ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > روحانی رہنما اور گرو > تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر > حصہ ۶: رنپوچے کا عام مشورہ بودّھی اصولوں پر عمل کرنے والوں کے لیے

تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر

الیگزینڈر برزن
۱۹۹۸ء

حصہ ۶: رنپوچے کا عام مشورہ بودّھی اصولوں پر عمل کرنے والوں کے لیے

سرکونگ رنپوچے ہمیشہ تمام لاماؤں کے تئیں توجہ آمیز انداز اپنانے اور ان کا وقت ضایع نہ کرنے پر زور دیتے تھے۔ انھیں تقریباتی گلوبند (کاتا) پیش کرنے کے لیے قطار باندھتے ہوئے، سپیتی میں ان کے معتقدین، اس وقت تک منتظر رہتے جب تک کہ سجدہ تعظیمی ادا کرنے سے پہلے، یکے بعد دیگرے، وہ براہ راست ان کے سامنے پہنچ نہ جاتے۔ کبھی کبھی اس قاعدے کو اپنانے میں گھنٹوں کا وقت لگ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کسی لامہ سے سوالات پوچھتے وقت، رنپوچے کہتے تھے کہ کبھی بھی کوئی بھاری بھرکم کہانی نہ سنائی جائے، نہ ہی کسی طرح کا نمائشی انداز اختیار کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے مجھے یہ ہدایت دی تھی کہ ایسے سوالوں کا کبھی لفظی ترجمہ نہ کیا جائے، بلکہ صرف اصل نکتہ بیان کردیا جائے۔

اس کے ساتھہ ساتھہ رنپوچے یہ نہیں چاہتے تھے کہ ملاقات کے لیے آنے والے لوگ تحفتاً انہیں کاتاؤں اور بہ قول ان کے بسکٹوں کے "ادنی" ڈبّوں کا تحفہ پیش کریں۔ وہ کہتے تھے کہ اگر لوگ کسی لامہ کو کچھہ نذر کرنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسی چیز لائیں جو واقعی عمدہ ہو، جسے استعمال کیا جاسکے یا پسند کیا جائے۔ مزید برآں، اگرکوئی شخص ان کے پاس بار بار آتا ہو، جیسے کہ میں ان کے پاس متواتر جاتا رہتا تھا، تو اسے تحفے کے طورپر کوئی چیز لانا چھوڑدینا چاہیے۔ انھیں کچھ نہیں چاہیے نہ ہی انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے۔

رنپوچے ہمیشہ لوگوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ عام سوجھہ بوجھہ کا استعمال کریں۔ چنانچہ، انہیں روزمرہ معاملات کے بارے میں استخارے یا غیبی اشارے کی درخواست کرنے والے پسند نہیں تھے۔ صرف اسی وقت استخارہ کرنا یا غیبی ہدایت کی درخواست کرنا درست ہوتا ہے، بالخصوص روحانی معاملات کے بارے میں، جب عام ذرائع سے کوئی مسئلہ حل نہ کیا جاسکے۔ ایک مرتبہ میرے کرایے کے سلسلے میں ایک مسئلہ درپیش تھا اور میں نے پوچھا کہ اس معاملے میں غیبی ہدایت کیا ہے۔ رنپوچے نے مجھے دوڑا لیا، یہ کہتے ہوئے کہ مجھے کسی قانونی وکیل کے پاس جانا چاہیے۔

علاوہ ازیں، کسی بھی سرگرمی کا منصوبہ بناتے وقت، رنپوچے کہتے تھے کہ کم سے کم تین ممکنہ طریق عمل سامنے ہوں۔ حکمت عملی میں اس طرح کی لچک موجود ہو تو ایک ترکیب کے ناکام ہوجانے سے اپنی بے بسی کی بوکھلاہٹ کا امکان باقی نہیں رہتا۔ ہمارے سامنے کسی مسئلے کو حل کرنے کے کئی متبادل راستے ہوں تو اس بھروسے کے ساتھہ کہ ایک نہ ایک راستہ تو کام آئے گا ہی، ایک طرح کا احساس تحفظ برقرار رہتا ہے۔

