ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر

الیگزینڈر برزن
۱۹۹۸ء

حصہ ۲: رنپوچے کی زندگی اور شخصیت

تصویر سرکونگ رنپوچے کی نےارپ تسنژاب  سرکونگ  رنپوچے ایک قوی ہیکل انسان تھے۔ ایک لامہ جن کا منڈا ہوا سر، سرخ چولا اور گہری لکیروں والا چہرا، انھیں اپنی حقیقی عمر سے کہیں زیادہ سن رسیدہ ظاہر کرتا تھا۔ اپنے انکسار آمیز، دانشمندانہ اطوار اور اپنی نرم رو حسِّ مزاح کے باعث وہ قدیم حکایات کے ایک دانا بزرگ  لگتے تھے۔ اُن کی یہ خوبی ان سے ملنے والے مغربیوں کی توجہ سے بچ نہ سکی۔ مثال کے طور پر، دھرم شالہ میں، معروف فلم "اسٹار وارز" کے بنانے والوں نے جیسے ہی انھیں دیکھا، یہ فیصلہ بھی کر لیا کہ وہ اُن سے اس رزمیے کے روحانی پیشوا یودا کے ماڈل کے طور پر کام لیں گے۔ رنپوچے نے یہ فلم تو کبھی نہیں دیکھی لیکن، اگر دیکھہ لیتے تو اپنے کیریکیچر سے یقیناً محظوظ ہوتے۔ رنپوچے کی شخصیت کا اہم ترین پہلو، بہر حال، تقدس مآب دلائی لامہ سے ان کا مخصوص تعلق تھا۔

دلائی لامہ تبت کے روحانی اور زمینی پیشوا ہیں۔ ان کا سلسلہ پنر جنم کے واسطے سے قائم ہے۔ ایک دلائی لامہ کی وفات ہو جانے پر، ان کے مقربین، کسی نو عمر بچے کی شکل میں ان کے دوسرے جنم کی پہچان اور ان کے تشخص کے لیے ایک پیچیدہ طریقے کی پیروی کرتے ہیں۔ نتیجتاً، ہر نئے دلائی لامہ کو سب سے زیادہ لائق اور صاحبِ استعداد اساتذہ کے ذریعے، بہترین تعلیم دلائی لامہ جاتی ہے۔ ان اساتذہ میں ایک پرانا مدرس، ایک نیا مدرس، اور سات ”تسنژاب” شامل ہوتے ہیں جنھیں بالعموم "نائب مدرس" کہا جاتا ہے۔

تبتی بدھ مت کی چار بڑی روایات ہیں جو ہندوستان سے مختلف سلسلوں کی وساطت سے منتقل ہوئیں لیکن ان کی بنیادی تعلیمات میں کوئی بڑا تضاد نہیں ہے۔ دلائی لامہ کے نو بنیادی اساتذہ گیلوگ روایت سے لیے جاتے ہیں جو بدھ مت کی چار بڑی روایتوں میں سب سے بڑی روایت ہے۔ ایک دلائی لامہ، اپنی بنیادی تعلیم کی تکمیل کے بعد، باقی تین سلسلوں، نیئنگما ، کاگیو اور ساکیہ کے سربراہوں کے ساتھ بھی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ ساتوں تسنژاب، تبت کی راجدھانی لہاسا کے قریب واقع سات بڑی گیلوگ خانقاہوں سے چنے جاتے ہیں۔ ان کا انتخاب ان کی علمیت، مراقبے کے عمل میں مہارت اور، ان سب سے زیادہ ، ان کی سیرت اور کردار کے ارتقا کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ تسنژاب کی حیثیت سے سرکونگ رنپوچے کا تقرر گیلوگ روایت کے بانی تسونگکھاپا کی خود قائم کردہ خانقاہ گاندن جانگتسے سے کیا گیا تھا۔ وہ اس منصب پر ۱۹۴۸ء میں فائز کیے گئے تھے جب ان کی عمر چونتیس برس تھی اور دلائی لامہ تیرہ سال کے تھے۔ ساتوں تسنژابوں میں وہ تنہا شخص تھے جنھیں ہندوستان میں ۱۹۵۹ء میں تقدس مآب کی جلا وطنی کے وقت ان کے ساتھہ رہنے کا موقعہ ملا۔

