں، تو تب بھی کئی صدیوں تک تبتی زبان اور بودھی ثقافت نے ان علاقوں میں ایک وحدتی کردار ادا کیا۔ مثلاً کم از کم دسویں صدی عیسوی کے آغاز تک گانسو گزرگاہ اور شاہراہ ریشم پر ختن تک، تبتی زبان تجارتی اور سفارتی مقاصد کے لیے استمعال ہوتی تھی کیونکہ یہ وہاں پر مختلف قوموں کی واحد مشترکہ زبان تھی۔ اس کے علاوہ اس علاقہ کے علما نے تبتی زبان سے بودھی متون کے مختلف مقامی زبانوں میں ترجمہ کیے بالخصوص ویغور زبان میں اور تنگوت زبان میں۔تنگوت تو تبتی حروفِ تہجی کو بھی استمعال کرتے تھے اپنے بیحد پیچیدہ نظام ِ کتابت کو لکھنے کے لیے تاکہ اس کی مدد سے تنگوت لوگ اپنی زبان سیکھ سکیں۔ کچھ چینی بودھی متون بھی تبتی حروف میں لکھے گئے تاکہ انہیں آسانی سے پڑھا جا سکے۔

تیرہویں صدی سے تبتی ثقافت اور بدھ مت منگول علاقوں میں پھیلنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد مختلف منگول شاخوں نے انہیں مزید دور تک پھیلایا۔دزونغر لوگوں نے انہیں مشرقی قازقستان اور کرغیزستان، روس کے والگا کے علاقہ کے کلمیک منگول، وسطی منگول اور سائبیریا کے بریات منگول اور توا کے ترکی علاقوں تک پہنچایا۔

چودہویں صدی عیسوی کے آغاز میں علما نے بودھی متون کا تبتی زبان سے منگول زبان میں ترجمہ شروع کر دیا تھا۔ ستارہویں صدی عیسوی تک منگول علما نے تمام "کانگیور" کا ترجمہ مکمل کر لیا تھا اور اٹھارہویں صدی کے نصف تک تمام "تنگیور" کا۔ ستارہویں صدی عیسوی کے پہلے نصف میں خاصے سارے بودھی متون کا ترجمہ مغربی منگولوں بشمول دزونغر اور کلمیک لوگوں کے، کی کلاسیکی زبان ویرات میں ہو چکا تھا۔ منگول اور ویرات زبانوں میں ان ترجموں کے باوجود بہت سے منگول علما نے اپنے متون اور تفاسیر تبتی زبان میں لکھے۔ ایک زمانہ میں خانقاہی مباحثہ بھی منگول زبان میں ہوتا تھا لیکن منگولوں کو جلد احساس ہو گیا کہ اسے تبتی زبان میں کرنا آسان تر ہے۔

تیرہویں صدی کے نصف میں قبلائی خان کے دور سے شروع ہو کر منگول، تبتی ثقافت اور بدھ مت کو شمالی چین لے گئے۔ اس وقت سے لے کر بیسویں صدی میں مانچوچِنگ خاندان کی حکومت کے خاتمہ تک، بدھ مت چین کے تقریباً سارے شہنشاہوں کا درباری مذہب تھا۔

مختصراً، اس وسیع علاقہ کے پیشتر حصوں میں کہ جہاں تبتی ثقافت جدید دور سے قبل پھیلی، خاص طور پر منگول اور ہمالیائی منطقوں میں، لوگ روایتی طور پر روحانی اور دانشمندانہ رہنمائی کے لیے تبت کی جانب دیکھتے ہیں۔ ان کی اکثریت کے لیے تبتی زبان کی حیثیت بطور تعلیم اور بودھی مشقوں کی بنیادی زبان کے، قائم رہی۔اس طرح سے تبتی زبان اور ثقافت روایتی طور پر اس وسیع علاقہ میں عالمی فہم و تفہیم کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔

جدید دور: عمومی پیشرفت

بیسویں صدی عیسوی کے نصف سے شروع ہو کر تبتی ثقافت کے پہلومزید کئی ممالک میں بھیل رہے ہیں اور اب اکیسویں صدی میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ تبتی ثقافت کی واقعی عالمی پہنچ ہے۔ یہ ایک بہت تیز پیشرفت ہے جس کا ایک بڑا محرک ھندوستان اور نیپال میں تبتی جلا وطنوں کی آمد تھی۔ مثال کے طور پر جب میں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں ۱۹۶۷ءمیں تبتی زبان پڑھنا شروع کی تو تبتی بدھ مت کے بارہ میں شاید ہی کوئی مادہ مہیا تھا۔تبتی زبان کے قواعد کی واحد کتاب جو مہیا تھی وہ عیسائی مبلغ جیشکہ نے انیسویں صدی کے وسط میں تحریر کی تھی اور یہ تبتی زبان کا تجزیہ لاطینی زبان کی اصطلاحات میں کرتی تھی

