ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > روحانی رہنما اور گرو > شاکیہمُنی بودھ کی زندگی

شاکیہمُنی بودھ کی زندگی

الیگَزینڈر برزن
فروری ۲۰۰۵ء، نظرِ ثانی اپریل ۲۰۰۷ء

تعارف

روایات میں شاکیہمُنی بودھ المعروف بہ گوتم بودھ کا زمانہ ۵۶۶ء  صدی قبل مسیح سے ۴۸۵ء  صدی قبل مسیح بتایا گیا ہے۔ شمال مرکزی ہند ان کا علاقہ تھا۔ بدھ مت کی تحریروں میں ان کی زندگی کے بارے میں بہت سے باہم مختلف بیان ملتے ہیں جن کی مزید تفصیلات، رفتہ رفتہ، وقت کے ساتھ سامنے آتی رہیں۔ بدھ مت کی اولین تحریریں بدھ فلسفی کی رحلت کے تین سو سال بعد کہیں جا کر لکھی گئی تھیں اس لیے یقین سے یہ کہنا مشکل ہے کہ ان روایات میں جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ کچھ تفصیلات اگر دوسری تفاصیل کے مقابلے میں قدرے بعد میں منظرِ عام پر آئی ہوں تو انہیں محض اس لیے غلط کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ بعد میں لکھی گئی تھیں۔ کچھ تفصیلات تحریر میں آ جاتی ہیں لیکن کتنی ہی باتیں زبانی روایت کی صورت میں چلتی رہتی ہیں اور انہیں کہیں بعد میں جا کر تحریر کی صورت دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی سامنے رہنا چاہیے کہ بدھ فلسفی سمیت بدھ مت کے بڑے لوگوں کی سوانح حیات اس غرض سے نہیں لکھی جاتی تھیں کہ ان کی تاریخی تفصیلات محفوظ ہو جائیں۔ ان تحریروں کا مقصد نصیحت، سبق آموزی اور اخلاقی تربیت تھا۔ خاص طور پر بڑے رشی اور بزرگ لوگوں کی زندگی کے حالات تو ترتیب ہی اس انداز میں دیے جاتے تھے کہ بدھ مت کے پیرو کاروں کو روحانیت کی راہ پر چلنا سکھا سکیں، اس کا شوق دلا سکیں۔ وہ راہ جو مکتی اور روشن ضمیری (نروان) کے مقام تک لے جاتی ہے۔ اس لیے اگر بدھ فلسفی کی جنم کہانی سے ہمیں فائدہ اٹھانا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اسے اس حوالے سے سمجھیں اور اس سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں اس کا تجزیہ کریں۔

مآخذ

بدھ فلسفی کی زندگی کے سب سے پرانے مآخذ یہ ہیں: تھرواد صحیفوں میں سے پالی زبان کے کئی سوتّا شامل ہیں جو "درمیانی دورانیے کے خطاب" کا حصہ ہیں اور ہينیان بدھ مت کے مختلف مکاتب فکر میں پائی جانے والی بہت سی ونایا تحریریں جن کا تعلق رہبانیت کے قواعدِ تربیت سے ہے۔ لیکن ان سب تحریروں میں سے بدھ فلسفی کی جنم کہانی کے صرف چند ٹکڑے دستیاب ہوتےہیں۔

اس کا پہلا تفصیلی تذکرہ دوسری صدی قبل مسیح کے اواخر میں بودھ شاعری میں ملتا ہے مثلاً ہينیان بدھ مت کے مہاسانگھک مکتب فکر کی کتاب "بڑی باتیں" میں ہے۔ یہ مجموعہ "تین بڑی ٹوکری جیسے مجموعوں" سے الگ ہے۔ اس میں سابقہ روایات پر کچھ اضافہ نظر آتا ہے مثلا یہ تفصیل کہ بدھ فلسفی کس شاہی خاندان کے شہزادے تھے۔ اسی طرح کا ایک اور شعری مجموعہ "لمبے کھیل کا سوتر" ہينیان بدھ مت کے سرواستیواد مکتب فکر میں بھی پایا جاتا ہے۔ بعد میں اس کھیل کو مہایان نے اپنا لیا اور اپنے انداز میں پیش کیا۔ یہ مستعار تحریر کچھ اضافوں اور تفصیل کے ساتھ سامنے آئی مثلا اس میں بتایا گیا کہ شاکیہمُنی کو جنموں پہلے روشن ضمیری کا مقام مل چکا تھا اور وہ شہزادہ سدھارتھ کی صورت میں صرف اس لیے بعد کو ظاہر ہوئے کہ دوسروں کی رہنمائی کریں اور ان کو روشن ضمیری تک پہنچنے کا راستہ بتائیں۔

آخر میں یہ زندگی نامے"تین بڑی ٹوکری" جیسے مجموعوں میں شامل کر دیے گئے۔ سب سے مشہور تحریر پہلی صدی قبل مسیح میں لکھی گئی۔ اس کے مصنف اس عہد کے شاعر اشواگھوش تھے اور عنوان "بودھ کے اعمال" تھا۔ تنتروں میں اس کی دیگر صورتیں بھی ملتی ہیں جیسے "چکر-سموار" جو بعد میں سامنے آئیں۔ اس میں ہمیں یہ بیان ملتا ہے کہ جب وہ  شاکیہمُنی کے روپ میں "دور رس امتیازی آگاہی کے سوتر" کی تعلیم دے رہے تھے تو اسی سمے بدھ فلسفی وجردھار کی صورت میں ظاہر ہو کر تنتر بھی سکھاتے تھے۔

اس میں سے ہر بیان ہمیں کچھ بتاتا ہے، سکھاتا ہے اور گیان دیتا ہے۔ آئیے پہلے ان تحریروں کو دیکھیں جو بدھ فلسفی کے تاریخی حالات بیان کرتی ہیں۔

پیدائش، ابتدائی زندگی، ترکِ دنیا

قدیم ترین تذکروں کے مطابق شاکیہمُنی شاکیا کی چھوٹی سی ریاست کے ایک دولتمند، اونچے، فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ شاکیا ایک چھوٹی سی  ریاست تھی جس کی راجدھانی،  کپل-واستو، آج کے ہندوستان نیپال کے سرحدی علاقے میں تھی۔ ان تحریروں میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ وہ شاہی خاندان کے شہزادے کے طور پر پیدا ہوئے۔ بعد کے تذکروں میں یہ بیان نظر آتا ہے کہ وہ شہزادے تھے اور ان کا نام سدھارتھ تھا۔ ان کے والد کا نام شُدهودن تھا۔ ان تذکروں نے بعد میں جو تحریری صورت اختیار کی اس میں ان کی والدہ کا نام مایا-دیوی بھی ملتا ہے اور یہ ذکر بھی کہ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ چھ دانتوں والا ایک سفید ہاتھی ان کے پہلو میں داخل ہو گیا۔ یہ معجزاتی خواب دیکھ کر ان کو حمل ٹھہرا اور اسیت نام کے گیانی نے پیش گوئی کی کہ بچہ یا تو بہت بڑا بادشاہ ہو گا یا بڑا مہاتما۔ اس تذکرے میں یہ بیان بھی ملتا ہے کہ لمبینی جھاڑ کے مقام پر میں کپل-واستو سے کچھ فاصلے پر ماں کے پہلو سے ان کی کرشماتی ولادت کیونکر ہوئی اور پیدا ہوتے ہی کیسےشاکیہمُنی نے سات قدم چل کر کہا، "میں آ گیا" اور پھر ان کی والدہ زچگی میں فوت ہو گئیں۔