اگست ۱۹۸۳ء میں اپنے انتقال تک، رنپوچے نے تقدس مآب کی عقیدت مندی کے ساتھ خدمت کی، پہلے لہاسا میں اور اس کے بعد دھرم شالہ میں۔ اُن کے ذمے خاص کام یہ تھا کہ تقدس مآب کو پڑھائے جانے والے تمام اسباق میں شریک ہوں اور پھر ان سے بحث کے ذریعے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ تقدس مآب نے ان اسباق کو صحیح طور پر سمجھہ لیا ہے۔ در اصل تقدس مآب کا اصرار تھا کہ رنپوچے انھیں دیے جانے والے ہر درس میں ان کے ساتھ ہوں تاکہ کم از کم ایک اور لامہ ان کی تعلیم اور تربیت کی تمام تر وسعتوں میں ان کا شریک ہو سکے۔  چنانچہ تقدس مآب کی طرح رنپوچے بھی بدھ مت کی چاروں تبتی روایات پر ماہرانہ گرفت رکھتے تھے۔ ان کی خصوصی مہارت کا دائرہ بودھی تربیت کے دو بڑے درجات، سوتر اور تنتر کی پوری حدوں کو محیط کرتا تھا۔ سوتروں کے واسطے سے بنیادی تعلیمات کی ترسیل ہوتی ہے جب کہ تنتر تکمیلِ ذات کے سب سے دور رس طریقوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

روایتی بودھی فنون اور علوم پر بھی رنپوچے کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ مثلاً تانترک رسوم کی ادایگی میں کام آنے والے دو جہتی اور سہہ جہتی علامتی دنیوی نظاموں (منڈل) اور تبرکات کی حفاظت کے لیے بنائے جانے والے مختلف اقسام کے (ستوپ) کی پیمائش اور تعمیر کے کام میں ان کی حیثیت ایک ماہرِ خصوصی کی تھی۔ علاوہ ازیں، انھیں شاعری، مضمون نگاری اور تبتی قواعد میں بھی استادانہ مہارت حاصل تھی۔ اس طرح ان کے درس دینے کے انداز میں ایسی نفاست اور حساسیت پائی جاتی تھی جس سےتکنیکی جزئیات کے لحاظ سے ان کے سروکارمیں ایک خوبصورت توازن پیدا ہو گیا تھا۔

سر کونگ رنپوچے کو ربانیت کی تبتی شکل (مو) میں بھی کمال کا مرتبہ حاصل تھا۔ اس طریق کار میں مراقبے کی ایک مرتکز کیفیت تک رسائی کے بعد، کئی بار تین پانسے پھینکے جاتے ہیں اور اس کے نتائج کی تعبیر کے ذریعے لوگوں کو مشکل فیصلوں تک پہنچنے میں مدد دی جاتی ہے۔ مزید برآں، وہ تبتی علم نجوم سے بھی واقف تھے جو ستاروں کی حالت کو سمجھنے اور ان کی پیمائش کرنے کے لیے ایک پیچیدہ ریاضیات پر گرفت کا متقاضی ہے۔ ان تاریخی مضامین کے بارہ میں ان کا رویہ، تاہم، ہمیشہ سادہ اور حقیقت پسندانہ ہوتا تھا۔ ان سے مستفید ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ روز مرہ سوجھ بوجھ کے استعمال کو ترک کیے بغیر ان سے بس حسب ضرورت اضافی مدد لے لی جائے۔

اپنی با ضابطہ حیثیت کی اہمیت اور اپنے علم کی وسعت کے باوجود، رنپوچے ہمیشہ منکسرالمزاج رہے۔ گو کہ فی الواقع وہ تقدس مآب کے بڑے اساتذہ میں سے ایک تھے۔ خاص طور پر کالچکر (دوائر زماں) کے، جو تنتر کے تمام سلسلوں میں سب سے زیادہ پیچیدہ ہے، اور اگر چہ انھوں نے اپنے نمایاں اور ہونہار شاگردوں کو بہت سی تانترک طاقتوں سے بہرہ ور کیا تھا، وہ کبھی بھی اپنے آپ کو انگریزی میں "اسسٹنٹ ٹیوٹر" یعنی نائب مدرس کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ انھیں ان کے لقب "تسنژاب" کے لفظی ترجمے "خادم مباحثہ" سے پکارا جائے، لیکن بالآخر وہ " معلم شریک مباحثہ" کے ترجمے سے پکارے جانے پر رضا مند ہو گئے۔