اب چالیس برس بعد صورتحال کاملاً مختلف ہے۔ بہت سے بودھی متون اور زبانی روایات اور کچھ کم حد تک،مختلف بون روایات کا ترجمہ اب کئی مغربی اور جدید ایشیائی زبانوں میں مہیا ہے۔ تبتی روحانی اساتذہ نے تمام دنیا میں کئی بودھی اور بون مراکز قائم کیے ہیں جہاں طلبا کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد مطالعہ اور مشق میں مصروف ہے۔ باوجود تراجم کی دستیابی کے، ان میں سے کئی مراکز میں بہت سے طلبا اپنی مشقیں اور عبادت تبتی زبان میں کرتے ہیں جسے وہ اپنی زبانوں کے حروف تہجی میں پڑھتے ہیں۔ جیسا کہ جدید دور سے قبل وسطی ایشیا اور ہمالیہ کے علاقوں میں تھا، اس سے بودھی اور بون پیرووں کے بین الاقوامی گروہ بنتے ہیں جن میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ سب تبتی زبان میں اپنی روحانی مشقیں کرتے ہیں۔

وہ پیرو اور علما جو کہ اپنی تعلیم کو زیادہ گہرائی میں جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے تبتی زبان سیکھنے کے لیے درسی کتب اور صوتی مواد کا ایک وسیع ذخیرہ ہے۔ زبان پر عبور حاصل کرنے کے بعد ان میں کئی لوگ مزید بودھی اور بون متون کو اپنی زبانوں میں منتقل کرتے ہیں۔کئی منگول گروہوں اور تووا اور ہمالیہ کے لوگوں کی پیروی میں دنیا کے دوسرے ممالک سے بھی طلبا کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد تبتی خانقاہوں میں تبتی زبان میں تعلیم حاصل کر رہی ہے اور یا اس کے ہمراہ یا علیحدہ تین سالہ شدید مراقبہ کے خلوتی دوروں میں حصہ لے رہی ہے۔ ان میں کئی ایک اپنی تعلیم کی تکمیل پر خود روحانی استاد بن گئے ہیں جس کے نتیجہ میں تبتی دانش و ثقافت اور بھی زیادہ پھیل رہی ہے۔

تبتی ثقافت کے دوسرے پہلووں سے بھی دنیا بہتر طور پر روشناس ہو رہی ہے۔ جدید زمانہ سے قبل تبتی طب، فنون، خانقاہی فنِ تعمیر، رسمی موسیقی اور رقص، علمِ نجوم اور تقویم سازی ان سب علاقوں میں عام تھے کہ جہاں بدھ مت اور بون کا پھیلاؤ تھا۔بہت سے تبتی طبیب غیر ممالک میں جاتے ہیں اور برِ صغیر اور تبت سے باہر بھی کئی تبتی شفاخانے کھل چکے ہیں۔ علاوہ براں، مغربی ڈاکٹر ہسپتالوں اور دانش گاہوں میں مخصوص بیماریوں کے لیے مختلف تبتی دواؤں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

تبتی فنون اور فنِ تعمیر بھی عالمی سطح پر مزید معروف ہو رہے ہیں۔دنیا بھر کے عجائب گھر اپنے تبتی فنون اور مجسموں کے مجموعوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ بہت سے غیر ملکی دھرم مراکز اور تبتی جلاوطن گروہ اپنی علاقوں میں تبتی طرز کے معبد بنا رہے ہیں۔ ریت کے منڈل بنانے کے لیے ھندوستان سے تبتی خانقاہیں راہبوں کو باہر بھیج رہی ہیں اور راہبوں اور راہبات کے گروہ بیرونی ممالک میں جا کر رسمی منتروں کی چاپ اور رقص کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کی صوتی اور ویڈیو ریکارڈنگ آسانی سے مہیا ہیں۔ تبتی فنِ ادا کے گروہوں نے کئی بین الاقوامی دورے کیے ہیں اور دنیا کے اکثر ممالک میں 'تبت خانوں' کا ایک جال وجود میں آ چکا ہے جن کا مقصد تبتی ثقافت کے ہر پہلو کی حفاظت اور فروغ ہے۔ ان مختلف ذریعوں سے تبتی ثقافت آج دنیا بھر میں مشہور ہے۔

