ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > روحانی رہنما اور گرو > تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر > حصہ ۴: ایک عظیم استاد بننے کے سلسلے میں رنپوچے کا رویہ

تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر

الیگزینڈر برزن
۱۹۹۸ء

حصہ ۴: ایک عظیم استاد بننے کے سلسلے میں رنپوچے کا رویہ

بودھی مشقوں میں ایک سب سے زیادہ مشکل اور نازک مرحلہ کسی روحانی گُرُو سے مکمل قلبی وابستگی کا ہے۔ اس ضمن میں زبردست احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ وابستگی مناسب طور پر قائم اور محفوظ رکھی جائے۔ ایک مرتبہ اسے پختہ بنیاد مل جائے تو پھر اسے کوئی بھی منتشر نہیں کرسکتا۔ سرکونگ رنپوچے نے اس امر کو یقینی بنانے کے لیے بڑی تکلیفیں اٹھائیں کہ ان کے اور میرے مابین ایسا ہی رشتہ قائم ہوسکے۔ ایک شام، منڈ گڈ میں مونلم کے عظیم تہوار کے خاتمے پر، رنپوچے نے وہاں اپنی جائداد سے متعلق سرمایے کی پیچیدہ کہانی مجھے سنائی۔ گرچہ ان کے دوسرے ملازمین نے اسے غیر ضروری محسوس کیا، مگر رنپوچے نے کہا کہ میرے لیے یہ سب جاننا اہم تھا۔ اگر بعد میں اس مسئلے سے متعلق جھوٹی افواہیں حاسد حلقوں کی طرف سے مجھ تک پہنچیں، ایسی صورت میں، رنپوچے اس امر کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ مجھے ان کی دیانت داری یا ان کے تئیں اپنی قلبی وابستگی کے بارے میں، پل بھر کے لیے بھی کوئی شک نہ پیدا ہو۔

کسی روحانی گرُو سے مکمل قلبی وابستگی اس امر کی متقاضی ہوتی ہے کہ ہونے والے شاگرد اور اساتذہ اچھی طرح ایک دوسرے کو پہلے پرکھ  لیں۔ گرچہ توجہ آمیز چھان بین کے بعد شاگردوں کے لیے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے لاماؤں کو وہ ایک بدھ کے طور پر دیکھنے لگیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ روحانی گرو غلطیوں سے یکسر پاک ہوتے ہیں۔ شاگردوں کو ہمیشہ یہ پرکھتے رہنا چاہیے کہ ان کے گرو کیا کہہ رہے ہیں اور حسب ضرورت، نرمی کے ساتھہ، وہ آگے تجاویز ات بھی دے سکتے ہیں۔ اگر کبھی کسی بات پروہ چونک جائیں توانھیں احترام آمیز طریقےسے اپنےلاماؤں کے قول یا عمل کی اصلاح بھی کردینی چاہیے۔

ایک بار رنپوچے نے فرانس میں واقع نالندہ خانقاہ کے مغربی بھکشوؤں کے سامنے اس نکتے کی عملاً وضاحت کرنی چاہی۔ ایک خطبے کے دوران، انھوں نے جان بوجھہ کر کسی چیز کی وضاحت بالکل غلط طریقے سےکی۔ اگرچہ انہوں نے جو کچھ  کہا تھا وہ اشتعال انگیز حد تک مہمل تھا، لیکن بھکشوؤں نے اپنی کاپیوں میں بڑے احترام کے ساتھہ ان کے الفاظ جوں کے توں نقل کر لیے۔ اگلے اجلاس میں رنپوچے نے بھکشوؤں کی خوب خبر لی، یہ کہتے ہوئے کہ پچھلے گھنٹے میں انھوں نے کسی بات کی وضاحت یکسر مضحکہ خیز بلکہ غلط انداز میں کی تھی۔ اس وقت کسی نے مجھہ سے سوال کیوں نہیں کیا؟ رنپوچےنے کہا، جیسا کہ خود بدھ نے تلقین کی ہے، انہیں کسی استاد کی کہی ہوئی بات کو اندھا دھند طریقے سے، بلا چھان بین کے تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ بڑے بڑے گروؤں کی زبان بھی گاہے بگاہے پھسل جاتی ہے، مترجموں سے باربار غلطی سرزد ہوتی ہے، اور طلبا بغیر کسی تفریق کے، ابہام سے بھرے ہوئے، الجھے ہوئے نوٹس لیتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی بات الٹ پلٹ محسوس ہو تو انھیں ہمیشہ سوال کرنے چاہیے اورعظیم متون کی روشنی میں ہر نکتے کی تصدیق کرنی چاہیے۔