سر کونگ رنپوچے نے تقدس مآب کی خدمات رسمی اور غیر رسمی دونوں طریقوں سے انجام دیں۔ مثال کے طور پر، تقدس مآب خصوصی طور پر اپنے عوام، اور عمومی طور پر دنیا کی فلاح کے لیے مراقبے کی خاص قسم کی مشقیں اور رسوماتی تقریبات (پوجا) تسلسل کے ساتھہ انجام دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ پوجا کی ادایگی وہ تخلیے میں کرتے ہیں، کچھہ کی ادایگی مٹھی بھر منتخب بھکشوؤں کے ساتھ، اور بقیہ کی ایک بڑے مجمعے کے سامنے۔ اگر کبھی تقدس مآب دوسرے معاملات کو طے کرنے میں مصروف ہوتے تو مروجہ رواج کے مطابق رنپوچے سے یہ گزارش کرتے تھے کہ وہ ان کے قائم مقام کی حیثیت سے ان تقریبات میں شریک ہوں اور ان کو ادا کردیں یا ان کی نگرانی کا کام سنبھال لیں۔ مزید برآں، جس وقت تقدس مآب درس دے رہے ہوتے تو رنپوچے ان کے دائیں طرف بیٹھہ جاتے، تقدس مآب کی ضرورت کے مطابق یا بیچ بیچ میں لقمہ دیتے رہتے، یا اگر تقدس مآب کوئی شک رفع کرنا چاہتے یا سوال کرتے تو ان کا جواب بھی دے دیتے تھے۔ حاضرین کو اگر کوئی وضاحت درکار ہوتی اور براہِ راست تقدس مآب تک، درس سے متعلق کوئی بات پہنچانے میں جھجک ہوتی تو اس کا رخ رنپوچے کی جانب موڑ دیا کرتے تھے۔ پھر رنپوچے ، ایک روحانی وسیلہ کے طور پر وہ بات تقدس مآب کے حضور پہنچا دیتے تھے۔

تقدس مآب، اکثر سر کونگ رنپوچے کا ذکر اپنے مشیر یا اپنے نائب اعلیٰ کے طور پر کرتے تھے، جس کا کام تقدس مآب کی پالیسیوں کو خانقاہوں یا عام لوگوں تک لے جانا ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رنپوچے کو مذہبی اور عمومی دونوں دائروں میں ایک مشاق اور تجربہ کار سفیر کی حیثیت حاصل تھی۔ مقامی تنازعات میں وہ اکثر ایک ثالث کا رول ادا کرتے تھے اور ان تمام معاملات میں جن پر ان کی نظر تھی، وہ مقامی آداب کے مطابق، تقدس مآب کو اپنے مشورے بھی دیتے رہتے تھے۔ مزاح کا ایک حرارت آمیز عنصر ان کی سفارتی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بنتا تھا۔ لوگ اکثر ان کے پاس آتے اور انھیں لطیفے یا پُر مزاح کہانیاں سناتے، صرف اس لیے نہیں کہ وہ ان سے محظوظ ہونا یا ان کی ہنسی میں شریک ہونا جانتے تھے، بلکہ اس لیے بھی کہ رنپوچے یہ کہانیاں اور لطیفے دوسروں تک منتقل کر دیتے تھے۔ ہنستے وقت ان کے پورے جسم میں زلزلہ سا آجاتا تھا اور اس کے اثرات پوری طرح ان کے گرد بیٹھے ہوئے ہر شخص تک جا پہنچتے تھے۔ عملی دانش مندی اور دل سے بے ساختہ پھوٹ نکلنے والے مزاح کے اس امتزاج نے انھیں ہر ملنے والے کی نظروں میں مقبول بنا دیا تھا۔

