ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر

الیگزینڈر برزن
۱۹۹۸ء

حصہ ۵: رنپوچے کے مزید اوصاف

سرکونگ رنپوچے نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ ایک یوگی ہیں یا انہیں خاص طرح کی طاقتیں حاصل ہیں۔ اگر ہم ان سے ایسے کسی شخص کی مثال طلب کرتے تو وہ کہتے تھے کہ ہمیں اس کے لیے صرف ماضی بعید میں جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی ایک صاف مثال ان کے والد سرکونگ دورجے چانگ کی ہے۔ گاندن جانگتسی خانقاہ کے ایک راہب کے طور پر، ان کے والد نے انوتریوگا تنتر کی اس منزل تک رسائی حاصل کرلی تھی، جہاں ذہن کی عمیق ترین سطح تک پہنچنے کے لیےوہ کسی ایک شخص کی معیت میں خاص یوگا تکنیکوں کی مشق کرسکتے تھے۔ مکمل سطح پر یہ ترقی یافتہ نکتہ توانائی کے ناقابل تشریح نظام پر ماہرانہ گرفت کا تقاضہ کرتا ہے، یوں کہ داخلی اور خارجی، دونوں مادّوں اور توانائیوں پر پوری طرح قابو حاصل ہوجائے۔ اس کا تجرد کا عہد اس قسم کی مشق میں بالعموم روکاوٹ ڈالے گا۔ جب تقدس مآب تیرہویں دلائی لامہ نے ان کے اس کارنامے کا ثبوت مانگا تو سرکونگ دورجے چانگ نے بیل کا سینگ ایک گرہ میں باندھ کر پیش کردیا۔ قائل ہو کر، تیرہویں دلائی لامہ نے سرکونگ دورجی چانگ کو یہ اجازت دے دی کہ اپنا خانقاہی ساز و سامان ساتھ رکھتے ہوئے، اس سطح پر مشقیں جاری رکھیں۔ رنپوچے نے دو ٹوک اندازمیں بتایا کہ یہ سینگ ان کے گھر میں اس وقت سے رکھا ہوا تھا جب وہ بچے تھے۔

سرکونگ دورجے چانگ کو، وسیع پیمانے پر، تیرہویں صدی کے مترجم مارپا کے اوتار کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ ان کے بعد سرکونگ رنپوچے پیدا ہوئے تاکہ اپنے والد کے سلسلے کو جاری رکھیں، اور انہیں مارپا کے معروف بیٹے دھرم-دودے کا اوتار مانا گیا۔ مگر، رنپوچے نے ایک بار بھی مجھہ سے اس کا ذکر نہیں کیا، نہ ہی انھوں نے کبھی اپنے والد سے اپنا موازنہ کیا۔ پھر بھی، رنپوچے کی خاموشی کے باوجود، ان کے قریبی لوگوں پر یہ اچھی طرح واضح تھا کہ انہیں بھی اپنی توانائی کی انجانی ہواؤں پر قابو حاصل تھا اور وہ غیر معمولی طاقتوں کے حامل تھے۔ جس طرح، حسب منشا، رنپوچے کو سوجانے پر قدرت حاصل تھی، اسی سے اس بات کا کچھہ اشارہ ملتا ہے۔ ایک مرتبہ، میڈیسن، وسکونسن میں طبّی جانچ کے ایک جزو کے طور پر رنپوچے کا الیکٹرو کار ڈیو گرام لیا گیا۔ اس جانچ کے لیے جب وہ لیٹے، اس وقت وہ توانائی سے بھرے ہوئے اور چاق و چوبند تھے۔ تاہم، جیسے ہی ڈاکٹر نے رنپوچے سے سستا نے کے لیے کہا، کچھہ سیکنڈوں کے اندر اندر وہ خراٹے لینے لگے۔

