ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک تصویر

الیگزینڈر برزن
۱۹۹۸ء

حصہ ۱: تمہید

تصویر سرکونگ رنپوچے کیاپریل ۱۹۹۸ء میں، منگولیا اور مغرب کے ایک لمبے لیکچر دورے اور تحریری سرگرمی کے ایک زبردست دور کے خاتمے پر، میں دھرمشالہ، ہندوستان میں گھر واپس آیا۔ میں ۱۹۶۹ء سے ہمالیہ کے دامن میں رہتا آیا تھا اور تقدس مآب دلائی لامہ کے گرد تبتی پناہ گزینوں کے ایک جمگھٹ کے ساتھہ مطالعے اور کام کاج میں مصروف رہا تھا۔ اب مجھے اپنا سارا سامان میونخ، جرمنی منتقل کرنا تھا جہاں میں اور زیادہ تندہی کے ساتھہ اپنی کتابیں لکھہ سکوں اور زیادہ باقاعدگی کے ساتھہ بدھ مت کا درس دے سکوں۔ میں چاہتا تھا کہ تقدس مآب کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردوں اور ان سے مشورے کی درخواست کروں۔ میرے روحانی معلم کے طور پر، تقدس مآب نے مجھے پہلے سے یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ دوسروں کے تئیں اپنے حصے کی ذمے داری بامعنی طریقے سے پوری کرنے کے لیے، یہ فیصلہ خود مجھی کو کرنا چاہیے کہ میں اپنے وقت کا سب سے موثر استعمال کس طرح اور کہاں کروں۔ تجربہ ہی میرا سب سے لائق اعتماد رہ نما ثابت ہوگا۔

انتیس برس پہلے جب تقدس مآب سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی، اس وقت میں ہارورڈ یونیورسٹی کے مشرق بعید کی زبانوں اور سنسکرت اور ہندوستانی مطالعات کے شعبوں کے لیے، بطور ایک فل برائٹ اسکالر اپنی پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھنے کے لیے ہندوستان آیا ہوا تھا۔ اُن دنوں، تبتی بدھ مت کا درس، مصریات کی طرح، ایک بے جان مضمون کے طور پر دیا جاتا تھا۔ میرے لیے یہ صورت حال قابل قبول نہیں تھی اور کئی برسوں تک میں اسی سوچ میں پڑا رہا کہ ایک بودھی کے طور پر جینے اور سوچنے کا مطلب کیا ہے؟ تقدس مآب سے ملاقات ہونے پر، میں اس احساس سے مغلوب ہو گیا کہ یہ قدیم روایت ابھی باقی ہے اور ہمارے سامنے، ابھی بھی ایک ایسا معلم موجود ہے جو اس روایت کا عارف ہے اور جس نے اسے مکمل طور پر اختیار کر رکھا ہے۔

اس واقعے کے چند ماہ بعد میں نے اپنے آپ کو تقدس مآب کو سپرد کردینے کی پیش کش کے ساتھہ یہ گزارش کی تھی کہ وہ مجھے سیکھنے اور اصل تعلیمات کی تربیت حاصل کرنے کا موقعہ عطا فرمائیں۔ میں ان کی خدمت کرنا چاہتا تھا اور جانتا تھا کہ اد کے لےٴ مجھے خود پر از حد محنت کرنا ہو گی۔   ازراہِ مہربانی تقدس مآب نے میری درخواست قبول کرلی۔ بالآخر، مجھے یہ عظیم سعادت نصیب ہوگئی کہ وقتاً فوقتاً ان کے ایک مترجم کی خدمات انجام دوں اور دنیا بھر میں، تعلیمی اداروں اور روحانی اساتذہ سے ان کے رابطے قائم کرنے میں مدد دے سکوں۔

اپنا ٹھکانا یورپ سے منتقل کرنے کے میرے فیصلے سے تقدس مآب مسرور ہوئے اور دریافت فرمایا کہ میری اگلی کتاب کس موضوع پر ہو گی۔ میں نے انھیں اپنی اس خواہش سے مطلع کیا کہ میں ایک روحانی معلم سے شاگرد کے رشتوں کے موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں۔ دھرم شالہ میں "مغربی بودھی اساتذہ" (Network of Western Buddhist Teachers) کے سلسلے کی تین ملاقاتوں میں شرکت کرنے کی وجہ سے مجھے اس موضوع کے سیاق میں مغربیوں کو جو مسائل در پیش ہوتے ہیں، ان کی بابت تقدس مآب کے خیالات کا بخوبی علم تھا۔ اس وقت ایک اکیلی بات جو تقدس مآب نے کہی، یہ تھی کہ اس ضمن میں سب سے زیادہ دشواری پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ بس گنتی کے چند اساتذہ اس منصب کے اہل ہوتے ہیں۔