بہت سی خانقاہیں اور راہباؤں کے مراکز، جنھیں تبت میں چینی حملے نے برباد کر دیا تھا، انھیں ہندوستان کی سرزمین پر دوبارہ قائم کرنے میں رنپوچے نے بہت موٴثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے یہ کارنامہ اپنی تعلیمات اور عملی معاونت کے واسطے سے انجام دیا تاکہ لوگ روایتی رسوم کی ادایگی کا سلسلہ پھر سے شروع کر سکیں۔ دو ریاستی الوہی مراکز، نیچنگ اور گادونگ کی خانقاہوں کے سلسلے میں یہ بات خاص طور پر صادق آتی ہے جن سے انھوں نے زندگی بھر ایک قریبی تعلق بنائے رکھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے رنپوچے نے تقدس مآب کے خاص انسانی مشیر کی خدمات انجام دیں، ریاستی الوہی مراکزکو دلائی لامہ کے روایتی مافوق الفطرت مشیروں کی حیثیت حاصل تھی۔ دلائی لامہ سے ان کی گفتگو عالم جذب میں ایک ماورائی واسطے سے ہوتی ہے۔ رنپوچے ان واسطوں کی نگرانی کرتے تھے تاکہ یہ ارفع شعور کی حصولیابی کے خالص ذرائع بن جائیں۔

رنپوچے نے بدھ کی تعلیمات کے حصول یا ترویج کی خاطر مشقت اٹھانے میں کبھی بھی گریز نہیں کیا۔ مثلاً ایک موسم گرما میں وہ بودھ گیا کی شدید تپش اس لیے جھیلتے رہے تاکہ کالچکر کے بارے میں کونو لامہ رنپوچے کی ہدایت وصول کرتے رہیں۔ یہ عظیم استاد جس کا تعلق ہمالیائی ہندوستان میں واقع ایک تبتی ثقافتی علاقے کنّور سے ہے، جدید دور کا اکیلا زندہ معلم تھا جسے تمام تبتی "بودھی ستوا" کے طور پر تسلیم کرتے تھے۔ بودھی ستوا وہ شخص ہوتا ہے جو پوری طرح بے لوث ہو اور جس نے دوسروں کو فیض پہنچانے کے لیے عرفان کی حصولیابی کی خاطر اپنے آپ کو مکمل طور پر وقف کردیا ہو۔ بودھ گیا وہ مقدس سرزمین ہے جہاں ایک بودھی درخت کے نیچے بدھ کو عرفان حاصل ہوا تھا۔ یہ جگہ ہندوستان کے سب سے غریب اور سب سے گرم علاقے میں واقع ہے۔ گرما کے موسم میں درجہ حرارت متواتر ۱۲۰ ڈگری فارن ہائٹ تک جا پہنچتا ہے جس کا مطلب ہے ۵۰ ڈگری سیلسیئس کے آس پاس۔ بار بار کی بجلی کٹوتی، پانی کی کمی اور بغیر ایئر کنڈیشننگ کے وہاں رہنا بہت بڑی آزمائش ہو سکتی ہے۔ کونو لامہ نے وہاں ایک چھوٹے سے بغیر کھڑکی والے کمرے میں جہاں پنکھا تک نہیں ہوتا تھا، لگاتار قیام کیا۔

 درس دینے کی غرض سے رنپوچے نے ہندوستان، نیپال اور دو مرتبہ مشرقی یورپ اور شمالی امریکہ میں لمبے لمبے سفر کیے۔ گرچہ وہ بڑے مراکز کا دورہ کرتے تھے، لیکن ان کی ترجیح ہمیشہ چھوٹے اور دور دراز مقامات ہوتے تھے جہاں اساتذہ کم یاب ہوں اور جہاں دوسرے جانا نہ چاہتے ہوں۔ مثلاً، بعض اوقات ہند تبتی سرحد پر مقیم ہندوستانی فوج کے تبتی ڈویژن کے سپاہیوں کو درس دینے کے لیے وہ خوش گاےٴ کی سواری بھی کرتے تھے۔ پہاڑ کی بلندیوں پر وہ بے آرامی کا خیال کیے بغیر، خیموں میں قیام کرتے تھے۔

