ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت آج کی دنیا میں > داخلی سکون کے ذریعے امن کا قیام

داخلی سکون کے ذریعے امن کا قیام

تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ
نانت، فرانس، ۱۵ اگست ۲۰۰۸ء
تحریر و تدوین: الیکزینڈر برزن

جسمانی اور ذہنی تکلیف

امن ہر شخص کی ضرورت ہے چاہے وہ مشرق میں رہتا ہو یا مغرب میں، شمال میں ہو یا جنوب میں۔ امیر ہو یا غریب، ہر شخص امن کا سچ مچ ضرورت مند ہے۔ ہم سب انسان ہیں سو ہمیں عام طور پر ایک سی باتوں سے سروکار رہتا ہے یعنی خوش رہنا اور سکھی زندگی گزارنا۔ زندگی کی خوشیاں ہم سب کو ملنی چاہیں۔ یہاں ہم اسی سطح کی بات کر رہے ہیں۔ ہر شخص کو اپنے "میں" یا "اپنی ذات" کا احساس ہوتا ہے لیکن ہم اس بات کو مکمل طور پر نہیں سمجھتے کہ اس "میں" یا "اپنی ذات" سے کیا مراد ہے؟ اس کے باوجود ہمیں اپنی "میں" کا شدت سے احساس رہتا ہے۔ اس احساس کے ساتھ ہی یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ہم خوش رہیں اور دکھ نہ اٹھائیں۔ یہ احساس خود بخود ہی جنم لیتا ہے یا ابھر آتا ہے۔ اسی بنیاد پر ہم سب کو خوش رہنے کا حق ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ہمیں زندگی میں بہت سے  ناخوشگوار واقعات اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا ہی پڑتا ہے۔ ان مشکلات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ درد ہے جس کا سبب جسمانی ہوتا ہے۔ مثلا بیماری یا بڑھتی عمر۔ خود مجھے بھی اس کا کچھ تجربہ ہو چلا ہے: میرے لیے سننا، دیکھنا اور چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ تکلیفوں کی دوسری قسم ذہنی سطح کی ہے۔ جسمانی سطح پر اگر ہر آرام اور آسائش میسر ہو اور ہر چیز موجود ہو لیکن پھر بھی اگر ہمیں کچھ پریشانی، ذہنی دباؤ اور بے یقینی گھیر لے تو ہم خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ حسد، خوف اور نفرت پیدا ہوتی ہے اور خوشی جاتی رہتی ہے۔ اس طرح جسمانی سطح پر آسائشوں کی موجودگی میں بھی ہم ذہنی سطح پر بہت سا دکھ جھیلتے ہیں۔
 
جسمانی راحت کے لیے تو رقم خرچ کر کے ہم اپنی مشکلات کم کر سکتے ہیں اور جسمانی اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ جسمانی سطح جس میں طاقت، عزت اور شہرت شامل ہیں ہمیں اندر کی خوشی نہیں دے سکتی۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات زیادہ مال و دولت بھی صرف پریشانیاں ہی پیدا کرتا ہے۔ ہم اپنے نام اور شہرت کے لیے بہت زیادہ فکر مند ہو جاتے ہیں جو کچھ منافقت، بے چينی اور بے آرامی پیدا کر دیتی ہے۔ گویا ذہنی خوشی خارجی وسائل پر اتنی منحصر نہیں ہوتی جتنی ہمارے سوچنے کے داخلی طریقے پر۔
 
ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے غریب لوگ ایسے ہیں جو اپنی داخلی سطح پر بہت زیادہ توانا اور خوش ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمیں داخلی طور پر اطمینان ہو تو ہم کسی بھی طرح کی جسمانی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں اور اسے خوشی میں بدل سکتے ہیں۔ سو میرا خیال ہے کہ جسمانی اور ذہنی تکلیف میں سے ذہنی تکلیف زیادہ شدید اور کربناک ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسمانی بے راحتی کو تو ذہنی راحت سے دور کیا جا سکتا ہے لیکن ذہنی پریشانی کو جسمانی آرام سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انسانوں کے ذہنی مسئلے اور تکلیفیں جانوروں سے زیادہ شدید اور اذیت ناک ہوتے ہیں۔ جسمانی اور ظاہری سطح پر تو شاید دونوں کا دکھ اور تکلیف ایک جیسی ہو لیکن جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے تو ذی عقل ہونے کی وجہ سے انہیں شکوک، عدم تحفظ اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ ہم میں جانوروں سے بالا تر سمجھ اور عقل ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہمیں اپنی انسانی عقل کو استعمال کرنا چاہیے۔ جذباتی سطح پر بھی کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جو پیدا ہوتے ہی ہمارا ذہنی سکون تباہ کر دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ ایسے جذبات بھی ہیں جو ہم میں پہلے سے زیادہ طاقت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ ہماری قوت اور اعتماد کی بنیاد ہیں اور ہمیں زیادہ پرسکون اور شانت ذہنی کیفیت تک لے جاتے ہیں۔