شخصی طور پر، رنپوچے مستند اور معیاری بودھی شرحوں پر بھی حسب ضرورت سوال اٹھاتے تھے۔ ایسا کرتے وقت وہ تسونگکھاپا کی نظیر سامنے رکھتے تھے۔ چودھویں صدی کے اس مصلح نے لکھا تھا کہ ہندوستانی اور تبتی دونوں طرح کے گروؤں کے بہت سے محترم متون ایک دوسرے کی تردید کرتے ہیں یا غیر منطقی تاکیدوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ تسونگکھاپا نے ایسے نکات سے پردہ ہٹایا اور ان کی چھان بین کی، یا تو ایسے رویوں اور معتقدات کو جو عقل کی تاب لانے سے قاصر ہوں انہیں مسترد کرتے ہوئے، یا پھر ان عبارتوں کو جو پہلے غلط طور پر سمجھی گئی تھیں ان کی نئی، بصیرت آمیز تشریحوں کے ذریعے۔ صرف ایسے لوگ جن کا روحانی علم وسیع ہے اور جن کا مراقبے کا تجربہ گہرا ہے، اس بات کے اہل ہیں کہ نئے موقف اختیار کریں۔ سرکونگ رنپوچے انہی میں سے ایک تھے۔

مثلاً، اپنے انتقال سے ذرا پہلے، رنپوچے نے مجھے بلایا اور تسونگکھاپا کے دقیق ترین فلسفیانہ متون "بہترین تشریحی وضاحت اور معنی کا اصل" میں سے ایک عبارت کی نشاندہی کی۔ رنپوچے نے کئی سو صفحوں کے اس مقالے کی قرآت کو، صرف اپنے حافظے کی مدد سے، روزآنہ کے معمول کی مشق کا حصہ بنالیا۔ یہ عبارت ذہنی الجھاؤ کو ختم کرنے کے مراحل، اور خاص طور پر الجھاؤ کے اسباب یعنی ذہن کی زمین پر الجھاؤ پیدا کرنے والے بیجوں سے متعلق تھا۔ اس نکتے کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے میں اس اصطلاح کا ترجمہ "رجحانات" کے طور پر کر رہا تھا نہ کہ "بیجوں" کے طور پر۔ منطق، تجربے اور متن سے دوسری عبارتیں نکال کر، ان سب کی مثال دیتے ہوئے رنپوچے نے یہ وضاحت کی کہ ایک چاول کا بیج بھی بجائے خود چاول ہی ہوتا ہے۔ اس لیے، ذہنی الجھاؤ کا بیج بھی الجھاؤ کا ہی"عکس" ہے۔ یہ انقلابی تعبیر، لاشعور کے ساتھہ عمل کرنے اور اسے کیونکر سمجھا جائے، ان مسائل سے متعلق گہرے ابعاد کی حامل ہے۔

اپنی اختراعی ذہانت کے باوجود سرکونگ رنپوچے، ہمہ وقت اور اپنے تمام طریقوں سے، منکسرالمزاجی اور خود نمائی سے مکمل رہائی پر زور دیتے تھے۔ چنانچہ، اس حقیقت کے باوجود کہ منڈ گڈ میں ان کی خانقاہ کے وہ سب سے بڑے لامہ تھے، رنپوچے نے اپنے لیے کوئی خوبصورت اور شاندار مکان نہیں بنوایا۔ بس ایک چھوٹی سی چوبی رہائش گاہ تھی۔ ان کا دھرم شالہ والا مکان بھی نہایت سادہ تھا، چار افراد، متواتر آتے رہنے والے مہمانوں، دو کتوں اور ایک بلّی کے لیے، بس تین کمرے تھے۔

