ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر

الیگزینڈر برزن
۱۹۹۸ء

حصہ ۳: رنپوچے کے ساتھہ تربیت

سرکونگ رنپوچے سےمیری پہلی ملاقات بودھ گیا کے مقام پر جنوری ۱۹۷۰ء میں ہوئی۔ دو نوعمر پُنر جنمے لاماؤں، شارپا اور کھام لُنگ رنپوچوں نے جنھوں نے امریکہ میں گیشے وانگیال کے زیر ہدایت انگریزی پڑھی تھی، مجھے ان سے ملنے کا مشورہ دیا کہ سرکونگ رنپوچے مجھے مناسب ترین استاد تک پہنچنے کی ہدایت دے سکیں گے جن کے ساتھ میں "گوہیا سماج" پوشیدہ عوامل کی اسمبلی کا مطالعہ کر سکوں گا۔ پی ایچ۔ ڈی کے مقالے کے لیے اس پیچیدہ تنتر سلسلے کا انتخاب، اپنے موضوع کے طور پر میں نے ایک گریجویٹ سیمنار میں اسرار سے بھرے ہوئے اور خفیہ اصل متن کے ایک مختصر حصے کی سنسکرت اور تبتی عبارتوں کا موازنہ کرنے کے بعد کیا تھا۔

گرچہ میرے لسانیاتی مطالعات نے مجھے اس قسم کے کسی اعلی سطحی مطالعے کا بوجھہ اٹھانے کے لائق نہیں رہنے دیا تھا، تاہم سرکونگ رنپوچے نے مجھے بڑی سنجیدگی سے لیا۔ انھوں نے میری رہنمائی کے لیے اوپری تانترک کالج میں گیؤتو کے وظیفہ یاب سربراہ کنزور یےشے دونڈروب کا نام تجویز کیا جو کیٴ برس بعد گیلوگ روایت کے سربراہ بنے ۔ میں نے اسے اپنے لیے اعزاز سمجھا کہ رنپوچے نے ایک ایسے مشہور و معروف استاد نگراں کا انتخاب کیا ہے۔

کئی مہینوں کے بعد، میں نے سربراہ سے ان کی کی چھوٹی سی، کیچڑ اور گائے کے گوبر سے لپٹی ہوئی جھونپڑی می ملاقات کی جو ڈلہوزی سے کافی بلندی پر واقع تھی، اس پہاڑی گاؤں می جو دھرم شالہ کے قریب ہے اور جہاں گیؤتو خانقاہ ہے اور جہاں میں اقامت پذیر تھا، سیدھے سادے بوڑھے بھکشو نے عین اسی وقت تین تین برسوں کی ریاضت پر مشتمل دو مرتبہ یکے بعد دیگرے مراقبوں کی تکمیل کی تھی۔ جب میں سربراہ سے درخواست کی کہ مجھے درس دیں تو وہ فوراً رضا مند ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ میں بالکل صحیح وقت پر ان کے پاس پہنچا ہوں۔ وہ اگلے ہی روز سے گوہیا سماج کے نظم پر تین برسوں کی مدت کے ایک ہمہ گیر کورس کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ کیا میں اس میں شامل ہونا چاہوں گا؟ مجھے، بے شک، معذرت کرنی پڑی، لیکن رنپوچے نے جس کلاسیکی بودھی طریقے سے وہ سبق پیش کیا تھا، میں نے اسے سیکھ  لیا – رنپوچے نے میرے لیے ماحول ایسا مرتب کر دیا تھا کہ میں اپنےطور پر صداقت کو پہچان لوں۔اس سب سے زیادہ ترقی یافتہ تنتر کی مشق اور مطالعے کے لیے، مجھے اپنی بات بالکل شروع سے پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔

میں نے جلد ہی اپنے مقالے کا موضوع بدل کر ایک نسبتاً سہل مضمون چن لیا، " لم-رِم" کی حکایتی روایت، اس راستے کے تدریجی مراحل، اور یہ انتظام کیا کہ میں شارپا اور کھاملُنگ رنپوچے کے استاد، گیشے نگاوانگ دھارگیئے سے اس مضمون کی بنیادی باتیں سمجھ لوں۔ گیشے ایک خانقاہی سند ہے، تقریباً ایک پی ایچ۔ ڈی کے برابر اور ایک ذی علم استاد کے طور پر گیشے کی صلاحیتوں نے انھیں پانچ پُنر جنمے لاماؤں کے اتالیق کے درجے تک پہنچا دیا تھا۔ اس وقت گیشے دھرگیئے گایوں کے ایک باڑے میں مقیم تھے جسے گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اور جہاں مکھیاں بھنبھناتی پھرتی تھیں۔ یہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ صرف ان کا بستر سما سکتا تھا، اور تھوڑے سے باقی فرش پر تین افراد سمٹ کر بیٹھہ سکتے تھے۔ اگرچہ ان کی رہنے کی جگہ میرے لیے مکروہ تھی، میں نے وہاں رہ کر اپنی پڑھائی شروع کردی۔ مجھے جدید بات چیت والی تبتی زبان سیکھنے کی بھی ضرورت تھی، ہارورڈ میں، میں نے صرف کلاسیکی تحریری زبان سیکھی تھی۔

سرکونگ رنپوچے سے میری اگلی ملاقات اسی سال کے ماہ جون میں ہوئ، اس علاقے میں ہیضے اور میعادی بخار کی مہلک وبا پھوٹ پڑی تھی اور تقدس مآب نے رنپوچے سے درخواست کی تھی کہ وہ ہایا گریوا کے اختیارات تفویض کرنے کے لیے ڈلہوزی آجائیں۔ بدھ کی اس طاقت ور شبیہہ کی مشق، اگر حفظانِ صحت اور صفائی کا خیال رکھتے ہوئےکی جائے، تو لوگوں کو بیماریوں کے جراثیم سے محفوظ رہنے میں مدد ملتی ہے۔ اگرچہ میں ان مٹھی بھر مغربیوں میں شامل تھا جنھوں نے تربیت حاصل کرنے کے اس اقدام میں پہل کی، مجھے نجی طور پر رنپوچے سے ملاقات کا کوئی موقعہ نہیں ملا۔ انھیں دوسری جگہوں پر عطائے اختیار کی یہ رسم ادا کرنی تھی، لہٰذا وہ ڈلہوزی سے جلد رخصت ہو گئے۔

ہماری اگلی ملاقات کےوقت تک بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ ۱۹۷۱ء کے موسمِ خزاں میں، تقدس مآب نے گیشے دھرگیئے سے کہا کہ وہ دھرم شالہ کے نو "تعمیر تبتی تحریروں اور ذخیروں کے کتب خانے" (Library of Tibetan Works & Archives) میں غیر ملکیوں کو بدھ مت کا درس دیں۔ شارپا اور کھاملُنگ رنپوچوں کو بھی ان کے ترجمان کی حیثیت سے ساتھ کر دیا گیا۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا میں بھی کتب خانے میں کوئی خدمت، جیسے کہ متون کا ترجمہ کرنا، انجام دے سکتا ہوں اور تقدس مآب نےاسے منظور کر لیا۔ مجھے پہلے اپنا مقالہ داخل کر کے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنی تھی، پھر واپس آنا تھا۔ سو میل سے کم کی دوری پر حال میں ہی پاکستان کےساتھہ اچانک بھڑک اٹھنے والی جنگ کے باعث، مجھے بلا تاخیر رخصت ہونا پڑا۔ میں ہارورڈ واپس آیا اور پھر تقدس مآب کی تلقین کے مطابق کام کرتا رہا۔ یونیورسٹی میں پڑھانے کے پیشے کو خیرباد کہ کر، جس نے میرے پروفیسروں کو خاصا حیران کیا، کچھ مہینوں بعد، میں ستمبر ۱۹۷۲ء میں دھرم شالہ چلا گیا۔

سرکونگ رنپوچے اسی وقت نیپال کے لیے روانہ ہوئے تھے تاکہ وہاں کی کچھہ نو تعمیر خانقاہوں میں اختیارات سونپنے کےساتھہ ساتھہ زبانی درس دے سکیں۔  جب وہ ۱۹۷۴ء کے موسم خزاں میں دھرم شالہ واپس آئے، میں نے بالآخر تبتی زبان اتنی سیکھ  لی تھی کہ ان سے براہ راست بات چیت کر سکوں۔ گو کہ میں پہلے پہل یہ سمجھ نہیں سکا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ رنپوچے کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ میں نے ان کا مترجم بننے کے لائق ان سے کرمی تعلق قائم کر لیا ہے۔ اس امر کی جانب انھوں نے یوں اشارہ کیا کہ اپنے پاس اکثر آنے اور مختلف لوگوں سے ملاقات کے دوران، مجھے وہاں بیٹھے رہنے کی منظوری دے دی۔ ملاقاتوں کے بیچ بیچ میں، رنپوچے مجھہ سےباتیں کرتے اور تبتی میں مختلف لفظوں کی تشریح کرتے جاتے تاکہ، انھیں اس کا یقین آجائے کہ میں نے ان کی گفتگو سمجھہ لی ہے۔