مگر بعض اوقات، غیبی امداد پر شاگردوں کا انحصار باقی رہتا ہے، اور اس کے نتیجے میں، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں وہ خود کو قاصر سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنی زندگیوں کےتئیں خود اپنی ذمے داری کو ٹالتے ہوئے، ایسے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور شخص ان کے فیصلے کردے۔ گرچہ بڑے مسئلوں کی بابت کسی روحانی گرو سے مشورے کرلینا اکثر کار آمد ہوتا ہے، تاہم، اس سے زیادہ پائدار طریقہ یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے گرو کی قدروں کو اپنے اندر اتارلے۔ پھر اگر لامہ غیر حاضر ہو تب بھی اس کی سکھائی ہوئی قدریں، اپنے عمل کے سب سے معقول راستے کا انتخاب کرنے میں شاگرد کی مدد کرتی رہیں گی۔

رنپوچے لوگوں کو اس بات کے لیے خاص طور پر منع کرتے تھے کہ جو بہت سے لاماؤں کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک کہ انہیں اپنی مرضی کا جواب نہ مل جائے۔ غیبی امداد کے لیے درخواست کا مطلب یہ ہے کہ لامہ پر بھروسہ اور اعتماد باقی رہے۔ اس سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ پھر وہی کرنا ہوگا جس کا مشورہ دیا جائے۔ اسی کے ساتھہ ساتھہ رنپوچے لامہ کے پاس آنے اور یہ کہنے کے خلاف بھی متنبہہ کرتے تھے کہ ایک دوسرے گرو نے یہ یا وہ کرنے کی ہدایت دی ہے، مگر آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا مجھے یہ کچھہ کرنا چاہیے؟ کسی لامہ کو اس طرح کی بے تکی صورت حال سے دو چار کرنا کہ کسی اور روحانی گرو کا مشورہ درست نہیں تھا، ایک طرح کی بے حسی کو ظاہر کرنا ہے۔

دراصل، بہت سے مغربی لوگ یہ نہیں جانتے کہ لاماؤں سے کس طرح سوال کیے جائیں۔ جب بھی وہ آتے اور بے وقوفی کی باتیں پوچھتے تو رنپوچے، بالعموم ان کی اصلاح کردیتے تھے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ عطائے اختیار کے عمل میں شرکت کی جانی چاہیے یا نہیں؟ – تو اس کا یہ پوچھنا مضحکہ خیز ہوگا کہ "کیا گروہ میں شمولیت کی اس تقریب میں حاضری دینا ٹھیک ہے؟" بے شک، یہ ٹھیک ہے؛ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ برا ہے۔ اور اگر کوئی یہ پوچھے کہ میں شرکت کروں یا نہیں؟ تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ میری شرکت مطلوب ہے یا نہیں ہے؟" کوئی بھی شخص ایسی کسی تقریب میں شرکت کے لیے مجبور نہیں ہوتا۔ ایسے معاملات میں کسی روحانی گرو کی ہدایت طلب کرتے وقت، سب سے بہتر طریقہ اس کے بجائے یہ پوچھنا ہے کہ "آپ میرے لیے اس ضمن میں کیا مشورہ دینا پسند فرمائیں گے؟"

اس کے علاوہ، کسی لامہ کے پاس جاتے وقت اور جب وہ خود آپ کو ایک اختیار سونپ رہا ہو، اس اختیار کو قبول کرنے کی اجازت طلب کرتے وقت، یہ سوال محض بیوقوفی پر مبنی ہوگا کہ – "کیا میں کسی مخصوص گروہ میں داخلے کی اس دعوت کو قبول کرسکتا ہوں یا نہیں؟" اس سوال میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ " کیا میں اس کا اہل ہوں یا نہیں؟" جو کہ سرے سے مہمل ہے۔ پوچھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ "براہ کرم یہ فرمائیں کہ کیا میں اس عطائے اختیار کو قبول کرلوں؟" ورنہ تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی دوسرے ملک میں قیام کی خاطر اپنے ویزا کی توسیع چاہنے کے وقت، صرف ایک احمق ہی یہ دریافت کرے گا کہ "کیا میں یہاں مزید ٹھہر سکتا ہوں یا نہیں؟" اس طرح کی درخواست کا مناسب طریقہ یہی ہے کہ "آپ کی اجازت سے، میں یہاں کچھہ اور دنوں کے لیے ٹھہرنا چاہتا ہوں!"