تبتی ثقافت اور بھی کئی طریقوں سے دنیا بھر کو غنی تر کر رہی ہے۔ باہمی افہام و تفہیم بڑھانے اور روحانی طریقوں کے باہمی تبادلہ کی خاطر تبتی اساتذہ دنیا کے اکثر مذاہب کے روحانی پیشواوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں۔ وہ بین المذاہب سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ تبتی اساتذہ اپنے علم و دانش کے وسیع خزانوں میں سائنسدانوں، ماہرینِ نفسیات،فلسفیوں اور کاروباری اور سیاسی رہنماؤں کو بھی شریک کر رہے ہیں۔ یہاں خصوصی دلچسپی کا حامل ذہنی حالتوں، مراقبہ اور صحت کا اخلاق، ماحولیات اور پائدار ترقی سے تعلق ہے۔ اس کی سب سے عمدہ مثال تقدسِ مآب دلائی لامہ کی بنیادی انسانی اقدار، لادینی اخلاقیات اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں کاوشیں ہیں۔

تبتی زبانی اور متنی ورثہ کی روایتی حالتوں کا تحفظ

عالمی باہمی فہم و تفہیم میں تبتی ثقافت کی جاری اعانت کا دارومدار اس کے دو رخوں کے تحفظ پر ہے۔ ایک تو اس ثقافت کے نقوش کا اپنی روایتی حالت میں تحفظ اور دوسرا اس کے دوسری ثقافتوں کے ساتھ باہمی تعامل اور تطبیق کے نتیجہ میں کچھ نقوش کی نشوونما۔ یہ دوسرا موضوع اُس عمل کی بازگشت ہے کہ جس کے ذریعہ تبت نے ہندوستان اور نیپال کی بودھی ثقافت کا تاریخی طور پر تحفظ کیا۔ یہاں پر میں اپنے تبصرہ کو تبت کے زبانی اور متنی ورثہ تک محدود رکھوں گا۔

تبتی زبانی اور متنی روایات کی اپنی اصلی زبان میں تحفظ کی کاوشوں میں بہت سی کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ ابھی تک، تبتی علم و تجربہ کے عظیم ذخیرے کا محض ایک مختصر سا حصہ جدید یوروپی اور ایشیائی زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے لیکن اس کام کی تکمیل بہت اہم ہے۔ ابھی تک جو کچھ ترجمہ ہو چکا ہے اس نے دنیا کو ذہن اور کائنات کے نظام کا ایک ادراک دیا ہے۔ اور اس سے سائنسدانوں کو ایسے موضوعات پر تحقیق کی ترغیب ملی ہے کہ جن کے بارہ میں انہوں نے پہلے نہیں سوچا تھا، مثلاً جسمانی اور جذباتی صحت کی بہتری میں ہمدردی، ذہن نشینی اور ارتکاز کا کردار۔ پس غیر ترجمہ شدہ مواد میں اندرونی امن اور معاشرتی ہم آہنگی کے باب میں تحقیق کے بیشمار مواقع پنہاں ہیں۔

باوجود ٹیکنالوجی میں ترقی کے، ترجمہ کے کام کو مکمل ہونے میں ابھی کئی صدیاں درکار ہیں۔ پس تبتی زبانی اور متنی ورثہ کو مستقبل کی نسلوں کے کام کی تیاری کے طور پر اس کی اصل زبان میں تحفظ چاہیے۔ اور اس کے جو حصے دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں، ان تراجم کو بھی مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مزید از آں اصل زبان میں مواد کی موجودگی مزید تحقیق کو ممکن بناتی ہے۔

ھندوستان میں بارہویں اور تیرہویں صدی کے حملوں میں سنسکرت بودھی روایت کا اکثر حصہ ضایع ہو گیا تھا۔ تبت اس ثقافتی دولت کا محض ایک حصہ بچانے میں کامیاب ہوا۔ پھر بیسویں صدی میں بھی سوویت یونین، منگولیا اور عوامی جمہوریہ چین میں کمونیسٹ زیادتیوں کے باعث تبتی روایت کو بھی اس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑے۔ پس اب یہ ضروری ہے کہ دنیا کے فائدہ اور افزودگی، حال اور مستقبل دونوں کے لیے، تبتی زبانی اور متنی روایات کے باقی ماندہ حصہ کو جلد از جلد تلاشکر کے اس کے تحفظ کا بندوبست کیا جائے۔

