ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت آج کی دنیا میں > تقدس مآب چودھویں دلائی لاما کا عالمی بدھ متی اجتماع ۲۰۱۱ سے الوداعی خطاب

تقدس مآب چودھویں دلائی لاما کا عالمی بدھ متی اجتماع ۲۰۱۱ سے الوداعی خطاب

نئی دہلی، ہندوستان، ۳۰ نومبر ۲۰۱۱
(ان حاضرین سے خطاب جن میں ایشیا کے تمام بدھ متی ممالک کی راہب جماعتوں کے معتبر ارکان بھی شامل تھے)
نقل نویسی از ڈائینا یلیس
خفیف ترمیم از لیوک رابرٹس اور الیگزینڈر برزن

معزز ومعمر بدھ متی بھائیو بہنو، اور تمام دیگر حضرات جو یہاں آۓ ہیں: ایک بدھ متی راہب کے لئے بیشک یہ نہائت رقت انگیز اور پر مسرت لمحہ ہے۔ یہ ایک دستور ہے کہ جو آخر میں بولتا ہے اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا۔ تمام اچھی باتیں پہلے ہی کہی جا چکی ہیں۔

سب کی برابری پر زور دینے کی اہمیت بطور انسانیت کے جزوِ لازم کے

میرا مطمح نظر اور میرا احساس یہ ہے کہ مانا کہ میں ایک بدھ مت کا پیروکار ہوں؛ مگر اس سے بھی بڑھ کر، دراصل میں ایک انسان ہوں، قریب قریب سات ارب انسانوں میں سے ایک۔ میں ان میں سے ایک ہوں۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ لہٰذا ہر فرد کا مستقبل بقیہ ماندہ انسانیت سے متصل ہے۔ پس مجھے اپنے بھلے کی خاطر تمام انسانیت پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے۔

بنیادی سطح پر اور انسانی سطح پر، میرے مشاہدہ کے مطابق، میں اس بات سے واقف ہوں کہ دنیا میں تقریباً سات ارب لوگ ہیں۔ ہر شخص مسرت کا متلاشی ہے، کوئی بھی دکھ نہیں چاہتا؛ اور ہر شخص کو اسے حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔ ان میں کوئی فرق نہیں۔ ہمارا مذہب کچھ بھی ہو، یا ہم بے دین ہوں، یا ہمارا سماجی رتبہ کچھ بھی ہو – امیر یا غریب، پڑھے لکھے یا ان پڑھ، شاہی خاندان سے یا فقیر – انسانیت کے ناطے سے ہم سب ایک جیسے ہیں۔ ہم سب ایک جیسے ہیں۔ ہم سب کو وہی استحقاق حاصل ہے۔

میرے خیال میں انسانیت، من حیث المجموع، جن مسائل سے دوچار ہے، ہم ذیلی درجہ، یعنی ذیلی درجہ کی تفریق کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اگر ہم بنیادی سطح پر سوچیں کہ ہم سب ایک ہی جیسے بھائی اور بہن ہیں، تو پھر آپس میں جھگڑنے، ایک دوسرے کو دھوکہ دینے، یا حقارت کی نظر سے دیکھنے کا جواز نظر نہیں آتا۔ ہم سب ایک جیسے ہیں۔ پس ہمیں اس بات کا شفاف ادراک ہونا چاہئے کہ ہم سب ایک جیسے ہیں۔

ہم سب کا یہ مقصد اور یہ ذمہ داری ہے کہ انسانیت کے لئے ایک خوشحال مستقبل تشکیل دیں۔ لیکن ہم بدھ متوں کا – میرے خیال میں ایک ارب کے قریب – بھی فرض ہے کہ انسانیت کی خدمت کریں۔ میرے خیال میں مہاتما بدھ شکیامونی کا روشن ضمیری حاصل کرنا تمام ذی شعور لوگوں کے لئے تھا۔ ان کی تمام زندگی اور تمام تعلیمات سب ذی شعور لوگوں کے لئے ہیں، محض بدھ متوں کے لئے نہیں۔