ایک بار ٹرنر نے کئی مہینوں تک رپنوچے کو مسلسل تنگ کیا کہ وہ روحانی سرپرست چھے بازؤوں والے مہاکال کو متوجہ کرنے کی اجازتی تقریب انہیں تفویض کردیں۔ آخر کار، جب رنپوچے تیار ہوگئے، توٹرنر نے ان سے پوچھا کہ روزآنہ کتنی دعا خوانی جاپ کا عہد انہیں کرنا ہوگا۔ رنپوچے نے عملاً ان کی پٹائی کردی، یہ ملامت کرتے ہوئے کہ انہیں ہرعہد کو نبھانے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔

رنپوچے اس وقت بہت ناخوش ہوتے تھے جب مغربیوں کی طرف سے یہ کوشش کی جاتی تھی کہ بیعت کے بعد متن خوانی کے تعہّد کی بابت سودے بازی کریں۔ وہ ہمیشہ ایسا اختیار پانے پر زور دیتے تھے جو بدھ کی صرف ایک خاص شبیہہ کی مشق پر مبنی ہو کیونکہ ان کی پر خلوص خواہش یہ ہوتی تھی کہ سب کی فلاح کے لیے عرفان کے حصول کی مشق پرلگ جائیں۔ ان مشقوں میں صرف صحیح ارتعاشات کے لیے حاضر رہنا یا صرف اس لیے کہ ہر کوئی وہی کررہا ہے، اسے وہ ایک بے معنی بات سمجھتے تھے۔ اسی طرح صرف ایک مختصر سا شوق پورا کرنے کے ارادے سے یہ مشق کرنا اور پھر مراقبےکی پوری مشق کو بھول جانا غیر مناسب تھا۔ کسی مخصوص تانترک مشق سے اپنے آپ کو وابستہ کرلینا زندگی بھر کا سودا تھا۔

رنپوچے نے اس بات پر زور دیا کہ آغاز کار سے پہلے روحانی مشقوں اور استادوں کی اچھی طرح چھان پھٹک کرلی جائے اور اس کام کے لیے مشق کی مدت کے ختم ہونے کا انتظار نہ کیا جائے۔ یہی وہ خاص عیب تھا جو رنپوچے کو مغربیوں میں دکھائی دیا۔ ہم عاجلانہ انداز میں چیزوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ رنپوچےنے اس بات کی تنبیہہ کی کہ پہلے تو ہم دیوانہ وار ایک جمی ہوئی جھیل کی طرف بھاگیں اور پھر بعد میں ایک چھڑی کےذریعے یہ آزمائیں کہ برف کی تہہ کیا اتنی مضبوط ہےکہ وہ ان کا بوجھہ اٹھا سکےگی۔

رنپوچے نے یہ کہا کہ لوگ کسی کے درس میں شامل ہوسکتے ہیں اور عقیدت میں ان کے خانقاہی ملبوس کے سامنے یا بدھ کی کسی تصویر کے سامنے سجدہ گزار ہوسکتےہیں – لیکن اس استاد کا شاگرد بن جانا ایک الگ بات ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے مجھہ سے کہا کہ میں کسی بھی لامہ کے لیے مترجم کا کام کرسکتا ہوں، لیکن اس لامہ کے ساتھہ کام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ میرے روحانی رہنما بھی ہوگئے ہیں- اگر میں ایک تانترک عطائے اختیار کا ترجمہ کرتا، جب بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا- جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ہے استاد کے ساتھہ ہمارا رویہ کیا ہے۔