تھوڑا وقت گزرنے پر رنپوچے نے مجھے سفید منجوشری، سفید سرسوتی اور سفید تارا اسکرول پینٹنگز کا ایک سیٹ تحفے میں دیا جو سپیتی کےلوگوں نے انھیں حال ہی میں پیش کیا تھا۔ بدھ کی یہ شبیہیں شروع شروع بچپن سےان کےشخصی ارتقا اور مراقبے کی مشق کےلیے مرکزی حیثیت کی حامل ثابت ہوئی تھیں۔ یہ تصویریں بالترتیب، دوسروں کی مدد کے لیے ذہن کی صفائی، رواں دواں تخلیقی اظہار کے لیے ذہین بصیرتوں اورایک لمبی نفع بخش زندگی کے لیے ضروری توانائی کو مجسم پیش کرتی تھیں۔ یہ دور رس تحفہ ہمارے باہمی تعلق کی تصدیق کرتا تھا۔ جب میں نےرنپوچے سے پوچھا کہ کیا میں ان کا شاگرد بن سکتا ہوں تو وہ میری اس مخصوص مغربی عادت پر کہ جو بات اظہرمن الشمس ہے اسے زبانی طور پر بھی دوہرانے کی ضرورت ہے، بس متانت سےمسکرا دیے۔

پھر رنپوچے نےبڑےباقاعدہ طریقے سےمجھے ایک مترجم بننے کی تربیت دینا شروع کردی۔ کبھی بھی زبان سے یہ کہے بغیر کہ وہ یہ کر رہے ہیں،  پہلے انہوں نے میری یاد داشت پر کام کرنا شروع کیا۔ جب کبھی میں ان کے پاس جاتا، قطعاً غیر متوقع لمحوں میں، رنپوچے مجھ سے اپنی اسی وقت کہی ہوئی بات لفظاً لفظاً دوہرانے کے لیے کہتے۔ اسی طرح، وہ مجھ سے اس وقت میری اپنی کہی ہوئی بات دوہرانے کو کہتے۔ ایک مرتبہ، ۱۹۷۵ء کے موسم خزاں میں، میں نے ان کے ترجمان کا کام شروع کر دیا- رنپوچے اکثر مجھہ سے یہ کہتے کہ میں ان کے لفظوں کو پھر تبتی زبان میں منتقل کروں تاکہ وہ اس امرکی تصدیق کر لیں کہ میں نے کوئی غلطی، یا اپنی طرف سےکوئی اضافہ یا کسی طرح کی تخفیف تو نہیں کی ہے۔ فی الواقع، ان آٹھہ برسوں کےدوران جب میں نے ان کےمترجم کی خدمات انجام دیں، میں نے یہ محسوس کیا کہ ہر دفعہ جب رنپوچے مجھہ سے یوں پلٹ کر ترجمہ کرنے کے لیے کہتے تھے، تو مجھہ سے ان کی بات کےسمجھنے میں لازماً غلطی سر زد ہویٴ ہوتی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ رنپوچے کو ہمیشہ یہ احساس ہو جاتا تھا کہ میں نے غلطی کی ہے۔

اس کے بعد رنپوچے نے ہر اجلاس کے خاتمے پر اپنی تعلیمات کا پانچ منٹ کا خلاصہ بیان کرنا شروع کر دیا، اور کہا کہ اب خلاصہ بیان کرنے کی میری باری ہے۔ اس طریقے سے انھوں نے میری نہ صرف لمبی تقریروں کا ترجمہ کرنے کی بلکہ پڑھانے کی تربیت بھی شروع کر دی۔ بعض اوقات، جس وقت میں اپنا خلاصہ تیار کر رہا ہوتا، وہ خدمت گاروں سے بات چیت شروع کر دیتے تاکہ میرا مراقبہ قائم رکھنے کی صلاحیت کو آزما سکیں۔ ایک اچھے استاد کو باہر کے شور شرابے سے بہکنا یا پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