جذبات کی دو قسمیں

پس جذبات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک ذہنی سکون کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ تباہ کن جذبات ہیں مثلا غصہ اور نفرت۔ یہ نہ صرف اس لمحے ہمارے ذہنی سکون کو برباد کرتے ہیں بلکہ ہماری بات چیت اور جسم کے لیے بھی تباہ کن ہیں۔ یا یوں کہیے کہ یہ ہمارے طرز عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے زی رِ اثر ہم نقصان دہ طریقے سے عمل کرنے لگتے ہیں اس لیے یہ جذبات غارت گر ہیں۔ تاہم دوسرے جذبات، مثلا دردمندی ہمیں داخلی قوت اور سکون دیتے ہیں مثلا اس سے ہم میں درگزر کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات ہمیں کسی شخص سے تکلیف بھی پہنچی ہو تب بھی انجام کار درگزر کرنے سے ہی ہمیں شانتی اور ذہنی سکون ملتا ہے۔ وہ شخص جس سے ہم بہت زیادہ ناراض تھے ہمارا بہترین دوست بن جاتا ہے۔

خارجی سکون

جب ہم سکون کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان جذبات اور داخلی سکون کی بات کرنی چاہیے۔ اس لیے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ کس طرح کے جذبات سے داخلی سکون ملتا ہے لیکن اس سے پہلے میں خارجی سکون کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا۔

خارجی سکون کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ لڑائی، مار کٹائی نہ ہوا کرے۔ شاید سرد جنگ کے دوران ہم سب دیکھنے میں تو امن میں تھے لیکن اس امن کی بنیاد خوف تھی، کسی بڑی ایٹمی تباہی کا خوف۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے سے بمباری کا خوف تھا لہذا یہ حقیقی امن اور سکون نہیں تھا۔ سچا امن داخلی سکون ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب کبھی کوئی جھگڑا ہو ہمیں اس کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے اور یہ حل مکالمے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ سو امن نام ہے ایک دوسرے کے لیے گرم جوشی، اور ایک دوسرے کی زندگیوں کا احترام اور دوسروں کو دکھ پہنچانے سے بچنے کا۔ ہمیں یہ رویہ اپنانا ہے کہ دوسروں کی زندگی بھی اتنی ہی مقدس ہے جتنی کہ ہماری۔ ہمیں چاہیے کہ دوسروں کی عزت کریں اور اسی بنیاد  پر اگر ہم دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں تو ہمیں اس کی کوشش کرنی چاہیے۔

جب ہم مشکل میں پڑتے ہیں اور کوئی ہماری مدد کرتا ہے تو اس کے لیے ہمارے دل سے دعا نکلتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی دوسرا دکھ اٹھا رہا ہو تو اگر ہم اتنا ہی کر لیں کہ وہ جان لے کہ ہم اس کا دکھ سمجھ رہے ہیں تو وہ شخص اس کی قدر کرے گا اور اس سے بہت خوش ہو گا۔ لہذا داخلی مہربانی اور درد مندی اور ذہنی سکون سے ہمارے سب کاموں کو امن اور شانتی ملتی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر سکون لا سکیں تو اس سے خارجی سکون بھی قائم ہو جائے گا۔