بیسویں صدی پر ایک طائرانہ نظر

ذرا بیسویں صدی پر ایک نظر ڈالئے۔ میرے خیال میں بیسویں صدی پوری انسانی تاریخ میں بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ہم نے بیشمار مفید چیزیں ایجاد کیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بیسویں صدی جنگ و جدل اور خون خرابے میں بھی نمایاں ہے۔ حتیٰ کہ مذہب کے نام پر بھی بہت پھوٹ پڑی اور خون خرابہ ہوا۔ تو بیسویں صدی در حقیقت جنگ و جدل اور خون خرابہ کی صدی تھی۔ بعض مورخین کے اندازے کے مطابق بیس کروڑ سے زیادہ انسان جاں بحق ہوۓ۔ اگر اس بے بہا دکھ سے واقعی کرہ ارض کو چند اچھی چیزیں ملیں، دنیا پہلے سے زیادہ شانت اور خوشحال ہو گئی، تو پھر تو اس قدر دکھ کا کوئی جواز ہو سکتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اکیسویں صدی کے اوائل میں بھی ادھر اُدھر کچھ غیر صحت مند، نا خوشگوار چیزیں موجود ہیں۔ میرے خیال میں یہ ماضی کی غلطیوں اور لا پرواہی کا نتیجہ ہے۔

جہاں تک ٹیکنالوجی کا تعلق ہے تو اس میدان میں بیحد ترقی ہوئی، مگر بعض اوقات اس ٹیکنالوجی نے تباہی و بربادی میں اضافہ کیا۔ سائینس اور ٹیکنالوجی بذات خود لاجواب ہیں؛ مگر ان کے صحیح استعمال کا دارومدار ہمارے دلوں پر ہے۔ اس کا انحصار ٹیکنالوجی استعمال میں لانے والے کے دل پر ہے، سائینس کے علم پر اور اسے استعمال کرنے والے پر۔ اگر آپ مال و دولت، سائینس اور ٹیکنالوجی سے ایک بہتر دنیا کی توقع رکھتے ہیں تو یہ غلط ہے۔ اگر آپ حقیقتاً ایک بہتر، خوشحال دنیا چاہتے ہیں تو اس کا دارومدار ہمارے دلوں پر ہے۔ عقل اور تعلیم بھی ایک بہتر دنیا کی ضمانت نہیں ہیں۔ یہ سب شرپسند جو ہمارے یہاں گذرے – میرے خیال میں، جہاں تک ذہانت کا تعلق ہے، یہ بڑے سیانے لوگ تھے۔ تو پس یہ ان کے محرکات تھے – غصہ، خوف، نفرت، شک شبہ – جو ان مسائل کے پس پردہ تھے۔

نجی سطح پر من کی شانتی کی اہمیت

لہٰذا اکیسویں صدی کو امن کی صدی بنانے کے لئے ہمیں اولاً من کی شانتی پر غور کرنا ہے۔ امن کبھی بھی نعروں اور قراردادوں سے نہیں ملتا۔ امن من کی شانتی سے ملتا ہے۔ صرف یہی راستہ ہے۔ لہٰذا ایک خوشحال دنیا تشکیل دینے کی خاطر ہمیں بہرحال ہر انسان کے محرکات کا جائزہ لینا ہو گا۔ ایک عالمی ادارہ، جیسا کہ اقوام متحدہ، کے ذریعہ امن ناممکن ہے۔ امن انسانوں کی نجی سطح پر من کی شانتی سے آۓ گا۔

مذہبی ریاکاری سے اجتناب

افراد کا مجتمع ہونا – یعنی ایک معاشرہ، ایک گروہ۔ مگر معاشرے میں پیدا ہونے والے قائدین اخلاقیات یا کسی ضابطہ اخلاق سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ معاشرے کا ایک ہی مطمح نظر ہوتا ہے، وہ ہے دولت اور طاقت۔ لہٰذا ایسے معاشرے کی پیداوار انسان لازمی طور پر دولت اور طاقت کو اہم جانتے ہیں۔ ہم انہیں الزام نہیں دے سکتے۔ ہمارے پورے معاشرے کا انداز فکر یہی ہے۔