جوانی میں بدھ فلسفی کی زندگی عیش و عشرت میں گذری۔ ان کی شادی ہوئی، ایک بیٹا ہوا جس کا نام راہل تھا۔ بعد کی کتابوں میں ان کی بیوی کا نام یشودھرا بتایا گیا ہے۔ ۲۹ سال کی عمر میں بدھ فلسفی نے گرہستی کی زندگی ترک کر دی، شاہی وراثت چھوڑی اور گھومنے، مانگنے والے روحانی سالک بن گئے۔

بدھ فلسفی نے روحانی سالک کیوں کیا؟ اس پر نظر ڈالنے کےلیے ضروری ہے کہ ان کے زمانے اور ان کے معاشرے کو دیکھا جائے۔ گھومنے مانگنے والا روحانی سالک بنتے ہوئے بدھ فلسفی نے اپنے بال بچے کو مفلسی بے چارگی کی زندگی گذارنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑ دیا تھا۔ ان کی دیکھ بھال یقینی طور پر ان کے دولتمند اور بڑے کنبے کی ذمہ داری ٹھہری ہو گی۔ پھر یہ بھی ہے کہ فوجی خاندان کا فرد ہونے کا مطلب تھا کہ ایک نہ ایک روز بدھ فلسفی کو گھر سے نکل کر میدان جنگ میں جانا ہی تھا۔ فوجی کا خاندان اس بات کو مرد کی ذمہ داری سمجھ کر قبول کیا کرتا ہے۔ پرانے زمانے میں ہندوستان کے جنگجو لوگ لڑائی پر جاتے ہوئے بیوی بچوں کو فوج کے پڑاؤ میں ساتھ نہیں لاتے تھے۔

جنگ ان دشمنوں کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے جو باہر کی دنیا میں موجود ہوں لیکن اصل جنگ تو وہ ہوتی ہے جو اندرونی دشمنوں سے لڑنا ہوتی ہے۔ بدھ فلسفی یہی جنگ لڑنے کے لیے نکلے تھے۔ اس غرض سے گھر بار چھوڑ کر بدھ فلسفی کا نکلنا یہ بتاتا ہے کہ روحانیت کی تلاش میں نکلنے والے کا فریضہ ہے کہ اپنی ساری زندگی اسی کوشش کے لیے وقف کر دے۔ ہماری آج کی جدید دنیا میں اگر کوئی شخص اپنے کنبے کو چھوڑ کر راہب بن جائے اور اس اندرونی لڑائی میں لگ جائے تو اسے یہ بندوبست کرنا ضروی ہے کہ گھر والوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بال بچوں اور بوڑھے ماں باپ کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ لیکن گھر بار چھوڑیں یا نہ چھوڑیں روحانیت کی تلاش میں نکلنے والے ہر بدھ مت کے پیروکاروں کا فرض ہے کہ دنیا کی لذتوں کی عادت پر قابو پا کر دکھ تکلیف کو کم کرے جیسا بدھ فلسفی نے کیا تھا۔

دکھ پر غالب آنے کے لیے بدھ فلسفی کئی چیزوں کی ماہیت جاننا چاہتے تھے۔ جیسے پیدائش، عمر بڑھنا، بیماری، موت، دوسرا جنم، اداسی اور پریشانی۔ اس کا ایک تفصیلی بیان بعد میں اس صورت میں سامنے آیا جسے چنّا، رتھ بان، کا واقعہ کہتے ہیں جو بدھ فلسفی کو شہر دکھانے کے لیے لے کر گیا تھا۔ جب بدھ فلسفی کی نظر ان لوگوں پر پڑی جو بیمار، بوڑھے یا مردہ اور سنیاسی تھےتو چنّا نے ان کو بتایا کہ یہ کون ہیں۔ یوں بدھ فلسفی نے اس اصل دکھ کو صاف صاف پہچان لیا جس کا تجربہ ہر شخص کو ہوتا ہے اور اس سے بچنے کا راستہ بھی ان کی سمجھ میں آ گیا۔

روحانیت کے راستے پر ایک رتھ بان سے مدد لینے کا یہ واقعہ "بھگوت گیتا " کی اس حکایت سے ملتا جلتا ہے جس میں ارجن کو ان کا رتھ بان، کرشن یہ بتاتا ہے کہ سورما کا فرض ہے کہ میدان جنگ میں اترے اور چاہے اپنے رشتے داروں ہی کے خلاف کیوں نہ ہو لڑائی میں حصہ لے۔ ہندومت اور بدھ مت کی چاردیواری سے باہر نکل کر ان مانوس چیزوں کو چھوڑ کر حق کی تلاش ہمارا فریضہ ہے اور اس سے کبھی روگردانی نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں حکایتوں میں رتھ شاید ذہن کی سواری ہے جو اسے مُکش کی طرف لے جاتی ہے اور رتھ بان کی بات اسے چلانے والی طاقت کی علامت ہے جو اس گاڑی کو آگے بڑھاتی ہے یعنی حقیقت کا علم۔

گیان اور روشن ضمیری

گھومنے پھرنے والے مجرد روحانی سالک کے طور پر گیان حاصل کرنے کے لیے بدھ فلسفی کے دو گرو تھے جن سے انہوں نے مراقبہ یعنی ذہنی استواری اور بے صورت جذب کی مختلف سطحوں تک پہنچنے کے طریقے سیکھے۔ مکمل مراقبہ اور ارتکاز کی ان گہری کیفیتوں تک پہنچ کر وہ اگرچہ بڑے دکھ اور عام دنیاوی خوشی سے اوپر اُٹھ چکے تھے لیکن وہ سیراب نہیں ہوئے تھے۔ نفس کی یہ بلند کیفیات صرف عارضی آرام دے سکتی تھیں لیکن ان داغدار محسوسات سے ان کو مستقل نجات نہیں مل سکتی تھی اور جس گہری اور عالمی دکھ تکلیف کو دور کرنے کے وہ خواہاں تھے وہ مقصد ان سے یقینی طور پر حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ سو انہوں نے اپنے پانچ ساتھیوں سمیت تیاگ کی سخت زاہدانہ زندگی اختیار کی لیکن اس سے بھی یہ گہرے مسائل حل نہ ہو سکے جن کا تعلق بے اختیار وارد ہونے والے جنم در جنم یعنی سمسار کے تھا۔ بعد کی تحریروں میں یہ ذکر بھی آیا ہے کہ بدھ فلسفی نے چھ سال کا فاقہ دریائے نائیرانجن کے کنارے ختم کیا جب ایک دوشیزہ سجاتا نے انہیں دودھ چاول کا پیالہ پیش کیا۔