بطور انسان ایک دوسرے کے ساتھ رابطے اور تعلق کے دوران ہمارا نقطہٴ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ اختلاف "میں" اور "وہ" کے احساس بلکہ اس سے بھی بڑھ کر "میرا فائدہ" اور "تمہارا فائدہ" کے تصور پر ہوتا ہے۔ اختلاف کی اس بنیاد کی وجہ سے جنگ کی نوبت تک آ سکتی ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے دشمن کی تباہی میں ہماری فتح ہے لیکن یہاں ایک نئی حقیقت بھی موجود ہے۔ معاشی اور ماحولیاتی طور پر ہمارا ایک دوسرے پر بہت زیادہ دار و مدار ہے۔ اس لیے "ہم" اور "وہ" کے تصورات میں اب کوئی معنی نہیں ہیں۔ وہ لوگ جنہیں ہم پہلے "وہ" سمجھتے تھے اب "ہم" کا حصہ بن چکے ہیں۔ لہذا ذہنی سکون قائم کرنے کے لیے مرکزی عنصر مہربانی اور درد مندی کا جذبہ ہے یعنی اس حقیقت کا اعتراف کہ اس کرہ ارض پر ہم چھ ارب لوگ ہیں اور ہم میں سے ہر شخص کو خوش رہنے کا برابر کا حق ہے۔ اسی وجہ سے ہم ہر شخص کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس بنیاد پر ہم خارجی امن بھی قائم کر سکتے ہیں۔

چھوٹی سطح سے آغاز

سو خوشی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر شانتی پیدا کرنے سے اس کا آغاز کریں پھر یہ سکون اپنے خاندانوں میں اور پھر اپنے معاشروں میں پیدا کریں۔ مثلا میکسیکو میں ہمارے ایک دوست نے اپنے معاشرے میں ایک "جائے سکون" قائم کی۔ اس نے یہ کام اپنے علاقے کے ہر شخص کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے کیا۔ وہاں رہنے والا ہر فرد اس بات پر رضا مند ہو گیا کہ وہ شعوری طور پر کوشش کرے گا کہ اس "جائے سکون" کے اندر ہر طرح کے لڑائی جھگڑے سے گریز کرے۔ اگر انہوں نے کوئی جھگڑا یا اختلاف کرنا ہوا تو وہ اس کے لیے اس شانتی نگر کی حدود سے باہر نکل جائیں گے۔ یہ ایک بہت ہی اچھا عمل ہے۔

عالمی امن کے لیے بات کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ گو کہ آخرکار عالمی سطح پر اس کا حصول بہت ہی اچھا ہے۔ لیکن حقیقت پسندانہ بات یہی ہے کہ اس کام کا آغاز نچلی سطح سے یعنی اپنی ذات، خاندان، معاشرہ اور شہر سے درجہ بدرجہ کیا جائے کہ یہاں ان سطحوں پر امن کے خطے قائم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ کیونکہ داخلی سکون کا تعلق بڑی حد تک دردمندی کے ساتھ ہے۔

اب دنیا میں حالات حقیقتا تیزی سے بدل رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے میرا ایک مرحوم جرمن دوست فریڈرک وان  ویزساکر، جسے میں اپنا استاد بھی سمجھتا ہوں، مجھے بتا رہا تھا کہ اس کی جوانی کے زمانے میں ہر جرمن شہری کی نظر میں فرانسیسی دشمن تھا اور ہر فرانسیسی جرمنوں کو دشمن سمجھتا تھا۔ لیکن اب حالات مختلف ہیں اب ہم سب ایک متحدہ قوت یعنی یورپین یونین بن چکے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس سے پہلے ہر ریاست اپنے نقطہٴ نظر کے مطابق اپنی خود مختاری کو بہت قیمتی سمجھتی تھی۔ لیکن اب یورپ میں ایک نئی حقیقت دیکھنے کو ملتی ہے۔ اب یہاں اجتماعی مفاد کو انفرادی مفادات سے اہم تر سمجھا جاتا ہے۔ اگر معیشت ترقی کرتی ہے تو اس سے ہر رکن ریاست کو فائدہ ہوتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سوچ کو کرۂ ارض کے چھ ارب لوگوں تک پہنچایا جائے۔ ہمیں ایک بڑے انسانی خاندان کا حصہ ہونے کے ناتے اس کرۂ ارض کے ہر شخص کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