میرے خیال میں بہت سے مذہبی لوگ محض زبانی جمع خرچ کرتے ہیں "خدا" یا "مہاتما بدھ" کا نام لیکر۔ مگر اپنی زندگی کے معاملات میں وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ہم بدھ متی لوگ مہاتما بدھ کی عبادت تو کرتے ہیں مگر روزمرہ معاملات زندگی میں ہمیں مہاتما بدھ سے کوئی سروکار نہیں – صرف دولت، طاقت اور شہرت۔ تو یہ کیا ہے؟ میرے خیال میں ہم مذہبی لوگ بھی بعض اوقات ریاکاری سے کام لیتے ہیں۔ ہم تمام ذی شعور لوگوں کے لئے دعا تو مانگتے ہیں لیکن حقیقی عمل؟ ہمیں دوسروں کے حقوق سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم محض استحصال کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اور بھی بہت سارے مذہبی لوگ عبادت کرتے ہیں، وہ خدا سے دعا مانگتے ہیں – "ّمیں خدا پر ایمان رکھتا ہوں، وہ جو ہمارا خالق ہے" – لیکن ہم مخلوق خالق کی آواز نہیں سنتے، خالق کی دی ہوئی ہدائت۔

میں اکثر اپنے ہندوستانی دوستوں سے کہتا ہوں کہ ہندوستانی لوگ نسبتاً زیادہ مذہبی ہیں۔ وہ شو اور گنیش کی عبادت کرتے ہیں – میرے خیال میں گنیش کی خصوصاً صحت کے لئے۔ تو وہ عبادت اور دعا گوئی کے عادی ہیں۔ میرے خیال میں وہاں ہر گھر میں بھگوان کی کوئی مورتی ہے۔ مگر ان کی حقیقی زندگی میں بہت بد عنوانی ہے۔ تو یہ کیسے ہوا؟ کسی بھی خدا یا مہاتما بدھ نے بد عنوانی کو جائز قرار نہیں دیا۔ ہمیں ایماندار اور حق پرست ہونا چاہئے۔ کسی بھی برگزیدہ استاد نے یہ نہیں کہا، "اے لوگو، جس قدر جی چاہے استحصال کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔" کسی خدا نے یہ نہیں کہا۔

لہٰذا اگر ہم نے کسی برگزیدہ ہستی جیسے مہاتما بدھ، حضرت عیسیٰ یا محمدﷺ یا کسی اور کو مانا ہے تو پھر ہمیں ایماندار اور راست گو ہونا چاہئے۔ ایسا کرنے سے تمہارے اندر مزید خوداعتمادی پیدا ہو گی: "مجھے کچھ نہیں چھپانا؛ میں سب سے صاف صاف کہہ سکتا ہوں کہ میں کیا سوچ رکھتا ہوں، اور کسی بھی سوال کا جواب ایمانداری سے دے سکتا ہوں۔" اس طرح تمہیں دوسروں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ پس تمہارے اپنے مطلبی نکتہ نظر سے ایمانداری اور صاف گوئی اندرونی قوت اور خوداعتمادی کا بہترین منبع ہے۔ بے شک ایسے لوگ بھی ہیں جو مسکرا کر بڑے نفیس انداز سے بات کرتے ہیں، مگر اگر آپ ان کی ترغیب کا جائزہ لیں تو بات کچھ اور ہی نکلتی ہے۔ آپ کیسے ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں یا ان کی عزت کر سکتے ہیں؟

خلوص دل سے بدھ مت پر چلنا

میں ایک بدھ متی ہوں اور میں اپنے بدھ متی بھائی بہنو سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ مہاتما بدھ کی تعلیمات اڑھائی ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں، مگر مہاتما بدھ کی تعلیمات آج کی دنیا میں بھی با معنی ہیں۔ بہت سے اعلیٰ پاۓ کے سائنسدان مزید معلومات حاصل کرنے اور مزید طریقے معلوم کرنے کے زبردست خواہاں ہیں تا کہ تخریبی جذبات پر قابو پایا جا سکے۔ تعلیمات تو بیمثال ہیں مگر مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آج کل کے لاما [روحانی عالم] یا ٹولکو [تناسخ لاما] یا اساتذہ کا معیار گر گیا ہے۔ میں اس بارے میں فکر مند ہوں۔ اگر آپ کی اپنی زندگی میں ہی ضبط نفس کا فقدان ہے تو آپ اوروں کو کیا سکھا سکتے ہیں؟ اوروں کو صراط مستقیم دکھانے کے لئے آپ کو خود صراط مستقیم پر چلنا ہو گا۔