ہمارے لیے بدھ فلسفی کی اس مثال میں یہ سبق ہے کہ نشہ آور چیزیں کھا کر مست ہونے کا تو کیا ذکر انسان کو محض پوری طرح شانت ہو جانے اور مراقبہ میں "اونچا" چلے جانے پر بھی قانع ہو کر بیٹھ نہیں رہنا چاہیے۔ کسی گہرے خواب نما سکوت میں چلے جانا یا اپنے بدن کو اذیت دینا بھی کوئی علاج نہیں ہے۔ ہمارا مقصد مکتی اور روشن ضمیری  ہے اور ہمیں اس تک پہنچنا چاہیے اور ان تمام روحانی طریقوں پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے جو اس مقصد تک رسائی فراہم کرنے سے قاصر ہوں۔

تیاگ کی اس زاہدانہ روش کو ترک کر کے بدھ فلسفی جنگل میں تنہا غور و فکر کرنے لگےتاکہ خوف پر قابو پا سکیں۔ دل بہلانے اور مزہ لینے کی بے اختیار کر دینے والی تلاش کی تہ میں خود پسندی کا جو رویہ اور اپنی "میں "کی ناممکنہ ہستی کو پکڑ میں لانے کا جو عمل کار فرما ہوتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ شدت سے خوف کی تہ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے دسویں صدی عیسوی کے ہندوستانی دھرم رکشت نے اپنی کتاب "تیز دھار ہتھیاروں کا پہیہ" میں ایک تمثیل استعمال کی ہے جس میں زہریلے پودوں کے جنگل میں مور گھومتے دکھائے ہیں جو علامت ہیں ان بودھیستووں کی جو لالچ، غصہ اور ناسمجھی کے زہریلے جذبات کی کایا پلٹ کر کے ان کو اپنی خودرائی اور "میں" کی ناممکنہ ہستی پر قابو پانے کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔

آخر کار بہت گیان مراقبہ کے بعد بدھ فلسفی کو ۳۵ سال کی عمر میں مکمل روشن ضمیری  حاصل ہو گئی۔ ثانوی تحریروں میں آیا ہے کہ ان کو موجودہ ہندوستان کے علاقے بودھ گیا میں بودھی درخت کے نیچے روشن ضمیری  ملی تھی اور اس کے لیے ان کو مارا کے حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کر کے اسے پسپا کرنا پڑا تھا۔ یہ حاسد دیوتا بدھ فلسفی کو روشن ضمیری سے دھڑکانے کے لیے طرح طرح کی خوفناک اور لبھانے والی صورتوں میں سامنے آیا تاکہ بودھی کے درخت تلے ان کے مراقبہ میں خلل ڈال سکے۔

ابتدائی تذکروں میں بتایا گیا ہے کہ بدھ فلسفی کو تین طرح کا علم حاصل کرنے پر روشن ضمیری  ملی تھی اور اپنے پچھلے سارے جنموں کا مکمل علم، دوسرے سب لوگوں کے کرموں اور جنموں کا علم اور چار بلند و بالا (آریہ) سچائیاں بھی ملا تھا ۔ بعد کی تحریروں میں یہ بھی آیا ہے کہ روشن ضمیری  پانے کے ساتھ ہی ان کو علمِ کلی بھی مل گیا تھا۔

تعلیم و تلقین اور خانقاہی گروہوں کی تشکیل

مکتی اور روشن ضمیری حاصل کرنے کے بعد بھی بدھ فلسفی دوسروں کو اس تک پہنچنے کا راستہ سکھانے سے ہچکچاتے تھے۔ انہیں یوں لگتا تھا کہ اسے کوئی سمجھ نہیں پائے گا۔ لیکن ہندوستانی دیوتاؤں برہما اور اندر نے ان سے تعلیم دینے کی درخواست کی۔ برہمنوں کی تعلیمات بعد میں نشوونما پا کر ہندومت بنیں۔ ان کے مطابق برہما کائنات کا خالق اور اندرا دیوتاؤں کا بادشاہ ہے۔ یہ درخواست کرتے ہوئے برہما نے بدھ فلسفی سے کہا کہ اگر انہوں نے تعلیم نہ دی تو دنیا میں دکھ کا کبھی خاتمہ نہیں ہوگا اور یہ کہ کچھ نہ کچھ لوگ تو ان کی بات سمجھیں گے۔

یہ نکتہ نطز بھی سمجھا جا سکتا ہے جس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ بدھ فلسفی کی تعلیمات اس زمانے کی روایتی ہندوستانی روحانی روایتوں میں پائے جانے والے طریقوں سے کہیں بہتر تھیں۔ اگر سب سے بڑے دیوتا یہ مان لیں کہ دنیا کو بدھ فلسفی کی تعلیمات کی ضروت ہے کیونکہ ان کے پاس وہ طریقے ہیں ہی نہیں جو ہر کسی کے دکھ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکیں تو پھر ہم عام پیروکار تو ان تعلیمات کے کہیں زیادہ محتاج ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھیے کہ بدھ مت کی تمثیل کے مطابق برہما غرور کا نمائندہ ہے۔ اس کی غلط گمانی کہ وہ قادر مطلق خالق کائنات ہے اس غلط فہمی کا نقطۂ عروج ہے جو ہر شخص کو اپنے اندر ایک ناممکن "میں" کا وجود ماننے پر مائل کر دیتی ہے یعنی وہ "میں" جو زندگی کی ہر شے کو اپنے قابو میں رکھ سکتی ہے۔ اس طرح کی پریشان خیالی آخر کار مایوسی اور دکھ لے کر آتی ہے۔ مہاتما کی وہ تعلیمات جو یہ بتاتی ہیں کہ ہماری ہستی کیا ہے اور کیونکر ہے ان سے یہ راہ نکلتی ہے جس پر چل کر اس سچ مچ کے دکھ کو اور اس کے اصلی سبب کو واقعی ختم کیا جا سکتا ہے۔