مہربانی اور درد مندی بطور ایک حیاتیاتی عنصر

درد مندی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ تمام ممالیہ جو ماؤں سے پیدا ہوتے ہیں، انسان، ممالیہ، پرندے وغیرہ، ان کی نشوونما کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ کتنی شفقت اور نگہداشت ملی ہے۔ سوائے چند انواع کے، مثلا سمندری کچھوے، تتلیاں اور سالمن مچھلی جو انڈے دینے کے بعد مر جاتی ہیں، سب کے ساتھ یہی صورتحال ہے۔ یہ انواع ایک ذرا مستثنی ہیں۔ مثال کے طور پر سمندری کچھوے ہی کو لیں، مادہ کچھوا ساحل پر انڈے دے کر چلی جاتی ہیں۔ اس طرح نومولود کچھووں کی زندگی کا دار و مدار ان کی اپنی کوشش پر ہی ہوتا ہے۔ انہیں ماؤں کی دیکھ ریکھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ پھر بھی زندہ رہتے ہیں۔ یہاں میں اپنے سامعین کو ایک دلچسپ سائنسی تجربے کے بارے میں بتانا چاہوں گا۔ جب کچھوے کے انڈے سے بچہ نکلے تو اسے اس کی ماں کے پاس رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ ان میں ایک دوسرے سے کوئی لگاؤ ہے یا نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہو گا۔ قدرت انہیں پیدا ہی اس طرح سے کرتی ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے پیار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جہاں تک ممالیہ، خصوصا انسانوں، کا تعلق ہے تو ہمیں اگر ماں نہ پالے تو ہم مر جائیں گے۔

نومولود بچے کی پرورش کرنے کے لیے کچھ جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے یعنی دردمندی، شفقت اور اس کا خیال رکھنے، دیکھ بھال کا احساسکرنا۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ پیدائش کے بعد کے ابتدائی چند ہفتوں میں بچے کے دماغ کی نشوونما کے لیے ماں کا لمس بہت ضروری ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ وہ بچے جن کا تعلق پیار کرنے والے شفیق اور گرم جوش خاندان سے ہو زیادہ خوش مزاج ہوتے ہیں۔ وہ جسمانی سطح پر بھی زیادہ تندرست ہوتے ہیں لیکن ان بچوں کو جنہیں خصوصا بچپن میں محبت نہ ملی ہو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کچھ سائنسدانوں نے ایسے تجربات کیے ہیں کہ انہوں نے بندر کے بچوں کو ان کی ماؤں سے الگ کر دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ بندروں کے یہ بچے ہمیشہ بدمزاجی اور لڑائی جھگڑے کا شکار رہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح نہیں کھیلتے تھے۔ لیکن وہ بچے جو اپنی ماؤں کے ساتھ رکھے گئے زیادہ خوش تھے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح کھیلتے تھے۔ خصوصی طور پر انسانوں کے وہ بچے جو بچپن میں شفقت سے محروم رہتے ہیں وہ زندگی بھر سرد مہر رہتے ہیں۔ انہیں دوسرو ں  سے شفقت میںمشکل ہوتی ہے اور وہ تشددسے پیش اتے ہیں گویا محبت زندگی کا ایک حیاتیاتی عنصر ہے یعنی ایسا عنصر جس کی بنیاد حیاتیاتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں چونکہ محبت اور جذبات کا حیاتیاتی جسمانی سطح کے ساتھ ایک تعلق ہے۔ اس لیے بعض سائنسدانوں کا خیال ہے اگر ہم مستقل غصے، نفرت اور خوف کا شکار رہیں تو اس سے ہمارا نظام مدافعت ختم ہو جائے گا اور ہم کمزور ہو جائیں گے لیکن ایک نرم خو مزاج مدافعتی نظام کی مدد کرتا ہے اور اسے مضبوط کرتا ہے۔

ایک اور مثال لیجیے۔ طبی میدان کو دیکھیے اگر یہاں ایک طرف نرسوں اور طبیبوں میں اور دوسری طرف مریضوں میں باہمی اعتماد موجود ہو تو یہ مریضوں کی صحتیابی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اعتماد کی بنیاد کیا ہے؟ اگر ڈاکٹر اور نرسیں مریض کی صحتیابی کے لیے حقیقی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کریں تو اس سے اعتماد پیدا ہو گا۔ لیکن دوسری طرف ڈاکٹر خواہ بہت ہی ماہر ہو لیکن مریض سے مشین کی طرح کا سلوک کر رہا ہو تو بھروسا پیدا نہیں ہو سکے گا۔ اگرچہ ڈاکٹر کے زیادہ تجربہ کار ہونے سے بھی کچھ بھروسا ہو جاتا ہے لیکن اگر ڈاکٹر ہمدرد اور شفیق بھی ہو تو اس سے مریض کا اعتماد اور بھی بڑھے گا اس سے مریض سکون کی نیند سوئیں گے اور کم پریشان ہوں گے۔ اگر وہ داخلی سطح پر پریشان ہوں گے تو ان کی تکلیف اور بڑھے گی جو ان کی صحتیابی کے عمل کو متاثر کرے گی۔

لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زندگی میں مسائل کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ ہندوستان کے ایک بڑے بودھ گرو، شانتِدیو نے لکھا ہے کہ کوئی مسئلہ درپیش ہونے والا ہو اور ہم اس کا تجزیہ کر کے اس کو سلجھانے کا یا اس سے بچنے کا کوئی راستہ سوچ لیں تو پھر فکر کی کوئی بات نہیں۔ اور اگر ہم مسئلے پر قابو نہ پا سکیں تو خواہ مخواہ کی پریشانی سے کوئی مدد نہیں ملنے والی۔ ایسے میں حقیقت کو قبول کر لو۔ ان خطوط پر سوچنا ہمیں بہت مدد دے سکتا ہے۔ چاہے مسئلہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ہم اس کی شدت کو اس طرح کی سوچ کے ذریعے کم کر سکتے ہیں۔

جب تک ہمیں دوسروں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے مثلا جب ہم چھوٹے بچے ہوتے ہیں ہم میں شفقت اور دردمندی کا جذبہ موجود ہوتا ہے لیکن جب ہم بڑے ہو کر دوسروں پر انحصار سے آزاد ہو جاتے ہیں ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی میں اپنا راستہ خود نبانے کے لیے ہمارے لیے دردمندی کے بجائے سخت مزاجی زیادہ اہم ہیں۔ لیکن تمام چھ ارب لوگ ماؤں ہی سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہر شخص کو خوشی اور اطمینان کا تجربہ ماں کی محبت اور نگہداشت کے زیر سایہ ہی ملتا ہے اور اگر مائیں نہ ہو ں تو کسی ایسی دوسری ہستی کے محبت کے زیر سایہ ہوتا ہے جس کی سرپرستی ہمیں اس وقت میسر ہوتی ہے جب ہم بچے ہوتے ہیں۔ اگرچہ جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو یہ خصوصیات ہم میں بتدریج کم ہونے لگتی ہیں اور ہم بہت زیادہ سخت مزاج اور جھگڑالو ہو جاتے ہیں اور پھر ہم بہت زیادہ مسائل پیدا کرتے ہیں۔

حقیقت کو دیکھنے کی ضرورت

مجھے سویڈن کے ایک سائنسدان نے بتایا کہ جب ذہن غضبناک اور ہمارا دماغ غصے سے مغلوب ہو تو جس شخص پر ہمیں غصہ آ رہا ہو اس کا ۹۰ فیصد تصور ذہنی ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں منفی رویے کا ۹۰ فیصد حصہ ذہن کی پیداوار ہوتا ہے۔ یہی صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب ہم کسی شخص سے وابستہ ہوتے ہیں یا اس سے تعلق کی ایک شدت رکھتے ہیں تو ہمیں وہ شخص ۱۰۰ فیصد خوبصورت اور اچھا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس احساس کا بڑا حصہ صرف ذہن ہی ہے۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ رہے ہوتے۔ لہذا یہ بہت اہم ہے کہ حقیقت کو دیکھیں۔

ایک اور نکتہ بھی بہت اہم ہے۔ کوئی شخص بھی مشکل میں پڑنا نہیں چاہتا پھر مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہماری ناسمجھی، بے خبری اور طرز فکر سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں دیکھتے۔ اپنے محدود نقطہٴ نظر کی وجہ سے ہم حقیقت کی پوری تصویر نہیں دیکھ سکتے۔ ہماری نظر صرف دو جہتوں پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں۔ ہم میں چیزوں کو تین، چار بلکہ چھ طرف سے دیکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ پہلے ذہن شانت ہو گا، پھر ہم کسی چیز کا غیر جانبداری سے جائزہ لے سکیں گے۔

ان تمام نکات کو سمجھنے کے لیے تعمیری اور تخریبی جذبات میں فرق جاننا ضروری ہے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں محبت اور ہمدردی کا حیاتیاتی جذبہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، سو ہمیں ایسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس سے یہ جذبہٴ ہمدردی پھر ترقی پائے۔ تاہم حیاتیاتی نوعیت کی مہربانی اور درد مندی کے جذبے میں ایک تعصب ہوتا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے ملنے والی محبت پر انحصار کرتا ہے۔ لیکن اسے بطور ایک بنیاد استعمال کر کے اور پھر اس میں اپنے علم اور جستجو کے ذریعے دانش اور سائنسی عنصر شامل کر کے ہم حیاتیاتی سطح کی اس ہمدردی کو نہ صرف برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ اس میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ پس تعلیم اور تربیت کے ذریعے مہربانی اور درد مندی کا محدود اور جانبدار جذبہ ایک لا محدود اور غیر جانبدار ہمدردی میں بدل سکتا ہے جو چھ ارب لوگوں بلکہ اس سے بھی زیادہ سے متعلق ہو۔