یہاں پر اگرچہ تبتی روحانیروایات کے تحفظ کی تمام کاوشوں کا ذکر بعید از گنجائش ہے۔ یہمنصوبےبودھیاوربونتعلیماتاورزبانیتواریخکیڈیجیٹلریکارڈنگ،تبتیمتونکیمائیکروفلمپرمنتقلیاوراشاعتاورانہیںڈیجیٹلصورتمیںانٹرنیٹپرمہیاکرنےاورتبتی 'یونیکوڈ' بنانے،تلاشکےانجناورآنلائنلغتیںبنانےپرمشتملہیں۔

تبتی زبانی اور متنی ورثہ کا ترجمہ میں تحفظ

وہ تنظیموں اور افراد، جو کہ تبتی متون اور زبانی تعلیمات کا جدید یورپ اور ایشیائی زبانوں میں ترجمہ کر رہے ہیں، اتنے متعدد ہیں کہ یہاں ان سب کا ذکر ناممکن ہے۔تقریباً دس ہزار عنوان شایع ہو چکے ہیں۔ تبتی بدھ مت اور بون پر اتنی کثیر کتب کی دستیابی کی وجہ سے تبتی روحانی روایات کی عالمی آگاہی اور فہم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

تبتی زبانی اور متنی ورثہ کے تحفظ میں ایک قابل ذکر پیشرفت حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ ستمبر ۲۰۰۸ء میں "لائٹ آف بیروتسانہ" نے امریکہ کے شہر بولڈر، کولوراڈو میں ایک مترجمین کی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں ایک سو سے زائد تجربہ کار اور نو آموز تبتی مترجمین جمع ہوئے اس امر پر بحث کے لیے کہ وہ مل کر کس طرح تبتی روایات کے انتشار کے عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

اس ابتدائی کانفرنس کے بعد مارچ ۲۰۰۹ء میں 'کھیَنتسے فاؤنڈیشن ترجمہ کانفرنس : مہاتما بدھ کی الفاظ کا ترجمہ' ھندوستان کے شہر بیر میں ڈیر پارک اسنٹیٹیوٹ میں منعقد ہوئی۔ اس میں پچاس تجربہ کار تبتی مترجمین اور چاروں تبتی بودھی روایات کے مقدم لاماؤں نے شرکت کی اور 'بودھی ادبی ورثہ منصوبہ' کی بنا ڈالی جس کا عارضی مدیر دذونگسر کھیَنتسےرنپوچے کو مقرر کیا گیا۔ شرکاء نے صد سالہ تصور تجویز کیا یعنی "بودھی ادبی ورثہ کا ترجمہ کرنا اور اسے عالمی طور پر مہیا کرنا"۔ اس سے مراد تمام "کانگیور" اور "تنگیور" کا ترجمہ ہے بمعہ ان کی تبتی تفاسیر کے۔جب تمام بودھی مستند ادب دنیا کی اہم زبانوں میں دستیاب ہو گا تو اس کی دنیا کے علم و دانش کے خزانہ میں اضافہ کی کاوش اور اس کا عالمی تفہیم میں حصہ یقینی ہو جائے گا۔

تبتی زبانی اور متنی ورثہ کے ترجمہ میں ارتقا: ذخیرۂ برزن

پس منظر

آج کل دنیا کے مختلف ممالک سے بہت سارے غیر تبتی مشاق اور علما تبتی بدھ مت اور بون کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اپنے تبتی ساتھیوں کی طرح ان میں سے بھی بہت سے اپنے لیکچر اور اپنی تحریریں، کتابی شکل میں اور انٹرنیٹ پر شایع کر رہے ہیں۔ وہ اپنی تعلیمات کو صوتی، ویڈیو اور ڈی وی ڈی کی شکل میں بھی مہیا کر رہے ہیں اور اس شکل میں بھی انہیں انٹرنیٹ پر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ بودھی اور بون مواد کو روایتی اسلوب میں پیش کرتے ہیں لیکن بہت سے دوسرے اساتذہ نئے طریقہ ایجاد کر کے ان تعلیمات کو اپنے ماحول اور معاشرہ کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ میں اپنی باقی ماندہ تقریر میں اپنے اس کام کا خاکہ پیش کروں گا جو کہ میں اس ضمن میں ذخیرۂ برزن کی ویب سائٹ(www.berzinarchives.com) پر کر رہا ہوں۔