بدھ فلسفی نے برہما اور اندر کی درخواست قبول کر لی اور سارناتھ چلے آئے جہاں ہرن باغ میں انہوں نے اپنے پانچ پرانے ساتھیوں کے سامنے چار بلند و بالا (آریہ) سچائیاں بیان کیے۔ بدھ مت میں ہرن نرمی اور ملائمت کی علامت ہے سو بدھ فلسفی ایک نرم طریقے کی تعلیم دیتے ہیں جو ترکِ دنیا اور عیش کوشی کی دونوں انتہاؤں سے بچ کر رہتا ہے۔

اس کے جلد ہی بعد قریبی وارانسی کے کچھ نوجوان بدھ فلسفی کے ساتھی اور گداگر، گھومنے پھرنے والے مجرد طالبانِ روحانیت بن گئے۔ ان کے والدین عوامی پیروکاروں میں شامل ہو گئے اور اس گروہ کی دان پن سے مدد کرنے لگے۔ جب اس گروہ کا کوئی فرد ضروری اہلیت اور تربیت حاصل کر لیتا تو بدھ فلسفی اسےدوسروں کو تعلیم دینے کے لیے بھجوا دیتے۔ یوں بدھ فلسفی کے ان منگتے پیروکاروں کی تعداد تیزی سے بڑھتی گئی اور انہوں نے جلد ہی مختلف مقامات پر آباد ہو کر علیحدہ "خانقاہی" گروہ بنا لیے۔

بدھ فلسفی نے ان خانقاہی گروہوں کی تنظیم عملی ہدایات کے مطابق کی تھی۔ اگر ہمراہب کا لفظ اس ابتدائی زمانے کے لوگوں کے لیے استعمال کر سکیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ہر راہب اپنے گروہ میں کسی بھی فرد کو بطور رکن قبول کر سکتا تھا مگر انہیں کچھ باتوں کی پابندی کرنا ہوتی تھی تاکہ دنیاوی سیکولر حاکموں سے کسی طرح کا ٹکراؤ جنم نہ لے۔ سو بدھ فلسفی نے یہ پابندی لگائی کہ مجرم، شاہی ملازمت مثلاً فوج میں شامل لوگ، غلام جو غلامی سے ابھی آزاد نہ ہوئے ہوں اور چھوت کی بیماریوں مثلاً کوڑھ کے مریض ان خانقاہی گروہوں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ نیز یہ کہ بیس سال سے کم عمر کے کسی شخص کو آنے کی اجازت نہ ہوگی۔ بدھ فلسفی ہر طرح کی آویزش سے بچنا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ لوگ باگ ان خانقاہی گروہوں اور دھرم کی تعلیمات کی عزت کریں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بدھ فلسفی کے پیروکاروں کے طور پر ہمیں بھی مقامی رسم و رواج کا احترام کرنا چاہیے، لوگوں کو عزت دینی چاہیے تاکہ وہ بدھ مت کو اچھا سمجھیں اور خود ہی اس کی عزت کریں۔

جلد ہی بدھ فلسفی مگدھ واپس چلےآئےیعنی وہی ریاست جہاں بودھ گیا واقع تھی۔ راجہ بِمبِسار نے اس ریاست کے مرکزی شہر راجگرھ آنے کی دعوت دی۔ اس شہر کا نام آجکل راجگیر ہے۔ راجہ بدھ فلسفی کا چیلا بن گیا اور ان کے لیے زندگی کا سب سامان فراہم کیا گیا۔ اسی شہر میں ان کے دوست شاری پترا اور مودگلیایناسی شہر میں ان کے دوست شَ شاریپُتر اور مودگلیاین بدھ فلسفی کے پھیلتے ہوئے گروہ میں شامل ہوئے اور ان کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ہوگئے۔

روشن ضمیری  پانے کے ایک سال کے اندر بدھ فلسفی اپنی جنم بھومی کپل-واستو کی شہری ریاست واپس لوٹ آئے۔ ان کا بیٹا راہل بھی ان کے حلقے میں شامل ہو گیا۔ بدھ فلسفی کا خوبرو سوتیلا بھائی نند پہلے ہی گھر چھوڑ کر ان کے ساتھ آن ملا تھا۔ بدھ فلسفی کے والد راجہ  شُدهودن کو اس بات کا بہت افسوس تھا کہ ان کا خاندان راج گدی سے کٹ گیا۔ انہوں نے بدھ فلسفی سے درخواست کی کہ آئندہ جو بھی بیٹا اس خانقاہی حلقے میں شامل ہونا چاہے اسے اپنے ماں باپ سے اجازت لینا ہوگی۔ بدھ فلسفی کو اس بات سے پورا اتفاق تھا۔ اس روایت کا اصل نکتہ یہ نہیں کہ بدھ فلسفی نے اپنے والد سے کیا ظلم کیا بلکہ اس سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ بدھ مت کے لیے یہ بات کتنی اہم ہے کہ کوئی اس کے بارے میں برا خیال نہ رکھے خاص طور پر اپنے کنبے خاندان میں۔

بدھ فلسفی اور ان کے خاندان کے بارے میں بعد کے ان تذکروں میں ایک اور تفصیل بھی ملتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بدھ فلسفی اپنی جسمانی طاقت کے علاوہ ایک قوت کے ذریعے جنت میں تینتیس خداؤں پر، یا بعض دوسری روایات کے مطابق توشیتا جنت پر گئے اور اپنی والدہ کو تعلیم دی جو اس آسمان میں جنم لے چکی تھیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ماں کی مہربانی اور شفقت کی قدر کرنے اور اس کی خدمت کرنے کی کیا اہمیت ہے۔

خانقاہی سلسلے کی نشوونما

شروع میں بدھ فلسفی کے راہبوں کے حلقے چھوٹے ہوا کرتے تھے جس میں بیس سے زیادہ افراد نہیں تھے۔ ہر گروہ خود مختار تھا اور راہبوں کی باری مقرر کر کے خیرات مانگ کر لانے کی حدود خود طے کرتا تھا۔ ہر گروہ یا حلقے میں سب کام اور فیصلے اجتماعی رائے اور اس کے ارکان کے ووٹ سے طے ہوا کرتے تھے تاکہ باہمی آویزش جنم نہ لے۔ کوئی ایک فرد آخری حکم دینے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔ اس کی جگہ بدھ فلسفی کی ہدایت ان کے لیے یہ تھی کہ دھرم کی تعلیمات کو حکم کا درجہ دیں۔ یہی نہیں بلکہ خود خانقاہی قاعدے ضابطے بھی تبدیل کیے جا سکتے تھے۔ بشرطیکہ سارا گروہ اتفاق رائے سے ایسا کرنا چاہتا ہو۔