تعلیم کی اہمیت

ان سب چیزوں کی کنجی تعلیم ہے۔ جدید تعلیم میں دماغ اور ذہانت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں ایک دوسرے کے لیے دلی گرمجوشی کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ اس چیز کو چھوٹے بچوں سے لے کر یونیورسٹی تک ہر سطح پر پیدا کرنا چاہیے۔

امریکہ میں کچھ سائنسدانوں نے بچوں میں زیادہ مہربانی اور ہمدردی اور ذہنی چوکسی پیدا کرنے کے لیے تعلیمی تربیتی پروگرام تیار کیے ہیں اور یہ سب کچھ ان بچوں کو اپنی مستقبل کی زندگی بہتر بنانے اور نروان حاصل کرنے میں مدد دینے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے کیا گیا۔ کچھ یونیورسٹیوں میں تو باہمی گرمجوشی اور محبت و ہمدردی پیدا کرنے کے لیے پہلے سے ہی کئی تعلیمی پروگرام موجود ہیں۔ اس طرح کا غیر جانبدارانہ جذبہ ہمدردی دوسروں کے رویوں کے ساتھ مشروط نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم سب انسان ہیں۔ ہم سب اس زمین پر رہنے والی چھ ارب آبادی کا حصہ ہیں سو ہم میں سے ہر ایک برابری کے اصول کے تحت ہماری ہمدردی اور محبت کا مستحق ہے۔

داخلی اور خارجی ہتھیاروں سے نجات

داخلی سکون اور عالمی امن دونوں کے لیے ہمیں داخلی اور خارجی دونوں طرح کے ہتھیاروں کو ترک کرنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داخلی سطح پر ہم مہربانی اور درد مندی کو فروغ دیں اور انجام کار اس کی بنیاد پر ہم ہر شے اور تمام ممالک سے خارجی سطح پر ہتھیار رکھوا سکتے ہیں۔ یہ فرانسیسی، جرمن، یورپی فوجی دستوں کی طرح کی متحدہ قوت بنانے کا کام ہے اور یہ بڑی بات ہے۔ اگر تمام یورپی یونین کے لیے ایک ہی متحدہ قوت موجود ہو تو اس کے رکن ممالک کے درمیان کوئی مسلح کشمکش باقی نہیں رہے گی۔

ایک دفعہ جب برسلز میں وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو رہا تھا تو میں نے کہا کہ مستقبل میں یہ بات بہت مفید ہو گی اگر یورپی یونین کا صدر دفتر مزید مشرق یعنی مشرقی یورپی ممالک مثلا پولینڈ میں منتقل کیا جائے اور پھر یہ بھی بہتر ہو گا کہ اس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں روس کو بھی شامل کیا جائے اور پھر انجام کار نیٹو کا صدر دفتر ماسکو منتقل کر دیا جائے۔ اگر یہ سب کچھ ہو سکا تو امن ہو جائے گا اور یورپ میں جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ فی الحال روس اور جارجیا کے مابین کچھ مسائل ہیں لیکں ہمیں پرامید رہنا چاہیے۔

امن کے اس وسیع ترین فروغ کی بنیاد پر آخر کار ہتھیار سازی کی صنعت، مثلا فرانس میں، بند ہو سکتی ہے اور ہم اپنے معاشی وسائل کو زیادہ پیداواری مقاصد کی طرف منتقل کر سکتے ہیں مثلا کارخانوں میں ٹینک بنانے کے بجائے بلڈوزر بنائے جا سکتے ہیں۔

افریقی اقوام کو بھی ہماری مدد کی بہت ضرورت ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان اونچ نیچ کا مسئلہ عالمی ہی نہیں قومی سطح پر بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ دولت مند اور نادار کے درمیان یہ فرق خاصا بڑا ہے۔ مثلا فرانس میں امیر غریب میں بہت زیادہ فرق ہے۔ کچھ لوگ تو بھوک کا شکار ہیں۔ لیکن ہم سب اولادِ آدم ہیں اور ہم سب کی ایک ہی جیسی امیدیں، ضروریات اور مسائل ہیں۔ داخلی سکون کے ذریعے امن قائم کرنے کے لیے ہمیں ان تمام نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