اب چونکہ تمام مثبت باتیں تو پہلے ہی کہی جا چکی ہیں پس میرے لئے صرف مزید منفی باتیں کہنے کو بچی ہیں۔ ہمیں نہائت سنجیدگی سے کام لینا چاہئے۔ میں خود ایک بدھ متی راہب ہوں۔ میں ہر دم اپنے آپ پر نظر رکھتا ہوں۔ ہر صبح اٹھتے ہی میں مہاتما بدھ کو یاد کرتا ہوں اور اس کی بتائی کچھ باتوں کا ورد کرتا ہوں، اپنے من کو ڈھالنے کی خاطر۔ پھر باقی تمام دن ان اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں: ایمانداری، راست بازی، درد مندی، شانتی، امن پسندی۔ تو میں امید کرتا ہوں کہ یہاں موجود میرے بدھ متی بہن اور بھائی جب کہتے ہیں"بدھ دھرم [مہاتما بدھ کی تعلیمات]، بدھ دھرم" اور بدھ دھرم کو بڑھاوا دیتے ہیں، بدھ دھرم کا پرچار کرتے ہیں، تو پہلے آپ اسے یہاں اپنے دلوں میں بٹھاتے ہیں۔ پس یہ نہائت ہی اہم ہے، یہ ایک بات – بدھ دھرم۔

بے شک دنیا کے دیگر بڑے بڑے مذاہب بھی ایسے من کی شانتی پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس طرح ایک بہتر دنیا تشکیل دینے کی۔ مگر بدھ مت، جین مت، اور سانکھیہ مذہب کے کچھ حصوں میں ایک خصوصی وصف یہ ہے کہ یہ افراد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ سب سے اہم بات نظریہء خود ہویدیت ہےاور ہم قانون علت و معلول کے قائل ہیں: اگر آپ کے اعمال اچھے ہوں گے تو نتائج بھی اچھے ہوں گے۔ اگر آپ کے اعمال منفی ہوں گے تو نتائج بھی منفی ہوں گے۔ پس قانون علت و معلول کی وجہ سے اگر آپ بد اعمالی کے مرتکب ہوں تو مہاتما بدھ بھی آپ کو نہیں بچا سکتے۔ مہاتما بدھ نے کہا:" میں تمہیں نروان [تمام دکھ سے مکش] کا راستہ دکھاؤں گا ، لیکن کیا تم اسے حاصل کر پاؤگے، اس کا انحصار کلی طور پر تمہارے اوپر ہے۔ میں عنایات حاصل کرنے میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔" مہاتما بدھ نے کبھی ایسے نہیں کہا۔

پس تم اپنے مالک خود ہو۔ یہ انداز تدریس میرے خیال میں نہائت کار آمد ہے۔ ہر بات کا انحصار فرد کے اپنے اعمال پر ہے۔ اعمال، خواہ اچھے ہوں یا برے، کا انحصار مکمل طور پر ترغیب پر ہے۔ تو اس طرح میرے خیال میں بدھ دھرم من کی شانتی حاصل کرنے میں بے حد مددگار ہو سکتا ہے۔

مختلف بدھ متی افکار میں ہم آہنگی

کل جب ہم برما، لاؤس اور دیگر ممالک کے قائدین سے ملے تو میں نے ذکر کیا تھا کہ ماضی میں ایسے نام "ہینیان"، "مہایان" اور "تنتریان" کے استعمال سے لوگوں نے یہ تاثر لیا کہ یہ تین 'یان' [گاڑی] واقعی ایک دوسرے سے مختلف اور جدا ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ جیسا کہ میں نے آج صبح مختصراً ذکر کیا تھا کہ تھرواد مسلک یا پالی مسلک بدھ دھرم کی اساس ہیں؛ اور 'ونایا' کی عبادت [راہبانہ عہد و پیمان اور نظم و ضبط] بدھ دھرم کی بنیاد ہیں۔