ٹھیک اسی طرح جیسے رنپوچے اپنی عظمت کی ذراسی نمائش سے بھی گریز کرتے تھے، وہ اپنے شاگردوں کو بھی اس بات سے روکنا چاہتے تھے کہ وہ ان کی شان بڑھائیں۔ مثال کے طور پر، مراقبے کی کئی مشقیں اپنے روحانی گروکے ساتھہ شاگرد کے رشتے کا احاطہ کرتی ہیں، جیسے کہ تفصیل کے ساتھہ ذہن کی سطح پر تصویریں بنانا جسے گرویوگ کہتے ہیں اور ایک منتر کا جاپ کرنا جس میں لامہ کا سنسکرت نام شامل ہے۔ گرو یوگ کی مشقوں میں رنپوچے اپنے شاگردوں کو ہمیشہ یہ تاکید کرتے تھے کہ وہ تقدس مآب دلائی لامہ کی شبیہ کو متصور کریں۔ جب ان سے ان کے نام منتر کے بارے میں پوچھا گیا تو رنپوچے نے ہمیشہ اپنے والد کا نام دوہرانے کے لیے بتایا۔ بیسویں صدی کے اوائل کے عظیم ترین گروؤں اور مشقوں کی تربیت دینے والوں میں ایک نام رنپوچے کے والد سرکونگ دورجے چانگ کا ہے۔ وہ اپنے دور میں کالچکر سلسلے کے وارث تھے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے علم اور مراقبے کے اپنے تجربے کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کے لیے ان کی حیثیت ایک مسلّمہ استاد کی تھی۔

رنپوچے کی زندگی کا سادہ اسلوب بہت سے دوسرے طریقوں میں اپنا اظہار کرتا تھا۔ مثلاً جب بھی وہ سفر کرتے تھے، ان کے سامنے مہاتما گاندھی کی مثال ہوتی تھی۔ وہ ہندوستانی ریل گاڑیوں کے تیسرے درجے کی تین برتھوں والے ڈبّے میں سواری پر اصرار کرتے تھے تا وقت کہ کسی خاص ضرورت کے تحت کچھہ اور منتخب کرنا پڑے۔ ایسا کرنے سے اس وقت بھی انہیں عار نہ ہوتا تھا، جب انہیں بدبو دار حاجت خانے کے پاس والی برتھہ پر سونا پڑے، جیسا کہ مغرب کے ہمارے  پہلے مشترکہ سفر کے دوران ہوا، جب ہم دھرم شالہ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئے ۔ رنپوچے نے کہا عام انسانوں کی طرح یوں سفر کرنا بہت عمدہ بات ہے کیونکہ اس سے درد مندی کا جذبہ پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ریل کے تینوں درجے ایک ہی وقت پر، ایک ہی منزل تک پہنچتے ہیں، تو پھر پیسہ کیوں ضائع کیا جائے؟ رنپوچے ان لوگوں کو سچ مچ ناپسند کرتے تھے جو ان پر اپنا پیسہ فضول خرچ کریں، چاہے اول درجے کے ٹرین ٹکٹ کی خریداری میں، یا انھیں مہنگے چمک دمک والے ریستورانوں میں لے جانے پر۔

ایک مرتبہ، جب رنپوچے سپیتی سےدھرم شالہ واپس آرہے تھے، دوسرے متعدد شاگردوں کے ساتھہ میں بھی، ایک ہندوستانی بازار میں، خیر مقدم کے لیے، ان کا منتظر تھا۔ ہم راہ دیکھتے رہے اور بہت سی کاریں اور بسیں رنپوچے کے بغیر سامنے سے گزرتی رہیں، پھر اس کے بعد ایک میلا سا پرانا ٹرک بازار میں داخل ہوا۔ ہاتھ میں اپنی دعاؤں کی تسبیح لیے سرکونگ رنپوچے اسی بھیڑ بھرے ٹرک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے ملازموں کے ساتھہ سپیتی سے وہاں تک کا پورا سفر، تین دن تک اسی سواری میں طے کیا تھا، اپنی بے آرامی یا اس سواری کی وضع قطع کے احساس سے یکسر بے نیاز ہوکر۔