رنپوچے کا خیال تھا کہ مغربی لوگوں کی بڑی تعداد جلد بازی میں راہب اور راہبہ بن جاتی ہے، یہ سوچے بغیر کہ کیا وہ واقعی اپنی باقی ماندہ زندگی میں یہی کام کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر وہ اس چیز پر غور نہیں کرتے کہ اس گروہ میں ان کی شمولیت کا ان کے والدین پر کیا اثر ہوگا یا وہ مستقبل میں اپنی کفالت کیسے کریں گے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ کوئی شخص اگر ماضی کے عظیم تارک الدنیا راہبوں کی طرح کا ہو تو اسے اپنے خاندان یا سرمائے جیسی چیزوں کے بارے میں سوچنا ضروری نہیں۔ بہرحال ہمیں تو خود اس بات کا علم ہے کہ ہم میلاریپا جیسے ہیں یا نہیں۔

اس سیاق وسباق میں رنپوچے اکثر ڈروبکانگ گیلیگ گیاتسو کی مثال دیا کرتے تھے۔ تبت کے یہ عظیم گرو اپنی جوانی میں راہب بننا چاہتے تھے، لیکن ان کے خاندان کے لوگ یہ نہیں چاہتے تھے اور ان کے اس ارادے پر غمگین تھے۔ لہذا، جب تک ان کے والدین زندہ رہے، انھوں نے ان کی بڑی خدمت کی، اور جب وہ گزر گئے، تو انھوں نے اپنا سارا سرمایہ اچھے کاموں کے لیے وقف کردیا اور اس کے بعد ہی راہب بنے۔

رنپوچے ہمیشہ والدین کے احترام اور ان کی خدمت پر زور دیتے تھے۔ مغربی بودھ کی حیثیت سے ہم اس بات کا اعتراف تو کرتے ہیں کہ ہر وہ مرد اور عورت جسے ہم دیکھتے ہیں پچھلے جنموں میں انھی میں سے ہمارے اپنے والدین بھی رہےہوں گے۔ اس لیے ہمیں ان کے ساتھہ محبت اور نیکی کا سلوک روا رکھنا چاہیے، تاہم، اپنی ذاتی زندگی میں ہم میں سے کافی لوگ ایسے ہیں جو والدین کے ساتھہ مناسب تعلق نہیں رکھتے۔ رنپوچے کا خیال ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھہ مہربانی کا سلوک ایک اہم بودھی رسم ہے۔

کوئی اگر گہری چھان کے بعد راہب بنتا ہے، یا کسی کو پہلے سے خانقاہی زمرے میں شمولیت کا اختیار مل چکا ہے، تو رنپوچے اسے یہ ہدایت دیتے کہ وہ نیم دلی سے، کسی چمگادڑ کی طرح اس حلقے میں نہ آئے۔ ایک چمگادڑ جب دوسرے پرندوں کے بیچ میں ہوتا ہے اور وہ کچھہ نہیں کرنا چاہتا جو دوسرے پرندے کر رہے ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہتا ہے "ارے، میں تو یہ نہیں کرسکتا، کیونکہ میرے دانت ہیں۔" وہ اگر چوہوں کے بیچ میں ہے تو یہ کہتا ہے "میں یہ نہیں کرسکتا، میرے پر ہیں۔" اس طرح کے برتاؤ کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنے خانقاہی لباس کو بس اپنی سہولت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب کوئی روزمرّہ کا کام کرنا نہیں چاہتے، جیسے کہ مالی طور پر اپنی کفالت کرنا، تو وہ اپنے چولے کو محض ایک بہانے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جب وہ کسی خانقاہی رسم کو پسند نہیں کرتے، جیسے کہ دیر تک جاری رہنے والی کسی تقریب میں حاضر رہنا، یا اپنے مخصوص لباس کے ساتھہ سفر میں جانا، تو وہ مغربی ہونے کا بہانہ بناتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر رنپوچے یہی کہیں گے "تم کس کو بیوقوف بنا رہے ہو؟"