میں پہلی مرتبہ ھندوستان ۱۹۶۹ء میں گیا اور وہاں تبتی جلا وطنوں میں اپنی تعلیم شروع کی۔ یہ ہارورڈ یونیورسٹی میں میرے پی ایچ ڈی مقالہ کی تحقیق کے سلسلہ میں تھا جو کہ مشرقِ بعید کی زبانوں کے شعبہ اور ھندوستانی اور سنسکرت مطالعہ کے شعبہ میں مشترکہ تھی۔ ۱۹۷۲ء میں اپنی پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں ھندوستان لوٹ آیا جہاں میں نے کُل انتیس برس گزارے۔وہاں میری خوش قسمتی تھی کہ میں نے چاروں بودھی روایات کے عظیم اساتذہ کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل کی، خصوصاً تقدسِ مآب دلائی لامہ، تسنژابسرکونگرنپوچے اور گَیشےنگاوانگدھارگیئے۔ میں نے کئی لاماؤں کے ترجمان کا کام بھی کیا خاس طور پر تسنژابسرکونگرنپوچے کے لیے اور بہت سے تبتی متون کا تبتی اور سنسکرت سے انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ ۱۹۹۸ء کے اختتام پر میں تعلیمات کے ایک عظیم خزانہ کے ساتھ مغرب یعنی برلن، جرمنی واپس لوٹ آیا۔میرے پاس تقریباً تیس ہزار صفحات کے غیر مطبوعہ مخطوطات تھے۔ کئی کتابیں شایع کرنے اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کی پہنچ محدود ہے، میں نے فیصلہ کیا کہ انٹرنیٹ میری تحریروں کو وسیع پیمانہ پر مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے نومبر ۲۰۰۱ء میں ذخیرۂ برزن ویب سائٹ شروع کی اور یہ سخت پالیسی اپنائی کہ اس ویب سائٹ پر تمام مواد پڑھنے، سننے اور نقل کرنے کے لیے بالکل مفت ہو گا اور یہ ویب سائٹ کسی قسم کے تجارتی نقوش سے بالکل پاک ہو گی۔ میرا تصور یہ تھا کہ میں انٹرنیٹ کو اپنے تبتی اساتذہ کی تعلیمات کو ترجمہ کی صورت میںمحفوظ کرنے کے لیے استمعال کروں اور اس کے ساتھ ان کی تعلیمات کی اپنی تشریح پیش کروں جو کہ میں نے اُن کے زیر سایہ مطالعہ کے دوران مرتب کی۔ اس منصوبہ کو تقدسِ مآب دلائی لامہ کے علاوہ لِنگ رنپوچے اور تسنژابسرکونگرنپوچے کے موجودہ پنر جنموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس ویب سائٹ پر میرے تین اساتذہ کے لکچروں کی نقل نویسی یا تو میرے ترجمے اور یا پھر نوٹس کی صورت میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ متنی تراجم، مضامین اور کتابیں جو میں نے تحریر کی ہیں اور میرے لکچروں کی صوتی فائلیں موجود ہیں۔ اب اٹھ برس کا عرصہ گزرنے کے بعد اس سائٹ کے ساٹھ عدد رضاکار اور تنخواہ دار کارکن ہیں اور اس نے انگریزی زبان میں ۶۰۰ سے زائد مضامین اور ۴۵۰ سے زیادہ صوتی فائلیں انٹرنیٹ پر شایع کی ہیں۔یہ ذخیرۂ برزن کے غیر مطبوعہ مواد کا تقریباً تیس فیصد ہے۔ گزشتہ برس یعنی ۲۰۰۹ء میں اس ویب سائٹ پر تقریباً چھ لاکھ زائرین آئے اور گزشتہ چند ماہ میں دو ہزار سے زیادہ زائرین روزانہ آتے ہیں۔

مواد اور خصوصیات

اس ویب سائٹ کا مواد تبتی ثقافتی ورثہ سے متعلق مضامین کے ایک وسیع طیف پر مشتمل ہے۔ یہ بدھ مت کی تنتر تک تعارف سے لے کر چاروں تبتی روایات کے بودھی نظریہ اور مشق تک جاتا ہے اور اس میں کالچکر، دذوگ چن اور مہامُدرا پر خصوصی ابواب ہیں۔ علاوہ از ایں، تبتی طب اور علمِ نجوم، بون کے کچھ پہلو، اور بدھ مت، تبت اور وسطی ایشیا کی تاریخ پر بھی مضامین موجود ہیں۔ اس کے یگانہ حصوں میں سے ایک حصہ بدھ مت اور اسلام کے تاریخی باہمی تعامل پر ہے۔