راجہ بِمبِسار نے تجویز دی کہ بدھ فلسفی بھی دوسرے خیراتی روحانی حلقوں مثلاً جین مت والوں کی اس رسم کو اپنے ہاں رواج دیں جس میں سب لوگ ہر ہفتہ مل بیٹھتے تھے۔ اس رسم کے مطابق گروہ کے سب لوگ چاند کی ہر ساتویں تاریخ کو اکٹھے ہوتے اور دھرم کی تعلیمات پر گفتگو کرتے۔ بدھ فلسفی نے اس تجویز سے اتفاق کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس بات کے قائل تھے کہ زمانے کے ریت رواج کی پاسداری کرنا چاہیے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بدھ فلسفی نے اپنے خانقاہی گروہوں کے بہت سے پہلوؤں اور اپنی تعلیمات کو جین مت کے مطابق ڈھال کر تشکیل دیا تھا۔ جین مت کے بانی مہاویر کا زمانہ بدھ فلسفی سے نصف صدی پہلے کا ہے۔

اس کے کچھ عرصے بعد شاری پترا نے بدھ فلسفی سے کہا کہ وہ خانقاہی نظام کے لیے اصول اور قاعدے مقرر کر دیں۔ بدھ فلسفی کا فیصلہ یہ تھا کہ جب کوئی مسئلہ واقعی سامنے آئے تب وہ عہدوپیمان مقرر کیا جائے گا جو اس کو آئندہ نہ ہونے دے۔ بدھ فلسفی کا لائحہ عمل یہی رہا خواہ معاملہ ان تخریبی کاموں کا ہو جن کے کرنے سے ہر شخص کو نقصان پہنچتا ہے یا ان اعمال کا جو اخلاقی طور پر تو بے ضرر ہوتے ہیں لیکن کچھ مخصوص لوگوں کے لیے، کچھ حالات میں کچھ وجوہات کی بنا پر ان کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تربیتی نظام کے قاعدے ضابطے ونایا افادیت کی بنیاد پر وقتی ضرورت کے تحت بنائے جاتے تھے اور ان سے بدھ فلسفی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مشکلات اور مسائل سے بچ کر چلیں اور ان کی کوئی بات کسی کو بری نہ لگے۔

تربیتی نظام کے ان قاعدوں کے مطابق بدھ فلسفی نے یہ طے کیا کہ مہینے میں چار مرتبہ ہونے والے اجتماع کے موقع پر ہر کوئی اپنا عہد و پیمان سب کے سامنے بیان کرے گا اور کسی نے اگر عہد شکنی کی ہو تو راہبوں کے سامنے اس کا اقرار کرے گا۔ سنگین ترین عہد شکنی پر حلقے سے نکال دیا جاتا تھا۔ ورنہ آزمائشی جانچ کی حیثیت دینے سے جو سبکی ہوتی ہے وہی کافی سمجھی جاتی تھی۔ بعد کے زمانے میں یہ محفلیں مہینے میں دو مرتبہ ہونے لگیں۔

ایک اور رسم جو بدھ فلسفی نے جاری کی یہ تھی کہ برسات کے تین مہینوں میں راہب ایک جگہ قیام کریں اور سفر سے گریز کریں۔ اسے ورشک کہتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ سڑکوں پر پانی بھر جانے کی وجہ سے راہبوں کو کھیتوں میں سے نہ ہو کر گزرنا پڑے اور فصلیں ان کے پاؤں تلے روندی نہ جائیں۔ برساتی گوشہ گیری کی اس پابندی نے آگے چل کر پکی خانقاہوں کی صورت اختیار کر لی۔ یہاں پھر یہی بات پیش نظر تھی کہ عام لوگوں کو کوئی زحمت نہ ہو اور وہ بدھ مت کی عزت کرتے رہیں۔ پکی خانقاہوں کی تعمیر اس لیے بھی قبول کر لی گئی کہ اس سے عملی فائدہ ہوتا تھا۔

دوسری برساتی گوشہ گیری سے لے کر اگلے۲۵ سال تک بدھ فلسفی نے اس موسم میں ہر سال تین مہینے  کوشلہ ریاست کی راج دھانی شراوستی کے باہر جتاون جھاڑ کے مقام پر گذارے۔ یہاں ایک تاجر اناتھپنڈد  نے بدھ فلسفی اور ان کے راہبوں کے لیے ایک خانقاہ تعمیر کر دی اور راجہ پرسینجِت نے ان کے پیروکاروں کی مزید سرپرستی کی۔ جتاون کی خانقاہ میں بدھ فلسفی کی زندگی کے کئی عظیم واقعات پیش آئے۔ ان میں سے سب سے مشہور واقعہ وہ ہے جس میں بدھ فلسفی نے اپنے زمانے کے چھ غیر بودھ مکاتب فکر کے رہنماؤں کو کرشماتی طاقت کے مقابلے میں شکست دی۔

آج شاید ہم میں سے کوئی بھی کسی طرح کا کرشمہ دکھانے کے قابل نہ ہو لیکن بدھ فلسفی نے اگر اپنے مخالفوں کو شکست دینے کے لیے منطق کے بجائے کرشماتی طاقت کا استعمال کیا تو اس سے اشارہ یہ ملتا ہے کہ جب دوسروں کے ذہن عقل کی بات سننے سے عاری ہو جائیں تو ان کو اپنی فہم اور سمجھ بوجھ کا قائل کرنے کے لیے اپنے عمل اور رویے سے دکھا دینا چاہیے کہ ہم کہاں تک پہنچے ہیں اور ہم نے کیا پایا ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے "عمل کی آواز باتوں پر بھاری ہوتی ہے۔ "

راہباؤں کے لیے خانقاہی نظام کا آغاز

لوگوں کو تعلیم دیتے ہوئے بعد کے زمانے میں بدھ فلسفی نے راہباؤں کے لیے بھی ویشالی میں ایک حلقہ قائم کر دیا۔ اس کی درخواست ان کی خالہ مہاپرجاپتی نے کی تھی۔ اپنے سلسلے کی زنانہ شاخ شروع کرنے میں انہیں ابتدا میں کچھ ہچکچاہٹ رہی لیکن بعد میں انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر راہبوں کے مقابلے میں راہباؤں کے لیے کچھ زیادہ قاعدے اور عہد و پیمان مقرر کر دیے جائیں تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ یہ طے کرنے سے بدھ فلسفی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ عورتیں مردوں سے زیادہ خود سر ہوتی ہیں اور ان کو ضبط نفس کےلیے مردوں کے مقابلے میں زیادہ پابندیاں لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں خدشہ یہ تھا کہ بودھ راہباؤں کا سلسلہ قائم کرنے سے بدنامی ہو گی اور یوں ان کی تعلیمات پروان چڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گی۔ ہر چیز سے بڑھ کر بدھ فلسفی کی کوشش یہ تھی کہ اپنے معاشرے میں عمومی طور پر کسی بھی طرح کی بے عزتی سے بچ کر رہا جائے اس لیے راہباؤں کے طبقے کو ہر قسم کے اخلاقی عیب کے شک و شبہے سے بالا تر ہونا چاہیے۔