ذرا مہاتما بدھ پر نظر ڈالیں، اس کی اپنی داستان پر۔ اس نے اپنے بال مونڈ ڈالے اور ایک راہب بن گیا۔ اسے کہتے ہیں 'سلا' [اخلاقی ضبط نفس]۔ پھر اس نے چھ سال مراقبہ کیا۔ اسے کہتے ہیں 'سمادھی' [مکمل ارتکاز]، اور اس نے 'وپاسنا' [ایک غیر معمولی زیرک من] کی عبادت کی۔ اس طرح اس نے روشن ضمیری حاصل کی۔ تو یہ تین قسم کی عبادات ہیں: سلا، سمادھی اور 'پنّیا' [امتیازی آگہی، حکمت] یا وپسّن۔ لہٰذا ہم جو اس کے پیروکار ہیں ہمیں یہی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ ضبط نفس اور ونے کی مشق کے بغیر ہم کیسے 'سماتھا' [ایک ساکت اور شانت من] اور وپاسنا پیدا کر سکتے ہیں؟ مشکل ہے۔ پس پالی مسلک بدھ دھرم کی اساس ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر میرے خیال میں سنسکرت روائت سے حاصل کردہ "پرجنا پارمتاسوتروں" ["حکمت کی کاملیت کے سوتروں"] جس میں 'نرودھ' [دکھ اور اس کی وجوہات کا حقیقی تدارک] پر، جو کہ تیسری بلند و بالا سچائی ہے، زور دیا جاتا ہے۔ تو یہ مزید تصریح اہم ہے۔ نرودھ کیا ہے؟ مہاتما بدھ نے ہماری لاعلمی کے خاتمہ کے امکان کا اظہار کیا۔ ایک بار اگر ہم مکمل طور پر اپنے من سے لاعلمی کو خارج کر دیں تو ہمیں نرودھ یا مکش حاصل ہو جاۓ۔ تو یہ مزید وضاحت ہے۔ اور پھر 'مگّ' [حقیقی مکش حاصل کرنے کی راہ یا اس کی فہم، یعنی چار بلندوبالا سچائیاں] اس کی مزید وضاحت ہے۔

لہٰذا پالی مسلک کی اساس پر سنسکرت مسلک قائم ہوا ہے، جیسے پہلی منزل۔ دوسرے لفظوں میں پہلے زمینی سطح ہے، جو کہ پالی مسلک ہے – 'بھکشو' [راہب] عبادت، ضبط نفس، سلا۔ پھر آتی ہے پہلی منزل، "پرجنا پارمتاسوتروں" تر اور 'ابھیدھرم' [علم کے خصوصی موضوعات]، ایک قسم کا ابھیدھرم – حکمت کے متعلق تعلیمات، چھ 'پارمتا' [دور رس رویوں، کمالات] یا دس پارمتا۔ پھر اس سے بھی اوپر بدھ متی تنتریان – یعنی دیوی، دیوتاؤں کی فہم و فراست جس کی بنیاد وپاسنا، سماتھا، اور 'بودھی چت' [ایک ایسا من جو سب کے بھلے کی خاطر روشن ضمیری حاصل کرنے کا متمنی ہو] ہیں۔ تو یہ ہیں جیسے زمینی سطح، پہلی منزل اور دوسری منزل۔ زمینی سطح کے بغیر باقی کی منزلیں نہیں بن سکتیں۔ تو میرے خیال میں یہاں موجود سب بدھ متی بہن بھائی یہ بات جانتے ہیں۔

بے شک مجھے کوئی اختیار حاصل نہیں۔ میں اپنے آپ کو ایک طالب علم سمجھتا ہوں۔ جب بھی مجھے موقع ملتا ہے میں مطالعہ کرتا ہوں۔ جہاں تک تبتی بدھ مت کا تعلق ہے تقریباً تین سو کتابیں مختلف ہندوستانی زبانوں – پالی، سنسکرت، اور کچھ نیپالی – سے تبتی زبان میں ترجمہ کی گئیں۔ تو جب بھی میرے پاس وقت ہوتا ہے میں ان تین سو کتابوں کو پڑھتا ہوں اور ان پر غور کرتا ہوں۔ بے شک میرا علم ان لوگوں کی نسبت تھوڑا زیادہ ہے جنہوں نے کبھی ان تین سو کتابوں کو چھوا تک نہیں۔ [اس علم کی بنیاد پر] جو ان کتابوں کے مطالعہ سے ملتا ہے، مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ ان تین تربیتوں کی مشق نہائت لازم ہے۔