رنپوچے کے اندر مستقبل کو جان لینے کی فوق الاحساس اہلیتیں، کئی مثالوں کے ذریعے، دیکھی جاسکتی تھیں۔ رنپوچے صرف، تقدس مآب کے استادوں میں سے ایک نہیں تھے، بلکہ گاہے گاہے وہ تقدس مآب کے کئی اہل خانہ کو بھی، بہ شمول ان کی والدہ کے، درس دیتےتھے۔ عام طور پر، پہلے سے ملاقات کا رسمی تعین کیے بغیر، رنپوچے مادر گرامی کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتے تھے، جیسا کہ قاعدے کے مطابق ہونا بھی چاہیے تھا۔ پھر بھی، مادر گرامی کی وفات سے پہلے، رنپوچے نے صورت حال کا اندازہ لگا کر، یہ قاعدہ توڑ دیا اور ان کی خدمت میں اپنی آخری حاضری دی۔

ایک بار، لاوؤر، فرانس کے وجر یوگنی انسٹیٹیوٹ میں رنپوچے درس دے رہے تھے اور پیرس کے لیے روانگی سے پہلے ان کے پاس بس چند روز باقی بچے تھے۔ میں دوستوں کے ساتھہ اس سے پہلے ہی جانا چاہتا تھا اور کسی نے مجھے اپنے ساتھ سواری کی پیش کش کی تھی۔ جب میں نے اتوار کے دن پیرس جانے کی اجازت مانگی، تو رنپوچے نے کہا، "بہت اچھا، تم پیر کو پیرس جارہے ہو"جب میں نے جواب دیا، "نہیں، نہیں، میں تو کل جارہا ہوں، اتوار کو۔" رنپوچے نے دوہرایا، بہت خوب، تم پیر کو جارہے ہو" اس پر میں نے سوال کیا، "کیا اتوار کو جانے میں کوئی قباحت ہے؟ کیا میں اتوار کا پروگرام ملتوی کردوں اور اس کے بجائے پیر کو جاؤں؟" رنپوچے ہنسنے لگے اور بولے، "نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

پھر میں اتوار کو پیرس کے لیے روانہ ہوگیا۔ وہاں آدھے راستے میں کار کا انجن خراب ہوگیا۔ چونکہ اتوار کے دن فرانس میں تمام آٹو گیریج بند رہتے ہیں، ہمیں اپنی رات ایک چھوٹے سے گاؤں میں گزارنی پڑی۔ کار کا انجن پیر کی صبح کو درست ہوا، اور جیسا کہ رنپوچے نے پہلے سے جان لیا تھا، میں پیر کے روز بعد پیرس پہنچا۔

رنپوچے کبھی کبھار دور کی چیزیں دیکھہ لینے کی اپنی اہلیت کا مظاہرہ بھی کرتے تھے۔ ایک روز دھرم شالہ میں، "توشیتا مرکز اعتکاف" (Tushita Retreat Center) میں ڈائرکٹر نے رنپوچے کو ایک رسم کی قیادت کی دعوت دی، جیسے ہی جیپ مرکز کے قریب پہنچی، رنپوچے نے کہا، "سمادھی والے کمرے میں ایک موم بتی گر گئی ہے! جلدی کرو! " جب ناظمہ بھاگ کر اندر گئی تو اس نے دیکھا کہ واقعی ایک موم بتی لڑھک گئی تھی اور آگ لگنے ہی والی تھی۔

رنپوچے نہ صرف یہ اندازہ لگا لیتے تھے کہ لوگوں سے ان کا کرمک رشتہ کیا ہے، کبھی کبھی یہ دکھا بھی دیتے تھے کہ اجنبیوں کے بارےمیں انہیں بہت سی باتوں کا پتہ، بتائے بغیر بھی چل جاتا ہے۔ ایک بار، میڈیسن، وسوانسن میں میرے پرانے دوستوں میں سے ایک دوست پہلی مرتبہ رنپوچے سے ملنے کے لیے آیا۔ گرچہ میرے دوست کا انداز پوری طرح نارمل تھا اور نہ تو اس نے نہ میں نے اس کی چرس کے نشے کی عادت کا کوئی تذکرہ رنپوچے سے کیا تھا، لیکن رنپوچے نے میرے دوست سے کہا کہ "اسے نشے کی یہ عادت لازماً ترک کردینی چاہیے۔ یہ اس کے ارتقا کو روک رہی ہے۔ تمام مغربیوں میں جن سے رنپوچے کی ملاقات ہوئی، میرا دوست اکیلا شخص تھا جسے انھوں نے چرس کے بارے میں مشورہ دیا۔