بحیثیت مجموعی بدھ فلسفی قاعدے ضابطے مقرر کرنے سے گریز کرتے تھے بلکہ اگر غیر ضروری جانتے تو چھوٹے موٹے قاعدے ختم کر دیا کرتے تھے۔ ان کے اس طرز عمل سے دو سچائیوں کے ربط باہم کا پتا چلتا ہے، سب سے گہری صداقت پر رہتے ہوئے مقامی رسم و رواج کے مطابق عام رسمی صداقت کا احترام کرنا۔ صداقت کی عمیق ترین سطح پر اگرچہ راہبا ؤں کا حلقہ قائم کرنے میں کوئی مسئلہ نہ تھا لیکن بدھ مت کی تعلیمات کو عام لوگوں کی بدبینی سے بچانے کے لیے ضروری تھا کہ راہباؤں کی ضبط نفس کےلیے دوسروں سے زیادہ قاعدے ضابطے مقرر کیے جائیں۔ سب سے گہری صداقت میں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی کہ معاشرہ کیا کہتا ہے۔ جبکہ رسمی صداقت یہ ہے کہ بدھ مت والوں کے لیے یہ اہم بات ہے کہ عوام ان کو عزت اور اعتماد کے لائق سمجھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے زمانے اور آج کے معاشروں میں اگر بدھ مت کے رسم و رواج سے راہباؤں یا عمومی طور پر خواتین کے لیے کوئی تعصب نظر آئے یا کسی اقلیت سے امتیازی سلوک ہوتا محسوس ہو اور اس سے بدھ مت کی بدنامی کا اندیشہ ہو تو بدھ فلسفی کے اصول کی روح کے مطابق اس رسم و رواج کو زمانے کے معیار اور مزاج کے مطابق تبدیل کر دینا چاہیے۔

رواداری اور درمندی آخر کو بدھ فلسفی کی تعلیمات کے وہ حصے ہیں جن پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر بدھ فلسفی کے وہ نئے پیرو کار جو پہلے کسی اور مذہبی گروہ سے متعلق تھے ان کو بدھ فلسفی یہ ترغیب دیتے تھے کہ وہ اپنے سابقہ گروہ کی مدد کرتے رہیں۔ بدھ مت کے اپنے حلقے کے اندر بھی ان کی تاکید تھی کہ حلقے کے ارکان ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور دوسروں کی مدد کریں۔ مثال کے طور پر اگر ایک راہب بیمار ہو جائے تو دوسرے راہبوں کا فرض ہے کہ اس کی دیکھ بھال کریں کیونکہ وہ سب اسی ایک بودھی کنبے کے افراد ہیں۔ صرف راہبوں کے لیے ہی نہیں یہ بدھ مت کے عام ماننے والوں کے لیے بھی ایک اہم ہدایت تھی۔

بدھ فلسفی کا طریق وعظ و نصیحت

بدھ فلسفی دوسروں کو تعلیم دیتے ہوئے زبانی تلقین بھی کرتے تھے اور اپنے کیے ہوئے کی زندہ مثال بھی بن کر دکھاتے تھے۔ زبانی تلقین کے لیے وہ دو طریقے استعمال کرتے تھے، ایک افراد سے گفتگو کرتے ہوئے، دوسرا مجمع سے بات کرنے کے لیے۔ اگر موقع ایسا ہوا کہ بہت سے سننے والے ہوں تو بدھ فلسفی اپنی تعلیمات کو تقریر کی صورت میں بیان کرتے تھے اور اکثر ہر نکتے کو الفاظ بدل بدل کر دہراتے تاکہ سننے والے اچھی طرح یاد رکھ سکیں۔ اگر کسی شخص سے علیحدہ گفتگو میں مشورہ اور ہدایت پیش نظر ہو تو بدھ فلسفی اس سے مختلف طریقہ برتتے تھے جو اکثر ان موقعوں پر ہوتا جب ان کو اور ان کے راہبوں کو کسی کے ہاں کھانے کی دعوت دی جاتی۔ وہ سننے والےکے خیالات کی کبھی تردید نہیں کرتے تھے نہ اس کی مخالفت کرتے تھے بلکہ سننے والے کا موقف اپنا کر اس سے ایسے سوالات کرتے جس سے اس آدمی یا عورت پر اس کے اپنے خیالات واضح ہو جاتے۔ اس طرح بدھ فلسفی ہر شخص کو اس کا موقف بہتر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے۔ اسے اس قابل کردیتے کہ وہ حقیقت کی زیادہ گہری آگہی حاصل کر سکے۔ اس کی مثال اس واقعے میں دیکھی جا سکتی ہے جب بدھ فلسفی نے پیشوا طبقے کے ایک مغرور برہمن کو یہ سمجھا دیا کہ برتری اور فضیلت اس طبقےکی وجہ سے نہیں ہوتی جس میں کوئی شخص پیدا ہوا ہو بلکہ ان اچھے اوصاف کی بنا پر ہوتی ہے جو آپ اپنے اندر پیدا کرتے ہیں۔

ایک اور مثال دیکھیے۔ ایک عورت اپنا مردہ بچہ اٹھائے بدھ فلسفی کے پاس آئی اور دہائی دینے لگی کہ کسی طرح اسے زندہ کر دیجیے۔ بدھ فلسفی نے اس سے کہا کہ جاؤ کسی ایسے گھر سے رائی کا ایک دانہ لے آؤ جس میں کبھی کسی کو موت نہ آئی ہو، پھر میں کچھ کروں گا۔ وہ عورت گھر گھر گھومتی رہی لیکن کوئی گھر ایسا نہ پایا جہاں کوئی موت نہ ہوئی ہو۔ یوں، رفتہ رفتہ اسے احساس ہو گیا کہ ایک نہ ایک دن ہر شخص کو موت آن لیتی ہے اور اس نے ایک ذہنی سکون کے ساتھ بچے کو چتا کے حوالے کردیا۔

بدھ فلسفی کا طرز تعلیم بتاتا ہے کہ لوگوں سے الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کی بات کی تردید نہ کی جائے۔ سب سے کامیاب یہ چیز ہے کہ ان کو خود سوچنے میں مدد دی جائے۔ لیکن جب بہت سے لوگ مل کر تعلیم حاصل کرنا چاہیں تو ان کو سیدھے صاف انداز میں وضاحت کرنا چاہیے۔