اس کا مطلب یہ نہیں کہ رنپوچے یہ چاہتے ہیں کہ بدھ کے ماننے والے دنیوی کام نہ کریں۔ چاہے وہ عام آدمی ہو یا راہب، ہر کسی کے لیے حقیقت پسند اور دنیادار ہونا ضروری ہے۔ رنپوچے کے نزدیک اس بات کی زیادہ اہمیت ہے کہ ہم اپنے دماغ اور زبان کو کیسے مصروف رکھتے ہیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم اپنے جسم کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، انھوں نے ان لوگوں کے لیے جنہیں اپنی کفالت کرنی ہے، جسمانی محنت کی ہدایت دی۔ کام کرتے وقت ہم منتروں کا جاپ کرسکتے ہیں اور دوسروں کے لیے حرارت آمیز احساسات اور رحم دلانہ خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اگر کام کے وقت درس و تدریس کے بارے میں سوچنا محال ہو، جب کہ ہم تانترک اختیار کرچکے ہوں، تو ہم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ خود اپنے بارے میں ہمارا جو تصور ہے، اسے بدلنے کی کوشش کریں۔ دن بھر تو ہم اپنے آپ کو بدھ کی ایک شبیہ سے مماثل تصور کرنے کی جد و جہد کرتے رہیں اور یہ بھی کہ ہمارا ماحول پاکیزہ ہو اور مکمل طور پر روحانی فلاح کے لیے سازگار ہو۔ پھر علی الصبح اور رات کو ہم تفصیلی مراقبے اور مشاہدے کی مشق کرسکتے ہیں۔ رنپوچے ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم بدھ مت کو زندگی سے الگ کوئی شے نہ بنائیں۔

بہت سال تک ٹرنر بے روزگار تھے اور انگلینڈ میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھہ سماجی بہبود کے ادارے کی امداد پرگزر بسر کرتے تھے۔ وہ تقریباً اپنا سارا وقت مراقبے کی گہری مشقوں میں گزارتے تھے۔ ان کا ماننا یہ تھا کہ وہ جب تعلیمات کی مشق کرسکتے ہیں تو پھر کوئی اور کام کرنے مین وقت ضائع کیوں کریں؟ اس سے قبل ان کو رنپوچے کی طرف سے سفید مہاکال کی اجازتی تقریب تفویض کردی گئی تھی۔ سفید مہاکال ایک محافظ شبیہ ہے جو دولت سے وابستہ ہے۔ ٹرنر روزانہ اس کے سامنے دعا کرتے تھے کہ ان کے مالی مسائل حل ہوسکیں۔ اس بات سے رنپوچے بالکل خوش نہیں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ ہم بیماری سے شفا کے لیے دوا نہ لیں اور معالج بدھ کی شبیہہ کے سامنے بس دعا کرتے رہیں۔ انھوں نے ٹرنر کو ہدایت دی کہ وہ کوئی نوکری ڈھونڈیں اور بس تھوڑے وقت کے لیے صبح اور شام گہری مشقیں کریں۔ اس کے بعد اگر وہ سفید مہاکال کو متوجہ کرسکیں تو ان کو اپنے کام میں کامیابی بھی مل سکتی ہے۔

رنپوچے چاہتے تھے کہ لوگ عمل پسند اور مستعد ہوں، نہ کہ کاہل بنے رہیں۔ اسی لیے وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مشق اور جاپ کو سرعت کے ساتھہ ادا کیا جائے۔ ایک بار، میلان، اٹلی کے گیپل لِنگ مرکز کے طلبا نے رنپوچے سے کہا کہ اپنے راستے کے درجہ بند مراحل (لم-رِم) اور آوالوکیت-ایشور سے متعلق نصاب کے اختتام پر وہ مراقبے کے ایک اجلاس کی قیادت کریں۔ رنپوچے اس پر راضی ہوگئے اور انہیں ہدایت دی کہ چھے سطحی سلسلے کی وساطت سے وہ اپنے آپ کو آوالوکیت-ایشور کے طور پر ظاہر کریں اور پھر لم رم کے کئی درجن نکات پر مراقبے میں جائیں اور یہ سارا عمل دو منٹ میں پورا ہوجائے۔ جب طالب علموں نے حواس باختہ ہو کر احتجاج کیا کہ اتنے کم وقت میں وہ اتنا کچھہ کس طرح کرسکتے ہیں تو رنپوچے کچھہ نرم ہوئے اور انھوں نے کہا "ٹھیک ہے، تو تین منٹ میں کرکے دکھائیے۔" اس کے بعد انھوں نے سمجھایا کہ ایک مہارت رکھنے والا پورے لم-رِم کو بس اتنی سی مدت میں انجام دے سکتا ہے، جتنا کہ گھوڑے کی سواری کے وقت گھوڑسوار کو اپنا پیر زین پر رکھنے میں لگتا ہے۔ جب موت آتی ہے تو انسان کو آرام سے بیٹھہ کر درجہ بہ درجہ اپنے مشاہدے کو بروئے کار لانے کی مہلت نہیں ملتی۔