اگرچہ رنپوچے نے دوسروں میں بہت سے مہلک عادتیں اور رجحانات دیکھے تھے، مگر لوگوں کی غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی میں، وہ ہمیشہ بہت مہارت سے کام لیتے تھے۔ ایک بار جب رنپوچے کچھہ مہینوں کے لیے نیپال میں تھے، مجھے اپنے کام کے سلسلے میں کچھہ نجی دقّتوں کا سامنا ہوا۔ ہم دوبارہ بودھ گیا میں ملے جہاں میں تقدس مآب کے ایک مخاطبے "بودھی ستوا کردار کی پرداخت" کا ترجمہ کر رہا تھا۔ مجھہ سے منھہ پھٹ انداز میں یہ کہنے کے بجائے کہ میں اپنے معاملات پوری طرح بیوقوفی کے ساتھہ نمٹا رہا ہوں، رنپوچے نے اس متن کی طرف دیکھا جس کا ترجمہ میں کر رہا تھا۔ انھوں نے اوراق پلٹتے ہوئے کئی لفظوں کی نشاندہی کی، پھر پوچھا کہ کیا مجھے ان کا مطلب معلوم ہے؟ یہ الفاظ بعینہہ ان مسائل سے متعلق تھے جن سے میں اس وقت دوچار تھا۔ رنپوچے نے ان لفظوں کے تمام مضمرات کی وضاحت کی اوراس طرح اپنی صورت حال سے نکلنے کے لیے ایک لائحہ عمل کی طرف اشارہ بھی کیا۔

ایک مرتبہ، ایک دولت مند بوڑھی سوئس خاتون رنپوچے کو ٹیکسی میں ساتھہ لے کر زیورخ کے سب سے شاندار اور مہنگے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں گئیں۔ اسٹور سے نکلتے وقت رنپوچے نے کہا کہ یہاں ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی جس کی کسی کو واقعی ضرورت ہو۔ پھر انھوں نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ کیا اب وہ ٹرالی میں واپس ان کے گھر چلےچلیں۔ خاتون کو شرمندگی کے ساتھہ اعتراف کرنا پڑا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی ٹرالی کی سواری نہیں کی اور انہیں پتہ نہیں کہ ٹرالی پر سفر کس طرح کیا جاتا ہے اور انہیں کہاں اترنا ہوگا۔ اس طرح، رنپوچے نے بڑی نرمی کے ساتھہ انہیں یہ بات جتادی تھی کہ عام زندگی سے وہ خاتون کتنی دوری پر ہیں۔

ایک اور مرتبہ رنپوچے کو زیورخ کے قریب ایک بے حد آراستہ حویلی میں قیام کی دعوت ملی جہاں خاتون خانہ کو تعیش کے سامان کی فراوانی کے باعث بہت بے آرامی کا احساس ہورہا تھا۔ وہ سادگی اور زمینی سچائی کے ساتھہ رہنے کو ترجیح دیتی تھیں۔ انہوں نے لائبریری کے کمرے میں جہاں شاہ بلوط کے تختوں سے دیواروں اور فرش کو آراستہ کیا گیا تھا، رنپوچے کے سونے کا انتظام کیا، کیونکہ یہ اس حویلی کا سب سے شاہانہ ٹھاٹ باٹ والا کمرہ تھا۔ رنپوچے نے اس کمرے پر ایک نظر ڈالی اور اصرار کیا کہ اس کمرے کے بجائے وہ بر آمدہ میں سوئیں گے جسے پردہ لگا کر کمرہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے خاتون کو بتایا کہ انہیں خیموں میں رہنا کتنا پسند ہے۔ ان کا برآمدہ میں قیام انہیں خیمے میں رہنے کی یاد دلائے گا کیونکہ وہاں سے سامنے کے باغ اور نشیب میں جھیل کا منظر بہت خوبصورت ہے۔ اس طرح، رنپوچے نے اس خاتون کو اپنی حویلی کی زیادہ سادہ مسرتوں کو سمجھنے اور ان سے لطف اٹھانے کی ترغیب دی۔