بدھ فلسفی کے خلاف سازشیں اور دھڑے بندی

بدھ فلسفی کی رحلت سے سات سال پہلے ان کے حاسد چچا زاد دیودت نے ایک سازش کے ذریعے سربراہِ حلقہ کے طور پر بدھ فلسفی کی جگہ لینے کی کوشش کی۔ دوسری طرف راجکمار اجاتشترو نے اپنے باپ راجہ بِمبِسار کو ہٹا کر مگدھ کا حکمران بننے کی سازش کی۔ دونوں میں ملی بھگت ہو گئی۔ اجاتشترو نے بِمبِسار کی جان لینے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں راجہ اپنے بیٹےکے حق میں راج گدی سےد ستبردار ہو گیا۔ اجاتشترو کی کامیابی دیکھ کر دیودت نے اس سے کہا کہ وہ بدھ فلسفی کو قتل کروا دے لیکن بدھ فلسفی کی جان لینے کی سب کوششیں ناکام ہو گئیں۔

یہ دیکھ کر دیودت نے راہبوں کو بدھ فلسفی سے الگ کرنے کے لیے یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ اپنے چچا زاد سے زیادہ بابرکت ہے اور اس غرض سے ضبط نفس کے سخت قواعد و ضوابط جاری کیے گئے۔ چوتھی صدی قبلِ مسیح کے تھرواد گرو بودھ-گھوش نے اپنی کتاب "راہِ صفا" میں لکھا ہے کہ دیودت نے راہبوں کے لیے جو طریقہ تجویز کیا تھا اس میں یہ بھی شامل تھا کہ:

  • وہ کپڑے پہنے جائیں جو پيوند جوڑ کر بنائے گئے ہوں۔
  • صرف تین کپڑے پہنے جائیں۔
  • مانگ کر کھائیں اور کسی کی دعوت کبھی قبول نہ کریں۔
  • خیرات مانگتے ہوئے کسی گھر کو چھوڑ کر آگے نہ بڑھیں۔
  • جو کچھ بھی ملا ہو اسے ایک ہی بار بیٹھ کر کھا لیں۔
  • صرف اپنے کشکول گدائی میں سے کھائیں۔
  • اس کے علاوہ ہر کھانے کی چیز سے انکار کر دیں۔
  • بن باس ضرور لیں۔
  • درختوں تلے زندگی گزاریں
  • کھلی ہوا میں رہیں، مکانوں میں نہ رہیں۔
  • زیادہ ترشمشانوں میں رہیں۔
  • رہنے کی جو جگہ میسر آ جائے اسے غنیمت جانیں لیکن ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے رہا کریں۔
  • کبھی لیٹ کر نہ سوئیں، ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے سویا کریں۔

بدھ فلسفی نے اس پر یہ کہا کہ ان کے راہب اگر چاہیں تو ضبط نفس کے یہ قاعدے بھی عمل میں لے آئیں جن کا اضافہ کیا گیا ہے لیکن کسی کو بھی ان کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ راہبوں نے پھر بھی یہ فیصلہ کیا کہ وہ دیودت کی پیروی کریں گے۔ یہ لوگ بدھ فلسفی کو چھوڑ کر الگ ہو گئے اور اپنا حلقہ بنا لیا۔

تھرواد مکتب فکر میں دیودت کے بنائے ہوئے اضافی قواعدِ تربیت کو عملی قواعد کی تیرہ شاخیں کہا جاتا ہے۔ بن باس بھکشوؤں کی روایت جو آج بھی، مثال کے طور پر، تھائی لینڈ میں پائی جاتی ہے اسی پرانے رواج سے نکلی ہوئی لگتی ہے۔ بدھ فلسفی کا ایک چیلا مہاکاشیَپ اس سخت مجموعہ قواعد پر سختی سے عمل کرنے میں سب سے مشہور ہوا۔ ان میں سے ضبط نفس کی کئی صورتیں ہیں جو ہندو روایت میں سادھو بھی استعمال کرتے تھے۔ ان کے طور طریقے غالباً اسی روایت کا تسلسل ہیں جو بدھ فلسفی کے زمانے کے گداگر، گھومنے پھرنے والے طلبا ءِ روحانیت میں نظر آتی ہے۔

اس طرح مہایان بدھ مت کے مکاتب فکر میں بھی بارہ عملی قواعد کے اوصاف کی ایک فہرست ملتی ہے۔ اس فہرست میں سے "خیرات مانگتے ہوئے کسی گھر کو چھوڑ کر آگے نہ بڑھیں" نکال دی گئی ہے اور اس کی جگہ "لوگوں کی اترن پہننا یعنی وہ کپڑے جو لوگوں نے بوسيدہ کر کے پھینک دیے ہوں" کا قاعدہ بڑھا دیا گیا ہے نیز "مانگ کر کھائیں" اور "صرف اپنے کشکول گدائی میں سے کھائیں" کو ایک قاعدہ شمار کیا گیا ہے۔ اس نظام تربیت کا بڑا حصہ بعد میں ہندوستانی روایت کے بہت پہنچے ہوئے تنتر کے عاملوں (مہاسِدّھ) کے ہاں ملتا ہے جو مہایان بدھ مت اور ہندومت دونوں میں پائے جاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ بدھ مت کی کسی قائم شدہ روایت سے کٹ کر ایک اور حلقہ قائم کرنا مثلا آج کی زبان میں کہیے تو ایک الگ دھرم آشرم قائم کرنا، کوئی مسئلہ نہ تھا۔ ایسا کرنے کو، صرف اس عمل کو، "راہبوں کے بیچ پھوٹ" ڈالنے کا کام نہیں کہا جا سکتا جسے پانچ قبیح ترین جرائم میں سے ایک کہا گیا ہے۔ لیکن دیودت نے جو کچھ کیا وہ واقعی دھڑے بندی کا عمل تھا اور ایسا ہی جرم تھا کیونکہ وہ گروہ جو الگ ہوا اور اس کا پیرو کار ہوا،ان میں بدھ فلسفی کے راہب گروہ سے شدید دشمنی پائی جاتی تھی، ان کا برتاؤ بھی راہبوں سے بہت برا تھا اور وہ ان پر سخت تنقید کرتے تھے۔ یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ اس دھڑے بندی سے پیدا ہونے والی دشمنی کئی صدیوں تک باقی رہی۔

[پانچ فاحش جرائم کی فہرست کے لیے دیکھیے: بودھیستوا کے عہد و پیمان ۔]