عالمی فہم و تفہیم کے لیے تبتی ثقافتی ورثہ کی تعلیمات کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف ان کا وسیع پیمانہ پر انتشار ہو اور وہ آسانی سے مہیا ہوں بلکہ یہ بھی کہ انہیں ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ وہ جدید ذہنیت کے لیے آسان فہم ہوں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسے آلات مہیا کرتی ہے کہ جن کے ذریعہ یہ ممکن ہو جاتا ہے اور ہم نے ذخیرۂ برزن کی ویب سائٹ میں ان میں سے کئی آلات کو شامل کیا ہے۔

مثلاً ہمارے تکنیکی عملہ نے تحریری مضامین کو اس طرح پروگرام کیا ہے کہ ان تک نابینا لوگ بھی آسانی رسائی کر سکتے ہیں اور ہم صوتی فائلوں کی تحریری نقلیں بھی فراہم کرنے کے عمل میں ہیں تاکہ سماعت سے محروم افراد کی بھی ان تک رسائی ہو سکے۔اس کے علاوہہم میرے جاری درسوں کے ہفتہ وار لیکچروں کو پود کاسٹ کی شکل میں مہیا کر رہے ہیں

اس ویب سائٹ پر مواد کو تعلیمی مقاصد کے لیے مستفید بنانے کیخاطر ہم نے ہر حصہ میں مواد کی اس کی مشکل کے حساب سے درجہ بندی کی ہے۔ اور ہم تقابلی مطالعہ بھی پیش کرتے ہیں جس میں دکھایا جاتا ہے کہ مخصوص موضوعات کو چاروں بودھی روایات اور بون یا مہایان اور تھرواد کیسے پیش کرتے ہیں۔ مزید از آں، تعلیمی سہولت کے لیے ہم بودھی تکنیکی اصطلاحات کے نہ صرف تبتی زبان بلکہ اکثر سنسکرت میں بھی متبادل پیش کرتے ہیں۔نیز، ہم ان اصطلاحات کی وسیع فرہنگی فہرستیں کامل تعریفوں کے ساتھ اور ایک مکمل تلاش کا انجن مہیا کرتے ہیں۔

غیر انگریزی حصے

دنیا میں ستر سے زائد ممالک میں دانشگاہوں اور بودھی مرکزوں میں لیکچر دینے کے بعد میں یہ جان چکا ہوں کہ ہر کوئی انگریزی زبان سے واقف نہیں ہے۔ اور جو لوگ واقف ہیں بھی سہی ان میں سے بہت سے بودھی تعلیمات کو اپنی زبان میں زیادہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی ویب سائٹ کے مضامین کا، دنیا کی اہم جدید زبانوں میں سے جتنی میں بھی ممکن ہو سکا، ترجمہ کرواؤں گا اور ان کو ہر زبان کے علیحدہ حصہ میں مہیا کروں گا۔ فی الحالچھ مختلف زبانوں کے حصہ دستیاب ہیں۔ انگریزی کے علاوہ، جرمن، روسی، ہسپانوی، پرتگالی اور پولستانی حصوں میں انگریزی مضامین کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کا ترجمہ دستیاب ہے اور اس کے علاوہ بہت سی انگریزی صوتی فائلوں کی دو زبانی اقسام بھی ہیں۔ مثلاً جرمن حصہ میں ۳۵۰ سے زیادہ مضامین ہیں جبکہ روسی حصہ میں مضامین کی تعداد ۲۰۰ سے زائد ہے۔مزید از آن ہم اس وقت فرانسیسی اور چینی حصوں کی تیاری میں مصروف ہیں اور ہندی اور تامل زبانوں میں ترجمہ شروع ہیں۔

ذخیرۂ برزن کا بدھ مت اور اسلام ویب سائٹ منصوبہ

تقدسِ مآب دلائی لامہ نے تاکید کی ہے کہ عالمی تفہیم و ہم آہنگی کی ایک اہم کلید تعلیم ہے۔ فی الوقت اس نقطہ نظر کی سب سے اہم ضرورت اسلامی دنیا کے بارہ میں ہے۔ پس تقدس مآب کی تحریک و حمایت سے ہم نے ذخیرۂ برزن کا بدھ مت اور اسلام ویب سائٹ منصوبہ شروع کیا ہے۔ ہدف یہ ہے کہ اسلامی دینا کو اس کی اپنی زبانوں میں تبتی ثقافت و مذہب کے بارہ میں وسیع پیمانہ پر معلومات پیش کی جائیں کہ جن میں تبلیغ کی کوششوں کا کوئی شائبہ بھی نہ ہو۔ ایک متعدد زبانی ویب سائٹ پر اہم اسلامی زبانوں میں معلومات مہیا کرنا نہ صرف مسلمان عوام کے لیے عزت و لحاظ کی علامت ہے بلکہ یہ اسلامی دنیا کو عالمی سطح پر شریک کرنے کی بہت ضروری کاوش میں ایک قدم بھی ہے۔