رنپوچے اس بات پر زور دیتے تھے کہ بودھی طریق حیات کے تمام پہلوؤں میں حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ یہ خاص طور پر اس وقت ناگزیر ہوجاتا ہے جب ہم اس بات کے آرزو مند ہوں کہ بودھی ستوا کے منصب کی حصولیابی کے بعد دوسروں کو فائدہ پہنچائیں۔ اگرچہ اپنی طرف سے ہمہ وقت ہمیں دوسروں کی مدد کے لیے آمادہ رہنا چاہیے، لیکن ہمیں اس بات کا ضرور خیال رکھنا ہوگا کہ کیا لوگ کھلے دل سے ہماری مدد چاہتے ہیں۔ بالآخر ہماری کوششوں کی کامیابی کا انحصار ان کے کرموں پر ہے۔ یعنی کہ ان پچھلے اسالیب زندگی پر جنھوں نے ان کے ذہنوں کو ایک خاص شکل دے دی ہے۔ اسی لیے رنپوچے نے تنبیہہ کی کہ جو چیزیں ہم سے تعلق نہیں رکھتیں یا اگر لوگ ہماری مدد نہیں چاہتے ہیں، تو ہمیں ان میں الجھنا نہیں چاہیے۔ ہماری مداخلت سے لوگ بد دل ہوں گے، اور اگر ہماری کوشش ناکام ہوتی ہے تو سارا الزام ہمیں اپنے سرلینا پڑے گا۔

سب سےاچھا طریقہ یہ ہے کہ خود کو ہمیشہ کم کر کے سامنے لایا جائے۔ ہم دوسروں کو یہ بتاسکتے ہیں کہ ہم مدد کرنے کے لیے تیار ہیں، اور اگر وہ چاہتے ہیں تو ہم ضرور ان کے معاملات میں شریک ہونا پسند کریں گے۔ لیکن ہمیں "کرائے کے بودھی ستوا" کے طور پر اپنی تشہیر سے گریز کرنا ضروری ہے۔ سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے روزانہ مراقبے کی مشق کرتے رہیں اور انکسار کے ساتھہ زندگی گزاریں۔ رنپوچے نے خاص طور پر یہ تنبیہہ کی کہ کبھی بھی ہم جتنا کام کرسکتے ہیں اس سے زیادہ کا وعدہ نہ کریں، یا اس بات کی تشہیر نہ کریں کہ ہم مستقبل میں یہ کچھہ کریں گے۔ یہ بات صرف زیادہ الجھنیں پیدا کرتی ہے، اور آخر میں ہم نے جس چیز کا اعلان کیا تھا اس کو نہیں کرپاتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کردیتے ہیں اور لوگوں کا اعتبار کھو دیتے ہیں۔