ان دور دراز سرحدی علاقوں میں رنپوچے کا سپیتی سے خاص لگاؤ تھا جو کنّور کے بعد ہندوستانی ہمالیائی کوہستان میں بلندی پر واقع ایک وادی ہے جہاں انہوں نے وفات پایٴ اور نیا جنم بھی لیا- ہزار برس پہلے، یہ اجاڑ، دھول مٹی سے اٹا ہوا ضلع تبت میں شامل تھا۔ اور بدھ مت کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ حالیہ زمانوں میں بہر حال، معیار میں گراوٹ آگئی تھی جیسا کہ پچھلے ہزاریے کے وقت ہوا تھا۔ بھکشو لوگ اپنے تجرد اور شراب سے دوری کے عہد کو نظر انداز کرنے لگے تھے۔ بدھ کی حقیقی تعلیمات میں سے وہ بہت کم ہی پڑھتے اور عمل میں لاتے تھے۔

سپیتی کی وادی کے اپنے پانچ دوروں میں رنپوچے نے ایک دوسری بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے یہ کام سپیتی، تابوگونپا کی قدیم ترین خانقاہ کو دوبارہ وقف کرنے اور بھکشوؤں کو وہاں کے روایتی رسوم کے احیا کی خاطر، زبانی درس دینے اور اختیارات سونپنے کے ساتھہ شروع کیا۔ انھوں نے ذی علم روحانی معلموں کو باہر سے بلوایا اور مقامی بچوں کے لیے ایک اسکول کی بنیاد رکھی۔ بالآخر، جولائی ۱۹۸۳ء میں رنپوچے نے تابو کے مقام پر کالچکر کے آغاز کی منظوری کے لیے تقدس مآب دلائی لامہ کو مدعو کرنے کا اہتمام کیا۔  ہندوستان سے تبت میں ۱۰۲۷ء کے دوران کالچکر تعلیمات کے تعارف کا واقعہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ذہنی پراگندگی کے ایک لمبے وقفے کے بعد وہاں نئے سرے سے بدھ مت کے قیام کی تصدیق ہوتی ہے۔ انھیں امید تھی کہ تمکین کے اس اقدام سے، اس مقصد کی تکمیل میں مدد ملے گی۔

سرکونگ رنپوچے بدھ مت کی تعلیمات کے ایک عظیم سرپرست بھی تھے مثال کے طور پر، سپیتی میں انھیں جو بھی نذرانے موصول ہوتے، وہ پھر سے خانقاہ کو ہدیہ کر دیتے تھے۔ اس فیاضانہ داد و دہش کے باعث تابو گونپا کو ایک سالانہ دعائیہ تہوار کی شروعات کا موقعہ ملا جس کے دوران مقامی لوگ تین روز کے لیے یکجا ہوتے اور "اوم منی پدمے ہوُم" کا جاپ کرتے۔ یہ مقدس (منتر) آوالوکیت-ایشور سے وابستہ کیا جاتا ہے جو بدھ کی شبیہہ (یئدم) یعنی درد مندی کا پیکر ہے اور تبتی بدھ مت کے پیروکاروں سے خاص طور پر قریب ہے۔ اس منتر کا جاپ تمام مخلوقات کی محبت پر مراقبہ مرکوز رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔

اپنے پہلے مغربی دورے میں موصول ہونے والے نذرانوں کا استعمال رنپوچے نے ایک مہیب ایپلیک اسکرول یعنی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر تیار کیے جانے والے وسیع و عریض کاغذی کینوس پر، بدھ کی کالچکر والی تشبیہی تصویر بنوانے کے لیے کیا۔ انھوں نے اسے تقدس مآب کو نذر کر دیا، تاکہ مختلف علاقوں کے سفر میں وہ اسے اپنے مراقبے کے نظام کے تحت اندرونی طاقتوں کو بحال کرنے کی تربیت کے دوران استعمال کر سکیں۔ اسی رقم سے انھوں نے تسونگکھاپا کی زندگی پر مبنی اسکرول پنٹنگز یعنی کاغذی تصویروں کے ایک پورے سیٹ کی تیاری کا آرڈر دیا جو انھوں نے اپنی گاندن جانگتسے کی خانقاہ کو پیش کر دیا۔ برسوں پہلے، انہوں نے جنوبی ہندوستان میں منڈ گڈ کے مقام پر اس خانقاہ کو پھر سے قائم کرنے میں مدد دی تھی۔ اپنے دوسرے مغربی سفر کے دوران ملنے والے عطیات سے، انھوں نے چار ہزار سے زیادہ بھکشوؤں اور راہباؤں کو، جو مارچ ۱۹۸۳ء میں ہندوستان کی پہلی مکمل "مونلم" تقریبات کے لیے منڈ گڈ کو ڈریپنگ خانقاہ میں جمع ہوئے تھے بڑے پیمانے پر نذرانے پیش کیے- مونلم ایک دعائیہ تہوار ہے جو روایتی طور پر لہاسا میں منایا جاتا ہے اور جس میں تما م خانقاہوں کے رہنے والے اجتماعی عبادات کے لیے مہینے بھر کا جشن بپا کرتے ہیں۔