جس وقت رنپوچے میری اوراپنے ملازموں کی معیت میں منڈ گڈ کے عظیم مونلم تہوار سے واپس آرہے تھے، ہمیں پونا میں دن بھر ٹرین کا انتظار کرنا پڑا۔ وہ خوشی خوشی ایک نہایت شور شرابے والے اور گرم، تیسرے درجے کے ہوٹل والے کمرے میں ٹھہر گئے، جس کی پیش کش ایک مقامی سویٹر بیچنے والے تبتی نے کی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ رنپوچے اکثر یہ مشورہ دیتے کہ ہم جب ہندوستان میں سفر کر رہے ہوں تو رات والی بسوں سے چلیں کیونکہ ان میں سفر نسبتاً سستا اور سہل ہوتا تھا۔ بھیڑ سے بھرے ہوئے بس اڈّوں پر انتظار کرتے رہنا انھیں کبھی کھلتا نہیں تھا۔ انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ مراقبے کی خاصی مشقیں انھوں نے کررکھی تھیں تاکہ اپنے آپ کو مصروف رکھ سکیں۔ شور، ابتری اور گرد و پیش کی گندگی سے ان کی یکسوئی میں کبھی فرق نہیں پڑتا تھا۔

رنپوچے ایک مقام پر زیادہ عرصے کے لیے کبھی نہیں ٹھہرتے تھے، بلکہ متواتر ادھر ادھر آتے جاتے رہتے۔ وہ کہتے تھے کہ کسی خاص جگہ سے لگاؤ پر قابو پانے کے لیے یہ اچھا ہے۔ اس طرح، جب بھی ہم دورہ کر رہے ہوتے، ہم ایک ہی گھر میں چند دنوں سے زیادہ کے لیے نہیں رکتے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم زیادہ ٹھہر جائیں اور اپنے میزبانوں کے لیے بوجھ بن جائیں۔ جب کبھی ہم ایک بودھی مرکز میں قیام کرتے ایک بزرگ بھکشو کے ساتھہ جو اس مرکز کا گرو بھی ہوتا، تو رنپوچے اس بھکشو کے ساتھہ اپنے بہترین دوست کا سا برتاؤ کرتے تھے۔ وہ اپنے قلبی رشتے کبھی صرف ایک شخص تک محدود نہیں رکھتے تھے۔

رنپوچے چاہے جہاں جائیں، وہ دن بھر کڑی مشقیں جاری رکھتے اور رات کو بہ مشکل سوتے تھے۔ وہ تانترک تصوراتی شبیہوں (سادھناؤں) کے لیے منتروں اور متون کی قرآت کرتے رہتے، صرف اپنی معیّنہ مصروفیات کے بیچ بیچ میں ہی نہیں جب غیر ملکی ملاقاتی ان کے پاس آئے ہوئے ہوں، بلکہ یہاں تک کہ میرے ترجموں کے دوران، انتظار کے درمیانی وقفوں میں بھی قرآت کا یہ سلسلہ جاری رہتا۔ اپنی سادھنا سے متعلق مراقبوں کا سلسلہ ٹوٹتا نہیں تھا، چاہے وہ موٹر کار میں ہوں، یا ٹرینوں پر، یا ہوائی جہازوں پر سفر کررہے ہوں، خارجی حالات کبھی رکاوٹ نہیں بنتے تھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہم چاہے جہاں جائیں یا کچھہ بھی کر رہے ہوں، روزآنہ کی کڑی مشق ہماری زندگی کو تسلسل کے ایک احساس سے ہم کنار کرتی ہے۔ اس سے ہم زبردست لچک، خود اعتمادی اور استحکام حاصل کرتے ہیں۔

اپنی اس مشق کا، رنپوچے کبھی دکھاوا نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں ہرکام خاموشی کے ساتھہ اور نجی طور پر کرنا چاہیے، جیسے کہ کھانا شروع کرنے سے پہلے کی دعا ہو یا درس کے آغاز سے پہلے کی پرارتھنا۔ دوسروں کے ساتھہ کھانے سے پہلے طویل قسم کی دعاؤں کی قرآت سے دوسرے بے آرامی محسوس کرسکتے ہیں یا پھر یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح ہم انھیں مرعوب کرنے یا شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر انھوں نے کبھی بھی دوسروں پر کسی مشق یا رسم کی ادائیگی مسلط نہیں کی، بلکہ جو بھی دعائیں یا رسمیں، بالعموم درس سے پہلے یا بعد میں انہیں مدعو کیے جانے والے اس مرکز پر پہلے سے رائج ہوتیں، انہیں کی پیروی کرتے تھے۔