صحیح راہب بننا

تو پہلی بات یہ ہے کہ ہم بدھ مت کے پیروکاروں کو، خواہ ہم تھرواد یا مہایان یا تنتریان سے تعلق رکھتے ہوں – ہمیں مہاتما بدھ کی پیروی خلوص سے کرنی چاہئے۔ یہ بہت اہم ہے۔ سمجھے؟ مہاتما بدھ کے پیروکار بننے کے لئے خالی ایک راہب یا بھکشو کا چوغہ پہن لینا کافی نہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو بدھ مت کے راہب نہیں کہہ سکتے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اچھے راہب یا اچھے بھکشو ہیں۔ محض لباس بدل لینا بہت آسان ہے۔ ہمیں مہاتما بدھ کے سچے پیروکار بننے کے لئے اپنے دلوں کو اور من کو تبدیل کرنا ہے۔ ایک بدھ متی راہب بننے کے لئے آپ کو سنجیدگی سے ضبط نفس کی مشق کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات یوں لگتا ہے: "اچھا تو مہاتما بدھ کو محنت کرنے دیں۔ ہم تو آرام کی زندگی چاہتے ہیں۔" کیسے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر آپ ایک بدھ متی ہیں تو آپ کو مہاتما بدھ کے راستے پر چلنا ہو گا – سخت مشقت کے چھ سال۔ ہمیں اس کی مثال کو اپنانا ہو گا۔

اب جیسا کہ میں نے کل ذکر کیا تھا کہ ایک رفیق نے پالی اور سنسکرت مسلکوں کے درمیان کسی قسم کے شگاف یا دیوار کا ذکر کیا۔ یہ دیوار کسی کے لئے بھی کار آمد نہیں۔ ہمیں مل کر کام کرنا اور علم کا تبادلہ کرنا ہے۔ آپ کی روایات سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، آپ کے 'پراتیمکش' [راہبانہ عہدو پیمان] سے۔ آپ بھی ہمارے سنسکرتی پراتیمکش سے متعلق کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں – محض رسمی نہیں بلکہ سنجیدہ ملاقاتیں، سنجیدہ بحث مباحثہ – بیحد ضروری ہے۔ یہ تو ہے ایک بات۔

راہبات کاملہ کو کلیسائی منصب عطا کرنے کی تجدید کا معاملہ

'بھکشونیوں' [فیض یاب منصب راہبات] کے معاملہ میں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں نے شروع سے ہی مول-سروستیواد روائت [جسے ہم تبتی اور منگولیا کے لوگ مانتے ہیں] کے لحاظ سے ان کی تجدید و تحویل کی حمائت کی ہے۔ مگر ہمیں 'ونایا' تعلیمات پر چلنا ہو گا۔ اگر میرے پاس کسی قسم کا آمرانہ اختیار ہوتا تو میں یہ کہتا،"ہاں، یہ کام لازماً کرو۔" یہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہمیں 'ونے' تعلیمات کے مطابق قدم اٹھا نا ہے – مول-سروستیواد صحیفے اور دھرمگپت تحریریں بھی [جو مشرقی ایشیا میں رائج ہیں] اور تھرواد تحریریں [جو جنوب مشرقی ایشیا میں رائج ہیں]۔

یہ ایک ایسا اہم معاملہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے بات کرنا ہے۔ اس کا فیصلہ میرے بس سے باہر ہے۔ جس بات پر مجھے اختیار ہے وہ یہ کہ تبتی بدھ مت کی تمام خانقاہوں میں ایک جیسا نصاب رائج کر دوں جو ان تمام بڑے اداروں میں پڑھایا جاۓ۔ اور اس وقت ہمارے ہاں چند راہبات ایسی ہیں جو گیشے-ما بن رہی ہیں [بدھ متی فلسفہ کی عالم فاضل]، عمدہ عالم۔

ہم نے وقتاً فوقتاً بھکشونی مسٔلہ پر بات کی ہے، اور اب بھی ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ میں نے اس سلسلہ کی تازہ ترین درخواست لاؤس کے بدھ متی راہنما اور برما کے بدھ متی راہنما کو دکھائی۔ ہم اس پر اپنی بات چیت جاری رکھیں گے اور مجھے امید ہے کہ آخر کار کوئی سمجھوتہ ہو جاۓ گا۔

میرے خیال میں اتنا ہی کافی ہے۔ شکریہ۔