اس دھڑے بندی کے بارے میں روایات دیکھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بدھ فلسفی میں انتہا درجے کی رواداری تھی اور وہ بنیاد پرست نہیں تھے۔ اگر ان کے پیرو کار ان قواعد سے سخت تر قواعد کی پابندی کرنا چاہتے جو بدھ فلسفی نے ان کے لیے طے کر رکھے تھے تو بھی مہاتما کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا اور اگر انہیں اس کی کوئی خواہش نہ ہوتی تو بھی بدھ فلسفی اسے درست قرار دیتے۔ کسی پر یہ جبر نہ تھا کہ وہ بدھ فلسفی کی تعلیمات پر سختی سے عمل کرے۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی راہب یا راہبہ حلقے سے الگ ہونا چاہتا تو اسے بھی قبول کیا جاتا تھا۔ لیکن ایک چیز نہایت تباہ کن تھی اور وہ یہ کہ بدھ مت کے پیرو کاروں، خاص طور پر راہبوں کےحلقے میں یوں پھوٹ ڈلوا ئی جائے کہ وہ دو یا تین سے زیادہ گروہوں میں بٹ جائیں اور ان میں سے ایک یا سبھی گروہ دوسرے کے بری طرح دشمن ہو جائیں۔ اور اسے نقصان پہنچانے یا لوگوں کی نظروں سے گرانے کی کوشش کریں۔ اس طرح کے دو فرقوں کی لڑائی میں بعد میں شامل ہونا اور ایک کے ساتھ مل کر دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم میں حصہ لینا بھی بہت ہی نقصان کی بات ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ اگر ایک گروہ اس طرح کے نقصان دہ اور تخریبی کاموں میں لگا ہوا ہو یا کسی نقصان دہ طریق کار کا پر چار کر رہا ہو تو خیر خواہی اور ہمدردی کا تقاضا یہ ہو گا کہ لوگوں کو اس گروہ میں شامل ہونے کے خطرات سے آگاہ کردیا جائے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے انسان کی نیت کبھی غصے، نفرت اورانتقامی جذبے سے آلودہ نہیں ہونا چاہیے۔

بدھ فلسفی کی رحلت

یہ درست ہے کہ  مکتیپانے کے بعد بدھ فلسفی عام بے اختیار موت کے تجربے سے بالا تر ہو چکے تھے لیکن جب ان کی عمر ۸۱ سال ہو چکی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے پیرو کاروں کو زندگی کی نا پائیداری کی تلقین کریں اور اس بدن کو چھوڑ دیا جائے۔ لیکن یہ کرنے سے پہلے انہوں نے اپنے خادم آنند کو یہ موقع دیا کہ وہ زندہ رہنے اور تعلیم دیتے رہنے کے بارے میں سوال کرے لیکن وہ بدھ فلسفی کا اشارہ سمجھ نہ پایا۔اس سے پتا چلتا ہے کہ بودھ صرف اس وقت تعلیم دیتا ہے جب اس سے درخواست کی جائے لیکن اگر کوئی تقاضا نہ کرے یا دلچسپی نہ لے تو وہ چھوڑ کر کہیں اور چلا جاتا ہے جہاں اس سے لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچے۔ معلم اور تعلیمات کا دارومدار شاگردوں کے ہونے پر ہے۔

سو ایک دن کُشِینگر میں چُند کے گھر میں بدھ فلسفی کھانا کھانے کے بعد مرضِ موت میں مبتلا ہوئے۔ ان کے اس سر پرست نے ان کی اور دوسرے راہبوں کی دعوت کی تھی۔ بسترِمرگ پر بدھ فلسفی نے اپنے راہبوں سے کہا کہ اگر انہیں کسی بات میں شک شبہ ہو یا کچھ سوالات کے جواب نہ ملتے ہوں تو انہیں دھرم کی تعلیمات اور اخلاقی تربیت کے اصولوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ کسی کو یہ بلکل اختیار حاصل نہیں کہ ہر سوال کا جواب دے سکے۔ یہ کہہ کر بدھ فلسفی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

چُند کا برا حال تھا۔ اسے یہ خیال کھائے جا رہا تھا کہ شاید اس کے ہاتھوں بدھ فلسفی کو زہر دے دیا گیا تھا۔ لیکن آنند نے صاحب خانہ کی تسلی کے لیے کہا کہ بدھ فلسفی کو ان کی زندگی کا آخری کھانا پیش کر کے اصل میں اس نے اپنے لیے ایک بڑی مثبت قوت یا نیکی کما لی ہے۔

بدھ فلسفی کے بدن کو جلا دیا گیا اور ان کی خاک کو ستوپوں میں رکھوا دیا گیا، خاص طور پر ان جگہوں پر جو بدھ مت کی چار بڑی زیارت گاہیں بنیں۔

  • لمبینی: جہاں بدھ فلسفی پیدا ہوئے۔
  • بودھ گیا: جہاں بدھ فلسفی کو روشن ضمیری ملی۔
  • سارناتھ: جہاں انہوں نے پہلی بار دھرم کی تعلیمات پیش کیں۔
  • کُشِینگر جہاں وہ فوت ہوئے۔

اختتام

بدھ مت کی مختلف روایات میں بدھ فلسفی کے زندگی کا الگ الگ بیان ملتے ہیں۔ ان اختلافات سے پتا چلتا ہے کہ ہر روایت میں بودھ کا کیا تصور قائم ہوا اور ہم ان کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔

  • ہينیان بدھ مت صرف تاریخ کے بدھ فلسفی کی بات کرتا ہے۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بدھ فلسفی نے روشن ضمیری پانے کے لیے اپنے آپ پر کس محنت سے کام کیا تو یہ سبق پاتے ہیں کہ ہمیں بھی کاوش کرنا چاہیے۔
  • مہایان بدھ مت میں عام طور پر جو بیان ملتا ہے اس کے مطابق بدھ فلسفی سالوں پہلے روشن ضمیری حاصل کر چکے تھے۔ بارہ روشن ضمیری  کےکاموں کے ذریعے اس زندگی میں ظاہر ہو کر وہ ہمیں اس بات کی تعلیم کر گئے کہ روشن ضمیری  کا مطلب ہے سب کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرگرمِ عمل رہنا۔
  • انوتر یوگا تنتر کی تحریروں میں یہ آیا ہے کہ بدھ فلسفی ایک ہی وقت میں شاکیہمُنی "دور رس امتیازی آگاہی کے سوتر" کے معلم کے طور پر بھی ظاہر ہوئے اور وجردھار بن کر تنتر بھی سکھاتے رہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ تنتر کے تحت جو کچھ کیا جاتا اس کی بنیاد پوری طرح مدھیامک کی خالی پن کی تعلیمات پر رکھی گئی ہے۔

ہم بدھ مت کی ان مختلف روایات کے بدھ فلسفی کی زندگی کے الگ الگ بیان سے فائدہ اور کئی سطح پر الہام حاصل کر سکتے ہیں۔