ملاقاتی کمرے سے نکلتے وقت میرا پہلا احساس یہ تھا کہ میں خود ایک بودھی معلم بننے کی اپنی اہلیت کا محاسبہ کروں، مجھے لمبے عرصہ تک یہ غیر معمولی مواقع حاصل رہے کہ میں ہندوستان میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے چند نہایت ممتاز تبتی اساتذہ کے ساتھہ تربیت پاتا رہوں۔ ان برگزیدہ اصحاب میں صرف تقدس مآب دلائی لامہ ہی شامل نہیں تھے، بلکہ ان کے تین مرحوم معلم اور متعدد تبتی روایات کے سربراہ بھی تھے۔ ان کے مقابلے میں، میرے استعداد کچھ بھی نہ تھی۔ بہر حال، مجھے اپنے معلم خاص اور تقدس مآب کے معاون استاد مباحثہ تسنژاب سرکونگ رنپوچے کی ایک نصیحت یاد آتی جو انھوں نے بہت پہلے ۱۹۸۳ء میں مجھے کی تھی۔

میں رنپوچے کے ساتھ، ترجمان اور معتمد کے طور پر، ان کے دوسرے عالمی دورہ کے دوران سفر کرتا رہا تھا اور کیراکس، وینزویلا کے ایک ذیلی دورے سے ابھی حال میں ہی میری واپسی ہوئی تھی۔ رنپوچے کی ترغیب پر، میں نے وہاں ایک نو تشکیل یافتہ بودھی گروپ کو درس دینے کی دعوت قبول کر لی تھی، جو اس طرح کی میری پہلی مصروفیت تھی۔ رنپوچے چند دنوں کے لیے آرام کرنے کی غرض سے، نیو جرسی میں واقع گیشے وانگیال کی خانقاہ میں ٹھہر گئے تھے۔ گیشے وانگیال روس کے ایک کالمیک منگول تھے اور۱۹۶۷ء میں تبتی روایت کے وہ پہلے استاد تھے جن سے میری ملاقات ہوئی،  گرچہ مجھے ان کے ساتھ گہرائی سے پڑھنے کا موقعہ کبھی نہ مل سکا۔

میری واپسی پر رنپوچے نے ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا کہ میں نے کیا کیا تھا۔  یہ ان کا عام انداز تھا اور مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی تھی۔ بہر حال، ہفتہ بھر بعد، لندن میں رات کے کھانے سے فراغت کے بعد باورچی خانے میں لگی ہوئی میز کے گرد بیٹھے بیٹھے، رنپوچے نے کہا، "مستقبل میں، جب تم خود ایک معروف استاد بن جاؤ اور تمہارے طلبا تمہیں ایک بدھ کے طور پر دیکھنے لگیں، اور تم اپنی جگہ بخوبی جانتے ہو کہ ابھی تمھیں عرفان حاصل نہیں ہوا ہے، تاہم، اپنے اس ایقان میں کمی نہ آنے دینا کہ تمھارے اساتذہ تمھارے لیے بدھ ہی ہیں۔" انھوں نے بس اتنا کچھ ہی کہا اور پھر ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ ان کے لفظوں کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے سالوں کی مدت درکار ہوگی۔

ایک بارلامہ زوپا رنپوچے، مغرب میں موجود ایک معروف تبتی معلم، نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر تمھیں کسی حقیقی لامہ سے ملاقات کی طلب ہے، تو اس کی بہترین مثال تسنژاب سرکونگ رنپوچے ہوں گے۔ لامہ زوپا نے تبتی لفظ "لامہ" کا استعمال یہاں اس کے وسیع تر معنوں میں نہیں کیا تھا اور یہاں اس لفظ سے ان کی مراد محض ایک بھکشو یا کسی ایسے شخص سے نہیں تھی جو تین سال تک گہرے مراقبے کی مشق پوری کر چکا ہو اور محض عام رسوم کی ادایگی کا اہل ہو۔ نہ ہی اس لفظ کے ذریعے ان کا اشارہ "پُنر جنمے لامہ" کی طرف تھا جو اپنے پنر جنم کی راہ متعین کر سکتا ہو اور جو رنپوچے یعنی " بیش قیمت شخص" کا لقب پا چکا ہو۔ وہ لفظ لامہ کا استعمال اس کے اصل مفہوم میں کر رہے تھے یعنی کہ ایک سند یافتہ "روحانی معلم"۔ لہذا، شاید  یہ سمجھانے کے لیے کہ اس قسم کا استاد بننے کا کیا مطلب ہے اور ایک شاگرد سے تعلق کیسے قام کیا جاےٴ، ایک بہتر طریقہ یہ ہو گا کہ سرکونگ رنپوچے اور میرے ان کے ساتھ تعلق کی ایک لفظی تصویر پیش کی جاٴےٴٴ   ۔ مختلف شبیہوں اور یادوں کے ایک مجموعہ کی مدد سے مجھے یہ کرنے دیجیے!