جس وقت رنپوچے مجھے نجی طور پر پڑھا رہے ہوتے، وہ مجھے نوٹس نہیں لینے دیتے تھے۔ مجھے ہر بات یاد رکھنی اور بعد میں قلم بند کرنی ہوتی تھی۔ جلد ہی رنپوچے نے مجھے اپنے اسباق کے بعد کرنے کےلیےڈھیر سارا کام دے دیا تاکہ رات کو صرف دیر گئے میں اپنی نوٹس لکھہ سکوں۔ اخیر میں کبھی کبھی رنپوچے اس نجی درس کو دیتےجس کا میں ترجمہ کر رہا ہوتا، اچانک چپ ہو جاتے تھے اورضمنی طور پرکسی اور مسئلے کی تشریح کرنے لگتے جس کا تعلق یکسر مختلف موضوع سے ہوتا تھا۔ اس کےبعد مجھے اپنے لفظوں پر غور کرنے یا کچھہ لکھنے کے لیے پل بھر کا موقعہ دیے بغیر وہ اپنے اصل درس کا سلسلہ آگے بڑھا دیتے تھے۔

اگر کبھی بھی میں رنپوچے سے ان کی پہلے کی بتائی ہوئی کسی بات کے بارے میں سوال کر لیتا تو وہ مجھے میری یاد داشت کی کمزوری پر سختی سے جھڑک دیتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھے ان سے ایک اصلاح کا مطلب پوچھنا اور رنپوچے کا یہ سوکھا جواب دینا یاد ہے کہ، "میں نے یہ لفظ تمہیں سات برس پہلے سمجھایا تھا! یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے، پھر بھلا تم اسےکیوں نہ یاد رکھہ سکے؟" ایک بار انھوں نےمجھہ سے کہا تھا کہ جیسے جیسےان کی عمر بڑھ رہی ہے، ان کا ذہن بتدریج صاف ہوتا جا رہا ہے۔

سرکونگ رنپوچے کو صرف میری یاد داشت کو بہتر بنانے سے ہی نہیں، بلکہ صحیح ترجمہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے سے بھی دل چسپی تھی۔ مغربیوں کو درس دینے کے اپنے تجربے سے یہ معلوم ہوا تھا کہ ان کی بہت سی غلط فہمیاں تو بعض تکنیکی اصطلاحوں کے گمراہ کن ترجموں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ نتیجتاً انھوں نےمیرے ساتھہ مل کر انگریزی میں وضع اصطلاحات کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ تحمل کےساتھہ ہر تبتی اصطلاح کے مضمرات کی وضاحت کرتے تھے پھر اس کےانگریزی مترادافات کے ممکنہ مفاہیم کی بابت سوال کرتے تھے تاکہ معنی کو ملا کر دیکھنے کی کوشش کر سکیں۔ وہ ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ نئی اصطلاحات کےساتھہ تجربے کروں اور ناکافی رسوم کا غلام بن کر نہ رہ جاؤں۔ سنسکرت سے بودھی متون کےترجمے کے لیے جو ڈھلی ڈھلائی تبتی اصطلاحات مستعمل تھیں ان کی تشکیل صدیوں کےعرصے میں بتدریج ہوئی تھی۔ لہٰذا، یہ عین فطری ہے کہ ان پر نظر ثانی کا ایک مماثل سلسلہ مغربی زبانوں میں انھیں ترجمہ کرتے وقت سامنے آئے گا۔

جب میں نے اولاً رنپوچے سے یہ درخواست کی کہ مجھےایک شاگرد کےطور پر قبول کر لیں، میں نےخاص طور پر یہ بات کہی کہ وہ مجھے ایسے ہنر مندانہ وسائل سکھائیں کہ بھلا کیوں کر، دردمندی اور دانایٴ کے ساتھ  لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ ایک اعلی تدریسی پس منظر سے تعلق کی وجہ سے، جس میں مجھے ہمیشہ امتیازی حیثیت حاصل رہی تھی، میرا شخصی ارتقا یک رخے طور پر ہوا تھا۔ مجھے معاشرتی آداب اور عاجزی سیکھنے کی ضرورت تھی۔