ہر چند کہ رنپوچے کو رسومات اور معینہ اصولوں کے سربراہ کی حیثیت حاصل تھی تاہم ان میں ذرا بھی دکھاوا نہ تھا اور وہ رسمی آداب کو نا پسند کرتے تھے۔ مثلاً، جب کبھی وہ مغرب کے سفر پر جاتے تو اپنے ساتھ کبھی بھی عبادتی اشیاء یا تصویریں نہیں لے جاتے تھے۔ وہاں جب کبھی وہ کسی کو اختیار تفویض کرتے، تو وہ اس رسم کی ادائیگی کے لےٴ خود ہی ضروری تصاویر بناتے ، نذرانے کے لیے تیار کیے جانے والے گندھے آٹے کی مجسمہ سازی (تورما) نہ ہو پاتا تو کیک یا بسکٹ متبادل کے طور پر استعمال کرتے، اور مروجہ رسمی برتنوں کی جگہ پھول کی کٹوریوں اور دودھ کی بوتلوں سے کام لیتے۔ اگر دوماہی "تسوگ" کی رسم کے لیے، جب ان کے اسفار کے دوران، کوئی خاص تیاری نہیں کی جاتی تھی، اور جس کی تقریب میں بالعموم شراب، گوشت، تورما، پھل اور مٹھائیاں پیش کی جاتی ہیں، تو خاموشی کے ساتھہ جو بھی کھانا ان کے پاس لایا جاتا اسی کی نذر چڑھا دیتے تھے۔

اس کے علاوہ، رنپوچے بدھ کی تعلیمات ہمیشہ سامعین کے مزاج اور استعداد کے مطابق پیش کرتے تھے۔ ایک مرتبہ رنپوچے کو وڈسٹاک، نیو یارک کے قریب ماؤنٹ ٹرمپرزین سینٹر آنے کی دعوت دی گئی۔ مرکز کے اراکین نے ان سے درخواست کی کہ وہ منجوشری یعنی بدھ کی وہ شبیہہ جو دانش کا مجسمہ ہوتی ہے، اس کی مشق کے لیے ایک اجازتی تقریب (جے نانگ) کی منظوری دیں۔ سادگی کی زین روایت کے عین مطابق، رنپوچے فرش پر بیٹھہ گئے، تخت پر نہیں اور بغیر کسی رسمی ساز و سامان یا ایک زیبائشی تقریب کے، انھوں نے جے نانگ کے بارے میں وعظ دیا۔

تقدس مآب اکثر تسنژاب سرکونگ رنپوچے کا تذکرہ ایک حقیقی کدمپا گیشے کے طور پر کرتے تھے۔ کدمپا گیشے لوگ گیارہویں سے تیرہویں صدی کے دوران ان تبتی بودھی اساتذہ پیشواؤں کو کہا جاتا تھا جو اپنی پُر خلوص، سیدھی مشقوں اور اپنی کسر نفسی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر اپنے ایک خطاب کے دوران، تقدس مآب نے، رنپوچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہ شخص جو یہاں عاجزانہ طریقے سے بیٹھا ہوا ہے، اسے کسی طرح کی حاجت نہیں ہے، جب کہ ہر دوسرے شخص کی نشست کا انداز غرور آمیز ہے۔ ایک بار جب رنپوچے سے ان کی خاص نصیحت کی درخواست کی گئی تو انھوں نے کہا ہمیشہ عاجزی اختیار کرو، دکھاوے سے دور رہو، دل میں گرمی پیدا کرو اور ہر فرد کی طرف سنجیدگی کا رویہ اپناؤ!