یہ منصوبہ ویب سائٹ پر اسلام اور بدھ مت کے حصہ پر مشتمل ہے اوراس میں تقدسِ مآب کے مذہبی ہم آہنگی اور لادینی اخلاقیات پر لیکچروں کے متون اور تبتی تاریخ، طب، علمِ نجوم اور بدھ مت کے بنیادی اصولوں پر مضامین بھی شامل ہیں۔ اس کا پہلا مرحلہ عربی اور اردو زبانوں میں تراجم پر مشتمل ہے۔ دونوں زبانوں پر کام جاری ہے اور اس سلسلہ میں دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دانشگاہ، لاہور میں واقع اقبال اکادمی اور اسلام آباد میں اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ کا دوسرا مرحلہ فارسی، ترکی اور انڈونیشائی زبانوں پر مشتمل ہو گا۔

بودھی تعلیمات کی موافقت: "دھرم لائٹ" بہ مقابلہ "اصل دھرم"

ذخیرۂ برزنعالمی سطح پر ان منصوبوں میں سے ایک ہے جو کہ تبتی زبانی اور متنی ورثہ کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن یہ محض ان منصوبوں میں سے ایک ہی نہیں کہ جو جدید ٹیکنالوجی اور تدریسی طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس عظیم ورثہ کو زیادہ قابلِ رسائی بنا رہے ہیں بلکہ یہ ایک ایسا آستانہ بھی ہے جہاں ذاتی ارتقا اور نتیجتاً عالمی ہم آہنگی کی خاطراس ورثہ کی جدید موافقتیں اور اطلاق بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

لیکن تبتی ورثہ کی جدید تطبیق کے نقش بنانے اور انہیں پیش کرنے میں، اور بالخصوص، تبتی بدھ مت کی جدید تطبیق میں، ایک اہم تفریق کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے میں نے "اصل کوکا کولا" اور "کوکا کولا لائٹ" کی طرز پر "اصل دھرم" اور "دھرم لائٹ" کی اصطلاح وضح کی ہے۔"دھرم لائٹ" سے مراد بودھی تعلیمات کو بطور محض اس زندگی کی معیار کو بہتر بنانے کی تعلیمات کے پیش کرنا ہے۔ جبکہ "اصل دھرم" ان تعلیمات کو پیش کرتا ہے بطور مستقبل کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے طریقوں کے، سمساری پنر جنموں کے ناقابل تسخیر طور پر مکرر ادوار سے مکش حاصل کرنے کے طریقوں کے اور ایک بدھ کی روشن ضمیری حاصل کرنے کے طریقوں کے، کہ جس کے نتیجہ میں ہم ہر ایک ہر ممکن مدد کر سکیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم دھرم کی ان دو اقسام کو الگ، الگ سمجھنے میں غلطی نہ کریں ورنہ بدھ مت محض نفسیاتی علاج کی ایک قسم بن کے رہ جاتا ہے جو کہ یہ ہرگز نہیں ہے۔ بدھ مت اس کے از حد وسیع تر ہے۔

اگر لوگ "دھرم لائٹ" کو اس زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بطور ایک علاج کے استمعال کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ تبت کے اس بودھی ورثہ کی یہ تطبیق بہت فائدہ مند ہے۔ تاہم، "دھرم لائٹ" پیش کرتے ہوئے اس امر کو واضح کر دینا چاہیے کہ یہ "اصل دھرم" نہیں ہے اور اس کی مشق محض اس زندگی کو بہتر بنانے کی خاطر کی جاتی ہے۔ تاہم، اگر اس کو "اصل دھرم" کی مشق کے ابتدائی قدم کے طور پر لیا جائے تو پھر "دھرم لائٹ" کو لام رِم یعنی 'راہ کے مدرج مراحل' کی ساخت میں با آسانی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ ابتدائی سطح کی تحریک یعنی مستقبل کی زندگیوں کی بہتری، سے قبل کا ایک تربیتی مرحلہ ہو گا۔