لہذا رنپوچے مجھے صرف ایک نام سے پکارتے تھے، "ڈمی" یعنی احمق اور جب بھی مجھہ سےکوئی احمقانہ یا غلط حرکت سرزد ہوتی، عمل میں یا گفتگو میں، تو وہ مجھے لازماً ٹوکتے تھے۔ مثال کےطور پر، جب بھی وہ مجھ سے ترجمہ کرواتے تو رنپوچے کا اصرار اس بات پر ہوتا تھا کہ میں پہلے اچھی طرح خود سمجھ تو لوں۔ جہاں کہیں مجھ سے لغزش ہوتی، انھیں اس سے کوئی غرض نہیں رہتی تھی کہ ان کے ذریعہ احمق کہے جانے سے میں کتنی دیر تک اور کس درجہ خفیف ہوا ہوں۔ ایک بھی لفظ، جب تک میں اسے اچھی طرح سمجھہ نہ لوں اور اس کا درست ترجمہ نہ کر لوں، وہ آگے نہیں بڑھتے تھے۔ گرچہ اس قسم کے طلبہ کےلیے جو خود کو کمتر اور حقیر سمجھنے کی بیماری میں مبتلا ہوں، یہ طریقے نا مناسب تھے، تاہم، ان کا یہ سخت اور رعایت سےعاری رویہ میرے لیےکلی طور پر مفید ثابت ہوا۔

ایک مرتبہ لاوؤر، فرانس میں، رنپوچے نے ایک پیچیدہ متن کی تشریح کے بارے میں بیان دیا۔ جس وقت میں ترجمہ کرنے کے لیے بیٹھا، رنپوچے نے کہا کہ اس تشریح کی مختلف اشاعتوں کا موازنہ بھی کرتا جاؤں اور ہم جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں میں اس متن کی تدوین بھی کرتا جاؤں۔ میرے پاس قلم نہیں تھا، لیکن میرے عین سامنے ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھیں جن کے سرخ بال خضاب سے اچھی طرح رنگے ہوئے تھے، سرخ لپ اسٹک کی تہہ ہونٹوں پر جمی ہوئی تھی اور پورے درس کےدوران ایک سرخ گلاب ان کےدانتوں میں دبا رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا مجھے کسی سےعاریتاًً ایک قلم مل سکتا ہے اور انھوں نےاپنا قلم میری طرف بڑھا دیا۔ اجلاس کےخاتمے تک میں مکمل طور پر ہلکان ہو چکا تھا۔ جیسے ہی میں کھڑا ہوا، اس خاتون نے ایک لفظ کہے بغیر اپنا ہاتھہ میری طرف بڑھایا۔ میں اپنے آپ میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ میں سمجھا وہ میری کار کردگی سے خوش ہو کر مصافحہ کرنا چا ہتی ہیں اور مجھے مبارکباد دینا چاہتی ہیں۔ جیسے ہی میں نے جواب میں اپنا ہاتھہ بڑھایا رنپوچے گرج پڑے " ڈمی! ان کا قلم واپس کرو!"

میری خودنگری کو اعتدال پر لانے کےلیےرنپوچےنےمجھے یہ بھی سکھایا کہ جو کام بھی کروں دوسروں کےلیےکروں۔ ایسا انھوں نے اس طرح کیا کہ کبھی بھی مجھے کوئی درس دینے یا اختیار سونپنے پر رضامند نہیں ہوئے جس کی درخواست میں نے اپنے لیےکی ہو۔ وہ صرف اس وقت راضی ہوتے تھےجب کوئی اور گزارش کرتا تھا اور میں مترجم ہوتا تھا۔ رنپوچے نےمجھے انفرادی طور پر محض وہ باتیں سکھائیں جن کا سیکھنا اُن کےنزدیک میرے لیے اہم تھا۔

اس کے علاوہ رنپوچے نے کبھی میرے منہ پر میری تعریف نہیں کی، بلکہ ہمیشہ مجھے جھڑک دیتے تھے۔ ایسا وہ خاص کر دوسروں کے سامنے کرتے تھے تاکہ میں تنقید یا تناؤ سے پریشان نہ ہونے کی عادت بنا لوں۔ دراصل مجھے ایسا صرف ایک موقعہ یاد ہےجب انھوں نے میرے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ہمارے ایک دوسرے کے ساتھہ مغربی دورے کے اختتام کا پہلا موقعہ تھا- اس جذباتی طور پر طاقت ور طریقے سے رنپوچے نےمجھے یہ تربیت دی کہ محض دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی خواہش سے مجھ میں تحریک پیدا ہو، اپنی تعریف سننے یا اپنے استاد کوخوش کرنے کی خواہش سے نہیں۔ جب میں نے یہ دیکھہ لیا کہ ان کی طرف سے شکریے کا انتظار ویسا ہی ہے جیسے کہ کتے کو اس بات کا انتظار کہ اس کے سر پر تھپک  دیا جائے، تو میں نے جلد ہی ان کی منظوری کے اظہار کی توقع ختم کردی، اگر وہ میری تعریف کربھی دیتے تو سوائے اپنی دم ہلانے کے میں اور کیا کرلیتا؟