یہ نکتہ کہ اپنی بساط سے زیادہ وعدہ کرلینا، خاص طور پر ہمارے گرؤوں کے ساتھہ باہمی رشتے کی سیاق و سباق میں با معنی ہے۔ رنپوچے نے اس معاملے میں اشواگھوش کے "روحانی گرو پر پچاس بند" میں دیے گے ہدایت نامے پر عمل کیا۔ وہ روزانہ اپنے مراقبے کے ایک جزو کے طور پر اس کی قرآت کرتے تھے۔ اگر ہمارے گرو ہمیں کچھہ ایسی چیزیں کرنے کے لیے کہتے ہیں جو، کسی بھی وجہ سے، ہم نہیں کرسکتے، تو ہمیں انہیں یہ چیز نہایت احترام اور انکساری کے ساتھہ بتا دینی چاہیے کہ ہم اس کو کرنے سے قاصر ہیں۔ رنپوچے نے اس بات پر زور دیا کہ ایک روحانی گرو کے ساتھہ مکمل وابستگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بالکل ایک حکم کے غلام یا مشینی آدمی بن جائیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ سیکھیں کہ کس طرح اپنے پیر پر کھڑے ہوں، اپنے طریقے سے سوچنا سیکھیں اور روشن ضمیر بنیں۔ اگر ہم وہ کچھہ کرنے سے قاصر ہیں، جس کا حکم ہمارے گرو نے دیا ہے تو یہ بات قطعاً درست نہ ہوگی کہ ہم ایک احساس جرم میں مبتلا ہوجائیں، یہ سوچ کر کہ ہم نے اپنےگرو کو مایوس کیا ہے اور یہ کہ ہم برے شاگرد ہیں۔ صحیح معنوں میں، ایک روحانی استاد ایک نامعقول جابرنہیں ہوسکتا۔

اگر ہم کسی چیز کو کرنے کے لیے تیار ہوں، خواہ وہ ہمارے استاد کے لیے ہو یا کسی اور کے لیے، رنپوچے اس بات کی ہدایت دیتے ہیں کہ شروع سے ہی ہر نکتے کو سمجھہ لینا چاہیے۔ اگر ہم صرف نیک خواہشات کی بنا پر ایک اناڑی جیسا کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں تو اس سے مصیبت ہی آتی ہے۔ اور بعد میں، اس کام کو کرتے وقت، یا اس کی تکمیل کے بعد ہی اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اس کام کے عوض ہماری کچھ توقعات رہی ہیں۔ رنپوچے نے یہ سکھایا کہ اگر ہم حقیقت پسند اور عملی انسان ہیں اور کسی کام پر آمادہ ہونے سے پہلے اس پر اچھی طرح سوچ بچار کرتے ہیں، تو اس میں دنیوی اور روحانی دونوں طرح کے معاملات خوش اسلوبی سے نپٹائے جاسکتےہیں۔ اس کے برعکس، اگر ہم غیر عملی اور غیر حقیقت پسندانہ طریقے سے کام کریں گے تو ہمیں کامرانی حاصل نہیں ہوگی، چاہے وہ دنیوی معاملے ہوں یا روحانی۔
 
مغرب میں واقع بودھی مراکز کے سلسلے میں رنپوچے کا نقطئہ نظر یہی ہے۔ انھوں نے ان مرکزوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ بہت بڑے پیمانے پر توسیع سے گریز کریں، تاکہ ان کو زیادہ قرض نہ لینا پڑے اور ایسے منصوبوں کا وعدہ نہ کریں جنہیں وہ ممکنہ طور پر مکمل نہ کرسکیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ بغیر دکھاوے کے، شروعات چھوٹے پیمانے پر کرو اور دور دراز علاقے میں مراکز کھولنے کے لالچ سے باز آؤ۔

بودھی مرکز شہر والوں کے لیے ہمیشہ سہولت کی جگہہ پر واقع ہونا چاہیے، تاکہ وہ جلدی وہاں پہنچ سکیں اور ان کو آس پاس روزگار بھی مل سکے۔ کوئی گرو حسب ضرورت کبھی بھی اس چھوٹے مرکز کو فروخت کر کے ایک بڑا مرکز خرید سکتا ہے، لیکن یہ سب اپنے مناسب وقت پر ہی ممکن ہے۔

بودھی مراکز کا کام یہ نہیں کہ وہ تصنع آمیز اشتہار بازی کے ذریعے بھیڑ اکٹھا کریں جیسے کہ سرکس میں ہوتا ہے۔ رنپوچے ہمیشہ سنجیدہ طلبا کے چھوٹے گروہوں سے گفتگو کرنا پسند کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، روحانی گرو کے انتخاب کے وقت سب سے اہم نکتہ یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ گرو کتنا دل چسپ ہے یا یہ کہ وہ کہانیاں کتنی پر لطف ہیں جنہیں وہ بیان کرتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ہنسیں تو ہمیں سرکس یا نمائش پر جانا چاہئے۔