گوکہ رنپوچے تقدس مآب کو اور تبتی اور مغربی، دونوں طرح کی خانقاہوں کو وسیع نذرانے پیش کرتے تھے، لیکن کبھی نہ تو ان کا ذکر کرتے تھے، نہ ڈینگ مارتےتھے۔ انھوں نے ایسا کبھی سوچا تک نہیں۔ ایک بار ولّوربا، اٹلی میں متوسط عمر کا ایک خستہ حال شخص، رنپوچے سے ملاقات کے لیے آیا۔ کمرے سے رخصت ہوتے وقت، اس نے خاموشی کے ساتھہ، اپنا ایک فراخ دلانہ رقم کا نذرانہ، لفافے کے اندر، وہ بھی کسی نمایاں جگہہ پر نہیں بلکہ ایک بغل کی تپائی پر رکھہ دیا۔ بعد میں رنپوچے نے کہا کہ یہی طریقہ ہے کسی لامہ کو نذرانہ پیش کرنے کا۔

بہرحال، رنپوچے کا زور اس بات پر تھا کہ ہمارا انکسار خلوص پر مبنی ہونا چاہیے، جھوٹا نہ ہو۔ وہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتے تھے جو منکسرالمزاجی کا دکھاوا کرتے ہیں، لیکن اندر سے مغرور اور پر نخوت ہوتے ہیں، یا جو سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑے یوگی ہیں۔ وہ خانہ بدوشی کا پس منظر رکھنے والے ایک گھمنڈی مشق کرنے والے شخص کی کہانی سناتے تھے جو ایک بڑے لامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس انداز کے ساتھہ کہ گویا اس نے پہلے کبھی تہذیب کا منھہ بھی نہیں دیکھا ہو، اس نے پوچھا کہ لامہ کی میز پر رسوم کی ادایگی کا یہ سامان کیا ہے؟ جب اس نے لامہ کی بلّی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ عجیب و غریب جانور کیا ہے، تو لامہ نے اسےدھکے دے کر نکال دیا۔

رنپوچے یہ بات خاص طور پر ناپسند کرتے تھے جب لوگ دکھاوے کی خاطر اپنی ریاضت کے بارے میں ڈینگ مار رہے ہوں۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ہم مراقبے کے لیے اعتکاف (retreat) میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، یہاں تک کہ اگر ہم نے اپنا اعتکاف ختم کیا ہے، ہمیں دوسروں کے درمیان اس کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ سب سے اچھی بات یہ ہےکہ ہم ایسی چیزوں کو اپنی ذات کی حد سے باہر نہ جانے دیں اور کسی کو یہ پتہ نہ چلنے دیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ورنہ ہمارے بارے میں لوگوں کی گفتگو بہت سی روکاوٹیں پیدا کرے گی، جیسے کہ اپنے آپ پر غرور، یا دوسرے میں حسد اور مقابلے کا جذبہ۔ کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ بدھ کی کس شبیہہ پر تسونگکھاپا کی خاص تانترک مشق مبنی تھی۔ یہ تو صرف اس وقت، جب ان کے شاگرد کئیڈروب جے نے، ان کے انتقال سے ٹھیک پہلے ان کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی داخلی نذرانے پیش کرنے والی پیالی سے باسٹھہ مرتبہ چڑھاوے دیے تب جا کر انھوں نے یہ سمجھا کہ یہی چکر سموار ہے، بدھ کی وہ شبیہہ جو ان کے باطنی انبساط کی تجسیم ہے۔ اسی طرح، سرکونگ رنپوچے کی تمام ترشہرت اور کالچکر سے متعلق ان کے اختصاص اور ان کی مہارت کے باوجود، کسی کو بھی ان کی خاص مشق کا علم نہیں تھا۔

رنپوچے اکثر کدمپا گیشیوں کے بارے میں بتاتے تھے کہ وہ اپنی تانترک مشقوں کواتنی گہرائی کے ساتھہ چھپائے رکھتے ہیں کہ صرف اس وقت جب لوگوں کو ان کی موت کے بعد ان کے ملبوسات کے ایک کونے میں ایک ننھا سا وجر، ہتھیار، اور ایک گھنٹی سلی ہوئی ملی تب کہیں جا کر یہ علم ہوا کہ وہ لوگ کون سی مشق کرتے آئے تھے۔ رنپوچے نے اپنی زندگی اسی مثال کے مطابق بسر کی۔ عام طور پر رنپوچے اپنے گھرانے کے ہرشخص کے سونے سے آدھ گھنٹہ پہلے سوجاتے تھے اور صبح کو ان سب کے ذرا دیر بعد بیدار ہوتے تھے۔ بہرحال، ان کے ملازمین نے اور میں نے، اکثر یہ مشاہدہ کیا کہ ان کے کمرے میں قیاساً سب کے سو جانے کے بعد بھی بتی جلتی رہتی تھی، اور گھر والوں کے جاگنے سے ذرا پہلے ہی گل کی جاتی تھی۔