رنپوچے ہمیشہ لوگوں کو اس بات کا حوصلہ دلاتے تھے کہ وہ خود سے عظیم صحائف کے متون کا مطالعہ کریں۔ جب بھی کسی کے ذہن میں کوئی شک یا سوال پیدا ہوتا، رنپوچے اس کو رفع کرتے اور اس شخص کی جانب متوجہ ہوتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ان کی باتیں من گھڑت نہیں ہیں بلکہ معتبر مآخذ سے لی گئی ہیں۔ نیز وہ یہ بھی کہتے کہ کویٴ بھی ایک لامہ سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ اسے سب کچھ سکھا دے۔ مزید برآں، مغربیوں کے لیے وہ تقدس مآب کا یہ بیان بھی دوہراتے تھے کہ آئندہ دوسو یا اس سے بھی زیادہ برسوں کے لیے بدّھ کی تعلیمات کا سارا پھیلاؤ صرف تبتّی زبان میں مل سکے گا۔ اسی لیے وہ اپنے مغربی شاگردوں کو پر زور طریقے سے تبتی زبان سیکھنے کا حوصلہ دلاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تبتی زبان کا ہر رکن معانی سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ، پڑھاتے وقت رنپوچے اکثر تبتی زبان کی تکنیکی اصطلاحوں کے مضمرات تفصیل سےبیان کرتے تھے۔

اسی رویّے کے پیش نظر، رنپوچے مجھہ سے متون پڑھوانے کے ساتھہ میری پڑھائی کا سلسلہ آگے بڑھاتے تھے اور مجھے یہ اجازت بھی دیتے تھے کہ اگر کوئی سوال میرے ذہن میں ابھرے تو اسے سامنے لاؤں۔ وہ کہتے تھے کہ اس طریقے سے شاگردوں کو بالآخر یہ سہولت حاصل رہے گی کہ حسب منشا وہ بودّھی ادب کو کہیں سے بھی پڑھ سکتے ہیں مثلا سمندر کی پیراکی یا ہوا میں اڑان بھرنے کے بارے میں بھی۔ یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ لاماؤں کو ان کے دونوں پیروں پر کھڑا ہونا اور پھر اڑنا سکھانا چاہیے، وہ یہ رہ نمائی بھی کرتے تھے کہ وہ کن چیزوں کا مطالعہ کریں اور کیا کیا پڑھیں۔ اس کے بعد وہ اپنے شاگردوں کو گھونسلے سے باہر دھکیل دیتے تھے کہ اب وہ اپنے بوتے پر اڑان بھریں۔

رنپوچے مجھے یہ سکھانے کے لیے بہت سے طریقے اختیار کرتے تھے کہ میں کسی بھی طرح صرف ان پر ہی منحصر نہ رہ جاؤں۔ مثلاً گرچہ مجھ میں اور رنپوچے میں نہایت قریبی تعلق استوار ہوچکا تھا، وہ کبھی یہ نہیں ظاہر کرتے تھے کہ وہ ہر موقع پر میری مدد کرسکتے ہیں۔ ایک دفعہ میں خاصا بیمار تھا اور جو دوا میں لے رہا تھا وہ بے اثر تھی۔ میں نے جب رنپوچے سے یہ دریافت کیا کہ مغربی، تبّتی یا ہندوستانی طریق علاج میں سے اس وقت کس طریقے کو غیبی تائید حاصل ہے تو رنپوچے نے کہا کہ فی الوقت انھیں کوئی غیبی اشارہ نہیں مل رہا ہے۔ اس علاج کو جاری رکھنے کے بجائے انھوں نے اب یہ کیا کہ مجھے ایک دوسرے عظیم لامہ کے پاس بھیج دیا جنھوں نے میری مدد فرمائی اور زیادہ موثر علاج شروع کردیا۔ جلد ہی میں صحت یاب ہوگیا۔