ذخیرۂ برزن کی ویب سائٹ پر میں نے "اصل دھرم" اور "دھرم لائٹ" کا فرق واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ویب سائٹ پر بدھ مت کی کئی جدید تطبیقیں موجود ہیں کہ جنہیں میں نے ایجاد کیا ہے۔ یہ سب روایتی بودھی تعلیمات اور مراقبہ کے طریقوں سے استفادہ کرتی ہیں اور انہیں بے حسی، زود حسی، بے اعتمادی، احساسِ جرم، عزت نفس میں کمی اور بیگانگی کے احساس جیسی مشکلات پر قابو پانے کے لیے استمعال کیا جا سکتا ہے۔ روایتی ھندوستانی اور تبتی بودھی متون ان موضوعات کا صریحاً ذکر نہیں کرتے۔ یہ اس لیے کہ سنسکرت اور تبتی زبانوں میں ان علامات کی اصطلاحات موجود نہیں ہیں۔ تاہم بودھی تعلیمات میں طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے تمام اذیتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے بشمول مندرجہ بالا بیماریوں کے۔ ان "اصل دھرم" طریقوں کو "دھرم لائٹ" روش سے پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ ان مشکلات کو اس زندگی میں کم کیا جائے۔

جو دو اہم تربیتی پروگرام میں نے تشکیل دے کر اپنی ویب سائٹ پر پیش کیے ہیں ان میں یہی طریقہ کار استمعال کیا گیا ہے۔ یہ ہیں"معتدل حساسیت کی تشکیل" اور "اپنی زندگی کی تکمیل کی مشقیں"۔ اس تمام تربیتی عمل کے دوران میں تاکید کرتا ہوں کہ اگر لوگ چاہیں تو اسے بطور "دھرم لائٹ" علاج کے طور پر استمعال کریں اس زندگی کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اور یا اگر چاہیں تو اسے "اصل دھرم" تربیت کے طور پر۔ اس قسم کے پروگراموں اور خصوصیات کے ساتھ ذخیرۂ برزن کی ویب سائٹ تبتی ورثہ کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا میں متعارف کروانے کے عمل میں پیشقدم ہے۔

اختتامی تبصرات

پس، مختصراً، جیسا کہ ہم نے دیکھا، تاریخی طور پر تبتی زبانی اور متنی ورثہ نے تمام وسطی ایشیا میں عالمی تفہیم پھیلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ فی الوقت بہت سے لوگ اور تنظیمیں اس ورثہ کے تحفظ کی کوششوں میں سرگرم ہیں اور وہ اس میں بہت سی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم تحفظ کا محض یہ مقصد نہیں کہ اس ورثہ کو اس کی اصلی حالت میں کسی عجائب گھر یا کتاب خانہ کے مجموعہ کی ماند پیش کر دیا جائے یا انٹرنیٹ پر یہ مہیا ہو۔ جس طرح تبتی روایات کئی صدیوں سے ارتقا پزیر ہیں، اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔ یہ نہ صرف اس عظیم ورثہ کے بطور ایک زندہ روایت کے قائم رہنے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ عالمی تفہیم کے فروغ میں اپنا حصہ ادا کرتا رہے۔

اس دنیا میں بڑھتی ہوئی عالمگیریت اور معلومات کے تبادلہ کے دور میں تبتی ورثہ بہت کچھ پیش کرتا ہے۔ ہر ثقافت کی اپنی یکتا خصوصیات اور نقوش ہوتے ہیں جو کہ اس دنیا کے انسانی تنوع کو بڑھاتے ہیں۔ تبتی ورثہ تاہم اس سے بہت زیادہ کچھ پیش کرتا ہے۔ اس کی بودھی اور بون روایات وہ بصیرت اور بینش مہیا کرتی ہیں کہ جن سے دنیا کا مشترکہ علم کا خزانہ غنی تر ہو جاتا ہے، اور دوسری تہذیبوں کے باہمی تعامل سے سائنس، طب اور علمِ نفسیات جیسے موضوعات میں تحقیق کو محرک کرتا ہے۔ تقدسِ مآب جناب دلائی لامہ کی رہنمائی، تحریک اور ان تھک کاوشوں کی بدولت تبتی ورثہ ابھی تک عالمی تفہیم کے فروغ میں ایک نمایاں کردار ادا کر چکا ہے۔ ہم سب کی مشترکہکوششوں سے مزید کمک کا امکان روشن تر نظر آتا ہے۔ شکریہ۔