رنپوچے ہر مطلوبہ اور ممکنہ طریقے سے دوسروں کی مدد کرتے تھے۔ اٹلی میں پومائیا کے مقام پر، دولت کی حصولیابی سے منسوب بدھ کی ایک شبیہہ، زرد تارا کی مشق کےلیے ایک اجازتی تقریب میں، رنپوچے نے ایک غریب اطالوی آرٹسٹ سے رسم ادائی کی خاطر اس شبیہہ کی تصویر بنانے کو کہا۔ مصوری کے اس عمل کے ذریعہ، اس غریب آرٹسٹ کا مضبوط کرمک رشتہ مراقبے کی اس مشق سے قائم ہوگا جو مشق کرنے والے کو خوش حالی کے فائدوں سے بہرہ ور کرتی ہے۔ اسی مرکز میں ایک اور موقعے پر، رنپوچے نے ایک نوجوان کو، جس کے والدین کے گھر ابھی حال میں رہزنی کی واردات ہوئی تھی، ایک چھوٹی سی رقم پیش کی۔ یہ تحفہ اس خاندان کی خوش حالی کو بحال کرنے کے لیے ایک مبارک آغاز ثابت ہوگا۔ ایک قریبی برطانوی شاگرد، ایلن ٹرنر کو، جسے تبتی زبان سیکھنے کی اپنی لیاقت یا اعتماد میں کوئی دل چسپی نہیں تھی، رنپوچے نے تبتی حروف تہجی کا زبانی درس دیا تاکہ کبھی آئندہ کے لیے اس کے ذہن میں ان کا عکس مرتسم ہوجائے۔ اور اس وقت جب میں تبتی کے اپنے مطالعے میں ایک اونچی سطح مرتفع تک پہنچ گیا تھا اور اس کے آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا، رنپوچے نے میرے ساتھہ تبتی لغت پڑھنا شروع کردیا اور ہر لفظ کے ساتھ مجھ سے جملے لکھوانے لگے۔

رنپوچے ایک اعلی درجے کے سفیر بھی تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جب کبھی کوئی شخص خلوص کے ساتھہ کچھہ پیش کر رہا ہو، اسے ہمیشہ قبول کرلینا چاہیے کیونکہ ہمارا انکار اس شخص کے احساسات کو تکلیف پہنچائے گا اور ہماری قبولیت سے کچھہ نقصان نہ ہوگا۔ لہذا، گرچہ رنپوچے کو کوئی میٹھی چیز پسند نہیں تھی، لیکن اگر کسی نے خاص طور پر ان کے لیے کیک تیار کیا ہو تو وہ اس کا ایک ٹکڑا بہت پر شوق انداز میں کھا لیتے تھے۔ دراصل، اس عمل سے اس شخص کی خود اعتمادی کو فائدہ پہنچتا ہو تو رنپوچے نگاوانگ کو یہ ہدایت بھی دے دیتے تھے کہ وہ کیک بنانے کانسخہ بھی لکھہ لے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ رنپوچے نہایت  کھلا ذہن اور متنوع شخصیت رکھتے تھے۔ انہیں مدعو کرنے والے بودھی مرکز کو چاہے جس نام سے پکارا جاتا ہو۔ کاگیو، نیئنگما، ساکیہ، گیلوگ، زین، یا تھرواد، وہ اسی خاص روایت کے اسلوب میں تعلیم دے دیتے تھے۔ یہ لچک بدھ مت کی بندشوں سےآگے بھی جاتی تھی۔ ایک بار اٹلی میں میلان کے مقام پر کیتھولک پس منظر رکھنے والی ایک عورت نے پوچھا، "اب جب کہ میں نے بدھ مت میں پناہ لے لی ہے اور بودھیچت اور تانترک دونوں کا عہد اٹھا لیا ہے، تو کیا میرے لیے چرچ جانا غلط ہوگا؟" رنپوچے نے جواب دیا، "اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، اگر آپ کا رخ کسی دوسرے مذہب سے متعلق محبت اور دردمندی کی تعلیمات کی طرف ہے، تو کیا آپ اسی سمت میں نہیں جا رہے ہیں جو آپ کے عقیدے کی پناہ اور آپ کے عہد کا ہے؟"