کئی برسوں کے بعد، مجھے پتہ چلا کہ رنپوچے مجھے تقدس مآب کے لیے ترجمے کی تربیت دے رہے ہیں۔ دراصل، بعض اوقات مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ میری حیثیت ایک ایسے تحفے کی ہے جسے رنپوچے تقدس مآب کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خدمت اچھی طرح انجام دینے کے لیے، بہرحال، مجھے تقدس مآب سے بہت قریب یا ان کی ذات گرامی پر منحصر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایسی صورت میں میری حیثیت متعدد گولف کلبوں میں سے ایک کلب کی سی ہو کر رہ جاتی جسے تقدس مآب اپنی ترجمے کی ضرورتوں کے تحت منتخب کرلیتے۔ پھر مجھے زبردست دباؤ کو جھیلنے اور اپنی انا پر قابو پانے کی ضرورت بھی درپیش ہوگی۔

اس طرح رنپوچے نے مجھے یہ سکھایا کہ ایک دلائی لامہ کی خدمت کے دوران مجھے کیا مناسب رویّہ اختیار کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، تقدس مآب کے مترجموں کو، ان کی موجودگی میں اپنے ہاتھہ کبھی اس طرح نہیں ہلانے چاہئیں جیسے وہ رقص کر رہے ہوں، نہ ہی انہیں یوں گھورنا چاہیے جیسے کہ ہم کسی چڑیا گھر میں ہیں۔ اس کے بجائے انھیں اپنے ہاتھہ ڈھیلے چھوڑ دینا چاہئیں، توجہ پوری طرح مرکوز رکھنی چاہیے، اور کبھی اپنی شخصیتوں میں سے کسی عنصر کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ انھیں تمام لوگوں اور نکات کی فہرست اسی ترتیب کے ساتھہ ذہن میں رکھنی چاہیے جس طرح تقدس مآب نے ان کا تذکرہ کیا ہو، کبھی کوئی ایسی کمی بیشی نہ کریں جس کے بارے میں تقدس مآب کا موقف یہ ہو کہ اس کا کچھہ بھی مقصد یا مطلب نہیں ہے۔

لاماؤں کے ا لقاب کا ترجمہ بلکل درست ہونا چاہیے، عین اسی طرح جیسے تقدس مآب انہیں استعمال کرتے ہیں، نہ کہ غیر ملکیوں کی طرح، جو کم و بیش ہر لامہ کو "تقدس مآب" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ان لاماؤں کے اعزاز میں اضافے کی بجاےٴ، یہ ناواقفیت پر مبنی مغربی چلن، اس اعزاز میں تخفیف کا سبب بنتا ہے۔ سچ تو یہ کہ اگر ان لاماؤں کو یہ معلوم ہوجائے کہ غیر ملکی لوگ ان کا ذکر انہی ا لقاب کے ساتھہ کر رہے ہیں جو دلائی لامہ کے لیے ہیں، تو وہ دہشت زدہ ہوجائیں گے۔ کیتھولک کلیسا اور سفارتی عملے کی طرح تبتی آداب اور ان میں شامل ا لقاب کا درجات اور مراتب کے مطابق استعمال، سخت قوانین کا پابند ہے۔

اکثر، جب میں تقدس مآب کا ترجمہ کر رہا ہوتا، اس وقت سرکونگ رنپوچے میرے مقابل بیٹھہ جاتے۔ انھیں دیکھتے ہوئے مجھے ان کی تربیت پر مراقبہ جمائے رکھنے میں مدد ملتی تھی۔ مثال کے طور پر، ایک بار دھرم شالہ میں چند سو مغربیوں اور ہزاروں تبتیوں کی موجودگی میں، تقدس مآب نے مجھے روک دیا اور زبردست قہقہہ لگایا۔ "ان سے ابھی ایک غلطی سرزد ہوئی!" تقدس مآب انگریزی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اگرچہ خجالت کے باعث میں ایک چیونٹی کی طرح قالین کے نیچے رینگ کرچھپ جانا چاہتا تھا، رنپوچے کے سامنے بیٹھے رہنے سے ڈمی کو اپنے حواس پر قابو رکھنے میں مدد ملی۔