رنپوچے نے اپنی پوری زندگی اسی اصول کے مطابق بسر کی۔ ایک بار انھوں نے میلان، اٹلی کے ایک اچھے خاندان کے ساتھہ ان کے کشادہ فلیٹ میں قیام کیا۔ بیشتر بلند مرتبت لامہ جو اس شہر میں آتے تھے، اسی مکان میں ٹھہرتے تھے۔ اس گھر کی سربراہ دادی نے کہا کہ وہ تمام لامہ جو یہاں قیام پذیر ہوئے ان میں انھوں نے سب سے زیادہ پسند سرکونگ رنپوچے کو کیا۔ دوسرے سبھی لامہ اپنے کمروں میں بہت رسمی طریقے سے بیٹھے رہتے تھے اور اکیلے کھانا کھا تے تھے۔ اس کے برعکس جب وہ خاتون ناشتہ تیار کرنے میں لگی ہوتی تھیں، سرکونگ رنپوچے صبح سویرے اپنے زیر جامہ اور بنیان میں باورچی خانے کے اندر داخل ہوتے، باورچی خانے کی میز پر سادگی کے ساتھہ اپنی چائے پیتے، اپنی تسبیح کے دانوں کو پھیرتے ہوۓ منتر دوہراتے اور مکمل طور پر پر سکون اور متبسم نظر آتے ۔

رنپوچے دوسروں کو بھی یہی سکھاتے تھے کہ ہر طرح کی نخوت اور دکھاوے سے چھٹکارا حاصل کریں۔ ایک بار، فرانس میں لاوؤر کی نالندہ خانقاہ کے مغربی بھکشوؤں نے رنپوچے سے تین دن کے درس کی درخواست کی۔ انھوں نے آٹھویں صدی کے ہندوستانی معلم شانتی دیو کی کتاب، "بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا" کا انتہائی پیچیدہ اورمشکل باب جو دانش مندی کے موضوع پر ہے، اس کی تشریح کرنے کو کہا۔ رنپوچے نے اپنی گفتگو کا آغاز خلا کی وضاحت کے ساتھہ ایسی نفیس اور پُر پیچ سطح پر کیا کہ کوئی بھی وہاں تک پہنچ نہ سکا۔ رنپوچے رک گئے اور انھوں نے بھکشوؤں کو ان کی دکھاوے کی علمیت کے لیے خوب جھاڑا۔ انھوں نے بھکشوؤں سے کہا کہ اگر تسونگکھاپا کو خلا کی صحیح تفہیم میں اتنی دقت پیش آئی تھی اور انھوں نے اس سے متعلق ابتدائی مشقوں کو طے کرنے میں اتنا جوکھم اٹھایا تھا تو بھلا آپ لوگوں کے دماغ میں یہ بات کیسے آگئی کی یہ ایک آسان مضمون ہے اور اسے پورے کا پورا آپ تین دن کے اندر سمجھہ لیں گے؟ اس کے بعد رنپوچے نے ایک آسان تر سطح پر متن کی تشریح جاری رکھی اور اب موضوع بھکشوؤں کی سمجھہ میں آنے لگا۔

ایک مرتبہ رنپوچے نے کہا کہ وہ مغرب کی کسی بات سے متاثر نہیں ہوئے سوائے اس کے کہ یہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگ بدھ کی تعلیمات سے دل چسپی رکھتے ہیں۔ لہٰذا، اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ کس نے ہدایت کی درخواست کی ہے، رنپوشے ان کے شوق کا احترام کرتے تھے۔ اگرچہ وہ انھیں اُس سطح پر درس دیتے تھے جو اُن کی سمجھہ میں آسکے، لیکن وہ ہمیشہ اُنھیں اُس سطح سے ذرا اوپر اُٹھانے کی کوشش بھی کرتے تھے جسے وہ اپنی ذہنی استعداد کا مقام سمجھتے تھے۔ رنپوچے جنہیں سرکس میں بہت دل چسپی تھی، کہا کرتے تھے کہ جب ایک بھالو کو سائیکل کی سواری سکھائی جا سکتی ہے، تو پھر ترکیبوں اور صبر و تحمل کی مدد سے انسان کو کچھ بھی سکھایا جا سکتا ہے۔