ایک مرتبہ جاگندورف، جرمنی میں، رنپوچے کے خادم خاص چوندزیلا رنپوچے کے سونے کے کمرے میں ان کے ساتھہ مقیم ہوئے۔ اوپر سے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ سو گئے ہیں، چوندزیلا نے آدھی رات کو یہ دیکھا کہ رنپوچے اٹھہ گئے ہیں اور نروپا کی چھے مشقوں سے متعلق مختلف قسم کی دقت طلب کسرتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ گرچہ دن کے وقت رنپوچے کو اٹھنے پھرنے میں بالعموم دوسروں کی مدد درکار ہوتی تھی، لیکن ان میں واقعی اتنی طاقت اور لچک موجود تھی کہ اس طرح کی یوگا کسرتیں انجام دے سکیں۔

رنپوچے ہمیشہ اپنےاوصاف حمیدہ کو چھپائے رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ دراصل، وہ تو یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ اجنبیوں کو ان کی پہچان کا پتہ چلے۔ ایک بار، ایک انڈونیشین جوڑے نےہمیں اپنی کار میں پیرس سے ایمسٹرڈم لے جانے کی پیش کش کی۔ ایمسٹرڈم پہنچنے کے بعد اس جوڑے نے ہمیں کھانے پر اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ صرف بعد میں، جب مقامی بودھی مرکز کے لوگوں نے اس جوڑے کو ٹیلی فون کیا کہ انھیں رنپوچے کے درس میں مدعو کیا جائے تب میزبانوں نے یہ جانا کہ ان کا مہمان درحقیقت کون ہے۔ اس وقت تک وہ رنپوچے کو بس ایک عام، بوڑھا اور دوستانہ مزاج والا بھکشو سمجھہ رہے تھے۔

اسی جذبے کے ساتھہ، بعض اوقات، جب وہ غیر ملکی سفر میں ہوں، رنپوچے بچوں کے ساتھ شطرنج کھیلتے تھے، یا وہ اپنے چھوٹے ملازم نگاوانگ کو ساتھہ بٹھا کر ایک ساتھہ دونوں طرف سے کھیل میں مدد دیتے تھے۔ بچے صرف یہ سمجھتے تھے کہ وہ ایک مہربان بوڑھے دادا ہیں۔ ایک بار، کرسمس کے موقع پر، جب رنپوچے میونخ، جرمنی کی سڑکوں پر چلے جارہے تھے، بچے یہ سوچ کر ان کے پیچھے لگ گئے کہ اپنے سرخ چولے میں، وہ سانٹا کلاز ہیں۔

رنپوچے اس حقیقت تک کو چھپاتے تھے کہ انھیں خاصی انگریزی آتی ہے۔ سپیتی میں کالچکر کی داخلے کی تقریب کے بعد،  ان کے انتقال سے مہینے بھر پہلے، میں نے ٹابو خانقاہ میں، رنپوچے سے دھرم شالہ واپس جانے کی اجازت طلب کی۔ مغربیوں کے لیے میں نے ایک بس کرائے پر لے لی تھی اورروانگی کاوقت آگیا تھا۔ بہرنوع، ایک غیرملکی، بالکل اخیر وقت میں کیئ خانقاہ کی زیارت کے لیے چلی گئی تھیں جو وادی سے بیس میل کی اونچائی پر واقع تھی، اور وہ متوقعہ وقت تک واپس نہیں آسکی تھیں۔ میں تو ان کی تلاش میں کیئ چلاگیا، اور اسی اثنا میں ایک اطالوی شاگرد رنپوچے سے ملاقات کے لیے آیا، مگر بغیر مترجم کے رنپوچے نے جو ابھی تک کسی غیر ملکی سے انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولے تھے، اطالوی کی طرف مڑے اور بالکل رست انگریزی میں دریافت کیا، "الیکس کہاں ہیں؟" جب اس شخص نے حیرانی سے کہا، "مگر رنپوچے آپ تو انگریزی نہیں بولتے" تو رنپوچے صرف ہنس دیے۔