بہر حال، کبھی کبھی مجھے اپنے اسباق میں پر زور یاد دہانیوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ مثال کے طور پر، بالکل شروع کے دنوں میں، ایک بار بودھ گیا کے بودھی درخت کے نیچے جب تقدس مآب تقریباً دس ہزارلوگوں کے سامنے خطاب فرما رہے تھے، میں نے ان کے وعظ کا ترجمہ کیا۔ میرا مائکرو فون خراب ہوگیا اور تقدس مآب کو عملاً مجھے اوپر منتر پڑھنے والے کے تخت پر چڑھانا پڑا تاکہ میں اس کے ساؤنڈ سسٹم سے کام لے سکوں۔ اس ساؤنڈ سسٹم کا آلہ بھی خراب ہوگیا۔ اب تقدس مآب کو مجھے فرش پر پہلی صف میں اپنے تخت اور سرکونگ رنپوچے کے درمیان بٹھا کر، جملوں کے بیچ بیچ میں خود اپنا مائکرو فون بار بار میری طرف بڑھانا پڑا۔ میں اتنا بوکھلایا ہوا تھا کہ میرے لیے اپنے آپ پر قابو رکھنا مشکل تھا۔ مروجہ انداز میں احترام آمیز طریقے سے دونوں ہاتھوں کو پھیلانے کے بجائے اب مجھے صرف ایک ہاتھہ سے بار بار تقدس مآب سے مائکرو فون وصول اور پھر واپس کرنا پڑرہاتھا۔ بعد میں، رنپوچے نے میرے اس طرح مائکرو فون لینے پر جیسے کہ ایک بندر کیلے کی طرف جھپٹتا ہے، واقعی میری پٹائی کردی۔

رنپوچے اس کا خیال رکھتے تھے کہ مغربی لوگ، تقدس مآب کے سامنے بالعموم اپنے بہترین اطوار کے ساتھ حاضر ہوں۔ تقدس مآب کی عوامی تعلیمات کے دوران، اکثر ان لوگوں کا انداز، رنپوچے کو ہیبت زدہ کردیتا تھا۔ وہ کہتے تھے، اس بات کا لحاظ رکھنا کہ تقدس مآب کی حیثیت کیا ہے، بہت اہم ہے۔ وہ عام قسم کے پنر جنمے لامہ نہیں ہیں۔ ان کے سامنے ہونے کا مطلب ہے خاص احترام اور عاجزی کے ساتھہ پیش آنا۔ مثال کے طور پر، گروہ میں شمولیت کی کسی تقریب یا خطبے کے دوران، چائے کے وقفوں میں، تقدس مآب کی نظر کے سامنے اس طرح کھڑا ہونا یا باتیں کرنا جیسے کہ وہ وہاں موجود نہیں ہیں، بہت بڑی گستاخی ہے۔ مناسب آداب یہ ہیں کہ کوئی بات کرنی ہو تو وہاں سے باہر چلے جائیں۔

ایک مرتبہ، ایک مغربی بودھی تنظیم نے، ایک مخاطبے کا اہتمام کیا، جب مجھے دھرم شالہ میں تقدس مآب کے لیے ترجمہ کرنا پڑا۔ تقدس مآب نے لکھے ہوئے سوالوں کا جواب دینے کی پیش کش کی۔ ہر اجلاس کے بعد، رنپوچے نے مجھہ سے کہا کہ اگلے روز پیش کیے جانے والے سوال انہیں پڑھ کر سنا دوں، اور فیصلہ کن انداز میں وہ ایسا ہر سوال مسترد کردیتے تھے جو احمقانہ یا ادنی ہو۔ بعض اوقات رنپوچے مجھہ سے کچھ سوالوں کو نئے سرے سے وضع کرنے یا مختلف انداز میں پیش کرنے کے لیے کہتے تاکہ وہ زیادہ بامعنی نظر آئیں۔ لوگوں کو تقدس مآب کا وقت یا بہت سے لوگوں کو ان کے جوابوں سے جو فائدہ پہنچتا ہے، اسے گنوانا نہیں چاہیے۔ متعدد موقعوں پر تقدس مآب فرماتے تھے کہ پوچھے جانے والے سوال کتنے عمدہ اور گہرے تھے۔ جب بھی میں تقدس مآب کے ساتھہ سفر کرتا تھا، میں نے یہ سیکھہ لیا تھا کہ لوگوں کے سوالات کو، میں خود کس طرح ترتیب وتدوین کے عمل سے گزاروں۔