ایک بار ہپّیوں جیسی وضع قطع کے ایک مغربی نے، جو منشیات کی عادت سے بدحواس تھا اور بدھ مت کی طرف نیا نیا آیا تھا، رنپوچے سے کہا کہ وہ اسے ناروپا کی چھے مشقیں سکھا دیں۔ عام حالات میں کوئی شخص اس انتہائی ترقی یافتہ موضوع کے مطالعے کی طرف مراقبے کی بہت برسوں کی گہری مشق کے بعد متوجہ ہوتا ہے۔ لیکن اس نوجوان کو احمق اور بد دماغ کہہ کر ٹالنے کے بجائے رنپوچے نے اس کی درخواست مان لی، یہ کہتے ہوئے کہ اس کا شغف نہایت عمدہ ہے۔ تاہم، پہلے اسے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ لہٰذا، رنپوچے نے اسے ابتدائی مشقیں سکھا دیں۔ اپنی شخصیت کے ارتقا میں لوگوں کی دل چسپی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے، رنپوچے نے بہت سے مغربیوں کو ان کے اپنے بارے میں سنجیدگی کے ساتھہ سوچنے کی ترغیب دی۔ اس سے انھیں روحانی راستے پر آگے جانے میں زبردست مدد لی۔

اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ ملنے والا تقدس مآب پاپا ہیں یا سڑک پر پھرنے والا ایک شرابی، یا بچوں کا ایک گروہ، رنپوچے کا برتاؤ ان سب کے ساتھہ مساوات اور احترام پر مبنی ہوتا تھا۔ وہ کبھی بھی ان کو حقارت سے نہیں دیکھتے تھے، نہ ان سے کسی رعایت کے طالب ہوتے تھے، نہ کسی کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک مرتبہ، اتھاکا، نیو یارک میں "دانش مندی کے سنہری جریب سینٹر" (Wisdom’s Golden Rod Center) کے اراکین نے رنپوچے سے گزارش کی کہ وہ ان کے بچوں سے خطاب کریں۔ رنپوچے نے بچوں کو بتایا کہ ان کے دل میں ان سب کے لیے کتنا احترام ہے کیونکہ وہ نو عمر ہیں اور ان کے ذہن کھلے ہوئے ہیں۔ ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے والدین سے آگے نکل جائیں۔ اس طریقے سے وہ بچوں میں عزت نفس پیدا کرتے تھے۔

گو کہ سرکونگ رنپوچے تواتر کے ساتھہ یہ دیکھہ سکتے تھے کہ جن لوگوں سے ان کی ملاقات ہوئی، ان سے ایک کرمی رشتہ قائم ہو گیا ہے لیکن وہ کبھی اس طرح کا دکھاوا نہیں کرتے تھے کہ وہ اپنی بساط سے آگے جا کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایک بار دھرم شالہ میں ایک سوئس شخص ان کے پاس آیا اور بولا کہ اسے بھوتوں نے ہلکان کر رکھا ہے۔ رنپوچے نے جواب دیا کہ ان کا کرمی رشتہ اس شخص کے ساتھہ ایسا نہیں ہے کہ اس معاملے میں وہ کوئی مدد کر سکیں۔ اور پھر انھوں نے اس شخص کو ایک دوسرے لامہ کی طرف بھیج دیا جو یہ کر سکتا تھا۔ دوسروں کو، بہر حال، رنپوچے فوراً ہی پہچان لیتے تھے اور پہلی ہی ملاقات میں اپنے خدمت گاروں کو تاکید کرتے تھے کہ ان اشخاص کے پتے نوٹ کر لیں۔ اس طرح، ناگزیر طور پر گہرے رشتے قائم ہو جاتے تھے۔ میں انہی خوش بختوں میں شامل تھا، گرچہ رنپوچے نے میرا پتہ نوٹ کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ مجھے تو واپس آنا ہی تھا۔